مسیحی خدمتگزاری میں رابطہ
”پس تم جا کر سب قوموں [کے لوگوں] کو شاگرد بناؤ۔“—متی ۲۸:۱۹۔
۱. مسیح کے ذریعے دیا گیا کونسا حکم رابطے کی ضرورت کا مفہوم دیتا ہے؟
جب ہم گھرباگھر جا تے، واپسی ملاقاتیں کر تے، اور بادشاہتی منادی کے دیگر تمام خصوصی پہلوؤں میں حصہ لیتے ہیں تو یسوع کا حکم، جس کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے، ہمیں اپنی خدمتگزاری کے دوران لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کا چیلنج دیتا ہے۔ اس حکم میں یہوواہ خدا، یسوع مسیح، اور اس مسیحائی بادشاہت کی بابت سچائی بیان کرنے کی ذمہداری شامل ہے جس میں یسوع اب حکمرانی کرتا ہے۔ متی ۲۵:۳۱-۳۳۔
۲. مؤثر طور پر رابطے کے لیے ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟
۲ ہم مؤثر طور پر کیسے رابطہ قائم کر سکتے ہیں؟ سب سے پہلے، ہمیں ان معلومات پر یقین رکھنا چاہیے جو ہم دے رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، ہمیں مضبوط ایمان رکھنا چاہیے کہ یہوواہ ہی واحد برحق خدا ہے، یہ کہ بائبل واقعی خدا کا کلام ہے، اور یہ کہ خدا کی بادشاہت ہی بنیآدم کے لیے واحد امید ہے۔ اس طریقے سے، جو کچھ ہم سکھاتے ہیں وہ دل سے نکلے گا، اور ہم تیمتھیس کو دی گئی پولس کی نصیحت پر عمل کر رہے ہونگے: ”اپنے آپ کو خدا کے سامنے مقبول اور ایسے کام کرنے والے کی طرح پیش کرنے کی کوشش کر جسکو شرمندہ نہ ہونا پڑے اور جو حق کے کلام کو درستی سے کام میں لاتا ہو۔“ ۲-تیمتھیس ۲:۱۵۔
بےکلام رابطہ
۳-۵. (ا)کوئی لفظ کہے بغیر بھی ہم کس طرح رابطہ قائم کر سکتے ہیں؟ (ب) کونسے تجربات اس چیز کو نمایاں کرتے ہیں؟
۳ رابطے میں اکثر الفاظ شامل ہوتے ہیں۔ لیکن، درحقیقت، ہم تو لوگوں کے ساتھ کلام کرنے سے پہلے ہی رابطہ قائم کر لیتے ہیں۔ کیسے؟ اپنی وضعقطع سے اور جس طریقے سے ہم لباس پہنتے اور خود کو آراستہ کرتے ہیں۔ کئی سال گزرے واچٹاور بائبل سکول آف گلیئڈ کا ایک مشنری اپنی غیرملکی تفویض کے لیے بحری جہاز کے ذریعے سفر کر رہا تھا۔ سمندری سفر میں چند دن گزرنے کے بعد، ایک اجنبی نے اس سے پوچھا کہ وہ جہاز میں سفر کرنے والے تمام دیگر لوگوں سے اتنا مختلف کیوں تھا۔ وہ مشنری اپنی وضعقطع اور رکھ رکھاؤ کے ذریعے ہی کچھ قابلغور باتیں بیان کر رہا تھا کہ وہ مختلف معیار رکھتا تھا اور قابلرسائی تھا۔ اس نے مشنری کے لیے گواہی دینے کا ایک عمدہ موقع فراہم کر دیا۔
۴ پھر ایک مرتبہ، ایک بہن جو سڑک پر کھڑی گزرنے والوں کو بائبل لٹریچر پیش کر رہی تھی اس نے اپنے پاس سے گزرنے والی ایک خاتون کو دوستانہ مسکراہٹ دی۔ اس خاتون نے زمیندوز سٹیشن کے لیے نیچے کو سیڑھیاں اترنا شروع کر دیں۔ تب اس نے اپنا ارادہ بدل لیا، اس بہن کے پاس واپس آئی، اور ایک گھریلو بائبل مطالعے کے لیے درخواست کی۔ کس چیز نے اسے متاثر کیا تھا؟ اگرچہ اسے بائبل لٹریچر پیش نہیں کیا گیا تھا، لیکن اس نے سڑک پر کام کرنے والی گواہ سے دوستانہ مسکراہٹ حاصل کی تھی۔
