18 جدعون
ایک دلیر اور محتاط شخص
سچی دلیری وہ ہوتی ہے جس میں ایک شخص احتیاط سے کام لیتا ہے۔ اگر وہ محتاط ہوگا تو وہ خود پر حد سے زیادہ بھروسا نہیں کرے گا اور جان بُوجھ کر کوئی خطرہ نہیں مول لے گا۔ جدعون ایک دلیر شخص تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ محتاط بھی رہے۔ وہ ایک ایسے زمانے میں رہ رہے تھے جب بنیاِسرائیل پھر سے یہوواہ کی نافرمانی کرنے لگے تھے۔ اِسی لیے یہوواہ نے اُن کی حفاظت کرنا چھوڑ دی تھی اور مِدیانیوں نے اُن کو اپنے قبضے میں کر لیا تھا۔ وہ اُن پر لگاتار حملے کرتے تھے اور اُن پر ظلم ڈھاتے تھے۔ اِس وجہ سے اِسرائیلی اِتنا ڈرے ہوئے رہتے تھے کہ وہ کھیتوں میں کُھل کر کام بھی نہیں کرتے تھے۔ لیکن جدعون ایک بہادر شخص تھے اور وہ اپنے لوگوں کو اناج دینے کے لیے کام کرتے رہتے تھے۔ لیکن وہ ایسا بہت محتاط ہو کر کرتے تھے۔ جب اُنہیں گندم جھاڑنی ہوتی تھی تو وہ اِسے انگور کا رس نکالنے والے حوض کے اندر جھاڑتے تھے جو زمین میں کھودا گیا تھا۔ اِس طرح مِدیانی اُنہیں نہیں دیکھ سکتے تھے۔
اِسرائیلیوں کی زندگی اِتنی مشکل ہو گئی تھی کہ وہ ایک بار پھر سے یہوواہ کو مدد کے لیے پکارنے لگے۔ اِس لیے یہوواہ نے اپنے ایک نبی کو اُن کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُنہیں یاد دِلا سکے کہ یہوواہ نے اُنہیں کیوں چھوڑ دیا تھا۔ پھر یہوواہ نے اپنے ایک فرشتے کو جدعون کے پاس بھیجا جس نے جدعون کو حکم دیا کہ وہ یہوواہ کے بندوں کو بچائیں۔ جدعون نے فرشتے سے کہا کہ وہ اُنہیں ایک نشانی دے جس سے ثابت ہو کہ یہوواہ نے اُسے بھیجا ہے۔ اِس پر فرشتے نے ایک معجزہ کر کے اُس قربانی کو آگ سے بھسم کر دیا جو جدعون نے تیار کی تھی۔ اِس کے بعد وہ فرشتہ غائب ہو گیا۔ پھر اُسی رات یہوواہ نے جدعون سے بات کی اور اُن سے کہا کہ وہ بعل کی قربانگاہ اور یسیرت کو ڈھا دیں اور پھر یہوواہ کے لیے ایک قربانگاہ بنا کر اُس پر قربانی پیش کریں۔ جدعون نے یہوواہ کی بات مانی۔ لیکن اپنے والد اور شہر کے آدمیوں کے ڈر کی وجہ سے اُنہوں نے ایسا رات کے وقت کِیا تاکہ کوئی اُنہیں دیکھ نہ سکے۔
جب جدعون نے دلیری سے بعل کی قربانگاہ تباہ کر دی تو مِدیانیوں نے عمالیقیوں اور مشرق کی طرف رہنے والی دوسری قوموں کے ساتھ مل کر ایک بڑی فوج جمع کی۔ یہ فوج بنیاِسرائیل کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے یزرعیل کی وادی میں ٹڈوں کے غول کی طرح پھیل گئی۔ یہوواہ کی پاک روح جدعون پر تھی اور اِس کی رہنمائی میں جدعون نے اپنے آدمیوں کو بنیاِسرائیل کے کچھ قبیلوں میں بھیجا تاکہ وہ اُن کے ساتھ جنگ لڑنے کے لیے آئیں۔ پھر جدعون نے یہوواہ سے دو معجزے کرنے کے لیے کہا تاکہ اُنہیں پکا یقین ہو جائے کہ یہوواہ اُن کے ساتھ ہے۔ اِس طرح اُنہوں نے ظاہر کِیا کہ وہ ایک محتاط شخص ہیں۔ یہوواہ صبر سے جدعون کے ساتھ پیش آیا اور اُس نے وہ معجزے کیے جن کی جدعون نے درخواست کی تھی۔ اُس رات جب اُنہوں نے کھلیان میں اُون رکھی تو یہوواہ نے اوس سے اِسے گیلا کر دیا لیکن باقی زمین خشک رہی۔ پھر اگلی رات یہوواہ نے اُون کو خشک رکھا لیکن باقی زمین کو اوس سے گیلا کر دیا۔
جدعون اور اُن کے آدمیوں کی تعداد پہلے سے ہی تھوڑی تھی لیکن یہوواہ نے اُنہیں اپنی تعداد اَور بھی کم کرنے کو کہا۔
اِن دو معجزوں سے جدعون میں یہ دلیری پیدا ہوئی کہ وہ اپنی چھوٹی فوج کو یعنی 32 ہزار آدمیوں کو لے کر ایک بڑی فوج سے لڑنے جائیں جس میں تقریباً 1 لاکھ35 ہزار فوجی تھے۔ جب جدعون اور اُن کی فوج نے حرود کے چشمے کے پاس خیمے لگائے ہوئے تھے تو یہوواہ نے جدعون سے کہا کہ اُن کی فوج میں بہت زیادہ آدمی ہیں۔ یہوواہ نے جدعون سے کہا کہ وہ اُن تمام آدمیوں کو واپس گھر بھیج دیں جو جنگ میں جانے سے ڈر رہے ہیں۔ اِس طرح جدعون کی فوج میں صرف 10 ہزار آدمی رہ گئے۔ لیکن یہوواہ نے کہا کہ ابھی بھی فوجیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اِس لیے اُس نے جدعون سے کہا کہ وہ اپنے آدمیوں کو چشمے کے پاس لے جائیں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح سے پانی پیتے ہیں۔ جو فوجی گُھٹنوں کے بل بیٹھ کر اور اپنا چہرہ نیچے کر کے پانی پینے لگے، اُنہیں جدعون نے واپس اُن کے گھر بھیج دیا۔ لیکن جن آدمیوں نے تھوڑا جھک کر اپنے ہاتھوں کے ذریعے پانی اُوپر اپنے مُنہ تک لا کر پیا، وہ چوکس تھے۔ اِس لیے وہ جدعون کے ساتھ ہی رہے۔ اب جدعون کے پاس صرف 300 آدمیوں کی فوج تھی!
جدعون بڑی بہادری سے دُشمنوں پر حملہ کرنے کی تیاری کرنے لگے۔ یہوواہ نے ایک بار پھر سے جدعون پر یہ ثابت کِیا کہ وہ اُن کے ساتھ ہے۔ اُس نے جدعون سے کہا کہ وہ چپکے سے رات کو دُشمن فوج کے خیموں میں جائیں۔ جدعون نے بالکل ایسا ہی کِیا۔ وہاں اُنہوں نے ایک فوجی کی بات سنی جو اپنے ساتھی کو اپنا خواب بتا رہا تھا۔ اُس کے ساتھی نے اُسے بتایا کہ اِس خواب کا مطلب یہ ہے کہ بنیاِسرائیل جنگ جیت جائیں گے۔ یہ سُن کر جدعون میں اَور بھی زیادہ دلیری پیدا ہو گئی۔ وہ اپنے آدمیوں کے پاس گئے اور اُنہیں جنگ لڑنے کے حوالے سے ہدایتیں دینے لگے۔ اُنہوں نے اُن سے کہا: ”مجھے دیکھتے رہنا اور . . . جو کچھ مَیں کروں تُم بھی ویسا ہی کرنا۔“ پھر رات کو جدعون اور اُن کے آدمی دُشمنوں کے خیموں کے اِردگِرد پھیل گئے۔ اُن لوگوں کے پاس بڑے بڑے گھڑے، مشعلیں اور نرسنگے تھے۔ جب جدعون نے اُنہیں اِشارہ کِیا تو اُنہوں نے اپنے نرسنگے پھونکے اور گھڑے توڑ دیے۔ اِس کے بعد وہ زور سے چلّائے: ”یہوؔواہ کی اور جدعوؔن کی تلوار!“ اچانک سے آنے والی تیز آوازوں اور روشنی کی وجہ سے دُشمن فوج کو لگا کہ اُنہیں ایک بڑی فوج نے گھیر لیا ہے۔ وہ بہت اُلجھن میں پڑ گئے اور ڈر گئے! اِس کے بعد یہوواہ نے اُنہیں آپس میں لڑوایا اور قتل کروا دیا۔ دُشمن فوج میں سے تقریباً 15 ہزار فوجی بچے اور وہ وہاں سے بھاگ گئے۔
