یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏2 ص.‏ 24-‏26
  • کیا آپ گنہگارانہ رغبتوں سے انکار کرتے ہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ گنہگارانہ رغبتوں سے انکار کرتے ہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • کیوں انکار مہلک ہے
  • خود کو مستحکم کریں!‏
  • تسلیم کریں اور عمل کریں
  • کیا آپ ابھی بھی اپنی شخصیت میں بہتری لا رہے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
  • آپ جہاں کہیں بھی ہوں یہوواہ کی آواز سنیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے چوکس رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • آپ قربانی کا جذبہ کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏2 ص.‏ 24-‏26

کیا آپ گنہگارانہ رغبتوں سے انکار کرتے ہیں

‏”‏غرض میں، ایسی شریعت پاتا ہوں کہ جب نیکی کا ارادہ کرتا ہوں تو بدی میرے پاس آ موجود ہوتی ہے۔ کیونکہ باطنی انسانیت کی رو سے تو میں خدا کی شریعت کو بہت پسند کرتا ہوں مگر مجھے اپنے اعضا میں ایک اور طرح کی شریعت نظر آتی ہے جو میری عقل کی شریعت سے لڑ کر مجھے اس گناہ کی شریعت کی قید میں لے آتی ہے جو میرے اعضا میں موجود ہے۔“‏ رومیوں ۷:‏۲۱-‏۲۳‏۔‏

مندرجہ‌بالا بات تسلیم کرنے کے لیے رسول پولس کو فروتن بننا پڑا۔ تاہم، ایسا کرنے سے اسے مدد ملی کہ اپنی ناکامل رغبتوں کو اپنے اوپر زیادہ حاوی ہونے سے روک سکے۔‏

آج کل سچے مسیحیوں کی بابت بھی ایسا ہی ہے۔ جب ہم نے بائبل سچائی کا صحیح علم حاصل کر لیا تو ہم یہوواہ کے معیاروں کی مطابقت میں اپنی طرززندگی میں ضروری تبدیلی لائے، اگرچہ، گنہگارانہ رغبتیں باقی ہیں، ”‏کیونکہ انسان کے دل کے خیال لڑکپن سے برے ہیں۔“‏ (‏پیدایش ۸:‏۲۱‏)‏ کیا ہم اس قدر دیانتدا رہیں کہ ہم پر دباؤ ڈالنے والی خاص رغبتوں کو خود سے تسلیم کر لیں؟ یا کیا ہم شاید یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے اس کا انکار کرتے ہیں، ”‏یہ شاید دوسروں کے لیے مشکل کا باعث ہوں لیکن میرے لیے نہیں“‏؟‏

خود کو اس طرح سے دھوکا دینا مہلک ہو سکتا ہے۔ بائبل پر مبنی ایک تمثیل شاید ہمیں اپنی گنہگارانہ رغبتوں کو تسلیم کرنے اور ان پر قابو پانے کی ضرورت کی قدر کرنے میں مدد دے۔‏

کیوں انکار مہلک ہے

بائبل وقتوں میں بہت سے شہروں کو دیواروں کے ذریعے محفوظ بنایا جاتا تھا۔ دروازے جو کہ زیادہ‌تر لکڑی کے بنے ہوتے تھے وہ شہر کی اندرونی دیوار کا نسبتاً غیرمحفوظ حصہ ہوتے تھے، اس لیے، ان کی زوردار حفاظت کی جاتی تھی۔ امن کے زمانے میں وہاں کے باشندے صرف اتنے ہی دروازے بناتے تھے جتنے آمدورفت کے لیے ضروری ہوتے تھے۔ لکڑی کے دروازوں پر اکثر دھات منڈھی ہوتی تھی تاکہ آگ سے تباہ ہونے سے محفوظ رہیں۔ دیواروں پر مینار تعمیر کیے جاتے تھے تاکہ ان پر پہرےدار متعین کیے جا سکیں جو دور ہی سے دشمن کو آتے ہوئے دیکھ سکیں۔‏

اب ذرا سوچیں:‏ اس وقت کیا ہو گا اگر اس شہر کے باشندے شہر کے دروازوں کے غیرمحفوظ ہونے سے انکار کریں اور مناسب تحفظ فراہم نہ کریں؟ دشمن سپاہی آسانی سے شہر میں داخل ہو کر اس کی شکست کا باعث بن جائیں گے۔‏

ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔ یہوواہ ہم میں سے ہر ایک کے غیرمحفوظ مقامات کو جانتا ہے۔ ”‏اور اس سے مخلوقات کی کوئی چیز چھپی نہیں بلکہ جس سے ہم کو کام ہے اس کی نظروں میں سب چیزیں کھلی اور بے‌پردہ ہیں۔“‏ (‏عبرانیوں ۴:‏۱۳‏)‏ شاید شیطان نے بھی ہماری بعض گنہگارانہ رغبتوں کو بھانپ لیا ہے، چاہے وہ سچائی کو توڑمروڑ کر بیان کرنا، گرم‌مزاجی، جنسی بداخلاقی میں دلچسپی، مادہ پرستی، غرور، یا اسی قسم کی کوئی اور چیز ہے۔ اگر ہم اس سے انکار کرتے ہیں کہ ہمارے اندر گنہگارانہ رغبتیں ہیں تو ہم اپنے ایمان کو شیطان کے حملوں کے لیے اور زیادہ غیرمحفوظ بناتے ہیں۔ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۸‏)‏ شاید ہم پر اس وقت غلبہ پا لیا جائے جب غلط خواہشات ہماری رغبتوں پر حاوی ہو جائیں اور گناہ کو جنم دیں۔ (‏یعقوب ۱:‏۱۴، ۱۵‏)‏ ہمیں پولس کی مانند بننے کی ضرورت ہے تاکہ ہم کسی بھی ”‏لکڑی کے دروازے“‏ کو جو کہ موجود ہو سکتا ہے دیانتداری سے تسلیم کر لیں۔‏

خود کو مستحکم کریں!‏

یہ فضول بات ہوگی کہ غلط رغبتوں کی شناخت تو کر لیں مگر ان کی بابت کچھ نہ کریں۔ یہ اس آدمی کی مانند ہو گا جو خود کو آیئنہ میں دیکھتا ہے، توجہ طلب حلقوں پر غور کرتا ہے، لیکن ضروری درستی کیے بغیر ہی چلا جاتا ہے۔ (‏یعقوب ۱:‏۲۳-‏۲۵‏)‏ جی ہاں، خود کو گنہگارانہ رغبتوں کے غلبے سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں ضروری اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟‏

بائبل زمانوں میں، اکثر، چھوٹے قصبے، یا ”‏معاون قصبے“‏ بے‌فصیل ہوتے تھے۔ (‏گنتی ۲۱:‏۲۵، ۳۲، قضاہ ۱:‏۲۷، ۱-‏تواریخ ۱۸:‏۱،‏ یرمیاہ ۴۹:‏۲‏)‏ دشمن کے حملے کے وقت ان قصبوں کے باشندے فصیلدار شہر میں پناہ لے سکتے تھے۔ پس فصیلدار شہر اردگرد کے علاقے کے لوگوں کے لیے پناہ گاہ کا کام دیتے تھے۔‏

بائبل یہوواہ خدا کو بطور ایک محکم برج، ایک پناہ گاہ، ایک دیوار کے بیان کرتی ہے جس میں ہم پناہ کے لیے بھاگ کر جا سکتے ہیں۔ (‏امثال ۱۸:‏۱۰،‏ زکریاہ ۲:‏۴، ۵)‏ پس یہوواہ اپنے خادموں کا اولین ذریعہءتحفظ ہے۔ اس سے بلا‌ناغہ دعا کرنا نہایت ضروری ہے۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۷‏)‏ ایک دوسری امداد بائبل ہے۔ خدا کے کلام کو استعمال میں لاتے ہوئے، ہم ان حلقوں کی خاص جانچ کر کے اچھا کرتے ہیں جن میں ہم کمزور ہیں۔ ہم شاید بائبل پر مبنی ان مضامین کی بار بار جانچ کرنے کے لیے وقت نکال کر اچھا کرتے ہیں جو ہمارے انفرادی ”‏لکڑی کے دروازوں“‏ کی بابت ہیں۔‏

