فروری
اِتوار، 1 فروری
لڑائی جھگڑے سے باز رہنا اِنسان کے لیے عزت کی بات ہے لیکن ہر بےوقوف شخص اِس میں اُلجھ جاتا ہے۔—اَمثا 20:3۔
جو بھائی ایسی خوبیاں ظاہر کرتے ہیں جو یہوواہ کو پسند ہیں، وہ کلیسیا کے لیے بہت بڑی برکت ثابت ہوتے ہیں۔ ایک ”نرممزاج“ شخص صلح کو فروغ دیتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو ایک نرممزاج شخص کے طور پر جانیں تو دوسروں کی بات کو دھیان سے سنیں اور اُن کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ فرض کریں کہ آپ ایک بزرگ ہیں اور بزرگوں کا اِجلاس چل رہا ہے۔ اگر زیادہتر بزرگ ایک فیصلے سے متفق ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ یہ بائبل کے اصولوں کے خلاف نہیں ہے تو کیا آپ اُن کے فیصلے میں اُن کا ساتھ دیں گے؟ دوسروں کو اِس بات پر مجبور نہ کریں کہ وہ ایک کام کو اُس طرح سے کریں جس طرح سے آپ چاہتے ہیں۔ آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دوسروں کی رائے اور مشورے کو سننا اہم ہوتا ہے۔ (پید 13:8، 9؛ اَمثا 15:22) آپ کو دوسروں کی بےعزتی اور اُن سے بحث کرنے کی بجائے اُن کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیے۔ آپ کو ”صلحپسند“ بھی ہونا چاہیے۔ آپ کو تب بھی دوسروں سے صلح کرنے میں پہل کرنی چاہیے جب ایسا کرنا بہت مشکل ہو۔ (یعقو 3:17، 18) اگر آپ دوسروں کے ساتھ نرمی سے بات کریں گے تو اُن کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا یہاں تک کہ اُن لوگوں کا بھی جو ہماری مخالفت کرتے ہیں۔—قُضا 8:1-3؛ اَمثا 25:15؛ متی 5:23، 24۔ م24.11 ص. 23 پ. 13
سوموار، 2 فروری
وہ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور اپنے چُنے ہوئے لوگوں کو زمین کی اِنتہا سے آسمان کی اِنتہا تک یعنی چاروں سمتوں سے جمع کرے گا۔—مر 13:27۔
یہ سچ ہے کہ یسوع مسیح نے ہمارے لیے ”ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے“ اپنی جان قربان کر دی۔ لیکن وہ ابھی بھی ہمارے لیے بہت سی قربانیاں دے رہے ہیں۔ (روم 6:10) وہ کیسے؟ وہ ابھی بھی اپنا بہت سا وقت اور طاقت ہمیں ایسی چیزیں دینے کے لیے اِستعمال کر رہے ہیں جنہیں حاصل کرنا فدیے کے ذریعے ممکن ہوا۔ غور کریں کہ وہ کن کاموں کو کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ ہمارے بادشاہ، کاہنِاعظم اور کلیسیا کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ (1-کُر 15:25؛ اِفِس 5:23؛ عبر 2:17) وہ مسحشُدہ مسیحیوں اور بڑی بِھیڑ کو جمع کرنے کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں جو بڑی مصیبت کے ختم ہونے سے پہلے مکمل ہو جائے گا۔ (متی 25:32) وہ اِس بات کا پورا خیال رکھ رہے ہیں کہ اِس آخری زمانے میں اُن کے پیروکاروں کو روحانی کھانا ملتا رہے۔ (متی 24:45) اور جب وہ 1000 سال کے لیے حکمرانی کریں گے تو وہ تب بھی ہمارے فائدے کے لیے بہت سے کام کریں گے۔ یہوواہ نے واقعی اپنا بیٹا ہمارے لیے دے دیا! م25.01 ص. 24 پ. 12
منگل، 3 فروری
یہ تو ایک نعمت ہے کہ اُن کو خدا کی عظیم رحمت کے ذریعے نیک قرار دیا جا رہا ہے اور اُس فدیے کے ذریعے رِہائی دِلائی جا رہی ہے جو مسیح یسوع نے ادا کِیا تھا۔—روم 3:24۔
یہوواہ ہمارے گُناہوں کو مکمل طور پر اور ہمیشہ کے لیے معاف کر دیتا ہے۔ اِس طرح ہم پھر سے اُس کے پکے دوست بن جاتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہوواہ کی طرف سے ملنے والی معافی اُس کی طرف سے ایک نعمت ہے جو وہ اپنی عظیم رحمت اور محبت کی بِنا پر ہمیں دیتا ہے۔ یہ ہمارا حق نہیں ہے جسے ہم مانگ سکتے ہیں۔ ہم سبھی کو دل سے اِس بات کے لیے شکرگزار ہونا چاہیے کہ یہوواہ ایسا خدا ہے جو ”دل سے معاف“ کرتا ہے۔ (زبور 130:4؛ روم 4:8) لیکن یہوواہ سے معافی حاصل کرنے کے لیے ہمیں ایک بہت ہی اہم کام کرنا ہوگا۔ یسوع مسیح نے اِس بارے میں کہا: ”اگر آپ لوگوں کی خطائیں معاف نہیں کریں گے تو آپ کا باپ بھی آپ کی خطائیں معاف نہیں کرے گا۔“ (متی 6:14، 15) اِس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم یہوواہ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے دوسروں کو معاف کریں۔ م25.02 ص. 13 پ. 18-19
بدھ، 4 فروری
خدا نیکوں اور بدوں دونوں کو زندہ کرے گا۔—اعما 24:15۔
ذرا سدوم اور عمورہ کے لوگوں کے بارے میں سوچیں۔ خدا کا بندہ جس کا نام لُوط تھا، اِن لوگوں میں رہ رہا تھا۔ کیا بائبل میں کہیں یہ بتایا گیا ہے کہ لُوط نے اِن سب لوگوں کو مُنادی کی تھی؟ نہیں۔ بےشک وہ سب بہت بُرے لوگ تھے۔ لیکن کیا اُن میں سے ہر شخص صحیح اور غلط میں فرق کر سکتا تھا؟ ایسا لگتا نہیں۔ یاد کریں کہ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ اُس شہر میں ”جوان سے لے کر بڈھے“ تک جن میں کچھ چھوٹی عمر کے لڑکے بھی تھے، لُوط کے مہمانوں کے ساتھ حرامکاری کرنا چاہتے تھے۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ اُن سب نے بہت ہی بُرے ماحول میں پرورش پائی تھی اور شاید وہ یہ سمجھتے ہی نہیں تھے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، وہ کتنا غلط ہے۔ (پید 19:4؛ 2-پطر 2:7) کیا ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے رحمدل خدا یہوواہ نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ مستقبل میں اِن میں سے کسی بھی شخص کو زندہ نہیں کرے گا؟ یاد کریں کہ یہوواہ نے اَبراہام کو یقین دِلایا تھا کہ اگر اُسے اُس شہر میں دس نیک لوگ بھی ملے تو وہ وہاں کے لوگوں کو تباہ نہیں کرے گا۔ (پید 18:32) لیکن وہاں تو اِتنے نیک لوگ بھی نہیں تھے۔ اِس لیے یہوواہ کا اُس شہر کے لوگوں کو تباہ کرنا بالکل صحیح فیصلہ تھا۔ تو کیا ہم یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اِن میں سے کسی بھی شخص کا شمار اُن ”بدوں“ میں نہیں ہوتا جنہیں یہوواہ زندہ کرے گا؟ نہیں، ہم یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ م24.05 ص. 2 پ. 3؛ ص. 3 پ. 8
جمعرات، 5 فروری
خدا کی بادشاہت اور اُس کے نیک معیاروں کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دیتے رہیں پھر باقی ساری چیزیں بھی آپ کو دی جائیں گی۔—متی 6:33۔
مالی مسئلوں سے نمٹنے کے لیے کچھ بہن بھائیوں نے ایسی نوکری کرنے کا فیصلہ کِیا جس کی وجہ سے اُنہیں اپنے گھر والوں سے دُور کسی اَور جگہ جا کر رہنا پڑا۔ لیکن بعد میں اُن میں سے بہت سے بہن بھائیوں کو احساس ہوا کہ اُن کا یہ فیصلہ کتنا غلط تھا۔ تو کوئی بھی نوکری قبول کرنے سے پہلے صرف یہ نہ سوچیں کہ اِسے کرنے سے آپ کو کتنا مالی فائدہ ہوگا بلکہ اِس بارے میں سوچیں کہ اِسے کرنے سے یہوواہ کے ساتھ آپ کی دوستی کو کتنا نقصان ہوگا۔ (لُو 14:28) اِس لیے خود سے یہ سوال پوچھیں: ”اگر مَیں نوکری کی وجہ سے اپنے جیون ساتھی سے دُور رہوں گا تو اِس کا میری شادیشُدہ زندگی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ کیا اِس نوکری کی وجہ سے مَیں سب اِجلاسوں میں اور باقاعدگی سے مُنادی میں جا سکوں گا اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکوں گا؟“ اور اگر آپ کے بچے ہیں تو آپ کو خود سے یہ اہم سوال بھی پوچھنا چاہیے: ”اگر مَیں اپنے بچوں کے ساتھ نہیں رہوں گا تو کیا مَیں ”یہوواہ کی طرف سے اُن کی تربیت اور رہنمائی کرتے ہوئے اُن کی پرورش“ کر پاؤں گا؟“ (اِفِس 6:4) یہوواہ کی سوچ کو ذہن میں رکھ کر فیصلے لیں۔ یہ سوچ کر کوئی فیصلہ نہ لیں کہ آپ کے وہ دوست اور رشتےدار کیا چاہتے ہیں جو پاک کلام کے اصولوں کا احترام نہیں کرتے۔ م25.03 ص. 29 پ. 12
جمعہ، 6 فروری
بچوں کی طرح نہ ہوں۔—اِفِس 4:14۔
جو مسیحی پختگی کی طرف نہیں بڑھتے، وہ بڑی آسانی سے اُن لوگوں کے دھوکے میں آ جاتے ہیں جو ”چالاکی سے بُرے منصوبے“ باندھتے ہیں۔ وہ خدا سے برگشتہ لوگوں کی اور میڈیا کی پھیلائی ہوئی جھوٹی باتوں پر فوراً یقین کر لیتے ہیں۔ وہ دوسروں سے حسد کرتے ہیں، جھگڑا کرنے پر اُتر آتے ہیں، فوراً کسی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں اور اکثر آزمائش کے آگے گُھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ (1-کُر 3:3) پاک کلام میں روحانی لحاظ سے پُختہ بننے کا موازنہ ایک بچے کے بڑے ہونے سے کِیا گیا ہے۔ (اِفِس 4:15) ایک بچے میں اِتنی زیادہ سمجھ نہیں ہوتی۔ اِس لیے اُسے کسی بڑے کی ضرورت ہوتی ہے جو اُسے اچھے اور بُرے کے بارے میں بتائے۔ اِس بات کو سمجھنے کے لیے ذرا اِس مثال پر غور کریں۔ فرض کریں کہ ایک ماں اپنی بچی کے ساتھ سڑک پار کر رہی ہے۔ اِس دوران وہ اپنی بچی کا ہاتھ پکڑ کر سڑک پار کرتی ہے۔ لیکن اب اُس کی بیٹی تھوڑی بڑی ہو گئی ہے اور وہ خود سے سڑک پار کر سکتی ہے۔ مگر پھر بھی اُس کی ماں اُسے یاد دِلاتی ہے کہ وہ سڑک پار کرتے ہوئے دائیں اور بائیں دونوں طرف دیکھے۔ لیکن جب بچی، بڑی ہو جاتی ہے تو وہ خود خطروں کو بھانپ سکتی ہے اور اِن سے بچ سکتی ہے۔ اِسی طرح جب ایک شخص خود پُختہ مسیحی بن جاتا ہے تو کوئی فیصلہ کرتے وقت وہ ایک معاملے کے بارے میں یہوواہ کی سوچ کو جاننے کے لیے پاک کلام کے اصولوں پر سوچ بچار کرتا ہے اور پھر اِنہی کے مطابق کام کرتا ہے۔ م24.04 ص. 3 پ. 5-6
ہفتہ، 7 فروری
اَے یہوواہ! کون تیرے خیمے کا مہمان بن سکتا ہے؟—زبور 15:1۔
بہت سالوں تک صرف آسمان پر رہنے والی ہستیاں ہی یہوواہ کی مہمان یا اُس کی دوست تھیں۔ لیکن پھر یہوواہ نے زمین پر اِنسانوں کو بنایا اور اُنہیں بھی اپنا مہمان بننے کا موقع دیا۔ اِن مہمانوں میں سے کچھ حنوک، نوح، اَبراہام اور ایوب تھے۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ سچے خدا یہوواہ کے دوست تھے کیونکہ وہ اُس کا کہنا مانتے تھے اور اُس کے ”ساتھ ساتھ چلتے“ تھے۔ (پید 5:24؛ 6:9؛ ایو 29:4؛ یسع 41:8) صدیوں سے یہوواہ اپنے دوستوں کو اپنا مہمان بننے کی دعوت دیتا آیا ہے۔ (حِز 37:26، 27) مثال کے طور پر حِزقیایل کی پیشگوئی سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ دل سے چاہتا ہے کہ اُس کے بندے اُس کے قریبی دوست بنیں۔ اُس نے وعدہ کِیا ہے کہ وہ ”اُن کے ساتھ سلامتی کا عہد“ باندھے گا۔ اِس پیشگوئی کا اِشارہ اُس وقت کی طرف ہے جب یہوواہ آسمان پر ہمیشہ کی زندگی پانے والے اور زمین پر ہمیشہ کی زندگی پانے والے اپنے بندوں کو متحد کر کے اور ”ایک گلّہ“ بنا کر اپنے خیمے میں لائے گا۔ (یوح 10:16) اور ایسا ہی بالکل ابھی ہو رہا ہے۔ م24.06 ص. 2 پ. 2، 4؛ ص. 3 پ. 5
