یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ک‌ت26 ص.‏ 70-‏83
  • جون

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • جون
  • روزبروز کتابِ‌مُقدس سے تحقیق کریں—‏2026ء
  • ذیلی عنوان
  • سوموار، 1 جون
  • منگل، 2 جون
  • بدھ، 3 جون
  • جمعرات، 4 جون
  • جمعہ، 5 جون
  • ہفتہ، 6 جون
  • اِتوار، 7 جون
  • سوموار، 8 جون
  • منگل، 9 جون
  • بدھ، 10 جون
  • جمعرات، 11 جون
  • جمعہ، 12 جون
  • ہفتہ، 13 جون
  • اِتوار، 14 جون
  • سوموار، 15 جون
  • منگل، 16 جون
  • بدھ، 17 جون
  • جمعرات، 18 جون
  • جمعہ، 19 جون
  • ہفتہ، 20 جون
  • اِتوار، 21 جون
  • سوموار، 22 جون
  • منگل، 23 جون
  • بدھ، 24 جون
  • جمعرات، 25 جون
  • جمعہ، 26 جون
  • ہفتہ، 27 جون
  • اِتوار، 28 جون
  • سوموار، 29 جون
  • منگل، 30 جون
روزبروز کتابِ‌مُقدس سے تحقیق کریں—‏2026ء
ک‌ت26 ص.‏ 70-‏83

جون

سوموار، 1 جون

اَے یہوواہ!‏ تُو اچھا ہے اور معاف کرنے کو تیار رہتا ہے۔—‏زبور 86:‏5‏۔‏

ہمیں یسوع کی قربانی سے ابھی بھی بہت سے فائدے ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر فدیے کی بِنا پر یہوواہ ہمارے گُناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ حالانکہ یہوواہ ایسا کرنے کا پابند نہیں ہے لیکن وہ دل سے ہمارے گُناہوں کو معاف کرنا چاہتا ہے۔ (‏زبور 103:‏3،‏ 10-‏13‏)‏ شاید کچھ لوگوں کو لگے کہ وہ یہوواہ سے معافی پانے کے لائق نہیں ہیں۔ دیکھا جائے تو ہم میں سے کوئی بھی اِس کے لائق نہیں ہے۔ پولُس بھی یہ بات اچھی طرح سے سمجھتے تھے۔ اِسی لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں اِس لائق نہیں کہ مجھے رسول کہا جائے۔“‏ لیکن پھر اُنہوں نے آگے یہ بھی کہا:‏ ”‏خدا کی عظیم رحمت کی بِنا پر مجھے رسول کا مرتبہ ملا۔“‏ (‏1-‏کُر 15:‏9، 10‏)‏ جب ہم اپنے گُناہ سے توبہ کرتے ہیں تو یہوواہ ہمیں معاف کر دیتا ہے۔ کیوں؟ اِس لیے نہیں کیونکہ ہم اِس کے لائق تھے بلکہ اِس لیے کیونکہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ یہوواہ سے معافی پانے کے لائق نہیں ہیں اور اِس وجہ سے آپ بہت مایوس اور دُکھی رہتے ہیں تو یہ یاد رکھیں کہ یہوواہ نے فدیہ بے‌عیب لوگوں کے لیے نہیں بلکہ اُن عیب‌دار لوگوں کے لیے فراہم کِیا ہے جو اپنے گُناہ پر پچھتاوا محسوس کرتے ہیں اور توبہ کرنا چاہتے ہیں۔—‏لُو 5:‏32؛‏ 1-‏تیم 1:‏15‏۔ م25.‏01 ص.‏ 26-‏27 پ.‏ 3-‏4

منگل، 2 جون

ایک مہربان شخص خود کو فائدہ پہنچاتا ہے لیکن ایک ظالم شخص خود پر مصیبت لاتا ہے۔—‏اَمثا 11:‏17‏۔‏

ہمارا لوگوں کی باتوں اور کاموں پر اِختیار نہیں۔ لیکن یہ ہمارے اِختیار میں ہے کہ ہم اُن کی باتوں اور کاموں پر کیا کریں گے۔ اکثر دوسروں کو معاف کر دینا سب سے اچھا کام ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ہم یہوواہ سے محبت کرتے ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ ہم دوسروں کو معاف کر دیں۔ اگر ہم غصے میں رہیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ہم کوئی بے‌وقوفی کر بیٹھیں۔ اِس کے علاوہ ہم خود کو بھی نقصان پہنچا رہے ہوں گے۔ (‏اَمثا 14:‏17،‏ 29، 30‏)‏ جب ہم غصہ تھوک دیتے ہیں تو ہم اپنے دل میں غصے کے زہر کو پھیلنے سے روک رہے ہوتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہم اپنے ساتھ ایک اَور اچھا کام بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم ماضی کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ پاتے اور پھر سے خوش رہ پاتے ہیں۔ لیکن آپ اپنے دل پر لگے زخم کو کیسے بھر سکتے ہیں؟ خود کو وقت دیں۔ جب کسی شخص کو گہری چوٹ لگتی ہے تو اُس کے زخم کو بھرنے میں وقت لگتا ہے۔ اِسی طرح ہمارے جذبات پر لگے زخموں کو بھرنے میں بھی وقت لگ سکتا ہے۔ اِس کے بعد ہی ہم کسی کو دل سے معاف کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ (‏واعظ 3:‏3؛‏ 1-‏پطر 1:‏22‏)‏ یہوواہ سے دُعا کریں کہ وہ معاف کرنے میں آپ کی مدد کرے۔ م25.‏02 ص.‏ 15-‏16 پ.‏ 8-‏11

بدھ، 3 جون

ٹھوس غذا پُختہ لوگوں کے لیے ہوتی ہے۔—‏عبر 5:‏14‏۔‏

‏”‏مسیح کے متعلق اِبتدائی تعلیمات“‏ میں سے کچھ یہ ہیں:‏ بُرے کاموں سے توبہ کرنا، خدا پر ایمان لانا، بپتسمہ لینا اور مُردوں کا زندہ ہو جانا۔ (‏عبر 6:‏1، 2‏)‏ یہ باتیں ہماری تعلیمات کی بنیاد ہیں۔ اِسی لیے تو پطرس رسول نے پنتِکُست پر لوگوں کو مُنادی کرتے وقت اِن تعلیمات کا ذکر کِیا تھا۔ (‏اعما 2:‏32-‏35،‏ 38‏)‏ مسیح کا شاگرد بننے کے لیے ہمیں اِن بنیادی تعلیمات کو قبول کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر پولُس رسول نے بتایا کہ اگر ایک شخص مُردوں کے زندہ ہو جانے پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ مسیح کا شاگرد ہے۔ (‏1-‏کُر 15:‏12-‏14‏)‏ لیکن ہمیں صرف اِن بنیادی سچائیوں کو سیکھ کر ہی مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے۔ بنیادی تعلیمات کے برعکس ٹھوس غذا میں صرف خدا کے حکم ہی شامل نہیں ہیں بلکہ اِس میں خدا کے اصول بھی شامل ہیں جن سے ہم اُس کی سوچ کو سمجھ سکتے ہیں۔ اِس غذا سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے ہمیں بائبل کا مطالعہ کرنا چاہیے، اِس میں لکھی باتوں پر گہرائی سے سوچنا چاہیے اور پھر اِن باتوں پر عمل بھی کرنا چاہیے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم سیکھ پائیں گے کہ ہم ایسے فیصلے کیسے کر سکتے ہیں جن سے یہوواہ خدا خوش ہو۔ م24.‏04 ص.‏ 5 پ.‏ 12-‏13

جمعرات، 4 جون

عدالت کے دن نِینوہ کے لوگ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ زندہ کیے جائیں گے۔—‏متی 12:‏41‏۔‏

یہوواہ نے یُوناہ کو یاد دِلایا کہ شہر نِینوہ کے لوگ ”‏صحیح اور غلط میں فرق نہیں کر سکتے۔“‏ (‏یُوناہ 1:‏1، 2؛‏ 3:‏10؛‏ 4:‏9-‏11‏)‏ بعد میں یسوع مسیح نے یہوواہ کے اِنصاف اور رحم کے بارے میں بات کرتے وقت نِینوہ کے لوگوں کی مثال دی۔ اِس بات کا کیا مطلب ہے کہ ”‏عدالت کے دن نِینوہ کے لوگ .‏ .‏ .‏ زندہ کیے جائیں گے؟“‏ یسوع مسیح نے بتایا تھا کہ مستقبل میں ”‏سزا کی قیامت“‏ ہوگی۔ (‏یوح 5:‏29‏، اُردو ریوائزڈ ورشن‏)‏ یسوع اُس وقت کی بات کر رہے تھے جب وہ ہزار سال کے لیے حکمرانی کریں گے اور اِس دوران ”‏خدا نیکوں اور بدوں دونوں کو زندہ کرے گا۔“‏ (‏اعما 24:‏15‏)‏ بدوں کو ”‏سزا کی قیامت“‏ کے لیے زندہ کِیا جائے گا۔ اِس کا مطلب ہے کہ یہوواہ اور یسوع مسیح لوگوں کے کاموں کو پرکھیں گے اور دیکھیں گے کہ جو کچھ وہ سیکھ رہے ہیں، اُس پر عمل بھی کر رہے ہیں یا نہیں۔ زندہ ہو جانے کے بعد اگر شہر نِینوہ کا کوئی شخص یہوواہ کی عبادت کرنے سے اِنکار کرے گا تو یہوواہ اُسے زندہ نہیں رہنے دے گا بلکہ اُسے ختم کر دے گا۔ (‏یسع 65:‏20‏)‏ لیکن وہ سب لوگ جو یہوواہ کے وفادار رہیں گے اور اُس کی عبادت کرنے کا فیصلہ کریں گے، اُنہیں ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔—‏دان 12:‏2‏۔ م24.‏05 ص.‏ 5 پ.‏ 13-‏14

جمعہ، 5 جون

اِنسان کا بیٹا اُن لوگوں کو تلاش کرنے اور بچانے آیا ہے جو بھٹک گئے ہیں۔—‏لُو 19:‏10‏۔‏

یسوع مسیح رحم ظاہر کرنے کے معاملے میں بالکل اپنے باپ کی طرح تھے۔ (‏یوح 14:‏9‏)‏ یسوع نے اپنی باتوں اور کاموں سے ظاہر کِیا کہ اُن کا رحم‌دل باپ یہوواہ اِنسانوں سے محبت کرتا ہے اور گُناہ کے خلاف لڑنے میں اُن کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ یسوع مسیح نے گُناہ‌گار لوگوں کی مدد کی تاکہ وہ اپنی بُری روِش کو بدلیں اور اُن کے پیروکار بنیں۔ (‏لُو 5:‏27، 28‏)‏ اُن کو پتہ تھا کہ اُن کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اُنہوں نے کئی بار اپنے پیروکاروں کو بتایا کہ اُنہیں دھوکے سے دُشمنوں کے حوالے کِیا جائے گا اور سُولی دی جائے گی۔ (‏متی 17:‏22؛‏ 20:‏18، 19‏)‏ یسوع کو پتہ تھا کہ اُن کی قربانی کی وجہ سے دُنیا کے گُناہ دُور ہو جائیں گے۔ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ اپنی جان قربان کرنے کے بعد وہ ’‏ہر طرح کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچیں گے۔‘‏ (‏یوح 12:‏32‏)‏ گُناہ‌گار اِنسان یسوع کو اپنا مالک تسلیم کر کے اور اُن کے نقشِ‌قدم پر چل کر یہوواہ کو خوش کر سکتے تھے۔ ایسا کرنے سے وہ آخرکار ”‏گُناہ سے آزاد“‏ ہو جائیں گے۔ (‏روم 6:‏14،‏ 18،‏ 22؛‏ یوح 8:‏32‏)‏ تو یسوع مسیح نے ہمیں نجات دِلانے کے لیے بڑی دلیری سے دردناک موت سہی۔—‏یوح 10:‏17، 18‏۔ م24.‏08 ص.‏ 5 پ.‏ 11-‏12

ہفتہ، 6 جون

پہلے سب قوموں میں خوش‌خبری کی مُنادی کی جائے گی۔—‏مر 13:‏10‏۔‏

یاد کریں کہ جب آپ نے پہلی بار خدا کے کلام سے سچائی سنی تھی تو آپ کو کیسا لگا تھا۔ آپ نے سیکھا تھا کہ آپ کا آسمانی باپ آپ سے بہت پیار کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ آپ اُس کے خاندان کا حصہ بنیں۔ اُس نے آپ سے وعدہ کِیا ہے کہ وہ دُکھ اور تکلیف کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ اِس کے علاوہ اُس نے آپ کو یہ اُمید بھی دی ہے کہ آپ نئی دُنیا میں اپنے اُن عزیزوں سے دوبارہ ملیں جو فوت ہو گئے ہیں۔ آپ نے اِن سچائیوں کے علاوہ اَور بھی بہت سی بیش‌قیمت سچائیاں سیکھیں۔ (‏مر 10:‏29، 30؛‏ یوح 5:‏28، 29؛‏ روم 8:‏38، 39؛‏ مُکا 21:‏3، 4‏)‏ اِن سچائیوں نے آپ کا دل چُھو لیا تھا۔ (‏لُو 24:‏32‏)‏ آپ اِن سے اِتنی زیادہ محبت کرنے لگے کہ آپ اِنہیں دوسروں کو بھی بتانے لگے۔ (‏یرمیاہ 20:‏9 پر غور کریں۔)‏ بے‌شک جب ہمارے دل میں پاک کلام کی سچائیوں کے لیے محبت گہری ہوتی جاتی ہے تو ہم اِسے دوسروں کو بتائے بغیر نہیں رہ سکتے۔ (‏لُو 6:‏45‏)‏ ہم بھی پہلی صدی عیسوی میں رہنے والے یسوع مسیح کے شاگردوں کی طرح محسوس کرتے ہیں جنہوں نے کہا:‏ ”‏ہم اُن باتوں کے بارے میں چپ نہیں رہ سکتے جو ہم نے دیکھی اور سنی ہیں۔“‏ (‏اعما 4:‏20‏)‏ ہم پاک کلام کی سچائیوں سے اِتنی محبت کرتے ہیں کہ ہم اِنہیں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں۔ م24.‏05 ص.‏ 15 پ.‏ 5؛‏ ص.‏ 16 پ.‏ 7

اِتوار، 7 جون

خوشی خوشی یہوواہ کی خدمت کرو۔—‏زبور 100:‏2‏۔‏

یہوواہ کے بندوں کے طور پر ہم اِس لیے لوگوں کو مُنادی کرتے ہیں کیونکہ ہمیں اپنے آسمانی باپ سے بہت محبت ہے اور ہم اپنے پڑوسیوں یعنی لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ یہوواہ کو جان سکیں۔ لیکن کچھ مبشروں کو مُنادی کرنا بہت مشکل لگتا ہے۔ کیوں؟ شاید کچھ بہن بھائی بہت شرمیلے ہوتے ہیں یا اُنہیں لگتا ہے کہ وہ اِتنے اچھے اُستاد نہیں ہیں۔ کچھ بہن بھائیوں کو اجنبیوں کا دروازہ کھٹکھٹانے سے بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے جبکہ کچھ اِس بات سے ڈرتے ہیں کہ لوگ اُن پر غصہ کریں گے۔ کچھ بہن بھائی اِس بات سے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں لوگ اُن سے بحث کرنا نہ شروع کر دیں۔ ہمارے اِن بہن بھائیوں کو اجنبیوں کو خوش‌خبری سنانا بہت مشکل لگتا ہے۔ کیا کبھی کبھار آپ کو بھی اِن باتوں کی وجہ سے مُنادی کرنے میں مزہ نہیں آتا؟ اگر ایسا ہے تو بے‌حوصلہ نہ ہوں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ اِتنے اچھے اُستاد نہیں ہیں تو اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ایک خاکسار شخص ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ لوگ آپ پر حد سے زیادہ توجہ دیں۔ اِس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ایک صلح‌پسند شخص ہیں اور لوگوں سے بحث نہیں کرنا چاہتے۔ سچ ہے کہ کوئی بھی شخص نہیں چاہتا کہ دوسرے اُس پر غصہ ہو جائیں، خاص طور پر اُس وقت جب وہ اُن کا بھلا چاہ رہا ہو۔ یقین مانیں کہ آپ کا آسمانی باپ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ آپ کن مشکلوں کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ آپ کی مدد کرنا چاہتا ہے۔—‏یسع 41:‏13‏۔ م24.‏04 ص.‏ 14 پ.‏ 1-‏2

سوموار، 8 جون

خاکسار شخص دانش‌مند ہوتا ہے۔—‏اَمثا 11:‏2‏۔‏

جب آپ بائبل پڑھتے ہیں تو ایک ہی وقت میں ساری باتوں پر عمل کرنے کی بجائے ایک یا دو باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ کیوں نہ یہ طریقہ اپنائیں:‏ ایسی باتوں کی لسٹ بنائیں جن میں آپ کو خود میں بہتری لانی ہے۔ پھر اُس لسٹ میں سے ایک یا دو ایسی باتیں چُنیں جن پر آپ پہلے عمل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن آپ شروعات کہاں سے کر سکتے ہیں؟ شروع میں آپ اپنے لیے ایک ایسا منصوبہ بنا سکتے ہیں جسے آپ آسانی سے پورا کر سکیں۔ یا آپ کسی ایسی بات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جس کے بارے میں آپ کو لگتا ہے کہ اِس میں آپ کو خاص طور پر خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ پھر جب آپ اپنے لیے ایک منصوبہ بنا لیتے ہیں تو ہماری کتابوں اور رسالوں سے اُس حوالے سے تحقیق کریں۔ دُعا میں یہوواہ کو اپنے منصوبے کے بارے میں بتائیں اور اُس سے مدد مانگیں کہ وہ اُس منصوبے کو پورا کرنے کے لیے آپ میں ”‏خواہش اور طاقت پیدا“‏ کرے۔ (‏فِل 2:‏13‏)‏ پھر جو کچھ آپ نے سیکھا ہے، اُس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں۔ جب آپ اپنے پہلے منصوبے کو پورا کر لیں گے تو آپ میں اپنے دوسرے منصوبوں کو پورا کرنے کی بھی خواہش پیدا ہوگی۔ دراصل جب آپ خود میں ایک خوبی پیدا کریں گے تو آپ کے لیے دوسری خوبیوں کو پیدا کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔ م24.‏09 ص.‏ 6 پ.‏ 13-‏14

منگل، 9 جون

آپ نے ہر لحاظ سے اِس معاملے میں پاکیزگی سے کام لیا۔—‏2-‏کُر 7:‏11‏۔‏

شاید آپ اِس لیے بہت زیادہ پریشان ہوں کیونکہ ماضی میں آپ کی وجہ سے دوسروں کا دل دُکھا تھا۔ ایسی صورت میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ کی وجہ سے جو نقصان ہوا ہے، اُسے ٹھیک کرنے کے لیے آپ جو کچھ کر سکتے ہیں، ضرور کریں۔ جن لوگوں کا آپ کی وجہ سے دل دُکھا ہے، اُن سے معافی مانگیں اور اپنے کاموں سے ثابت کریں کہ آپ کو واقعی اپنے کیے پر پچھتاوا ہے۔ یہوواہ سے دُعا کریں کہ وہ اُن لوگوں کو تسلی اور ہمت دے جن کا آپ کی وجہ سے دل دُکھا ہے۔ وہ آپ کی اور اُن لوگوں کی مدد کر سکتا ہے تاکہ آپ اُس کی خدمت کرتے رہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ صلح صفائی سے رہ سکیں۔ ماضی کی اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور یہوواہ آپ سے جو بھی کام لینا چاہتا ہے، اُسے کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ذرا یُوناہ نبی کی مثال پر غور کریں۔ خدا نے اُنہیں نِینوہ جانے کا حکم دِیا۔ لیکن نِینوہ جانے کی بجائے یُوناہ فرق سمت میں چلے گئے۔ یہوواہ نے یُوناہ کی اِصلاح کی اور یُوناہ نے اپنی غلطی سے سبق سیکھا۔ (‏یُوناہ 1:‏1-‏4،‏ 15-‏17؛‏ 2:‏7-‏10‏)‏ یہوواہ نے یُوناہ سے نبی کے طور پر کام لینا بند نہیں کِیا۔ اُس نے یُوناہ کو نِینوہ جانے کا ایک اَور موقع دِیا اور اِس بار یُوناہ نے فوراً یہوواہ کی بات مانی۔ یُوناہ کو اپنے کیے پر پچھتاوا تو تھا لیکن اِس وجہ سے وہ اُس ذمے‌داری کو قبول کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے جو یہوواہ اُنہیں دے رہا تھا۔—‏یُوناہ 3:‏1-‏3‏۔ م24.‏10 ص.‏ 8-‏9 پ.‏ 10-‏11

بدھ، 10 جون

توبہ کریں اور اپنی روِش بدلیں تاکہ آپ کے گُناہ مٹائے جائیں اور یہوواہ کی طرف سے تازگی کے دن آئیں۔—‏اعما 3:‏19‏۔‏

یہوواہ نہ صرف ہمارے گُناہ یا قرض کو بخش دیتا ہے بلکہ وہ اِسے مکمل طور پر مٹا بھی دیتا ہے۔ اِس بات کو سمجھنے کے لیے اِس مثال پر غور کریں:‏ فرض کریں کہ ایک شخص کا قرضہ معاف کر دیا جاتا ہے اور قرضے کی دستاویز پر بڑا سا کاٹے کا نشان لگا دیا جاتا ہے۔ لیکن کیا اِس سے کاٹے کے نیچے لکھے نمبر مٹ جاتے ہیں؟ نہیں، وہ پھر بھی دِکھائی دیتے ہیں۔ مگر جب ایک دستاویز سے لکھائی کو مٹا دیا جاتا ہے تو یہ کاٹا لگانے سے فرق ہوتا ہے۔ یہوواہ نے اپنے کلام میں کہا ہے کہ وہ ہمارے گُناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ اِس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ پُرانے زمانے میں کسی دستاویز پر کچھ لکھنے کے لیے کس طرح کی سیاہی اِستعمال کی جاتی تھی۔ یہ ایسی سیاہی ہوتی تھی جسے ایک گیلے سپنج سے آسانی سے مٹایا جا سکتا تھا۔ تو جب ایک شخص کا قرضہ دستاویز سے مٹا دیا جاتا تھا تو وہ مکمل طور پر ختم ہو جاتا تھا کیونکہ اُس دستاویز پر لکھائی کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا تھا۔ یہ ایسے تھا جیسے اُس شخص پر کبھی قرضہ تھا ہی نہیں۔ کیا یہ جان کر ہمارے دل شکرگزاری سے نہیں بھر جاتے کہ یہوواہ نہ صرف ہمارے گُناہوں کو معاف کرتا ہے بلکہ اِنہیں مکمل طور پر مٹا بھی دیتا ہے؟—‏زبور 51:‏9‏۔ م25.‏02 ص.‏ 10 پ.‏ 11

جمعرات، 11 جون

غصے میں آ کر بُرے کام نہ کرو۔—‏زبور 37:‏8‏۔‏

جب دوسرے ہمارے ساتھ نااِنصافی کرتے ہیں یا ہمارے ساتھ بُری طرح سے پیش آتے ہیں تو ہم اِس بات پر پورا بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ اِس طرح ہم نااِنصافی کو برداشت کر سکیں گے کیونکہ ہمیں پتہ ہوگا کہ یہوواہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا۔ جب ہم معاملے کو یہوواہ کے ہاتھ میں چھوڑ دیں گے تو ہم اپنے دل میں غصے اور ناراضگی کو پلنے سے روک دیں گے کیونکہ غصے اور ناراضگی کی وجہ سے ہم حد سے زیادہ جذباتی ہو سکتے ہیں، ہماری خوشی ختم ہو سکتی ہے یہاں تک کہ یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی بھی ٹوٹ سکتی ہے۔ بے‌شک ہم کبھی بھی پوری طرح سے یسوع کی مثال پر عمل نہیں کر سکتے۔ کبھی کبھار ہم کوئی ایسی بات کہہ جاتے ہیں یا کوئی ایسا کام کر بیٹھتے ہیں جس پر بعد میں ہمیں پچھتاوا ہوتا ہے۔ (‏یعقو 3:‏2‏)‏ اور کبھی کبھار دوسروں کی نااِنصافیوں کی وجہ سے ہمیں ایسے زخم لگتے ہیں جو ساری زندگی نہیں بھرتے۔ اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے تو یقین مانیں کہ یہوواہ جانتا ہے کہ آپ پر کیا بیت رہی ہے۔ اور یسوع مسیح بھی آپ کے درد کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے خود بھی نااِنصافی کا سامنا کِیا تھا۔ (‏عبر 4:‏15، 16‏)‏ یقیناً ہم بہت خوش ہیں کہ یہوواہ نے ہمیں اپنے کلام میں ایسے مشورے اور ہدایتیں دی ہیں جن پر عمل کرنے سے ہم نااِنصافی کو برداشت کر سکتے ہیں۔ م24.‏11 ص.‏ 6 پ.‏ 12-‏13

