اپریل
بدھ، 1 اپریل
میرے باپ کی مرضی یہ ہے کہ جو کوئی بیٹے کو قبول کرے اور اُس پر ایمان ظاہر کرے، اُسے ہمیشہ کی زندگی ملے۔—یوح 6:40۔
ہمیں یسوع مسیح کے گوشت اور خون سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے فدیے پر ایمان ظاہر کرنا ہوگا۔ (اِفِس 1:7) جن لوگوں کو یسوع نے اپنی ”اَور بھی بھیڑیں“ کہا ہے، اُنہیں ہر سال یادگاری تقریب مناتے وقت روٹی اور مے میں سے نہیں کھانا پینا چاہیے۔ (یوح 10:16) لیکن اُنہیں بھی یسوع مسیح کے گوشت اور خون سے فائدہ پہنچتا ہے۔ اُنہیں یسوع کے فدیے پر اور اِس فدیے کے ذریعے ملنے والی برکتوں پر ایمان ظاہر کرنے سے فائدہ پہنچتا ہے۔ (یوح 6:53) لیکن جو لوگ روٹی اور مے میں سے کھاتے پیتے ہیں، وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ نئے عہد میں شامل ہیں اور آسمانی بادشاہت کے وارث ہیں۔ چاہے ہم مسحشُدہ مسیحی ہوں یا مسیح کی اَور بھی بھیڑیں، ہمیں ہمیشہ کی زندگی پانے کے لیے فدیے پر مضبوط ایمان ظاہر کرنا ہوگا۔ م24.12 ص. 12-13 پ. 14، 16
یادگاری تقریب کے حوالے سے پڑھنے کے لیے آیتیں: (جو واقعات دن کے دوران ہوئے: 12 نیسان) متی 26:1-5، 14-16؛ لُوقا 22:1-6
یادگاری کی تاریخ
سورج ڈوبنے کے بعد
جمعرات، 2 اپریل
گھبرائیں مت، چھوٹے گلّے کیونکہ آپ کے باپ نے آپ کو بادشاہت دینے کا فیصلہ کِیا ہے۔—لُو 12:32۔
جب یسوع مسیح نے یادگاری تقریب کا آغاز کِیا تو اُنہوں نے اپنے رسولوں کو بےخمیر روٹی دی اور اُن سے کہا کہ یہ اُن کے جسم کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔ پھر اُنہوں نے اپنے رسولوں کو مے دی اور اُن سے کہا کہ یہ ”عہد کے خون“ کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔ (مر 14:22-25؛ لُو 22:20؛ 1-کُر 11:24) یہ نیا عہد یہوواہ خدا اور ”[روحانی]اِسرائیل کے گھرانے“ کے بیچ باندھا گیا۔ ”اِسرائیل کے گھرانے“ میں صرف وہ لوگ شامل ہیں جو یسوع کے ساتھ ”خدا کی بادشاہت“ میں حکمرانی کریں گے۔ (عبر 8:6، 10؛ 9:15) یسوع مسیح نے یادگاری تقریب کو قائم کرتے وقت جو بات کہی، وہ صرف ”چھوٹے گلّے“ کے لیے تھی۔ لوگوں کے اِس چھوٹے گروہ میں سب سے پہلے تو یسوع کے وفادار رسول شامل تھے جو اُس وقت اُس کمرے میں اُن کے ساتھ تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں آسمان پر یسوع کے ساتھ جگہ ملے گی۔ م24.12 ص. 11 پ. 9-10
یادگاری تقریب کے حوالے سے پڑھنے کے لیے آیتیں: (جو واقعات دن کے دوران ہوئے: 13 نیسان) متی 26:17-19؛ مرقس 14:12-16؛ لُوقا 22:7-13 (جو واقعات سورج ڈوبنے کے بعد ہوئے: 14 نیسان) یوحنا 13:1-5؛ 14:1-3
جمعہ، 3 اپریل
خدا کو دُنیا سے اِتنی محبت ہے کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا دے دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان ظاہر کرے، وہ ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔—یوح 3:16۔
یسوع مسیح کو دھوکا دیا گیا؛ اُنہیں گِرفتار کِیا گیا؛ اُن کی بےعزتی کی گئی؛ اُن پر جھوٹے اِلزام لگائے گئے؛ اُنہیں قصوروار ٹھہرایا گیا، یہاں تک کہ اُنہیں بُری طرح سے مارا پیٹا گیا۔ اِس کے بعد فوجی یسوع کو اپنے ساتھ لے گئے اور اُنہوں نے یسوع کے ہاتھوں اور پیروں میں کیل ٹھونک کر اُنہیں سُولی دے دی۔ جب یسوع مسیح شدید تکلیف سہہ رہے تھے تو اُنہیں تکلیف میں دیکھ کر ایک اَور ہستی کو اُن سے بھی زیادہ تکلیف پہنچ رہی تھی۔ یہ ہستی یہوواہ خدا تھا۔ اگر یہوواہ چاہتا تو وہ اپنی بےپناہ طاقت کو اِستعمال کر کے اپنے بیٹے کو اِس تکلیف سے بچا سکتا تھا لیکن اُس نے ایسا نہیں کِیا۔ مگر کیوں؟ ہم سے محبت کرنے کی وجہ سے۔ یسوع مسیح کی موت اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہوواہ آپ سے کتنا پیار کرتا ہے۔ اُس نے آپ کو گُناہ اور موت سے نجات دِلانے کی خاطر اِس حد تک تکلیف سہی ہے جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ (1-یوح 4:9، 10) بےشک وہ ہم میں سے ہر ایک کی مدد کرنا چاہتا ہے کہ ہم گُناہ سے لڑیں۔ وہ تو مستقبل میں ہمیں مکمل طور پر اِس سے نجات دِلا دے گا۔ م24.08 ص. 6 پ. 13-14
یادگاری تقریب کے حوالے سے پڑھنے کے لیے آیتیں: (جو واقعات دن کے دوران ہوئے: 14 نیسان) یوحنا 19:1-42
ہفتہ، 4 اپریل
مسیح نے . . . آپ کے لیے تکلیف سہی۔—1-پطر 2:21۔
جب ہم اِس بات پر غور کرتے ہیں کہ ہمارے لیے فدیہ فراہم کرنے سے یہوواہ کو کتنی بھاری قیمت چُکانی پڑی تو ہم اُس کی محبت کو اَور بہتر طور پر سمجھ پاتے ہیں۔ شیطان نے یہ دعویٰ کِیا تھا کہ یہوواہ کا کوئی بھی بندہ مشکل وقت آنے پر اُس کا وفادار نہیں رہے گا۔ شیطان کے اِس دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے یہوواہ نے یسوع کو تکلیفدہ موت سہنے دی۔ (ایو 2:1-5) جب لوگ یسوع کا مذاق اُڑا رہے تھے، فوجی اُنہیں مار پیٹ رہے تھے اور سُولی دے رہے تھے تو یہوواہ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ یہوواہ یہ بھی دیکھ رہا تھا کہ اُس کا بیٹا سُولی پر کتنی تکلیف سہہ رہا ہے۔ (متی 27:28-31، 39) اگر یہوواہ چاہتا تو وہ کسی بھی وقت یہ سب کچھ ہونے سے روک سکتا تھا۔ (متی 27:42، 43) لیکن اگر یہوواہ ایسا کرتا تو فدیہ ادا نہ ہوتا اور ہمارے لیے کوئی اُمید نہ رہتی۔ اِس لیے یہوواہ نے اپنے بیٹے کو اُس کی آخری سانس تک تکلیفدہ موت سہنے دی۔ م25.01 ص. 21 پ. 7
یادگاری تقریب کے حوالے سے پڑھنے کے لیے آیتیں: (جو واقعات دن کے دوران ہوئے: 15 نیسان) متی 27:62-66 (جو واقعات سورج ڈوبنے کے بعد ہوئے: 16 نیسان) یوحنا 20:1