۵ ایک تیسری مثال: نوجوان گواہوں کے ایک گروپ نے ایک ریستوران میں کھانا کھایا اور وہ حیران ہو گئے جب ایک اجنبی ان کے میز کی جانب بڑھا اور ان کے کھانوں کے پیسے ادا کر د یے۔ اس نے یہ کیوں کیا تھا؟ وہ ان کے رویے سے متاثر ہو چکا تھا۔ اس اجنبی سے ایک لفظ کہے بغیر ہی، ان مسیحی نوجوانوں نے بتا دیا تھا کہ وہ خداترس اشخاص تھے۔ بلاشبہ، ایک لفظ کہے بغیر ہی ہم اپنے رکھ رکھاؤ، وضعقطع، اور دوستانہ سلوک کے ذریعے رابطہ قائم کر لیتے ہیں۔ مقابلہ کریں ۱-پطرس ۳:۱، ۲۔
رابطے کے لیے استدلال نہایت اہم
۶. سمجھائیں کہ استدلال رابطے کے لیے کیسے انمول ہے؟
۶ لوگوں کے ساتھ خوشخبری کی بابت زبانی رابطہ قائم کرنے کے لیے، ہمیں تیار ہونا چاہیے، بےدلیل باتیں نہ کریں، بلکہ ان کے ساتھ استدلال کریں۔ ہم باربار پڑھتے ہیں کہ پولس جن کو خوشخبری دینے کی کوشش کرتا تھا ان کے ساتھ استدلال کرتا تھا۔ (اعمال ۱۷:۲، ۱۷، ۱۸:۱۹) ہم کس طرح اس کے نمونے کی پیروی کر سکتے ہیں؟ ہو سکتا ہے، دنیا کی بگڑتی ہوئی حالتیں شاید کسی کے لیے اس قادرمطلق اور پرمحبت خدا کی موجودگی کی بابت شک کرنے کا سبب بنی ہوں جو کہ بنیآدم کی بابت فکر رکھتا ہے۔ تاہم، ہم ان کے ساتھ استدلال کر سکتے ہیں، کہ ہر کام کے لیے خدا کا معین وقت ہے۔ (واعظ ۳:۱-۸) پس، گلتیوں ۴:۴ کہتی ہے کہ جب خدا کا مقررہ وقت آ گیا تو اس نے اپنے بیٹے کو زمین پر بھیجا۔ جب شروع میں اس نے ایسا کرنے کا وعدہ کیا تھا تو یہ اس کے ہزاروں سال بعد ہوا تھا۔ اسیطرح سے، جب اس کا مقررہ وقت آئے گا، تو وہ بدکاری اور تکلیف کا خاتمہ کریگا۔ علاوہازیں، خدا کا کلام ظاہر کرتا ہے کہ بدکاری کو اتنی دیر تک جاری رہنے کی اجازت دینے کے لیے خدا زبردست وجوہات رکھتا ہے۔ (مقابلہ کریں خروج ۹:۱۶۔) ان خطوط پر استدلال کرنا، اور مثالوں اور ٹھوس صحیفائی کے ثبوت کے ساتھ اس استدلال کی حمایت کرنا، مخلص اشخاص کی یہ سمجھنے میں مدد کریگا کہ شدید برائی کے ہر جگہ پھیلاؤ کو اس بحث کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا کہ یہوواہ موجود نہیں ہے اور پرواہ نہیں کرتا۔ رومیوں ۹:۱۴-۱۸۔
۷، ۸. کسی آتھوڈاکس (تقلیدپسند) یہودی کے ساتھ باتچیت کرنے میں کس طرح استدلال ہماری مدد کر سکتا ہے؟
۷ فرض کریں کہ جب آپ گھرباگھر جا رہے ہیں تو ایک صاحبخانہ آپ سے کہتا ہے: ”میں یہودی ہوں۔ میں دلچسپی نہیں رکھتا۔“ آپ کیسے بات آگے بڑھا سکتے ہیں؟ ایک بھائی اس رسائی کو استعمال کرتے ہوئے کامیابی کی رپورٹ دیتا ہے: ”مجھے یقین ہے کہ آپ میرے ساتھ متفق ہونگے کہ موسی ان عظیم انبیا میں سے ایک ہے جنہیں خدا نے پہلے استعمال کیا۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ اس نے کہا جیسے کہ استثنا ۳۱:۲۹ میں درج ہے: ”کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد تم . . . اس طریق سے جسکا میں نے تمکو حکم دیا ہے پھر جاؤ گے، اور تم پر ”آفت ٹوٹے گی“؟ موسی ایک سچا نبی تھا، پس اس کے الفاظ کو سچا ثابت ہونا تھا۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ یہ اس وقت سچے ثابت ہوئے جب خدا نے مسیحا کو یہودیوں کے پاس بھیجا اور اسی لیے یہودیوں نے اسے قبول نہ کیا؟ ایسا معاملہ ہو سکتا تھا۔ اب اگر ایسا ہے اور انہوں نے غلطی کی ہے، تو کیا کوئی وجہ ہے کہ مجھے اور آپ کو بھی وہی غلطی کرنی چاہیے؟“
۸ یہ بھی یاد رکھیں، کہ یہودیوں نے خاص طور پر اس صدی کے دوران دنیائے مسیحیت کے ہاتھوں بڑی اذیت اٹھائی ہے۔ لہذا آپ شاید صاحبخانہ کو یہ بتانا چاہیں کہ ہمارا اس میں کچھ حصہ نہ تھا۔ مثال کے طور پر، آپ شاید کہنا چاہیں: ”کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ہٹلر برسراقتدار تھا تو یہوواہ کے گواہوں نے یہودیوں کے لیے اس کے بائیکاٹ کی اطاعت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے ”ہائل ہٹلر“ کہنے اور اس کی فوج میں ملازمت کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔“a
۹، ۱۰. استدلال کو کسی ایسے شخص کی مدد کرنے کے لیے کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے جو آتشیدوزخ پر یقین رکھتا ہے؟
۹ دوزخ کی آگ پر یقین رکھنے والے کسی شخص کے ساتھ باتچیت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، آپ شاید دلیل دیں کہ اگر ایک شخص کو ابدی طور پر دوزخ میں تکلیف اٹھانا ہے تو اسے ایک غیرفانی جان رکھنی چاہیے۔ دوزخ پر یقین رکھنے والا فوراً مان جائے گا۔ پھر آپ آدم اور حوا کے تخلیقی بیان کا ذکر کر سکتے ہیں اور مہربانہ طریقے سے پوچھیں کہ آیا اس نے اس بیان میں کبھی اس طرح کی غیرفانی جان کا ذکر پڑھا ہے۔ اپنے استدلال کو جاری رکھتے ہوئے، پھر آپ اس کی توجہ پیدایش ۲:۷ پر دلا سکتے ہیں، جہاں پر کہ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ آدم ایک جان بنا۔ اور جو کچھ خدا نے کہا اس پر غور کریں کہ آدم کے گناہ کا کیا نتیجہ ہو گا: ”تو اپنے منہ کے پسینے کی روٹی کھائیگا جب تک کہ زمین میں تو پھر لوٹ نہ جائے اس لیے کہ تو اس سے نکالا گیا ہے کیونکہ تو خاک ہے اور خاک میں پھر لوٹ جائیگا۔“ (پیدایش ۳:۱۹) لہذا، وہ جان آدم پھر خاک میں لوٹ گئی۔