جمعہ، 12 جون

جو کام خدا کو پسند ہے،‏ وہ یہ ہے کہ آپ اُس شخص پر ایمان ظاہر کریں جسے اُس نے بھیجا ہے۔—‏یوح 6:‏29‏۔‏

یسوع خدا کے نمائندے تھے اور لوگوں کو ”‏ہمیشہ کی زندگی“‏ پانے کے لیے اُن پر ایمان ظاہر کرنے کی ضرورت تھی۔ (‏یوح 3:‏16-‏18،‏ 36؛‏ 17:‏3‏)‏ بہت سے یہودی یسوع کی اِس تعلیم کو نہیں مان رہے تھے کہ اُنہیں یسوع پر ایمان ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے یسوع سے پوچھا:‏ ”‏آپ ہمیں کون سا معجزہ دِکھائیں گے تاکہ ہم آپ کی بات پر یقین کریں۔“‏ (‏یوح 6:‏30‏)‏ پھر اُن لوگوں نے بتایا کہ موسیٰ کے زمانے میں اُن کے باپ‌دادا نے من کھایا تھا۔ یہ من بنی‌اِسرائیل کے ہر روز کی روٹی تھی۔ (‏نحم 9:‏15؛‏ زبور 78:‏24، 25‏)‏ صاف ظاہر تھا کہ اِن لوگوں کے ذہن میں ابھی بھی اِسی بات کی فکر چل رہی تھی کہ اُنہیں روٹی ملے۔ اور پھر جب یسوع مسیح نے اِس بارے میں بات کی کہ اُن کا باپ ”‏آسمان سے اصلی روٹی دیتا ہے“‏ جس سے لوگوں کو ہمیشہ کی زندگی مل سکتی ہے تو لوگوں نے یہ بالکل بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اصل میں یسوع کی بات کا کیا مطلب ہے۔ (‏یوح 6:‏32‏)‏ اِن لوگوں کا دھیان اپنا پیٹ بھرنے پر اِتنا زیادہ تھا کہ اُنہوں نے یسوع کی بتائی ہوئی اُن سچائیوں کو بالکل نظرانداز کر دیا جو وہ اُنہیں سکھانا چاہ رہے تھے۔ م24.‏12 ص.‏ 5 پ.‏ 10-‏11

ہفتہ، 13 جون

سب چیزوں کو خدا نے بنایا ہے۔—‏عبر 3:‏4‏۔‏

شاید آپ کے بچے سکول میں کچھ قدرتی ڈیزائنوں کے بارے میں سیکھیں جیسے کہ درختوں کے بارے میں۔ اِن میں ایک ترتیب سے ڈیزائن پایا جاتا ہے جیسے کہ تنے سے شاخ نکلتی ہے، شاخ سے اَور ڈالیاں اور ڈالیوں سے کونپلیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کس نے اِتنے خوب‌صورت ڈیزائنوں کو اِتنی ترتیب سے بنایا ہے؟ جتنا زیادہ آپ کے بچے ایسے سوالوں پر سوچ بچار کریں گے اُتنا ہی زیادہ اُن کا یہ یقین مضبوط ہوگا کہ اِن سب چیزوں کو خدا نے بنایا ہے۔ جیسے جیسے آپ کے بچے بڑے ہوتے ہیں، اُن کی یہ سمجھنے میں مدد کریں کہ خدا کے حکموں کو ماننا اہم کیوں ہے۔ آپ اُن سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں:‏ ”‏اگر خدا نے ہمیں بنایا ہے تو کیا وہ یہ اچھی طرح سے نہیں جانتا ہوگا کہ ہم خوش کیسے رہ سکتے ہیں؟“‏ پھر آپ اُن کی توجہ خدا کے کلام پر دِلا سکتے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ ہم خوش کیسے رہ سکتے ہیں۔ م24.‏12 ص.‏ 16 پ.‏ 8

اِتوار، 14 جون

مَیں نے سنا ہے کہ آپ میں ایک آدمی ہے جو اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ حرام‌کاری کرتا ہے۔‏ اِس طرح کی حرام‌کاری تو غیرایمان والے بھی نہیں کرتے۔—‏1-‏کُر 5:‏1‏۔‏

پولُس رسول نے یہوواہ کی پاک روح کی رہنمائی میں ایک خط لکھا جس میں اُنہوں نے یہ ہدایت دی کہ توبہ نہ کرنے والے شخص کو کلیسیا سے نکال دیا جائے۔ (‏1-‏کُر 5:‏13‏)‏ یہوواہ سے محبت کرنے والے مسیحیوں کو اُس شخص کے ساتھ کیسے پیش آنا تھا؟ پولُس نے کہا:‏ ”‏اُس کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا بالکل چھوڑ دیں۔“‏ پھر اُنہوں نے آگے کہا:‏ ”‏اُس کے ساتھ کھانا تک نہ کھائیں۔“‏ (‏1-‏کُر 5:‏11‏)‏ کیوں؟ کیونکہ جب ہم کسی کے ساتھ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں تو ہم اُس شخص کے ساتھ وقت گزار رہے ہوتے ہیں اور اُس کے ساتھ اپنی دوستی بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ تو پولُس کی بات کا یہ مطلب تھا کہ کلیسیا کو اُس شخص کے ساتھ میل جول نہیں رکھنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے کلیسیا اُس شخص کے بُرے اثر سے بچ سکتی تھی۔ (‏1-‏کُر 5:‏5-‏7‏)‏ اِس کے علاوہ اُس شخص میں بھی یہ احساس جاگ سکتا تھا کہ وہ یہوواہ سے کتنا دُور چلا گیا ہے، اُسے اپنے کیے پر شرمندگی ہو سکتی تھی اور وہ توبہ کرنے کی طرف مائل ہو سکتا تھا۔ م24.‏08 ص.‏ 15 پ.‏ 4-‏5

سوموار، 15 جون

خدا کو دُنیا سے اِتنی محبت ہے کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا دے دیا۔—‏یوح 3:‏16‏۔‏

بنی‌اِسرائیل سال میں ایک دن ایک خاص عید مناتے تھے جسے یومِ‌کفارہ کہا جاتا تھا۔ اُس دن کاہنِ‌اعظم سب لوگوں کی طرف سے یہوواہ کے حضور جانور کی قربانی پیش کرتا تھا۔ ظاہری بات ہے کہ جانوروں کی قربانیاں بنی‌اِسرائیل کے گُناہوں کو مکمل طور پر نہیں ڈھانپ سکتی تھیں کیونکہ جانور اِنسانوں سے کم‌تر ہیں۔ لیکن یہوواہ اُن اِسرائیلیوں کو معاف کرنے کو تیار تھا جو اُس سے معافی پانے کے لیے ایسی قربانیاں پیش کرتے تھے جن کی یہوواہ اُن سے توقع کرتا تھا۔ (‏عبر 10:‏1-‏4‏)‏ بنی‌اِسرائیل کفارے کے دن جو قربانیاں چڑھاتے تھے، اُس سے وہ یہ یاد رکھ پاتے تھے کہ وہ گُناہ‌گار ہیں۔ لیکن یہوواہ خدا نے اِنسانوں کے گُناہوں کو مکمل طور پر ڈھانپے کا بندوبست کِیا ہے۔ اُس نے اپنے پیارے بیٹے کو ”‏ایک ہی بار بہت سے لوگوں کے گُناہوں کے لیے قربان“‏ کر دیا۔ (‏عبر 9:‏28‏)‏ یسوع مسیح نے ”‏بہت سے لوگوں کے لیے اپنی جان فدیے کے طور پر“‏ دے دی۔—‏متی 20:‏28‏۔ م25.‏02 ص.‏ 4 پ.‏ 9-‏10

