مئی
جمعہ، 1 مئی
خدا تعصب نہیں کرتا۔—روم 2:11۔
جب یہوواہ نے بنیاِسرائیل کو مصر کی غلامی سے آزاد کروایا تو اُس نے کچھ کاہنوں کو خیمۂاِجتماع میں خدمت کرنے کے لیے مقرر کِیا۔ اُس نے اپنے اِس پاک خیمے میں لاویوں کو بھی کچھ اَور کاموں کی دیکھبھال کرنے کے لیے مقرر کِیا۔ کیا یہوواہ نے صرف اُنہی لوگوں کا اچھی طرح سے خیال رکھا جو خیمۂاِجتماع میں خدمت کرتے تھے یا جن کے خیمے خیمۂاِجتماع کے قریب تھے؟ نہیں! یہوواہ کسی سے تعصب نہیں کرتا۔ ہر اِسرائیلی ہی یہوواہ کا قریبی دوست بن سکتا تھا۔ مثال کے طور پر یہوواہ نے اِس بات کا خاص خیال رکھا کہ پوری ہی قوم اُس بادل کے ستون اور آگ کے ستون کو دیکھ سکے جو اُس نے معجزانہ طور پر خیمۂاِجتماع کے اُوپر کھڑا کِیا ہوا تھا۔ (خر 40:38) جب بھی بادل نئی سمت کی طرف مُڑتا تھا تو وہ لوگ بھی اِسے آسانی سے دیکھ سکتے تھے جن کے خیمے سب سے دُور لگے ہوئے تھے۔ اِس طرح وہ اپنا سامان باندھ سکتے تھے، اپنے خیموں کو بند کر سکتے تھے اور ایک ہی وقت میں باقی لوگوں کے ساتھ مل کر سفر پر روانہ ہو سکتے تھے۔ (گن 9:15-23) آج بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ چاہے ہم دُنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں، یہوواہ ہم سے پیار کرتا ہے، اُسے ہماری فکر ہے اور وہ ہماری حفاظت کرتا ہے۔ م24.06 ص. 4 پ. 10-12
ہفتہ، 2 مئی
اُٹھو یہاں سے بھاگ چلیں ورنہ ہم میں سے کوئی بھی ابیسلوم کے ہاتھ سے نہیں بچ سکے گا۔—2-سمو 15:14۔
داؤد کی جان خطرے میں تھی۔ اُن کا بیٹا ابیسلّوم اُن کے تخت پر قبضہ جمانا چاہتا تھا اور اُنہیں اپنے راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔ (2-سمو 15:12، 13) اِس وجہ سے داؤد کو فوراً یروشلم سے بھاگنا پڑا۔ جب داؤد اور اُن کے خادم یروشلم سے نکل رہے تھے تو داؤد نے سوچا کہ اُن میں سے کسی نہ کسی کو پیچھے رُک جانا چاہیے تاکہ وہ اُنہیں ابیسلّوم کے منصوبوں کی خبر دیتا رہے۔ اِس لیے اُنہوں نے صدوق کاہن اور دوسرے کاہنوں کو واپس شہر بھیج دیا تاکہ وہ اُنہیں پَل پَل کی خبر دے سکیں۔ (2-سمو 15:27-29) اِن آدمیوں کو بڑی ہی ہوشیاری سے اور محتاط ہو کر یہ کام کرنا تھا۔ داؤد نے ایک منصوبہ بنایا جس میں اُنہوں نے اپنے وفادار دوستوں یعنی صدوق اور حُوسی سے مدد مانگی۔ (2-سمو 15:32-37) اِس منصوبے پر عمل کرتے ہوئے حُوسی نے ابیسلّوم کا بھروسا جیتا اور اُسے مشورہ دیا کہ وہ داؤد پر کیسے حملہ کرے۔ اِس طرح داؤد کو ابیسلّوم کے حملے سے بچنے کا وقت مل گیا۔ جب ابیسلّوم نے حُوسی کا مشورہ مان لیا تو حُوسی نے اِس کے بارے میں صدوق اور ابیآتر کو بتایا۔ (2-سمو 17:8-16) پھر صدوق اور ابیآتر نے داؤد کو ابیسلّوم کے منصوبے کے بارے میں پیغام بھجوایا۔ اِس پیغام نے داؤد کی زندگی بچانے میں بہت اہم کردار ادا کِیا۔—2-سمو 17:21، 22۔ م24.07 ص. 4-5 پ. 9-10
اِتوار، 3 مئی
یہوواہ فرماتا ہے: ”اب آؤ، ہم آپس میں معاملہ نمٹائیں۔“—یسع 1:18۔
یہوواہ کے کچھ بندے اپنے کچھ ایسے گُناہوں کی وجہ سے حد سے زیادہ پریشان رہتے ہیں جو اُنہوں نے بپتسمہ لینے سے پہلے یا پھر بپتسمہ لینے کے بعد کیے تھے۔لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہوواہ ہم سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور اِسی لیے اُس نے فدیے کا بندوبست کِیا ہے تاکہ ہمارے گُناہ معاف ہو سکیں۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم فدیے کے بندوبست کو قبول کریں اور اِس نعمت کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ یہوواہ نے ہمیں اِس بات کا یقین دِلایا ہے کہ جب ہم اُس کے ساتھ معاملہ سلجھا لیتے ہیں تو وہ ہمارے گُناہوں کو مکمل طور پر معاف کر دیتا ہے۔ ہم اپنے شفیق آسمانی باپ کے کتنے شکرگزار ہیں کہ وہ ہمارے گُناہوں کو یاد نہیں رکھتا۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ ہمارے اچھے کاموں کو بھی کبھی نہیں بھولتا۔ (زبور 103:9، 12؛ عبر 6:10) اگر آپ اپنے ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے حد سے زیادہ پریشان ہیں تو پوری کوشش کریں کہ آپ اپنا دھیان ماضی کی بجائے ابھی کے وقت پر اور مستقبل پر رکھیں۔ سچ ہے کہ آپ اپنے ماضی کو بدل نہیں سکتے۔ لیکن آپ ابھی اپنے حالات کے مطابق ایسے کام کر سکتے ہیں جن سے یہوواہ کی بڑائی ہو اور اپنا پورا دھیان اُس شاندار مستقبل پر رکھ سکتے ہیں جس کا وعدہ یہوواہ نے کِیا ہے۔ م24.10 ص. 8 پ. 8-9
سوموار، 4 مئی
نئی شخصیت کو پہن لیں۔—کُل 3:10۔
جب آپ بائبل پڑھتے ہیں تو شاید آپ کو لگے کہ آپ کو بہت سی باتوں کے حوالے سے خود میں بہتری لانے کی ضرورت ہے اور شاید اِس وجہ سے آپ بےحوصلہ ہو جائیں۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ آج آپ بائبل میں ایسی آیتیں پڑھتے ہیں جن میں دوسروں کی طرفداری نہ کرنے پر بات کی گئی ہے۔ (یعقو 2:1-8) اِن آیتوں کو پڑھ کر آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ جس طرح سے دوسروں کے ساتھ پیش آتے ہیں، اُس حوالے سے آپ کو خود میں بہتری لانی چاہیے۔ اور آپ ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ پھر کل آپ بائبل میں ایسی آیتیں پڑھتے ہیں جن میں زبان کو قابو میں رکھنے کی اہمیت پر بات کی گئی ہے۔ (یعقو 3:1-12) آپ کو احساس ہوتا ہے کہ کبھی کبھار آپ دوسروں سے دل دُکھانے والی باتیں کر جاتے ہیں۔ اِس لیے آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب سے آپ دوسروں کے ساتھ ایسی باتیں کریں گے جن سے اُن کا حوصلہ بڑھے۔ پھر اگلے دن آپ بائبل میں پڑھتے ہیں کہ ہمیں دُنیا سے دوستی کرنے سے خبردار رہنا چاہیے۔ (یعقو 4:4-12) آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو سوچ سمجھ کر تفریح کا اِنتخاب کرنا چاہیے۔ تو آپ نے پہلے، دوسرے اور تیسرے دن بائبل میں ایسی باتیں پڑھیں جن میں آپ کو خود میں بہتری لانی چاہیے۔ شاید چوتھے دن تک آپ یہ سوچ کر بےحوصلہ ہو جائیں کہ آپ کو تو خود کو بہت زیادہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ لیکن بےحوصلہ نہ ہوں۔ یاد رکھیں کہ ہمیں ”نئی شخصیت“ کو پہنتے رہنا چاہیے۔ یہ صرف ایک دفعہ کا کام نہیں ہے۔ م24.09 ص. 5 پ. 11-12
منگل، 5 مئی
دل میں مسیح کو مالک اور مُقدس سمجھ کر اُن لوگوں کو جواب دینے کے لیے ہر وقت تیار رہیں جو آپ کی اُمید کے بارے میں سوال کرتے ہیں لیکن ایسا کرتے وقت نرممزاجی سے کام لیں اور گہرا احترام ظاہر کریں۔—1-پطر 3:15۔
یسوع مسیح جانتے تھے کہ یہوواہ دیکھ رہا ہے کہ اُن کے ساتھ کتنی نااِنصافی ہو رہی ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے یہوواہ پر بھروسا کِیا کہ وہ صحیح وقت پر کارروائی کرے گا۔ جب ہمارے ساتھ بُرا سلوک کِیا جاتا ہے تو یسوع مسیح کی طرح ہمیں بھی سمجھداری سے بولنا چاہیے۔ شاید کچھ معاملے اِتنے بڑے نہ ہوں اِس لیے ہم اِنہیں نظرانداز کر سکتے ہیں یا شاید ہم چپ رہنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں تاکہ معاملہ اَور زیادہ نہ بگڑے۔ (واعظ 3:7؛ یعقو 1:19، 20) لیکن کچھ موقعے ایسے ہوتے ہیں جن میں ہمیں بولنے کی ضرورت ہے جیسے کہ اُس وقت جب کسی کے ساتھ نااِنصافی ہوتی ہے یا ہمیں اپنے عقیدوں کا دِفاع کرنا ہوتا ہے۔ (اعما 6:1، 2) لیکن ایسا کرتے وقت ہمیں پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ہم نرمی اور احترام سے دوسروں سے بات کریں۔ یسوع مسیح کی مثال پر عمل کرنے کا ایک اَور طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو اُس کے سپرد کر یں ”جو راستی سے اِنصاف کرتا ہے۔“—1-پطر 2:23۔ م24.11 ص. 5-6 پ. 10-12
بدھ، 6 مئی
جب ایک گُناہگار توبہ کرتا ہے تو خدا کے فرشتے بھی خوشی مناتے ہیں۔—لُو 15:10۔
جب گُناہ کرنے والا شخص توبہ کرتا ہے تو سبھی کو بہت خوشی ہوتی ہے۔ (لُو 15:7) لیکن اُس شخص کو توبہ کی طرف مائل کرنے کا سہرا کس کے سر جانا چاہیے؟ کیا بزرگوں کے سر؟ یاد کریں کہ پولُس رسول نے کہا تھا: ”خدا ایسے لوگوں کو توبہ کرنے کی توفیق بخشے۔“ (2-تیم 2:25) تو کوئی اِنسان نہیں بلکہ یہوواہ ایک شخص کی مدد کرتا ہے کہ وہ اپنی سوچ اور رویے کو بدلے۔ پولُس نے یہ بھی بتایا کہ جب ایک شخص توبہ کرتا ہے تو اِس کے کون سے اچھے نتیجے نکلتے ہیں۔ وہ شخص سچائی کے بارے میں پہلے سے زیادہ صحیح علم حاصل کر پاتا ہے، اپنے ہوش میں آ جاتا ہے اور اِس طرح شیطان کے پھندے سے چھٹکارا پانے کے قابل ہوتا ہے۔(2-تیم 2:26) جب ایک شخص اپنے گُناہ سے توبہ کر لیتا ہے تو بزرگوں کی کمیٹی اُس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اُس سے ملنے کا بندوبست کرے گی۔ بزرگ اُس شخص کے ایمان کو مضبوط کرنے، شیطان کی طرف سے آنے والی آزمائشوں سے لڑنے اور صحیح کام کرنے میں اُس کی مدد کرتے رہیں گے۔—عبر 12:12، 13۔ م24.08 ص. 23 پ. 14-15
جمعرات، 7 مئی
آپ لوگ مجھے اِس لیے نہیں ڈھونڈ رہے تھے کہ مَیں نے آپ کے سامنے معجزے کیے بلکہ اِس لیے کہ مَیں نے آپ کو پیٹ بھر کر روٹی کھلائی۔—یوح 6:26۔
یسوع نے جن لوگوں کو کھانا کھلایا تھا، اُن کا دھیان صرف اپنا پیٹ بھرنے اور اپنی خواہشوں کو پورا کرنے پر تھا۔ وہ کیسے؟ اگلے ہی دن وہ لوگ پھر سے اُس جگہ پہنچ گئے جہاں یسوع نے اُنہیں کھانا کھلایا تھا۔ لیکن وہاں اُنہیں یسوع اور اُن کے رسول نہیں ملے۔ اِس لیے لوگ شہر طبریہ سے آنے والی کشتیوں پر سوار ہو کر کفرنحوم کے لیے روانہ ہو گئے تاکہ یسوع کو ڈھونڈ سکیں۔ (یوح 6:22-24) کیا وہ اِس لیے یسوع کو ڈھونڈ رہے تھے تاکہ وہ خدا کی بادشاہت کے بارے میں اَور زیادہ سیکھ سکیں؟ نہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ یسوع اُنہیں پھر سے روٹی کھلائیں۔ ہم یہ بات کیسے جانتے ہیں؟ غور کریں کہ جب لوگوں نے یسوع کو کفرنحوم میں ڈھونڈ لیا تو پھر آگے کیا ہوا۔ یسوع نے کُھل کر لوگوں سے کہا کہ وہ اُنہیں اِس لیے ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ یسوع اُنہیں اَور زیادہ کھانا کھلا سکیں۔ یسوع جانتے تھے کہ جو روٹی لوگوں نے ”پیٹ بھر کر“ کھائی ہے، وہ ایسی خوراک ہے جس کا فائدہ زیادہ دیر تک نہیں رہے گا۔ اِس لیے اُنہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ ’اُس کھانے کے لیے محنت کریں جس کے ذریعے ہمیشہ کی زندگی ملتی ہے۔‘ (یوح 6:26، 27) یسوع نے کہا کہ یہ کھانا اُن کا آسمانی باپ فراہم کرے گا۔ م24.12 ص. 5 پ. 8-9
جمعہ، 8 مئی
دانشمند شخص کا دل اُسے گہری سمجھ کی باتیں کرنے اور دوسروں کو قائل کرنے کے قابل بناتا ہے۔—اَمثا 16:23۔
بھائیو! ایک بہتر اُستاد بننے کے لیے اِس بات کا خاص خیال رکھیں کہ جب آپ دوسروں کو تعلیم دیتے ہیں یا اپنے کسی ہمایمان کو کوئی مشورہ دیتے یا نصیحت کرتے ہیں تو یہ پاک کلام کے مطابق ہو۔ اِس کے لیے ضروری ہے کہ آپ بائبل کا اور ہماری تنظیم کی کتابوں کا اچھی طرح سے مطالعہ کریں۔ (اَمثا 15:28) مطالعہ کرتے وقت اِس بات پر دھیان دیں کہ ہماری کتابوں میں بائبل کی آیتوں کی کیا وضاحت کی گئی ہے تاکہ آپ اِنہیں صحیح طرح سے اِستعمال کر سکیں۔ اِس کے علاوہ جب آپ تعلیم دیتے ہیں تو اپنے سامعین کے دل تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ اپنی تعلیم دینے کی مہارت کو نکھارنے کے لیے آپ کسی تجربہکار بزرگ سے مشورہ لے سکتے ہیں اور اِس پر عمل کر سکتے ہیں۔ (1-تیم 5:17) بزرگوں کو اپنے بہن بھائیوں کی ”حوصلہافزائی“ بھی کرنی چاہیے۔ لیکن کبھی کبھار اُنہیں اُن کی ”درستی“ بھی کرنی پڑ سکتی ہے۔ چاہے بزرگ اپنے بہن بھائیوں کی حوصلہافزائی کریں یا اُن کی درستی کریں، اُنہیں ہمیشہ نرمی سے کام لینا چاہیے۔ اگر آپ پیار سے دوسروں کے ساتھ پیش آئیں گے اور بائبل کو اپنی تعلیمات کی بنیاد بنائیں گے تو آپ ایک اچھے اُستاد بن پائیں گے کیونکہ آپ عظیم اُستاد یسوع مسیح کی مثال پر عمل کر رہے ہوں گے۔—متی 11:28-30؛ 2-تیم 2:24۔ م24.11 ص. 24 پ. 16
ہفتہ، 9 مئی
قوموں میں اُس کی عظمت کا اِعلان کر۔—زبور 96:3۔
ہم اپنی باتوں سے یہوواہ کی تعظیم کر سکتے ہیں۔ بائبل میں یہوواہ کے بندوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ’یہوواہ کے لیے ایک گیت گائیں،‘ ”اُس کے نام کی بڑائی“ کریں، ”اُس کے نجاتبخش کاموں کی خوشخبری“ سنائیں اور ”قوموں میں اُس کی عظمت کا اِعلان“کریں۔ (زبور 96:1-3) ہم اِن سبھی طریقوں سے اپنی بولنے کی صلاحیت کو اِستعمال کرتے ہوئے اپنے آسمانی باپ کی تعظیم کر سکتے ہیں۔ (اعما 4:29) ہم اپنے پیسوں اور چیزوں سے بھی یہوواہ کی تعظیم کر سکتے ہیں۔ شروع سے ہی یہوواہ کے بندوں نے اِس طریقے سے اُس کی تعظیم کی ہے۔ (اَمثا 3:9) مثال کے طور پر بنیاِسرائیل نے ہیکل کی تعمیر اور مرمت کے کام کے لیے پیسے اور قیمتی چیزوں کا عطیہ دیا۔ (2-سلا 12:4، 5؛ 1-توا 29:3-9) یسوع مسیح کے کچھ شاگردوں نے ”اپنے مالی وسائل سے“ یسوع اور اُن کے رسولوں کی خدمت کی۔ (لُو 8:1-3) اِس کے علاوہ جب پہلی صدی عیسوی کے کچھ مسیحی قحط کا شکار ہوئے تو دوسرے علاقوں میں رہنے والے مسیحیوں نے اُن کی مالی مدد کی۔ (اعما 11:27-29) آج ہم بھی عطیات دینے سے یہوواہ کی تعظیم کر سکتے ہیں۔ م25.01 ص. 4 پ. 8؛ ص. 5 پ. 11
اِتوار، 10 مئی
کیا کوئی اِن لوگوں کو پانی سے بپتسمہ لینے سے روک سکتا ہے؟—اعما 10:47۔
کس چیز نے کُرنیلیُس کی بپتسمہ لینے میں مدد کی؟ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”وہ اور اُن کے گھر والے خدا کا خوف رکھتے تھے“ اور کُرنیلیُس خدا سے اِلتجائیں کِیا کرتے تھے۔ (اعما 10:2) جب پطرس نے کُرنیلیُس کو یسوع کے بارے میں خوشخبری سنائی تو کُرنیلیُس اور اُن کے گھر والے یسوع پر ایمان لے آئے اور اُن سب نے فوراً بپتسمہ لے لیا۔ (اعما 10:47، 48) بےشک کُرنیلیُس ہر طرح سے خود کو بدلنے کو تیار تھے تاکہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر یہوواہ کی عبادت کر سکیں۔ (یشو 24:15؛ اعما 10:24، 33) اگر کُرنیلیُس چاہتے تو وہ اپنے عہدے یا رُتبے کا بہانہ بنا کر مسیحی بننے سے اِنکار کر سکتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کِیا۔ کیا آپ کو بپتسمہ لینے کے لیے اپنی زندگی میں بڑی بڑی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہوواہ آپ کی مدد کرے گا۔ اگر آپ اُس کی خدمت کرنے کے لیے بائبل کے اصولوں پر چلنے کا پکا عزم کریں گے تو وہ آپ کو ضرور برکت دے گا۔ م25.03 ص. 5 پ. 12-13
سوموار، 11 مئی
توہینآمیز جھوٹی کہانیوں کو رد کریں۔—1-تیم 4:7۔
اگر آپ یہوواہ کی تنظیم یا اُن بھائیوں کے بارے میں جھوٹی باتیں سنتے ہیں جو ہماری پیشوائی کر رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ خدا کے دُشمنوں نے یسوع مسیح اور پہلی صدی عیسوی میں اُن کے شاگردوں کے بارے میں بھی جھوٹ پھیلائے تھے۔ بائبل میں لکھی پیشگوئی کے مطابق آج خدا کے بندوں کو اذیت دی جاتی ہے اور اُن کے بارے میں جھوٹی باتیں پھیلائی جاتی ہیں۔ (متی 5:11، 12) اگر ہم اِس بات کو پہچانیں گے کہ اِن جھوٹی باتوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے تو ہم اِنہیں رد کرنے کے لیے فوراً قدم اُٹھائیں گے۔ ہم جھوٹی باتوں پر یقین کرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ جھوٹی باتوں پر یقین نہ کریں۔ پولُس رسول نے واضح طور پر بتایا تھا کہ اگر ہم خدا یا اُس کے بندوں کے بارے میں کوئی جھوٹی بات سنتے ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے تیمُتھیُس سے کہا کہ وہ بھائیوں کو حکم دیں کہ وہ ’جھوٹی کہانیوں پر دھیان نہ دیں‘ اور”توہینآمیز جھوٹی کہانیوں کو رد کریں۔“ (1-تیم 1:3، 4) ہم جھوٹی باتوں کو رد کرتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اِن کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور اِن سے ہمیں کیا نقصان ہوگا۔ اِس کی بجائے ہم ”صحیح تعلیم کے معیار“ پر قائم رہتے ہیں۔—2-تیم 1:13۔ م24.04 ص. 11 پ. 16؛ ص. 13 پ. 17
منگل، 12 مئی
وہ چکنیچپڑی باتوں اور خوشامد سے سیدھے سادے لوگوں کے دلوں کو بہکاتے ہیں۔—روم 16:18۔
اُن لوگوں کے ساتھ متحد رہیں جو یہوواہ کے وفادار ہیں۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے ہمایمانوں کے ساتھ متحد ہو کر اُس کی عبادت کریں۔ لیکن ہم تب تک ہی ایک دوسرے کے ساتھ متحد رہ سکیں گے جب تک ہم سچائی سے لپٹے رہیں گے۔ جو شخص سچائی سے دُور ہو جاتا ہے، وہ کلیسیا میں اِختلافات پیدا کرتا ہے۔ خدا نے ہمیں ”ایسے لوگوں سے دُور“ رہنے کو کہا ہے تاکہ ہم بھی سچائی سے دُور نہ ہو جائیں۔ (روم 16:17) اگر ہم سچائی کو پہچان جائیں گے اور اِسے مضبوطی سے تھام لیں گے تو ہم یہوواہ کے قریب رہ پائیں گے اور اپنے ایمان کو مضبوط رکھ پائیں گے۔ (اِفِس 4:15، 16) اِس طرح ہم شیطان کے پھیلائے جھوٹ پر یقین نہیں کریں گے اور اُس کے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ اِس کے علاوہ بڑی مصیبت کے دوران ہم یہوواہ کی پناہ میں بھی رہیں گے۔ اِس لیے آئیے اُن باتوں کو تھامے رکھیں جو سچی ہیں۔ پھر ”خدا جو اِطمینان کا بانی ہے، آپ کے ساتھ رہے گا۔“—فِل 4:8، 9۔ م24.07 ص. 13 پ. 16-17
بدھ، 13 مئی
اُس آدمی نے ایک ہی قربانی پیش کی جو گُناہوں کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیتی ہے۔—عبر 10:12۔
یسوع مسیح نے اُن لوگوں کو خاص توجہ دی جو خود کو گُناہ کے بوجھ تلے دبا محسوس کرتے تھے۔ اُنہوں نے ایسے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ اُن کے پیروکار بنیں۔ وہ جانتے تھے کہ گُناہ ساری مصیبتوں کی جڑ ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے خاص طور پر ایسے لوگوں کی مدد کی جنہیں بہت گُناہگار سمجھا جاتا تھا۔ اِس حوالے سے یسوع مسیح نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا: ”تندرست لوگوں کو حکیم کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بیمار لوگوں کو۔“ پھر اُنہوں نے آگے کہا: ”مَیں دینداروں کو بلانے نہیں آیا بلکہ گُناہگاروں کو۔“ (متی 9:12، 13) یسوع مسیح نے جو کہا، وہ کِیا بھی۔ وہ اُس عورت کے ساتھ بہت پیار سے پیش آئے جس نے اپنے آنسوؤں سے اُن کے پاؤں دھوئے۔ اُنہوں نے اُس عورت کے گُناہ معاف کر دیے۔ (لُو 7:37-50) اِس کے علاوہ یسوع نے کنوئیں پر سامری عورت کو بہت سی اہم سچائیاں سکھائیں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایک بدچلن عورت ہے۔ (یوح 4:7، 17-19، 25، 26) یہوواہ نے تو یسوع مسیح کو موت کو بھی ختم کرنے کا اِختیار دیا ہے جو گُناہ کی وجہ سے ہم پر آتی ہے۔ وہ کیسے؟ جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو اُنہوں نے مُردوں کو زندہ کِیا جن میں آدمی، عورتیں اور بچے شامل تھے۔—متی 11:5۔ م24.08 ص. 4 پ. 9-10
جمعرات، 14 مئی
وہ اپنے نیک معیاروں کے مطابق زمین کی اور وفاداری سے قوموں کی عدالت کرے گا۔—زبور 96:13۔
یہوواہ بہت جلد مستقبل میں اپنے نام کی تعظیم کیسے کرے گا؟ اِنصاف سے عدالت کرنے سے۔ بہت جلد یہوواہ بابلِعظیم کو تباہ کر دے گا جس نے اُس کے پاک نام کو بہت بدنام کِیا ہے۔ (مُکا 17:5، 16؛ 19:1، 2) اِس کی تباہی کو دیکھ کر ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ ہمارے ساتھ مل کر یہوواہ کی عبادت کرنے لگیں۔ پھر یہوواہ ہرمجِدّون کی جنگ میں شیطان کی دُنیا کے ہر نظام کا نامونشان مٹا دے گا۔ وہ اُن سب لوگوں کو ہلاک کر دے گا جو اُس سے نفرت کرتے ہیں اور اُس کے بارے میں جھوٹ پھیلا کر اُس کے نام کو خراب کرتے ہیں۔ لیکن یہوواہ اُن سب لوگوں کو بچا لے گا جو اُس سے محبت کرتے ہیں، اُس کے حکموں پر چلتے ہیں اور اُس کی تعظیم کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ (مر 8:38؛ 2-تھس 1:6-10) پھر یسوع مسیح کی ہزار سالہ حکمرانی کے بعد جب آخری اِمتحان ہوگا تو اِس کے بعد یہوواہ اپنے نام کو مکمل طور پر پاک ثابت کر لے گا۔ (مُکا 20:7-10) اُس وقت ”جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اُسی طرح زمین[یہوواہ]کے جلال کے عرفان سے معمور ہوگی۔“ (حبق 2:14) وہ کتنا ہی شاندار وقت ہوگا جب زمین پر موجود ہر شخص یہوواہ کے نام کی اُس طرح سے تعظیم کرے گا جس کا یہوواہ حقدار ہے! م25.01 ص. 7 پ. 15-16
جمعہ، 15 مئی
آپ جو کچھ برداشت کرتے ہیں، وہ آپ کی اِصلاح کے لیے ہے۔—عبر 12:7۔
کس چیز نے مخالفت کے باوجود ثابتقدم رہنے میں عبرانی مسیحیوں کی مدد کی ہوگی؟ پولُس رسول جانتے تھے کہ اُن کے ہمایمانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ثابتقدم رہنے کے کتنے فائدے ہیں۔ اِس لیے اُنہوں نے بتایا کہ جب ایک مسیحی کے ایمان کا اِمتحان ہوتا ہے تو اُس وقت یہوواہ اُس کی بڑے زبردست طریقے سے ٹریننگ کرتا ہے۔ اِس ٹریننگ کی وجہ سے وہ مسیحی اپنی خوبیوں کو نکھار پاتا ہے اور یہوواہ کو خوش کرتا ہے۔ تو اِس بات پر اپنا دھیان رکھنے سے کہ مشکلوں میں ثابتقدم رہنے کے کتنے اچھے نتیجے نکلتے ہیں، اُن عبرانی مسیحیوں کے لیے مشکلوں کو برداشت کرنا آسان ہو گیا ہوگا۔ (عبر 12:11) پولُس رسول نے عبرانی مسیحیوں کا حوصلہ بڑھایا کہ وہ ڈٹ کر مشکلوں کا سامنا کریں اور ہمت نہ ہاریں۔ پولُس بِلاجھجک اُن سے یہ بات کر سکتے تھے اور اُنہیں اِس حوالے سے اچھا مشورہ بھی دے سکتے تھے۔ کیوں؟ کیونکہ یسوع کا پیروکار بننے سے پہلے پولُس خود بھی مسیحیوں کو اذیت دیا کرتے تھے اور اِس لیے وہ جانتے تھے کہ مسیحیوں کے ساتھ کتنی بدسلوکی کی جاتی تھی۔ پولُس کو یہ بھی پتہ تھا کہ اذیت کو کیسے برداشت کِیا جا سکتا ہے کیونکہ مسیحی بننے کے بعد اُنہیں خود بھی طرح طرح کی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔—2-کُر 11:23-25۔ م24.09 ص. 12-13 پ. 16-17
ہفتہ، 16 مئی
چوکس رہیں۔—متی 25:13۔
جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے ہیں، ہمارے لیے مُنادی کرنا پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ اِس کی کیا وجہ ہے؟ کیونکہ وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے اور بہت جلد خاتمہ آنے والا ہے۔ ذرا غور کریں کہ مرقس 13:10 میں یسوع مسیح نے آخری زمانے میں مُنادی کرنے کے حوالے سے کیا پیشگوئی کی تھی۔ متی کی اِنجیل میں بھی یسوع مسیح نے کہا کہ بادشاہت کی خوشخبری کی مُنادی ساری دُنیا میں کی جائے گی۔ ”پھر خاتمہ آئے گا۔“ (متی 24:14) اِصطلاح ”خاتمہ“ کا مطلب شیطان کی دُنیا کا مکمل خاتمہ ہے۔ یہوواہ خدا نے اُن واقعات کے لیے ”دن یا گھنٹے“ مقرر کر لیے ہیں جو جلد ہونے والے ہیں۔ (متی 24:36؛ اعما 1:7) ہر گزرتے دن پر ہم خاتمے کے اَور قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ (روم 13:11) لیکن جب تک دُنیا کا خاتمہ نہیں آ جاتا ہمیں لگن سے مُنادی کرنی ہوگی۔ مُنادی کے حوالے سے ہمیں اِس سوال پر گہرائی سے سوچنا چاہیے: ”ہم خوشخبری کی مُنادی کیوں کرتے ہیں؟“ سادہ لفظوں میں کہیں تو محبت کی وجہ سے۔ جب ہم مُنادی کرتے ہیں تو ہم ثابت کرتے ہیں کہ ہم سچائی سے محبت کرتے ہیں، لوگوں سے محبت کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہوواہ اور اُس کے نام سے محبت کرتے ہیں۔ م24.05 ص. 14-15 پ. 2-3
اِتوار، 17 مئی
خدا نے اُن سب چیزوں کو دیکھا جو اُس نے بنائی تھیں اور دیکھو! سب کچھ بہت اچھا تھا۔—پید 1:31۔
والدین! اپنے بچے کی مدد کریں کہ وہ یہوواہ کی بنائی ہوئی شاندار چیزوں پر سوچ بچار کرے۔ جب آپ اپنے بچوں کے ساتھ کسی باغ میں جاتے ہیں یا اُن کے ساتھ مل کر اپنے پودوں کی دیکھبھال کرتے ہیں تو اُن کا دھیان اِس بات پر دِلائیں کہ یہوواہ نے کتنے زبردست ڈیزائن والی چیزیں بنائی ہیں۔ اِس طرح وہ دیکھ پائیں گے کہ اِن شاندار ڈیزائنوں کو ایک سمجھدار ہستی نے بنایا ہے۔ مثال کے طور پر کائنات میں ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن کی بناوٹ ایک جیسی ہے جیسے کہ کچھ کہکشائیں، سمندری سیپیاں، پتے اور سورج مُکھی کے پھول کے بیچ کا حصہ۔ اِس حوالے سے ایک سائنسدان نے بتایا کہ اگر آپ اِن چیزوں کے ڈیزائن میں گول دائروں کو گنیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اِن دائروں کی ایک خاص تعداد ہے اور یہ ایک خاص ترتیب سے بنے ہوئے ہیں۔ م24.12 ص. 16 پ. 7
سوموار، 18 مئی
[خدا ہی] . . . تیری عمر کی درازی ہے۔—اِست 30:20۔
موسیٰ، داؤد اور یوحنا جن زمانوں میں رہتے تھے، وہ ہمارے زمانے سے بہت فرق تھے اور اُن کی صورتحال بھی ہماری صورتحال سے بہت فرق تھی۔ لیکن اُن میں اور ہم میں بہت سی باتیں ملتی جلتی ہیں جیسے کہ ہم بھی اُن کی طرح سچے خدا یہوواہ کی عبادت کرتے ہیں؛ اُن کی طرح یہوواہ سے دُعا کرتے ہیں؛ اُس پر بھروسا کرتے ہیں اور اُس سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ اُن کی طرح ہمیں بھی اِس بات کا پکا یقین ہے کہ جو لوگ یہوواہ کے فرمانبردار رہتے ہیں، یہوواہ اُنہیں برکتیں دیتا ہے۔ آئیے یہوواہ کے بوڑھے بندوں یعنی موسیٰ، داؤد اور یوحنا کی اُن نصیحتوں پر عمل کرتے رہیں جو اُنہوں نے اپنی موت سے پہلے کیں۔ اُن کی نصیحت کے مطابق یہوواہ کے حکموں کو مانتے رہیں۔ پھر یہوواہ ہمیں ہمارے ہر کام میں کامیابی عطا کرے گا۔ ہماری ’عمر دراز‘ ہوگی یعنی ہم ہمیشہ تک زندہ رہیں گے۔ اِس کے علاوہ ہمیں اپنے شفیق آسمانی باپ کو خوش کرنے سے خوشی ملے گی جو اپنے ہر وعدے کو اِتنے شاندار طریقے سے پورا کرتا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔—اِفِس 3:20۔ م24.11 ص. 13 پ. 20-21
منگل، 19 مئی
خدا نے کلیسیا میں اِن لوگوں کو اپنے اپنے مرتبے پر مقرر کِیا۔—1-کُر 12:28۔
پہلی صدی عیسوی میں کچھ بھائیوں کو خادموں کے طور پر مقرر کِیا گیا۔ (1-تیم 3:8) شاید یہی وہ بھائی تھے جن کے بارے میں پولُس رسول نے کہا کہ ”کچھ کو مدد فراہم“ کرنے کی نعمت دی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ خادم بہت سے ضروری کام کرتے تھے تاکہ بزرگ اپنا دھیان تعلیم دینے اور بہن بھائیوں کا حوصلہ بڑھانے پر رکھ سکیں۔ مثال کے طور پر ہو سکتا ہے کہ خادم صحیفوں کی کاپیاں بنانے میں مدد کرتے ہوں یا کاپیاں بنانے کے لیے ضروری سامان خرید کر لاتے ہوں۔ ذرا کچھ ایسے کاموں کے بارے میں سوچیں جو خادم آپ کی کلیسیا میں کرتے ہیں۔ (1-پطر 4:10) شاید اُنہیں کلیسیا کے پیسوں کا حساب کتاب رکھنے، مُنادی کے علاقوں کی دیکھبھال کرنے، کتابوں کا آرڈر دینے، آڈیو ویڈیو چلانے، حاضرباشوں کے طور پر کام کرنے یا عبادتگاہ کی دیکھبھال کرنے کی ذمےداری دی جائے۔ یہ سبھی کام بہت ضروری ہیں تاکہ کلیسیا منظم طریقے سے چلتی رہے۔—1-کُر 14:40۔ م24.10 ص. 19 پ. 4-5
بدھ، 20 مئی
جو مجھے طاقت دیتا ہے، اُس کے ذریعے مَیں سب کچھ کر سکتا ہوں۔—فِل 4:13۔
اگر ہم یاد رکھیں گے کہ یہوواہ زندہ خدا ہے اور وہ ہماری مدد کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو ہم ہر چھوٹی اور بڑی مشکل کو برداشت کر پائیں گے۔ ہمارا خدا لامحدود قدرت کا مالک ہے اور وہ ہمیں ثابتقدم رہنے کی طاقت دے سکتا ہے۔ تو ہمارے پاس ہر وہ وجہ موجود ہے جس کی بِنا پر ہم ڈٹ کر مشکلوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ جب ہم چھوٹی چھوٹی مشکلوں میں یہوواہ کی مدد کو محسوس کرتے ہیں تو اِس بات پر ہمارا یقین اَور بڑھ جاتا ہے کہ یہوواہ بڑی بڑی مشکلوں میں بھی ہماری مدد کرے گا۔ آئیے بادشاہ داؤد کی زندگی کے دو ایسے واقعات پر غور کرتے ہیں جن کی وجہ سے یہوواہ پر اُن کا بھروسا اَور بڑھ گیا۔ جب داؤد چھوٹے تھے اور اپنے ابو کی بھیڑوں کا خیال رکھتے تھے تو ایک بار ایک ریچھ اُن کے ابو کی ایک بھیڑ کو اُٹھا کر لے گیا اور دوسری بار ایک شیر۔ دونوں ہی موقعوں پر داؤد بڑی دلیری سے اِن جنگلی جانوروں کے پیچھے گئے اور بھیڑوں کو اُن کے مُنہ سے چھڑایا۔ لیکن اُنہوں نے کامیابی کا سہرا اپنے سر نہیں لیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ یہوواہ کی طاقت سے ہی ایسا کر پائے۔ (1-سمو 17:34-37) اِن واقعات پر غور کرنے سے زندہ خدا پر داؤد کا بھروسا بڑھا اور اُنہیں یقین ہو گیا کہ وہ آگے بھی اُن کی مدد کرے گا۔ م24.06 ص. 21 پ. 5-6
جمعرات، 21 مئی
جو شخص پوری بات سننے سے پہلے جواب دیتا ہے، وہ بےوقوف ہوتا ہے اور اپنی بےعزتی کراتا ہے۔—اَمثا 18:13۔
فرض کریں کہ آپ کو کسی پارٹی میں جانے کی دعوت ملتی ہے۔ آپ خود سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں: ”کیا مجھے وہاں جانا چاہیے؟“ اگر آپ میزبان کو اِتنی اچھی طرح سے نہیں جانتے یا یہ نہیں جانتے کہ اُس پارٹی کے حوالے سے کون سے اِنتظامات کیے گئے ہیں تو آپ اُس میزبان سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں: ”پارٹی کب اور کہاں ہوگی؟ اِس میں کتنے لوگ آئیں گے؟ پارٹی میں ہونے والے اِنتظامات کی نگرانی کون کرے گا؟ کون کون آ رہا ہے؟ وہاں کیا کچھ کِیا جائے گا؟ کیا وہاں شراب بھی پی جائے گی؟“ اِس طرح کے سوالوں کے جواب جاننے سے آپ ایک اچھا فیصلہ لے پائیں گے۔ تمام حقائق جان لینے کے بعد پوری صورتحال کا دھیان سے جائزہ لیں۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ آپ کو پتہ چلتا ہے کہ جس پارٹی میں آپ کو بُلایا گیا ہے، وہاں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو یہوواہ کے اصولوں کا احترام نہیں کرتے یا پھر اُس پارٹی میں شراب بھی پیش کی جائے گی لیکن وہاں کوئی ایسا ذمےدار شخص نہیں ہوگا جو اِس بات کا خیال رکھے کہ لوگ کس حد تک شراب پئیں گے۔ ایسی صورت میں آپ کیا کریں گے؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اِس پارٹی میں کوئی غیر مہذب بات ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے؟ (1-پطر 4:3) جب آپ پوری صورتحال کا دھیان سے جائزہ لیں گے تو آپ کے لیے ایک اچھا فیصلہ لینا آسان ہو جائے گا۔ م25.01 ص. 14-15 پ. 4-5
جمعہ، 22 مئی
چاہے تمہارے گُناہ گہرے سُرخ رنگ کے ہوں، وہ برف کی طرح سفید کر دیے جائیں گے۔—یسع 1:18۔
یہوواہ خدا فدیے کے ذریعے اُن لوگوں کے گُناہوں کو مٹا سکتا ہے جو دل سے توبہ کرتے ہیں۔ اُس نے ہمیں یہ بات سمجھانے کے لیے کچھ مثالیں دی ہیں۔ ایک کپڑے سے گہرے سُرخ رنگ کے داغ کو مٹانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ لیکن آج کی آیت میں دی گئی مثال کے ذریعے یہوواہ نے ہمیں یقین دِلایا ہے کہ وہ ہمارے گُناہ کو دھو کر اِتنا صاف کر دیتا ہے کہ گُناہ کے داغ کا نشان تک باقی نہیں رہتا۔ بائبل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہمارے گُناہ ایک ”قرض“ کی طرح ہیں۔ (متی 18:32-35) جب جب ہم یہوواہ کے حضور گُناہ کرتے ہیں، ہم قرضے کے سمندر میں ڈوبتے جاتے ہیں۔ لیکن جب یہوواہ ہمارے گُناہ کو معاف کر دیتا ہے تو ایک طرح سے وہ ہمارے قرض کو بخش دیتا ہے۔ پھر وہ ہم سے اِس بات کی توقع نہیں کرتا کہ ہم اپنے اُس گُناہ کی قیمت ادا کریں جسے وہ پہلے سے ہی معاف کر چُکا ہے۔ اِس مثال سے ہمیں کتنی تسلی ملتی ہے نا کہ یہوواہ ہمیں دل کھول کر معاف کرتا ہے! م25.02 ص. 9-10 پ. 9-10
ہفتہ، 23 مئی
بچوں کو والدین کے لیے نہیں بلکہ والدین کو بچوں کے لیے بچت کرنی چاہیے۔—2-کُر 12:14۔
بےشک ماں باپ کو اپنے بڑھاپے میں پیسے اور دوسری چیزوں کے حوالے سے تھوڑی بہت مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور بہت سے بچے خوشی سے اپنے ماں باپ کی اِن ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں۔ (1-تیم 5:4) لیکن مسیحی والدین کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اُنہیں یہ سوچ کر اپنے بچوں کی پرورش نہیں کرنی چاہیے کہ وہ بڑے ہو کر اُنہیں خوب پیسہ کما کر دیں۔ اِس کی بجائے اُنہیں یہ سوچ کر اپنے بچوں کی پرورش کرنی چاہیے کہ وہ بڑے ہو کر یہوواہ کی خدمت کریں۔ ایسی سوچ رکھنے سے اُنہیں زیادہ خوشی ملے گی۔ (3-یوح 4) والدین! جب آپ اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ وہ بڑے ہو کر اپنی ضرورتوں کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں تو اُنہیں اپنی مثال کے ذریعے یہوواہ پر بھروسا کرنا سکھائیں۔ اُنہیں اُن کے بچپن سے ہی محنت سے کام کرنے کی اہمیت بتائیں۔ (اَمثا 29:21؛ اِفِس 4:28) اور پھر جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے ہیں، اُن کی مدد کریں تاکہ وہ سکول میں دل لگا کر پڑھیں۔ آپ پاک کلام سے تحقیق کر کے کچھ ایسے اصول بھی ڈھونڈ سکتے ہیں جن سے آپ اپنے بچوں کی مدد کر سکیں تاکہ وہ تعلیم کے حوالے سے صحیح فیصلے کریں۔ اپنے بچوں کی مدد کرتے وقت آپ کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ بچے آگے چل کر اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے قابل بنیں اور اِس کے ساتھ ساتھ مُنادی میں زیادہ وقت لگا سکیں، یہاں تک کہ پہلکار بھی بن سکیں۔ م25.03 ص. 31 پ. 15-16
اِتوار، 24 مئی
نئی شخصیت کو پہن لیں۔—اِفِس 4:24۔
یہوواہ نے یسعیاہ 65 باب میں بتایا کہ روحانی فردوس میں رہنے والے لوگوں کی صورتحال کیسی ہوگی۔ یہ پیشگوئی پہلے 537 قبلازمسیح میں پوری ہوئی۔ اُس وقت یہودی بابل کی غلامی سے آزاد ہو گئے تھے اور اپنے ملک واپس لوٹ آئے تھے جو بالکل تباہ ہو چُکا تھا۔ یہوواہ نے اپنے بندوں کی مدد کی تاکہ وہ شہر یروشلم کو پھر سے خوبصورت بنائیں اور اِس میں موجود ہیکل کو پھر سے تعمیر کریں تاکہ وہاں اُس کی عبادت کی جا سکے۔ (یسع 51:11؛ زِک 8:3) یسعیاہ 65 باب میں لکھی پیشگوئی دوسری بار 1919ء سے پوری ہونے لگی۔ اُس وقت یہوواہ کے بندے بابلِعظیم کی غلامی سے آزاد ہو گئے۔ اِس کے بعد روحانی فردوس کی سرحدیں آہستہ آہستہ بڑھنے لگیں۔ خدا کے بندے جوش سے مُنادی کرنے لگے جس کی وجہ سے بہت سی کلیسیائیں قائم ہوئیں اور اِن میں موجود لوگ روح کا پھل ظاہر کرنے لگے۔ جو لوگ پہلے بہت ظالم ہوا کرتے تھے اور جن کا چالچلن بہت بُرا تھا، اُنہوں نے ’اُس نئی شخصیت کو پہن لیا جو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالی گئی تھی۔‘ م24.04 ص. 20-21 پ. 3-4
سوموار، 25 مئی
ہر کوئی اپنی ذمےداری کا بوجھ اُٹھائے گا۔—گل 6:5۔
کچھ ملکوں میں ماں باپ یا بڑوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے غیرشادیشُدہ بچوں کے لیے رشتہ ڈھونڈیں۔ اور کچھ ملکوں میں گھر والے یا دوست اپنے غیرشادیشُدہ دوستوں یا رشتےداروں کے لیے رشتہ ڈھونڈتے ہیں اور پھر وہ لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے سے ملواتے ہیں تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ وہ ایک دوسرے کے لیے ٹھیک ہیں یا نہیں۔ اگر آپ سے کسی کے لیے رشتہ ڈھونڈنے کے لیے کہا جاتا ہے تو آپ کو لڑکے اور لڑکی دونوں کی ہی پسند ناپسند کا پتہ ہونا چاہیے۔ اور پھر اگر آپ کو کوئی ایسا شخص مل جاتا ہے جس کے بارے میں آپ کو لگتا ہے کہ یہ آپ کے دوست یا رشتےدار کے لیے اچھا جیون ساتھی ثابت ہوگا تو اُس شخص کو اچھی طرح سے جاننے کی کوشش کریں۔ دیکھیں کہ اُس میں کون سی خوبیاں ہیں اور سب سے بڑھ کر یہوواہ کے ساتھ اُس کی دوستی کتنی مضبوط ہے۔ یاد رکھیں کہ پیسے، تعلیم یا حیثیت سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایک شخص کی یہوواہ کے ساتھ پکی دوستی ہو۔ لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ آخر میں فیصلہ لڑکے اور لڑکی کا ہی ہوگا کہ وہ ایک دوسرے سے شادی کریں گے یا نہیں۔ م24.05 ص. 23 پ. 11
منگل، 26 مئی
سچا دوست ہمیشہ محبت ظاہر کرتا ہے۔—اَمثا 17:17۔
ہم اپنی باتوں سے اُس لڑکے اور لڑکی کی مدد کر سکتے ہیں جو شادی کے اِرادے سے ایک دوسرے کو جان رہے ہیں۔ کبھی کبھار یہ ضروری ہوتا ہے کہ ہم کچھ بھی نہ کہیں۔ (اَمثا 12:18) مثال کے طور پر شاید ہمارا دل چاہے کہ ہم دوسروں کو بتائیں کہ فلاں لڑکے اور لڑکی کی آپس میں بات چل رہی ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ یہ بات خود دوسروں کو بتانا چاہیں۔ اِس لیے ہمیں اُن کے بارے میں افواہیں نہیں پھیلانی چاہئیں اور نہ ہی اُن کے ذاتی معاملوں میں اُن کی نکتہچینی کرنی چاہیے۔ (اَمثا 20:19؛ روم 14:10؛ 1-تھس 4:11) ہمیں اُن سے ایسی باتیں بھی نہیں کرنی چاہئیں جن کی وجہ سے وہ شادی کرنے کا دباؤ محسوس کریں۔ اگر ایک لڑکا اور لڑکی بات ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہمیں اُن سے سوال نہیں کرنے چاہئیں اور اُن میں سے کسی ایک پر اِلزام نہیں لگانا چاہیے۔ یہ اُن کا ذاتی معاملہ ہے۔ (1-پطر 4:15) جب ایک لڑکا اور لڑکی بات ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اِس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ ناکام ہو گئے ہیں۔ دراصل شادی کے اِرادے سے ایک دوسرے کو جاننے کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہم صحیح فیصلے پر پہنچیں۔ پھر بھی جب ایک لڑکے اور لڑکی کی بات ختم ہو جاتی ہے تو اُنہیں اِس کا بہت دُکھ ہوتا ہے۔ اِس لیے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کن طریقوں سے اُن کی مدد کر سکتے ہیں۔ م24.05 ص. 31 پ. 15-16
بدھ، 27 مئی
اگر آپ مصیبت کے دن بےحوصلہ ہو جاؤ گے تو آپ کی طاقت کم ہو جائے گی۔—اَمثا 24:10۔
کچھ بڑی مشکلوں میں سے ایک مشکل وہ ہوتی ہے جب ہمارا کوئی رشتےدار یا قریبی دوست یہوواہ کو چھوڑ دیتا ہے۔ (زبور 78:40) جتنی زیادہ تکلیف ہمیں اِس مشکل سے گزرتے وقت ہو سکتی ہے، شاید ہی کسی اَور مشکل سے گزرتے وقت ہو۔ اور جتنا زیادہ ہم اُس شخص کے قریب ہوتے ہیں اور اُس سے محبت کرتے ہیں اُتنا ہی زیادہ ہمارے لیے صورتحال کو برداشت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اِس تکلیف سے گزرے ہیں تو صدوق کی مثال پر غور کرنے سے آپ کو یہوواہ کا وفادار رہنے کی ہمت ملے گی۔ صدوق اُس وقت بھی یہوواہ کے وفادار رہے جب اُن کے قریبی دوست ابیآتر نے داؤد سے بےوفائی کرنے کا فیصلہ کِیا۔ یہ تب ہوا جب داؤد بہت زیادہ بوڑھے اور بیمار ہو گئے تھے اور اُن کے بیٹے ادونیاہ نے بادشاہ بننے کی کوشش کی حالانکہ یہوواہ سلیمان کو بادشاہ بنانا چاہتا تھا۔ (1-توا 22:9، 10) ابیآتر نے ادونیاہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ (1-سلا 1:5-8) ایسا کرنے سے وہ نہ صرف داؤد اور صدوق سے بلکہ یہوواہ سے بھی بےوفائی کر رہے تھے۔ صدوق اور ابیآتر نے کافی سالوں سے ایک ساتھ مل کر کاہنوں کے طور پر کام کِیا تھا۔—2-سمو 8:17؛ 15:29؛ 19:11-14۔ م24.07 ص. 6 پ. 14-15
جمعرات، 28 مئی
وہ شخص خوش رہتا ہے جو ہمیشہ چوکس رہتا ہے۔—اَمثا 28:14۔
ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ اگر ہم آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے چوکس رہیں گے تو اِس سے ہمیں ہمیشہ فائدہ ہوگا۔ ”گُناہ کا وقتی مزہ لُوٹنے کی بجائے“ خدا کے معیاروں کے مطابق زندگی گزارنے سے ہمیں زیادہ خوشی ملے گی۔ (عبر 11:25؛ زبور 19:8) اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہوواہ نے ہمیں بنایا ہی اِس طرح سے ہے کہ ہم اُس کی مرضی کے مطابق زندگی گزاریں۔ (پید 1:27) جب ہم ایسا کرتے ہیں تو یہوواہ کے حضور ہمارا ضمیر صاف رہتا ہے اور مستقبل میں ہمیں ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید ملتی ہے۔ (1-تیم 6:12؛ 2-تیم 1:3؛ یہوداہ 20، 21) بےشک ”جسم کمزور ہے۔“ (متی 26:41) لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی خامیوں کے آگے بےبس ہیں۔ یہوواہ ہمیں طاقت دینے کے لیے بالکل تیار کھڑا ہے۔ (2-کُر 4:7) لیکن غور کریں کہ جو طاقت ہمیں یہوواہ دیتا ہے، وہ اِنسانی قوت سے بڑھ کر ہے۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ آزمائش سے لڑنے کے لیے سب سے پہلے تو ہمیں اپنی پوری قوت یا طاقت لگانے کی ضرورت ہے۔ پھر یہوواہ ہماری دُعاؤں کے جواب میں ہمیں وہ اِضافی طاقت دے گا جس کی ہمیں ضرورت ہوگی۔ (1-کُر 10:13) بےشک یہوواہ کی مدد سے ہم آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے چوکس رہ سکتے ہیں۔ م24.07 ص. 19 پ. 19-21
جمعہ، 29 مئی
تمام حاضرین کے سامنے اُن لوگوں کی درستی کریں جو عادتاً گُناہ کرتے ہیں۔—1-تیم 5:20۔
آج کی آیت میں پولُس تیمُتھیُس سے بات کر رہے تھے جو اُنہی کی طرح کلیسیا میں ایک بزرگ تھے۔ اُنہوں نے تیمُتھیُس کو بتایا کہ وہ اُن لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آئیں جو ”عادتاً گُناہ کرتے ہیں۔“ پولُس کی اِس بات کا کیا مطلب تھا کہ ”تمام حاضرین کے سامنے اُن لوگوں کی درستی کریں“؟ یہ ضروری نہیں کہ اِصطلاح ”تمام حاضرین“ کہنے سے پولُس پوری کلیسیا کی طرف اِشارہ کر رہے تھے۔ اِس کی بجائے ”تمام حاضرین“ کہنے سے پولُس کا اِشارہ اُن تمام لوگوں کی طرف تھا جو شاید پہلے سے ہی جانتے تھے کہ گُناہ ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اِس کے چشمدید گواہ تھے یا پھر گُناہ کرنے والے نے خود اُنہیں اپنے گُناہ کے بارے میں بتایا تھا۔ تو بزرگ صرف ایسے لوگوں کو ہی سمجھداری سے بتائیں گے کہ معاملہ حل ہو گیا ہے اور گُناہ کرنے والے کی درستی کی گئی ہے۔ کبھی کبھار کلیسیا میں بہت سے لوگوں کو پہلے سے ہی پتہ ہوتا ہے کہ ایک شخص نے سنگین گُناہ کِیا ہے یا پھر ہو سکتا ہے کہ اُنہیں بعد میں اِس کا علم ہو جائے۔ ایسی صورت میں ”حاضرین“ میں پوری کلیسیا ہی شامل ہوتی ہے۔ اِس لیے ایک بزرگ کلیسیا میں یہ اِعلان کرے گا کہ فلاں بھائی یا بہن کی درستی کی گئی ہے۔ یہ اِعلان کیوں کِیا جانا چاہیے؟ پولُس نے کہا: ”تاکہ باقی لوگوں کو عبرت حاصل ہو“ کہ وہ سنگین گُناہ نہ کریں۔ م24.08 ص. 23-24 پ. 16-17
ہفتہ، 30 مئی
خدا کی یہ باتیں سچی ہیں۔—مُکا 19:9۔
ہمیں اِس دُنیا کے خاتمے تک یہوواہ کی خدمت کرنے میں مصروف رہنا ہوگا۔ مسحشُدہ مسیحیوں کو چوکس رہنا ہوگا تاکہ یسوع اُنہیں آسمان پر اجر دینے کے لیے ’ساتھ لے جائیں۔‘ (متی 24:40) یہ مسحشُدہ مسیحی اُس وقت کا شدت سے اِنتظار کر رہے ہیں جب یسوع اُنہیں آسمان پر ”جمع“کریں گے۔ ہرمجِدّون کی جنگ کے بعد وہ یسوع مسیح کی دُلہن بن جائیں گے۔ (2-تھس 2:1) حالانکہ وہ وقت بہت قریب آ رہا ہے جب یسوع مسیح لوگوں کی عدالت کریں گے لیکن ہمیں اِس بات سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے آسمانی باپ کے وفادار رہیں گے تو وہ ہمیں ایسی قوت دے گا جو ”اِنسانی قوت سے بڑھ کر“ ہوگی تاکہ ہم ”بچ سکیں . . . اور اِنسان کے بیٹے کے سامنے کھڑے ہو سکیں۔“ (2-کُر 4:7؛ لُو 21:36) چاہے ہم آسمان پر ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید رکھتے ہوں یا پھر زمین پر، اگر ہم یسوع مسیح کی مثالوں میں دی گئی آگاہیوں پر دھیان دیتے رہیں گے تو ہمارا شفیق باپ یہوواہ ہم سے خوش ہوگا۔ اُس کی عظیم رحمت کی وجہ سے ہمارے نام زندگی کی کتاب میں لکھے ہوں گے۔—دان 12:1؛ مُکا 3:5۔ م24.09 ص. 24-25 پ. 19-20
اِتوار، 31 مئی
میرے لیے اچھا ہے کہ مَیں خدا کے قریب جاؤں۔—زبور 73:28۔
زبور 73 کو لکھنے والے شخص کی طرح آپ کو بھی ذہنی سکون مل سکتا ہے۔ لیکن کیسے؟ ذرا سوچیں کہ یہوواہ نے آپ کو کون کون سی برکتیں دی ہیں اور یاد رکھیں کہ یہوواہ نے اُن لوگوں کو یہ برکتیں نہیں دیں جو اُس کی عبادت نہیں کرتے۔ اُن کے لیے اچھی نوکری اور آرامدہ زندگی ہی سب کچھ ہے کیونکہ اُنہیں مستقبل کے حوالے سے کوئی اُمید نہیں ہے۔ لیکن یہوواہ نے آپ کو ایسی برکتیں دینے کا وعدہ کِیا ہے جن کا آپ نے تصور بھی نہیں کِیا ہوگا۔ (زبور 145:16) ذرا اِس بارے میں بھی سوچیں: کیا آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر آپ نے اپنی زندگی میں فرق فیصلے کیے ہوتے تو آپ کی زندگی آج سے زیادہ اچھی ہوتی؟ ایک بات تو بالکل پکی ہے کہ جو لوگ یہوواہ اور پڑوسی سے محبت کی بِنا پر فیصلے لیتے ہیں، یہوواہ اُنہیں کسی اچھی چیز سے محروم نہیں رکھتا۔ م24.10 ص. 27 پ. 12-13