اِتوار، 8 فروری
ہم نے خدا کی مدد سے ہمت جمع کی۔—1-تھس 2:2۔
یہوواہ کے بندوں کے طور پر ہم پورے دل سے اُس کی بادشاہت کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے ہمیں اکثر دلیری کی ضرورت پڑتی ہے۔ (متی 6:33) مثال کے طور پر ہمیں اِس بُری دُنیا میں یہوواہ کے معیاروں کے مطابق زندگی گزارنے اور خوشخبری کی مُنادی کرنے کے لیے دلیری کی ضرورت ہے۔ اِس کے علاوہ آج دُنیا سیاست کی وجہ سے پہلے سے بھی کہیں زیادہ بٹ گئی ہے۔ اِس لیے سیاسی معاملوں میں کسی کی طرفداری نہ کرنے کے لیے ہمیں دلیری کی ضرورت ہے۔ (یوح 18:36) یہوواہ کے بندوں نے دلیری سے کام لیتے ہوئے سیاست اور جنگ میں حصہ نہیں لیا جس کی وجہ سے اُن میں سے بہت سے لوگوں کو مالی نقصان اُٹھانا پڑا، اُنہیں مارا پیٹا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔ ہمیں یہوواہ کے اُن بندوں کی مثالوں پر غور کرنے سے ہمت اور دلیری مل سکتی ہے جنہوں نے یہوواہ اور اُس کی بادشاہت کا وفادار رہنے کے لیے دلیری دِکھائی۔ جب ہمارے بادشاہ یسوع مسیح زمین پر تھے تو اُنہوں نے شیطان کی دُنیا کے سیاسی معاملوں میں پڑنے سے صاف اِنکار کر دیا۔ (متی 4:8-11؛ یوح 6:14، 15) یسوع مسیح نے ہمیشہ ہمت اور دلیری کے لیے یہوواہ پر آس لگائی۔ م24.07 ص. 3 پ. 4؛ ص. 4 پ. 7
سوموار، 9 فروری
اُس نے اِس کا پھل لیا اور اِسے کھانے لگی۔ بعد میں جب اُس کا شوہر اُس کے ساتھ تھا تو اُس نے اُسے بھی یہ پھل دیا اور وہ بھی اِسے کھانے لگا۔—پید 3:6۔
یہوواہ نے یہ افسوسناک واقعہ اپنے کلام میں لکھوایا تاکہ ہم اِس سے ایک اہم بات سمجھ سکیں۔ اِس واقعے کو پڑھ کر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہوواہ گُناہ سے اِتنی نفرت کیوں کرتا ہے۔ گُناہ ہمیں یہوواہ سے دُور کر دیتا ہے اور موت کا باعث بنتا ہے۔ (یسع 59:2) اِسی وجہ سے تو ساری مصیبتوں کی جڑ شیطان گُناہ کو اِتنا پسند کرتا ہے اور اِسے ہوا دیتا ہے۔ شیطان نے سوچا ہوگا کہ باغِعدن میں سارا معاملہ بگاڑ کر وہ جیت گیا ہے۔ لیکن وہ اِنسانوں کے لیے یہوواہ کے پیار کی گہرائی کو نہیں سمجھتا تھا۔ یہوواہ نے آدم اور حوّا کی اولاد کے لیے اپنے مقصد کو نہیں بدلا۔ وہ اِنسانوں سے بہت پیار کرتا ہے اِس لیے اُس نے اُنہیں فوراً اُمید دی۔ (روم 8:20، 21) یہوواہ جانتا تھا کہ آدم اور حوّا کی اولاد میں سے کچھ لوگ اُس سے محبت کریں گے اور گُناہ کے خلاف لڑنے کے لیے اُس پر آس لگائیں گے۔ یہوواہ نے اِس طرح کے لوگوں کے لیے یہ ممکن بنایا کہ وہ اُس کے قریب جا سکیں اور گُناہ اور موت سے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔ م24.08 ص. 3 پ. 3-4
منگل، 10 فروری
معلوم کرتے رہیں کہ کون سی باتیں زیادہ اہم ہیں۔—فِل 1:10۔
یہوواہ کے زیادہتر بندوں کی زندگی بہت مصروف ہے۔ ہمیں اپنی اور اپنے گھرانے کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے نوکری کرنی پڑتی ہے۔ (1-تیم 5:8) بہت سے مسیحیوں کو اپنے ایسے رشتےداروں کی دیکھبھال کرنی پڑتی ہے جو بیمار اور بوڑھے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہم سبھی کو اپنی صحت کا خیال رکھنے کے لیے بھی وقت چاہیے ہوتا ہے۔ اِن ذمےداریوں کے علاوہ ہمیں کلیسیا میں بھی اہم ذمےداریاں نبھانی ہوتی ہیں۔ ایک اہم ذمےداری جوش سے مُنادی میں حصہ لینا ہے۔ خدا کے بندوں کے لیے بائبل پڑھنا ”زیادہ اہم“ باتوں میں سے ایک ہے۔ اِس لیے ہمیں اِسے اپنی زندگی میں بہت اہمیت دینی چاہیے۔ زبور کی کتاب کے پہلے زبور میں ایک ایسے آدمی کا ذکر کِیا گیا ہے جو خوش رہتا ہے۔ اُس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ”اُسے یہوواہ کے قوانین سے خوشی ملتی ہے اور وہ دن رات اُس کے قوانین کو دھیمی آواز میں پڑھتا ہے۔“ (زبور 1:1، 2) اِس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں بائبل کو پڑھنے کے لیے ایک وقت طے کر لینا چاہیے۔ لیکن ایسا کرنے کا بہترین وقت کون سا ہو سکتا ہے؟ ہم خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے لیے دن کے دوران کون سا وقت ٹھیک رہے گا۔ بس اہم بات یہ ہے کہ ہم کوئی ایسا وقت چُنیں جس میں ہمارے لیے ہر دن ایسا کرنا آسان ہو۔ م24.09 ص. 3 پ. 5-6
بدھ، 11 فروری
ہر کوئی اپنی ذمےداری کا بوجھ اُٹھائے گا۔—گل 6:5۔
کیا ایک پُختہ مسیحی کو بھی کبھی کسی سے مدد لینے کی ضرورت پڑتی ہے؟ جی بالکل۔ کبھی کبھار اُسے بھی دوسروں سے مدد لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جو شخص پُختہ مسیحی نہیں ہوتا شاید وہ دوسروں سے یہ توقع کرے کہ وہ اُسے بتائیں کہ اُسے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یا وہ اُس کے لیے ایسے فیصلے کریں جو صرف اُسے ہی کرنے چاہئیں۔ لیکن ایک پُختہ مسیحی دوسروں کی دانشمندی اور تجربے سے سیکھتا تو ہے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ اِس بات کو بھی یاد رکھتا ہے کہ یہوواہ اُس سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ ”اپنی ذمےداری کا بوجھ اُٹھائے۔“ جس طرح بالغ ایک دوسرے سے فرق دِکھتے ہیں اُسی طرح پُختہ مسیحیوں میں فرق فرق خوبیاں ہوتی ہیں جیسے کہ دانشمندی، دلیری، فراخدلی اور ہمدردی۔ اِس کے علاوہ جب دو پُختہ مسیحیوں کو ایک جیسی صورتحال میں کوئی فیصلہ کرنا ہوتا ہے تو وہ بائبل کے اصولوں کو ذہن میں رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ شاید اُن کا فیصلہ تو ایک دوسرے سے فرق ہو لیکن دونوں ہی فیصلے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ ایسا خاص طور پر اُس وقت ہوتا ہے جب بات ضمیر کی آتی ہے۔ اِسی بات کو یاد رکھتے ہوئے وہ ایک دوسرے کے فیصلے پر نکتہچینی نہیں کرتے۔ اِس کی بجائے وہ اپنا دھیان اِس بات پر رکھتے ہیں کہ اُن کے بیچ اِتحاد برقرار رہے۔—روم 14:10؛ 1-کُر 1:10۔ م24.04 ص. 4 پ. 7-8
جمعرات، 12 فروری
جب مَیں فکروں کے بوجھ تلے دب گیا تو تُو نے مجھے تسلی اور سکون بخشا۔—زبور 94:19۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی کوئی اہمیت نہیں ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ بائبل سے ایسی آیتوں کو پڑھیں جن سے آپ کو اِس بات کا یقین ہو کہ یہوواہ آپ کی قدر کرتا ہے اور اِن آیتوں پر سوچ بچار کریں۔ اگر آپ یہوواہ کی خدمت کے حوالے سے اپنا کوئی منصوبہ پورا نہیں کر پائے یا آپ اِس وجہ سے بےحوصلہ ہیں کیونکہ آپ یہوواہ کی خدمت میں اُتنا نہیں کر پا رہے جتنا دوسرے کر رہے ہیں تو اِس کے لیے خود کو نہ کوسیں۔ یہوواہ آپ سے اُتنے ہی کاموں کی توقع کرتا ہے جتنے آپ اُس کے لیے کر سکتے ہیں۔ وہ اِس سے زیادہ کی توقع نہیں کرتا۔ (زبور 103:13، 14) اگر ماضی میں کسی نے آپ کو مارا پیٹا تھا یا آپ کو جذباتی طور پر ٹھیس پہنچائی تھی یا آپ کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی تو اِس کے لیے خود کو قصوروار نہ ٹھہرائیں۔ آپ کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ اُن لوگوں کو سزا دیتا ہے جنہوں نے بُرے کام کیے ہیں، اُن لوگوں کو نہیں جن کے ساتھ بُرا سلوک ہوا ہے۔ (1-پطر 3:12) اِس بات پر کبھی بھی شک نہ کریں کہ یہوواہ آپ کے ذریعے دوسروں کی مدد کر سکتا ہے۔ اُس نے آپ کو یہ اعزاز دیا ہے کہ آپ دوسروں کو خوشخبری سنانے سے اُس کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔ (1-کُر 3:9) ماضی میں آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، یقیناً اُس کی وجہ سے آپ کے دل میں دوسروں کے لیے ہمدردی پیدا ہوئی ہے اور آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اُن پر کیا بیت رہی ہے۔ آپ بہت اچھے سے اُن کی مدد کر سکتے ہیں۔ م24.10 ص. 7-8 پ. 6-7
جمعہ، 13 فروری
کیا خدا اپنے چُنے ہوئے لوگوں کو اِنصاف نہیں دِلائے گا جو دن رات اُس سے اِلتجا کرتے ہیں؟ بلکہ وہ تو اُن کے ساتھ صبر سے پیش آئے گا۔ مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ وہ اُن کو جلد اِنصاف دِلائے گا۔—لُو 18:7، 8۔
یہوواہ کی نظر میں یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے کہ دوسرے ہمارے ساتھ کس طرح سے پیش آ رہے ہیں۔ ”یہوواہ اِنصاف سے محبت کرتا ہے۔“ (زبور 37:28) یسوع مسیح نے ہمیں یقین دِلایا ہے کہ یہوواہ صحیح وقت پر ہمیں ”جلد اِنصاف دِلائے گا۔“ بہت جلد یہوواہ ہماری ہر تکلیف اور ہر طرح کی نااِنصافی کا نامونشان مٹا دے گا۔ (زبور 72:1، 2) سچ ہے کہ ہمیں اُس وقت تک اِنتظار کرنا ہوگا جب تک یہوواہ نااِنصافی کو ختم نہیں کر دیتا لیکن اِس اِنتظار کی گھڑی میں وہ نااِنصافی کو برداشت کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ (2-پطر 3:13) وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ہمارے ساتھ بُرا سلوک کِیا جاتا ہے تو ہم ایسے کون سے کام کرنے سے باز رہ سکتے ہیں جن سے مسئلہ اَور بگڑ سکتا ہے۔ وہ ہمیں اپنے بیٹے کی مثال کے ذریعے ایسا کرنا سکھاتا ہے۔ اُس نے اپنے کلام میں بتایا ہے کہ جب اُس کے بیٹے کے ساتھ نااِنصافی کی گئی تو اُس نے کیا کِیا۔ اِس کے علاوہ یہوواہ نے اپنے کلام میں ہمیں ایسی ہدایتیں بھی دی ہیں جن سے ہم نااِنصافی کو برداشت کر سکتے ہیں۔ م24.11 ص. 2-3 پ. 3-4
ہفتہ، 14 فروری
آپ لوگ اُن کو کھانا دیں۔—متی 14:16۔
یسوع مسیح نے اپنے رسولوں سے کہا کہ وہ وہاں موجود لوگوں کو کھانا دیں۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہاں تقریباً 5000 آدمی تھے اور عورتوں اور بچوں کو ملا کر شاید وہاں 15 ہزار کے لگ بھگ لوگ تھے جن کے کھانے کا بندوبست کرنا تھا۔ (متی 14:21) یسوع کے شاگرد اندریاس نے کہا: ”اِس بچے کے پاس جَو کی پانچ روٹیاں اور دو چھوٹی مچھلیاں ہیں۔ لیکن اِن سے کیا بنے گا؟“ (یوح 6:9) اُس زمانے میں جَو کی روٹیاں بہت عام ہوتی تھیں جنہیں غریب اور دوسرے لوگ باقاعدگی سے کھاتے تھے۔ اور اُس بچے کے پاس جو دو چھوٹی مچھلیاں تھیں، شاید اُنہیں نمک لگایا اور خشک کِیا گیا تھا۔ لیکن کیا اِتنے سے کھانے سے ہزاروں لوگوں کا پیٹ بھر سکتا تھا؟ یسوع لوگوں کی مہماننوازی کرنا چاہتے تھے اِس لیے اُنہوں نے اُن سے کہا کہ وہ گھاس پر ٹولیوں کی صورت میں بیٹھ جائیں۔ (مر 6:39، 40؛ یوح 6:11-13) اِس کے آگے بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یسوع کے پاس جو روٹی اور مچھلی تھی، اُس پر اُنہوں نے اپنے باپ یہوواہ سے دُعا کی۔ ایسا کرنا بالکل مناسب تھا کیونکہ اصل میں یہوواہ ہی سب کو خوراک دیتا ہے۔ یسوع نے ہماری لیے کتنی اچھی مثال قائم کی ہے نا کہ ہمیں کھانا کھانے سے پہلے یہوواہ سے دُعا کرنی چاہیے؟ پھر یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو لوگوں میں کھانا تقسیم کرنے کے لیے کہا اور سب نے پیٹ بھر کر کھایا۔ م24.12 ص. 2-3 پ. 3-4
اِتوار، 15 فروری
یہوواہ اپنے خدا کی بڑائی کریں۔—1-توا 29:20۔
جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو اُنہوں نے تسلیم کِیا کہ وہ جو بھی معجزے کر رہے ہیں، وہ اپنے آسمانی باپ کی طاقت سے ہی کر رہے ہیں۔ (مر 5:18-20) یسوع نے جس طرح سے اپنے باپ یہوواہ کے بارے میں دوسروں کو بتایا اور جس طرح سے وہ دوسروں کے ساتھ پیش آئے، اُس سے بھی اُنہوں نے یہوواہ کی تعظیم کی۔ ایک دفعہ یسوع مسیح یہودیوں کی ایک عبادتگاہ میں تعلیم دے رہے تھے۔ جو لوگ اُن کی باتیں سُن رہے تھے، اُن میں ایک ایسی عورت بھی تھی جو 18 سال سے ایک بُرے فرشتے کے قبضے میں تھی۔ اُس بُرے فرشتے کی وجہ سے وہ کبڑی ہو گئی تھی اور سیدھی کھڑی نہیں ہو سکتی تھی۔ اُس کی حالت بہت ترس کے لائق تھی۔ یسوع اُس کے درد کو محسوس کرتے ہوئے اُس کے پاس گئے اور بڑے پیار سے اُس سے کہا: ”بیبی، آپ کو اِس بیماری سے چھٹکارا مل گیا۔“ پھر اُنہوں نے اُس عورت پر ہاتھ رکھے اور وہ فوراً سیدھی ہو گئی اور ”خدا کی بڑائی کرنے لگی۔“ اُس کی صحت اور کھوئی ہوئی عزتِنفس واپس لوٹ آئی۔ (لُو 13:10-13) اُس عورت کے پاس یہوواہ کی تعظیم کرنے کی بہت بڑی وجہ تھی اور آج ہمارے پاس بھی ایسا کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ م25.01 ص. 2-3 پ. 3-4
سوموار، 16 فروری
ہمارے گُناہ معاف کر۔—لُو 11:4۔
کیا ہمارے لیے اُن سب چیزوں کو حاصل کرنا ممکن ہے جنہیں آدم اور حوّا نے کھو دیا تھا؟ اپنی طاقت سے تو نہیں۔ (زبور 49:7-9) اگر یہوواہ نے ہماری مدد نہ کی ہوتی تو ہمارے پاس ہمیشہ کی زندگی پانے یا فوت ہو جانے کے بعد پھر سے زندہ ہو جانے کی کوئی اُمید نہ ہوتی۔ دراصل ہماری موت اور جانوروں کی موت میں کوئی فرق نہ ہوتا۔ (واعظ 3:19؛ 2-پطر 2:12) ہمارے شفیق آسمانی باپ یہوواہ نے ہمیں دل کھول کر ایک ایسی نعمت دی ہے جس کی وجہ سے ہمارے گُناہوں کا وہ قرض ادا ہو جاتا ہے جو ہمیں آدم سے ورثے میں ملا ہے۔ یسوع مسیح نے اِس حوالے سے کہا: ”خدا کو دُنیا سے اِتنی محبت ہے کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا دے دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان ظاہر کرے، وہ ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔“ (یوح 3:16) یہوواہ کی دی ہوئی اِس نعمت کی وجہ سے ہمارے لیے اُس کے ساتھ دوستی کرنا بھی ممکن ہو گیا۔ ہم یہوواہ کی اِس شاندار نعمت سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جو اُس نے ہمارے گُناہوں کو معاف کرنے کے لیے دی ہے۔ م25.02 ص. 3 پ. 3-6
منگل، 17 فروری
پھر[ساؤل]اُٹھے اور اُنہوں نے بپتسمہ لیا۔—اعما 9:18۔
کس چیز نے ساؤل کی بپتسمہ لینے میں مدد کی؟ جب یسوع مسیح نے آسمان سے ساؤل سے بات کی تو اِس کے بعد ساؤل آسمان سے آنے والی تیز روشنی کی وجہ سے اندھے ہو گئے۔ (اعما 9:3-9) تین دن تک اُنہوں نے نہ تو کچھ کھایا اور نہ ہی پیا۔ وہ غالباً اُن باتوں پر گہرائی سے سوچ بچار کر رہے ہوں گے جو اُن کے ساتھ ہوئی تھیں۔ ساؤل کو اِس بات کا پکا یقین ہو گیا تھا کہ یسوع ہی مسیح ہیں اور یسوع کے پیروکار سچائی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ہم ساؤل سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اگر ساؤل چاہتے تو وہ غرور یا اِنسانوں کے ڈر کی وجہ سے بپتسمہ لینے سے پیچھے ہٹ سکتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے ایسا بالکل نہیں کِیا۔ ساؤل خوشی سے مسیحی بننے کو تیار تھے حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اِس وجہ سے اُنہیں بہت اذیت دی جائے گی۔ (اعما 9:15، 16؛ 20:22، 23) پھر جب اُنہوں نے بپتسمہ لے لیا تو اِس کے بعد بھی وہ مشکلوں میں ثابتقدم رہنے کے لیے یہوواہ پر بھروسا کرتے رہے۔ (2-کُر 4:7-10) جب آپ یہوواہ کے گواہ کے طور پر بپتسمہ لیں گے تو آپ کے ایمان کا بھی اِمتحان ہو سکتا ہے اور آپ کی بھی مخالفت کی جا سکتی ہے۔ لیکن آپ اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ اور یسوع مسیح ہمیشہ آپ کی مدد کریں گے تاکہ آپ مشکلوں میں بھی اُن کے وفادار رہ سکیں۔—فِل 4:13۔ م25.03 ص. 4 پ. 8-9
بدھ، 18 فروری
مَیں اندھادُھند نہیں دوڑتا۔—1-کُر 9:26۔
اگر آپ نے بائبل پڑھنے کا شیڈول بنایا ہے تو یہ اچھا منصوبہ ہے۔ لیکن ہمیں خدا کے کلام سے پورا فائدہ حاصل کرنے کے لیے کچھ اَور بھی کرنے کی ضرورت ہے۔اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں۔ پودوں کے بڑھنے اور زندہ رہنے کے لیے بارش بہت ضروری ہوتی ہے۔ لیکن اگر تھوڑے سے وقت میں بہت تیز بارش ہوگی تو پانی مٹی میں جذب نہیں ہوگا۔ پودوں کو بارش سے تبھی فائدہ ہوگا جب یہ آہستہ آہستہ ہوگی اور پانی مٹی میں جذب ہوتا رہے گا۔ اِسی طرح اگر ہم بائبل کو آہستہ آہستہ پڑھیں گے تو اِس میں لکھی باتیں ہمارے دل میں اُتر پائیں گی اور ہم یہ یاد رکھ پائیں گے کہ ہم نے اِن باتوں پر عمل کیسے کرنا ہے۔ (یعقو 1:24) کیا کبھی آپ کو لگا کہ آپ بہت تیزی سے بائبل پڑھتے ہیں؟ اگر ہاں تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ اِسے آہستہ آہستہ پڑھنے کی کوشش کریں تاکہ آپ اُن باتوں پر سوچ بچار کر سکیں جو آپ پڑھ رہے ہیں یا پڑھ چُکے ہیں۔ ایسی سوچ بچار کرنے کے لیے شاید آپ کو بائبل پڑھنے کے اپنے شیڈول کے لیے زیادہ وقت نکالنا پڑے۔ م24.09 ص. 4 پ. 7-9
جمعرات، 19 فروری
اُن لوگوں کے فرمانبردار . . . ہوں جو آپ کی پیشوائی کرتے ہیں۔—عبر 13:17۔
جب کلیسیا کے بزرگوں کو تنظیم کی طرف سے کوئی ہدایت ملتی ہے تو اُنہیں اِسے پورے دھیان سے پڑھنا چاہیے اور اِس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ بزرگوں کو تنظیم کی طرف سے صرف یہ ہدایتیں ہی نہیں ملتیں کہ اُنہیں اِجلاس میں حصے کیسے دینے ہیں یا پھر کلیسیا کے لیے دُعا کیسے کرنی ہے بلکہ اُنہیں یہ ہدایت بھی ملتی ہے کہ اُنہیں یسوع کی بھیڑوں کا خیال کیسے رکھنا ہے۔ جب کلیسیا کے بزرگ تنظیم کی طرف سے ملنے والی ہر ہدایت پر عمل کرتے ہیں تو بہن بھائیوں کو محسوس ہوتا ہے کہ یہوواہ اُن سے پیار کرتا ہے اور اُسے اُن کی فکر ہے۔ جب ہمیں کلیسیا کے بزرگوں کی طرف سے کوئی ہدایت ملتی ہے تو ہمیں خوشی سے اِس پر عمل کرنا چاہیے۔ اِس طرح اُن کے لیے اپنی ذمےداریوں کو پورا کرنا اَور آسان ہو جائے گا۔ بائبل میں ہماری حوصلہافزائی کی گئی ہے کہ ہم اُن لوگوں کے فرمانبردار اور تابعدار ہوں جو ہماری پیشوائی کر رہے ہیں۔ (عبر 13:7، 17) لیکن کبھی کبھار ایسا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ پیشوائی کرنے والے بھائی بھی عیبدار ہیں۔ اگر ہم اِن بھائیوں کی خوبیوں کی بجائے اُن کی خامیوں پر دھیان دیں گے تو ایک طرح سے ہم اپنے دُشمنوں کا کام آسان کر رہے ہوں گے۔ وہ کیسے؟ ہو سکتا ہے کہ یہوواہ کی تنظیم سے ہمارا بھروسا اُٹھ جائے۔ م24.04 ص. 10 پ. 11-12
جمعہ، 20 فروری
وہ لوگوں کو . . . ایک دوسرے سے الگ کرے گا۔—متی 25:32۔
کیا اُن سب لوگوں کے پاس زندہ ہونے کی کوئی اُمید ہوگی جو بڑی مصیبت کے دوران مر جائیں گے؟ بائبل میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ یہوواہ ہرمجِدّون کی جنگ میں اپنی آسمانی فوجوں کے ساتھ اپنے جن مخالفوں کو ہلاک کرے گا، وہ زندہ نہیں ہوں گے۔ (2-تھس 1:6-10) لیکن ہم اُن لوگوں کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں جو بڑی مصیبت کے دوران شاید بیمار ہونے، بوڑھے ہونے، کسی حادثے کا شکار ہونے یا پھر کسی شخص کے ہاتھوں قتل ہو جانے کی وجہ سے فوت ہو جائیں گے؟ (واعظ 9:11؛ زِک 14:13) کیا اِن لوگوں کا شمار اُن ”بدوں“ میں کِیا جا سکتا ہے جنہیں نئی دُنیا میں زندہ کِیا جائے گا؟ (اعما 24:15) ہم اِس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ لیکن ہم کئی ایسے واقعات کے بارے میں جانتے ہیں جو مستقبل میں ہوں گے۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ ہرمجِدّون پر لوگوں کی عدالت اِس بِنا پر کی جائے گی کہ وہ مسیح کے بھائیوں کے ساتھ کیسے پیش آئے۔ (متی 25:40) اور جن لوگوں نے یسوع اور اُن کے مسحشُدہ بھائیوں کی حمایت کی ہوگی، اُنہیں بھیڑیں قرار دیا جائے گا۔—مُکا 12:17۔ م24.05 ص. 10-11 پ. 9-11
ہفتہ، 21 فروری
یہوواہ زندہ خدا ہے! میری چٹان کی بڑائی ہو! مجھے نجات دِلانے والے خدا کی تعظیم ہو!—زبور 18:46۔
بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ہم ایک ایسے دَور میں رہ رہے ہیں جس میں ہمیں ”مشکل وقت“ سے گزرنا پڑے گا۔ (2-تیم 3:1) یہوواہ کے بندوں کے طور پر ہمیں صرف اُنہی مشکلوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جن کا سامنا شیطان کی دُنیا کو کرنا پڑتا ہے۔ یہوواہ کی عبادت کرنے کی وجہ سے ہمیں مخالفت اور اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن کون سی بات ہماری مدد کرتی ہے تاکہ ہم مشکلوں کے باوجود یہوواہ کی عبادت کرتے رہیں؟ یہ بات کہ یہوواہ ”زندہ خدا“ ہے اور وہ ہماری مدد کرتا ہے۔ (یرم 10:10؛ 2-تیم 1:12) یہوواہ ایک حقیقی ہستی ہے۔ وہ دیکھ سکتا ہے کہ ہم کن مشکلوں سے گزر رہے ہیں اور وہ ہماری مدد کرنے کی دلی خواہش رکھتا ہے۔ (2-توا 16:9؛ زبور 23:4) جب ہم یہ یاد رکھتے ہیں کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے جو ہماری فکر کرتا ہے اور ہماری مدد کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے تو ہمیں ہر مشکل کو ثابتقدمی سے برداشت کرنے کی ہمت ملتی ہے۔ م24.06 ص. 20 پ. 1-2
اِتوار، 22 فروری
نیک لوگوں کی راہ صبح کی روشنی کی طرح ہے جو بھری دوپہر تک بڑھتی جاتی ہے۔—اَمثا 4:18۔
ہمیں یہوواہ کی تنظیم پر اپنے بھروسے کو قائم رکھنا ہوگا۔ جب یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمیں بائبل کی کسی سچائی کے حوالے سے اپنی سمجھ میں بہتری لانے کی ضرورت ہے یا خوشخبری سنانے کے کام کو منظم کرنے کے لیے اپنے طریقے کو بدلنے کی ضرورت ہے تو یہوواہ کی تنظیم میں پیشوائی کرنے والے بھائی اِن تبدیلیوں کو کرنے سے بالکل نہیں ہچکچاتے۔ وہ ایسا اِس لیے کرتے ہیں کیونکہ اُن کی نظر میں یہوواہ کو خوش کرنا سب سے اہم بات ہے۔ وہ اِس بات کا بھی پورا خیال رکھتے ہیں کہ اُن کے فیصلے خدا کے کلام کے مطابق یعنی اُس معیار کے مطابق ہوں جس پر خدا کے سبھی بندوں کو چلنا چاہیے۔ پولُس رسول نے نصیحت کی کہ ”صحیح تعلیم کے معیار پر قائم رہیں۔“ (2-تیم 1:13) اِصطلاح ’صحیح تعلیم کا معیار‘ اُن تعلیمات کی طرف اِشارہ کرتی ہے جو ہمیں بائبل سے ملتی ہیں۔ (یوح 17:17) یہ تعلیمات اُن سب عقیدوں کی بنیاد ہیں جو ہم مانتے ہیں۔ یہوواہ کی تنظیم نے ہمیں صحیح تعلیم کے معیار کے مطابق چلنا سکھایا ہے۔ جب تک ہم اِس معیار پر قائم رہیں گے، یہوواہ ہمیں برکتیں دے گا۔ م24.07 ص. 11 پ. 12-13
سوموار، 23 فروری
یہوواہ . . . آپ کی خاطر صبر سے کام لے رہا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص ہلاک ہو بلکہ وہ چاہتا ہے کہ سب لوگ توبہ کریں۔—2-پطر 3:9۔
پطرس رسول نے خود اِس بات کا تجربہ کِیا تھا کہ جب ایک شخص کو معافی ملتی ہے تو اُسے کیسا لگتا ہے۔ اِس لیے وہ دوسروں کو اِس بارے میں اچھی طرح سے سکھا سکتے تھے۔ پنتِکُست کی عید کے کچھ وقت بعد پطرس نے اُن یہودیوں کے سامنے ایک تقریر کی جو یسوع پر ایمان نہیں لائے تھے۔ پطرس نے اُنہیں بتایا کہ وہ لوگ مسیح کی موت کے ذمےدار ہیں۔ لیکن پھر اُنہوں نے اُنہیں بڑے پیار سے کہا: ”توبہ کریں اور اپنی روِش بدلیں تاکہ آپ کے گُناہ مٹائے جائیں اور یہوواہ کی طرف سے تازگی کے دن آئیں۔“ (اعما 3:14، 15، 17، 19) یوں پطرس نے سکھایا کہ توبہ کرنے سے ایک شخص میں اپنی بُری روِش کو بدلنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اِس طرح اُس کے دل میں اپنے بُرے کاموں سے باز آنے اور ایسے کام کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے جو یہوواہ کو پسند ہیں۔ پطرس نے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ یہوواہ اُن کے گُناہوں کو مٹا دے گا یعنی اُن کے گُناہوں کو پوری طرح سے معاف کر دے گا۔ ہمیں اِس بات سے کتنی تسلی اور اُمید ملتی ہے نا کہ یہوواہ ہمارے گُناہوں کو معاف کر دیتا ہے، یہاں تک کہ سنگین گُناہوں کو بھی! م24.08 ص. 12 پ. 14
منگل، 24 فروری
آپ کی زندگی سے ظاہر ہو کہ آپ کو پیسے سے پیار نہیں ہے۔—عبر 13:5۔
اگر ہمارا ایمان اِس بات پر مضبوط ہوگا کہ یہوواہ بہت جلد اِس بُری دُنیا کو تباہ کر دے گا تو ہم اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ پیسہ اور چیزیں حاصل کرنے کو اہمیت نہیں دیں گے۔ بڑی مصیبت کے دوران پیسہ لوگوں کے کسی کام نہیں آئے گا۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ لوگ ”اپنی چاندی سڑکوں پر پھینک دیں گے۔“ کیوں؟ کیونکہ اُنہیں احساس ہو جائے گا کہ ’یہوواہ کے غضب کے دن اُن کا سونا چاندی اُن کو نہیں بچا سکے گا۔‘ (حِز 7:19) تو ہمیں زیادہ سے زیادہ پیسہ جمع کرنے پر دھیان دینے کی بجائے ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جن سے ہم اپنی اور اپنے گھر والوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے ساتھ ساتھ یہوواہ کی خدمت کو زیادہ اہمیت دے سکیں۔ سمجھداری سے فیصلے کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ہم بِلاوجہ قرضہ نہ اُٹھائیں اور اپنا بہت سا وقت اپنی چیزوں کا دھیان رکھنے میں نہ لگائیں۔ ہمیں اِس بات سے بھی محتاط رہنا چاہیے کہ ہمیں اُن چیزوں سے حد سے زیادہ لگاؤ نہ ہو جو ہمارے پاس ہیں۔ (متی 6:19، 24) جیسے جیسے اِس بُری دُنیا کا خاتمہ قریب آ رہا ہے، اِس بات کے لیے ہمارے ایمان کا اِمتحان ہو سکتا ہے کہ ہم یہوواہ پر بھروسا کریں گے یا اپنے پیسے اور چیزوں پر۔ م24.09 ص. 11 پ. 13-14
بدھ، 25 فروری
جس شخص کو لگتا ہے کہ وہ مضبوطی سے کھڑا ہے، وہ خبردار رہے کہ گِر نہ جائے۔—1-کُر 10:12۔
شاید ہم اپنی کچھ خامیوں پر تو مکمل طور پر قابو پا لیں لیکن کچھ خامیوں پر قابو پانے کے لیے ہمیں ایک لمبی جنگ لڑنی پڑے۔ اِس سلسلے میں ذرا پطرس رسول کی مثال پر غور کریں۔ اُنہوں نے اِنسان کے ڈر کی وجہ سے تین بار یسوع مسیح کو جاننے سے اِنکار کر دیا۔ (متی 26:69-75) لیکن بعد میں جب پطرس نے یہودیوں کی عدالتِعظمیٰ کے سامنے بڑی دلیری سے گواہی دی تو ایسے لگ رہا تھا جیسے اُنہوں نے اپنے اِس ڈر پر قابو پا لیا ہے۔ (اعما 5:27-29) لیکن پھر کچھ سالوں بعد پطرس نے کچھ بھائیوں کے ڈر سے اُن مسیحیوں کے ساتھ کھانا پینا چھوڑ دیا جو پہلے غیرقوم سے تعلق رکھتے تھے۔ (گل 2:11، 12) پطرس کے دل میں اِنسان کا ڈر پھر سے اُبھر آیا۔ شاید اُن کی یہ خامی کبھی پوری طرح سے دُور ہوئی ہی نہیں تھی۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو۔ اگر ہم بھی اپنی کسی خامی کی وجہ سے بار بار آزمائش میں پڑ جاتے ہیں تو ہم اِس کا مقابلہ کرنے کے لیے یسوع مسیح کی اِس نصیحت پر عمل کر سکتے ہیں: ”چوکس رہیں۔“ (متی 26:41) اگر آپ کو لگتا بھی ہے کہ آپ ایک آزمائش سے لڑنے کے لیے بالکل تیار ہیں تو تب بھی ایسی صورتحال سے بچنے کی پوری کوشش کریں جو گُناہ کی طرف لے جا سکتی ہے۔ وہی طریقے اپنائیں جن کے ذریعے آپ پہلے بھی اپنی اُس خامی سے اچھی طرح سے لڑ پائے۔—2-پطر 3:14۔ م24.07 ص. 18-19 پ. 17-19
جمعرات، 26 فروری
اُس نے آدمیوں کے رُوپ میں نعمتیں دیں۔—اِفِس 4:8۔
کسی بھی اِنسان نے دوسروں کے لیے اُتنا کچھ نہیں کِیا جتنا یسوع مسیح نے کِیا ہے۔ جب یسوع زمین پر تھے تو اُنہوں نے دوسروں کی مدد کرنے کے لیے معجزے کیے۔ (لُو 9:12-17) اُنہوں نے ہمارے لیے اپنی جان قربان کی جو کہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ (یوح 15:13) جب سے یسوع زندہ ہو کر آسمان پر گئے ہیں، وہ کُھلے دل سے ہماری مدد کر رہے ہیں۔ یسوع نے وعدہ کِیا تھا کہ وہ یہوواہ سے اِلتجا کریں گے کہ وہ ہمیں اپنی پاک روح کے ذریعے تعلیم اور تسلی دے اور اُنہوں نے اپنا یہ وعدہ پورا کِیا۔ (یوح 14:16، 17، فٹنوٹ؛ 16:13) عبادتوں کے ذریعے یسوع ہمیں وہ سب کچھ دے رہے ہیں جو پوری دُنیا میں لوگوں کو بائبل سے تعلیم دینے اور اُنہیں شاگرد بنانے کے لیے ضروری ہے۔ (متی 28:18-20) پولُس رسول نے اپنے خط میں لکھا کہ جب یسوع آسمان پر گئے تو اُنہوں نے ”آدمیوں کے رُوپ میں نعمتیں“ دیں۔ (اِفِس 4:7، 8) پولُس نے یہ بھی بتایا کہ یسوع نے یہ نعمتیں اِس لیے دیں تاکہ وہ فرق فرق طریقوں سے کلیسیا کی مدد کر سکیں۔ (اِفِس 1:22، 23؛ 4:11-13) بےشک یہ آدمی عیبدار ہیں اِس لیے اِن سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔ (یعقو 3:2) لیکن ہمارے مالک یسوع مسیح اُن کے ذریعے ہماری مدد کرتے ہیں۔ م24.10 ص. 18 پ. 1-2
جمعہ، 27 فروری
سُوجھبُوجھ آپ کی حفاظت کرے گی۔—اَمثا 2:11۔
داؤد نے اپنے بیٹے سلیمان سے کہا تھا کہ وہ تب تک ہی کامیاب رہیں گے جب تک وہ یہوواہ کے فرمانبردار رہیں گے۔ افسوس کی بات ہے کہ جب سلیمان بوڑھے ہو گئے تو اُنہوں نے دوسرے دیوتاؤں کی پوجا کرنا شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر یہوواہ اُن سے بہت ناراض ہوا۔ اِس وجہ سے اُن کے پاس وہ دانشمندی نہیں رہی جس کی بِنا پر وہ لوگوں کا راستی سے اِنصاف کرتے تھے۔ (1-سلا 11:9، 10؛ 12:4) ہم داؤد کی کہی بات سے کیا سیکھتے ہیں؟ یہوواہ کی فرمانبرداری کرنے سے کامیابی ملتی ہے۔ (زبور 1:1-3) بےشک یہوواہ نے ہم سے یہ وعدہ نہیں کِیا کہ وہ ہمیں سلیمان جتنی دولت اور شہرت دے گا۔ لیکن اگر ہم اُس کے فرمانبردار ہوں گے تو وہ ہمیں دانشمندی دے گا جس کی وجہ سے ہم اچھے فیصلے کر پائیں گے۔ (اَمثا 2:6، 7؛ یعقو 1:5) اُس کے اصول زندگی کے مختلف معاملوں میں ہماری رہنمائی کریں گے جیسے کہ نوکری، تعلیم، تفریح اور پیسے کے معاملوں میں۔ خدا کی طرف سے ملنے والی دانشمندی کو اپنانے سے ہم ہر اُس چیز سے بچ جائیں گے جس کی وجہ سے یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی ٹوٹ سکتی ہے اور ہم ہمیشہ کی زندگی پانے کا موقع کھو سکتے ہیں۔ (اَمثا 2:10، 11) اِس کے علاوہ ہم اچھے دوست بنا پائیں گے اور ہماری گھریلو زندگی خوشیوں سے بھر جائے گی۔ م24.11 ص. 10-11 پ. 11-12
ہفتہ، 28 فروری
سب باتوں کا جائزہ لیں اور جو باتیں اچھی ہوں، اُن سے چپکے رہیں۔—1-تھس 5:21۔
والدین! اپنے بچے کی مدد کریں کہ وہ اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اِستعمال کرے۔ آپ مختلف موقعوں پر اپنے بچوں کے ساتھ خدا اور بائبل کے موضوع پر باتچیت کر سکتے ہیں جیسے کہ آپ اپنے بچوں کو ایک کتاب یا ویڈیو کے ذریعے کوئی ایسی تاریخی تصویر یا چیز دِکھا سکتے ہیں جس کا تعلق بائبل سے ہے۔ اِس سے بچے یہ دیکھ پائیں گے کہ بائبل میں لکھی باتیں سچی ہیں۔ مثال کے طور پر آپ اپنے بچوں کو 3000 سال پُرانے ایک موآبی پتھر کے بارے میں بتا سکتے ہیں جس پر خدا کا نام یہوواہ لکھا ہے۔ آپ اُنہیں اِنٹرنیٹ پر یا ہماری کتابوں میں اِس پتھر کی تصویر دِکھا سکتے ہیں۔ موآبی پتھر کی ایک نقل واروِک میں ہمارے مرکزی دفتر کی ایک نمائش میں بھی رکھی ہوئی ہے۔ اِس پتھر پر لکھا ہوا ہے کہ موآب کے بادشاہ میسا نے اِسرائیل کے خلاف بغاوت کی۔ یہ بات بالکل بائبل میں لکھی بات کے مطابق ہے۔ (2-سلا 3:4، 5) جب آپ کے بچے اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ بائبل میں لکھی باتیں سچی ہیں تو اُن کا ایمان اَور مضبوط ہو جائے گا۔ م24.12 ص. 14 پ. 4؛ ص. 15 پ. 6