منگل، 16 جون

چوکس رہیں اور دُعا کرتے رہیں تاکہ آزمائش میں نہ پڑیں۔—‏متی 26:‏41‏۔‏

‏”‏بے‌شک دل جوش سے بھرا ہے لیکن جسم کمزور ہے۔“‏ (‏متی 26:‏41‏)‏ یہ بات کہنے سے یسوع مسیح نے ظاہر کِیا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم عیب‌دار ہیں اور ہم سے غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن اُن کی اِس بات سے ہمیں ایک آگاہی بھی ملتی ہے۔ اور وہ آگاہی یہ ہے کہ ہم خود پر حد سے زیادہ بھروسا نہ کریں اور کبھی یہ نہ سوچیں کہ ہم سے کبھی کوئی غلطی ہوگی ہی نہیں۔ جب یسوع مسیح نے متی 26:‏41 میں لکھی بات کہی تو اُسی رات تھوڑی دیر پہلے یسوع کے شاگردوں نے اُنہیں بڑے اِعتماد سے بتایا کہ وہ اُنہیں کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ (‏متی 26:‏35‏)‏ شاگردوں نے یہ بات اچھی نیت سے کی تھی کیونکہ وہ صحیح کام کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اُنہیں یہ احساس نہیں تھا کہ دباؤ میں آ کر وہ کتنی جلدی کمزور پڑ سکتے ہیں۔ اِسی لیے یسوع نے اُنہیں اِس خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے آج کی آیت والی بات کہی۔ افسوس کی بات ہے کہ شاگرد چوکس رہنے میں ناکام ہو گئے۔ جب یسوع مسیح کو گِرفتار کِیا گیا تو شاگرد اُن کے ساتھ رہنے کی بجائے اُنہیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ وہ اِس آزمائش کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔ اِس لیے جب یہ اچانک سے اُن پر آئی تو اُنہوں نے ایسا کام کر دیا جس کے بارے میں اُنہوں نے کہا تھا کہ وہ بالکل بھی نہیں کریں گے۔ اُنہوں نے یسوع کا ساتھ چھوڑ دیا۔—‏متی 26:‏56‏۔ م24.‏07 ص.‏ 14 پ.‏ 1-‏2

بدھ، 17 جون

خدا کے بیٹے کی موت سے خدا کے ساتھ ہماری صلح ہو گئی۔—‏روم 5:‏10‏۔‏

جب آدم اور حوّا نے گُناہ کِیا تھا تو اُنہوں نے نہ صرف ہمیشہ تک زندہ رہنے کا موقع گنوا دیا تھا بلکہ اُن کا اپنے آسمانی باپ یہوواہ کے ساتھ رشتہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔ گُناہ کرنے سے پہلے آدم اور حوّا یہوواہ کے خاندان کا حصہ تھے۔ (‏لُو 3:‏38‏)‏ لیکن جب اُنہوں نے یہوواہ کی نافرمانی کی تو اُن کا یہوواہ کے خاندان سے ناتا ٹوٹ گیا۔ یہ اُس وقت ہوا تھا جب اُن کی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ (‏پید 3:‏23، 24؛‏ 4:‏1‏)‏ آدم اور حوّا کی اولاد ہونے کی وجہ سے ہمیں یہوواہ سے صلح کرنے کی ضرورت تھی۔ (‏روم 5:‏10، 11‏)‏ دوسرے لفظوں میں کہیں تو ہمیں یہوواہ کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنے کی ضرورت تھی۔ اِس حوالے سے یونانی صحیفوں کی ایک لغت میں بتایا گیا ہے کہ جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏صلح“‏ کِیا گیا ہے، اُس کا مطلب ”‏دُشمن کو دوست بنانا“‏ ہو سکتا ہے۔ یہ کتنی زبردست بات ہے نا کہ دوستی کا ہاتھ پہلے یہوواہ نے ہماری طرف بڑھایا حالانکہ اُس سے دُشمنی کی شروعات ہمارے ماں باپ یعنی آدم اور حوّا نے کی تھی!‏ لیکن یہوواہ نے ہماری طرف دوستی کا ہاتھ کیسے بڑھایا؟ گُناہوں کے کفارے کا بندوبست کرنے سے۔ گُناہوں کا کفارہ وہ بندوبست ہے جو یہوواہ نے اپنے اور گُناہ‌گار اِنسانوں کے بیچ دوستی کا رشتہ قائم کرنے کے لیے کِیا۔ اِس بندوبست کے ذریعے یہ ممکن ہوا کہ آدم نے جو کچھ کھو دیا تھا، اُسے پانے کے لیے برابر کی قیمت ادا کی جائے۔ م25.‏02 ص.‏ 3-‏4 پ.‏ 7-‏8

جمعرات، 18 جون

جب کوئی شخص ایسا دُکھ محسوس کرتا ہے جو خدا کو پسند ہے تو وہ توبہ کرتا ہے اور اِس کے نتیجے میں نجات پاتا ہے۔—‏2-‏کُر 7:‏10‏۔‏

کُرنتھس کی کلیسیا میں ایک مسیحی تھا جس نے اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کِیا تھا۔ (‏1-‏کُر 5:‏1‏)‏ اُس کے بارے میں پولُس رسول نے کہا:‏ ”‏اُس شخص کے لیے وہ سزا کافی ہے جو آپ میں سے زیادہ‌تر نے اُسے دی ہے۔“‏ (‏2-‏کُر 2:‏5-‏8‏)‏ دوسرے لفظوں میں کہیں تو اُس شخص کو جس مقصد سے سزا دی گئی تھی، وہ مقصد پورا ہو گیا تھا۔ کون سا مقصد؟ یہ کہ وہ توبہ کی طرف مائل ہو۔ (‏عبر 12:‏11‏)‏ پولُس نے کلیسیا کو یہ ہدایت دی کہ وہ گُناہ سے توبہ کرنے والے مسیحی کو اب ”‏دل سے معاف کر دیں اور اُسے تسلی دیں“‏ اور ‏”‏اُسے یقین دِلائیں کہ[‏وہ]‏اُس سے پیار کرتے ہیں۔“‏ غور کریں کہ پولُس صرف یہی نہیں چاہتے تھے کہ اُن کے ہم‌ایمان اُس مسیحی کو واپس کلیسیا کا حصہ بنا لیں بلکہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ بہن بھائی اُس مسیحی کو اپنی باتوں، اپنے رویے اور اپنے کاموں سے یقین دِلائیں کہ اُنہوں نے اُسے دل سے معاف کر دیا ہے اور وہ اُس سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اِس طرح وہ یہ ثابت کر سکتے تھے کہ اُنہوں نے اُس شخص کو کلیسیا میں قبول کر لیا ہے۔ م24.‏08 ص.‏ 15 پ.‏ 4؛‏ ص.‏ 16-‏17 پ.‏ 6-‏8

جمعہ، 19 جون

آپ کو کُھلے عام رسوا کِیا گیا اور اذیت دی گئی۔—‏عبر 10:‏33‏۔‏

پولُس رسول اچھی طرح سے جانتے تھے کہ ثابت‌قدم رہنے کے لیے کیا ضروری ہے۔ اُنہوں نے مسیحیوں کو یاد دِلایا کہ اذیت سہتے وقت اُنہیں خود پر بھروسا کرنے کی بجائے یہوواہ پر بھروسا کرنا چاہیے۔ پولُس رسول دلیری سے یہ کہہ سکتے تھے:‏ ”‏یہوواہ میرا مددگار ہے۔ مَیں نہیں ڈروں گا۔“‏ (‏عبر 13:‏6‏)‏ ہمارے بہت سے بہن بھائی ابھی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہم اُن کے لیے دُعا کرنے سے اُن کا ساتھ دے سکتے ہیں اور کبھی کبھار اُنہیں وہ چیزیں دے سکتے ہیں جن کی اُنہیں ضرورت ہے۔ بائبل میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ ”‏اُن سب کو اذیت دی جائے گی جو مسیح یسوع کے پیروکاروں کے طور پر خدا کی بندگی کرنا چاہتے ہیں۔“‏ (‏2-‏تیم 3:‏12‏)‏ اِس لیے ہم سبھی کو خود کو اُس مشکل وقت کے لیے تیار کرنا چاہیے جو ہم پر آنے والا ہے۔ آئیے ہم ہمیشہ یہوواہ پر بھروسا کرتے رہیں اور اِس بات پر اپنے یقین کو مضبوط کریں کہ یہوواہ ہر مشکل سے نکلنے میں ہماری مدد کرے گا۔ وقت آنے پر یہوواہ اپنے اُن تمام بندوں کو مصیبتوں سے آرام دے گا جو اُس کے وفادار ہیں۔—‏2-‏تھس 1:‏7، 8‏۔ م24.‏09 ص.‏ 13 پ.‏ 17-‏18

ہفتہ، 20 جون

بہت سے ایسے کُرنتھی بھی جنہوں نے خدا کا کلام سنا،‏ ایمان لانے اور بپتسمہ لینے لگے۔—‏اعما 18:‏8‏۔‏

کس چیز نے کُرنتھس میں رہنے والے لوگوں کی بپتسمہ لینے میں مدد کی؟ (‏2-‏کُر 10:‏4، 5‏)‏ خدا کے کلام اور اُس کی پاک روح کی طاقت سے اُنہوں نے اپنی زندگی میں بڑی بڑی تبدیلیاں کیں۔ (‏عبر 4:‏12‏)‏ کُرنتھس میں خدا کے کلام کو قبول کرنے والے لوگوں نے اپنی بُری عادتوں کو چھوڑ دیا جیسے کہ اُنہوں نے حد سے زیادہ شراب پینا، چوری کرنا اور ہم‌جنس‌پرستی کرنا چھوڑ دیا۔ (‏1-‏کُر 6:‏9-‏11‏)‏ حالانکہ کُرنتھس میں رہنے والے کچھ لوگوں کو ایسی بُری عادتوں کو چھوڑنا تھا جو بہت پکی ہو چُکی تھیں لیکن اُنہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اُن کے لیے اِن عادتوں کو چھوڑنا بہت مشکل ہوگا۔ اُنہوں نے پورے جی جان سے تنگ راستے پر چلنے کی کوشش کی جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ (‏متی 7:‏13، 14‏)‏ کیا آپ کو اپنی کسی بُری عادت پر قابو پانا یا اِسے چھوڑنا مشکل لگ رہا ہے تاکہ آپ بپتسمہ لے سکیں؟ اِن بُری عادتوں سے لڑنا کبھی نہ چھوڑیں!‏ یہوواہ سے مِنت کریں کہ وہ آپ کو اپنی پاک روح دے تاکہ آپ ڈٹ کر غلط خواہشوں کا مقابلہ کر سکیں۔ م25.‏03 ص.‏ 6 پ.‏ 15-‏17

اِتوار، 21 جون

اگر آپ میں سے کسی شخص میں دانش‌مندی کی کمی ہو تو وہ بار بار خدا سے مانگے۔—‏یعقو 1:‏5‏۔‏

یہوواہ نے ہم سے وعدہ کِیا ہے کہ وہ ہمیں دانش‌مندی دے گا تاکہ ہم یہ دیکھ پائیں کہ ہمارا ایک فیصلہ اُس کو پسند آئے گا یا نہیں۔ یہوواہ ایسی دانش‌مندی ”‏بغیر ڈانٹے بڑی فیاضی سے سب کو دیتا ہے۔“‏ جب آپ یہوواہ سے رہنمائی کے لیے دُعا کر لیتے ہیں تو اِس کے بعد اِس بات پر دھیان دیں کہ وہ آپ کو کیا جواب دے رہا ہے۔ اِس بات کو سمجھنے کے لیے اِس مثال پر غور کریں:‏ فرض کریں کہ آپ سفر کرتے ہوئے راستے سے بھٹک گئے ہیں۔ جس علاقے میں آپ پہنچ گئے ہیں، آپ وہاں رہنے والے ایک شخص سے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے راستہ پوچھتے ہیں۔ لیکن کیا آپ اُس شخص کے جواب دینے سے پہلے ہی وہاں سے چلے جائیں گے؟ بالکل نہیں۔ آپ اُس کی بات کو بہت دھیان سے سنیں گے۔ اِسی طرح جب آپ کسی معاملے کے بارے میں یہوواہ سے دانش‌مندی کے لیے دُعا کرتے ہیں تو اِس کے بعد یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے کلام میں بتائے گئے اصولوں اور قوانین کے ذریعے آپ کو کیا جواب دے رہا ہے۔ مثال کے طور پر کسی پارٹی میں جانے کا فیصلہ لینے سے پہلے آپ سوچ سکتے ہیں کہ بائبل میں غیر مہذب دعوتوں، بُرے ساتھیوں اور خدا کی بادشاہت کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دینے کے حوالے سے کیا کچھ بتایا گیا ہے۔—‏متی 6:‏33؛‏ روم 13:‏13؛‏ 1-‏کُر 15:‏33‏۔ م25.‏01 ص.‏ 16 پ.‏ 6-‏7

سوموار، 22 جون

دیکھو میرے بندے کھائیں گے پر تُم بھوکے رہو گے۔—‏یسع 65:‏13‏۔‏

یسعیاہ نبی کی پیش‌گوئی میں اِس فرق کو واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ روحانی فردوس میں رہنے والوں کی زندگی کیسی ہے اور جو لوگ اِس سے باہر رہ رہے ہیں، اُن کی زندگی کیسی ہے۔ یہوواہ اپنے بندوں کو ہر وہ چیز دے رہا ہے جو اُس کے قریب رہنے میں اُن کی مدد کر سکتی ہے۔ اُس نے ہمیں اپنی پاک روح اور اپنا کلام دیا ہے۔ اِس کے علاوہ اُس نے ہمیں ڈھیر سارا روحانی کھانا بھی دیا ہے تاکہ ہم ’‏کھائیں اور پئیں‘‏ اور اِس سے ”‏شادمان“‏ یعنی خوش ہوں۔ (‏مُکاشفہ 22:‏17 پر غور کریں۔)‏ لیکن اگر ہم روحانی فردوس سے باہر رہنے والے لوگوں کو دیکھیں تو وہ ’‏بھوکے اور پیاسے‘‏ ہیں اور اُنہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ روحانی کھانے سے محروم ہیں۔ (‏عامو 8:‏11)‏ یہوواہ اپنے بندوں کو دل کھول کر وہ چیزیں دیتا ہے جن کی اُنہیں ضرورت ہے۔ اِن چیزوں میں روحانی کھانا بھی شامل ہے۔ (‏یُوایل 2:‏21-‏24‏)‏ یہوواہ ہمیں یہ روحانی کھانا اپنے کلام، اِس سے تیار کی گئی کتابوں اور ویڈیوز، ہماری ویب‌سائٹ اور ہمارے اِجلاسوں اور اِجتماعوں کے ذریعے دیتا ہے۔ ہم ہر روز اِن سہولتوں سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ہم روحانی لحاظ سے اَور زیادہ صحت‌مند ہو جائیں گے اور تازگی محسوس کریں گے۔ م24.‏04 ص.‏ 21 پ.‏ 5-‏6

منگل، 23 جون

آپ کی باتیں ہمیشہ دلکش ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ ہوں۔—‏کُل 4:‏6‏۔‏

اگر آپ کسی کو پسند کرتے ہیں اور اُسے اَور اچھی طرح جاننا چاہتے ہیں تو آپ اُس سے بات‌چیت کرنے کا بندوبست بنا سکتے ہیں، شاید کسی ایسی جگہ پر جہاں بہت سے لوگوں کا آنا جانا ہے یا پھر فون پر۔ کُھل کر اُس شخص کو بتائیں کہ آپ اُسے پسند کرتے ہیں اور اُسے اَور اچھی طرح سے جاننا چاہتے ہیں۔ (‏1-‏کُر 14:‏9‏)‏ اگر ضروری ہو تو اُس شخص کو سوچنے اور جواب دینے کا وقت دیں۔ (‏اَمثا 15:‏28‏)‏ لیکن اگر وہ شخص بات کو آگے نہیں بڑھانا چاہتا تو اُس کے فیصلے کا احترام کریں۔ اگر کوئی شخص آپ کو بتاتا ہے کہ وہ آپ کو پسند کرتا ہے تو آپ کو اُس کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے؟ یاد رکھیں کہ اُس شخص نے بہت ہمت جٹا کر آپ کو اپنے احساسات بتائے ہیں اِس لیے اُس کے ساتھ نرمی اور احترام سے پیش آئیں۔ اگر آپ کو سوچنے کے لیے وقت چاہیے تو اُسے کُھل کر بتائیں۔ لیکن پوری کوشش کریں کہ آپ اُسے جلد سے جلد جواب دیں۔ (‏اَمثا 13:‏12‏)‏ اگر آپ اُس سے شادی نہیں کرنا چاہتے تو احترام سے اور واضح لفظوں میں اُسے بتائیں۔ لیکن اگر آپ اُسے پسند کرتے ہیں اور اُسے اچھی طرح سے جاننا چاہتے ہیں تو اِس بارے میں بات کریں کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ کتنا وقت گزاریں گے اور کتنے لوگوں کو اِس بارے میں بتائیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ اِس حوالے سے آپ دونوں کی سوچ ایک دوسرے سے فرق ہو۔ م24.‏05 ص.‏ 23-‏24 پ.‏ 12-‏13

بدھ، 24 جون

مَیں فوجوں کے خدا یہوواہ کے نام سے تمہارا مقابلہ کرنے آ رہا ہوں۔—‏1-‏سمو 17:‏45‏۔‏

داؤد شاید اُس وقت نوجوان ہی تھے جب وہ اُس جگہ گئے جہاں اِسرائیلی فوج فِلسطینیوں سے جنگ لڑنے کے لیے جمع ہوئی تھی۔ اُنہوں نے دیکھا کہ اِسرائیلی فوجی ایک فِلسطینی سُورما سے بہت ڈرے ہوئے تھے۔ اُس سُورما کا نام جولیت تھا اور وہ ’‏اِسرائیل کی صفوں کو للکار رہا تھا۔‘‏ (‏1-‏سمو 17:‏10، 11‏)‏ اِسرائیلی فوجی اِس لیے ڈرے ہوئے تھے کیونکہ وہ اِس بات پر دھیان دے رہے تھے کہ جولیت کتنا لمبا چوڑا ہے اور وہ اُنہیں کیا طعنے دے رہا ہے۔ (‏1-‏سمو 17:‏24، 25‏)‏ لیکن داؤد صورتحال کو بالکل ہی فرق نظر سے دیکھ رہے تھے۔ داؤد کی نظر میں جولیت اِسرائیل کی فوج کو نہیں بلکہ ”‏زندہ خدا کی فوج“‏ کو چیلنج کر رہا تھا۔ (‏1-‏سمو 17:‏26‏)‏ تو داؤد جولیت کے بارے میں نہیں بلکہ یہوواہ کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ داؤد کو اپنے خدا پر پورا بھروسا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جس طرح اُن کے خدا نے اُس وقت اُن کی مدد کی جب وہ چرواہے تھے اُسی طرح وہ اِس صورتحال میں بھی اُن کی مدد کرے گا۔ داؤد نے اِس یقین کے ساتھ جولیت کا مقابلہ کِیا کہ یہوواہ اُن کے ساتھ ہے۔ بے‌شک داؤد نے تو جیتنا ہی تھا!‏—‏1-‏سمو 17:‏45-‏51‏۔ م24.‏06 ص.‏ 21 پ.‏ 7

جمعرات، 25 جون

ڈر نہیں کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہوں۔‏ پریشان نہ ہو کیونکہ مَیں تیرا خدا ہوں۔‏ مَیں تجھے مضبوط کروں گا،‏ ہاں،‏ مَیں تیری مدد کروں گا؛‏ مَیں نیکی کے اپنے دائیں ہاتھ سے ضرور تجھے تھامے رکھوں گا۔—‏یسع 41:‏10‏۔‏

ذرا سوچیں کہ اگر ہم یہوواہ کی خدمت نہ کر رہے ہوتے تو ہماری زندگی کیسی ہوتی!‏ اِس بات پر سوچ بچار کرنے سے ہم وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہیں گے اور زبور 73 کو لکھنے والے کی طرح کہہ سکیں گے:‏ ”‏میرے لیے اچھا ہے کہ مَیں خدا کے قریب جاؤں۔“‏ (‏زبور 73:‏28‏)‏ اِس آخری زمانے میں ہم کسی بھی مشکل کا ڈٹ کر سامنا کر سکتے ہیں کیونکہ ہم ”‏زندہ اور سچے خدا کے غلام“‏ہیں۔ (‏1-‏تھس 1:‏9‏)‏ ہمارا خدا ایک حقیقی ہستی ہے جو اپنے بندوں کی مدد کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ اُس نے ثابت کِیا ہے کہ وہ ماضی میں بھی اپنے بندوں کے ساتھ تھا اور آج بھی اپنے بندوں کے ساتھ ہے۔ بہت جلد ہم ایک ایسی بڑی مصیبت کا سامنا کرنے والے ہیں جو زمین پر پہلے کبھی نہیں آئی۔ دُعا ہے کہ ہم سب پورے اِعتماد سے یہ کہہ سکیں:‏ ”‏یہوواہ میرا مددگار ہے۔ مَیں نہیں ڈروں گا۔“‏—‏عبر 13:‏5، 6‏۔ م24.‏06 ص.‏ 25 پ.‏ 17-‏18

جمعہ، 26 جون

تُم ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ صادق اور شریر میں ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ اِمتیاز کرو گے۔—‏ملا 3:‏18۔‏

بائبل میں 40 سے زیادہ ایسے آدمیوں کا ذکر کِیا گیا ہے جنہوں نے اِسرائیل کے بادشاہوں کے طور پر حکومت کی۔ کچھ اچھے بادشاہوں نے کچھ بُرے کام بھی کیے تھے۔ ذرا بادشاہ داؤد کے بارے میں سوچیں جو ایک اچھے بادشاہ تھے۔ یہوواہ نے اُن کے بارے میں کہا:‏ ”‏میرے بندے داؤد .‏ .‏ .‏ نے میرے حکموں پر عمل کِیا اور پورے دل سے میری راہوں پر چلا اور صرف وہی کام کیے جو میری نظر میں صحیح تھے۔“‏ (‏1-‏سلا 14:‏8‏)‏ لیکن یہوواہ کے اِس بندے نے ایک بہت بڑا گُناہ بھی کِیا۔ اُس نے ایک شادی‌شُدہ عورت کے ساتھ زِناکاری کی اور جنگ میں اُس کے شوہر کو مروا دیا۔ (‏2-‏سمو 11:‏4،‏ 14، 15‏)‏ مگر اِسرائیل کے بہت سے ایسے بادشاہ بھی تھے جو یہوواہ کے وفادار نہیں تھے لیکن اُنہوں نے کچھ اچھے کام کیے۔ رحبُعام کی مثال لیں۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ رحبُعام نے یہوواہ کی نظر میں ”‏بُرے کام کیے۔“‏ (‏2-‏توا 12:‏14‏)‏ لیکن جب یہوواہ نے اُس سے کہا کہ وہ اِسرائیل کے دس قبیلوں پر حملہ نہ کرے اور اِن قبیلوں کو خود اپنے لیے بادشاہ چُننے دے تو اُس نے یہوواہ کا حکم مانا۔ اُس نے یہوواہ کے بندوں کو دُشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی سلطنت میں بہت سے شہروں کو بھی مضبوط کِیا۔ (‏1-‏سلا 12:‏21-‏24؛‏ 2-‏توا 11:‏5-‏12‏)‏ یہوواہ نے کس بِنا پر یہ طے کِیا کہ ایک بادشاہ اُس کی نظر میں اُس کا وفادار تھا یا نہیں؟ اِس بِنا پر کہ کیا وہ بادشاہ پورے دل سے اُس کی عبادت کرتا ہے، اپنے گُناہوں کو تسلیم کر کے دل سے توبہ کرتا ہے اور صحیح طریقے سے اُس کی عبادت کرتا ہے یا نہیں۔ م24.‏07 ص.‏ 20 پ.‏ 1-‏3

ہفتہ، 27 جون

یہوواہ کی طرف سے اُن کی تربیت اور رہنمائی کرتے ہوئے اُن کی پرورش کریں۔—‏اِفِس 6:‏4‏۔‏

اگر ایک ایسا بپتسمہ‌یافتہ مبشر سنگین گُناہ کرتا ہے جس کی عمر 18 سال سے کم ہے تو بزرگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ بزرگوں کی جماعت دو ایسے بزرگوں کا بندوبست کرے گی جو اُس بچے سے اُس کے ماں باپ کی موجودگی میں ملیں گے۔ وہ بزرگ ماں باپ سے ایسے سوال کریں گے جن سے وہ یہ جان سکیں کہ اُنہوں نے اپنے بچے کو توبہ کی طرف مائل کرنے اور صحیح راہ پر واپس لانے کے لیے کون سے قدم اُٹھائے ہیں۔ اگر بچہ اپنے ماں باپ کی طرف سے اِصلاح کو قبول کرتا ہے اور اپنی سوچ اور رویے کو بدل لیتا ہے تو وہ دو بزرگ یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ بزرگوں کی کمیٹی کو اُس بچے اور اُس کے ماں باپ سے ملنے کی ضرورت نہیں ہے اور اُس کے ماں باپ آگے بھی اُس کی مدد کرتے رہیں۔ ویسے بھی یہوواہ نے یہ ذمے‌داری ماں باپ کو دی ہے کہ وہ پیار سے اپنے بچوں کی درستی اور اِصلاح کریں۔ (‏اِست 6:‏6، 7؛‏ اَمثا 6:‏20؛‏ 22:‏6؛‏ اِفِس 6:‏2-‏4‏)‏ اِس کے بعد بزرگ کبھی کبھار ماں باپ سے بات کر سکتے ہیں تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ بچے کو وہ مدد مل رہی ہے جس کی اُسے ضرورت ہے۔ لیکن اگر وہ بپتسمہ‌یافتہ نوجوان بُرے کام کرنے سے باز نہیں آتا تو پھر کیا کِیا جا سکتا ہے؟ ایسی صورت میں بزرگوں کی کمیٹی اُس نوجوان سے اُس کے ماں باپ کی موجودگی میں ملے گی۔ م24.‏08 ص.‏ 24 پ.‏ 18

اِتوار، 28 جون

لینے کی نسبت دینے میں زیادہ خوشی ہے۔—‏اعما 20:‏35‏۔‏

ہم نے دیکھا ہے کہ جب دوسرے ہمیں کوئی تحفہ دیتے ہیں تو ہمیں کتنا اچھا لگتا ہے۔ لیکن ہمیں اُس وقت اَور بھی زیادہ خوشی ملتی ہے جب ہم کسی کو کچھ دیتے ہیں۔ یہوواہ نے ہمیں اِس طرح سے بنایا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اِس میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔ دوسروں کے لیے محبت دِکھانے اور اُن کی مدد کرنے سے ہماری خوشی اَور زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ یہ کتنی زبردست بات ہے نا کہ یہوواہ نے ہم میں یہ صلاحیت ڈالی ہے کہ ہم اپنی خوشی کو بڑھا سکیں۔ (‏زبور 139:‏14‏)‏ بائبل میں ہمیں یقین دِلایا گیا ہے کہ دوسروں کو دینے سے خوشی ملتی ہے۔ اِس لیے جب ہم اِس میں پڑھتے ہیں کہ یہوواہ ”‏خوش‌دل خدا“‏ ہے تو ہم صاف طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ اُس کے بارے میں یہ بات کیوں کہی گئی ہے۔ (‏1-‏تیم 1:‏11‏)‏ دراصل یہوواہ نے ہی سب سے پہلے دوسروں کو دیا اور جتنا زیادہ وہ دیتا ہے، اُتنا کوئی اَور دے ہی نہیں سکتا۔ ”‏اُسی کے ذریعے ہم زندہ ہیں اور چلتے پھرتے اور موجود ہیں۔“‏ (‏اعما 17:‏28‏)‏ بے‌شک ”‏ہر اچھی نعمت اور ہر کامل بخشش“‏ ہمیں یہوواہ کی طرف سے ہی ملتی ہے۔ (‏یعقو 1:‏17‏)‏ یقیناً ہم سبھی اُس خوشی کو محسوس کرنا چاہتے ہیں جو دوسروں کے لیے کچھ کرنے سے ملتی ہے۔ ہم یہوواہ کی طرح فراخ‌دل بننے سے اِس خوشی کا تجربہ کر سکتے ہیں۔—‏اِفِس 5:‏1‏۔ م24.‏09 ص.‏ 26 پ.‏ 1-‏4

سوموار، 29 جون

ہم نے جتنی بھی پختگی حاصل کر لی ہو،‏ آئیں،‏ آگے بڑھتے رہیں۔—‏فِل 3:‏16‏۔‏

شاید کچھ خادموں کو لگے کہ وہ کبھی بزرگ نہیں بن پائیں گے کیونکہ وہ بائبل میں بتائی گئی اُن سب باتوں پر پورا نہیں اُتر پائیں گے جن کی بزرگوں سے توقع کی جاتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ نہ تو یہوواہ اور نہ ہی اُس کی تنظیم آپ سے یہ توقع کرتی ہے کہ آپ سے اُن خوبیوں کو ظاہر کرنے میں کبھی کوئی غلطی نہ ہو جو بزرگوں میں ہونی چاہئیں۔ (‏یعقو 3:‏2‏)‏ اور یہوواہ کی پاک روح اِن خوبیوں کو پیدا کرنے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے۔ (‏فِل 2:‏13‏)‏ کیا کوئی ایسی خوبی ہے جسے آپ خاص طور پر نکھارنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہوواہ سے دُعا کریں۔ اُس خوبی کے بارے میں تحقیق کریں اور کسی بزرگ سے پوچھیں کہ آپ اِس خوبی کو اچھی طرح سے کیسے ظاہر کر سکتے ہیں۔ تو کلیسیا میں بزرگ کے طور پر خدمت کرنے کا منصوبہ بنائیں۔ یہوواہ سے مدد مانگیں کہ وہ آپ کو اَور زیادہ ٹریننگ دے تاکہ آپ اُس کے اور کلیسیا کے اَور زیادہ کام آ سکیں۔ (‏یسع 64:‏8‏)‏ دُعا ہے کہ یہوواہ آپ کی اُن کوششوں کو بہت برکت دے جو آپ بزرگ بننے کے لیے کرتے ہیں۔ م24.‏11 ص.‏ 24-‏25 پ.‏ 17-‏18

منگل، 30 جون

خدا بے‌اِنصاف نہیں ہے۔‏ وہ اُس محنت اور محبت کو نہیں بھولے گا جو آپ نے مُقدسوں کی خدمت کر کے اُس کے نام کے لیے ظاہر کی ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔—‏عبر 6:‏10‏۔‏

ہم میں سے کسی کو بھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ چونکہ ہم کئی سالوں سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں اِس لیے یہ ہمارا حق ہے کہ یہوواہ ہم پر رحم کرے۔ یہ سچ ہے کہ یہوواہ ہماری وفاداری کی بہت قدر کرتا ہے اور اِسے یاد بھی رکھتا ہے۔ لیکن اُس نے ہمیں اپنا بیٹا ایک تحفے کے طور پر دیا ہے نہ کہ اِس لیے کہ وہ ہمیں ہماری خدمت کی قیمت ادا کر سکے۔ تو یہ سوچنا بالکل غلط ہوگا کہ ہم نے یہوواہ کے لیے اِتنا کچھ کِیا ہے اِس لیے اب اُس کا فرض ہے کہ وہ ہم پر رحم کرے۔ اگر ہم ایسا سوچیں گے تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمیں فدیے کی ضرورت نہیں ہے اور مسیح کے مرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ (‏گلتیوں 2:‏21 پر غور کریں۔)‏ پولُس رسول جانتے تھے کہ چاہے وہ یہوواہ کی جتنی بھی خدمت کریں، اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اب یہوواہ پر یہ فرض ہے کہ وہ اُنہیں معاف کرے۔ تو پھر اُنہوں نے یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے سخت محنت کیوں کی؟ اُنہوں نے ایسا اِس لیے نہیں کِیا تاکہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ یہوواہ کے رحم کے حق‌دار ہیں بلکہ اُنہوں نے ایسا اِس لیے کِیا تاکہ وہ یہوواہ کی عظیم رحمت کے لیے قدر دِکھا سکیں۔ (‏اِفِس 3:‏7‏)‏ پولُس کی طرح ہم بھی دل‌وجان سے یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں، اِس لیے نہیں تاکہ یہوواہ ہم پر رحم کرے بلکہ اِس لیے کیونکہ ہم اُس کے رحم کے لیے قدر دِکھانا چاہتے ہیں۔ م25.‏01 ص.‏ 27 پ.‏ 5-‏6

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں