یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ک‌ت26 ص.‏ 32-‏45
  • مارچ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مارچ
  • روزبروز کتابِ‌مُقدس سے تحقیق کریں—‏2026ء
  • ذیلی عنوان
  • اِتوار، 1 مارچ
  • سوموار، 2 مارچ
  • منگل، 3 مارچ
  • بدھ، 4 مارچ
  • جمعرات، 5 مارچ
  • جمعہ، 6 مارچ
  • ہفتہ، 7 مارچ
  • اِتوار، 8 مارچ
  • سوموار، 9 مارچ
  • منگل، 10 مارچ
  • بدھ، 11 مارچ
  • جمعرات، 12 مارچ
  • جمعہ، 13 مارچ
  • ہفتہ، 14 مارچ
  • اِتوار، 15 مارچ
  • سوموار، 16 مارچ
  • منگل، 17 مارچ
  • بدھ، 18 مارچ
  • جمعرات، 19 مارچ
  • جمعہ، 20 مارچ
  • ہفتہ، 21 مارچ
  • اِتوار، 22 مارچ
  • سوموار، 23 مارچ
  • منگل، 24 مارچ
  • بدھ، 25 مارچ
  • جمعرات، 26 مارچ
  • جمعہ، 27 مارچ
  • ہفتہ، 28 مارچ
  • اِتوار، 29 مارچ
  • سوموار، 30 مارچ
  • منگل، 31 مارچ
روزبروز کتابِ‌مُقدس سے تحقیق کریں—‏2026ء
ک‌ت26 ص.‏ 32-‏45

مارچ

اِتوار، 1 مارچ

جو شخص مر گیا،‏ اُس کا گُناہ معاف ہو گیا۔—‏روم 6:‏7‏۔‏

بائبل میں ہم ایسے لوگوں کے بارے میں بھی پڑھتے ہیں جو پہلے نیک تھے لیکن پھر بُرے کام کرنے لگے۔ اِس کی ایک مثال بادشاہ سلیمان ہیں۔ اُنہوں نے یہوواہ کی راہوں کے بارے میں گہرائی سے سیکھا تھا اور اِن پر چلنے کی وجہ سے یہوواہ نے اُنہیں بہت برکتیں دی تھیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ بعد میں وہ جھوٹے دیوتاؤں کی عبادت کرنے لگے۔ اُنہوں نے اپنے گُناہوں کی وجہ سے یہوواہ کو بہت غصہ دِلایا اور اُن کی پوری قوم کو سینکڑوں سالوں تک اِس کے بُرے نتیجے بھگتنے پڑے۔ یہ سچ ہے کہ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ’‏سلیمان اپنے باپ‌دادا کے ساتھ سو گئے‘‏ جن میں یہوواہ کے وفادار بندے داؤد بھی شامل تھے۔ (‏1-‏سلا 11:‏5-‏9،‏ 43؛‏ 2-‏سلا 23:‏13‏)‏ لیکن کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہوواہ خدا سلیمان کو بھی دوبارہ زندہ کرے گا؟ بائبل میں اِس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ مُردوں کو زندہ کرنا ہمارے شفیق آسمانی باپ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ وہ یہ نعمت صرف اُنہی لوگوں کو دیتا ہے جن کے بارے میں وہ چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ تک اُس کی خدمت کریں۔ (‏ایو 14:‏13، 14؛‏ یوح 6:‏44‏)‏ تو پھر کیا بادشاہ سلیمان کو یہ نعمت ملے گی؟ ہم یہ نہیں جانتے۔ اِس کا جواب تو صرف یہوواہ ہی جانتا ہے۔ ہم بس یہ جانتے ہیں کہ یہوواہ جو بھی کرتا ہے، ہمیشہ صحیح کرتا ہے۔ م24.‏05 ص.‏ 4 پ.‏ 9

سوموار، 2 مارچ

مَیں ہمیشہ تیرے خیمے کا مہمان رہوں گا۔—‏زبور 61:‏4‏۔‏

جب ہم نے اپنی زندگی یہوواہ کے نام کی تھی تو ہم اُس کے مہمان بن گئے تھے۔ یہوواہ ایک میزبان کے طور پر ہمارا بہت اچھے سے خیال رکھ رہا ہے۔ وہ ہمیں ڈھیر سارا روحانی کھانا دے رہا ہے تاکہ ہماری دوستی اُس کے ساتھ مضبوط رہ سکے۔ اِس کے علاوہ اُس نے اپنے خیمے میں اَور بھی بہت سے مہمانوں کو بُلایا ہے تاکہ ہم اُن کے ساتھ بھی دوستی کر سکیں۔ لیکن یہوواہ کا خیمہ صرف ایک خاص جگہ پر نہیں ہے۔اگر ہم وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں تو ہم اُس کے خیمے میں اُس کے مہمان بن سکتے ہیں پھر چاہے ہم کہیں بھی رہتے ہوں۔ (‏مُکا 21:‏3‏)‏ ہم یہوواہ کے اُن بندوں کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں جو فوت ہو گئے ہیں؟ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ابھی بھی اُس کے خیمے میں اُس کے مہمان ہیں؟ بالکل!‏ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ وہ یہوواہ کی یاد میں زندہ ہیں۔ اِس حوالے سے یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏مُردے ضرور زندہ کیے جائیں گے کیونکہ موسیٰ نے بھی جلتی ہوئی جھاڑی والے واقعے میں کہا کہ یہوواہ ”‏اَبراہام کا خدا، اِضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا“‏ ہے۔ وہ مُردوں کا نہیں بلکہ زندوں کا خدا ہے کیونکہ اُس کی نظر میں وہ سب زندہ ہیں۔“‏—‏لُو 20:‏37، 38‏۔ م24.‏06 ص.‏ 3 پ.‏ 6-‏7

منگل، 3 مارچ

یہوواہ میری طاقت اور میری ڈھال ہے۔—‏زبور 28:‏7‏۔‏

صدوق اپنے ہتھیار لے کر حِبرون گئے تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ داؤد کے لیے لڑ سکیں۔ (‏1-‏توا 12:‏38‏)‏ وہ داؤد کے ساتھ جنگ پر جانے اور بنی‌اِسرائیل کے دُشمنوں کے خلاف لڑنے کو تیار تھے۔ صدوق کے پاس شاید ایک فوجی کے طور پر جنگ لڑنے کا اِتنا تجربہ نہیں تھا۔ لیکن وہ پھر بھی ایسا کرنے کے لیے تیار تھے۔ وہ واقعی بڑے دلیر شخص تھے۔ صدوق کاہن میں اِتنی زیادہ دلیری کہاں سے آ گئی؟ وہ ایسے بہت سے آدمیوں کو جانتے تھے جو بہت دلیر تھے اور جن کا ایمان بہت مضبوط تھا۔ بے‌شک صدوق نے اُن سے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔ مثال کے طور پر داؤد ایک دلیر پیشوا تھے اور بڑی بہادری سے جنگیں لڑتے تھے۔ اِس وجہ سے اِسرائیل میں ہر شخص ہی داؤد کو بادشاہ بنانا چاہتا تھا۔ (‏1-‏توا 11:‏1، 2‏)‏ داؤد ہمیشہ اپنے دُشمنوں سے لڑنے کے لیے یہوواہ پر بھروسا کرتے تھے۔ (‏زبور 138:‏3‏)‏ صدوق نے اپنے اِردگِرد موجود اَور بھی بہت سے دلیر آدمیوں سے سیکھا جیسے کہ یہویدع اور اُن کے جنگجو بیٹے بِنایاہ سے اور 22 اَور قبائلی سرداروں سے۔—‏1-‏توا 11:‏22-‏25؛‏ 12:‏26-‏28‏۔ م24.‏07 ص.‏ 3 پ.‏ 5-‏6

بدھ، 4 مارچ

خدا اِتنا مہربان ہے کہ وہ آپ کو توبہ کرنے پر مائل کر رہا ہے۔—‏روم 2:‏4‏۔‏

پولُس، مسیح کے شاگردوں کے دُشمن تھے اور اُن پر بڑا ظلم کرتے تھے۔ شاید زیادہ‌تر مسیحیوں کو لگا ہو کہ پولُس جیسا شخص کبھی نہیں بدل سکتا۔ لیکن یسوع کی سوچ اِنسانوں کی عیب‌دار سوچ جیسی نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ پولُس توبہ کر سکتے ہیں اور خود کو بدل سکتے ہیں۔ اُنہوں نے اور اُن کے آسمانی باپ نے پولُس کی خوبیوں پر دھیان دیا۔ یسوع مسیح نے پولُس کے بارے میں کہا:‏ ”‏مَیں نے اِس آدمی کو چُنا ہے۔“‏ (‏اعما 9:‏15‏)‏ یسوع مسیح نے تو ایک معجزہ بھی کِیا تاکہ وہ پولُس کو توبہ کرنے کی طرف مائل کر سکیں۔ (‏اعما 7:‏58–‏8:‏3؛‏ 9:‏1-‏9،‏ 17-‏20‏)‏ پولُس نے توبہ کی اور وہ یسوع مسیح کی پیروی کرنے لگے۔ اِس لیے یسوع نے اُنہیں رسول کے طور پر کام کرنے کی اہم ذمے‌داری دی۔ بائبل میں پولُس نے بہت بار اِس بات کے لیے قدر ظاہر کی ہے کہ یہوواہ اور یسوع مسیح نے اُن پر کتنا رحم کِیا ہے۔ (‏1-‏تیم 1:‏12-‏15‏)‏ ایک دفعہ پولُس نے سنا کہ کُرنتھس کی کلیسیا میں ایک بہت ہی شرم‌ناک بات ہو رہی ہے۔ وہاں ایک شخص حرام‌کاری کر رہا تھا اور پھر بھی کلیسیا کا حصہ تھا۔ پولُس رسول نے اِس معاملے کو کیسے حل کِیا؟ اُنہوں نے اِس حوالے سے جو کچھ کہا، اُس سے ہم جان سکتے ہیں کہ جب یہوواہ اپنے کسی بندے کی اِصلاح کرتا ہے تو وہ اُس کے لیے محبت کیسے دِکھاتا ہے اور جب اُس کا وہ بندہ توبہ کرتا ہے تو وہ اُس کے ساتھ رحم سے کیسے پیش آتا ہے۔ م24.‏08 ص.‏ 13 پ.‏ 15-‏16

جمعرات، 5 مارچ

خدا کا بیٹا اِس لیے ظاہر ہوا کہ اِبلیس کے کاموں کو ختم کر دے۔—‏1-‏یوح 3:‏8‏۔‏

اِنسانی تاریخ کے شروع سے ہی یہوواہ آہستہ آہستہ عیب‌دار اِنسانوں پر یہ واضح کرتا گیا کہ وہ اُس کے قریب کیسے جا سکتے ہیں۔ آدم اور حوّا کے دوسرے بیٹے یعنی ہابل وہ پہلے اِنسان تھے جنہوں نے باغِ‌عدن میں ہونے والی بغاوت کے بعد یہوواہ پر ایمان ظاہر کِیا۔ ہابل یہوواہ سے پیار کرتے تھے، اُسے خوش کرنا چاہتے تھے اور اُس کے قریب ہونا چاہتے تھے۔ اِس لیے اُنہوں نے یہوواہ کے حضور قربانی پیش کی۔ ہابل ایک چرواہے تھے اِس لیے اُنہوں نے اپنے گلّے میں سے کچھ پہلوٹھے میمنے یہوواہ کے لیے قربان کیے۔ یہ دیکھ کر یہوواہ کو کیسا لگا؟ وہ ”‏ہابل سے اور اُن کے نذرانے سے خوش ہوا۔“‏ (‏پید 4:‏4‏)‏ بعد میں جب کچھ اَور لوگوں نے بھی یہوواہ کے حضور قربانیاں پیش کیں جیسے کہ نوح نے تو یہوواہ اُن کی بھی قربانیوں سے خوش ہوا۔ (‏پید 8:‏20، 21‏)‏ کیوں؟ کیونکہ یہ لوگ بھی یہوواہ سے پیار کرتے تھے اور اُس پر بھروسا کرتے تھے۔ اِن قربانیوں کو قبول کرنے سے یہوواہ نے ظاہر کِیا کہ گُناہ‌گار اِنسان اُس کے قریب جا سکتے ہیں اور اُسے خوش کر سکتے ہیں۔ م24.‏08 ص.‏ 3 پ.‏ 5-‏6

جمعہ، 6 مارچ

میرے پاؤں بھٹکنے ہی والے تھے؛‏ میرے قدم پھسلنے ہی والے تھے۔—‏زبور 73:‏2‏۔‏

جب ہمارے ساتھ بُرا سلوک کِیا جاتا ہے تو ہمیں بہت زیادہ دُکھ پہنچ سکتا ہے اور پریشانی ہو سکتی ہے۔ (‏واعظ 7:‏7‏)‏ یہوواہ کے بندوں نے بھی ایسا ہی محسوس کِیا جیسے کہ ایوب اور حبقوق نے۔ (‏ایو 6:‏2، 3؛‏ حبق 1:‏1-‏3)‏ ہم سبھی کے دل میں اِس طرح کے احساسات پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ ہم نااِنصافی کا سامنا کرتے وقت کچھ ایسا نہ کریں جس پر بعد میں ہمیں پچھتانا پڑے اور اِس طرح معاملہ اَور زیادہ بگڑ جائے۔ جب ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ نااِنصافی کرنے والے لوگوں کو سزا نہیں مل رہی تو شاید ہم سوچنے لگیں کہ صحیح کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ذرا زبور 73 کو لکھنے والے شخص کی مثال پر غور کریں جس نے دیکھا کہ بُرے لوگ اچھے لوگوں کے ساتھ نااِنصافی کر رہے تھے اور بہت خوش‌حال نظر آ رہے تھے۔ اُس نے کہا:‏ ’‏بُرے لوگوں کی زندگی ہمیشہ آرام سے گزرتی ہے۔‘‏ (‏زبور 73:‏12‏)‏ وہ تو نااِنصافی کو دیکھ کر اِتنا پریشان ہو گیا تھا کہ اُس کا اِس بات سے بھروسا ہی اُٹھنے لگا تھا کہ یہوواہ کی خدمت کرنے کا کوئی فائدہ ہے۔ اُس نے کہا:‏ ”‏جب مَیں نے اِن باتوں کو سمجھنے کی کوشش کی تو مَیں پریشان ہو گیا۔“‏—‏زبور 73:‏14،‏ 16‏۔ م24.‏11 ص.‏ 3 پ.‏ 5-‏7

ہفتہ، 7 مارچ

قوموں کے سب گھرانو!‏ یہوواہ کی بڑائی کرو؛‏ یہوواہ کی عظمت اور طاقت کی وجہ سے اُس کی بڑائی کرو۔—‏زبور 96:‏7‏۔‏

ہم یہوواہ کی تعظیم اِس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہم اُس کا گہرا احترام کرتے ہیں۔ ہمارے پاس یہوواہ کا احترام کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ یہوواہ لامحدود طاقت کا مالک ہے اور وہ کبھی نہیں تھکتا۔ (‏زبور 96:‏4-‏7‏)‏ یہوواہ کی دانش‌مندی کی کوئی اِنتہا نہیں۔ یہ دانش‌مندی اُس کی بنائی ہوئی چیزوں سے صاف نظر آتی ہے۔ وہ ہماری زندگی کا سرچشمہ ہے اور اُس نے ہمیں زندہ رہنے کے لیے بہت سی نعمتیں دی ہیں۔ (‏مُکا 4:‏11‏)‏ وہ وفادار خدا ہے۔ (‏مُکا 15:‏4‏)‏ وہ جو بھی کام کرتا ہے، اُس میں ضرور کامیاب ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔ (‏یشو 23:‏14)‏ اِسی لیے تو یرمیاہ نبی نے یہوواہ کے بارے میں کہا:‏ ”‏مختلف قوموں کے تمام دانشمند لوگوں میں اور اُن کی تمام مملکتوں میں، تیرے جیسا کوئی نہیں۔“‏ (‏یرم 10:‏6، 7‏، نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ بے‌شک ہمارے پاس اپنے آسمانی باپ کا احترام کرنے کی بے‌شمار وجوہات ہیں۔ لیکن ہمارے شفیق باپ نے ہماری نظروں میں صرف عزت ہی نہیں کمائی بلکہ ہماری محبت بھی جیتی ہے۔ یہوواہ کی تعظیم کرنے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہم اُس سے دل سے محبت کرتے ہیں۔ م25.‏01 ص.‏ 3 پ.‏ 5-‏6

اِتوار، 8 مارچ

بُرے شخص کو اپنے بیچ سے دُور کرو۔—‏1-‏کُر 5:‏13‏۔‏

خدا کی تنظیم ہمیں جو اچھی باتیں سکھاتی ہے، اُنہیں ہمارے مخالف بڑے ہی غلط رنگ میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم نے پاک کلام سے سیکھا ہے کہ یہوواہ اپنے بندوں سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ جسمانی طور پر پاک صاف ہوں، اُن کا چال‌چلن پاک ہو اور وہ اُس طرح سے اُس کی عبادت کریں جس طرح سے وہ چاہتا ہے۔ اُس نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ جو شخص اپنے گُناہ سے توبہ نہیں کرتا، اُسے کلیسیا سے نکال دیا جائے۔ (‏1-‏کُر 5:‏11، 12؛‏ 6:‏9، 10‏)‏ ہم خدا کے اِس حکم کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ لیکن اِس بات کو لے کر ہمارے مخالف ہم پر یہ اِلزام لگاتے ہیں کہ ہم لوگوں سے پیار نہیں کرتے، دوسروں پر نکتہ‌چینی کرتے ہیں اور اُن لوگوں کو قبول نہیں کرتے جو ہم سے فرق رائے رکھتے ہیں۔ یہ اہم ہے کہ ہم اِس بات کو پہچانیں کہ اصل میں کون ہماری تنظیم پر وار کر رہا ہے۔ شیطان جسے اِبلیس بھی کہا جاتا ہے، ہماری تنظیم کے بارے میں جھوٹی باتیں پھیلاتا ہے۔ وہ تو ”‏جھوٹ کا باپ“‏ ہے۔ (‏یوح 8:‏44؛‏ پید 3:‏1-‏5‏)‏ اِس لیے ہم جانتے ہیں کہ وہ یہوواہ کی تنظیم کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کے لیے اُن لوگوں کو اِستعمال کرے گا جو اُسی کی طرح جھوٹ بولتے ہیں۔ م24.‏04 ص.‏ 10 پ.‏ 13-‏14

سوموار، 9 مارچ

وہ جلد وقوع میں آنے والی ہیں۔—‏حِز 33:‏33۔‏

بڑی مصیبت کے شروع ہونے کے بعد ”‏بابلِ‌عظیم“‏ کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھ کر ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو یاد آئے کہ یہوواہ کے گواہ ہمیشہ اِس بات کا ذکر کِیا کرتے تھے۔ کیا یہ سب دیکھ کر کچھ لوگ یہوواہ پر ایمان لے آئیں گے؟ (‏مُکا 17:‏5‏)‏ اگر ایسا ہوا تو یہ بالکل ایسے ہی ہوگا جیسے موسیٰ کے زمانے میں مصر میں ہوا۔ یاد کریں کہ جب بنی‌اِسرائیل مصر سے نکلے تھے تو اُن کے ساتھ ایک ”‏ملی جلی گروہ“‏ تھی۔ (‏خر 12:‏38)‏ جب مصر میں رہنے والے لوگوں نے دیکھا کہ دس آفتوں کے بارے میں موسیٰ کی بتائی ہوئی ہر بات پوری ہو رہی ہے تو اُن میں سے کچھ شاید یہوواہ پر ایمان لے آئے تھے۔ اگر اِسی طرح کی بات بابلِ‌عظیم کے تباہ ہونے پر ہوئی تو کیا ہمیں یہ سوچ لینا چاہیے کہ یہ تو بڑی نااِنصافی کی بات ہے کہ ہرمجِدّون کے شروع ہونے سے بس کچھ وقت پہلے اِن لوگوں کو بچا لیا گیا ہے؟ نہیں، ہمیں ایسا نہیں سوچنا چاہیے۔ہم اپنے آسمانی باپ کی طرح بننا چاہتے ہیں جو ”‏رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت اور وفا میں غنی“‏ ہے۔—‏خر 34:‏6۔ م24.‏05 ص.‏ 11 پ.‏ 12-‏13

منگل، 10 مارچ

صحیح تعلیم کے معیار پر قائم رہیں۔—‏2-‏تیم 1:‏13‏۔‏

اگر ہم ”‏صحیح تعلیم کے معیار پر قائم“‏ نہیں رہتے تو کیا ہو سکتا ہے؟ اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں۔ پہلی صدی عیسوی میں کچھ مسیحی یہ جھوٹی افواہ پھیلا رہے تھے کہ یہوواہ کا دن آ چُکا ہے۔ شاید اُن کے پاس ایک خط تھا جس کے بارے میں اُنہیں لگ رہا تھا کہ یہ اُنہیں پولُس کی طرف سے ملا ہے اور پولُس نے یہ بات کی ہے۔ تھسلُنیکے میں رہنے والے کچھ مسیحیوں نے حقائق جانے بغیر اِن جھوٹی افواہوں پر یقین کر لیا یہاں تک کہ وہ اِنہیں پھیلانے بھی لگے۔ اگر وہ مسیحی یہ یاد رکھتے کہ پولُس نے اُنہیں اُس وقت کیا سکھایا تھا جب وہ اُن کے ساتھ تھے تو وہ کبھی بھی اِن جھوٹی باتوں کے دھوکے میں نہ آتے۔ (‏2-‏تھس 2:‏1-‏5‏)‏ اِس لیے پولُس نے اپنے اِن بہن بھائیوں کو نصیحت کی کہ وہ ہر سنی سنائی بات پر یقین نہ کریں۔ پولُس نہیں چاہتے تھے کہ اُن کے بہن بھائی پھر سے اِس خطرے میں پڑیں۔ اِس لیے جب اُنہوں نے تھسلُنیکے کے نام اپنا دوسرا خط لکھا تو اُنہوں نے اِس کا اِختتام اِن الفاظ سے کِیا:‏ ”‏مَیں پولُس، اپنے ہاتھ سے آپ کو سلام لکھ رہا ہوں۔ یہ میرے خطوں کی نشانی ہے اور مَیں اِسی طرح لکھتا ہوں۔“‏—‏2-‏تھس 3:‏17‏۔ م24.‏07 ص.‏ 11-‏12 پ.‏ 13-‏14

بدھ، 11 مارچ

آپ کو ثابت‌قدمی کی ضرورت ہے۔—‏عبر 10:‏36‏۔‏

جیسے جیسے یہودیہ میں حالات بگڑتے جا رہے تھے، عبرانی مسیحیوں کے ایمان کا اِمتحان ہو رہا تھا جس کے لیے اُنہیں ثابت‌قدمی کی ضرورت تھی۔ حالانکہ کچھ عبرانی مسیحیوں نے پہلے سخت اذیت کا سامنا کِیا تھا لیکن اُن میں سے بہت سے اُس وقت مسیحی بنے تھے جب یسوع کے پیروکاروں کو کسی حد تک اذیت سے نجات ملی تھی۔ پولُس رسول نے اپنے اِن بہن بھائیوں سے کہا کہ بھلے ہی وہ ایمان کے سخت اِمتحان سے گزرے ہیں لیکن وہ اِس سے بھی زیادہ اذیت سہنے اور یسوع مسیح کی طرح مرتے دم تک یہوواہ کا وفادار رہنے کو تیار رہیں۔ (‏عبر 12:‏4‏)‏ بہت سے یہودی، مسیحی بن رہے تھے جس کی وجہ سے دوسرے یہودی سخت غصے میں تھے اور مسیحیوں پر تشدد کرنے لگے تھے۔ اِس کے کچھ ہی سال پہلے 40 سے زیادہ یہودی آدمیوں نے یہ قسم کھائی تھی کہ ’‏جب تک وہ پولُس کو قتل نہ کر لیں، وہ کچھ نہیں کھائیں گے۔‘‏ (‏اعما 22:‏22؛‏ 23:‏12-‏14‏)‏ لوگوں کی سخت نفرت اور اذیت کے باوجود اُن مسیحیوں کو عبادت کے لیے ایک ساتھ جمع ہونا، مُنادی کرنا اور اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا تھا۔ م24.‏09 ص.‏ 12 پ.‏ 15

جمعرات، 12 مارچ

‏[‏یسوع]‏نے اپنی ماں سے کہا:‏ ‏”‏دیکھیں،‏ یہ آپ کا بیٹا ہے۔“‏—‏یوح 19:‏26‏۔‏

یوحنا یسوع مسیح کے رسول تھے اور اُن کے قریبی دوست تھے۔ (‏متی 10:‏2‏)‏ اُنہوں نے یسوع مسیح کے ساتھ مل کر مُنادی کی، اُن کے معجزے دیکھے اور مشکل وقت میں اُن کا ساتھ دیا۔ اُنہوں نے اپنی آنکھوں سے یسوع کو سُولی پر تکلیف‌دہ موت سہتے اور مُردوں میں سے زندہ ہو جانے کے بعد دیکھا۔ اُنہوں نے پہلی صدی عیسوی میں یسوع مسیح کی تعلیمات کو پھیلتے اور مسیحیوں کی تعداد کو بھی بڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ اِس بات کے بھی گواہ تھے کہ خوش‌خبری کی ”‏مُنادی آسمان کے نیچے ہر جگہ“‏ ہو گئی ہے۔ (‏کُل 1:‏23‏)‏ یوحنا رسول نے بہت لمبی عمر پائی۔ جب وہ بہت بوڑھے ہو گئے تو اُنہیں مُکاشفہ کی شان‌دار کتاب لکھنے کا اعزاز ملا۔ (‏مُکا 1:‏1‏)‏ یوحنا نے ایک اِنجیل بھی لکھی جو اُن کے نام سے ہے۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے یہوواہ کی پاک روح کی رہنمائی میں تین خط بھی لکھے۔ اُنہوں نے اپنا تیسرا خط گِیُس نام کے ایک وفادار مسیحی کو لکھا جسے وہ اپنے بچوں کی طرح سمجھتے تھے۔ (‏3-‏یوح 1‏)‏ یہوواہ کے اِس بوڑھے اور وفادار بندے نے جو باتیں لکھیں، اُن سے آج بھی مسیح کے پیروکاروں کو بہت حوصلہ ملتا ہے۔ م24.‏11 ص.‏ 12 پ.‏ 15-‏16

جمعہ، 13 مارچ

شوہرو،‏ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ اپنی بیوی کی عزت کریں۔—‏1-‏پطر 3:‏7‏۔‏

جو شوہر اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے، وہ اُس کی قدر کرتا اور اُس کا خیال رکھتا ہے۔ وہ اُسے یہوواہ کی طرف سے ایک بیش‌قیمت تحفہ سمجھتا ہے۔ (‏اَمثا 18:‏22؛‏ 31:‏10‏)‏ اِس طرح وہ اکیلے میں بھی یا اُس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے وقت بھی اُس کے ساتھ پیار سے پیش آتا ہے اور اُس کے لیے عزت دِکھاتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے وقت اُسے کوئی بھی ایسا کام کرنے کو نہیں کہتا جسے کرنا اُسے بُرا لگے یا جسے کرنے کو اُس کا ضمیر نہ مانے۔ وہ خود بھی یہوواہ کے سامنے اپنا ضمیر صاف رکھتا ہے۔ (‏اعما 24:‏16‏)‏ شوہرو!‏ آپ اپنی باتوں اور کاموں سے اپنی بیوی کے لیے جو عزت دِکھا رہے ہیں، یہوواہ اُسے دیکھ رہا ہے اور وہ اِس کی بہت قدر کرتا ہے۔ یہ عزم کریں کہ آپ کوئی بھی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے آپ کی بیوی کو تکلیف پہنچے۔ اِس کی بجائے آپ اُس کے ساتھ نرمی اور عزت سے پیش آئیں گے اور اُس سے محبت کا اِظہار کریں گے۔ اِس طرح آپ اُسے دِکھا پائیں گے کہ آپ اُس کی کتنی قدر کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر اپنی بیوی کی عزت کرنے سے آپ اپنے سب سے اہم رشتے کی حفاظت کر رہے ہوں گے یعنی یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کی۔—‏زبور 25:‏14‏۔ م25.‏01 ص.‏ 13 پ.‏ 17-‏18

ہفتہ، 14 مارچ

یسوع نے اپنی جان قربان کر دی تاکہ ہمیں ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ رِہائی دِلائیں اور اپنے لیے ایک قوم کو پاک کر لیں جو اُن کی خاص ملکیت ہو اور شوق سے اچھے کام کرتی ہو۔—‏طِط 2:‏14‏۔‏

یہوواہ کے بندے بہت لگن اور جوش سے خوش‌خبری کی مُنادی کرتے ہیں۔ یہ جوش اُنہیں دُنیا کے اُن لوگوں سے فرق کرتا ہے جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن کیا چیز ہماری مدد کر سکتی ہے تاکہ ہم مُنادی کے لیے اپنے جوش کو قائم رکھ سکیں، یہاں تک کہ اِسے اَور زیادہ بڑھا سکیں؟ جب یسوع زمین پر تھے تو اُنہوں نے مُنادی کے لیے اپنے جوش کو کبھی ٹھنڈا نہیں ہونے دیا۔ دراصل جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، یسوع اَور بھی لگن سے مُنادی کرنے لگے۔ یسوع مسیح نے ایک مثال میں اپنا موازنہ اُس آدمی سے کِیا جس کے پاس انگور کا باغ تھا۔ وہ آدمی تین سال تک لگاتار اِنجیر کے ایسے درخت سے پھل جمع کرنے کے لیے جاتا رہا جس پر پھل نہیں لگ رہا تھا۔ اِسی طرح یسوع مسیح تقریباً تین سال تک یہودیوں میں مُنادی کرتے رہے جن میں سے زیادہ‌تر نے اُن کے پیغام کو قبول نہیں کِیا۔ لیکن جس طرح انگور کے باغ کے مالک نے یہ اُمید نہیں چھوڑی کہ اُسے ایک نہ ایک دن اِنجیر کے درخت سے پھل مل جائے گا اُسی طرح یسوع مسیح نے لوگوں کو مُنادی کرنے میں ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی وہ ایسا کرنے میں ڈھیلے پڑے۔ (‏لُو 13:‏6-‏9‏)‏ اگر ہم یسوع کی سکھائی ہوئی باتوں پر عمل کریں گے اور وہ کام کریں گے جو اُنہوں نے کیے تو ہم مُنادی کے لیے اپنے جوش کو قائم رکھ پائیں گے۔ م25.‏03 ص.‏ 14-‏15 پ.‏ 1-‏4

اِتوار، 15 مارچ

سمجھ‌دار شخص علم کے مطابق کام کرتا ہے۔—‏اَمثا 13:‏16‏۔‏

اگر آپ کو کوئی ایسا شخص مل جاتا ہے جس کے بارے میں آپ کو لگتا ہے کہ یہ آپ کے لیے اچھا جیون ساتھی ثابت ہوگا تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا آپ کو فوراً جا کر اُس سے اپنی خواہش کا اِظہار کر دینا چاہیے؟ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ایک سمجھ‌دار شخص کوئی بھی قدم اُٹھانے سے پہلے صورتحال کے بارے میں سب کچھ جان لیتا ہے۔ اِس لیے یہ سمجھ‌داری کی بات ہوگی کہ جس شخص کو آپ پسند کرتے ہیں، اُس سے اپنی خواہش کا اِظہار کرنے سے پہلے آپ خود اُسے کچھ عرصے کے لیے پرکھیں۔ آپ ایک شخص کو کیسے پرکھ سکتے ہیں؟ جب آپ عبادتوں میں یا دوسرے موقعوں پر بہن بھائیوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جس شخص کو آپ پسند کرتے ہیں، اُس کی یہوواہ کے ساتھ دوستی کتنی مضبوط ہے؛ اُس میں کون سی خوبیاں ہیں؛ اُس کا چال‌چلن کیسا ہے؛ اُس کے دوست کون ہیں اور وہ کن چیزوں کے بارے میں بات کرتا ہے۔ (‏لُو 6:‏45‏)‏ کیا اُس کے منصوبے بھی آپ جیسے ہی ہیں؟ آپ اُس شخص کی کلیسیا کے بزرگوں یا کسی ایسے پُختہ مسیحی سے بھی بات کر سکتے ہیں جو اُسے اچھی طرح سے جانتا ہے۔ (‏اَمثا 20:‏18‏)‏ آپ اُن سے اُس شخص کی نیک‌نامی اور خوبیوں کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔ (‏رُوت 2:‏11‏)‏ اور پھر جب آپ اُسے پرکھ رہے ہوں تو اِس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کچھ ایسا نہ کریں جس کی وجہ سے وہ آپ سے چھپتا پھرے یا آپ کی موجودگی میں پریشانی محسوس کرے۔ اُس کے جذبات اور احساسات کا احترام کریں اور اِس بات کو سمجھیں کہ اُس کی ایک اپنی زندگی ہے۔ م24.‏05 ص.‏ 22 پ.‏ 7-‏8

سوموار، 16 مارچ

آخرکار مَیں نے تیرے سامنے اپنے گُناہ کا اِقرار کِیا۔—‏زبور 32:‏5‏۔‏

جب کوئی شخص گُناہ کرتا ہے تو بزرگ فوراً یہ نہیں سوچ لیں گے کہ وہ شخص کبھی توبہ نہیں کرے گا۔ کچھ لوگ شاید اُسی وقت اپنے گُناہ سے توبہ کر لیں جب بزرگ پہلی بار اُن سے ملنے کے لیے جاتے ہیں۔ لیکن شاید کچھ کو ایسا کرنے میں وقت لگے۔ تو بزرگ ایسے لوگوں سے ایک سے زیادہ بار ملنے کا بندوبست کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ پہلی ملاقات پر گُناہ کرنے والا شخص سنجیدگی سے اُن باتوں پر سوچ بچار کرنے لگے جو اُس سے کہی گئی ہیں۔ شاید وہ خاکساری سے دُعا میں یہوواہ سے اپنے گُناہ کا اِقرار کرے اور معافی مانگ لے۔ (‏زبور 38:‏18‏)‏ پھر ہو سکتا ہے کہ اگلی ملاقات پر اُس شخص کا رویہ اُس رویے سے بالکل فرق ہو جو پہلی ملاقات پر اُس کا تھا۔ گُناہ کرنے والے شخص کو توبہ کی طرف مائل کرنے کے لیے بزرگ اُس شخص کے لیے ہمدردی اور شفقت ظاہر کریں گے۔ وہ یہوواہ سے دُعا کریں گے کہ وہ اُن کوششوں پر برکت ڈالے جو وہ اُس شخص کی مدد کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ بزرگ اِس بات کی اُمید نہیں چھوڑیں گے کہ اُن کا بھٹکا ہوا ہم‌ایمان ہوش میں آ جائے گا اور توبہ کر لے گا۔—‏2-‏تیم 2:‏25، 26‏۔ م24.‏08 ص.‏ 22-‏23 پ.‏ 12-‏13

منگل، 17 مارچ

مجھے کسی کی موت سے خوشی نہیں ہوتی،[‏یہوواہ]‏خدا فرماتا ہے۔‏ اِس لیے توبہ کرو اور زندہ رہو۔—‏حِز 18:‏32،‏ ‏”‏نیو اُردو بائبل ورشن۔“‏

یہوواہ یہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص ہلاک ہو!‏ وہ چاہتا ہے کہ گُناہ کرنے والا شخص اُس سے صلح کر لے۔ (‏2-‏کُر 5:‏20‏)‏ اِسی وجہ سے تو پوری اِنسانی تاریخ کے دوران یہوواہ نے بار بار اپنی باغی قوم سے، یہاں تک کہ ہر باغی شخص سے کہا کہ وہ توبہ کرے اور اُس کی طرف لوٹ آئے۔ کلیسیا کے بزرگوں کے لیے یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ وہ یہوواہ کے ساتھ مل کر گُناہ‌گاروں کی مدد کرتے ہیں کہ وہ توبہ کریں۔ (‏روم 2:‏4؛‏ 1-‏کُر 3:‏9‏)‏ ذرا اُس خوشی کا تصور کرنے کی کوشش کریں جو آسمان پر اُس وقت ہوتی ہے جب کوئی گُناہ‌گار شخص توبہ کرتا ہے!‏ ہر بار جب ہمارے آسمانی باپ یہوواہ کی کھوئی ہوئی بھیڑ اُس کے پاس لوٹ آتی ہے تو اُس کا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ جب جب ہم اپنے باپ یہوواہ کی محبت، رحم‌دلی اور شفقت پر غور کرتے ہیں تو ہمارے دل میں اُس کے لیے محبت اَور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔—‏لُو 1:‏78‏۔ م24.‏08 ص.‏ 31 پ.‏ 16-‏17

بدھ، 18 مارچ

یسوع کو پتہ تھا کہ لوگ اُن کو زبردستی بادشاہ بنانا چاہتے ہیں اِس لیے وہ اکیلے ایک پہاڑ پر چلے گئے۔—‏یوح 6:‏15‏۔‏

اگر یسوع لوگوں کے اِصرار کرنے پر بادشاہ بن جاتے تو ایک طرح سے وہ سیاسی معاملے میں یہودیوں کی طرف‌داری کر رہے ہوتے جو رومی حکومت کے تحت تھے۔ لیکن یسوع ”‏اکیلے ایک پہاڑ پر چلے گئے۔“‏ حالانکہ لوگوں نے یسوع پر بادشاہ بننے کا بہت دباؤ ڈالا لیکن یسوع سیاسی معاملوں میں نہیں اُلجھے۔ اُنہوں نے واقعی ہمارے لیے بہت اچھی مثال قائم کی۔ بے‌شک آج لوگ ہم سے یہ نہیں کہیں گے کہ ہم کوئی معجزہ کر کے اُن کے لیے کھانا فراہم کریں یا کسی بیمار کو شفا دیں اور نہ ہی وہ ہمیں بادشاہ یا حکمران بنانا چاہیں گے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ ہم پر دباؤ ڈالیں کہ ہم کسی سیاسی پارٹی کو ووٹ دیں یا کسی ایسے حکمران کی حمایت کرنے کے لیے آواز اُٹھائیں جو اُن کے خیال میں ایک اچھا حکمران ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن یسوع نے اِس حوالے سے ہمارے لیے اچھی مثال قائم کی۔ اُنہوں نے ہر طرح کے سیاسی معاملے میں پڑنے سے صاف اِنکار کر دیا اور یہ تک کہا:‏ ”‏میری بادشاہت کا اِس دُنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“‏ (‏یوح 17:‏14؛‏ 18:‏36‏)‏ یسوع کے پیروکاروں کو بھی سیاسی معاملوں کے حوالے سے اُن جیسی سوچ اپنانی چاہیے اور قدم اُٹھانے چاہئیں۔ ہم صرف خدا کی بادشاہت کی حمایت کرتے ہیں، اِس کے بارے میں دوسروں کو بتاتے ہیں اور اِس کے آنے کے لیے دُعا کرتے ہیں۔—‏متی 6:‏10‏۔ م24.‏12 ص.‏ 3-‏4 پ.‏ 5-‏6

جمعرات، 19 مارچ

جو میرے حکموں کو قبول کرتا ہے اور اِن پر عمل کرتا ہے،‏ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔‏ اور جو مجھ سے محبت کرتا ہے،‏ میرا باپ اُس سے محبت کرے گا اور مَیں بھی اُس سے محبت کروں گا اور خود کو اُس پر ظاہر کروں گا۔—‏یوح 14:‏21‏۔‏

جب آپ بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں تو اِس بارے میں سوچیں کہ جو کچھ آپ سیکھ رہے ہیں، آپ اُس پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ یہوواہ کی طرح سب کے ساتھ اِنصاف سے پیش آ سکتے ہیں۔ آپ یسوع مسیح کی طرح اپنے آسمانی باپ اور اپنے ہم‌ایمانوں کے لیے محبت دِکھا سکتے ہیں۔ آپ یہ محبت یہوواہ کے نام کی خاطر تکلیفیں سہنے اور اپنے ہم‌ایمانوں کی مدد کرنے سے ظاہر کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ آپ یسوع مسیح کی طرح دوسروں کو بتا سکتے ہیں کہ یہوواہ نے ہمارے لیے کیا کچھ کِیا ہے تاکہ وہ بھی یہوواہ کے دیے ہوئے بیش‌قیمت تحفے یعنی فدیے سے فائدہ اُٹھا سکیں۔ جتنا زیادہ ہم فدیے کے بارے میں سیکھیں گے اور اِس کے لیے اپنے دل میں قدر بڑھائیں گے اُتنا ہی زیادہ ہم یہوواہ اور اُس کے بیٹے سے محبت کرنے لگیں گے۔ اور اِس محبت کو دیکھ کر وہ بھی ہم سے اَور زیادہ محبت کرنے لگیں گے۔ (‏یعقو 4:‏8‏)‏ تو آئیے اُن سہولتوں کا اچھا اِستعمال کرتے رہیں جو یہوواہ نے ہمیں فدیے کے بارے میں سکھانے کے لیے دی ہیں۔ م25.‏01 ص.‏ 25 پ.‏ 16-‏17

جمعہ، 20 مارچ

تُو نے میرے سارے گُناہوں کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا۔—‏یسع 38:‏17‏۔‏

آج کی آیت کا ترجمہ اِس طرح سے بھی کِیا جا سکتا ہے:‏ ”‏تُو نے میرے سارے گُناہوں کو اپنی نظروں سے دُور کر دیا۔“‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ جب یہوواہ توبہ کرنے والے شخص کو معاف کر دیتا ہے تو وہ مُڑ کر پھر اُس کے گُناہ کو نہیں دیکھتا۔ اِس کے علاوہ آج کی آیت میں لکھی بات کا ترجمہ اِس طرح سے بھی کِیا جا سکتا ہے:‏ ”‏تُو نے میرے گُناہوں کو ایسے خیال کِیا جیسے یہ کبھی ہوئے ہی نہیں۔“‏ بائبل میں اِس بات کو واضح کرنے کے لیے ایک اَور مثال دی گئی ہے۔ اِس کا ذکر میکاہ 7:‏18، 19 میں ہوا ہے جہاں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ ہمارے گُناہوں کو سمندر کی تہہ میں ڈال دیتا ہے۔ پُرانے زمانے میں ایک شخص کے لیے اُس چیز کو حاصل کرنا ناممکن ہوتا تھا جو سمندر کی تہہ میں چلی جاتی تھی۔ اِن مثالوں سے ہم نے سیکھا ہے کہ جب یہوواہ ہمیں معاف کر دیتا ہے تو وہ ہمیں ہمارے گُناہوں کے بوجھ سے آزاد کر دیتا ہے۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو ہم بھی بالکل ویسا ہی محسوس کرتے ہیں جیسا داؤد نے کِیا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏وہ شخص خوش ہے جس کے بُرے کام معاف کر دیے گئے ہیں اور جس کے گُناہ بخش دیے گئے ہیں۔“‏ (‏روم 4:‏7‏)‏ یہ ہوتا ہے صحیح معنوں میں معاف کرنا!‏ م25.‏02 ص.‏ 9 پ.‏ 7-‏8

ہفتہ، 21 مارچ

خوش و خرم ہو!‏ جو کچھ مَیں خلق کروں گا اُس کی ہمیشہ تک خوشی مناؤ!‏—‏یسع 65:‏18‏،‏ ‏”‏اُردو جیو ورشن۔“‏

آج زمین پر ایک ایسا فردوس ہے جس میں لاکھوں لوگ موجود ہیں۔ یہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہ رہے ہیں اور اچھے کام کرنے میں مصروف ہیں۔ جو لوگ اِس فردوس میں رہ رہے ہیں، اُنہوں نے عزم کِیا ہوا ہے کہ وہ اِسے کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اَور بھی زیادہ لوگ اِس میں آئیں۔ یہ کون سا فردوس ہے؟ یہ روحانی فردوس ہے!‏ یہ کتنی زبردست بات ہے نا کہ یہوواہ نے ایک خطرناک اور نفرت سے بھری دُنیا میں ایسا ماحول قائم کِیا ہوا ہے جہاں اُس کے بندے ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور صلح صفائی سے رہ رہے ہیں!‏ (‏1-‏یوح 5:‏19؛‏ مُکا 12:‏12‏)‏ ہمارا شفیق خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ شیطان کی دُنیا لوگوں کو کتنا زیادہ نقصان اور دُکھ پہنچا رہی ہے۔ لیکن اُس نے اپنے بندوں کو ایک ایسے محفوظ ماحول میں رکھا ہوا ہے جہاں وہ خوشی سے اُس کی عبادت کر سکتے ہیں۔ اُس کے کلام میں روحانی فردوس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ نہ صرف ”‏پناہ کی جگہ“‏ بلکہ ”‏سیراب باغ“‏ کی طرح بھی ہے۔ (‏یسع 4:‏6؛‏ 58:‏11‏)‏ چونکہ اِس فردوس میں رہنے والے لوگوں پر یہوواہ کی برکت ہے اِس لیے وہ اِس آخری زمانے میں آنے والی مشکلوں کے باوجود خوش رہتے ہیں اور خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔—‏یسع 54:‏14؛‏ 2-‏تیم 3:‏1‏۔ م24.‏04 ص.‏ 20 پ.‏ 1-‏2

اِتوار، 22 مارچ

اپنی درخواستیں خدا کے سامنے پیش کریں۔—‏فِل 4:‏6‏۔‏

اگر آپ شادی کرنا چاہتے ہیں تو بے‌شک آپ نے دُعا میں یہوواہ کو اپنی اِس خواہش کے بارے میں ضرور بتایا ہوگا۔ یہ سچ ہے کہ یہوواہ یہ وعدہ نہیں کرتا کہ وہ اپنے بندوں کی دُعا کے جواب میں اُنہیں جیون ساتھی ضرور دے گا۔ لیکن اُسے آپ کی ضرورتوں اور احساسات کی فکر ہے۔ اور جب آپ جیون ساتھی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ آپ کی مدد کرتا ہے۔ اِس لیے یہوواہ کو اپنی خواہشوں اور احساسات کے بارے میں بتاتے رہیں۔ (‏زبور 62:‏8‏)‏ اُس سے صبر اور دانش‌مندی بھی مانگیں۔ (‏یعقو 1:‏5‏)‏ اگر آپ کو فوراً جیون ساتھی نہیں ملتا تو بھی یہوواہ کے اِس وعدے پر بھروسا کرتے رہیں کہ وہ آپ کی ضرورتوں کو پورا کرے گا اور آپ کو وہ محبت اور توجہ دے گا جس کی آپ کو ضرورت ہے۔ (‏زبور 55:‏22‏)‏ جیون ساتھی تلاش کرتے وقت ایک چیز کا خاص خیال رکھیں اور وہ یہ کہ اِس بات کو اپنے سر پر اِتنا سوار نہ کر لیں کہ آپ یہی بھول جائیں کہ زندگی میں کون سی باتیں زیادہ اہم ہیں۔ (‏فِل 1:‏10‏)‏ سچی خوشی اِس بات پر نہیں ٹکی ہوتی کہ آپ شادی‌شُدہ ہیں یا نہیں بلکہ اِس بات پر ٹکی ہوتی ہے کہ یہوواہ کے ساتھ آپ کی دوستی کتنی گہری ہے۔ (‏متی 5:‏3‏)‏ تو جب تک آپ کی شادی نہیں ہو جاتی، آپ کے پاس یہوواہ کی خدمت کرنے کا زیادہ موقع ہے۔ (‏1-‏کُر 7:‏32، 33‏)‏ اِس وقت کا بہترین اِستعمال کریں۔ م24.‏05 ص.‏ 21 پ.‏ 4؛‏ ص.‏ 22 پ.‏ 6

سوموار، 23 مارچ

صرف اپنے فائدے کا ہی نہیں بلکہ دوسروں کے فائدے کا بھی سوچیں۔—‏فِل 2:‏4‏۔‏

شادی سے پہلے آپ کو کتنے عرصے تک ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش کرنی چاہیے؟ جلدبازی میں کیے گئے فیصلوں کے نتیجے اکثر بُرے نکلتے ہیں۔ (‏اَمثا 21:‏5‏)‏ اِس لیے آپ کو ایک شخص کے ساتھ اپنی بات‌چیت تب تک جاری رکھنی چاہیے جب تک آپ اُسے اچھی طرح جان نہیں لیتے۔ لیکن آپ کو بِلاوجہ بات کو لٹکا کر بھی نہیں رکھنا چاہیے۔ بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏جب اُمید پوری ہونے میں دیر ہو تو دل بیمار ہو جاتا ہے۔“‏ (‏اَمثا 13:‏12‏)‏ اگر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں تو ہم اُن کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ ہم اُنہیں کھانے پر، خاندانی عبادت میں یا تفریح کے لیے بُلا سکتے ہیں۔ (‏روم 12:‏13‏)‏ اگر اُنہیں اِکٹھے وقت گزارنے کے لیے کسی تیسرے شخص کی ضرورت ہے، کہیں آنے جانے کے لیے گاڑی میں کسی کو اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت ہے یا کسی ایسی جگہ جانے کی ضرورت ہے جہاں وہ آرام سے بیٹھ کر بات کر سکیں تو آپ اُن کی مدد کر سکتے ہیں۔ (‏گل 6:‏10‏)‏ اگر لڑکا اور لڑکی آپس میں وقت گزارنا چاہتے ہیں اور وہ آپ سے کہتے ہیں کہ آپ اُن کے ساتھ رہیں تو اُن کی مدد کرنے سے پیچھے نہ ہٹیں۔ جب آپ اُن کے ساتھ کہیں جاتے ہیں تو اُنہیں بالکل اکیلا نہ چھوڑ دیں۔ مگر یہ بھی خیال رکھیں کہ اگر اُنہیں اکیلے میں کوئی بات کرنی ہے تو آپ اُن سے تھوڑا فاصلے پر رہیں۔ م24.‏05 ص.‏ 30 پ.‏ 13-‏14