۱۰ آپ اس حقیقت پر بھی توجہ دلا سکتے ہیں کہ اب یہاں پیدایش کے بیان میں کہیں پر بھی خدا نے دوزخ کی آگ میں ابد تک تکلیف اٹھانے کا ذکر نہیں کیا۔ جب خدا نے آدم کو ممنوعہ پھل میں سے نہ کھانے کے لیے آگاہ کیا تو اس نے کہا: ”جس روز تو نے اس میں سے کھایا تو ضرور مر جائیگا۔“ (پیدایش ۲:۱۷،NW) آتشی دوزخ کا کوئی ذکر نہیں! اگر آدم کے گناہ کا حقیقی انجام موت، ”خاک میں لوٹ جانا“ نہیں، بلکہ ابدی اذیت ہونا تھا، تو عدل کی رو سے کیا خدا کو یہ پورے طور پر واضح نہیں کر دینا چاہیے تھا؟ لہذا، محتاط اور مہربانہ استدلال ایک مخلص شخص کو اپنے اعتقاد کے تضادات کو دیکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ دعا ہے کہ ہم خدا کے کلام کی سچائی کو دوسروں کو بتاتے وقت استدلال کرنے کے لیے اپیل کرنے کی اہمیت کو نظرانداز نہ کریں۔ مقابلہ کریں ۲-تیمتھیس ۲:۲۴-۲۶، ۱-یوحنا ۴:۸، ۱۶۔
مؤثر رابطے کے لیے درکار لیاقتیں
۱۱-۱۳. مؤثر طور پر رابطہ قائم کرنے کے لیے کونسی مسیحی صفات ہماری مدد کر سکتی ہیں؟
۱۱ اب بات یہ ہے کہ نہایت ہی مؤثر طور پر بادشاہتی سچائیاں بتانے کی خاطر ہمیں کون سی لیاقتیں پیدا کرنی چاہییں؟ یسوع کا نمونہ ہمیں کیا بتاتا ہے؟ متی ۱۱:۲۸-۳۰ میں ہم اس کے الفاظ پڑھتے ہیں: ”اے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ میں تمکو آرام دونگا۔ میرا جوا اپنے اوپر اٹھا لو اور مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائینگی۔ کیونکہ میرا جوا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔“ یہاں پر ہم رابطے میں یسوع کی کامیابی کی کلیدوں میں سے ایک کو دیکھتے ہیں۔ وہ حلیم اور دل کا فروتن تھا۔ راستدل لوگوں نے اسے تازگی دینے والا پایا۔ رسول پولس نے بھی ایک عمدہ نمونہ قائم کیا، جیسے اس نے افسس کے بزرگوں کو بتایا، کیونکہ پہلے دن سے ہی جب وہ ان کے پاس آیا تھا، وہ ”کمال فروتنی سے“ خداوند کی خدمت کر رہا تھا۔ اعمال ۲۰:۱۹۔
۱۲ ہماری طرف سے ہمیشہ انکساری اور ذہنی فروتنی کے ظاہر ہونے سے، دوسروں کو ایسا لگے گا کہ ہم بھی تازگی دینے والے ہیں، اور ہمارے لیے ان کے ساتھ رابطہ قائم کرنا زیادہ آسان ہو گا۔ غالباً کوئی بھی دوسرا رجحان ہمارے اور ان کے درمیان ایک رکاوٹ کھڑی کر سکتا ہے جن کے ساتھ ہم رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واقعی ”خاکساروں کے ساتھ حکمت ہے۔“ امثال ۱۱:۲۔
۱۳ مؤثر طور پر معلومات دینے کے لیے، ہمیں صابر اور موقعشناس ہونے کی بھی ضرورت ہے۔ یقیناً پولس رسول موقعشناس تھا جب اس نے مارس کی پہاڑی پر اپنے پاس جمع ہونے والے فلاسفروں کو گواہی دی تھی۔ اس نے خوشخبری کو اس طرح سے پیش کیا تھا کہ وہ سمجھ سکے تھے۔ (اعمال ۱۷:۱۸، ۲۲-۳۱) اگر ہم اپنے سامعین کے ساتھ کامیابی سے رابطہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کلسیوں کو دی گئی پولس رسول کی نصیحت پر عمل کرنا چاہیے جب اس نے کہا: ”تمہاری گفتگو ہمیشہ پرفضل ہو، اور کبھی بےکیف نہ ہو، ہر اس شخص سے جس سے آپ ملتے ہیں خوب اچھی طرح سے باتچیت کرنے کا خیال رکھیں۔“ (کلسیوں ۴:۶، دی نیو انگلش بائبل) ہماری باتچیت کو ہمیشہ پرلطف ہونا چاہیے۔ ایسی باتچیت ہمارے سامعین کے ذہنوں کو کھولنے کی طرف مائل ہوگی، جبکہ غیردانشمندانہ را ئےزنی ان کے لیے اپنے ذہنوں کو بند کر لینے کا سبب بنے گی۔
۱۴. دوسروں کے ساتھ باتچیت کرنے کے لیے ایک پرسکون، اور خوشگفتار رسائی کس طرح ہماری مدد کر سکتی ہے؟
۱۴ ہم ہمہوقت پرسکون دکھائی دینا چاہتے ہیں۔ یہ ہمارے سامعین کو تسکین پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔ پرسکون ہونے کا مطلب تمام باتچیت کرنے کے لیے زیادہ فکرمند نہ ہونے سے ہے۔ بلکہ، بےعجلت رحجان اور دوستانہ سوالات کے ساتھ ہم اپنے سامعین کو اپنا اظہار کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ خاصطور پر جب ہم غیررسمی گواہی دے رہے ہوں تو باتچیت کرنے کے لیے دوسرے شخص کی حوصلہ افزائی کرنا دانشمندی ہے۔ اس طرح، ایک گواہ نے ایک مرتبہ خود کو ایک جہاز میں ایک رومن کیتھولک پادری کے ساتھ بیٹھے ہوئے پایا۔ کوئی ایک گھنٹے سے زیادہ تک، وہ گواہ پادری کے ساتھ موقعشناس سوالوں کے ذریعے طبعآزمائی کرتا رہا، اور وہ پادری جوابات دیتے ہو ئے، زیادہ باتچیت کرتا رہا۔ لیکن اس وقت تک کہ وہ جدا ہو تے، وہ پادری کئی بائبل مطبوعات حاصل کر چکا تھا۔ اس طرح کی ایک صابر رسائی ایک اور ضروری لیاقت ظاہر کرنے کے لیے ہماری مدد کریگی، یعنی ہمدردی۔
۱۵، ۱۶. رابطہ قائم کرنے کے لیے ہمدردی کس طرح ہماری مدد کر سکتی ہے؟
۱۵ ہمدردی کا مطلب گویا خود کو دوسروں کی جگہ پر رکھنا ہے۔ پولس رسول نے ہمدردی کی ضرورت کی پوری قدر کی، جیسے کہ جو کچھ اس نے کرنتھیوں کو لکھا اس سے دیکھا جا سکتا ہے: ”اگرچہ میں سب لوگوں سے آزاد ہوں پھر بھی میں نے اپنے آپکو سب کا غلام بنا دیا ہے تاکہ اور بھی زیادہ لوگوں کو کھینچ لاؤں۔ میں یہودیوں کیلئے یہودی بنا تاکہ یہودیوں کو کھینچ لاؤں۔ جو لوگ شریعت کے ماتحت ہیں انکے لیے میں شریعت کے ماتحت ہوا تاکہ شریعت کے ماتحتوں کو کھینچ لاؤں اگرچہ خود شریعت کے ماتحت نہ تھا۔ بےشرع لوگوں کے لیے بےشرع بنا تاکہ بےشرع لوگوں کو کھینچ لاؤں اگرچہ خدا کے نزدیک بےشرع نہ تھا بلکہ مسیح کی شریعت کے تابع تھا۔ کمزوروں کے لیے کمزور بنا تاکہ کمزوروں کو کھینچ لاؤں۔ میں سب آدمیوں کے لیے سب کچھ بنا ہوا ہوں تاکہ کسی طرح بعض کو بچاؤں۔“ ۱-کرنتھیوں ۹:۱۹-۲۲۔
۱۶ ان پہلوؤں سے پولس کی نقل کرنے کے لیے، ہمیں موقعشناس، صاحببصیرت، اور تیزبیں، ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمدردی ہماری مدد کرے گی کہ اپنے سامعین کو ان کے طرزخیال اور احساس کے مطابق سچائی بہم پہنچائیں۔ اشاعت ریزنگ فرام دی سکرپچرز اس سلسلے میں کافی مدد دیتی ہے۔ خدمتگزاری میں اسے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں۔
محبت رابطے میں ایک مدد
۱۷. مؤثر طور پر سچائی کو بیان کرنے کے لیے تمام مسیحی صفات میں سے کونسی صفت نہایت ہی قابلقدر ہے، اور یہ کیسے ظاہر کی جاتی ہے؟
