یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ک‌ت26 ص.‏ 83-‏96
  • جولائی

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • جولائی
  • روزبروز کتابِ‌مُقدس سے تحقیق کریں—‏2026ء
  • ذیلی عنوان
  • بدھ، 1 جولائی
  • جمعرات، 2 جولائی
  • جمعہ، 3 جولائی
  • ہفتہ، 4 جولائی
  • اِتوار، 5 جولائی
  • سوموار، 6 جولائی
  • منگل، 7 جولائی
  • بدھ، 8 جولائی
  • جمعرات، 9 جولائی
  • جمعہ، 10 جولائی
  • ہفتہ، 11 جولائی
  • اِتوار، 12 جولائی
  • سوموار، 13 جولائی
  • منگل، 14 جولائی
  • بدھ، 15 جولائی
  • جمعرات، 16 جولائی
  • جمعہ، 17 جولائی
  • ہفتہ، 18 جولائی
  • اِتوار، 19 جولائی
  • سوموار، 20 جولائی
  • منگل، 21 جولائی
  • بدھ، 22 جولائی
  • جمعرات، 23 جولائی
  • جمعہ، 24 جولائی
  • ہفتہ، 25 جولائی
  • اِتوار، 26 جولائی
  • سوموار، 27 جولائی
  • منگل، 28 جولائی
  • بدھ، 29 جولائی
  • جمعرات، 30 جولائی
  • جمعہ، 31 جولائی
روزبروز کتابِ‌مُقدس سے تحقیق کریں—‏2026ء
ک‌ت26 ص.‏ 83-‏96

جولائی

بدھ، 1 جولائی

مَیں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی نیک شخص کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہو۔—‏زبور 37:‏25‏۔‏

یہوواہ کے کچھ بندے بڑھتی عمر، صحت کے کسی مسئلے یا کسی معذوری کی وجہ سے اب اُس کے لیے زیادہ کچھ نہیں کر پا رہے۔ شاید اِس وجہ وہ یہ سوچنے لگیں کہ اب یہوواہ کی نظر میں اُن کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اِس وجہ سے اُن کے ذہن میں یہ سوال آئے:‏ ”‏کیا مَیں اب بھی یہوواہ کے کام آ سکتا ہوں؟“‏ زبور 71 لکھنے والے کے ذہن میں بھی اِسی طرح کی بات تھی کیونکہ اب اُس میں پہلے جتنی طاقت نہیں رہی تھی۔ اُس نے یہوواہ سے دُعا کی:‏ ”‏جب میری طاقت جواب دے جائے تو مجھے ترک نہ کرنا۔“‏ (‏زبور 71:‏9،‏ 18‏)‏ لیکن پھر بھی اُسے اِس بات کا پکا یقین تھا کہ اگر وہ وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتا رہے گا تو یہوواہ اُس کی رہنمائی اور مدد کرے گا۔ وہ یہ جان گیا تھا کہ یہوواہ اُن لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو اپنی مشکلوں کے باوجود دل‌وجان سے اُس کی خدمت کرتے ہیں۔ (‏زبور 37:‏23-‏25‏)‏ بوڑھے بہن بھائیو!‏ اپنی صورتحال کو یہوواہ کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کریں۔ بھلے ہی اب آپ میں اُتنی طاقت نہیں ہے اور آپ کی صحت بھی اِتنی اچھی نہیں ہے۔ لیکن یہوواہ آپ کی مدد کر سکتا ہے تاکہ آپ وفاداری سے اُس کی خدمت کرتے رہیں۔ (‏زبور 92:‏12-‏15‏)‏ اِس بات پر دھیان دینے کی بجائے کہ اب آپ کیا نہیں کر سکتے، اِس بات پر دھیان دیں کہ آپ کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ م24.‏10 ص.‏ 28 پ.‏ 14-‏16

جمعرات، 2 جولائی

جہاں تک بُتوں کے آگے چڑھائی گئی چیزوں کو کھانے کا تعلق ہے،‏ ہم جانتے ہیں کہ بُت کچھ بھی نہیں ہیں۔—‏1-‏کُر 8:‏4‏۔‏

جو مسیحی پُختہ نہیں ہوتے، اُنہیں اُس وقت فیصلے کرتے ہوئے بہت مشکل ہوتی ہے جب اُنہیں بائبل میں کوئی واضح حکم نہیں ملتا۔ ایسی صورت میں وہ سوچنے لگ سکتے ہیں کہ وہ جو چاہیں، کر سکتے ہیں۔ اور کچھ تو دوسروں سے کسی معاملے کے بارے میں ایسے قانون بنانے کو کہتے ہیں جن میں ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر کُرنتھس میں رہنے والے مسیحیوں نے پولُس رسول سے پوچھا کہ کیا وہ بُتوں کے آگے چڑھائی گئی قربانی کا گوشت کھا سکتے ہیں۔ ایک طرح سے وہ پولُس سے کہہ رہے تھے کہ وہ اُن کے لیے ایک قانون بنائیں۔ پولُس جانتے تھے کہ ہر شخص اپنے ضمیر کے مطابق ”‏اِنتخاب کا حق“‏رکھتا ہے۔ (‏1-‏کُر 8:‏7-‏9‏)‏ اِس لیے اُنہوں نے اُن مسیحیوں کو یہ نہیں بتایا کہ اُنہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ اِس کی بجائے پولُس نے اُنہیں بائبل سے کچھ ایسے اصول بتائے جن کی بِنا پر ایک مسیحی ایسا فیصلہ کر سکتا تھا جس سے اُس کا ضمیر بھی صاف رہے اور دوسروں کو ٹھیس بھی نہ لگے۔ اِس طرح پولُس رسول نے اُن مسیحیوں کی مدد کی تاکہ وہ اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اِستعمال کر کے خود فیصلہ کریں نہ کہ دوسرے اُن کے لیے کوئی قانون بنائیں۔ م24.‏04 ص.‏ 5 پ.‏ 14

جمعہ، 3 جولائی

مَیں[‏یہوواہ]‏دل‌ودماغ کو جانچتا اور آزماتا ہوں تاکہ ہر ایک آدمی کو ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ اُس کے کاموں کے پھل کے مطابق بدلہ دوں۔—‏یرم 17:‏10‏۔‏

یُوناہ نبی کے زمانے میں شہر نِینوہ کے لوگوں کو توبہ کرنے کا موقع ملا تھا۔ اِس کے علاوہ یاد رکھیں کہ یسوع مسیح نے کہا تھا کہ جن لوگوں نے بُرے کام کیے، اُنہیں ”‏سزا کی قیامت“‏ دی جائے گی۔ (‏یوح 5:‏29‏، اُردو ریوائزڈ ورشن‏)‏ اِن باتوں کی بِنا پر لگتا ہے کہ سدوم اور عمورہ کے لوگوں کے زندہ ہونے کی بھی اُمید کی جا سکتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اِن میں سے کم از کم کچھ کو زندہ کِیا جائے گا اور اُنہیں توبہ کرنے اور یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کے بارے میں سیکھنے کا موقع دیا جائے گا۔ یہوواہ ہر شخص کے”‏دل‌ودماغ کو جانچتا اور آزماتا“‏ ہے۔ مستقبل میں جب یہوواہ یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ کس کو زندہ کرے گا اور کس کو نہیں تو وہ ہر شخص کے دل کو جانتے ہوئے اُسے ”‏اُس کے کاموں کے پھل کے مطابق بدلہ“‏ دے گا۔ یہوواہ صرف تبھی کسی کی سخت عدالت کرے گا جب ایسا ضروری ہوگا۔ لیکن جب اُسے ذرا سا بھی نظر آئے گا کہ کسی پر رحم دِکھانے کی ضرورت ہے تو وہ ایسا ضرور کرے گا۔ تو ہمیں کبھی خود سے یہ اندازہ نہیں لگانا چاہیے کہ فلاں شخص کو زندہ کِیا جائے گا یا نہیں جب تک کہ ہمیں بائبل سے اِس کا پکا ثبوت نہ مل جائے۔ م24.‏05 ص.‏ 5-‏6 پ.‏ 15-‏16

ہفتہ، 4 جولائی

مت ڈر۔‏ مَیں تیری مدد کروں گا۔—‏یسع 41:‏13‏۔‏

پُرانے زمانے میں خدا کے بندوں کو اُس وقت خدا کے پیغام سے بہت حوصلہ ملا جب اُنہیں ایک مشکل ذمے‌داری نبھانی تھی۔ یرمیاہ نبی کی مثال لیں۔ جب یہوواہ نے اُنہیں مُنادی کرنے کو کہا تو وہ ایسا کرنے سے گھبرا رہے تھے۔ یرمیاہ نے کہا:‏ ”‏مَیں بول نہیں سکتا کیونکہ مَیں تو بچہ ہوں۔“‏ (‏یرم 1:‏6‏)‏ یرمیاہ نے اپنے ڈر پر قابو کیسے پایا؟ اُنہیں خدا کے کلام سے ہمت ملی۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏[‏تیرا]‏کلام میرے دل میں جلتی آگ کی مانند ہے جو میری ہڈیوں میں پوشیدہ ہے اور مَیں ضبط کرتے کرتے تھک گیا۔“‏ (‏یرم 20:‏8، 9‏)‏ حالانکہ یرمیاہ جن لوگوں کو مُنادی کر رہے تھے، وہ اُن کی شدید مخالفت کر رہے تھے لیکن یہوواہ نے اُنہیں جو پیغام سنانے کے لیے دیا، اُس سے اُنہیں مُنادی کرتے رہنے کا حوصلہ ملا۔ مسیحیوں کو خدا کے کلام میں لکھی باتوں سے بہت حوصلہ ملتا ہے۔ پولُس رسول نے کہا کہ صحیح علم حاصل کرنے سے اُن کے بہن بھائیوں کا حوصلہ بڑھے گا کہ وہ ”‏ہر اچھے کام میں پھل لاتے رہیں“‏ اور اِس طرح اپنا ”‏چال‌چلن یہوواہ کے لائق“‏ بنائیں۔—‏کُل 1:‏9، 10‏۔ م24.‏04 ص.‏ 14-‏15 پ.‏ 2-‏4

اِتوار، 5 جولائی

کاہن صدوق نے ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ سلیمان کو مسح کِیا۔—‏1-‏سلا 1:‏39‏۔‏

حالانکہ کاہنِ‌اعظم ابی‌آتر نے داؤد کے بیٹے ادونیاہ کی حمایت کی جس نے تخت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن صدوق یہوواہ کے وفادار رہے۔ داؤد نے کبھی بھی صدوق کی وفاداری پر شک نہیں کِیا۔ اُنہیں یقین تھا کہ وہ ہمیشہ صدوق پر بھروسا کر سکتے ہیں۔ جب داؤد کو ادونیاہ کی سازش کا پتہ چلا تو داؤد نے اپنے قابلِ‌بھروسا دوستوں یعنی صدوق، ناتن اور بِنایاہ سے کہا کہ وہ سلیمان کو بادشاہ کے طور پر مقرر کریں۔ (‏1-‏سلا 1:‏32-‏34‏)‏ صدوق کو ناتن اور اُن لوگوں کی مثال سے بہت حوصلہ اور ہمت ملی ہوگی جو یہوواہ کے وفادار تھے اور بادشاہ داؤد کی حمایت کرتے تھے۔ پھر جب سلیمان بادشاہ بنے تو اُنہوں نے ”‏ابی‌آتر کی جگہ صدوق کو کاہن مقرر کِیا۔“‏ (‏1-‏سلا 2:‏35‏)‏ اگر آپ کا کوئی عزیز یہوواہ کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو آپ صدوق کی طرح کیسے بن سکتے ہیں؟ یہ ثابت کریں کہ آپ یہوواہ کے وفادار رہنا چاہتے ہیں۔ (‏یشو 24:‏15)‏ یہوواہ آپ کو اِس فیصلے پر قائم رہنے کی ہمت اور طاقت دے گا۔ تو دُعا کرنے سے یہوواہ پر بھروسا کریں اور اُن لوگوں کے قریب رہیں جو وفاداری سے اُس کی خدمت کر رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ آپ کی وفاداری کی بہت قدر کرتا ہے اور وہ اِس کے لیے آپ کو اجر بھی دے گا۔—‏2-‏سمو 22:‏26‏۔ م24.‏07 ص.‏ 6-‏7 پ.‏ 16-‏17

سوموار، 6 جولائی

اچھے کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں۔—‏گل 6:‏9‏۔‏

زبور 15:‏2 میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ کے دوست ’‏وفاداری کی راہ پر چلتے ہیں اور ہمیشہ صحیح کام کرتے ہیں۔‘‏ یہ ایسے کام ہیں جو ہمیں کرتے رہنے چاہئیں۔ لیکن کیا ہم واقعی وفاداری کی راہ پر چل سکتے ہیں؟ جی ہاں۔ سچ ہے کہ کوئی بھی اِنسان بے‌عیب نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم یہوواہ کے حکموں پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں گے تو یہوواہ اِسے ایسے خیال کرے گا جیسے ہم ”‏وفاداری کی راہ“‏ پر چل رہے ہوں۔ جب ہم دُعا میں اپنی زندگی یہوواہ کے نام کر دیتے ہیں اور بپتسمہ لیتے ہیں تو یہ یہوواہ کے ساتھ ہمارے سفر کی بس شروعات ہوتی ہے۔ غور کریں کہ پُرانے زمانے میں ایک شخص صرف اِسرائیلی ہونے کی وجہ سے یہوواہ کا مہمان نہیں بن جاتا تھا۔ کچھ اِسرائیلی یہوواہ سے مخاطب تو ہوتے تھے لیکن ”‏سچائی اور راستبازی“‏ سے نہیں۔ (‏یسع 48:‏1‏، نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ اگر ایک اِسرائیلی یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ واقعی یہوواہ کا مہمان بننا چاہتا ہے تو اُسے یہوواہ کے معیاروں کے بارے میں جاننا اور اِن پر عمل کرنا ہوتا تھا۔ آج بھی یہوواہ سے گہری دوستی کرنے کے لیے صرف بپتسمہ لینا اور یہوواہ کا گواہ کہلانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں کچھ اَور بھی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہمیشہ ”‏صحیح کام“‏ کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔ م24.‏06 ص.‏ 8 پ.‏ 4؛‏ ص.‏ 9 پ.‏ 6

منگل، 7 جولائی

خدا کی مثال پر عمل کریں۔—‏اِفِس 5:‏1‏۔‏

یہوواہ کن طریقوں سے فراخ‌دلی دِکھاتا ہے؟ اِس کی کچھ مثالوں پر غور کریں۔ یہوواہ ہمیں ضرورت کی چیزیں دیتا ہے۔ شاید ہمارے پاس دُنیا بھر کی آسائشیں نہ ہوں لیکن یہوواہ کا شکر ہے کہ ہم میں سے زیادہ‌تر کے پاس وہ چیزیں ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر یہوواہ ہمیشہ اِس بات کا خیال رکھتا ہے کہ ہمارے پاس کھانے پینے اور پہننے کو ہو اور سر ڈھانکنے کے لیے چھت ہو۔ (‏زبور 4:‏8؛‏ متی 6:‏31-‏33؛‏ 1-‏تیم 6:‏6-‏8‏)‏ کیا یہوواہ صرف فرض سمجھ کر ہماری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے؟ بالکل نہیں!‏ ذرا متی 6:‏25، 26 میں لکھے یسوع کے الفاظ پر غور کریں۔ یسوع مسیح نے پرندوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏وہ نہ تو بیج بوتے ہیں، نہ فصل کاٹتے ہیں اور نہ ہی اِسے گودام میں جمع کرتے ہیں۔لیکن پھر بھی آپ کا آسمانی باپ اُن کو کھانا دیتا ہے۔“‏ اِس کے بعد یسوع مسیح نے یہ سوال کِیا:‏ ”‏کیا آپ پرندوں سے زیادہ اہم نہیں ہیں؟“‏ یسوع اِس مثال سے ہمیں کیا سکھانا چاہ رہے تھے؟ اگر یہوواہ جانوروں کی ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے تو یقیناً وہ ہماری ضرورتوں کو بھی پورا کرے گا۔ جس طرح ایک شفیق باپ اپنے گھرانے کی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے اُسی طرح ہمارا باپ یہوواہ بڑے پیار سے اپنے گھرانے کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔—‏زبور 145:‏16؛‏ متی 6:‏32‏۔ م24.‏09 ص.‏ 26-‏27 پ.‏ 4-‏6

بدھ، 8 جولائی

جو آدمی اچھی طرح خدمت کرتے ہیں،‏ وہ نیک‌نامی حاصل کرتے ہیں اور ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ ایمان کے سلسلے میں دلیری سے بول سکتے ہیں۔—‏1-‏تیم 3:‏13‏۔‏