منگل، 24 مارچ

مَیں نے اُسے توبہ کرنے کے لیے وقت دیا۔—‏مُکا 2:‏21‏۔‏

جب کوئی شخص گُناہ کرتا ہے تو کلیسیا کے بزرگ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ وہ کن کاموں کی وجہ سے گُناہ کر بیٹھا ہے۔ مثال کے طور پر کیا اُس نے آہستہ آہستہ بائبل کا ذاتی مطالعہ کرنا یا مُنادی میں جانا چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے یہوواہ کے ساتھ اُس کی دوستی کمزور پڑ گئی؟ کیا اُس نے باقاعدگی سے یہوواہ سے دُعا کرنا بند کر دیا تھا؟ کیا اُس نے اپنی بُری خواہشوں سے لڑنا چھوڑ دیا تھا؟ کیا وہ دوستوں اور تفریح کے حوالے سے غلط فیصلے لینے لگا تھا؟ اور اِس طرح کے فیصلوں کا اُس کے دل اور اُس کی سوچ پر کیا اثر ہونے لگا؟ کیا اُسے اِس بات کا احساس ہے کہ اُس کے فیصلوں اور کاموں سے اُس کے آسمانی باپ یہوواہ کے دل پر کیا اثر پڑا ہے؟ بزرگ اُس شخص سے اِس طرح کے سوال پوچھ سکتے ہیں تاکہ وہ یہ سوچ پائے کہ کن کاموں کی وجہ سے اُس کا یہوواہ کے ساتھ رشتہ کمزور پڑ گیا اور وہ گُناہ کر بیٹھا۔ اُنہیں یہ سوال شفقت بھرے انداز میں پوچھنے چاہئیں اور اُس شخص سے ایسے ذاتی معاملوں کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے جنہیں جاننے کی اُنہیں ضرورت نہیں ہے۔ (‏اَمثا 20:‏5‏)‏ اِس کے علاوہ بزرگ ایسی مثالیں اِستعمال کر سکتے ہیں جن سے گُناہ کرنے والا شخص یہ دیکھ پائے کہ اُس نے جو کچھ کِیا تھا، وہ کتنا غلط تھا۔ ہو سکتا ہے کہ جب بزرگ اُس شخص سے پہلی بار ملنے جائیں تو اُسے تب ہی اپنے فیصلوں اور سوچ پر پچھتاوا ہونے لگے۔ وہ تو شاید اُسی وقت توبہ بھی کر لے۔ م24.‏08 ص.‏ 22 پ.‏ 9-‏11

بدھ، 25 مارچ

مجھے دوسرے شہروں میں بھی خدا کی بادشاہت کی خوش‌خبری سنانی ہے کیونکہ مجھے اِسی لیے بھیجا گیا ہے۔—‏لُو 4:‏43‏۔‏

یسوع مسیح نے جوش سے دوسروں کو ”‏خدا کی بادشاہت کی خوش‌خبری“‏ سنائی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہوواہ چاہتا ہے کہ وہ یہ کام کریں۔ یسوع مسیح کی نظر میں خوش‌خبری سنانا اُن کی زندگی کا سب سے اہم کام تھا۔ جب زمین پر یسوع مسیح کی زندگی کے کچھ ہی مہینے باقی رہ گئے تھے تو وہ تب بھی شہر شہر اور گاؤں گاؤں جا کر لوگوں کو تعلیم دیتے رہے۔ (‏لُو 13:‏22‏)‏ اِس کے علاوہ اُنہوں نے اپنے اَور شاگردوں کو مُنادی کرنے کی ٹریننگ بھی دی۔ (‏لُو 10:‏1‏)‏ آج بھی خوش‌خبری سنانا وہ خاص کام ہے جس کی یہوواہ اور یسوع ہم سے توقع کرتے ہیں۔ (‏متی 24:‏14؛‏ 28:‏19، 20‏)‏ اگر ہم لوگوں کے لیے اُتنی ہی فکر رکھیں گے جتنی یہوواہ رکھتا ہے تو ہم مُنادی کے لیے اپنا جوش بڑھا پائیں گے۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ بادشاہت کی خوش‌خبری سنیں اور سچائی کے بارے میں علم حاصل کریں۔ (‏1-‏تیم 2:‏3، 4‏)‏ چونکہ بادشاہت کی خوش‌خبری سے لوگوں کی زندگی بچ سکتی ہے اِس لیے یہوواہ اِس کام کو اَور اچھے سے کرنے کے لیے ہمیں ٹریننگ دے رہا ہے۔ اگر لوگ ابھی ہمارے پیغام کو قبول نہیں بھی کرتے تو شاید بڑی مصیبت کے ختم ہونے سے پہلے اُن کے پاس اِسے قبول کرنے کا موقع ہوگا۔ م25.‏03 ص.‏ 15-‏16 پ.‏ 5-‏7

جمعرات، 26 مارچ

جو شخص اُسے سلام کرتا ہے،‏ وہ اُس کے بُرے کاموں میں شریک ہوتا ہے۔—‏2-‏یوح 11‏۔‏

ہر مسیحی بائبل سے اپنے تربیت‌یافتہ ضمیر کے مطابق خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کے ساتھ کیسے پیش آئے گا جسے کلیسیا سے نکال دیا گیا ہے۔ شاید کچھ مسیحی اُس شخص سے مختصر سی سلام دُعا کرنا یا عبادت میں اُس کا خیرمقدم کرنا چاہیں۔ لیکن ہم اُس شخص سے لمبی چوڑی بات نہیں کریں گے اور اُس سے میل جول نہیں رکھیں گے۔ شاید کچھ لوگ کہیں:‏ ”‏کیا بائبل میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہمیں اُن لوگوں کو سلام تک نہیں کرنا چاہیے جنہیں کلیسیا سے نکال دیا گیا ہے کیونکہ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم اُن کے گُناہ میں شریک ہوں گے؟“‏ (‏2-‏یوح 9-‏11‏)‏ لیکن اِن آیتوں کے سیاق‌وسباق پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں ایسے لوگوں کی بات کی جا رہی ہے جو خدا سے برگشتہ ہو گئے ہیں یا جو بُرے کاموں کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ (‏مُکا 2:‏20‏)‏ تو اگر کلیسیا سے نکال دیا جانے والا شخص یہوواہ سے برگشتہ ہو گیا ہے یا پھر وہ بُرے کاموں کو بڑھاوا دینے میں لگا ہوا ہے تو بزرگ اُس سے ملنے نہیں جائیں گے۔ بے‌شک ہم اِس بات کی اُمید کرنا نہیں چھوڑیں گے کہ کبھی نہ کبھی وہ اپنے ہوش میں آ جائے گا۔ لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا، ہم نہ تو ایسے شخص کو سلام کریں گے اور نہ ہی اُسے ہماری عبادتوں میں آنے کو کہیں گے۔ م24.‏08 ص.‏ 30 پ.‏ 14-‏15

جمعہ، 27 مارچ

ابھی تک اُن کی سمجھ پر پردہ پڑا تھا۔—‏مر 6:‏52‏۔‏

لوگوں کی بِھیڑ کو کھانا کھلانے کے بعد یسوع مسیح نے اپنے رسولوں کو کفرنحوم کے لیے روانہ ہونے کو کہا لیکن وہ خود پہاڑ پر چلے گئے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ اُنہیں بادشاہ بنائیں۔ (‏یوح 6:‏16-‏20‏)‏ جب رسول کشتی پر سوار تھے تو جھیل میں طوفان آ گیا۔ لہریں کافی اُونچی تھیں اور ہوا کا رُخ اُن کے خلاف تھا۔ پھر یسوع پانی پر چل کر اُن کے پاس جانے لگے اور اُنہوں نے پطرس رسول کو بھی پانی پر چل کر اپنے پاس آنے کے لیے کہا۔ (‏متی 14:‏22-‏31‏)‏ جیسے ہی یسوع کشتی پر سوار ہوئے، طوفان تھم گیا۔ اِس پر شاگرد بہت حیران ہوئے اور کہنے لگے:‏ ”‏آپ واقعی خدا کے بیٹے ہیں!‏“‏ (‏متی 14:‏33‏)‏ یہ بڑی دلچسپی کی بات ہے کہ شاگردوں نے یہ بات اُس وقت کہی جب اُنہوں نے یسوع کو پانی پر چلتے ہوئے دیکھا۔ اُنہوں نے یہ بات اُس وقت نہیں کہی جب یسوع نے معجزہ کر کے لوگوں کو کھانا کھلایا تھا۔ اِسی واقعے پر بات کرتے ہوئے مرقس نے کہا:‏ ”‏یہ دیکھ کر شاگرد بہت ہی حیران ہوئے کیونکہ وہ روٹیوں والے معجزے کا مطلب نہیں سمجھ پائے تھے۔“‏ (‏مر 6:‏50-‏52‏)‏ دراصل شاگرد یہ نہیں سمجھ پائے تھے کہ یہوواہ نے یسوع کو معجزے کرنے کے لیے بے‌پناہ طاقت دی ہوئی ہے۔ م24.‏12 ص.‏ 5 پ.‏ 7

ہفتہ، 28 مارچ

‏[‏خدا]‏کی مرضی ہے کہ ہر طرح کے لوگ نجات پائیں اور سچائی کے بارے میں صحیح علم حاصل کریں۔—‏1-‏تیم 2:‏4‏۔‏

ہم یہوواہ کی محبت کے لیے قدر دِکھا سکتے ہیں۔ اِس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم یادگاری تقریب سے پہلے اور بعد والے ہفتوں میں یہوواہ کو دِکھائیں کہ ہم فدیے کے لیے کتنے شکرگزار ہیں۔ ہم خود تو یادگاری تقریب پر جائیں گے ہی لیکن ہم دوسروں کو بھی اِس میں آنے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ جن لوگوں کو آپ اِس تقریب میں آنے کی دعوت دیں گے، اُنہیں بتائیں کہ وہاں کیا کچھ ہوگا۔ اِس کے لیے آپ اُنہیں ویب‌سائٹ jw.org پر یہ ویڈیوز دِکھا سکتے ہیں:‏ ‏”‏یسوع مسیح نے اپنی جان کیوں دی؟“‏ اور ‏”‏یسوع مسیح کی قربانی کی یاد منائیں۔“‏ کلیسیا کے بزرگوں کو اُن لوگوں کو یادگاری تقریب میں آنے کی دعوت ضرور دینی چاہیے جنہوں نے عبادتوں میں یا مُنادی میں جانا چھوڑ دیا ہے۔ ذرا اُس خوشی کا تصور کریں جو آسمان اور زمین پر اُس وقت ہوگی جب یہوواہ کی کوئی کھوئی ہوئی بھیڑ اُس کے گلّے میں واپس لوٹ آئے گی!‏ (‏لُو 15:‏4-‏7‏)‏ تو عزم کریں کہ یادگاری تقریب میں آپ نہ صرف ایک دوسرے سے ملیں گے بلکہ خاص طور پر اُن لوگوں سے بھی ملیں گے جو پہلی دفعہ یا پھر بہت عرصے بعد اِس تقریب میں آئے ہیں۔ بے‌شک ہم اِن سبھی کا خوشی سے خیرمقدم کریں گے!‏—‏روم 12:‏13‏۔ م25.‏01 ص.‏ 29 پ.‏ 15

اِتوار، 29 مارچ

خدا ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ نے ہم سے محبت کی اور اپنے بیٹے کو بھیجا تاکہ وہ ہمارے گُناہوں کے لیے کفارے کی قربانی بنے۔—‏1-‏یوح 4:‏10‏۔‏

بے‌شک فدیے سے ہم یہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہوواہ کتنا اِنصاف‌پسند خدا ہے۔ لیکن اِس سے ہمیں خاص طور پر یہوواہ کی محبت کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ (‏یوح 3:‏16؛‏ 1-‏یوح 4:‏9، 10‏)‏ فدیے سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ نہ صرف یہ چاہتا ہے کہ ہم ہمیشہ تک زندہ رہیں بلکہ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ہم اُس کے خاندان کا حصہ بن جائیں۔ غور کریں کہ جب آدم نے گُناہ کِیا تھا تو یہوواہ نے اُنہیں اپنے خاندان سے نکال دیا تھا اور اِس وجہ سے آدم کی اولاد میں سے کوئی بھی یہوواہ کے خاندان کا حصہ نہیں تھا۔ لیکن فدیے کی وجہ سے یہوواہ ہمارے گُناہوں کو معاف کرتا ہے اور ایک دن وہ سبھی اِنسان اُس کے خاندان کا حصہ بن جائیں گے جو اُس پر ایمان ظاہر کرتے ہیں اور اُس کے فرمانبردار ہیں۔ لیکن ہم ابھی بھی یہوواہ اور اپنے ہم‌ایمانوں کے ساتھ ایک قریبی رشتہ قائم کر سکتے ہیں۔ یہوواہ واقعی ہم سے بہت محبت کرتا ہے۔—‏روم 5:‏10، 11‏۔ م25.‏01 ص.‏ 21 پ.‏ 6

یادگاری تقریب کے حوالے سے پڑھنے کے لیے آیتیں:‏ ‏(‏جو واقعات دن کے دوران ہوئے:‏ 9 نیسان)‏ یوحنا 12:‏12-‏19؛‏ مرقس 11:‏1-‏11

سوموار، 30 مارچ

خدا نے ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏ محبت اِس طرح ظاہر کی۔—‏1-‏یوح 4:‏9‏۔‏

بے‌شک ہم سبھی اِس بات کو مانیں گے کہ فدیہ بہت ہی بیش‌قیمت نعمت ہے۔ (‏2-‏کُر 9:‏15‏)‏ یسوع مسیح نے اپنی جان قربان کر کے ہمارے لیے ممکن بنایا کہ ہم یہوواہ خدا سے پکی دوستی کر سکیں۔ اُن کی قربانی کی وجہ سے ہم ہمیشہ تک زندہ رہنے کی اُمید بھی رکھ سکتے ہیں۔ واقعی ہمارے پاس یہوواہ کا شکرگزار ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں کیونکہ اُس نے ہم سے محبت کرنے کی وجہ سے ہمارے لیے فدیے کا بندوبست کِیا۔ (‏روم 5:‏8‏)‏ یسوع مسیح نے ہمیں ہر سال اُن کی موت کی یادگاری تقریب منانے کا حکم دیا ہے تاکہ ہم اُن سب باتوں کو یاد رکھ سکیں جو یہوواہ اور یسوع نے ہمارے لیے کی ہیں اور اِن کے لیے اپنے دل میں قدر بڑھا سکیں۔ (‏لُو 22:‏19، 20‏)‏ اِس سال مسیح کی موت کی یادگاری تقریب 2 اپریل 2026ء کو جمعرات کے دن ہوگی۔ بے‌شک ہم سب ہی اِس پر جائیں گے۔ لیکن اچھا ہوگا کہ ہم یادگاری تقریب سے پہلے اور بعد والے ہفتوں میں اُن کاموں پر گہرائی سے سوچ بچار کریں جو یہوواہ اور اُس کے بیٹے یسوع نے ہمارے لیے کیے ہیں۔ م25.‏01 ص.‏ 20 پ.‏ 1-‏2

یادگاری تقریب کے حوالے سے پڑھنے کے لیے آیتیں:‏ ‏(‏جو واقعات دن کے دوران ہوئے:‏ 10 نیسان)‏ یوحنا 12:‏20-‏50

منگل، 31 مارچ

چاندی کی بجائے میری تربیت کو چُنو اور اعلیٰ‌ترین سونے کی بجائے علم کو۔—‏اَمثا 8:‏10‏۔‏

اگر آپ اِس بات پر سوچ بچار کرتے رہیں گے کہ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح نے آپ کے لیے کیا کچھ کِیا ہے تو آپ اُن کی محبت کے بارے میں نئی نئی باتیں سیکھیں گے۔ کیوں نہ اِس سال مسیح کی موت کی یادگاری تقریب سے پہلے اور بعد والے ہفتوں میں ایک یا اِس سے زیادہ اِنجیلوں کو دھیان سے پڑھنے کی کوشش کریں؟ ایک ہی وقت میں بہت زیادہ باب نہ پڑھیں۔ اِس کی بجائے آہستہ آہستہ پڑھیں اور ایسی باتیں تلاش کرنے کی کوشش کریں جن سے آپ کو یہوواہ اور یسوع کے لیے اَور زیادہ محبت دِکھانے کی وجوہات ملیں۔ اگر آپ کافی سالوں سے یہوواہ کے گواہ ہیں تو شاید آپ سوچیں:‏ ”‏مَیں یہوواہ کے اِنصاف، اُس کی محبت اور فدیے جیسے موضوعات سے پہلے سے ہی اچھی طرح واقف ہوں۔ بھلا اب مجھے اِن کے بارے میں اَور کون سی نئی باتیں پتہ چل سکتی ہیں؟“‏ لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ ایسے موضوع ہیں جن کے بارے میں ہم جتنا بھی سیکھ لیں، کم ہے۔ اِس لیے یہوواہ کی تنظیم نے ہمیں اِن موضوعات کے حوالے سے معلومات کا جو خزانہ دیا ہے، اُس سے پوری طرح فائدہ اُٹھائیں۔ م25.‏01 ص.‏ 24-‏25 پ.‏ 13-‏15

یادگاری تقریب کے حوالے سے پڑھنے کے لیے آیتیں:‏ ‏(‏جو واقعات دن کے دوران ہوئے:‏ 11 نیسان)‏ لُوقا 21:‏1-‏36

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں