15 نعومی اور رُوت
اُنہوں نے مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا
نعومی کو ایک کے بعد ایک غم سہنا پڑا۔ جب ملک اِسرائیل میں قحط پڑا تو نعومی کے شوہر اپنے گھرانے کو لے کر بیتلحم سے موآب کے علاقے میں چلے گئے۔ پھر ایک دن نعومی کے شوہر فوت ہو گئے اور وہ ایک اجنبی ملک میں اپنے دو بیٹوں کے ساتھ بالکل اکیلی رہ گئیں۔ بعد میں اُن کے بیٹوں نے دو موآبی عورتوں سے شادی کر لی جو یہوواہ کی عبادت نہیں کرتی تھیں۔ پھر اِس کے تقریباً دس سال بعد نعومی پر ایک بار پھر سے غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اُن کے دونوں بیٹے فوت ہو گئے! اُن کے بیٹوں کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ تو نعومی کے نہ صرف شوہر اور بیٹے موت کی وجہ سے اُن سے بچھڑ گئے بلکہ اُن کے پاس اپنے پوتے پوتیوں کو گود میں کھلانے کی بھی کوئی اُمید نہیں رہی۔
نعومی کو لگا کہ اُن کے پاس کچھ نہیں بچا۔ اِس لیے اُنہوں نے بیتلحم واپس جانے کا فیصلہ کِیا جو اُن کے ملک اِسرائیل میں تھا۔ یہ تقریباً ایک ہفتے کا سفر تھا۔ نعومی کی دونوں بہوئیں رُوت اور عُرفہ اُن کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئیں۔ لیکن نعومی نہیں چاہتی تھیں کہ وہ اُن کی وجہ سے اپنے ملک اور رشتےداروں کو چھوڑ دیں۔ شاید نعومی یہ نہیں چاہتی تھیں کہ اُن کی بہوئیں اپنے ملک میں رہ کر دوسری شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے کا موقع گنوا دیں۔ اِس لیے اُنہوں نے رُوت اور عُرفہ کے فائدے کا سوچتے ہوئے اُن سے کہا کہ وہ اپنے اپنے میکے لوٹ جائیں۔ نعومی بہت دلیر تھیں اور وہ اکیلے سفر کرنے کو تیار تھیں۔ پھر عُرفہ بہت روئیں اور اپنی ساس کو چُوم کر اپنے گھر لوٹ گئیں۔ رُوت بھی بہت روئیں لیکن وہ نعومی کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیں تھیں۔
رُوت نے نعومی سے کہا: ”یہ اِصرار نہ کریں کہ مَیں آپ کو چھوڑ کر واپس چلی جاؤں کیونکہ جہاں آپ جائیں گی، وہیں مَیں جاؤں گی؛ جہاں آپ رہیں گی، وہیں مَیں رہوں گی؛ آپ کی قوم میری قوم ہوگی اور آپ کا خدا میرا خدا ہوگا۔ جہاں آپ دم توڑیں گی، وہیں مَیں دم توڑوں گی اور وہیں دفن بھی ہوں گی۔“ اِس وفادار اور دلیر عورت نے نعومی کے خدا یہوواہ کو اپنا خدا مان لیا تھا۔
دو دُکھی عورتوں کو اپنے عزیزوں کو کھونے کے غم پر قابو پانا تھا اور یہوواہ کے بندوں کے بیچ پناہ لینی تھی۔
رُوت اپنے رشتےداروں، اپنی ثقافت اور موآبی دیوتاؤں کو چھوڑ کر نعومی کے ساتھ ملک اِسرائیل چلی گئیں۔ پھر جب وہ دونوں بیتلحم پہنچیں تو عورتیں نعومی کو دیکھ کر حیران رہ گئیں کیونکہ وقت اور حالات نے نعومی کو بالکل بدل کر رکھ دیا تھا۔ نعومی نے بڑے دُکھ سے کہا کہ یہوواہ نے اُن کی زندگی تلخ بنا دی ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ جب وہ بیتلحم سے گئی تھیں تو اُن کی جھولی بھری ہوئی تھی لیکن اب یہوواہ اُنہیں خالی ہاتھ واپس لایا ہے۔ شاید نعومی کی یہ باتیں سُن کر رُوت کا دل دُکھا ہو کیونکہ اُنہوں نے نعومی کے لیے اِتنا کچھ کِیا تھا اور وہ اُن کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ آئی تھیں۔ لیکن بائبل میں کہیں بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ رُوت نعومی سے ناراض ہو گئی تھیں یا اُنہوں نے اُن کی بات کا بُرا منایا تھا۔ اِس کی بجائے رُوت قریب کے کھیت میں اپنا اور اپنی ساس کا پیٹ پالنے کے لیے کام کرنے لگیں۔
اُس کھیت کے مالک کا نام بوعز تھا اور وہ بہت امیر تھا۔ بوعز راحب کے بیٹے تھے اور وہ لگن سے یہوواہ کی عبادت کرتے تھے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ رُوت کتنی محنت سے کھیت میں کام کر رہی ہیں۔ اِس لیے اُنہوں نے اپنے کھیت میں کام کرنے والے ایک آدمی سے رُوت کے بارے میں پوچھا۔ بوعز کو پتہ چلا کہ رُوت نے اپنی ساس کی خاطر کیا کچھ کِیا ہے اور وہ اُس کا خیال رکھنے کے لیے کتنی محنت سے کام کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے رُوت کی اِس بات کے لیے تعریف کی کہ اُنہوں نے یہوواہ کے پَروں کے نیچے پناہ لی ہے۔ بوعز نے تو اِس بات کا بھی خیال رکھا کہ اُن کے آدمی کسی بھی طرح سے رُوت کو پریشان نہ کریں۔
پھر اُسی رات جب رُوت نے نعومی کو بوعز کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ بوعز اُن کے ساتھ کتنی شفقت سے پیش آئے ہیں تو نعومی کو بہت خوشی ہوئی۔ نعومی نے سوچا کہ بوعز رُوت سے شادی کر سکتے ہیں کیونکہ بوعز نعومی کے شوہر اِلیمَلِک کے رشتےدار تھے۔ شریعت میں ایک بیوہ کے لیے یہ بندوبست تھا کہ اگر وہ بچے پیدا کر سکتی تھی تو وہ اپنے مرحوم شوہر کے قریبی رشتےدار سے شادی کر سکتی تھی۔ اِس طرح اُس بیوہ کے پہلے بیٹے کے ذریعے اُس کے مرحوم شوہر کا نام اور اُس کی میراث قائم رہ سکتی تھی۔ (اِست 25:5، 6) نعومی نے رُوت کو بتایا کہ اُنہیں کیا کرنا ہے۔
حالانکہ رُوت کو وہ سب کچھ بہت عجیب لگا ہوگا جو نعومی نے اُن سے کرنے کے لیے کہا تھا لیکن رُوت نے پھر بھی نعومی کی بات مانی۔ وہ رات کو کھلیان گئیں جہاں عام طور پر آدمی اُس اناج کے ڈھیر کے پاس سوتے تھے جس کی اُنہوں نے کٹائی کی ہوتی تھی۔ پھر رُوت نے چپکے سے بوعز کے پاؤں سے کپڑا ہٹایا اور وہاں لیٹ گئیں۔ اِس پر جب بوعز کی آنکھ کُھلی تو رُوت نے اُنہیں بڑی خاکساری سے شریعت میں لکھے اپنے حقوق کے بارے میں یاد دِلایا۔ یقیناً بوعز دیکھ سکتے تھے کہ رُوت کتنی گھبرائی ہوئی ہیں۔ لیکن وہ رُوت کی دلیری کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور اِس بات نے بھی اُن کے دل پر بہت گہرا اثر کِیا کہ رُوت یہوواہ اور اپنی ساس سے کتنی اٹوٹ محبت کرتی ہیں۔ بوعز نے تو اِس کے لیے رُوت کی تعریف بھی کی اور اُن سے کہا کہ اگر رُوت کے سب سے قریبی رشتےدار نے اپنا حق ادا نہیں کِیا تو وہ ایسا کریں گے۔
اگلے دن بوعز بیتلحم کے بزرگوں کے پاس گئے اور سب کچھ شریعت کے مطابق کِیا۔ پھر اُنہوں نے رُوت سے شادی کر لی اور بعد میں اُن کا ایک بیٹا ہوا جس کا نام عوبید رکھا گیا۔ نعومی اپنے پوتے کو گود میں لے کر خوشی سے جھوم اُٹھیں۔ عوبید کی اولاد سے ہی بادشاہ داؤد آئے اور اِس کے تقریباً ایک ہزار سال بعد مسیح آیا۔ (متی 1:5، 6، 16) یہوواہ نے نعومی اور رُوت کو اُن کی دلیری کے لیے بہت بڑی برکت دی!
اِن آیتوں کو پڑھیں:
باتچیت کے لیے:
نعومی اور رُوت نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. یہوواہ نے شریعت میں غریبوں کے لیے گِری ہوئی بالیں چُننے کا جو بندوبست کِیا تھا، وہ اِتنا زبردست کیوں تھا؟ (ایمان ظاہر کریں، ص. 39 پ. 23، فٹنوٹ) تصویر نمبر 1
تصویر نمبر 1
تصویر نمبر 1
2. ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں کہ رُوت غلط اِرادے سے رات کو بوعز کے پاس نہیں گئی تھیں؟ (ایمان ظاہر کریں، ص. 47 پ. 17-18)
3. بوعز نے رُوت کو ”بیٹی“ کہا۔ اِس سے ہمیں اُن کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟ (رُوت 2:8؛ م16.11 ص. 3)
4. بوعز نے رُوت سے شادی کر کے کیسے ثابت کِیا کہ وہ ایک خودغرض شخص نہیں تھے؟ جس شخص نے رُوت سے شادی کرنے سے اِنکار کر دیا تھا، اُس نے یہ کیسے ثابت کِیا کہ وہ ایک خود غرض شخص تھا؟ (م23.03 ص. 14) تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
اگر ہمیں پیسے کی تنگی کا سامنا ہے تو ہمیں رُوت کی طرح محنت سے کام کرنے اور یہوواہ کا شکرگزار ہونے سے کیسے فائدہ ہوگا؟ تصویر نمبر 3
تصویر نمبر 3
جب نعومی دُکھ سے چُور تھیں تو رُوت نے اُنہیں سہارا دیا۔ نعومی نے جس طرح خاکساری سے دوسروں کی مدد کو قبول کِیا، ہم اِس سے کیا سیکھتے ہیں؟ اور ہم دوسروں کا حوصلہ بڑھانے کے حوالے سے رُوت سے کیا سیکھتے ہیں؟
آپ اپنی زندگی میں کن طریقوں سے نعومی اور رُوت کی طرح دلیری دِکھا سکتے ہیں؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ نعومی اور رُوت کو زندہ کرے گا تو مَیں اُن دونوں سے کیا پوچھوں گا؟
مزید جانیں
ہم اٹوٹ محبت دِکھانے کے حوالے سے رُوت کی کتاب سے کیا سیکھ سکتے ہیں اور ہم سیکھی ہوئی باتوں پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
اپنے گھرانے کی مدد کرنے کے لیے اِس تصویری کہانی کو اِستعمال کریں جس نے اِن واقعات میں جان ڈال دی ہے۔
”رُوت ایک وفادار دوست تھیں“ (تصویری کہانیاں، کہانی نمبر 12)