21 سموئیل
ایک لڑکا جس نے دلیری سے یہوواہ کا پیغام سنایا
سموئیل، اِفتاح کی بیٹی اور سمسون کئی لحاظ سے ایک جیسے تھے۔ اُن تینوں میں یہ باتیں ملتی جلتی تھیں: اُن تینوں کے ماں باپ کی اچھی مثال نے اُن کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا تھا؛ اِفتاح کی بیٹی کی طرح سموئیل ساری زندگی یہوواہ کی ایک خاص طریقے سے خدمت کرتے رہے (1-سمو 2:11)؛ سمسون کی طرح سموئیل اپنی پوری زندگی یہوواہ کے نذیر رہے (قُضا 13:7) اور اِفتاح کی بیٹی اور سمسون کی طرح سموئیل کو بھی دلیری دِکھانے کی ضرورت پڑی۔
جیسے ہی حنّہ نے اپنے بیٹے سموئیل کا دودھ چھڑایا، اُنہوں نے اپنا وہ وعدہ پورا کِیا جو اُنہوں نے یہوواہ سے کِیا تھا۔ وہ سموئیل کو خیمۂاِجتماع میں یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے سیلا لے گئیں۔ اُس وقت شاید سموئیل تین سال کے یا اِس سے تھوڑے بڑے تھے۔ حنّہ ہر سال خیمۂاِجتماع میں سموئیل سے ملنے جاتی تھیں اور اُن کے لیے بغیر بازوؤں والا ایک نیا چوغہ لاتی تھیں۔ سموئیل خیمۂاِجتماع میں کاہنِاعظم عیلی کی نگرانی میں بڑے ہوئے۔ شاید وہاں خدمت کرنے والی کچھ عورتوں نے سموئیل کا خیال رکھنے میں مدد کی ہوگی۔
لیکن لوگ خیمۂاِجتماع میں بہت بُرے کام کر رہے تھے اور عیلی بھی کافی حد تک اِس کے ذمےدار تھے کیونکہ اُنہوں نے اِن کاموں کو روکنے کے لیے کوئی خاص قدم نہیں اُٹھایا۔ اُن کے اپنے بیٹے حُفنی اور فینحاس بہت ہی بُرے اِنسان تھے۔ وہ یہوواہ کے مُقدس خیمے میں خدمت کرنے والی کچھ عورتوں کے ساتھ حرامکاری کرتے تھے۔ اِس کے علاوہ وہ یہوواہ کی پاک عبادت کو کئی اَور طریقوں سے بھی ناپاک کر رہے تھے۔ وہ یہوواہ کے حضور پیش کی جانے والی قربانیوں کی توہین کر رہے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ خیمۂاِجتماع میں خدمت کرنے والے خادم حُفنی اور فینحاس کے کہنے پر ہی لوگوں سے قربانی کا وہ بہترین حصہ چھین لیتے تھے جسے صرف یہوواہ کے حضور پیش کِیا جانا چاہیے تھا۔ عیلی اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اُن کے بیٹے کیا کر رہے ہیں۔ لیکن اُنہوں نے اُنہیں سرسری سا ڈانٹا اور اُن کے بیٹوں نے بھی اُن کی بات کو ایک کان سے سُن کر دوسرے سے نکال دیا۔ سموئیل کے اِردگِرد لوگ بہت زیادہ بُرائی کر رہے تھے۔ لیکن سموئیل پھر بھی یہوواہ کے قریب ہوتے گئے اور اُنہیں یہوواہ اور لوگوں کی پسندیدگی حاصل ہوتی گئی۔ پھر جب سیلا میں ہونے والی بُرائی کو ختم کرنے کا وقت آیا تو یہوواہ نے سموئیل کے ذریعے لوگوں کو اپنا پیغام سنایا۔ اُس وقت سموئیل بہت چھوٹے تھے۔
ایک رات سموئیل ایک آواز سُن کر اُٹھ گئے۔ اُنہیں لگا کہ کاہنِاعظم عیلی اُنہیں بُلا رہے ہیں اِس لیے وہ بھاگ کر اُن کے پاس گئے۔ لیکن اصل میں یہوواہ اُنہیں بُلا رہا تھا۔ عیلی بہت بوڑھے تھے اور اُن کی نظر کافی کمزور ہو چُکی تھی جس کی وجہ سے اُنہیں صحیح سے دِکھائی نہیں دیتا تھا۔ عیلی نے سموئیل سے کہا کہ اُنہوں نے سموئیل کو نہیں بُلایا ہے اِس لیے وہ واپس جا کر لیٹ جائیں۔ ایسا ہی دو بار پھر سے ہوا۔ تب عیلی کو اندازہ ہوا کہ یہوواہ سموئیل کو آواز دے رہا ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے سموئیل سے کہا کہ اگر اب یہوواہ اُنہیں آواز دے تو وہ آگے سے یہ کہیں: ”اَے یہوواہ! فرما، تیرا بندہ سُن رہا ہے۔“ سموئیل نے ویسا ہی کِیا جیسا عیلی نے اُن سے کرنے کو کہا تھا۔
پھر جب چوتھی بار یہوواہ نے کہا: ”سموئیل! سموئیل!“ تو سموئیل نے آگے سے کہا: ”فرما، تیرا بندہ سُن رہا ہے۔“ اِس پر یہوواہ سموئیل سے بات کرنے لگا۔ اُس نے اُنہیں بتایا کہ وہ سیلا میں ہونے والی بُرائی کو ختم کر دے گا اور عیلی اور اُن کے گھرانے کو سزا دے گا جس میں اُن کے بیٹے بھی شامل تھے۔ عیلی کو اِس لیے سزا ملنی تھی کیونکہ اُنہوں نے اپنے بیٹوں کو بُرائی کرنے سے نہیں روکا تھا۔ یہ سب کچھ سموئیل نے عیلی کو بتانا تھا!
یہوواہ کی بات سننے کے بعد سموئیل پھر سے لیٹ گئے۔ لیکن بائبل میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اِس کے بعد وہ اچھی طرح سے سو پائے تھے یا نہیں۔ پھر وہ صبح سویرے اُٹھے اور اُنہوں نے خیمۂاِجتماع کے صحن کے دروازے کھولے۔ ظاہری بات ہے کہ سموئیل ”عیلی کو اِس رُویا کے بارے میں بتانے سے ڈر رہے تھے۔“ لیکن عیلی نے سموئیل کو اپنے پاس بُلایا اور اُن سے پوچھا کہ یہوواہ نے اُن سے کیا بات کی ہے۔ شاید اُنہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ سموئیل اُنہیں کچھ بتانے سے ڈر رہے ہیں۔ اِس لیے اُنہوں نے سموئیل سے کہا: ”مہربانی سے مجھ سے کچھ مت چھپاؤ۔“
حالانکہ سموئیل بہت چھوٹے تھے لیکن اُنہیں یہوواہ کی طرف سے کاہنِاعظم عیلی کو سزا کا پیغام سنانا تھا۔
بےشک یہ وقت سموئیل کے لیے بہت مشکل رہا ہوگا۔ عیلی سموئیل کے دادا کی عمر کے تھے اور اِس وجہ سے سموئیل اُن کی بہت عزت کرتے تھے۔ یقیناً سموئیل عیلی کی اِس لیے بھی عزت کرتے تھے کیونکہ عیلی ایک کاہنِاعظم کے طور پر صحیح طریقے سے یہوواہ کی خدمت کرنے میں اِسرائیلیوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ لیکن اِس کے باوجود سموئیل نے دلیری سے عیلی کو ”سب کچھ بتایا۔“ عیلی جان گئے کہ اُنہیں بہت جلد یہوواہ کی طرف سے سزا ملنے والی ہے۔ لیکن کیا یہ سب کچھ جان لینے کے بعد بھی اُنہوں نے اپنے بیٹوں کی درستی کی؟ بائبل میں اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اُنہوں نے ایسا کِیا تھا۔
یہوواہ نے سموئیل کو اُن کی دلیری کا اِنعام دیا۔ بائبل میں ہم پڑھتے ہیں: ”یہوواہ اُن کے ساتھ تھا۔“ سب سے بڑھ کر اُس وقت کے بعد سے سموئیل یہوواہ کے نبی بن گئے اور اُن کی کہی ہر بات پوری ہونے لگی۔ سموئیل نے عیلی اور اُن کے بیٹوں کے بارے میں جو کچھ کہا، وہ پورا ہوا۔ اِس کے بعد یہوواہ بہت سالوں تک اپنے بندے سموئیل کے ذریعے اپنی قوم کی رہنمائی کرتا رہا اور اُنہیں ہدایتیں دیتا رہا۔ سموئیل کئی سالوں تک وفاداری سے ایک نبی اور قاضی کے طور پر یہوواہ کی خدمت کرتے رہے۔ اُنہوں نے بچپن سے ہی ویسی دلیری دِکھانا سیکھی جو صرف یہوواہ دیتا ہے اور وہ مرتے دم تک یہ دلیری دِکھاتے رہے۔
اِن آیتوں کو پڑھیں:
باتچیت کے لیے:
سموئیل نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. سیلا کے بارے میں بتائیں جہاں یہوواہ کا خیمۂاِجتماع تھا۔ (ڈبلیو92 1/11 ص. 8-9) تصویر نمبر 1
Todd Bolen/BiblePlaces.com
تصویر نمبر 1: وہ جگہ جہاں قدیم زمانے میں سیلا تھا۔
2. خیمۂاِجتماع میں خدمت کرتے ہوئے سموئیل کی زندگی کیسی تھی؟ (ایمان ظاہر کریں، ص. 61-62 پ. 9-13) تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2
3. کس لحاظ سے ”سموئیل نے یہوواہ کو اچھی طرح نہیں جانا تھا“؟ (1-سمو 3:7؛ م02 15/12 ص. 8 پ. 5-6)
4. عیلی کے گھرانے کے بارے میں کی گئی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی؟ (آئیٹی ”عیلی، نمبر 1“ پ. 5-7)
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
نوجوان اور بچے سموئیل کی مثال سے اِن باتوں کی اہمیت کیسے سمجھ سکتے ہیں:
کہنا ماننے کو تیار ہونا؟ (1-سمو 3:5)
نرمی اور احترام سے بات کرنا؟ (1-سمو 3:6-10)
بھروسےمند ہونا؟ (1-سمو 3:15) تصویر نمبر 3
تصویر نمبر 3
ایک نوجوان کو کب دلیری سے بات کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور اِس سلسلے میں سموئیل کی مثال اُس کی مدد کیسے کر سکتی ہے؟
آپ اپنی زندگی میں کن طریقوں سے سموئیل کی طرح دلیری دِکھا سکتے ہیں؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ سموئیل کو زندہ کرے گا تو مَیں سموئیل سے کیا پوچھوں گا؟
مزید جانیں
بچوں، نوجوانوں اور بڑوں کو کب صحیح کام کرنے کے لیے دلیری کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟
حالانکہ سموئیل کے اِردگِرد لوگ اپنے کاموں سے یہوواہ کی توہین کر رہے تھے تو بھی سموئیل نے صحیح کام کیے۔
”سموئیل نے یہوواہ کی خدمت کرنے کا فیصلہ کِیا“ (تصویری کہانیاں، کہانی نمبر 15)