اِتوار، 5 اپریل
وہ 40 (چالیس) دن تک اُنہیں دِکھائی دیتے رہے۔—اعما 1:3۔
یہ 16 نیسان 33 عیسوی کی بات ہے۔ یسوع مسیح کے شاگرد غم میں ڈوبے اور بہت زیادہ ڈرے ہوئے تھے۔ اُن میں سے دو شاگرد یروشلم سے اِماؤس جا رہے تھے۔ ایک اجنبی اُن کے پاس آیا اور اُن کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ اُن شاگردوں نے اُسے بتایا کہ وہ یسوع کی موت کی وجہ سے کتنے دُکھی ہیں۔ پھر اُس اجنبی نے اُن سے کچھ ایسی باتیں کرنا شروع کیں جو شاید اُنہیں ساری زندگی یاد رہی ہوں گی۔ اُس نے ”موسیٰ اور نبیوں کے صحیفوں“سے شروع کِیا اور اُنہیں سمجھایا کہ مسیح کو کیوں اذیت سہنی پڑی اور مرنا پڑا۔ پھر جب وہ تینوں اِماؤس پہنچ گئے تو اُس اجنبی نے اُنہیں بتایا کہ وہ دراصل کون ہے۔ وہ کوئی اَور نہیں بلکہ یسوع مسیح تھے جنہیں خدا نے زندہ کر دیا تھا۔ (لُو 24:13-35) زمین پر اپنے آخری 40 دنوں کے دوران یسوع مسیح کئی بار اپنے شاگردوں سے ملے۔ اِن 40 دنوں کے دوران اُن کے پیروکاروں کا غم خوشی میں بدل گیا۔ اور اُن میں دلیری سے دوسروں کو خوشخبری سنانے اور تعلیم دینے کا جذبہ پیدا ہوا۔ م24.10 ص. 12 پ. 1-3
یادگاری تقریب کے حوالے سے پڑھنے کے لیے آیتیں: (جو واقعات دن کے دوران ہوئے: 16 نیسان) یوحنا 20:2-18
سوموار، 6 اپریل
اپنے ایمان کی بنیاد پر مضبوط بنتے جائیں۔—یہوداہ 20۔
ایک بچہ تو خودبخود بڑا ہو جاتا ہے لیکن مسیحیوں میں پختگی خودبخود نہیں آ جاتی۔ مثال کے طور پر کُرنتھس میں رہنے والے مسیحیوں نے خوشخبری کو قبول کِیا، بپتسمہ لیا، اُنہیں یہوواہ کی طرف سے پاک روح ملی اور اُنہیں پولُس رسول سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ (اعما 18:8-11) لیکن بپتسمہ لینے کے کچھ سال بعد اُن میں سے بہت سے مسیحی ابھی بھی روحانی لحاظ سے بچے تھے۔ (1-کُر 3:2) پُختہ مسیحی بننے کے لیے سب سے پہلے تو ہمیں اپنے دل میں ایسا کرنے کی خواہش پیدا کرنی ہوگی۔ جو لوگ ”ناتجربہکاری سے محبت کرتے“ ہیں، وہ روحانی لحاظ سے ننھے بچے ہی رہنا چاہتے ہیں اور کبھی پختگی کی طرف نہیں بڑھنا چاہتے۔ (اَمثا 1:22) ہم کبھی بھی اُن لوگوں کی طرح نہیں بننا چاہتے جو قد سے تو بڑے ہو جاتے ہیں لیکن ابھی بھی یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے ماں باپ اُن کے لیے فیصلے کریں۔ اِس کی بجائے ہم جانتے ہیں کہ یہ ہماری ذمےداری ہے کہ ہم یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو اَور مضبوط کرتے جائیں۔ اگر آپ ابھی بھی پختگی کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہوواہ سے دُعا کریں کہ وہ آپ میں ایسا کرنے کی ”خواہش اور طاقت پیدا“ کرے۔—فِل 2:13۔ م24.04 ص. 4 پ. 9-10
منگل، 7 اپریل
یہوواہ . . . نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص ہلاک ہو۔—2-پطر 3:9۔
یہوواہ نے اپنے کلام میں ہمیں بتایا ہے کہ جب وہ لوگوں کی عدالت کرتا ہے تو وہ کیسا محسوس کرتا ہے۔ (حِز 33:11) یہوواہ بُرے لوگوں کو کبھی فوراً ہلاک نہیں کرتا اور یہ نہیں سوچ لیتا کہ اب وہ اُنہیں دوبارہ زندہ نہیں کرے گا۔ ہمارا شفیق خدا یہوواہ رحم کا سرچشمہ ہے اور جب بھی اُسے نظر آتا ہے کہ ایک شخص پر رحم کِیا جانا چاہیے تو وہ ایسا ضرور کرتا ہے۔ جن لوگوں کو یہوواہ زندہ نہیں کرے گا، اُن کے حوالے سے ہم کون سی بات جانتے ہیں؟ بائبل میں اِس طرح کے کچھ لوگوں کا ذکر ہوا ہے۔ یسوع مسیح نے بتایا کہ یہوداہ اِسکریوتی کو زندہ نہیں کِیا جائے گا۔ (مر 14:21؛ یوح 17:12 اور فٹنوٹ کو بھی دیکھیں۔) یہوداہ اِسکریوتی نے جان بُوجھ کر یہوواہ خدا اور اُس کے بیٹے کے خلاف گُناہ کِیا۔ (مر 3:29 اور فٹنوٹ کو دیکھیں۔) اِس کے علاوہ جن مذہبی رہنماؤں نے یسوع مسیح کی مخالفت کی، اُن میں سے کچھ کے بارے میں یسوع نے بتایا کہ اُن کے زندہ ہونے کی کوئی اُمید نہیں ہے۔ (متی 23:33) اور پولُس رسول نے بھی اِس بات سے آگاہ کِیا کہ جو لوگ یہوواہ سے برگشتہ ہو جاتے ہیں اور توبہ نہیں کرتے، اُنہیں یہوواہ زندہ نہیں کرے گا۔—عبر 6:4-8؛ 10:29۔ م24.05 ص. 4 پ. 10-11
بدھ، 8 اپریل
یہوواہ اپنے وفادار بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔—زبور 31:23۔
اگر ہم یہوواہ کے قریب رہیں گے تو شیطان ہمیں کبھی بھی ابدی نقصان نہیں پہنچا پائے گا۔ (1-یوح 3:8) نئی دُنیا میں بھی یہوواہ خدا اپنے دوستوں کو نہ صرف ایسی چیزوں سے محفوظ رکھے گا جن کی وجہ سے وہ اُس سے دُور ہو سکتے ہیں بلکہ اُنہیں موت سے بھی محفوظ رکھے گا۔ (مُکا 21:4) یہوواہ کے خیمے میں اُس کا مہمان بننا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ یہوواہ کے مہمانوں کی اُس کے ساتھ گہری دوستی ہے جو کبھی نہیں ٹوٹ سکتی۔ (حِز 37:27) لیکن اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ تک یہوواہ کے مہمان بنے رہیں تو ہمیں کیا کرنا ہوگا؟ ذرا اُس وقت کے بارے میں سوچیں جب آپ کسی کے گھر مہمان بن کر جاتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ آپ اپنے میزبان کو خوش کریں۔ اِس لیے آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ آپ سے کن باتوں کی توقع کرتا ہے۔ اِسی طرح ہم بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارا میزبان یہوواہ ہم سے کن باتوں کی توقع کرتا ہے تاکہ ہم اُس کے مہمان بنے رہیں۔ ہم اپنے میزبان سے بہت محبت کرتے ہیں اِسی لیے ہم ”ہر معاملے میں اُسے خوش“ کرنا چاہتے ہیں۔ (کُل 1:10) ہمیں ہمیشہ اُس کا گہرا احترام کرنا چاہیے اور کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ ایک اعلیٰ ہستی ہے۔ یہوواہ کے لیے ہمارا گہرا احترام ہماری مدد کرے گا کہ ہم کوئی بھی ایسا کام نہ کریں جس کی وجہ سے وہ ہم سے ناراض ہو جائے۔ ہم دل سے چاہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ’اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلیں۔‘—میک 6:8۔ م24.06 ص. 4 پ. 8-9
جمعرات، 9 اپریل
اُس نے گُناہگاروں کی خاطر سفارش کی۔—یسع 53:12۔
ایک دن یہوواہ نے اَبراہام سے کہا کہ وہ اپنے بیٹے اِضحاق کو اُس کے حضور قربان کر دیں۔ بےشک اَبراہام کو یہ اپنی زندگی کا سب سے تکلیفدہ کام لگا ہوگا۔ لیکن پھر بھی وہ یہوواہ کا حکم ماننے کو تیار تھے۔ جب اَبراہام اپنے بیٹے کو قربان کرنے ہی والے تھے تو یہوواہ نے اُنہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ لیکن یہوواہ نے اَبراہام کی مثال سے ہمیں ایک اہم سچائی بتائی۔ اُس نے ظاہر کِیا کہ وہ مستقبل میں ہماری خاطر کیا کرنے والا ہے۔ وہ اپنے عزیز بیٹے کو ہمارے لیے قربان کرنے کو تیار تھا۔ اِس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ یہوواہ اِنسانوں سے کتنا پیار کرتا ہے۔ (پید 22:1-18) کئی صدیوں بعد یہوواہ نے بنیاِسرائیل کو شریعت دی جس میں اُس نے اُنہیں بتایا کہ وہ اپنے گُناہوں سے معافی حاصل کرنے کے لیے اُس کے حضور جانوروں کی قربانیاں پیش کریں۔ (احبا 4:27-29؛ 17:11) یہ قربانیاں ایک عظیم قربانی کی طرف اِشارہ کرتی تھیں۔ اِس عظیم قربانی کے ذریعے اِنسانوں کو گُناہ سے مکمل طور پر نجات ملنی تھی۔ خدا نے اپنے نبیوں کے ذریعے بتایا کہ جس نسل کا اُس نے وعدہ کِیا ہے، اُسے تکلیف سہنی پڑے گی اور اُسے موت کے گھاٹ اُتار دیا جائے گا۔ یہ نسل خدا کا اپنا بیٹا ثابت ہوا جسے خدا نے تمام اِنسانوں کو جس میں آپ بھی شامل ہیں،گُناہ اور موت سے نجات دِلانے کے لیے قربان کر دیا!—یسع 53:1-12۔ م24.08 ص. 4 پ. 7-8
جمعہ، 10 اپریل
مجھے تیرے قوانین سے بےحد پیار ہے! مَیں دن بھر اِن پر سوچ بچار کرتا رہتا ہوں۔—زبور 119:97۔
آپ جب بھی بائبل پڑھیں، اِس بارے میں ضرور سوچیں کہ جو کچھ آپ نے پڑھا ہے، آپ اُس پر عمل کیسے کریں گے۔ بائبل پڑھتے وقت خود سے پوچھیں:”جو کچھ مَیں نے پڑھا ہے، مَیں اُس پر ابھی اور مستقبل میں کیسے عمل کر سکتا ہوں؟“ اِس بات کو سمجھنے کے لیے فرض کریں کہ آپ نے 1-تھسلُنیکیوں 5:17، 18 پڑھی ہیں۔اِن آیتوں کو پڑھنے کے بعد آپ تھوڑی دیر کے لیے رُک کر اِس بارے میں سوچ سکتے ہیں کہ آپ کتنی بار اور کتنی شدت سے دُعا کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ آپ اُن باتوں کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں جن کے لیے آپ یہوواہ کے شکرگزار ہیں۔ شاید آپ اِس بات کا عزم کر سکتے ہیں کہ آپ ہر بار دُعا کرتے وقت یہوواہ کی تین خاص برکتوں کے لیے اُس کا شکر ادا کریں گے۔ اگر آپ صرف کچھ منٹ کے لیے ہی اُن باتوں پر سوچ بچار کریں گے جو آپ بائبل میں پڑھتے ہیں تو آپ نہ صرف کلام کو سنیں گے بلکہ اِس پر عمل بھی کر پائیں گے۔ ذرا سوچیں کہ ہر دن جب آپ اُن باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے جو آپ نے بائبل میں پڑھی ہیں تو آپ کو کتنا زیادہ فائدہ ہوگا! آپ اَور زیادہ بہتر مسیحی بن جائیں گے۔ م24.09 ص. 4-5 پ. 9-10
ہفتہ، 11 اپریل
خبردار رہیں کہ آپ اُن چیزوں کو کھو نہ بیٹھیں جن کے لیے ہم نے محنت کی تھی بلکہ آپ کو پورا پورا اجر ملے۔—2-یوح 8۔
یہوواہ نے ہمیں بناتے وقت ہم میں ایک خاص صلاحیت ڈالی۔ سچ ہے کہ ہمیں اُس وقت بہت خوشی ملتی ہے جب کوئی ہمارے لیے کچھ کرتا ہے لیکن جب ہم کسی کے لیے کچھ کرتے ہیں تو ہمیں اَور بھی زیادہ خوشی ملتی ہے۔ ہمیں اُس وقت بہت اچھا لگتا ہے جب ہم کسی نہ کسی طرح سے اپنے بہن بھائیوں کی مدد کرتے ہیں۔ اور جب وہ اِس کے لیے ہماری قدر کرتے ہیں تو ہمیں بہت خوشی ملتی ہے۔ لیکن چاہے کوئی ہمارا شکرگزار ہو یا نہ ہو، ہم اِس بات سے خوش ہو سکتے ہیں کہ ہم نے صحیح کام کِیا۔ کبھی نہ بھولیں کہ جو کچھ آپ دوسروں کو دیتے ہیں، ’یہوواہ آپ کو اِس سے بہت زیادہ دے سکتا ہے۔‘ (2-توا 25:9) ہم تو دوسروں کو اُتنا دے بھی نہیں سکتے جتنا یہوواہ اُس کے بدلے میں ہمیں دیتا ہے! بھلا ہمارے لیے اِس سے زیادہ خوشی کی بات اَور کیا ہو سکتی ہے کہ یہوواہ ہمیں ہماری اچھائی کا صلہ دے! آئیے یہ عزم کریں کہ آپ اپنے آسمانی باپ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے فراخدلی دِکھاتے رہیں گے۔ م24.09 ص. 30-31 پ. 20-21
اِتوار، 12 اپریل
اَے یہوواہ میرے خدا! مَیں پورے دل سے تیری بڑائی کرتا ہوں؛ مَیں ہمیشہ تیرے نام کی تعظیم کروں گا۔—زبور 86:12۔
یہوواہ رحمدل اور ہمدرد خدا ہے۔ (زبور 103:13؛ یسع 49:15) جب ہم تکلیف میں ہوتے ہیں تو اُسے یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے۔ (زِک 2:8) اُس نے ہمارے لیے یہ ممکن بنایا ہے کہ ہم بڑی آسانی سے اُس کے دوست بن جائیں۔ (زبور 25:14؛ اعما 17:27) وہ بہت فروتن ہے۔ ”وہ آسمان اور زمین کو دیکھنے کے لیے نیچے جھکتا ہے۔ وہ ادنیٰ شخص کو خاک سے . . . اُٹھاتا ہے۔“ (زبور 113:6، 7) بھلا کون اِتنے عظیم خدا کی تعظیم نہیں کرنا چاہے گا؟ ہم یہوواہ کی تعظیم اِس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے اُسے جانیں۔ بہت سے لوگ یہوواہ کے بارے میں سچائی نہیں جانتے۔ کیوں؟ کیونکہ شیطان نے یہوواہ کے بارے میں بہت سے بھیانک جھوٹ پھیلا کر لوگوں کی عقلوں کو اندھا کر دیا ہے۔ (2-کُر 4:4) شیطان نے لوگوں کو اِس بات پر قائل کر لیا ہے کہ یہوواہ گُناہ کرنے والے لوگوں کو بالکل نہیں بخشتا، اُسے کسی کی پرواہ نہیں اور دُنیا میں پائی جانے والی زیادہتر مصیبتوں کے پیچھے اُسی کا ہاتھ ہے۔ لیکن ہم اپنے خدا کے بارے میں سچائی جانتے ہیں! ہمیں یہ خاص اعزاز ملا ہے کہ ہم لوگوں کو اپنے شفیق اور مہربان خدا کے بارے میں بتائیں اور یوں اُس کی تعظیم کریں۔—یسع 43:10۔ م25.01 ص. 3 پ. 6-7
سوموار، 13 اپریل
شیطان . . . ساری دُنیا کو گمراہ کر رہا ہے۔—مُکا 12:9۔
پہلی صدی عیسوی میں شیطان نے کچھ لوگوں کے ذریعے خدا کے بےعیب بیٹے کے بارے میں ایک کے بعد ایک جھوٹ پھیلائے۔ مثال کے طور پر یسوع مسیح اپنے آسمانی باپ کی طاقت سے معجزے کرتے تھے۔ لیکن مذہبی رہنماؤں نے لوگوں کو بتایا کہ یسوع مسیح ”بُرے فرشتوں کے حاکم“ کی مدد سے بُرے فرشتوں کو نکالتے ہیں۔ (مر 3:22) اور جب یسوع مسیح پر مُقدمہ چل رہا تھا تو مذہبی رہنماؤں نے اُن پر خدا کے خلاف کفر بکنے کا اِلزام لگایا اور لوگوں کو اُکسایا کہ وہ یسوع کو مار ڈالنے کی مانگ کریں۔ (متی 27:20) پھر بعد میں جب یسوع مسیح کے پیروکاروں نے خوشخبری کی مُنادی کی تو اُن کے مخالفوں نے لوگوں کو بھڑکایا اور اُنہیں مسیحیوں کے خلاف کر دیا۔ (اعما 14:2، 19) اعمال 14:2 کے بارے میں 1 دسمبر 1998ء کے ”مینارِنگہبانی“ میں لکھا تھا: ”یہودی مخالفین نے نہ صرف خود پیغام کو رد کِیا بلکہ غیرقوم آبادی میں مسیحیوں کے خلاف تعصب پیدا کرنے کی کوشش میں[جھوٹے اِلزامات]لگانے شروع کر دیے۔“ شیطان آج بھی ”ساری دُنیا کو گمراہ کر رہا ہے۔“ م24.04 ص. 11 پ. 15-16
منگل، 14 اپریل
کیا ساری دُنیا کا منصف اِنصاف نہیں کرے گا؟—پید 18:25۔
ایک شخص کی ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید اِس بات پر نہیں ٹکی ہوئی کہ وہ کب مرے گا۔ یہوواہ ایک ایسا منصف ہے جس سے کبھی کوئی غلطی ہو ہی نہیں سکتی۔ وہ ہمیشہ اِنصاف سے فیصلہ کرتا ہے۔ (زبور 33:4، 5) اِس لیے ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ ”ساری دُنیا کا منصف“ جو بھی کرتا ہے، ہمیشہ صحیح ہوتا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک شخص کی ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید اِس بات پر نہیں ٹکی ہوئی کہ وہ کہاں رہتا ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہوواہ خدا اُن لاکھوں لوگوں کو ”بکریاں“ قرار دے دے جو ایسے ملکوں میں رہ رہے ہیں جہاں اُنہیں کبھی بادشاہت کی خوشخبری سننے کا موقع ہی نہیں ملا۔ (متی 25:46) جتنی زیادہ ہمارے دل میں اِن لوگوں کے لیے فکر ہے، اُس سے کہیں زیادہ اُن کی فکر ساری دُنیا کے رحمدل منصف کو ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ بڑی مصیبت کے دوران یہوواہ حالات کا رُخ کیسے موڑے گا۔ لیکن جب یہوواہ بڑی مصیبت کے دوران سب قوموں کے سامنے اپنے نام کی بڑائی کرے گا تو ہو سکتا ہے کہ اِن لوگوں کو یہوواہ کے بارے میں سیکھنے، اُس پر ایمان ظاہر کرنے اور اُس کی حمایت کرنے کا موقع ملے۔—حِز 38:16۔ م24.05 ص. 12 پ. 14-15
بدھ، 15 اپریل
ایک دوسرے سے . . . محبت کریں۔—یوح 15:12۔
یہوواہ کے بندوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ (2-کُر 8:4) لیکن کبھی کبھار اُنہیں ایسا کرنے کے لیے ہمت اور دلیری چاہیے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جب کسی جگہ جنگ چھڑتی ہے تو وہاں کی کلیسیاؤں کے بزرگ جانتے ہیں کہ اُن کے بہن بھائیوں کو بائبل سے حوصلے اور تسلی کی اور شاید کھانے پینے کی چیزوں کی ضرورت ہو۔ یہ بزرگ اپنے اِن ہمایمانوں سے محبت کرنے کی وجہ سے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اُن تک ضرورت کی چیزیں پہنچاتے ہیں۔ خطرناک صورتحال میں یہ بہت ہی ضروری ہوتا ہے کہ ہم اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ متحد رہیں۔ اِس لیے جب آپ کو ایسی صورتحال میں اپنی مقامی برانچ کی طرف سے ہدایتیں ملتی ہیں تو اُن پر عمل کریں۔ (عبر 13:17) کلیسیا کے بزرگوں کو باقاعدگی سے اُن ہدایتوں کو دیکھنا چاہیے جن میں بتایا گیا ہے کہ ہم خود کو آفت کے لیے کیسے تیار کر سکتے ہیں اور جب کوئی آفت آتی ہے تو ہم اُس وقت کیا کر سکتے ہیں۔ (1-کُر 14:33، 40) دلیر بنیں مگر محتاط بھی رہیں۔ (اَمثا 22:3) کچھ بھی کرنے سے پہلے سوچیں اور بِلاوجہ کوئی خطرہ نہ مول لیں۔ یہوواہ پر بھروسا کریں۔ وہ آپ کی مدد کر سکتا ہے تاکہ آپ محفوظ طریقے سے اپنے بہن بھائیوں کی مدد کر سکیں۔ م24.07 ص. 4 پ. 8؛ ص. 5 پ. 11
جمعرات، 16 اپریل
مَیں نے پریشانی کے عالم میں یہوواہ کو پکارا . . . اور مدد کے لیے میری فریاد اُس کے کانوں تک پہنچی۔—زبور 18:6۔
بادشاہ داؤد یہوواہ کو اچھی طرح سے جانتے تھے اور اُس پر پورا بھروسا کرتے تھے۔ جب داؤد کے دُشمن اُن کی جان لینے پر تُلے ہوئے تھے جن میں بادشاہ ساؤل بھی شامل تھے تو داؤد نے مدد کے لیے یہوواہ سے دُعا کی۔ جب یہوواہ نے داؤد کی دُعا کا جواب دیا اور اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے ہاتھ سے بچایا تو داؤد نے کہا: ”یہوواہ زندہ خدا ہے!“ (زبور 18:46) یہ بات کہنے سے داؤد صرف یہ تسلیم نہیں کر رہے تھے کہ یہوواہ موجود ہے۔ زبور کی کتاب پر تبصرہ کرنے والی ایک کتاب میں بتایا گیا ہے کہ داؤد یہوواہ کے بارے میں یہ بات یقین سے کہہ رہے تھے کہ ”وہ زندہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔“ واقعی داؤد نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ اُن کا سچا اور زندہ خدا جانتا ہے کہ اُن کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور وہ اُن کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ اِس یقین کی وجہ سے داؤد کا یہ عزم اَور پکا ہو گیا کہ وہ اپنے خدا کی عبادت اور اُس کی بڑائی کرتے رہیں گے۔ (زبور 18:28، 29، 49) اگر ہم اِس بات پر پکا یقین رکھیں گے کہ یہوواہ زندہ خدا ہے تو ہم جوش سے اُس کی خدمت کر پائیں گے۔ اِس سے ہمیں مشکلوں کو ثابتقدمی سے برداشت کرنے کی طاقت ملے گی اور ہمارے دل میں لگن سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اِس کے علاوہ ہمارا یہ عزم بھی اَور مضبوط ہو جائے گا کہ ہم یہوواہ کے قریب رہیں۔ م24.06 ص. 20-21 پ. 3-4
جمعہ، 17 اپریل
کسی کی باتوں میں نہ آئیں۔—2-تھس 2:3۔
پولُس رسول نے تھسلُنیکے میں رہنے والے مسیحیوں کے نام جو خط لکھا، اُس سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ جب ہم کوئی ایسی بات یا خبر سنتے ہیں جو بائبل میں لکھی تعلیمات سے میل نہیں کھاتی تو ہمیں اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اِستعمال کرنا چاہیے۔ اِس سلسلے میں ذرا ایک واقعے پر غور کریں۔ سابقہ سوویت یونین میں حکومت کے کچھ لوگوں نے ہمارے بھائیوں کو ایک ایسا خط بھیجا جسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ یہ خط اُنہیں ہمارے مرکز ی دفتر کی طرف سے ملا ہے۔ اِس خط میں یہ حوصلہافزائی کی گئی تھی کہ کچھ بھائی الگ سے ایک تنظیم قائم کریں۔ خط کو دیکھ کر بھائیوں کو لگ رہا تھا کہ یہ اُنہیں مرکزی دفتر کی طرف سے ہی ملا ہے۔ لیکن ہمارے بھائی دھوکے میں نہیں آئے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ خط میں لکھی باتیں اُن تعلیمات کے مطابق نہیں ہیں جو اُنہوں نے بائبل سے سیکھی ہیں۔ آج بھی سچائی کے دُشمن کبھی کبھار جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہمیں گمراہ کرنا اور ہم میں پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ جب وہ ایسا کرتے ہیں تو ’فوراً اُلجھن میں پڑنے اور پریشان ہونے‘ کی بجائے ہم اِس بات پر غور کر سکتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یا سُن رہے ہیں، کیا وہ اُن سچائیوں کے مطابق بھی ہے جو ہم نے سیکھی ہیں؟ اِس طرح ہم خود کو جھوٹی باتوں سے محفوظ رکھ پائیں گے۔—2-تھس 2:2؛ 1-یوح 4:1۔ م24.07 ص. 12 پ. 14-15
ہفتہ، 18 اپریل
اگر کوئی شخص گُناہ کرے بھی تو . . . ہمارا ایک مددگار ہے۔—1-یوح 2:1۔
ایک شخص اپنی زندگی میں سب سے بڑا اور اہمترین فیصلہ تب لیتا ہے جب وہ اپنی زندگی یہوواہ کے نام کرتا ہے اور اُس کے خاندان کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہر شخص یہ فیصلہ لے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ اِنسان اُس کے دوست بنیں اور ہمیشہ تک زندہ رہیں۔ (اِست 30:19، 20؛ گل 6:7، 8) لیکن یہوواہ کسی بھی شخص کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ اُس کی عبادت کرے۔ اُس نے ہر شخص کو خود یہ فیصلہ کرنے کی آزادی دی ہے۔ لیکن اگر کوئی بپتسمہیافتہ مسیحی سنگین گُناہ کر کے یہوواہ کا حکم توڑ دیتا ہے تو پھر کیا کِیا جانا چاہیے؟ اگر وہ اپنے گُناہ سے توبہ نہیں کرتا تو اُسے کلیسیا سے نکال دیا جانا چاہیے۔ (1-کُر 5:13) جب ایسا ہوتا ہے تو یہوواہ پھر بھی اِس بات کی اُمید نہیں چھوڑتا کہ گُناہ کرنے والا شخص ایک دن اُس کی طرف لوٹ آئے گا۔ دراصل اِسی وجہ سے تو اُس نے اِنسانوں کے لیے فدیہ فراہم کِیا ہے تاکہ اُن لوگوں کو معافی مل سکے جو اپنے گُناہ سے توبہ کرتے ہیں۔ ہمارا شفیق خدا گُناہ کرنے والے لوگوں سے بڑے پیار سے درخواست کرتا ہے کہ وہ توبہ کریں۔—زِک 1:3؛ روم 2:4؛ یعقو 4:8۔ م24.08 ص. 14 پ. 1-2
اِتوار، 19 اپریل
اگر آپ کا دل دانشمند بنے گا تو میرا دل خوش ہوگا۔—اَمثا 23:15۔
جب یوحنا رسول نے اپنا تیسرا خط لکھا تھا تو اُس وقت کچھ لوگ کلیسیا میں جھوٹی تعلیمات پھیلا رہے تھے اور بہن بھائیوں میں پھوٹ ڈال رہے تھے۔ لیکن اِس کے باوجود کچھ بہن بھائی ’سچائی کے مطابق چلتے رہے۔‘ وہ یہوواہ کے فرمانبردار تھے اور ”اُس کے حکموں کے مطابق“ چل رہے تھے۔ (2-یوح 4، 6) اِن مسیحیوں کو دیکھ کر نہ صرف یوحنا بلکہ یہوواہ خدا بھی بہت خوش تھا۔ (اَمثا 27:11) ہم اِس سے کیا سیکھتے ہیں؟ یہوواہ کے وفادار رہنے سے ہمیں اور دوسروں کو خوشی ملتی ہے۔ (1-یوح 5:3) مثال کے طور پر ہمیں اِس احساس سے خوشی ملتی ہے کہ یہوواہ ہم سے خوش ہے۔ اور یہوواہ یہ دیکھ کر خوش ہوتا ہے کہ ہم آزمائش کا مقابلہ کرتے ہیں اور سچائی سے لپٹے رہتے ہیں۔ آسمان پر فرشتے بھی یہ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ (لُو 15:10) ہمیں بھی بہت خوشی ملتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے بہن بھائی یہوواہ کے وفادار ہیں۔ (2-تھس 1:4) پھر جب اِس دُنیا کا خاتمہ ہو جائے گا تو ہمیں اِس بات سے خوشی اور اِطمینان ملے گا کہ ہم ایسی دُنیا میں بھی یہوواہ کے وفادار رہے تھے جو شیطان کے قبضے میں تھی۔ م24.11 ص. 12 پ. 17-18
سوموار، 20 اپریل
ہر شخص اپنے فائدے کا نہیں بلکہ دوسروں کے فائدے کا سوچے۔—1-کُر 10:24۔
کسی شخص سے شادی کی خواہش کا اِظہار کرنے سے پہلے آپ کو اُسے کتنے عرصے تک پرکھنا چاہیے؟ اگر آپ جلد ہی اُس سے اپنی خواہش کا اِظہار کر دیں گے تو ہو سکتا ہے کہ اُسے لگے کہ آپ نے فیصلہ کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچا نہیں ہے۔ (اَمثا 29:20) لیکن اگر آپ اپنی خواہش کا اِظہار کرنے میں بہت زیادہ وقت لگائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ اُسے لگے کہ آپ فیصلے کرنے میں ڈانوانڈول ہیں، خاص طور پر اُس وقت جب اُسے صاف نظر آ رہا ہو کہ آپ اُسے پسند کرتے ہیں۔ (واعظ 11:4) لیکن اِس بات کو بھی یاد رکھیں کہ کسی شخص سے شادی کی خواہش کا اِظہار کرنے سے پہلے یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ یہ پکا یقین کر لیں کہ آپ اُسی سے شادی کریں گے۔ اِس کی بجائے آپ کو اِس بات کا پکا یقین ہونا چاہیے کہ آپ شادی کرنے کے لیے تیار ہیں اور جس شخص کو آپ جاننے والے ہیں، وہ آپ کے لیے اچھا جیون ساتھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کوئی شخص آپ کو پسند کرتا ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ اگر آپ اُس شخص کے لیے ویسے احساسات نہیں رکھتے جیسے وہ آپ کے لیے رکھتا ہے تو اِسے اپنے کاموں سے بھی ظاہر کریں۔ یہ بہت بُری بات ہوگی کہ آپ اُس شخص کو یہ تاثر دیں کہ بات آگے بڑھ سکتی ہے جبکہ آپ ایسا بالکل بھی نہیں چاہتے۔—اِفِس 4:25۔ م24.05 ص. 23 پ. 9-10
منگل، 21 اپریل
مَیں دوبارہ آؤں گا اور آپ کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤں گا۔—یوح 14:3۔
یسوع مسیح اپنی آسمانی بادشاہت میں صرف اُنہی مسحشُدہ مسیحیوں کو ’ساتھ لے جائیں گے‘ جو واقعی یہوواہ کی پاک روح سے مسح ہوں گے اور یہوواہ کے وفادار ہوں گے۔ اگر کوئی مسحشُدہ مسیحی چوکس نہیں رہے گا تو اُسے ”چُنے ہوئے لوگوں“ کے طور پر جمع نہیں کِیا جائے گا۔ (متی 24:31) چاہے یہوواہ کا کوئی بندہ زمین پر ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید رکھتا ہو یا آسمان پر، اُن سبھی کو یسوع مسیح کی اِس آگاہی پر دھیان دینا چاہیے کہ وہ چوکس رہیں اور یہوواہ کے وفادار رہیں۔ ہم یہوواہ کو اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ وہ جو بھی فیصلہ کرتا ہے، وہ ہمیشہ صحیح ہوتا ہے اور اِنصاف پر ٹکا ہوتا ہے۔ اِس لیے اگر یہوواہ ہمارے زمانے میں کسی کو اپنی پاک روح سے مسح کرتا ہے تو ہم اُس کے اِس فیصلے پر اِعتراض نہیں کرتے۔ ہم یسوع مسیح کی وہ بات یاد رکھتے ہیں جو اُنہوں نے انگوروں کے باغ والی مثال میں گیارہویں گھنٹے والے مزدوروں کے بارے میں کہی تھی۔ (متی 20:1-16) باغ کے مالک نے گیارہویں گھنٹے والے مزدوروں کو بھی اُتنی ہی مزدوری دی جتنی اُس نے اُن مزدوروں کو دی تھی جنہوں نے سارا دن تپتی دھوپ میں کام کِیا تھا۔ تو اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مسحشُدہ مسیحیوں کو کب چُنا جاتا ہے۔ چاہے اُنہیں جب بھی چُنا جائے، اُنہیں اُن کا اجر تبھی ملے گا اگر وہ آخر تک یہوواہ کے وفادار رہیں گے۔ م24.09 ص. 24 پ. 15-17
بدھ، 22 اپریل
مسیح نے . . . آپ کے لیے تکلیف سہی اور یوں آپ کے لیے مثال چھوڑی تاکہ آپ اُس کے نقشِقدم پر چلیں۔—1-پطر 2:21۔
یسوع مسیح نے نااِنصافی کو برداشت کرنے کے حوالے سے بہترین مثال قائم کی۔ غور کریں کہ اُن کے گھر والوں اور دوسرے لوگوں نے اُن کے ساتھ کیسا سلوک کِیا۔ اُن کے غیر ایمان رشتےداروں نے اُن کے بارے میں کہا کہ اُن کا دماغ خراب ہو گیا ہے، مذہبی رہنماؤں نے اُن پر یہ جھوٹا اِلزام لگایا کہ وہ بُرے فرشتوں کی مدد سے معجزے کرتے ہیں اور رومی فوجیوں نے اُن کا مذاق اُڑایا، اُنہیں مارا پیٹا یہاں تک کہ اُنہیں قتل کر دیا۔ (مر 3:21، 22؛ 14:55؛ 15:16-20، 35-37) یسوع مسیح نے اِن ساری نااِنصافیوں کو برداشت کِیا اور بدلہ نہیں لیا۔ ہم اُن سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (1-پطر 2:21-23) یسوع مسیح نے ہمیں دِکھایا کہ جب ہمارے ساتھ نااِنصافی ہوتی ہے تو ہمیں کیسا رویہ اپنانا چاہیے۔ یسوع اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اُنہیں کب چپ رہنا چاہیے اور کب بولنا چاہیے۔ (متی 26:62-64) مثال کے طور پر اُنہوں نے اپنے اُوپر لگے ہر جھوٹے اِلزام کی صفائی پیش نہیں کی۔ (متی 11:19) اور جب یسوع کو لگا کہ اُنہیں بولنا چاہیے تو اُنہوں نے اپنے مخالفوں کی بےعزتی نہیں کی اور نہ ہی اُنہیں ڈرایا دھمکایا۔ م24.11 ص. 4-5 پ. 9-10
جمعرات، 23 اپریل
مسیح یسوع گُناہگاروں کو نجات دِلانے کے لیے دُنیا میں آئے۔—1-تیم 1:15۔
تصور کریں کہ آپ اپنے کسی عزیز کو ایک بہت ہی خاص تحفہ دیتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ تحفہ نہ صرف اُسے بہت خوبصورت لگے گا بلکہ اُس کے بہت کام بھی آئے گا۔ لیکن ذرا سوچیں کہ اگر وہ اِس تحفے کو اُٹھا کر الماری میں رکھ دے اور پھر اِسے کبھی نہ دیکھے اور نہ ہی کبھی اِس بارے میں سوچے کہ آپ نے اُسے یہ کتنی محبت سے دیا ہے تو کیا آپ کو دُکھ نہیں ہوگا؟ لیکن اگر وہ اِس تحفے کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرے گا اور اِسے اچھی طرح سے اِستعمال بھی کرے گا تو یقیناً آپ کو بہت خوشی ہوگی۔ اِس مثال کا فدیے سے کیا تعلق ہے؟ فدیہ یہوواہ کی طرف سے ایک بیشقیمت تحفہ ہے۔ یہوواہ نے ہماری خاطر اپنا بیٹا قربان کر دیا۔ ذرا سوچیں کہ جب ہم یہوواہ کے اِس تحفے اور اُس کی محبت کے لیے دل سے اُس کا شکریہ ادا کرتے ہیں تو یہوواہ کو یہ دیکھ کر کتنی خوشی ہوتی ہوگی! ہم سے محبت کرنے کی وجہ سے ہی اُس نے ہمارے لیے فدیے کا بندوبست کِیا۔ (یوح 3:16؛ روم 5:7، 8) لیکن ہو سکتا ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے، ہمارے دل میں فدیے کی اہمیت کم ہوتی جائے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہوگا جیسے ہم یہوواہ کے دیے ہوئے بیشقیمت تحفے کو کہیں سنبھال کر رکھ دیں اور پھر نہ تو کبھی اِسے دیکھیں اور نہ ہی کبھی اِس کے بارے میں سوچیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو تو ہمیں باقاعدگی سے اُن کاموں پر سوچ بچار کرنا چاہیے جو یہوواہ اور یسوع نے ہمارے لیے کیے ہیں۔ م25.01 ص. 26 پ. 1-2
جمعہ، 24 اپریل
اِن باتوں پر سوچ بچار کریں، اِن میں مگن رہیں تاکہ سب لوگ دیکھ سکیں کہ آپ پختگی حاصل کر رہے ہیں۔—1-تیم 4:15۔
جس بھائی کو بزرگ کے طور پر مقرر کِیا جاتا ہے، وہ ایسا شخص نہیں ہوتا جو نیا نیا شاگرد بنا ہو۔ سچ ہے کہ بزرگ بننے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ایک بھائی بہت سالوں سے بپتسمہیافتہ مسیحی ہو لیکن ایک بھائی کو پُختہ مسیحی بننے میں وقت لگتا ہے۔ بزرگ بننے سے پہلے ایک بھائی کو یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ یسوع مسیح کی طرح وہ خاکسار ہے اور کسی بھی طرح سے یہوواہ کی خدمت کرنے کو تیار ہے۔ (متی 20:23؛ فِل 2:5-8) اُسے کلیسیا میں کوئی ذمےداری پانے کے لیے صبر سے یہوواہ پر آس لگانے کی ضرورت ہے۔ اُسے وفادار بھی ہونا چاہیے جس کا مطلب ہے کہ وہ یہوواہ کا وفادار ہو اور اُس کے معیاروں کے مطابق زندگی گزارے اور اُس کی تنظیم کی ہدایتوں کو مانے۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ نگہبانوں کو تعلیم دینے کے لائق ہونا چاہیے۔ لیکن کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ ایک بزرگ کو بہت ہی شاندار مقرر ہونا چاہیے؟ نہیں۔ بھلے ہی بہت سے قابل بزرگ اِتنی اچھی تقریریں نہ کرتے ہوں لیکن وہ مُنادی میں بہت اچھے سے دوسروں کو تعلیم دیتے ہیں اور اپنے کسی ہمایمان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اُسے بہت زبردست طریقے سے بائبل سے تسلی دیتے ہیں۔ م24.11 ص. 23 پ. 14-15
ہفتہ، 25 اپریل
مَیں تیرے حکموں سے سونے، ہاں، خالص سونے سے بھی زیادہ پیار کرتا ہوں۔—زبور 119:127۔
جب آپ بائبل میں کوئی ایسی بات پڑھتے ہیں جسے آپ پوری طرح سے نہیں سمجھ پاتے تو تحقیق کریں۔ پھر پورا دن اُن باتوں پر سوچ بچار کریں جو آپ کو تحقیق کرنے سے پتہ چلی ہیں اور سوچیں کہ اِن سے آپ کو یہوواہ اور اُس کے بیٹے کی محبت کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے جو اُنہوں نے آپ کے لیے دِکھائی ہے۔ (زبور 119:97، فٹنوٹ) اگر ہر بار بائبل پڑھتے یا تحقیق کرتے وقت آپ کو کوئی نئی یا دلچسپ بات سیکھنے کو نہیں ملتی تو بےحوصلہ نہ ہوں۔ خود کو ایک ایسے شخص کی طرح سمجھیں جو سونا تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اکثر سونا تلاش کرنے والے شخص کو سونے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ڈھونڈنے میں بھی کئی گھنٹے یا دن لگ جاتے ہیں۔ لیکن وہ ہمت نہیں ہارتا بلکہ صبر سے ایک ایک ٹکڑے کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھلے ہی یہ ٹکڑے بہت چھوٹے ہوتے ہیں لیکن یہ بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ بائبل کی تو ایک ایک سنہری بات اِس سونے سے کہیں زیادہ قیمتی ہے! (اَمثا 8:10) اِس لیے صبر سے کام لیں اور بائبل کو پڑھنا اور اِس میں سے نئی نئی باتیں تلاش کرنا نہ چھوڑیں۔—زبور 1:2۔ م25.01 ص. 24-25 پ. 14-15
اِتوار، 26 اپریل
جیسے یہوواہ نے آپ کو دل سے معاف کِیا ہے ویسے ہی آپ بھی دوسروں کو معاف کریں۔—کُل 3:13۔
یہوواہ ہم سے توقع کرتا ہے کہ ہم اُن لوگوں کو معاف کرنے کے لیے تیار رہیں جو ہمارا دل دُکھاتے ہیں۔ (زبور 86:5؛ لُو 17:4؛ اِفِس 4:32) شاید ہمیں اُس وقت بہت تکلیف ہو جب کوئی شخص، خاص طور پر ہمارا قریبی دوست یا گھر کا کوئی فرد ہم سے دل دُکھانے والی بات کہتا ہے۔ (زبور 55:12-14) کبھی کبھار تو یہ درد اِتنا شدید ہوتا ہے کہ ہمیں ایسے لگ سکتا ہے جیسے کسی نے ہماری پیٹھ میں چُھرا گھونپ دیا ہو۔ (اَمثا 12:18) شاید ہم اپنے درد کو دبانے یا اِسے نظرانداز کرنے کی پوری کوشش کریں۔ لیکن یہ ایسے ہی ہوگا جیسے ہم اُس چُھرے کو اپنے زخم میں ہی رہنے دیں۔ اِس طرح تو زخم کبھی نہیں بھرے گا اور تکلیف وہیں کی وہیں رہے گی۔ تو اپنے احساسات کو نظرانداز نہ کریں۔ اِس سے تکلیف دُور نہیں ہوگی۔ ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ ایسا کرنے سے سب کچھ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ جب کوئی ہمارا دل دُکھاتا ہے تو شاید ہمیں فوراً غصہ آ جائے۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ہم سبھی کو غصہ آ سکتا ہے۔ لیکن اِس میں ہمیں خبردار کِیا گیا ہے کہ ہمیں اِس غصے کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ (زبور 4:4؛ اِفِس 4:26) کیوں؟ کیونکہ غصے میں کیے جانے والے کاموں کے کوئی اچھے نتیجے نہیں نکلتے۔ (یعقو 1:20) یاد رکھیں کہ غصہ آ جانا ہمارے اِختیار میں نہیں لیکن یہ ہمارے اِختیار میں ہے کہ ہم غصے میں رہیں گے یا نہیں۔ م25.02 ص. 15 پ. 4-6
سوموار، 27 اپریل
دانشمندی . . . اپنے مالک کی جان کو محفوظ[رکھتی]ہے۔—واعظ 7:12۔
یسوع مسیح نے ایک امیر آدمی کی مثال دی جس کے ذریعے اُنہوں نے سمجھایا کہ وہ شخص کتنا بےوقوف ہوتا ہے جو اپنا دھیان پیسہ جمع کرنے پر رکھتا ہے لیکن ”خدا کی نظر میں امیر ہونے کی کوشش نہیں“ کرتا۔ (لُو 12:16-21) ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ کل ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ (اَمثا 23:4، 5؛ یعقو 4:13-15) اور مسیح کا شاگرد ہونے کی وجہ سے تو ہمیں ایک اَور مشکل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یسوع مسیح نے کہا تھا کہ اُن کا شاگرد بننے کے لیے ہمیں اپنے سارے مالودولت کو ’چھوڑ دینے‘ کو تیار ہونا چاہیے۔ (لُو 14:33، فٹنوٹ) پہلی صدی عیسوی میں یہودیہ میں رہنے والے مسیحیوں نے خوشی خوشی اپنے مالودولت کو قربان کر دیا۔ (عبر 10:34) آج بھی بہت سے مسیحیوں کو اِس وجہ سے اپنا پیسہ اور نوکری کھونی پڑتی ہے کیونکہ وہ کسی سیاسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے۔ (مُکا 13:16، 17) وہ اِن چیزوں کو قربان کرنے کو تیار کیوں ہوتے ہیں؟ اِس لیے کیونکہ وہ یہوواہ کے اِس وعدے پر پکا بھروسا رکھتے ہیں: ”مَیں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ مَیں تمہیں کبھی ترک نہیں کروں گا۔“ (عبر 13:5) تو ہمیں آنے والے وقت میں اپنے بڑھاپے کے لیے تھوڑے بہت پیسے جوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔ لیکن ہمیں یہوواہ پر پورا بھروسا رکھنا چاہیے کہ وہ ہمیں اُس وقت سنبھالے گا جب ہم پر کوئی ایسا وقت آئے گا جس کی ہم نے توقع نہیں کی ہوگی۔ م25.03 ص. 29-30 پ. 13-14
منگل، 28 اپریل
اب جبکہ ہم مسیح کے متعلق اِبتدائی تعلیمات سے آگے بڑھ گئے ہیں، آئیں، پختگی کی طرف بڑھیں اور بنیادی باتوں کو نئے سرے سے نہ سیکھیں۔—عبر 6:1۔
یہوواہ ہم سے یہ توقع نہیں کرتا کہ ہم خود ہی پُختہ مسیحی بن جائیں۔ اُس نے ہمیں کلیسیا میں ایسے نگہبان اور اُستاد دیے ہیں جو ہماری مدد کرتے ہیں تاکہ ہم ”مسیح کی طرح مکمل طور پر پُختہ“ بن جائیں۔ (اِفِس 4:11-13) اِس کے علاوہ یہوواہ نے ہمیں اپنی پاک روح دی ہے جس کی مدد سے ہم ”مسیح کی سوچ“ اپنا سکتے ہیں۔ (1-کُر 2:14-16) اُس نے اپنی پاک روح کے ذریعے چار اِنجیلیں لکھوائی ہیں جن سے ہم یسوع مسیح کی سوچ، اُن کی باتوں اور اُن کے کاموں کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ اگر آپ یسوع مسیح کی طرح سوچیں گے اور وہ کام کریں گے جو یسوع مسیح نے کیے تو آپ پختگی کی طرف بڑھ پائیں گے۔ لیکن پختگی کی طرف بڑھنے کے لیے ہمیں ”مسیح کے متعلق اِبتدائی تعلیمات سے آگے“ بڑھنا ہوگا یعنی اُن تعلیمات سے جو ہم نے شروع شروع میں سیکھی تھیں۔ م24.04 ص. 4-5 پ. 11-12
بدھ، 29 اپریل
سوچنے سمجھنے کی صلاحیت آپ کی نگرانی کرے گی اور سُوجھبُوجھ آپ کی حفاظت کرے گی۔—اَمثا 2:11۔
ہم سب کو ہر دن فیصلے لینے پڑتے ہیں۔ کچھ فیصلے آسان ہوتے ہیں جیسے کہ ہم ناشتے میں کیا کھائیں گے یا کس وقت سوئیں گے۔ لیکن کچھ معاملوں میں فیصلہ لینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ شاید یہ ایسے فیصلے ہوں جن کا اثر ہماری صحت، ہماری خوشیوں، ہمارے عزیزوں یا ہماری عبادت پر پڑ سکتا ہے۔ بےشک ہم ایسے فیصلے لینا چاہتے ہیں جن سے ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو فائدہ ہو۔ لیکن ہمارے لیے سب سے اہم بات یہ ہونی چاہیے کہ ہمارے فیصلوں سے یہوواہ خوش ہو۔ (روم 12:1، 2) اچھے فیصلے لینے کے لیے ایک اہم قدم یہ ہے کہ آپ تمام حقائق جان جائیں۔ ایسا کرنا ضروری کیوں ہے؟ فرض کریں کہ ایک شخص کو سنگین بیماری ہے اور وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ کیا وہ ڈاکٹر اُس شخص کا معائنہ کرنے یا اُس سے سوال پوچھنے سے پہلے ہی یہ فیصلہ کر لے گا کہ وہ اُس کا کیا علاج کرے گا؟ نہیں، ایک اچھا ڈاکٹر ایسا بالکل نہیں کرے گا۔ اِسی طرح اگر آپ ایک معاملے کے بارے میں پہلے سے تمام حقائق پر سوچ بچار کریں گے تو آپ ایک اچھا فیصلہ لے پائیں گے۔ م25.01 ص. 14 پ. 1-3
جمعرات، 30 اپریل
یہوواہ آپ کا گُناہ معاف کرتا ہے۔ آپ مریں گے نہیں۔—2-سمو 12:13۔
ہم یہوواہ کے رحم کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ اُس نے یہ کیسے ثابت کِیا ہے کہ ”وہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص ہلاک ہو“؟ (2-پطر 3:9) غور کریں کہ وہ کچھ ایسے لوگوں کے ساتھ رحم سے کیسے پیش آیا جنہوں نے بہت بڑے گُناہ کیے۔ بادشاہ داؤد نے بہت بڑے گُناہ کیے تھے جن میں زِناکاری اور قتل جیسے گُناہ شامل تھے۔ لیکن جب داؤد نے دل سے توبہ کی تو یہوواہ نے اُن پر رحم کرتے ہوئے اُنہیں معاف کر دیا۔ (2-سمو 12:1-12) بادشاہ منسّی نے اپنی زندگی کے زیادہتر عرصے میں بہت ہی بڑے اور بھیانک گُناہ کیے تھے۔ اُنہوں نے تو ایک طرح سے گُناہ کرنے کی حد پار کر دی تھی۔ لیکن جب اُنہوں نے دل سے توبہ کی تو یہوواہ نے بھی دل کھول کر اُن پر رحم کِیا اور اُنہیں معاف کر دیا۔ (2-توا 33:9-16) اِن مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ جب یہوواہ کو اِس بات کی چھوٹی سی بھی وجہ نظر آتی ہے کہ ایک شخص پر رحم کِیا جانا چاہیے تو وہ ایسا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ یہوواہ ایسے لوگوں کو زندہ کرے گا کیونکہ اِن لوگوں کو احساس تھا کہ اُن سے بڑے گُناہ ہوئے ہیں اور وہ دل سے اِن پر شرمندہ تھے۔ م24.05 ص. 4 پ. 12