برازیل میں کٹائی کے لیے تیار فصل
”اپنی آنکھیں اٹھا کر کھتیوں پر نظر کرو کہ فصل پک گئی ہے۔ اور کاٹنے والا مزدوری پاتا اور ہمیشہ کی زندگی کے لیے پھل جمع کرتا ہے۔“ (یوحنا ۴:۳۵، ۳۶) یسوع مسیح کے یہ نبوتی الفاظ آج کل جنوبی امریکہ کے وسیع ملک برازیل کے دوردراز حصوں کے سلسلے میں سچ ہیں۔
کئی سالوں سے برازیل میں یہوواہ کے گواہ عمدہ ترقیوں سے لطفاندوز ہو رہے ہیں۔ اپریل ۱۹۹۱ میں، ۳۰۸،۹۷۳ بادشاہتی کٹائی کرنے والوں کی ایک انتہائی تعداد نے ۴۰۱،۵۷۴ گھریلو بائبل مطالعے کرائے۔ مارچ ۳۰، ۱۹۹۱ کو، ۸۹۷،۷۳۹ لوگوں کی کل تعداد یسوع کی موت کی یادگار منانے کے لیے جمع ہوئی، وہی جس نے فصل کی کٹائی کے کام کا آغاز کیا۔
ایسے عمدہ نتائج کے باوجود، فصل کا کچھ حصہ ابھی تک کٹائی کا منتظر ہے۔ پانچ ملین سے بھی زیادہ لوگ برازیل کے ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں یہوواہ کے گواہوں کے ذریعے منادی کا کام بہت کم ہوا ہے یا بالکل ہوا ہی نہیں۔ ان علاقوں میں فصل کی کٹائی کرنے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟
پائنیر فصل کی کٹائی میں شریک ہیں
حالیہ چھ ماہ کے عرصہ کے دوران برازیل میں، دی واچ ٹاور سوسائٹی کے برانچ آفس نے ملک کے مشرقی حصے کے ۹۷ گنجان آباد قصبوں میں کلوقتی مناد بھیجے ۱۰۰ عارضی اسپیشل پائنیر اور ۹۷ ریگولر پائنیر۔ مختلف کلیسیاؤں کے بادشاہتی پبلشروں نے بھی تھوڑے عرصہ کے لیے رضاکارانہ طور پر ان علاقوں میں کام کرنے کی پیشکش کی۔ ان مشکلات کے باوجود جن پر قابو پانا پڑا، نتائج اطمینانبخش رہے۔
مثال کے طور پر، میناس گیریس کی ریاست میں، ساؤ جوا دا پونتی کے مقام پر، پائنیر ایک مقامی سکول کے دینی استاد کے پاس گئے۔ پیغام سننے کے بعد، اس نے اپنی کیٹیکزم (مذہبی تعلیم) کلاس کے لیے یور یوتھ گیٹنگ دی بیسٹ آؤٹ آف اٹ کتاب کی ۵۰ کاپیوں کا آرڈر دیا۔ ایک اور استاد نے رخصت ہونے والے پائنیر سے کہا: ”چونکہ آپ یہاں اتنا اچھا کام کر رہے ہیں، آپ کو تو جانا ہی نہیں چاہیے۔ آپ ہی واحد وہ لوگ ہیں جو بائبل کی واضح تشریح کر سکتے ہیں۔“
ہر کوئی اس اچھے کام سے خوش نہیں تھا۔ مثال کے طور پر، مقامی اخبار (دیاریو دی مونتیز کلیروس) کی صفحہءاول کی اس شہ سرخی کے تحت شائع ہونے والے اس خط پر غور کریں ”پادری پر نارواامتیاز اور تشدد پر اکسانے کا الزام لگایا گیا۔“ خط میں یہ کہا گیا: ”چرچ میں، [پادری] کا یہ دستور ہے کہ وہ ایسے اشخاص کو ملامت کرتا ہے جو دوسرے فرقوں یا مذاہب کے پیرو ہو جاتے ہیں، اگرچہ مقامی مذہبی راہنما ایمانداروں کے لیے انجیل میں سے مناسب کیتھولک اور مسیحی راہنمائی فراہم نہیں کرتے۔ ماس کے دوران، اس نے قصبہ میں رہنے والے یہوواہ کے گواہوں کو ہدفتنقید بنایا، ہرچند کہ وہ کیتھولکوں کے ساتھ بری طرح پیش نہیں آتے۔“ ایسی مخالفت سے قطع نظر، اس مضمون کا مصنف (ایک عالم دین) اس بائبل تقریر کو سننے کے لیے حاضر ہوا جو پائنیروں نے پیش کی اور اپنے ساتھ دوسرے دلچسپی رکھنے والے اشخاص کو بھی لایا۔ ان سب نے اجلاس سے لطف اٹھایا۔
فورٹالیزا سے چار بھائی ہوائی سفر کے ذریعے فرنیندو دی نورنحا کے جزیرے پہنچے، جو ملک کے بری حصے سے ۴۰۰ کلومیٹر دور ہے۔ ۱۵ سالوں سے اس جزیرے کے ۱،۵۰۰ باشندوں کو اچھی طرح سے گواہی نہیں دی گئی تھی۔ دس دنوں کے اندر بھائیوں نے ۵۰ کتابیں اور ۲۴۵ رسالے اور بروشر پیش کیے، اور انہوں نے ۱۵ بائبل مطالعے شروع کیے۔ ان کے دورے کے دوران منقعد ہونے والی مسیح کی موت کی یادگاری پر، بارہ لوگ حاضر ہوئے۔ پائنیر یہ امید کرتے ہیں کہ یہوواہ کی مدد کے ساتھ جلد ہی کام مستقل بنیادوں پر استوار ہو جائے گا۔ بعض بھائی علاقے میں منتقل ہو جانے کی بابت غور کر رہے ہیں۔
پادری طبقہ کا اثرورسوخ کٹائی کو متاثر کرتا ہے
ریو دی جنیرو کی آرپوادور کلیسیا کے پبلشروں کے ایک گروپ نے میناس گیریس کی ریاست کے کئی قصبوں میں، جو کہ تقریباً ۲۰۰ کلومیٹر دور ہیں دو ہفتے کے لیے رضاکارانہ طور پر منادی کرنے کی پیشکش کی۔ مقامی لوگوں کی مہماننوازی اور نرمی کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہو ئے۔ وہاں کے آدمیوں کا یہ دستور تھا کہ ہر بار جب بھی خدا، یا اس کے نام یہوواہ کا ذکر آتا، وہ اپنی ٹوپیاں اتار لیتے۔ تاہم، خدا کے لیے اپنی بےحد تعظیم کی وجہ سے، وہ بڑی آسانی سے پادریوں کے دباؤ میں آگئے۔
ایک قصبے میں پادری نے لوگوں کو نصیحت کی کہ وہ یہوواہ کے گواہوں کی بات نہ سنیں اور نہ ہی ان کے ان اجلاسوں میں حاضر ہوں جنہیں منعقد کرنے کا وہ منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے میٹنگ کے ٹائم پر ہی ایک خاص ماس کا پروگرام بھی ترتیب دے دیا، اور اس کے چرچ کے باہر [لاؤڈ سپیکر] پر یہ ماس پورے زوروشور کے ساتھ نشر کی جا رہی تھی۔ تاہم، اس کی ان تمام کوششوں کے باوجود، باہر سے آنے والے لوگوں کے علاوہ، ۲۹ مقامی لوگ اجلاس پر حاضر ہو ئے۔
ایک پڑوسی قصبہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ وہاں کے پادری نے لوگوں سے کہا کہ جب گواہ ان کے پاس آئیں تو ان کی سنیں۔ نتیجتاً ۱۶۸ پہلے اجلاس پر حاضر ہوئے۔ بعد میں، اس نے انہیں کہا کہ غور سے دیکھو کہ یہوواہ کے گواہ کس طرح میموریل مناتے ہیں، کیونکہ اس نے کہا، ”وہ اسے موزوں طور پر مناتے ہیں۔“ اس علاقہ میں دو۔ہفتے کی بادشاہتی منادی کے دوران، ۱،۰۱۴ کتابیں اور ۱،۰۵۲ رسالے اور بروشر پیش کیے گئے۔
متواتر کوششیں برکات لائیں
پہلے دورے کے دوران شروعکردہ مطالعوں کی دیکھ بھال کے لیے ۳۴ بادشاہتی پبلشر ایک ماہ بعد واپس گئے۔ پیشوائی کرنے والے مسیحی بزرگ نے لکھا: ”یہ دیکھنا نہایت خوشیبخش تھا کہ دلچسپی رکھنے والے لوگوں نے خوشی کے آنسوؤں سے لبریز آنکھوں اور شکرگزاری کے اظہارات کے ساتھ ہمارا پرتپاک خیرمقدم کیا۔“ ایک بہن یاد کرتی ہے کہ ایک خاتون ”آنکھوں میں آنسو لیے، ہمارے اس کے پاس آنے اور اس کے ساتھ مطالعہ کرنے کے لیے التجا کرتی ہوئی“ ایک چھوٹے سے ریستوران میں اس کے اور اس کے ہمراہ گواہوں کے پاس آئی۔ ایک اور خاتون نے اس ہفتے کے دوران تین بار مطالعہ کیا جب گواہ وہاں تھے۔ ہر بار، وہ اپنا سبق تیار کر کے رکھتی اور مطالعہ کے لیے منتظر رہتی تھی۔ اس خاتون نے کہا کہ اس نے سچے خدا، یہوواہ سے دعا کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ اس نے مزید یہ بھی کہا، ”میرے دل میں بھی یہی تھا جس کا میں بڑی دیر سے انتظار کرتی رہی ہوں۔“
بعد میں، دو (خاتون) پائنیروں کو اس علاقے میں بھیج دیا گیا تاکہ اس علاقے میں ظاہرکردہ دلچسپی کو قائم رکھ سکیں۔ اور جیسا کہ پہلی صدی س۔ع۔ میں تھا، ”جتنے ہمیشہ کی زندگی کی طرف مائل تھے ایمان لے آ ئے۔“ (اعمال ۱۳:۴۸) اور اس سامری عورت کی طرح جسے یسوع نے یعقوب کے کنوئیں پر گواہی دی، انہوں نے بھی سیکھی ہوئی باتیں دوسروں کو بتانا شروع کر دیں۔ (یوحنا ۴:۵-۳۰) آج بھی ۲ پائنیروں کے ساتھ ۶ اور لوگ ملکر کام کر رہے ہیں، اور ہفتہ واری اجلاسوں پر اوسطاً ۲۰ لوگ حاضر ہوتے ہیں۔
اس خاص کام کی کامیابی سے پرجوش ہو کر آرپوادور کلیسیا کے ۲۹ پبلشر تقریباً ۵۰۰ کلومیٹر دور، موٹم کے قصبے میں، منادی کرنے کے لیے چلے گئے۔ گروپ کی راہنمائی کرنے والے بزرگ نے کہا، ”ہمارا استقبال نہایت ہی منفرد انداز سے کیا گیا، لوگوں کی اکثریت نے اتنے غور اور دلچسپی سے سنا کہ ۱۷۰ بائبل مطالعے شروع ہو گئے، اور ہمارا خیال ہے کہ ان میں سے زیادہتر جاری رہیں گے۔“ دو ہفتوں میں ہر پبلشر نے اوسطاً ۹۰ گھنٹے منادی کی اور چھوڑے گئے لٹریچر کی تعداد تقریباً ۱۱۰۰ تھی۔ ۱۸۱ کی انتہائی تعداد بھائیوں کی طرف سے دی گئی عوامی تقاریر پر حاضر ہوئی۔
چند ماہ بعد، کلیسیا نے موٹم کے مرکز میں کنگڈم ہال اور پائنیرہوم کے طور پر استعمال کرنے کے لیے ایک خوبصورت گھر کرایے پر لے لیا۔ اس علاقے میں بھیجی گئی دو پائنیر بہنوں کی طرف سے سوسائٹی کو ملنے والی پہلی رپورٹ کے ایک حصہ میں کچھ اس طرح سے تحریر تھا: ”شروع ہی میں اتنے زیادہ مطالعے شروع ہو جانے کی وجہ سے، ہمیں اور زیادہ پائنیروں کی ضرورت ہے۔ یہاں تک کہ مہینے میں ایک دفعہ ریو دی جنیرو کے بھائیوں کی مدد کے باوجود کام بہت زیادہ ہے۔ ان دس صاحبخانہ میں سے جن کے ساتھ ہماری گفتگو ہوتی ہے نو ہمیں دوبارہ آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہمیں اجلاس منعقد کرنے کے سلسلے میں بھی مدد درکار ہے۔“ اب ایک اور پائنیر ان کے ساتھ شامل ہو گیا ہے۔
زندگیاں تبدیل ہو گئیں
سچائی کو جڑ پکڑتے اور پھلتے پھولتے دیکھنا بڑا حوصلہافزا رہا ہے۔ ایک دلچسپی رکھنے والی [خاتون] نے لکھا: ”بائبل کا یہ علم حاصل کرنا میری زندگی کا سب سے بہترین واقعہ ہے۔ میری زندگی میں مثبت تبدیلی آ گئی ہے، اور اب مجھے کسی بھی طرح کی خوابآور ادویات لینے کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ . . . دعا ہے کہ جو کچھ آپ نے میرے لیے کیا ہے اس کے لیے یہوواہ آپ کو برکت دے۔“
ایک اور [خاتون] نے بیان کیا: ”مجھے واقعی حیرت ہوتی ہے کہ کیسے یہوواہ نے میری آنکھیں کھول دی ہیں۔ اگرچہ اسی ہفتے میری دادیاماں فوت ہو گئی ہیں، اب میرے پاس امید ہے کہ میں انہیں دوبارہ دیکھوں گی۔ میری بپتسمہ لینے کی خواہش ہے، لیکن میں چاہتی ہوں کہ پہلے اس کے لیے خود کو اچھی طرح تیار کروں۔ دعا ہے کہ یہوواہ آپ کو یہاں آنے اور ہمیں اس تنگ راستے پر ڈالنے کا جو ہمیشہ کی زندگی کو لے جاتا ہے بڑا اجر دے۔“ ایک اور [خاتون] نے بھی یہ کہا: ”میں آپ کے علم میں لانا چاہتی ہوں کہ میں نے ایک ماہ سے سگریٹ نہیں پی۔ میں اس رسالے کے لیے بہت خوش ہوں جو آپ نے مجھے بھیجا ہے۔ اس میں بہت سی ایسی اچھی چیزیں تھیں جنہوں نے مجھے ایسا کرنے میں مدد دی ہے۔“ یقیناً، فصل کی کٹائی خوش ہونے کی اچھی وجوہات فراہم کرتی ہے۔
تاہم، ایسی برکات جدوجہد کے بغیر حاصل نہیں ہوئیں۔ مثال کے طور پر، جب ایک خاتون اور اس کی بیٹی نے مطالعہ شروع کر دیا تو مقامی پادری نے انہیں آگاہ کر دیا کہ اگر وہ گواہوں کے اجلاسوں پر گئیں تو وہ انہیں چرچ سے خارج کر دے گا۔ اس دھمکی کی پرواہ کیے بغیر، وہ اجلاسوں پر گئیں۔ اس کے بعد ان کے پرانے دوستوں نے انہیں برادری سے خارج کر دیا، اور بعض نے تو ان پر یہ الزام بھی لگایا کہ یہ پاگل ہو گئی ہیں کیونکہ ”وہ یہوواہ“ کیتھولک بائبل میں نہیں ملتا۔ اب چونکہ یہ خاتون اپنی کیتھولک بائبل میں نام یہوواہ تلاش کرنے میں ناکام رہی، اس لیے اس نے اپنے پڑوسیوں کو پائنیروں کے ساتھ اپنے مطالعہ کے دن اپنے گھر پر آنے کی دعوت دی۔ ایک خاتون اپنے ساتھ کیتھولک پولیناس ورشن آف دی بائبل لے آئی۔ جب اس نے خروج ۶:۳ کے فٹ نوٹ میں خدا کا نام یہوواہ پڑھا تو اس نے بھی اپنے گھر میں بائبل مطالعہ کی پیشکش کو قبول کر لیا۔