ایک خادم بپتسمہ‌یافتہ بھائی ہوتا ہے جسے یہوواہ کی پاک روح سے مقرر کِیا جاتا ہے تاکہ وہ کلیسیا کے ضروری کاموں کو کرنے میں بزرگوں کا ہاتھ بٹا سکے۔ خادم کے طور پر خدمت کرنے والا بھائی ایسا آدمی ہوتا ہے جو یہوواہ سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور اُس کے نیک معیاروں کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔ وہ اپنے بہن بھائیوں سے بھی گہری محبت کرتا ہے۔ (‏متی 22:‏37-‏39‏)‏ ایک بپتسمہ‌یافتہ بھائی خادم بننے کے لیے کیا کر سکتا ہے؟ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ اگر ایک بھائی کلیسیا میں خادم بننا چاہتا ہے تو اُس میں کون سی خوبیاں ہونی چاہئیں۔ (‏1-‏تیم 3:‏8-‏10،‏ 12‏)‏ تو بھائیو!‏اِس اعزاز کو حاصل کرنے کے لیے پاک کلام سے اِن خوبیوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سیکھیں اور پھر اِنہیں خود میں پیدا کرنے کے لیے سخت محنت کریں۔ مگر سب سے پہلے تو اِس بات پر سوچ بچار کریں کہ آپ خادم بننا کیوں چاہتے ہیں۔ م24.‏11 ص.‏ 15 پ.‏ 4-‏5

جمعرات، 9 جولائی

آپ نے اِسے اِنسانوں کا کلام سمجھ کر نہیں بلکہ خدا کا کلام سمجھ کر قبول کِیا۔‏ اور یہ واقعی خدا کا کلام ہے۔—‏1-‏تھس 2:‏13‏۔‏

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اُنہوں نے کئی بار بائبل پڑھی ہے۔ لیکن کیا وہ اُن باتوں پر یقین بھی کرتے ہیں جو اُنہوں نے بائبل میں پڑھی ہیں؟ کیا وہ خدا کے کلام میں لکھی باتوں پر عمل کرتے ہیں اور اِسے اپنی زندگی پر اثر کرنے دیتے ہیں؟ افسوس کی بات ہے کہ زیادہ‌تر لوگ ایسا نہیں کرتے۔ لیکن اِن لوگوں میں اور یہوواہ کے بندوں میں زمین آسمان کا فرق ہے!‏ ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ خدا کا کلام ہماری زندگی پر اثر کرے۔ لیکن سچ ہے کہ خدا کے کلام کو پڑھنا اور اِس پر عمل کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ شاید ہمیں ایسا کرنے کے لیے وقت نکالنا مشکل لگتا ہے۔ یا شاید ہمیں جلدی جلدی بائبل پڑھنے کی عادت ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اِس میں لکھی باتیں ہمارے دل میں نہیں اُتر پاتیں۔ یا شاید بائبل پڑھتے وقت ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں خود میں بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے اور اِس وجہ سے ہم بے‌حوصلہ ہو گئے ہیں۔ چاہے بائبل پڑھنے کے حوالے سے آپ کو کسی بھی مشکل کا سامنا ہو، آپ اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ کی مدد سے آپ اُس مشکل سے نمٹ سکتے ہیں۔ دُعا ہے کہ ہم کلام پر عمل کرنے والے بنیں۔ بے‌شک جتنا زیادہ ہم خدا کے کلام کو پڑھیں گے اور اِس پر عمل کریں گے اُتنا ہی زیادہ ہم خوش رہیں گے۔—‏یعقو 1:‏25‏۔ م24.‏09 ص.‏ 7 پ.‏ 15-‏16

جمعہ، 10 جولائی

مانگتے رہیں تو آپ کو دیا جائے گا۔—‏لُو 11:‏9‏۔‏

جب ہمارے ساتھ کوئی دردناک واقعہ پیش آتا ہے تو یہوواہ اپنی پاک روح کے ذریعے ہمیں تسلی دیتا ہے۔ اگر آپ کی زندگی میں کچھ ایسا ہوا ہے جس کی وجہ سے آپ ٹوٹ گئے ہیں تو آپ جتنی بار چاہیں اور جتنی دیر کے لیے چاہیں، دُعا میں یہوواہ کو اپنے دل کا حال بتا سکتے ہیں۔ (‏زبور 86:‏3؛‏ 88:‏1‏)‏ یہوواہ سے بار بار اُس کی پاک روح مانگیں۔ وہ آپ کی دُعا کا جواب ضرور دے گا!‏ کیا آپ کو کبھی ایسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ سے آپ کو لگا ہو کہ آپ اِتنے کمزور ہو گئے ہیں کہ اب آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے؟ پاک روح آپ کو طاقت دے سکتی ہے تاکہ آپ وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہیں۔ (‏اِفِس 3:‏16‏)‏ یہوواہ سے اُس کی پاک روح مانگنے کے بعد ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ایسے کام کریں جن میں یہوواہ آپ کو اَور زیادہ پاک روح دے جیسے کہ عبادتوں میں جانا اور مُنادی کرنا۔ خدا کے کلام کو روزانہ پڑھیں تاکہ آپ یہوواہ کی سوچ کو اَور اچھی طرح سے جان سکیں۔ (‏فِل 4:‏8، 9‏)‏ بائبل کو پڑھتے وقت دیکھیں کہ خدا کے فلاں فلاں بندے کو کس مشکل کا سامنا کرنا پڑا اور پھر اِس بات پر سوچ بچار کریں کہ یہوواہ نے اُس کی مدد کیسے کی تاکہ وہ ہمت نہ ہارے۔ م24.‏10 ص.‏ 9 پ.‏ 12-‏14

ہفتہ، 11 جولائی

خدا کو دُنیا سے اِتنی محبت ہے۔—‏یوح 3:‏16‏۔‏

یہوواہ اور اُس کے بیٹے کی طرح ہم بھی لوگوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔ (‏اَمثا 8:‏31‏)‏ ہمارے دل میں اُن لوگوں کے لیے بہت زیادہ ہمدردی ہے جو ’‏کسی اُمید کے بغیر دُنیا میں رہ رہے ہیں اور خدا کو نہیں جانتے۔‘‏ (‏اِفِس 2:‏12‏)‏ ایک طرح سے یہ لوگ مشکلوں کے سمندر میں ڈوب رہے ہیں اور ہمارے پاس وہ لائف جیکٹ ہے یعنی بادشاہت کی خوش‌خبری ہے جس کی اُنہیں بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ہمارے دل میں لوگوں کے لیے جو محبت اور ہمدردی ہے، اُس کی وجہ سے ہم اُن تک بادشاہت کی خوش‌خبری پہنچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اِس بیش‌قیمت پیغام کی وجہ سے اُن کے دل اُمید سے بھر سکتے ہیں، وہ اب بھی ایک اچھی زندگی گزار سکتے ہیں اور نئی دُنیا میں ”‏حقیقی زندگی“‏ یعنی ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید رکھ سکتے ہیں۔ (‏1-‏تیم 6:‏19‏)‏ لوگوں سے محبت کرنے کی وجہ سے ہم اُنہیں اُس تباہی کے بارے میں بھی آگاہ کرتے ہیں جو اِس دُنیا پر بہت جلد آنے والی ہے۔ (‏حِز 33:‏7، 8)‏ ہم اُنہیں بتانا چاہتے ہیں کہ بڑی مصیبت کے دوران کیا کچھ ہوگا۔ سب سے پہلے تو جھوٹے مذہب کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اِس کے بعد ہرمجِدّون کی جنگ پر خدا شیطان کی باقی دُنیا کو ہلاک کر دے گا۔—‏مُکا 16:‏14،‏ 16؛‏ 17:‏16، 17؛‏ 19:‏11،‏ 19، 20‏۔ م24.‏05 ص.‏ 16-‏17 پ.‏ 8-‏9

اِتوار، 12 جولائی

عزیزو،‏ بدلہ نہ لیں بلکہ خدا کا غضب ظاہر ہونے دیں کیونکہ ‏”‏یہوواہ نے کہا ہے کہ ‏”‏بدلہ لینا میرا کام ہے۔‏ مَیں بدلہ دوں گا۔“‏“‏—‏روم 12:‏19‏۔‏