۱۷ معلومات دینے میں مؤثر رابطے کے لیے انکساری، ذہنی فروتنی، صبر، اور ہمدردی لازمی ہیں۔ تاہم، ان سب سے بڑھ کر، بےریا محبت لوگوں کے دلوں تک پہنچنے میں کامیاب ہونے کے لیے ہماری مدد کرے گی۔ یسوع کو لوگوں پر ترس آتا تھا کیونکہ وہ ”ان بھیڑوں کی مانند جنکا چرواہا نہ ہو خستہحال اور پراگندہ“ تھے۔ یہ محبت ہی تھی جس نے یسوع کو یہ کہنے پر آمادہ کیا تھا: ”اے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ میں تم کو آرام دونگا۔“ (متی ۹:۳۶، ۱۱:۲۸) یہ اس لیے ہے کہ ہم لوگوں سے محبت رکھتے ہیں اور ہم بھی ان کو آرام دینا چاہتے ہیں اور زندگی کی راہ پر لے چلنے میں ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا پیغام محبت کا ہے، پس آئیے ہم اسے ایک پرمحبت طریقے سے بتاتے رہیں۔ یہ محبت بذاتخود ایک دوستانہ مسکراہٹ سے، مہربانی اور شفقت سے، شادمانی اور گرمجوشی سے ظاہر ہوتی ہے۔
۱۸. کس طریقے سے ہم پولس کی تقلید کر سکتے ہیں، جیسے کہ اس نے بھی اپنے آقا کی تقلید کی تھی؟
۱۸ اس سلسلے میں پولس اپنے آقا، یسوع مسیح کا ایک عمدہ مقلد تھا۔ ایک کے بعد دوسری کلیسیا شروع کرنے میں وہ اتنا کامیاب کیوں تھا؟ اپنی گرمجوشی کی وجہ سے؟ جی ہاں۔ لیکن اس محبت کی وجہ سے بھی جو اس نے ظاہر کی تھی۔ تھسلنیکے میں نئی کلیسیا کے سلسلے میں اس کی ہمدردی کے اظہارات پر غور کریں: ”جس طرح ماں اپنے بچوں کو پالتی ہے اسی طرح ہم تمہارے درمیان نرمی کے ساتھ رہے۔ اور اسی طرح ہم تمہارے بہت مشتاق ہو کر نہ فقط خدا کی خوشخبری بلکہ اپنی جان تک بھی تمہیں دے دینے کو راضی تھے۔ اس واسطے کہ تم ہمارے پیارے ہو گئے تھے۔“ پولس کی نقل کرنا رابطہ قائم کرنے کے لیے ہماری کاوشوں میں ہماری مدد کرے گا۔ ۱-تھسلنیکیوں ۲:۷، ۸۔
۱۹. ہمیں غیراثرپذیر علاقے کو خود کو بےحوصلہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دینی چاہیے؟
۱۹ اگر ہم نے رابطہ قائم کرنے میں اپنی پوری کوشش کی ہے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، تو کیا ہمیں بےحوصلہ ہو جانا چاہیے؟ ہرگز نہیں۔ بائبل اسٹوڈنٹس (جیسے کہ یہوواہ کے گواہ پہلے کہلاتے تھے) کہا کرتے تھے کہ سچائی کو قبول کرنے کے لیے لوگوں کو تین لیاقتوں کی ضرورت ہے۔ انہیں دیانتدار، فروتن، اور بھوکا ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم غیرمخلص لوگوں سے جو دیانتدار نہیں، توقع نہیں کر سکتے کہ سچائی کے لیے امیدافزا طور پر ردعمل دکھائیں، اور نہ ہم خودپسند یا مغرور اشخاص سے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ خوشخبری کو سنیں۔ علاوہازیں، اگر ایک شخص کسی حد تک دیانتدار اور فروتن ہو تو بھی اگر وہ روحانی طور پر بھوکا نہیں تو ممکن نہیں کہ وہ سچائی کو قبول کرے گا۔
۲۰. ہمیشہ کیوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہماری کاوشیں رائیگاں نہیں گئیں؟
۲۰ بلاشبہ آپ اپنے علاقے میں زیادہتر جن لوگوں سے ملتے ہیں وہ ان تین لیاقتوں میں سے ایک یا زیادہ کی کمی دکھائیں گے۔ یرمیاہ نبی کو بھی ایسا ہی تجربہ ہوا تھا۔ (یرمیاہ ۱:۱۷-۱۹، مقابلہ کریں متی ۵:۳۔) تاہم، ہماری کوششیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ کیوں نہیں؟ اس لیے کہ ہم یہوواہ کے نام اور بادشاہت کا اشتہار دے رہے ہیں۔ اپنی منادی کے ذریعے اور اپنی موجودگی کے ذریعے سے، ہم شریروں کو آگاہ کر رہے ہیں۔ (حزقیایل ۳۳:۳۳) اور کبھی نہ بھولیں کہ دوسروں کو سچائی بتانے کے لیے اپنی کوششوں سے، ہم خود کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۴:۱۶) ہم اپنے ایمان کو مضبوط اور اپنی بادشاہتی امید کو روشن رکھتے ہیں۔ مزیدبرآں، ہم اپنی راستی پر قائم رہتے ہیں اور یوں یہوواہ خدا کے نام کی تقدیس کرنے اور اس کے دل کو شاد کرنے میں حصہ لیتے ہیں۔ امثال ۲۷:۱۱۔
۲۱. خلاصے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟
۲۱ بطورخلاصہ: رابطہ مؤثر طور پر معلومات دینے کو کہتے ہیں۔ رابطے کا فن نہایتاہم ہے، اور جب رابطے کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے تو یہ بہت نقصان پر منتج ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح اولین رابطہدان ہیں اور یہ کہ یسوع مسیح نے ہمارے دنوں کے لیے رابطے کے ایک سلسلے کا حکم دیا ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ ہم اپنی وضعقطع اور آرائش کے ذریعے پیغامات بھیجتے ہوئے دوسروں کے ساتھ رابطہ رکھتے ہیں۔ ہم نے سیکھ لیا ہے کہ لوگوں کے ساتھ باتچیت کرنے کی ہماری کوشش میں استدلال ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہ کہ مؤثر طور پر رابطہ قائم کرنے کے لیے، ہمیں منکسر اور فروتن بننے، ہمدردی ظاہر کرنے، صبر دکھانے، اور، سب سے بڑھکر، ایک محبت بھرے دل سے تحریک پانے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم یہ صفات پیدا کر لیں اور بائبل مثالوں کی پیروی کریں تو ہم کامیاب مسیحی رابطہدان ہوں گے۔ رومیوں ۱۲:۸-۱۱۔ (۲۵ ۹/۱ w۹۱)
[فٹنوٹ]
a جس طرح یہودی عقیدہ رکھنے والوں اور دیگر لوگوں کے ساتھ جس طرح رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے اس کی بابت مزید مشوروں کے لیے دیکھیں، ریزنگ فرام دی سکرپچرز، صفحات ۲۱-۲۴۔
آپ کیسے جواب دیں گے؟
▫ کس طریقے سے کوئی لفظ بولنے سے پہلے ہی رابطہ شروع ہو جاتا ہے؟
▫ مؤثر استدلال کے ذریعے رابطے کی بعض مثالیں کونسی ہیں؟
▫ یسوع مسیح اور پولس کو کن صفات نے مؤثر طور پر رابطہ قائم کرنے کے قابل بنایا تھا؟
▫ اگر نتائج برآمد ہونے میں سستی پائی جاتی ہے تو کیوں ہمیں بےحوصلہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے؟