کٹائی میں بھرپور حصہ لیں
کبھی کبھار کیے گئے علاقے میں کام کرنے کا خود کارندوں پر کیا اثر پڑا؟ ایک بادشاہتی پبلشر نے کہا: ”اس کام نے ہمارے ایمان کو اور یہوواہ کے ساتھ ہمارے رشتے کو مزید مضبوط کیا اور ہمیں اپنی اولیتوں پر نظرثانی کرنے میں مدد دی۔“ ایک اور پبلشر بیان کرتا ہے: ”اس ۱۴ روزہ عرصہ نے ان بھائیوں کے لیے میری محبت میں اضافہ کیا، جو ایک خاندان کے طور پر واحد نصبالعین کے ساتھ کام کرتے ہیں: یعنی حلیم لوگوں کی تلاش کرنا۔ اس نے مجھے ان کے ساتھ بھی مزید پیار کرنے کی ترغیب دی جو ہمارے پیغام کو، اکثر آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ، سچائی کے لیے حقیقی پیاس کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر، مجھے یہوواہ کی محبت محسوس ہوئی جو وہ ہمیں اپنی خدمت کرنے کا شرفبخش کر دکھاتا ہے۔“
ایک بزرگ جس نے کبھیکبھار کیے جانے والے علاقے میں منادی کرنے میں شرکت کی وہ وہاں کی زندگی اور بڑے شہروں کی زندگی کے درمیان فرق کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس نے کہا: ”میں اس سوچ کو کبھی بھی اپنے ذہن سے نہیں نکال سکتا کہ اندرون ملک منتقل ہونے سے بہتیرے بھائیوں کی زندگی کس طرح بابرکت ہو سکتی ہے۔ ایسی جگہوں پر تشدد نام کی کوئی چیز نہیں۔ چھوٹے اور اوسط درجہ کے قصبوں میں زندگی ایسی ہوتی ہے کہ انسان نہ صرف تھوڑے میں گزارہ کر سکتا ہے بلکہ اس کے پاس بھائیوں کے ساتھ رفاقت کا بھی زیادہ وقت ہوتا ہے اور وہ روحانی کارگزاریوں میں بھی زیادہ وقت صرف کر سکتا ہے۔ کیا مزید ریٹائرڈ بھائی، کم خاندانی ذمہداریوں والے نوجوان لوگ، یا بھائی جن کی ملازمتیں اس کی اجازت دیتی ہیں، اس لاثانی شرف کو قبول کرنے کی تحریک پاتے ہیں تاکہ وہ یہوواہ، اور اپنے پڑوسیوں، اور خود اپنے لیے خوشی کا باعث بن سکیں؟“
برازیل میں کبھیکبھار کیے جانے والے اس علاقے کی رپورٹ یہ ثابت کرتی ہے کہ وہاں کٹائی کے لیے فصل بالکل تیار ہے۔ صرف دو سالوں میں، اس علاقے میں کام ۱۹۱ نئی کلیسیاؤں اور الگ تھلگ گروپوں پر منتج ہوا ہے۔ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، لیکن یقیناً یہوواہ اپنی برکات نچھاور کرتا رہے گا جبکہ اور زیادہ بادشاہتی پبلشر اس پھلدار کٹائی میں حصہ لیتے ہیں۔ کیا آپ اس میں اور زیادہ حصہ لے سکتے ہیں؟ (۲۴ ۹/۱۵ w۹۱)
[نقشہ/تصویر]
ریو ڈی جنیرو کے خوشباش گواہ فصل کی کٹائی میں شریک ہوتے ہیں
[تصویر]
مناس گیریس کے دیہی علاقے میں گواہی