شہد کی مکھیاں پالنا ایک ”دلچسپ“ کہانی
یونان سے جاگو! کے مراسلہنگار سے
صبح کے دھندلکے میں سورج کی سنہری کرنیں آسمان کی وسعتوں میں پھیل جانے کو تیار ہیں۔ صبح کی دھند اور ٹھنڈک میں ایک پکاپ ٹرک خاموشی سے پہاڑ کے دامن میں رُکتا ہے۔ دو سائے دستانے، لمبے جوتے، سوتی اوورآل، نقاب اور چوڑے ہیٹ پہنے ہوئے نمودار ہوتے ہیں۔ وہ بڑی احتیاط مگر اشتیاق کیساتھ لکڑی کے کئی ڈبے ٹرک میں رکھتے ہیں۔ چوروں کا جوڑا آسانی سے دستیاب مال اُٹھا رہا ہے؟ جینہیں، شہد کی مکھیاں پالنے والا جوڑا اپنی شہد کی گرانقدر مکھیوں کی فوج کی اچھی دیکھبھال کر رہا ہے—کسی اور منزل کی جانب چلنے کیلئے تیار، جہاں رس پیدا کرنے والے پودے موجود ہیں۔
شہد کی مکھیاں پالنے والے، خاص وضع کے لوگ ہیں جوکہ اِس خاص قسم کے حشرہ کیساتھ باہمی فعال رفاقت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ایک طرف تو شہد کی مکھی ہے جو معاشی لحاظ سے تمام حشرات سے زیادہ قدروقیمت کی حامل ہے جو شہد اور موم پیدا کرتی اور وسیع اقسام کی فصلوں کی تخمریزی کا سبب بنتی ہے۔ دوسری جانب، کم آمدنی والے لوگ ہیں جو اُنہیں پالنے کے ساتھساتھ اِس ننھی مخلوق سے پیار کرتے ہیں اور ”جانتے ہیں کہ اُنہیں کیا چیز متحرک کر سکتی ہے،“ جیساکہ اُن میں سے ایک بیان کرتا ہے۔
”روزانہ کے معجزات“ کا نگہبان
شہد کی مکھیاں پالنے والا بننا شاید آسان معلوم ہو: مکھیوں کی کالونیوں سے پُر چھتے لیں، اُنہیں رس پیدا کرنے والے مقام پر رکھیں اور کچھ مہینوں کے بعد پیداوار حاصل کرنے کیلئے واپس جائیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ جاننے کیلئے کہ درحقیقت اِس میں کیا کچھ شامل ہے، ہم نے جان اور ماریا سے باتچیت کی جوکہ پیشہور شہد کی مکھیاں پالنے والے ہیں، اُنہوں نے اپنے پسندیدہ پیشے کے متعلق بڑی خوشی سے بتایا۔
”شہد کی مکھیاں پالنا روزانہ رُونما ہونے والے معجزات میں سے ایک ہے،“ جان ایک کھلے چھتے پر جھکے ہوئے رائےزنی کرتا ہے۔ ”اگرچہ ابھی تک، کوئی بھی پورے طور سے شہد کی مکھیوں کی گروہی زندگی کے اعلیٰ ڈھانچے، جدید مواصلاتی مہارتوں اور کام کرنے کی شاندار عادات کو سمجھ نہیں سکا۔“
پیشہوارانہ شہد کی مکھیاں پالنے والوں کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے، جان بیان کرتا ہے کہ ماضی میں شہد کی مکھیاں پالنے والے شہد حاصل کرنے کیلئے کالونیوں کو تباہ کر دیتے تھے جوکہ کھوکھلے درختوں اور دیگر گڑھوں میں پائی جاتی تھیں۔ تاہم، ۱۸۵۱ میں، شہد کی مکھیاں پالنے والے ایک امریکی، لوربنزو لورّین لینگسٹارّتھ، نے معلوم کِیا کہ مکھیاں موم کے خانوں کے درمیان، ایک انچ کے چوتھائی حصے کے برابر جگہ چھوڑتی ہیں۔ لہٰذا انسانساختہ لکڑی کے چھتے استعمال کئے جا سکتے ہیں جن کے خانوں کے چوکھٹوں کے درمیان اتنی ہی جگہ چھوڑی جاتی ہے۔ مکھیوں کے چھتے سے چوکھٹوں کو انفرادی طور پر الگ کرنے سے، اب کالونیوں کو تباہ کئے بغیر شہد اور موم حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔
”کامیابی کیساتھ شہد کی مکھیاں پالنے کیلئے،“ جان بیان کو جاری رکھتا ہے، ”آپ کے دل میں اپنی شہد کی مکھیوں کی کالونیوں کیلئے خاص شفقت ہونی چاہئے۔ آپ اپنی مکھیوں کیلئے ایک باپ کی طرح ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ اِسے پہچانتے ہوئے جوابیعمل ظاہر کرتی ہیں۔ آپ اُنکے طبیب، نگران، سردی کے مشکل اوقات میں اُنکے لئے خوراک فراہم کرنے والے بن جاتے ہیں۔“
ماریا اضافہ کرتی ہے: ”ایک اچھا مکھیاں پالنے والا، کسی چھتے کو جو عموماً ۸ سے ۸۰ ہزار تک مکھیوں پر مشتمل ہوتا ہے، ایک سرسری جائزے سے بھی بہت کچھ بتا سکتا ہے۔ اگر آپ تجربہکار ہیں تو جب آپ چھتّا کھولتے ہیں تو صرف بھنبھناہٹ کی آواز ہی آپکو بتا دیگی کہ آیا کالونی پھلنےپھولنے، پیداوار دینے والی ہے اور ’خوش‘ ہے؛ آیا وہ بھوکی ہے؛ آیا وہ ملکہ مکھی کے مر جانے سے ’یتیم‘ ہو گئی ہے؛ آیا وہ کسی ناخوشگوار چیز کے باعث مضطرب ہے؛ اور اِس کے علاوہ بھی بہت کچھ۔“
کامیابی کیساتھ شہد کی مکھیاں پالنے کیلئے اہم عناصر
”شہد کی مکھیاں پالنے والے شخص کیلئے اپنے چھتوں کو رکھنے کیلئے جگہ کا محتاط انتخاب نہایت اہم ہے،“ جان وضاحت کرتا ہے۔ ”ہم پھولوں سے لدی ایسی چراگاہیں تلاش کرنے کیلئے کافی محنت کرتے ہیں جہاں پر مکھیاں اپنی غذا حاصل کر سکتی ہیں۔
”شہد کی مکھیاں پالنے والے اپنی کالونی کو مصروف رکھنے کیلئے اورنج اور باسوڈ کے پھول تلاش کر سکتے ہیں۔ موسمِگرما اور موسمِخزاں کے دوران، پائن اور فر کے درختوں سے پُر علاقہ، عمدہ شفاف سرخ شہد پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو گا، جسکی بازار میں کافی مانگ ہوتی ہے۔ جنگلی تھائیم پھولوں کے میدان سب سے بہترین قسم کا شہد پیدا کرنے میں مدد دینگے—جو شہد کی مکھیاں پالنے والوں کے مطابق شہد کا بادشاہ ہے۔ مکھیاں سفید اور شیریں زرد کلور اور الفلفا کی بھی شیدائی ہیں۔“
عمومی سوجھبوجھ نہایت اہم ہے۔ ماریا وضاحت کرتی ہے: ”جب ہم کسی پہاڑی علاقے میں چھتوں کو رکھتے ہیں تو اُنہیں پہاڑ کے دامن میں رکھنا مفید ہوگا۔ اسطرح مکھیاں پہاڑ پر اُوپر کی جانب پرواز کر سکتی ہیں، پھولوں سے لدے ہوئے درختوں کا چکر لگانے کے بعد—بوجھ اُٹھائے—وہ نیچے اپنے چھتوں کی طرف آسانی سے پرواز کر سکتی ہیں۔ اگر چھتے درختوں سے اُوپر ڈھلان پر ہوتے تو یہ مکھیوں کو تھکا دیتا اور اِس طرح چھتے کی پیداوار بہت متاثر ہوتی۔“
”کالونی کی پیداوار اور فلاحوبہبود کیلئے ملکہ جو اہم کردار ادا کرتی ہے، شہد کی مکھیاں پالنے والا ہر شخص اُسے سمجھتا ہے،“ جان بڑی احتیاط سے چوکھٹوں کو اُٹھاتے ہوئے جس کے وسط میں جوان ملکہ بیٹھی ہے، بیان کرتا ہے۔ ”ایسے چھتے جو کم مقدار میں موم اور شہد پیدا کرتے ہیں، اُنکی ملکہ کو ختم کر کے بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن کالونیوں میں جوان ملکہ رہتی ہے وہ زیادہ شہد پیدا کرتی ہیں۔ علاوہازیں، جب ہم نئی کالونیاں بنانا چاہتے ہیں تو ہم ایک صحتمند دوہرا چھتّا لیتے ہیں جس میں مکھیوں کی بھاری تعداد ہوتی ہے اور بالائی اور زیریں ڈبوں کو الگ کر دیتے ہیں۔ آدھے حصے میں تو ملکہ ہوتی ہے جبکہ دوسرے آدھے حصے میں ایسی جوان ملکہ کو رکھ دیتے ہیں جوکہ انڈے دینے کیلئے تیار ہے۔ پھول کھلنے کے موسم تک نئی ملکہ چھتے کو نئی کارکن مکھیوں سے بھرتے ہوئے انڈے دے رہی ہو گی۔“
شہد کی ایک مکھی کتنے عرصے تک زندہ رہتی ہے؟ ہمیں بتایا گیا کہ شہد کی ایک کارکن مکھی کا دَورِحیات اُسکی جفاکشی پر منحصر ہے۔ موسمِگرما میں، جب شہد کی ایک مکھی ایک دن میں تقریباً ۱۵ گھنٹے پھولوں کی تلاش میں ۱۳ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑتی ہے تو وہ صرف چھ ہفتے زندہ رہتی ہے۔ موسمِسرما میں، شہد کی مکھیوں کیلئے جسمانی لحاظ سے کم مشقت کا وقت ہوتا ہے کیونکہ وہ دن میں صرف دو یا تین گھنٹے کام کرتی ہیں اور یوں کئی مہینوں تک زندہ رہ سکتی ہیں۔
متفرق پیداوار
جب ہم شہد کی مکھیاں پالنے کی بات کرتے ہیں تو ذہن میں آنے والی سب سے پہلی چیز شہد ہے۔ یہ شیریں نیم سیال مائع پھولوں کا رس ہے جسے شہد کی کارکن مکھیاں شہد میں تبدیل کرتی ہیں۔ ایک کمرشل چھتّا سال میں اوسطاً ۶۴ پاؤنڈ شہد پیدا کر سکتا ہے۔ شہد کی مکھیوں کی کارگزاری کی ایک اَور پیداوار موم ہے۔ شہد کا ایک چھتّا پانچ سے چھ سال تک کارآمد ہوتا ہے۔ اِسکے بعد، اِسکا رنگ گہرا ہو جاتا ہے کیونکہ بہت سے طفیلی حشرات اور جرثومے اِس پر بودوباش کرتے ہیں لہٰذا اسے بدل دیا جانا چاہئے۔ شہد کے بیکار چھتوں کو موم حاصل کرنے کیلئے کام میں لایا جاتا ہے۔ ایک ٹن شہد کی پیداوار سے حاصل ہونے والے موم کی اوسط کمرشل پیداوار ۲۰ سے ۴۰ پاؤنڈ ہے۔
پولن—جوکہ ملکہ، کارکن اور نر مکھی کی نشوونما کیلئے پروٹین، وٹامن، معدنیات اور چکنائی کا بنیادی ذریعہ ہے—جسمانی امراض کیلئے عمدہ قدرتی دوا کے طور پر بھی تسلیم کِیا جاتا ہے۔ شہد کے ایک چھتے سے سال میں تقریباً ۱۰ پاؤنڈ پولن حاصل کِیا جا سکتا ہے۔ پروپولس وہ مادہ جسے شہد کی مکھیاں اپنے چھتے کو منفصل کرنے اور کسی اجنبی کی آمد کو روکنے کیلئے استعمال کرتی ہیں۔
ہم جو خوراک استعمال کرتے ہیں اُس کی چوتھائی پیداوار کا انحصار، بالواسطہ یا بلاواسطہ، شہد کی مکھی کے فصلوں کی تخمریزی کرنے کی صلاحیت پر ہے۔ سیب، بادام، تربوز، آلوبخارہ، ناشپاتی، کھیرے اور مختلف اقسام کے بیر، اِن تمام کی تخمریزی کا انحصار شہد کی مکھیوں پر ہے۔ مختلف بیجوں والی سبزیوں بشمول گاجر، پیاز، اور سورجمکھی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔ شہد کی مکھیاں گوشت اور ڈیری کی مصنوعات پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں جوکہ الفلفا کی تخمریزی کا سبب بنتی ہیں جو مویشیوں کیلئے چارے کا کام دیتا ہے۔
”جبلّی طور پر دانا“
”میرا خیال ہے کہ شہد کی مکھیاں پالنے والوں کی اکثریت خدا پر یقین رکھتی ہے،“ ماریا بیان کرتی ہے جو ہمیں شہد کی مکھیوں کے معاشرتی ڈھانچے کی پیچیدگیوں، پیچیدہ گروہی زندگی کی حیرانکُن ترقی اور اُنکی رابطے اور انتظام کی شاندار صلاحیتوں کی وضاحت کرنے کی ہماری نااہلیت کی یاد دلاتی ہے۔ شہد کی مکھیوں کی دیکھبھال اور مطالعہ کرنے والے لوگوں کی اکثریت اِسے فوراً ہی اِس حقیقت سے منسوب کریگی کہ شہد کی مکھیاں ”جبلّی طور پر دانا“ ہیں اور ایسی جبلّت ہمارے عظیم خالق یہوواہ نے اُنہیں بڑی فیاضی سے عطا فرمائی ہے۔—مقابلہ کریں امثال ۳۰:۲۴۔
[صفحہ 26 پر بکس/تصویریں]
پھول سے آپ کے دسترخوان تک
۱ میدان میں رہنے والی شہد کی مکھی پھول کا چکر لگاتی اور رس جمع کرتی ہے
پھولوں کا چکر لگاتے ہوئے، شہد کی مکھی اپنی شہد کی تھیلی میں رس جمع کرتی ہے جوکہ اُنکے ایسوفگس کا اضافی حصہ ہے۔ اِس تھیلی کو بھرنے کیلئے شہد کی مکھی کو پھولوں کے جھرمٹ کے ۱،۰۰۰ سے ۱،۵۰۰ چکر لگانے چاہئیں
۲ چھتے میں واپسی پر، اِس شہد کو چھتے کے خانوں میں ذخیرہ کِیا جاتا ہے
چھتے میں داخل ہونے پر میدان میں رہنے والی شہد کی مکھی اپنی شہد کی تھیلی کے تمام لوازمات کسی نوجوان کارکن مکھی کے دہن میں منتقل کر دیتی ہے۔ پھر کارکن مکھی شہد کو ایک جوف میں رکھ دیتی ہے اور اُس رس کو شہد میں بدلنے کیلئے ضروری عمل انجام دیتی ہے
۳ شہد کی مکھیاں پالنے والے شہد جمع کرتے ہیں
چوکھٹے کا ہر جوف جو موم سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے، اُسے وہ گرم بلیڈ سے ہٹا دیتا ہے۔ پھر وہ چوکھٹے کو ایک ایکسٹریکٹر میں رکھ دیتا ہے جو مرکزگریز قوت کے ذریعے شہد کو الگ کر دیتا ہے۔
۴ شہد کو بوتلوں یا انفرادی خانوں میں بند کِیا جاتا ہے
شہد کی بوتلوں پر لگے لیبل یہ بتاتے ہیں کہ شہد کی مکھیوں نے اُسے کن پودوں سے حاصل کِیا تھا۔ اگر بوتل شفاف ہے تو آپ شہد کے رنگ سے اُسکے معیار کا اندازہ لگا سکتے ہیں
۵ شہد آپکی صحت کیلئے اچھا ہے!
شہد بڑی آسانی سے جزوِبدن بن کر جلد ہی توانائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ رپورٹس آشکارا کرتی ہیں کہ اِسے جلے ہوئے اور بیشتر جسمانی زخموں کے علاجمعالجے کے لئے استعمال کِیا جا سکتا ہے