خدا اتنا صابر کیوں رہا ہے؟
ایک فاقہزدہ بچے کے مغموم چہرے کو دیکھیں۔ اس کے لاغر جسم اور حد سے بڑھے ہوئے پیٹ پر بھی نظر کریں۔ خوراک کے لیے اس کی شدید احتیاج کی بابت سوچیں، اور اس کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے خالی بادیہ پر غور کریں۔ شاید اس کی ماں دھنسی ہوئی آنکھوں سے دیکھتی ہے، اور اس کا اپنا چہرہ مایوسی کی ایک خوفناک تصویر ہے۔ اب آپ اپنے غم کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔جیہاں، اور اپنے آنسوؤں کو روک لیں۔
غذائی قلت کے شکار ساحل نام کے اس علاقے کا یہ منظر ۶ ملین مربع کلومیٹر کے اس خطے میں لاکھوں مرتبہ دوہرایا جاتا ہے۔ یہ بحراوقیانوس کے ساحل پر واقع سینیگال سے لے کر بحرقلزم پر واقع ایتھوپیا تک، افریقہ سے آگے صحرا کے بیابان کے جنوب میں ۴،۸۰۰ کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ بیشک، قحط اس کے علاوہ بھی کئی دوسرے ممالک کی کثیر آبادی کو دبوچے ہوئے ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن رپورٹ دیتی ہے کہ تمام دنیا میں تقریباً ۱.۱ ہزار ملین لوگ سخت بیمار ہیں یا غذا کی کمی کا شکار ہیں۔
بلاشبہ، بھوک انسانی تکلیف کا محض ایک پہلو ہے۔ انسان زمین کو آلودہ کرتا ہے، اور ہم سب متاثر ہوتے ہیں۔ سیاسی نظامالعمل اس ناانصافی اور جنگ و جدل کی منظوری دیتے ہیں جو بہتیروں کے لیے موت اور پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ خدا ایسی چیزوں کی اجازت کیوں دیتا ہے؟ کیا وہ ہماری فکر کرتا ہے؟
خدا ضرور ہماری فکر کرتا ہے!
ہمارا خالق ضرور ہماری فکر کرتا ہے۔ اس بات کا اور ہماری بھلائی کیلیے چیزوں کو باہم ملکر کام کرنے کیلیے ترتیب دینے اور تخلیق “کی ہمآہنگی کو برقرار رکھنے کی اس کی صلاحیت کا کافی زیادہ ثبوت موجود ہے۔ مثال کے طور پر، ساتھ دی گئی شہد کی مکھی کی تصویر کو دیکھیں جو کہ ایک پھلدار درخت کے شگوفے پر بیٹھی ہوئی ہے۔ یہ شہد کی مکھی غذائیت کیلیے درکار نقطار حاصل کرنے کیلیے شگوفے پر انحصار کرتی ہے۔ جبکہ اسی دوران میں، درخت اس زرگل پر انحصار کرتا ہے جو کہ شہد کی مکھی اسی کی طرح کے دوسرے درخت سے لے کر آتی ہے۔ اور اسطرح سے، شگوفے پر زرگل چھڑکا جاتا ہے تاکہ پھل پیدا کیا جا سکے۔ تمام طرح کے پھلدار درختوں پر اس طریقے سے زرگل نہیں چھڑکا جاتا، مگر خدا نے اس کے معاملے میں یقیناً غیرمعمولی تعاون کا اہتمام کیا ہے۔ اور اس کی بھلائی ہمارے لیے اس پھل کو پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے جسے شاید ہم بڑی خوشی سے کھاتے اور اس سے مستفید ہوتے ہیں۔
شہد کی مکھی بذات خود ۳۰،۰۰۰ سے زائد اچھی طرح سے منظم شہد کی مکھیوں کی فوج کا ایک حصہ ہے۔ بعض چھتے کی حفاظت کرتی ہیں، جبکہ دوسری اسے صاف ستھرا یا ہوادار بناتی ہیں۔ تاہم کئی دوسری زرگل اور نقطار جمع کرتی ہیں، لاروے کو خوراک دیتی ہیں یا نقطار کے نئے ذرائع کی تلاش کرتی ہیں۔ خدا نے خود معاملات کو اسطرح سے ترتیب دیا ہے کہ جب یہ مصروفعمل شہد کی مکھیاں اسطرح کا غذائیت سے بھرپور اور میٹھا شہد بناتی ہیں جو کہ ہماری حسذائقہ کو لذیذ لگتا ہے تو ہم اس سے استفادہ کرتے ہیں۔
شہد کی مکھیوں اور پودوں کے مابین اور کیڑے مکوڑوں کا خود اپنے درمیان تعاون کا معجزہ ان بہت ساری شہادتوں میں سے صرف ایک ہے کہ خالق کامل طور پر اس قابل ہے کہ جانداروں کا ایک دوسرے سے تعاون قائم رکھ سکے۔ اسی لیے تو، ”خدا ابتری کا نہیں، بلکہ امن کا بانی ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۴:۳۳) تو پھر، اس نے بنیآدم کو اس طرح کی بےہمآہنگی کے تحت رہنے کی اجازت کیوں دی ہے، جو بہتیروں کے لیے خستہحالی پر منتج ہوئی ہے؟ اگر خدا ہماری فکر کرتا ہے، تو اس نے اس حالت کو بہتر بنانے کے لیے اتنی دیر کیوں لگائی ہے؟ بلاشبہ، کیوں خدا اتنا صابر رہا ہے؟
خدا کا کلام، بائبل، ایسے سوالات کا جواب دیتی ہے۔ یہ شاندار کتاب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہوواہ خدا ایک معقول وجہ سے صابر رہا ہے۔ وہ وجہ کیا ہے؟ اور خدا کا صبر کب تک جاری رہے گا؟ ( ۳ ۱۰/۱ w۹۱)