لیکن جدعون نے اُن کا پیچھا کِیا اور مِدیانی فوج کو، اُن کے حکمرانوں کو اور اُن لوگوں کو مار ڈالا جنہوں نے اُنہیں اور اُن کے آدمیوں کو کھانے پینے کی چیزیں دینے سے اِنکار کر دیا تھا۔ اِس جنگ کے بعد لوگوں نے جدعون کو اپنا بادشاہ بنانے کی کوشش کی۔ لیکن جدعون نے بڑی خاکساری سے اِنکار کرتے ہوئے کہا: ”[یہوواہ]ہی تُم پر حکومت کرے گا۔“ یہوواہ نے اپنے بندے جدعون کو برکت دی جو بہت ہی دلیر اور احتیاط سے کام لینے والے شخص تھے۔ جب تک جدعون بنیاِسرائیل کے قاضی رہے تب تک پورے ملک میں امن رہا۔ جدعون ایک اچھی اور لمبی عمر جی پائے۔ اُن کا ذکر تو پولُس رسول نے اپنے ایک خط میں بھی کِیا جہاں اُنہوں نے جدعون کو اُن لوگوں میں شمار کِیا جو مضبوط ایمان کے مالک تھے۔—عبر 11:32۔
اِن آیتوں کو پڑھیں:
قُضاۃ 6:1–7:22؛ 8:4-23، 28
باتچیت کے لیے:
جدعون نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. ایک فوجی نے اپنے خواب میں ”جَو کی ایک روٹی“ دیکھی جس کا اِشارہ جدعون کی فوج کی طرف تھا۔ جدعون کی فوج کو جَو کی روٹی کہنا مناسب کیوں تھا؟ (قُضا 7:13؛ آئیٹی ”جَو“ پ. 7)
2. جب جدعون کی فوج نے 300 نرسنگے پھونکے تو اِس کی آواز سے مِدیانی کیوں اُلجھن میں پڑ گئے اور ڈر گئے؟ (آئیٹی ”سینگ“ پ. 3) تصویر نمبر 1
تصویر نمبر 1: مینڈھے کے سینگ کو نرسنگا پھونکنے کے لیے اِستعمال کِیا جاتا تھا۔
3. جدعون اور اُن کی فوج کو مِدیانیوں کو ہرانے کے لیے کیا کرنا تھا؟ (م04 15/10 ص. 16 پ. 9-10) تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2: جدعون نے مِدیانیوں کا تقریباً 80 کلومیٹر (50 میل) یگبہاہ تک پیچھا کِیا۔ (یہ معلوم نہیں کہ اُنہوں نے ایسا کرنے کے لیے ٹھیک کون سا راستہ اپنایا تھا۔)
4. بائبل میں لکھی کن باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جدعون کا واقعہ بالکل سچا ہے؟ (م05 15/4 ص. 32)
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
جدعون کے ذریعے خدا کے بندوں کو اپنے دُشمنوں پر جیت حاصل ہوئی۔ لیکن جدعون خاکسار رہے اور وہ دوسروں کے ساتھ صلح صفائی سے رہے۔ (قُضا 8:1-3) گھر کے سربراہ اور کلیسیا کے بزرگ اُس وقت جدعون کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں جب دوسرے اُن کے کسی کام یا بات کی وجہ سے غصے میں آ جاتے ہیں؟
ہمیں کن صورتحال میں دلیری دِکھانے اور ساتھ ہی ساتھ محتاط رہنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟ تصویر نمبر 3
تصویر نمبر 3
آپ اپنی زندگی میں جدعون کی طرح دلیری کیسے دِکھا سکتے ہیں؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ جدعون کو زندہ کرے گا تو مَیں جدعون سے کیا پوچھوں گا؟
مزید جانیں
اگر آپ کو یہوواہ کی خدمت کرنے کے حوالے سے کوئی اعزاز ملتا ہے تو آپ جدعون کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
”خاکساروں کے ساتھ حکمت ہے“ (م00 1/8 ص. 16-18 پ. 11-15)
اِس تصویری کہانی کو اِستعمال کرتے ہوئے اپنے بچوں کی مدد کریں تاکہ وہ یہوواہ پر بھروسا کرنا سیکھیں۔
”یہوواہ نے جدعون کو طاقت دی“ (تصویری کہانیاں، کہانی نمبر 13)