اس کے علاوہ، برج میں موجود نگہبان کی طرح، ہم دور ہی سے دشمن کو دیکھ سکتے ہیں، کہ وہ کیسا ہے، اور پھر اس کے مطابق عمل کر سکتے ہیں۔ کیسے؟ ایسی حالتوں سے گریز کرنے سے جن میں شاید ہمیں آزمائش یا دباؤ کا سامنا ہو۔ مثال کے طور پر، ایک ایسے شخص کے لیے جو کہ الکحلی مشروبات کو اعتدال کے ساتھ پینے کی بابت کوشش کر رہا ہے دانشمندی سے ایسی جگہوں کا انتخاب کرنے سے گریز کرے جہاں ایسے مشروبات کا وافر استعمال عام ہے یا جہاں اس کی حوصلہ‌افزائی کی جاتی ہے۔‏

اس تمام کے لیے کوشش درکار ہے۔ تاہم، اگر رسول پولس کو ناکامل رغبتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ”‏اپنے بدن کو مارناکوٹنا“‏ پڑتا تھا تو کیا ہمیں بھی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی؟ اپنی گنہگارانہ رغبتوں کی طرف اس طرح مستعدی سے دھیان دینا یہ ظاہر کرے گا کہ ہم پطرس رسول کی اس ہدایت پر چل رہے ہیں:‏ ”‏اس لیے اس کے سامنے اطمینان کی حالت میں [‏اور]‏ بیداغ اور بے‌عیب نکلنے کی کوشش کرو۔“‏ ۱-‏کرنتھیوں ۹:‏۲۷،‏ ۲-‏پطرس ۳:‏۱۴‏۔‏

تسلیم کریں اور عمل کریں

اگر آپ کی تمام‌تر کوششوں کے باوجود بھی آپ کی تمام ناکامل رغبتیں ختم نہیں ہوتیں تو اس سے بے‌حوصلہ نہ ہوں۔ جب تک ہم ناکامل ہیں، کسی نہ کسی حد تک غلط رغبتیں ہمیشہ موجود رہیں گی، جیسے کہ پولس کے معاملے میں بھی یہ سچ تھا۔ لیکن ہمیں انہیں زیر کرنے کے لیے کوشاں رہنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ گناہ کو جنم نہ دے سکیں۔‏

تاہم، ناکاملیت کی حقیقت کو تسلیم کرنے اور اسے برداشت کرنے کے درمیان فرق، کی بابت خبردار رہیں۔ اس کی مثال ایک ایسے آدمی سے دی جا سکتی ہے جس کے سینے میں ایک کمزور دل ہے۔ اسے اس حقیقت کا مقابلہ یوں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے دل کو اتنی ہی اچھی حالت میں رکھنے کی کوشش کرے جتنا کہ وہ رکھنے کی امید کر سکتا ہے۔ وہ یہ دلیل نہیں دے گا کہ چونکہ اس کا حقیقی دل پہلے ہی کمزور ہے، اس لیے وہ کسی طرح کی پابندی نہیں کرے گا اور جس طرح وہ چاہے اپنی زندگی بسر کرے گا۔‏

پس، یہ یاد رکھیں، کہ ہماری مضبوطی اس میں نہیں کہ ہم اپنی گنہگارانہ رغبتوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں بلکہ انہیں تسلیم کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے میں ہے۔ پس ایسے حلقوں کو جن میں آپ آسانی سے آزمائے جاتے اور دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں یہوواہ کے سامنے اور اپنے سامنے تسلیم کرنے سے نہ گھبرائیں۔ ایسا کرنے کی وجہ سے آپ کو خود کو کم‌تر محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی اس کی وجہ سے آپ کے لیے یہوواہ کی محبت میں کمی آئے گی۔ درحقیقت، خدا کی مقبولیت حاصل کرنے کی خاطر آپ جتنا اس کے قریب جائیں گے، وہ اتنا ہی آپ کے قریب آئے گا۔ یعقوب ۴:‏۸‏۔ (‏ ۲۹ ۸/۱۵ w۹۱)‏

‏[‏تصویر]‏

مجدو کا یہ ماڈل قدیم شہروں کی حفاظتی فصیلوں اور مضبوط دروازوں کی تصویرکشی کرتا ہے

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

‏.Pictorial Archive )‎Near Eastern History‎( Est

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں