یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏2 ص.‏ 23-‏24
  • ایک مرد کا کام

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ایک مرد کا کام
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ملتا جلتا مواد
  • اپنے گھرانے کی نجات کیلئے سخت محنت کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • خدا کی خدمت میں متحد بڑے خاندان
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • والدین اور بچو:‏ خدا کو پہلا درجہ دیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • والد اور بزرگ—‏دونوں کردار ادا کرنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏2 ص.‏ 23-‏24

ایک مرد کا کام

‏”‏روپا، ذاپاتو، کاسا، ای کومیدا!“‏ یہ الفاظ ایک قدیم ہسپانوی گیت سے ماخوذ ہیں جو کہ ان چار بنیادی چیزوں کا ذکر کرتا ہے جن کی ایک آدمی سے اپنے خاندان کو فراہم کرنے کی توقع کی گئی ہے:‏ کپڑے، جو تے، مکان، اور خوراک۔ اور فرض‌شناس مردوں کی اکثریت بڑے فخر سے اس ذمہ‌داری کو پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔‏

تاہم، اگر آپ ایک گھربار والے مرد ہیں، تو کیا آپ اپنے خاندان کی اہم‌تر روحانی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں؟ یا کیا آپ بھی، بہتیرے دوسرے مردوں کی طرح، یہ سوچتے ہیں کہ گھر میں مذہبی معاملات کی دیکھ بھال دراصل ایک مرد کا کام نہیں؟ بعض تہذیبوں میں تو آدمیوں سے اس بات کی توقع ہی نہیں کی جاتی کہ وہ اپنے بچوں کو خدا اور بائبل کے بارے میں سکھانے کے لیے وقت نکالیں گے۔‏

خدا کا کلام خصوصی طور پر گھر کے سردار کو اس کا ذمہ‌دار ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کے اندر خدا کے لیے محبت اور الہی معیاروں کے لیے گہرے احترام کو ذہن‌نشین کرے۔ مثال کے طور پر، افسیوں ۶:‏۴ میں، صحائف مسیحی مردوں کو مندرجہ ذیل نصیحت کرتے ہیں:‏ ”‏اے [‏والدو]‏ تم اپنے بچوں کو غصہ نہ دلاؤ، بلکہ [‏یہوواہ]‏ کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر ان کی پرورش کرو۔“‏

اگرچہ، ان الفاظ سے شناسا بعض لوگ، شاید پورے طور پر اس کی قدر نہ کریں کہ صحیفہ خصوصاً والد، یعنی گھر کے سردار سے مخاطب ہے۔ مثال کے طور پر، ہسپانوی اور پرتگالی بولنے والے افراد شاید افسیوں ۶:‏۴ کے الفاظ کو یوں سمجھیں کہ یہ ماں اور باپ دونوں کو مخاطب کر کے کہے گئے ہیں۔ کیونکہ ان زبانوں میں ”‏والدوں“‏ اور ”‏والدین“‏ کے لیے ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تاہم، افسیوں ۶ باب کی ۱ آیت میں، رسول پولس نے گو۔نی‌ایس کا یونانی لفظ استعمال کرتے ہوئے، جو کہ گو۔نی‌ایسن، بمعنی ”‏والدین“‏ میں سے ایک ہے باپ اور ماں دونوں کا حوالہ دیا ہے۔ لیکن ۴ آیت میں، استعمال کیا جانے والا یونانی لفظ پاتیرس تھا جسکا مطلب ”‏والدو“‏ ہے۔ جی‌ہاں، افسیوں ۶:‏۴‏، کے الفاظ میں پولس براہراست خاندان کے اندر مرد سے مخاطب ہے۔‏

یقیناً، اگر پیشوائی کرنے کے لیے خاندان کے اندر کوئی مرد موجود نہ ہو تو پھر عورت کو اس ذمہ‌داری کو پورا کرنا چاہیے۔ یہوواہ کی مدد کے ساتھ بہتیری ماؤں نے بڑی کامیابی کے ساتھ یہوواہ کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر اپنے بچوں کی پرورش کی ہے۔ تاہم، جب ایک مسیحی مرد موجود ہو تو پھر اسے پیشوائی کرنی چاہیے۔ اگر وہ اس ذمہ‌داری سے غفلت برتتا ہے تو پھر باقی خاندان کے لیے بھی روحانی خوراک کے ایک اچھے پروگرام کو برقرار رکھنا کافی مشکل ہو جائے گا۔ اور ایسا آدمی اپنی غفلت کی وجہ سے یہوواہ کے حضور جوابدہ ہے۔‏

اس معاملے میں خدا کے احساسات مسیحی کلیسیا میں مقرر نگہبانوں اور خدمتگزار خادموں کے لیے بیان‌کردہ صحیفائی لیاقتوں سے صاف عیاں ہیں۔ بائبل خاص طور پر یہ بیان کرتی ہے کہ ایسے عہدے کے لیے منتخب شخص ”‏اپنے گھر کا بخوبی بندوبست کرتا ہو، اور اپنے بچوں کو کمال سنجیدگی سے تابع رکھتا ہو، (‏جب کوئی اپنے گھر ہی کا بندوبست کرنا نہیں جانتا تو خدا کی کلیسیا کی خبرگیری کیونکر کرے گا؟)‏۔“‏ ۱-‏تیمتھیس ۳:‏۴، ۵،‏ ۱۲،‏ ططس ۱:‏۶‏۔‏

گھربار والے مرد کو اپنے بچوں کی روحانی فلاح کے لیے ذاتی آرام‌وآسائش کو قربان کر دینے کے لیے رضامند ہونا چاہیے۔ بعض‌اوقات اپنے بچوں کے ساتھ باقاعدہ طور پر مناسب وقت صرف کرنے کے لیے شاید اسے اپنی دوسری سرگرمیوں کے لیے مختص وقت میں کمی کرنی پڑے۔ (‏استثنا ۶:‏۶، ۷)‏ البتہ، وہ اس خداداد تفویض کو دوسروں کے کندھوں پر نہیں ڈال دے گا۔ اپنے بچوں کے لیے اس کی محبت اور دلچسپی اسے ان کے لیے محض کپڑے، جو تے، مکان، اور خوراک فراہم کرنے سے بہت آگے لے جائے گی۔‏

‏”‏یہوواہ کی طرف سے تربیت اور نصیحت“‏ کر کے بچوں کی پرورش کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسی لیے تو یہ اولین ذمہ‌داری مرد کی ہے۔ جب ایک مسیحی باپ اپنا کام بخوبی انجام دیتا ہے تو پھر وہ اپنے خداترس بچوں کو یہوواہ کی طرف سے ایک تحفہ خیال کر سکتا ہے۔ وہ زبورنویس کے ساتھ مل کر یہ کہہ سکتا ہے:‏ ”‏جوانی کے فرزند ایسے ہیں، جیسے زبردست کے ہاتھ میں تیر۔ خوش نصیب ہے وہ آدمی جس کا ترکش ان سے بھرا ہے۔“‏ زبور ۱۲۷:‏۴، ۵‏۔ (‏۳۰ ۹/۱ w۹۱)‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں