19 اِفتاح اور اُن کی بیٹی
اُنہوں نے ایک مشکل وعدہ نبھایا
ایک بار پھر سے بنیاِسرائیل کی زندگی مشکلوں سے بھر گئی کیونکہ اُنہوں نے پھر سے یہوواہ سے مُنہ موڑ لیا۔ اِس وجہ سے یہوواہ نے عمونیوں کو اُن پر ظلم ڈھانے سے نہیں روکا۔ عمونی تقریباً 18 سال تک اِسرائیلیوں کو ستاتے رہے۔ (قُضا 10:8) آخرکار اِسرائیلیوں کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوا، اُنہوں نے جھوٹے دیوتاؤں کی پوجا کرنا چھوڑ دی اور وہ یہوواہ کی طرف لوٹ آئے۔ لیکن اِس کے کچھ ہی وقت بعد عمونی اِسرائیلیوں پر حملہ کرنے کے لیے جِلعاد میں جمع ہوئے۔
جِلعاد میں رہنے والے بزرگ، اِفتاح نام کے آدمی کے پاس گئے اور اُن سے کہا کہ وہ اُن کے ساتھ جِلعاد چلیں اور جنگ میں اُن کی پیشوائی کریں۔ ایسا لگتا ہے کہ اِن بزرگوں میں سے کچھ اِفتاح کے سوتیلے بھائی تھے جنہوں نے پہلے اِفتاح کے ساتھ بہت بُرا سلوک کِیا تھا اور اُنہیں جِلعاد سے چلے جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ لیکن کیا اِفتاح اپنے بھائیوں سے ناراض رہے؟ نہیں۔ وہ بزرگوں کے کہنے پر جِلعاد واپس آئے اور اُن کی خاطر جنگ لڑنے کو تیار ہو گئے۔ سب سے پہلے تو اُنہوں نے عمونیوں کے ساتھ صلح کرنے کی کوشش کی۔ اُنہوں نے اپنے کچھ آدمیوں کو عمونی بادشاہ کے پاس بھیجا جنہوں نے بڑی تفصیل سے اُسے بتایا کہ وہ بنیاِسرائیل کے ملک پر قبضہ کرنے کا حق کیوں نہیں رکھتا۔ اِفتاح کی باتوں سے ظاہر ہوا کہ وہ یہوواہ کے بندوں کی تاریخ کے بارے میں بہت زیادہ علم رکھتے تھے۔ اُنہیں اچھی طرح سے پتہ تھا کہ یہوواہ نے بنیاِسرائیل کو وہ ملک کیسے دیا تھا اور وہاں رہنے والی قوموں کے خلاف لڑنے میں اُن کی مدد کیسے کی تھی۔ لیکن عمونی بادشاہ نے اِفتاح کی بات سننے سے اِنکار کر دیا۔ وہ ہر صورت میں اُن سے جنگ لڑنا چاہتا تھا۔
جب اِفتاح جنگ لڑنے کی تیاری کر رہے تھے تو یہوواہ کی پاک روح اُن کی رہنمائی کرنے لگی۔ پھر اِفتاح نے یہوواہ سے یہ وعدہ کِیا: ”اگر تُو یقیناً بنیعمون کو میرے ہاتھ میں کر دے۔ تو جب مَیں بنیعمون کی طرف سے سلامت لوٹوں گا اُس وقت جو کوئی پہلے میرے گھر کے دروازہ سے نکل کر میرے اِستقبال کو آئے وہ[یہوواہ]کا ہوگا اور مَیں اُس کو سوختنی قربانی کے طور پر گذرانوں گا۔“ کیا اِفتاح نے یہ فیصلہ جلدبازی یا نادانی میں کِیا تھا؟ نہیں کیونکہ جب اِفتاح نے یہ وعدہ کِیا تھا تو یہوواہ کی پاک روح اُن کے ساتھ تھی جو اُنہیں جلدبازی میں کوئی بھی فیصلہ لینے سے روک سکتی تھی۔
کیا اِفتاح واقعی کسی اِنسان کو آگ میں بھسم کر دینے کی بات کر رہے تھے؟ بالکل نہیں۔ یہوواہ اِس بات سے گِھن کھاتا ہے کہ کسی اِنسان کی قربانی چڑھائی جائے۔ (اِست 18:10، 12) دراصل اِفتاح کی بات کا یہ مطلب تھا کہ جو کوئی بھی اُن کا اِستقبال کرنے کے لیے سب سے پہلے اُن کے گھر سے نکلے گا، وہ اِس لحاظ سے ’یہوواہ کا ہوگا‘ کہ وہ مکمل طور پر اپنی زندگی یہوواہ کے نام کر دے گا۔ غالباً وہ سیلا میں خیمۂاِجتماع میں یہوواہ کی خدمت کرے گا۔ اِفتاح اچھی طرح سے جانتے تھے کہ وہ جو وعدہ کر رہے ہیں، اُنہیں اُس کی بھاری قیمت چُکانی پڑ سکتی ہے۔ اُن کی صرف ایک ہی بیٹی تھی جو اُنہیں اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری تھی اور ہو سکتا تھا کہ وہی اپنے باپ سے ملنے کے لیے سب سے پہلے آتی۔
یہوواہ سے وعدہ کرنے کے بعد اِفتاح فوراً جنگ کے لیے نکل پڑے۔ اُنہوں نے اور اُن کے آدمیوں نے بڑی بہادری سے جنگ لڑی۔ اور یہوواہ نے بھی بڑے زبردست طریقے سے اُن کی مدد کی۔ اِفتاح اور اُن کے ساتھیوں نے دُشمنوں کو مار ڈالا اور اِس کے بعد اُنہوں نے 20 عمونی شہروں اور اِن میں رہنے والے لوگوں کو تباہ کر دیا۔
اِس کے بعد اِفتاح خوشی خوشی اپنے گھر لوٹے۔ شاید وہ یہ اُمید کر رہے ہوں گے کہ کاش سب سے پہلے اُن کا کوئی خادم ہی اُن کا اِستقبال کرنے کے لیے نکلے۔ اگر اُنہوں نے ایسی اُمید کی ہوگی تو یہ بُری طرح سے ٹوٹ گئی۔ جو شخص سب سے پہلے اُن سے ملنے کے لیے نکلا، وہ کوئی اَور نہیں بلکہ اُن کی بیٹی تھی۔ وہ ناچتی اور دف بجاتی ہوئی اپنے باپ سے ملنے آئی! اُسے دیکھ کر اِفتاح نے اپنے کپڑے پھاڑے اور دُکھ سے کہنے لگے: ”ہائے میری بیٹی تُو نے مجھے پست کر دیا اور جو مجھے دُکھ دیتے ہیں اُن میں سے ایک تُو ہے۔“
اِفتاح اور اُن کی بیٹی کو ایک وعدہ نبھانا تھا لیکن اِس کے لیے اُنہیں بہت بڑی قربانی دینی پڑی۔
اِفتاح کی بیٹی سمجھ گئی تھی کہ اُس کے والد کے وعدے کی وجہ سے اُس کی زندگی بالکل بدل جائے گی۔ اب اُسے اپنی ساری زندگی یہوواہ کی خدمت کرنے میں گزارنی تھی۔ اِس کا مطلب تھا کہ وہ کبھی شادی اور بچے پیدا نہیں کر سکتی تھی۔ بنیاِسرائیل میں ایک عورت کے ساتھ ایسا ہونا کسی صدمے سے کم نہیں ہوتا تھا۔ لیکن پھر بھی اِس جوان لڑکی نے بڑی دلیری سے اپنے والد سے کہا کہ اُس نے یہوواہ سے جو بھی وعدہ کِیا ہے، وہ اُسے ضرور پورا کرے۔ بس اُس نے یہ اِلتجا کی کہ اُسے کچھ وقت کے لیے اپنی سہیلیوں کے ساتھ اکیلے رہنے کی اِجازت دی جائے تاکہ وہ اِس بات پر ماتم کر سکے کہ وہ شادی اور بچے پیدا نہیں کر سکتی۔
اِفتاح کی بیٹی بہت دلیر تھی اور اُس نے اپنے فائدے کا نہیں سوچا۔ اُس کی اِن شاندار خوبیوں کی وجہ سے ہر سال اِسرائیل کی جوان عورتیں اُس سے ملنے جاتی تھیں اور چار دن تک اُس کے ساتھ رہتی تھیں۔ اِس دوران وہ اُس کا حوصلہ بڑھاتی تھیں اور اُس کی تعریف کرتی تھیں۔ یہوواہ کے مُقدس خیمۂاِجتماع میں اُس کی خدمت کرنا بڑے اعزاز کی بات تھی جس کے لیے اِفتاح کی بیٹی کو یقیناً بہت سی برکتیں بھی ملی ہوں گی۔ غالباً اِسی وقت کے دوران سموئیل بھی وہاں رہ رہے ہوں گے جو اُس وقت بہت چھوٹے تھے۔ کیا اِفتاح کی بیٹی نے اُن کی تربیت کرنے میں مدد کی ہوگی اور یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے اُن کا حوصلہ بڑھایا ہوگا؟ اگر اُس نے ایسا کِیا ہوگا تو اُسے اِس سے بہت خوشی ملی ہوگی کیونکہ اُس کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ہم نہیں جانتے کہ اِفتاح کی بیٹی نے سموئیل کی تربیت کی تھی یا نہیں لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ وہ اُس وقت بھی یہوواہ کی وفادار رہی جب خیمۂاِجتماع میں کچھ مرد اور عورتیں حرامکاری جیسا گھناؤنا کام کر رہے تھے۔ (1-سمو 2:22) اِفتاح کی بیٹی نے کبھی حرامکاری نہیں کی۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”وہ مرد سے ناواقف رہی۔“—کیتھولک ترجمہ۔
پولُس رسول نے اِفتاح کا شمار یہوواہ کے اُن بندوں میں کِیا جو مضبوط ایمان کے مالک تھے۔ (عبر 11:32) اِفتاح اور اُن کی بیٹی دونوں نے ہی دلیری کی شاندار مثال قائم کی۔ اِفتاح خدا کے بندوں کے لیے لڑے اور اُن کی بیٹی نے اُن کا پورا پورا ساتھ دیا۔ اُن دونوں نے ہی مل کر وہ مشکل وعدہ نبھایا جو اُنہوں نے یہوواہ سے کِیا تھا۔
اِن آیتوں کو پڑھیں:
قُضاۃ 10:15، 16؛ 11:1-40
باتچیت کے لیے:
اِفتاح اور اُن کی بیٹی نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ عمونی صرف بنیاِسرائیل کے خلاف ہی نہیں لڑ رہے تھے بلکہ وہ یہوواہ کی عبادت کو بھی روکنے کی کوشش کر رہے تھے؟ (آئیٹی ”اِفتاح“ پ. 6) تصویر نمبر 1
تصویر نمبر 1: ”وہ اجنبی معبودوں کو اپنے بیچ سے دُور کر کے[یہوواہ]کی پرستش کرنے لگے۔“—قُضا 10:16۔
2. جب اِفتاح نے یہوواہ سے ایک وعدہ کِیا تو یہ کیسے ظاہر ہوا کہ اُن کی سوچ بالکل یعقوب کی سوچ جیسی تھی؟ (آئیٹی ”اِفتاح“ پ. 11)
3. اِفتاح کے لیے اپنے وعدے کو پورا کرنا ایک بہت بڑی قربانی کیوں تھا؟ (م17.04 ص. 4 پ. 6)
4. سموئیل نبی تقریباً 1180 قبلازمسیح میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ شاید اِفتاح کی بیٹی اور وہ ایک ہی زمانے میں خیمۂاِجتماع میں یہوواہ کی خدمت کر رہے ہوں گے؟ (آئیٹی ”اِفتاح“ پ. 2؛ چارٹ ”تاریخ کے لحاظ سے واقعات کی ترتیب“ میں ”حنوک کے زمانے سے لے کر قاضیوں کے زمانے تک“ کو دیکھیں۔)
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
جب ماں باپ اِفتاح کی طرح دلیری دِکھاتے ہیں تو اِس کا اُن کے بچوں پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟
آج مسیحی اُن جوان عورتوں سے کیا سیکھ سکتے ہیں جو اِفتاح کی بیٹی کا حوصلہ بڑھانے جاتی تھیں اور اُن کی مدد کرتی تھیں تاکہ وہ دلیری سے یہوواہ کی خدمت کرتی رہیں؟ تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2
آپ اپنی زندگی میں اِفتاح اور اُن کی بیٹی کی طرح دلیری کیسے دِکھا سکتے ہیں؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ اِفتاح اور اُن کی بیٹی کو زندہ کرے گا تو مَیں اُن دونوں سے کیا پوچھوں گا؟
مزید جانیں
غیرشادیشُدہ مسیحیوں کو اِفتاح کی بیٹی کی مثال پر غور کرنے سے کیسے فائدہ ہو سکتا ہے؟
دیکھیں کہ ہم اِفتاح اور اُن کی بیٹی کی مثال پر غور کرنے سے یہوواہ کے وفادار کیسے رہ سکتے ہیں۔
”ایمان پر قائم رہیں اور خدا کی خوشنودی پائیں“ (م16.04 ص. 5-9)