پولُس رسول نے مسیحیوں کو یہ نصیحت کی:‏ ”‏خدا کا غضب ظاہر ہونے دیں۔“‏ ہم اِس نصیحت پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟ ہم یہ فیصلہ یہوواہ کے ہاتھ میں چھوڑ سکتے ہیں کہ وہ اپنے وقت پر اور اپنے طریقے سے اِنصاف کرے۔ غور کریں کہ جب جان نام کے بھائی کے ساتھ نااِنصافی ہوئی تو اُنہوں نے کیسا محسوس کِیا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مجھے اپنے غصے کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت کوشش کرنی پڑی کیونکہ میرا دل کر رہا تھا کہ مَیں معاملے کو اپنے طریقے سے حل کروں۔ لیکن رومیوں 12:‏19 نے میری بہت مدد کی کہ مَیں صبر سے یہوواہ کے کارروائی کرنے کا اِنتظار کروں۔“‏ جب ہم صبر سے اِس بات پر بھروسا کرتے ہیں کہ یہوواہ معاملے کو حل کر دے گا تو ہمیں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ ہمارے سر سے یہ بوجھ اُتر جاتا ہے کہ ہم معاملے کو خود حل کرنے کی کوشش کریں۔ اِس کے علاوہ ہم مایوسی سے بھی بچ جاتے ہیں۔ یہوواہ خود بھی ہماری مدد کرنا چاہتا ہے۔ ایک طرح سے وہ ہم سے کہتا ہے:‏ ”‏آپ کے ساتھ جو نااِنصافی ہوئی ہے، اُسے مجھ پر چھوڑ دو۔ مَیں وعدہ کرتا ہوں کہ مَیں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا۔“‏ اگر ہم یہوواہ کے اِس وعدے پر بھروسا کریں گے کہ ”‏مَیں بدلہ دوں گا“‏ تو ہم بے‌فکر ہو جائیں گے کیونکہ ہمیں اِس بات کا پکا یقین ہوگا کہ وہ معاملے کو بہترین طریقے سے حل کرے گا۔ م24.‏11 ص.‏ 6 پ.‏ 14-‏15

سوموار، 13 جولائی

ہمیں ہر دن ضرورت کے مطابق روٹی دے۔—‏لُو 11:‏3‏۔‏

ہمیں اپنی ضرورتوں اور خواہشوں کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ یہی بات پولُس رسول نے اُس وقت واضح کی جب اُنہوں نے اپنے ہم‌ایمانوں کو ایک خط لکھا۔ اُنہوں نے بنی‌اِسرائیل کی اُس بُری مثال کا حوالہ دیا جب وہ لوگ کوہِ‌سینا کے قریب تھے۔ پولُس نے مسیحیوں کو خبردار کِیا کہ وہ ”‏بُری چیزوں کی خواہش نہ کریں جیسے[‏بنی‌اِسرائیل]‏نے کی۔“‏ (‏1-‏کُر 10:‏6، 7،‏ 11‏)‏ یہوواہ خدا معجزہ کر کے بنی‌اِسرائیل کو کھانا دے رہا تھا لیکن اِسرائیلی اِتنے خودغرض اور لالچی تھے کہ کھانے کی یہ چیزیں اُن کے لیے پھندا بن گئیں۔ (‏گن 11:‏4-‏6، 31-‏34)‏ اور اگر اُس واقعے کی بات کی جائے جب اِسرائیلیوں نے سونے کے بچھڑے کی پوجا کی تھی تو تب بھی اُنہوں نے ظاہر کِیا کہ اُن کا دھیان یہوواہ کی فرمانبرداری کرنے سے زیادہ کھانے پینے کی چیزوں اور موج مستی پر لگا ہوا تھا۔ (‏خر 32:‏4-‏6)‏ پولُس نے اپنے ہم‌ایمانوں کو خبردار کرنے کے لیے یہ مثالیں دیں کیونکہ وہ ایک بہت ہی اہم دَور میں رہ رہے تھے۔ بہت جلد 70ء میں یروشلم اور اِس میں موجود ہیکل نے تباہ ہو جانا تھا۔ آج ہم بھی ایک بہت ہی اہم دَور میں رہ رہے ہیں۔ بہت جلد اِس بُری دُنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اِس لیے ہمیں پولُس کی اِس آگاہی پر سنجیدگی سے دھیان دینا چاہیے۔ م24.‏12 ص.‏ 6 پ.‏ 13

منگل، 14 جولائی

اپنی جوانی کی بیوی کے ساتھ خوش رہو۔—‏اَمثا 5:‏18‏۔‏

یہوواہ ”‏خوش‌دل خدا“‏ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی خوش رہیں۔ (‏1-‏تیم 1:‏11‏)‏ اُس نے ہمیں خوش رہنے کے لیے بہت سی نعمتیں دی ہیں۔ (‏یعقو 1:‏17‏)‏ اِن میں سے ایک نعمت شادی کا بندھن ہے۔ جب ایک لڑکا اور لڑکی شادی کرتے ہیں تو وہ یہ عہدوپیمان کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کریں گے، ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے اور ایک دوسرے کے لیے عزت دِکھائیں گے۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے اپنی محبت کو بڑھاتے ہیں تو اُن کی زندگی خوشیوں سے بھر جاتی ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ بہت سے شادی‌شُدہ لوگ اُس وعدے کو بھول جاتے ہیں جو اُنہوں نے اپنے جیون ساتھی سے شادی کے دن کِیا تھا۔ اِس وجہ سے اُن کی شادی‌شُدہ زندگی سے خوشیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ ایک شوہر کو جس طرح سے اپنی بیوی کے ساتھ پیش آنا چاہیے، اُس حوالے سے یہوواہ اُس سے کیا توقع کرتا ہے؟ یہوواہ نے شوہروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی عزت کریں۔ جو شوہر اپنی بیوی کی عزت کرتا ہے، وہ اُس کے ساتھ پیار اور نرمی سے پیش آتا ہے۔—‏1-‏پطر 3:‏7‏۔ م25.‏01 ص.‏ 8 پ.‏ 1-‏2؛‏ ص.‏ 9 پ.‏ 4-‏5

بدھ، 15 جولائی

یہوواہ میرا مددگار ہے۔‏ مَیں نہیں ڈروں گا۔—‏عبر 13:‏6‏۔‏

بے‌شک پولُس رسول نے عبرانی مسیحیوں کے نام جو خط لکھا، اُس کی مدد سے وہ مسیحی خود کو اُس مصیبت کے لیے تیار کر پائے ہوں گے جس کا وہ بہت جلد سامنا کرنے والے تھے۔ پولُس نے اپنے ہم‌ایمانوں کی حوصلہ‌افزائی کی کہ وہ صحیفوں کا گہرا علم حاصل کریں اور اِنہیں اچھی طرح سے سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایسا کرنے سے وہ اُن تعلیمات کو پہچان پائیں گے جو اُن کے ایمان کو کمزور کر سکتی ہیں۔ اُنہوں نے اپنے ہم‌ایمانوں کی یہ حوصلہ‌افزائی بھی کی کہ وہ اپنے ایمان کو اَور مضبوط کریں تاکہ وہ یسوع مسیح اور کلیسیا میں پیشوائی کرنے والے بھائیوں کی ہدایتوں پر فوراً عمل کر سکیں۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے مسیحیوں کو سمجھایا کہ وہ مشکلوں کے بارے میں صحیح سوچ اپنانے سے ثابت‌قدم رہیں اور اِن مشکلوں کو اپنے شفیق باپ یہوواہ کی طرف سے تربیت پانے کا موقع خیال کریں۔ دُعا ہے کہ ہم بھی خدا کی پاک روح کی رہنمائی میں لکھی گئی اِن ہدایتوں پر عمل کریں۔ پھر ہم آخر تک ثابت‌قدم رہ پائیں گے۔—‏عبر 3:‏14‏۔ م24.‏09 ص.‏ 13 پ.‏ 17،‏ 19

جمعرات، 16 جولائی

ہم پاک کیے گئے ہیں کیونکہ یسوع مسیح کا جسم ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے قربان کِیا گیا۔—‏عبر 10:‏10‏۔‏

بائبل کے مطابق فدیہ وہ قیمت ہے جو ہمارے گُناہوں کے کفارے کے لیے اور یہوواہ کے ساتھ ہماری صلح کرانے کے لیے ادا کی گئی۔ فدیے کے ذریعے وہ سب کچھ حاصل کِیا جا سکتا تھا جو آدم نے کھو دیا تھا۔ وہ کیسے؟ یاد کریں کہ آدم اور حوّا بے‌عیب اِنسان تھے اور اُنہوں نے ہمیشہ تک زندہ رہنے کا موقع کھو دیا تھا۔ اِس لیے اِن چیزوں کو واپس پانے کے لیے فدیے کی یعنی برابر کی قیمت کی ضرورت تھی۔ (‏1-‏تیم 2:‏6‏)‏ یہ فدیہ صرف وہی آدمی ادا کر سکتا تھا جو (‏1)‏بے‌عیب ہوتا، (‏2)‏زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہ سکتا اور (‏3)‏خوشی سے ہمارے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہوتا۔ آئیے تین ایسی وجوہات پر غور کریں جن کی بِنا پر یسوع مسیح ہمارے لیے یہ فدیہ ادا کر سکتے تھے۔ (‏1)‏وہ بے‌عیب تھے۔ اُنہوں نے ”‏کوئی گُناہ نہیں کِیا“‏ تھا۔ (‏1-‏پطر 2:‏22‏)‏ (‏2)‏بے‌عیب ہونے کی وجہ سے وہ زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہ سکتے تھے اور (‏3)‏وہ ہمارے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار تھے۔—‏عبر 10:‏9‏۔ م25.‏02 ص.‏ 4 پ.‏ 11-‏12

جمعہ، 17 جولائی

خدا پاک روح ناپ تول کر نہیں دیتا۔—‏یوح 3:‏34‏۔‏

یقین مانیں کہ یہوواہ آپ سے بہت پیار کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ آپ اُس کے خاندان کا حصہ بنیں۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جو کبھی نہیں بدل سکتی پھر چاہے کوئی بھی چیز آپ کے لیے بپتسمہ لینے کی راہ میں رُکاوٹ بن رہی ہو۔ یسوع مسیح نے پہلی صدی عیسوی میں رہنے والے اپنے شاگردوں کے ایک گروہ سے کہا:‏ ”‏اگر آپ میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہے تو آپ اِس پہاڑ سے کہیں گے کہ ”‏یہاں سے وہاں چلا جا“‏ اور یہ چلا جائے گا اور آپ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہوگا۔“‏ (‏متی 17:‏20‏)‏ یسوع کے جو شاگرد اُن کی یہ بات سُن رہے تھے، اُنہیں یسوع کے ساتھ رہتے ہوئے بس کچھ ہی سال ہوئے تھے۔ تو اُنہیں ابھی بھی اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی۔ لیکن یسوع مسیح نے اُنہیں یقین دِلایا کہ اگر وہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں گے تو یہوواہ پہاڑ جیسی مشکلوں کا سامنا کرنے میں اُن کی مدد کرے گا۔ اور یہوواہ آپ کی بھی مدد کرے گا!‏ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کوئی چیز آپ کو بپتسمہ لینے سے روک رہی ہے تو بِنا دیر کیے اُس رُکاوٹ کو دُور کرنے کے لیے قدم اُٹھائیں۔ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کریں اور بپتسمہ لیں۔ یہ آپ کی زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ ہوگا!‏ م25.‏03 ص.‏ 7 پ.‏ 18-‏20

ہفتہ، 18 جولائی

یہوواہ میری طرف ہے؛‏ مَیں نہیں ڈروں گا۔—‏زبور 118:‏6‏۔‏

اگر ہم یہ بات یاد رکھیں گے کہ زندہ خدا یہوواہ مشکل وقت میں ہماری مدد کرنے کے لیے تیار ہے تو ہم مشکلوں کا کامیابی سے مقابلہ کر پائیں گے۔ اِس بات پر اپنے بھروسے کو بڑھانے کے لیے پُرانے زمانے میں ہونے والے اُن واقعات کے بارے میں سوچیں جب یہوواہ نے اپنے بندوں کی مدد کی۔ (‏یسع 37:‏17،‏ 33-‏37‏)‏ اِس کے علاوہ ہماری ویب‌سائٹ jw.org سے ایسی رپورٹس اور خبریں بھی پڑھیں جن میں دِکھایا جاتا ہے کہ یہوواہ آج ہمارے بہن بھائیوں کی کس طرح سے مدد کر رہا ہے۔ اُن لمحوں کو بھی یاد کریں جن میں یہوواہ نے آپ کی مدد کی تھی۔ شاید آپ کو لگے کہ یہوواہ نے آپ کے لیے اُتنے حیرت‌انگیز طریقے سے کچھ نہیں کِیا جتنا اُس نے اپنے کسی دوسرے بندے کے لیے کِیا تھا۔ اگر آپ کو ایسا لگے تو پریشان نہ ہوں۔ دراصل یہوواہ نے آپ کے لیے بہت کچھ کِیا ہے۔ ذرا سوچیں کہ یہوواہ آپ کو اپنے قریب لایا ہے تاکہ آپ اُس سے دوستی کر سکیں۔ (‏یوح 6:‏44‏)‏ کیوں نہ یہوواہ سے مدد مانگیں کہ وہ آپ کو یاد دِلائے کہ اُس نے آپ کو آپ کی دُعا کا جواب کیسے دیا تھا؛ اُس وقت آپ کی مدد کیسے کی تھی جب آپ کو اِس کی واقعی ضرورت تھی یا مشکل وقت میں آپ کو کیسے سہارا دیا تھا؟ اِن باتوں پر غور کرنے سے آپ کا یہ یقین اَور بھی زیادہ بڑھ جائے گا کہ یہوواہ آگے بھی آپ کی مدد کرتا رہے گا۔ م24.‏06 ص.‏ 21 پ.‏ 8

اِتوار، 19 جولائی

موت سب لوگوں میں پھیل گئی کیونکہ سب نے گُناہ کِیا۔—‏روم 5:‏12‏۔‏

سچ ہے کہ ہم نے یہ عزم کِیا ہوا ہے کہ ہم کسی بھی چیز کو اِس بات کی اِجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمیں یہوواہ سے دُور کرے۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم عیب‌دار ہیں اور بڑی آسانی سے غلط کام کرنے کی آزمائش میں پڑ سکتے ہیں۔ (‏روم 7:‏21-‏23‏)‏ ہمیں اچانک کسی ایسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے جس میں شاید ہمارا دل ہمیں کوئی ایسا کام کرنے کو کہے جو یہوواہ کی نظر میں غلط ہے۔ تو یہوواہ اور اُس کے بیٹے یسوع کا وفادار رہنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم یسوع کی آگاہی پر عمل کرتے ہوئے آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے چوکس رہیں۔ ہم سبھی کو غلط کام کرنے کی آزمائش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فرق بس یہ ہے کہ ہماری خامیاں اور کمزوریاں ایک دوسرے سے فرق ہوتی ہیں۔ اِس لیے کچھ چیزیں خاص طور پر ہمارے لیے غلط کام کرنے کی آزمائش بن جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر شاید ایک شخص حرام‌کاری جیسے بڑے گُناہ کی آزمائش سے لڑ رہا ہو۔ اور شاید کوئی اَور شخص ناپاک کاموں سے دُور رہنے کی سخت کوشش کر رہا ہو جیسے کہ اپنے جنسی اعضا کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے اور گندی ویڈیوز اور تصویریں دیکھنے سے۔ اور شاید کوئی اَور شخص اِنسان کے ڈر، غرور، جلدی سے غصے میں آنے یا اپنی کسی اَور خامی سے لڑ رہا ہو۔ م24.‏07 ص.‏ 14 پ.‏ 3؛‏ ص.‏ 15 پ.‏ 5

سوموار، 20 جولائی

اُسے دل سے معاف کر دیں اور اُسے تسلی دیں،‏ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے غم کے بوجھ تلے دب جائے۔—‏2-‏کُر 2:‏7‏۔‏

ذرا سوچیں کہ اگر کلیسیا کے بزرگ دل سے توبہ کرنے والے شخص کو پھر سے کلیسیا کا حصہ بننے کی اِجازت نہ دیں یا کلیسیا اُس شخص کے لوٹ آنے کے بعد اُس کے لیے محبت نہ دِکھائے تو کیا ہو سکتا ہے۔ اِس طرح تو وہ شخص ”‏اپنے غم کے بوجھ تلے دب“‏ سکتا ہے۔ وہ بڑی آسانی سے اِس سوچ کا شکار ہو سکتا ہے کہ اب وہ کبھی بھی یہوواہ کی خدمت کرنے کے لائق نہیں بن سکتا۔ وہ تو شاید پھر سے یہوواہ کے ساتھ دوستی کرنے کی اُمید ہی کھو بیٹھے۔ اور نقصان صرف اُس شخص کا ہی نہیں بلکہ کلیسیا کے بہن بھائیوں کا بھی ہوگا۔ اُس شخص کو معاف نہ کرنے سے یہوواہ کے ساتھ اُن کی اپنی دوستی بھی داؤ پر لگ سکتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یوں وہ یہوواہ کی طرح رحم‌دلی نہیں بلکہ شیطان کی طرح بے‌حسی اور بے‌رحمی دِکھا رہے ہوں گے۔ ایک لحاظ سے وہ شیطان کو یہ موقع دے رہے ہوں گے کہ وہ اُن کے ذریعے اُس بھائی کو بالکل بے‌حوصلہ اور یہوواہ سے دُور کر دے۔—‏2-‏کُر 2:‏10، 11؛‏ اِفِس 4:‏27‏۔ م24.‏08 ص.‏ 16 پ.‏ 7؛‏ ص.‏ 17 پ.‏ 10-‏11

منگل، 21 جولائی

جب وہ اُوپر گیا تو اُس نے ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ آدمیوں کے رُوپ میں نعمتیں دیں۔—‏اِفِس 4:‏8‏۔‏

یسوع مسیح نے ”‏آدمیوں کے رُوپ میں کچھ ایسی نعمتیں“‏ بھی دی ہیں جو ایک فرق طریقے سے کلیسیاؤں کی مدد کرتی تھیں۔ یسوع کی رہنمائی میں یروشلم کے بزرگوں نے پولُس، برنباس اور کچھ اَور بھائیوں کو حلقے کے نگہبانوں کے طور پر بھیجا۔ (‏اعما 11:‏22‏)‏ لیکن کیوں؟ اُسی وجہ سے جس وجہ سے خادموں اور بزرگوں کو مقرر کِیا گیا تھا یعنی کلیسیاؤں کو مضبوط کرنے کے لیے۔ (‏اعما 15:‏40، 41‏)‏ حلقے کے نگہبانوں کو مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ہوتا ہے۔ کچھ حلقے کے نگہبان تو ایک کلیسیا سے دوسری کلیسیا تک جانے کے لیے کئی سو کلومیٹر کا سفر کرتے ہیں۔ ہر ہفتے حلقے کا نگہبان بہت سی تقریریں کرتا ہے؛ بہن بھائیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اُن سے ملنے جاتا ہے؛ پہل‌کاروں اور بزرگوں کے ساتھ اِجلاس کرتا ہے اور مُنادی کے اِجلاس میں پیشوائی کرتا ہے۔ وہ تقریریں تیار کرتا ہے اور حلقے کے اِجتماعوں اور علاقائی اِجتماعوں کو منظم کرتا ہے۔ وہ پہل‌کاروں کے لیے سکول میں تربیت دیتا ہے اور پورے حلقے سے پہل‌کاروں کے ساتھ ایک خاص اِجلاس کرتا ہے۔ کبھی کبھار برانچ حلقے کے نگہبان کو کچھ ایسے معاملے حل کرنے کو کہتی ہے جو بہت اہم ہوتے ہیں یا جنہیں فوراً حل کرنا ہوتا ہے۔ م24.‏10 ص.‏ 21 پ.‏ 12-‏13

بدھ، 22 جولائی

مَیں اُن کی بدکرداری کو بخش دوں گا اور اُن کے گُناہ کو یاد نہ کروں گا۔—‏یرم 31:‏34‏۔‏

یہوواہ نے اپنے نبی یرمیاہ کے ذریعے آج کی آیت میں لکھی بات کہی۔ پولُس رسول نے بھی اِنہی الفاظ کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہوواہ کی یہ بات لکھی:‏ ”‏مَیں اُن کے .‏ .‏ .‏ گُناہوں کو بالکل یاد نہیں کروں گا۔“‏ (‏عبر 8:‏12‏)‏ لیکن یہوواہ کی اِس بات کا کیا مطلب ہے؟ بائبل میں لفظ ”‏یاد“‏ کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ ایک شخص ماضی میں ہوئی کسی بات کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ اِس کی بجائے اِس کا اِشارہ کوئی قدم اُٹھانے کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر یسوع مسیح کے ساتھ والی سُولی پر جو مُجرم تھا، اُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏یسوع، جب آپ بادشاہ بن جائیں گے تو مجھے یاد فرمائیں۔“‏ (‏لُو 23:‏42، 43‏)‏ وہ مُجرم یسوع سے یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ جب یسوع بادشاہ بن جائیں تو وہ اُس کے بارے میں سوچیں۔ یسوع نے اُس مُجرم کو جواب دیتے ہوئے جو کچھ کہا، اُس سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع مستقبل میں اُس کے لیے کچھ کریں گے یعنی اُسے زمین پر زندہ کریں گے۔ تو جب یہوواہ ہم سے کہتا ہے کہ وہ ہمارے گُناہوں کو بالکل یاد نہیں کرے گا تو اِس کا مطلب ہے کہ وہ ہمارے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔ وہ ہمیں مستقبل میں ہمارے اُن گُناہوں کی سزا نہیں دے گا جنہیں وہ پہلے سے ہی معاف کر چُکا ہے۔ م25.‏02 ص.‏ 10-‏11 پ.‏ 14-‏15

جمعرات، 23 جولائی

مُقدس‌ترین خدا کا علم سمجھ‌داری ہے۔—‏اَمثا 9:‏10‏۔‏

جب ہم یہوواہ کی خوبیوں اور اُس کے مقصد کو اچھی طرح سے جان جاتے ہیں اور یہ بھی کہ اُسے کن کاموں سے محبت ہے اور کن سے نفرت تو ہمیں سمجھ حاصل ہوتی ہے۔اِس لیے خود سے پوچھیں:‏ ”‏جو کچھ مَیں یہوواہ کے بارے میں جانتا ہوں، اُسے ذہن میں رکھتے ہوئے مَیں کون سا فیصلہ لے سکتا ہوں جس سے وہ خوش ہو؟“‏ (‏اِفِس 5:‏17‏)‏ یہوواہ کو خوش کرنے کے لیے کبھی کبھار ہمیں اپنے قریبی دوستوں یا رشتے‌داروں کو مایوس کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر ہو سکتا ہے کہ ایک ماں باپ اپنی بیٹی کا بھلا چاہتے ہوئے اُس کی شادی کسی ایسے شخص سے کرانا چاہیں جو بہت اچھا کماتا ہے لیکن اُس شخص کی یہوواہ کے ساتھ اِتنی پکی دوستی نہیں ہے۔ یا شاید لڑکے کے گھر والے اُس کی شادی کسی ایسے گھرانے میں کرانا چاہیں جہاں سے اُنہیں بہت سا جہیز ملنے کی توقع ہو حالانکہ لڑکی کی یہوواہ سے اِتنی اچھی دوستی نہیں ہے۔ ایسی صورت میں ایک لڑکے اور لڑکی کو خود سے پوچھنا چاہیے:‏ ”‏کیا یہ شخص یہوواہ کے اَور قریب جانے میں میری مدد کرے گا؟“‏ یہوواہ اِس حوالے سے کیا سوچتا ہے؟ اِس سوال کا جواب ہمیں متی 6:‏33 میں ملتا ہے جہاں مسیحیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ’‏خدا کی بادشاہت کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دیں۔‘‏ یہ سچ ہے کہ ہم اپنے ماں باپ کی اور برادری کے لوگوں کی عزت کرتے ہیں لیکن ہماری نظر میں یہوواہ کو خوش کرنا سب سے اہم ہے۔ م25.‏01 ص.‏ 17 پ.‏ 9-‏10

جمعہ، 24 جولائی

ہمارے مالک نے میری مدد کی اور مجھے طاقت بخشی۔—‏2-‏تیم 4:‏17‏۔‏

آج بہت سے لوگ مُنادی کی وجہ سے ہماری مخالفت کرتے ہیں۔ اِس لیے لوگوں کو جوش سے خوش‌خبری سنانے کے لیے ہمیں یہوواہ کی مدد کی ضرورت ہے۔ (‏مُکا 12:‏17‏)‏ آپ اِس بات کا پکا یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ آپ کی مدد ضرور کرے گا؟ ذرا یسوع مسیح کی اُس دُعا پر غور کریں جو اُنہوں نے یوحنا 17 باب میں کی۔ یسوع نے یہوواہ سے درخواست کی کہ وہ اُن کے رسولوں کی حفاظت کرے اور یہوواہ نے اُن کی دُعا سنی۔ اعمال کی کتاب میں ہمیں اِس بات کے کئی ثبوت ملتے ہیں کہ یہوواہ نے کیسے رسولوں کی مدد کی تاکہ وہ اذیت کے باوجود جوش سے مُنادی کرتے رہیں۔ یسوع نے دُعا میں یہوواہ سے یہ بھی کہا کہ وہ اُن لوگوں کی بھی حفاظت کرے جو رسولوں کے پیغام کو سُن کر ایمان لے آئیں گے اور جو مستقبل میں اُن کے شاگرد بنیں گے۔ اِن میں آپ بھی شامل ہیں۔ یہوواہ ابھی بھی یسوع کی دُعا کا جواب دے رہا ہے۔ وہ آپ کی بھی بالکل ویسے ہی مدد کرے گا جیسے اُس نے رسولوں کی مدد کی تھی۔ (‏یوح 17:‏11،‏ 15،‏ 20‏)‏ جیسے جیسے اِس دُنیا کا خاتمہ نزدیک آ رہا ہے، ہمارے لیے خوش‌خبری سنانا اَور مشکل ہو سکتا ہے۔ لیکن یسوع مسیح نے ہمیں یقین دِلایا ہے کہ ہمیں ہمیشہ وہ مدد ملتی رہے گی جس کے ذریعے ہم جوش سے مُنادی کرتے رہیں گے۔—‏لُو 21:‏12-‏15‏۔ م25.‏03 ص.‏ 18 پ.‏ 13-‏14

ہفتہ، 25 جولائی

میرے بندے دل کی خوشی سے گائیں گے۔—‏یسع 65:‏14‏۔‏

یہوواہ کے بندے ’‏دل کی خوشی سے گاتے‘‏ ہیں کیونکہ اُن کے دل شکرگزاری سے بھرے ہیں۔ ہم اِس لیے دل سے خوش رہتے ہیں کیونکہ پاک کلام میں لکھی سچائیوں سے ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے، اِس میں لکھے وعدوں سے ہمیں تسلی ملتی ہے اور یسوع مسیح کی قربانی کی وجہ سے ہمیں ٹھوس اُمید ملتی ہے۔ اِن باتوں کے بارے میں بات کرنے سے ہمیں واقعی خوشی ملتی ہے۔ (‏زبور 34:‏8؛‏ 133:‏1-‏3‏)‏ روحانی فردوس میں جو دو خاص باتیں پائی جاتی ہیں، وہ یہوواہ کے بندوں کے درمیان پائی جانے والی محبت اور اُن کا اِتحاد ہے۔ آج جب ہم یہوواہ کے بندوں کے بیچ محبت اور اِتحاد کو دیکھتے ہیں تو ہم تصور کر پاتے ہیں کہ نئی دُنیا میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ اِس سے بھی زیادہ محبت اور اِتحاد سے رہیں گے۔ (‏کُل 3:‏14‏)‏ روحانی فردوس میں آنے سے ہی ایک شخص کو سچی خوشی اور اِطمینان مل سکتا ہے۔ چاہے دُنیا یہوواہ کے بندوں کے بارے میں کچھ بھی سوچے، یہوواہ نے اپنے بندوں کو ایک نیک نام دیا ہے اور اُنہیں اپنے خاندان کا حصہ بنایا ہے۔—‏یسع 65:‏15‏۔ م24.‏04 ص.‏ 21 پ.‏ 7-‏8

اِتوار، 26 جولائی

ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے رہیں۔—‏1-‏تھس 5:‏11‏۔‏

اگر ایک بہن یا بھائی شادی کرنا چاہتا ہے تو ہم سب اُس کا ساتھ کیسے دے سکتے ہیں؟ ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اِس بات کا خیال رکھیں کہ ہم اُس سے کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے اُس کا دل دُکھے۔ (‏اِفِس 4:‏29‏)‏ خود سے پوچھیں:‏ ”‏اگر کوئی بہن یا بھائی شادی کرنا چاہتا ہے تو کہیں مَیں اُس کے ساتھ دل دُکھانے والے مذاق تو نہیں کرتا؟ جب مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک غیرشادی‌شُدہ بھائی اور بہن آپس میں بات کر رہے ہیں تو کیا مَیں یہ سوچ لیتا ہوں کہ اِن کے بیچ کچھ چل رہا ہے؟“‏ (‏1-‏تیم 5:‏13‏)‏ ہمیں اِس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ ہم کبھی بھی کسی غیرشادی‌شُدہ بہن یا بھائی کو یہ احساس نہ دِلائیں کہ شادی کے بغیر وہ بالکل ادھورے ہیں۔ ایسی باتیں کرنے کی بجائے کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم غیرشادی‌شُدہ بہن بھائیوں کا حوصلہ بڑھانے کے موقعے ڈھونڈیں؟ اگر ہمیں ایک بہن اور بھائی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اِن کی جوڑی بڑی اچھی رہے گی تو ہمیں کیا یاد رکھنا چاہیے؟ بائبل میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم دوسروں کی خوشی کا سوچیں۔ (‏روم 15:‏2‏)‏ بہت سے غیرشادی‌شُدہ بہن بھائی یہ نہیں چاہتے کہ کوئی اَور اُنہیں بتائے کہ وہ کسی بہن یا بھائی کے بارے میں سوچیں۔ اِس لیے ہمیں اُن کے احساسات کا احترام کرنا چاہیے۔ (‏2-‏تھس 3:‏11‏)‏ لیکن شاید کچھ غیر شادی‌شُدہ بہن بھائی یہ چاہیں کہ جیون ساتھی تلاش کرنے میں دوسرے اُن کی مدد کریں۔ لیکن جب تک وہ ایسا نہیں کہتے، ہمیں اُن کے معاملے میں دخل نہیں دینا چاہیے۔—‏اَمثا 3:‏27‏۔ م24.‏05 ص.‏ 24-‏25 پ.‏ 14-‏15

سوموار، 27 جولائی

اُن کی چٹان ایسی نہیں جیسی ہماری چٹان ہے۔—‏اِست 32:‏31۔‏

ہم ایک ایسی دُنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ہمیں اچانک سے ایسی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو ہماری زندگی کو بہت مشکل بنا سکتی ہیں یا پھر اِسے بالکل بدل کر رکھ سکتی ہیں۔ لیکن یہوواہ کا شکر ہے کہ ہم اِن پریشانیوں سے نمٹنے کے لیے اُس سے مدد مانگ سکتے ہیں!‏ جب ہم مشکل وقت میں یہوواہ کی مدد کو محسوس کرتے ہیں تو ہمیں پکا یقین ہو جاتا ہے کہ وہ ”‏زندہ خدا ہے!‏“‏ (‏زبور 18:‏46‏)‏ داؤد نے یہوواہ کو زندہ خدا کہنے کے بعد اُس کے بارے میں کہا کہ وہ ”‏میری چٹان“‏ ہے۔ لیکن اُنہوں نے یہوواہ کو چٹان کیوں کہا جو کہ ایک بے‌جان چیز ہے؟ بائبل میں لفظ ”‏چٹان“‏ کو ایک مثال کے طور پر اِستعمال کِیا گیا ہے تاکہ اِس سے ہم یہوواہ کی خوبیوں کو اچھی طرح سے سمجھ سکیں۔ بائبل میں کئی بار جب یہوواہ کے بندوں نے اُس کی شان‌دار خوبیوں کے لیے اُس کی تعریف کی تو اُنہوں نے اُسے چٹان کہا۔ بائبل میں اِستثنا 32:‏4 وہ پہلی آیت ہے جہاں یہوواہ کو ایک ”‏چٹان“‏ کہا گیا ہے۔ اِس کے علاوہ حنّہ نے یہوواہ سے دُعا کرتے وقت اُس کے بارے میں کہا:‏ ”‏ہمارے خدا جیسی چٹان کوئی اَور نہیں۔“‏ (‏1-‏سمو 2:‏2‏)‏ حبقوق نبی نے بھی یہوواہ کو اپنی ”‏چٹان“‏ کہا۔ (‏حبق 1:‏12)‏ زبور 73 کو لکھنے والے شخص نے بھی یہوواہ کے بارے میں کہا:‏ ”‏خدا میری چٹان ہے جو میرے دل کو مضبوط کرتا ہے۔“‏ (‏زبور 73:‏26‏)‏ اور یہوواہ نے بھی خود کو ایک چٹان کے طور پر بیان کِیا۔—‏یسع 44:‏8‏۔ م24.‏06 ص.‏ 26 پ.‏ 1،‏ 3

منگل، 28 جولائی

یہوسفط ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ نے پورے دل سے یہوواہ کی تلاش کی تھی۔—‏2-‏توا 22:‏9‏۔‏

یہوواہ اِسرائیل کے جن بادشاہوں سے خوش تھا، وہ ایسے بادشاہ تھے جو پورے دل سے اُس سے محبت کرتے تھے۔ بادشاہ یوسیاہ کے بارے میں بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ’‏نہ تو یوسیاہ سے پہلے اور نہ ہی اُن کے بعد اُن جیسا کوئی بادشاہ تھا جو اپنے سارے دل سے یہوواہ کی طرف لوٹ آیا ہو۔‘‏ (‏2-‏سلا 23:‏25‏)‏ اور بادشاہ سلیمان کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے جنہوں نے بعد میں بُرے کام کیے؟ بائبل کے مطابق ”‏اُن کا دل پوری طرح سے اپنے خدا یہوواہ کی طرف نہ رہا۔“‏ (‏1-‏سلا 11:‏4‏)‏ اور بادشاہ ابی‌یام جو کہ ایک بُرا بادشاہ تھا، اُس کے بارے میں بھی بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”‏اُس کا دل پوری طرح سے اپنے خدا یہوواہ کی طرف نہیں تھا۔“‏ (‏1-‏سلا 15:‏3‏)‏ بائبل میں لفظ ”‏دل“‏ اکثر یہ بتانے کے لیے اِستعمال کِیا جاتا ہے کہ ایک شخص اندر سے کیسا اِنسان ہے۔اِس میں ایک شخص کی خواہشیں، اُس کی سوچ، اُس کا رویہ، اُس کی نیت اور اُس کے منصوبے شامل ہیں۔ جب پورے دل سے یہوواہ کی عبادت کرنے کی بات آتی ہے تو اِس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ جو شخص پورے دل سے یہوواہ کی عبادت کرتا ہے، وہ ایسا صرف اِس لیے نہیں کرتا کیونکہ یہ اُس پر فرض ہے۔ اِس کی بجائے وہ اِس لیے یہوواہ کی عبادت کرتا ہے کیونکہ وہ اُس سے دل سے محبت کرتا ہے اور اُس کا گہرا احترام کرتا ہے اور وہ پوری زندگی اپنے دل میں یہوواہ کے لیے اِس محبت اور احترام کو قائم رکھتا ہے۔ م24.‏07 ص.‏ 21 پ.‏ 4-‏5

بدھ، 29 جولائی

میری ساری غلطیاں مٹا دے۔—‏زبور 51:‏9‏۔‏

یہوواہ نے اپنے کلام میں ایک مثال دی ہے جس سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے گُناہوں کو کیسے مٹا دیتا ہے۔ اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں تیرے گُناہوں کو ایسے مٹا دوں گا جیسے اُنہیں ایک بادل سے ڈھکا گیا ہو، ہاں، ایسے جیسے تیرے گُناہوں کو گھنے بادل سے ڈھکا گیا ہو۔“‏ (‏یسع 44:‏22‏)‏ جب یہوواہ ہمارے گُناہوں کو معاف کر دیتا ہے تو ایک طرح سے وہ اِنہیں گھنے بادل میں چھپا دیتا ہے تاکہ یہ ہماری اور اُس کی نظروں سے بالکل اوجھل ہو جائیں۔ ہم اِس مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ جب یہوواہ ہمارے گُناہوں کو معاف کر دیتا ہے تو ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہمارے اِن گُناہوں کا داغ ہم پر ساری زندگی لگا رہے گا۔ یسوع مسیح نے ہمارے گُناہوں کا قرض چُکانے کے لیے اپنا خون بہایا ہے جس کی بِنا پر ہمارے گُناہ مکمل طور پر معاف ہو جاتے ہیں۔ اور جب یہوواہ ہمارے کسی گُناہ کو معاف کر دیتا ہے تو اُس کی نظر میں یہ ایسے ہوتا ہے جیسے ہم نے وہ گُناہ کبھی کِیا ہی نہیں تھا۔ بے‌شک یہوواہ ہمیں صحیح معنوں میں معاف کرتا ہے۔ لیکن وہ تبھی ہمیں معاف کرتا ہے جب ہم دل سے توبہ کرتے ہیں۔ جب یہوواہ ہمیں معاف کر دیتا ہے تو وہ ہمیں پھر سے اپنے دوستوں کے طور پر قبول کرتا ہے۔ پھر ہمیں آئندہ اپنے گُناہ پر پچھتاتے رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ م25.‏02 ص.‏ 10 پ.‏ 11-‏14

جمعرات، 30 جولائی

خدا اِتنا مہربان ہے کہ وہ آپ کو توبہ کرنے پر مائل کر رہا ہے۔—‏روم 2:‏4‏۔‏

یہوواہ خدا بزرگوں کی کمیٹیوں میں شامل بزرگوں سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ کلیسیا کو پاک صاف رکھیں۔ (‏1-‏کُر 5:‏7‏)‏ لیکن یہ بزرگ گُناہ کرنے والے شخص کی مدد کرنے کی پوری کوشش کریں گے کہ وہ توبہ کرے۔ اور جب وہ ایسا کر رہے ہوں گے تو وہ اِس بات کی اُمید نہیں چھوڑیں گے کہ وہ شخص بدل جائے گا۔ بزرگ اُس شخص کے بارے میں اچھا کیوں سوچیں گے؟ کیونکہ وہ یہوواہ کی مثال پر عمل کرنا چاہتے ہیں جو ”‏بہت ہی شفیق اور رحیم ہے۔“‏ (‏یعقو 5:‏11‏)‏ غور کریں کہ یہ بات یوحنا رسول کی مثال سے کیسے نظر آئی۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏میرے پیارے بچو، مَیں آپ کو یہ باتیں اِس لیے لکھ رہا ہوں تاکہ آپ گُناہ نہ کریں۔ لیکن اگر کوئی شخص گُناہ کرے بھی تو آسمانی باپ کے پاس ہمارا ایک مددگار ہے یعنی یسوع مسیح جو نیک ہے۔“‏ (‏1-‏یوح 2:‏1‏)‏ افسوس کی بات ہے کہ کبھی کبھار کچھ مسیحی توبہ کرنے سے اِنکار کر دیتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اُنہیں کلیسیا سے نکال دیا جانا چاہیے۔ م24.‏08 ص.‏ 25 پ.‏ 19-‏20

جمعہ، 31 جولائی

ایمان کی راہ پر قائم رہیں۔—‏1-‏کُر 16:‏13‏۔‏

شاید آپ اپنے کاموں کا موازنہ اُن کاموں سے کرنے لگیں جو دوسرے کرتے ہیں۔ لیکن ایسا کبھی نہ کریں۔کیوں؟ کیونکہ یہوواہ بھی ہمارا موازنہ دوسروں سے کبھی نہیں کرتا۔ (‏گل 6:‏4‏)‏ مثال کے طور پر مریم نے ایک بہت ہی قیمتی تیل یسوع کے سر پر ڈالا۔ (‏یوح 12:‏3-‏5‏)‏ لیکن ایک غریب بیوہ نے ہیکل کے عطیات کے ڈبے میں دو چھوٹے سکے ڈالے جن کی قیمت بہت ہی کم تھی۔ (‏لُو 21:‏1-‏4‏)‏ یسوع نے اِن دونوں عورتوں کا موازنہ نہیں کِیا بلکہ اُنہوں نے یہ دیکھا کہ اُن کا ایمان کتنا مضبوط تھا۔ یسوع کا باپ یہوواہ بھی ہمارے ہر اُس کام کی قدر کرتا ہے جو ہم اُس پر ایمان اور اُس سے محبت کی وجہ سے کرتے ہیں پھر چاہے ہماری نظر میں وہ کام کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ ہم سب کے دل میں کبھی نہ کبھی شک آ جاتا ہے۔ لیکن خدا کا کلام اِس شک کو دُور کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ اِس لیے اپنے شک کو دُور کرنے کے لیے محنت کریں اور یوں بے‌حوصلہ ہونے سے بچ جائیں۔ یہوواہ آپ کو جانتا ہے اور اُسے آپ کی فکر ہے۔ وہ آپ کی قربانیوں کی بہت قدر کرتا ہے اور وہ آپ کو اِن کے لیے اجر ضرور دے گا۔ یہوواہ کی نظر میں اُس کا ہر بندہ اُس کی توجہ اور محبت کا حق‌دار ہے۔ م24.‏10 ص.‏ 25 پ.‏ 3؛‏ ص.‏ 29 پ.‏ 17-‏18

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں