تعارف
آپ اَور زیادہ دلیر بن سکتے ہیں!
1-3. یسوع نے یہ بات کہنے سے دلیری کیسے ظاہر کی: ”اُٹھیں، چلیں“؟
ذرا اُس وقت کے بارے میں سوچیں جب زمین پر یسوع مسیح کی آخری رات تھی۔ یسوع نے بڑی دلیری سے اپنے شاگردوں سے کہا: ”اُٹھیں، چلیں!“ (متی 26:46) شاید آپ سوچیں کہ بھلا اِن الفاظ کو کہنے میں دلیری کی کیا بات ہے؟ لیکن آئیے دیکھیں کہ یسوع نے یہ بات کیوں کہی۔
”اُٹھیں، چلیں!“—متی 26:46
2 یسوع نے ایسی ہی بات پہلے بھی اپنے شاگردوں سے کہی تھی۔ (یوح 14:31) لیکن اِس بار وقت اور موقع تھوڑا فرق تھا۔ اِس بار یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ یروشلم سے باہر گتسمنی کے باغ میں تھے اور کافی رات ہو چُکی تھی۔ یسوع جانتے تھے کہ کچھ لوگ ہتھیار لیے ہوئے اُنہیں گِرفتار کرنے آ رہے ہیں اور جلد ہی وہ ایک ایسے اِمتحان کا سامنا کرنے والے ہیں جس کا سامنا پہلے کبھی کسی اِنسان نے نہیں کِیا تھا۔ یسوع کو یہ بھی پتہ تھا کہ اُنہیں اکیلے ہی اِس اِمتحان سے گزرنا ہوگا۔
3 اگر یسوع چاہتے تو وہ اپنے باپ سے کہہ سکتے تھے کہ وہ اُن کی مدد کرنے کے لیے طاقتور فرشتے بھیجے۔ لیکن یسوع نے ایسا نہیں کِیا۔ (متی 26:53) اِس کی بجائے اُنہوں نے اپنے شاگردوں سے بس یہ کہا: ”اُٹھیں، چلیں!“ لیکن یسوع کس طرف اُٹھ کر بڑھنے کی بات کر رہے تھے؟ وہ جانتے تھے کہ کچھ ہی دیر میں اُنہیں سخت اذیت دے کر موت کے گھاٹ اُتار دیا جائے گا۔ لیکن وہ ڈر کر پیچھے نہیں ہٹے بلکہ اُنہوں نے بڑی دلیری سے اِس مشکل کا سامنا کِیا۔ مگر یسوع اپنی جان دینے کو کیوں تیار تھے؟ کیونکہ وہ اپنے آسمانی باپ سے اور اپنے شاگردوں سے بہت محبت کرتے تھے۔
4-5. ایک شخص یسوع کی طرح دلیری کیسے دِکھا سکتا ہے اور ایسا کرنا ضروری کیوں ہے؟
4 اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ دُنیا میں یسوع مسیح سے زیادہ دلیر اِنسان اَور کوئی نہیں تھا۔ لیکن اگر آپ یسوع کے شاگرد ہیں تو آپ بھی دلیر ہیں۔ یسوع کے سچے شاگردوں کے طور پر ہمیں دلیر ہونا بھی چاہیے کیونکہ ہم ایک ایسے مشکل اور خطرناک دَور میں رہ رہے ہیں جس میں ہمیں دلیری کی پہلے سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔
5 لیکن ایک شخص یسوع کی طرح دلیری کیسے دِکھا سکتا ہے؟ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ دلیر شخص وہ ہوتا ہے جو کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتا اور خطروں سے کھیلتا ہے۔ کچھ لوگ تو غصہ اور ماردھاڑ کرنے سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ کتنے دلیر ہیں۔ (زبور 11:5) لیکن یسوع نے جو دلیری دِکھائی، اُس میں اور اِس طرح کی دلیری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جو شخص یسوع جیسی دلیری ظاہر کرتا ہے، وہ اُن کاموں کو کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا جن سے خدا خوش ہوتا ہے پھر چاہے اُسے اِن کاموں کو کرنا مشکل لگے یا اِنہیں کرنے سے ڈر لگے۔
آپ یسوع کی طرح دلیری دِکھا سکتے ہیں!
6. اگر ہمیں لگتا ہے کہ ہم میں دلیری کی کمی ہے تو ہمیں یسوع کی اُس بات سے تسلی کیسے مل سکتی ہے جو اُنہوں نے اپنے رسولوں کے بارے میں کہی تھی؟
6 شاید آپ سوچیں: ”پتہ نہیں، مَیں مشکل وقت میں یسوع کی طرح دلیری دِکھا سکوں گا یا نہیں؟“ اگر آپ کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے تو یاد رکھیں کہ یسوع بالکل اپنے آسمانی باپ کی طرح ہیں۔ وہ کبھی ہم سے کوئی ایسا کام کرنے کو نہیں کہتے جسے کرنا ہمارے بس میں نہ ہو۔ (زبور 103:14؛ یوح 14:9) مثال کے طور پر ذرا پھر سے اُس رات کے بارے میں سوچیں جب یسوع اپنے رسولوں کے ساتھ گتسمنی کے باغ میں تھے۔ یسوع نے اُن سے کہا تھا کہ وہ جاگتے رہیں لیکن رسول بار بار سو گئے۔ یہ دیکھ کر یسوع نے بڑے پیار سے اُن کے بارے میں کہا: ”بےشک دل جوش سے بھرا ہے لیکن جسم کمزور ہے۔“ (متی 26:41) یسوع اپنے شاگردوں کی کمزوریوں کو جانتے تھے اور وہ آپ کی کمزوریوں کو بھی جانتے ہیں۔
7-8. یسوع نے اپنے پیروکاروں کو کس بات کا یقین دِلایا ہے؟
7 یسوع نے اپنے پیروکاروں پر بھروسا بھی ظاہر کِیا۔ ذرا سوچیں کہ جب یسوع نے اُن سے کہا ہوگا کہ ”حوصلہ رکھیں، مَیں دُنیا پر غالب آ گیا ہوں“ تو یہ بات سُن کر یسوع کے پیروکاروں کی کتنی ہمت بڑھی ہوگی! (یوح 16:33) یسوع کو پورا یقین تھا کہ اُن کے پیروکار اُن کے نقشِقدم پر چلیں گے اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ یسوع نے کئی بار لوگوں کی ہمت بڑھانے کے لیے اُن سے کہا کہ وہ ”حوصلہ رکھیں۔“ مثال کے طور پر یسوع نے ایک فالجزدہ آدمی کے گُناہ معاف کرنے سے پہلے اُسے حوصلہ رکھنے کو کہا۔ (متی 9:2) پھر یہی بات اُنہوں نے اُس عورت کو شفا دینے سے پہلے بھی کہی جسے کئی سالوں سے لگاتار خون آ رہا تھا۔ (متی 9:22) اِس کے علاوہ جب یسوع کے شاگرد اُنہیں پانی پر چلتا ہوا دیکھ کر ڈر گئے تھے تو یسوع نے اُنہیں بھی تسلی دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حوصلہ رکھیں۔ (متی 14:27) پھر بعد میں یسوع نے پولُس رسول سے بھی اُس وقت اِسی طرح کی بات کہی تھی جب پولُس کی باتیں سُن کر لوگوں میں ہنگامہ ہو گیا تھا۔—اعما 23:9-11۔
8 آج آپ کے دلیر بادشاہ یسوع مسیح آپ سے بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ آپ ”حوصلہ رکھیں“ یعنی دلیر بنیں۔ یسوع جانتے ہیں کہ آپ ایسا کر سکتے ہیں! اُن کے باپ یہوواہ نے تو آپ کو وہ چیز بھی دی ہے جو حوصلہ رکھنے یا دلیر بننے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے۔
بائبل اَور زیادہ دلیر بننے میں ہماری مدد کیسے کر سکتی ہے؟
9. خدا کا کلام ہم میں اَور زیادہ دلیری کیسے پیدا کر سکتا ہے؟
9 یہوواہ نے اپنے کلام میں ایسے بہت سے لوگوں کی مثالیں لکھوائی ہیں جن پر غور کرنے سے ہم اپنے اندر اَور زیادہ دلیری پیدا کر سکتے ہیں۔ بائبل میں ہم فرق فرق زمانوں اور عمروں کے لوگوں کی زندگی کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہ سبھی لوگ ”ہمارے جیسے احساسات رکھتے تھے۔“ (یعقو 5:17) ہماری طرح اُن میں بھی کچھ خامیاں تھیں اور اُنہیں بھی کچھ کاموں کو کرنے سے ڈر لگتا تھا۔ اِس کے علاوہ ہماری طرح اُنہیں بھی مختلف پریشانیوں کا، یہاں تک کہ خطروں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لیکن یسوع کی طرح وہ اِن پر غالب آئے۔ اُنہوں نے دلیری سے کام لیا اور ہمارے لیے ایسی مثال قائم کی جس پر غور کرنے سے ہمیں حوصلہ ملتا ہے۔
10-11. (الف)اِس کتاب کی مدد سے آپ کیا کر پائیں گے؟ (ب)آپ اِس کتاب کو کیسے اِستعمال کر سکتے ہیں؟ (بکس ”کتاب کو ذاتی مطالعے اور خاندانی عبادت کے لیے اِستعمال کرنے کا طریقہ“ کو بھی دیکھیں۔)
10 اِس کتاب کو اِس لیے تیار کِیا گیا ہے تاکہ آپ اپنے اندر اَور زیادہ دلیری پیدا کر سکیں۔ تو جب آپ اِس کے 54 ابواب کو پڑھتے ہیں تو دیکھیں کہ یہوواہ نے کیسے اپنے عیبدار بندوں میں اُس وقت دلیری پیدا کی جب اُنہیں اِس کی ضرورت پڑی۔ ہر کہانی کو پڑھیں، اِس کے بعد موضوع کی گہرائی میں جائیں اور پھر یہوواہ کے ہر بندے کی زندگی کے بارے میں تحقیق کریں۔ اِس طرح آپ بائبل میں بتائے گئے یہوواہ کے بندوں کو اَور اچھی طرح سے جان پائیں گے۔
11 دُعا ہے کہ اُن کی مثال پر غور کرنے سے آپ میں اُن مشکلوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا ہو جن کا سامنا آپ اِس ”آخری زمانے“ میں کر رہے ہیں۔ (2-تیم 3:1) آئیے ہم سب ہر دن یہوواہ کے اِس وعدے کو یاد رکھیں: ”مَیں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ مَیں تمہیں کبھی ترک نہیں کروں گا۔“ پھر پولُس کی طرح ہم بھی پورے اِعتماد سے یہ کہہ سکیں گے کہ ”یہوواہ میرا مددگار ہے۔ مَیں نہیں ڈروں گا۔ اِنسان میرا کیا بگاڑ سکتا ہے؟“—عبر 13:5، 6۔