یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • gcw باب 16 ص.‏ 78-‏81
  • ‏’‏مَیں ضرور آپ کے ساتھ چلوں گی‘‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏’‏مَیں ضرور آپ کے ساتھ چلوں گی‘‏
  • دلیری سے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • موضوع کی گہرائی میں جائیں
  • آپ نے کیا سیکھا ہے؟‏
  • یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
  • مزید جانیں
  • ایمان ہی سے برق نے ایک بڑے لشکر کو شکست دی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • ایک نیا رہنما اور دو بہادر عورتیں
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • دو بہادر عورتیں
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • رضاکارانہ جذبہ ظاہر کرنے سے یہوواہ کی بڑائی کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2017ء
مزید
دلیری سے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں
gcw باب 16 ص.‏ 78-‏81

16 برق اور دبورہ

‏’‏مَیں ضرور آپ کے ساتھ چلوں گی‘‏

چھاپا ہوا ایڈیشن
چھاپا ہوا ایڈیشن

بنی‌اِسرائیل کی زندگی مشکلوں اور خطروں سے بھر گئی تھی۔ اور ایسا تو ہونا ہی تھا۔ وہ یہوواہ کے خلاف بغاوت کر رہے تھے اور یہوواہ نے اُنہیں آگاہ کِیا تھا کہ اگر وہ اُس کے خلاف جائیں گے تو وہ اُن کے دُشمنوں کو اُن پر حملہ اور ظلم کرنے سے نہیں روکے گا۔ اُس وقت کنعانیوں کا بادشاہ یابین حکمرانی کر رہا تھا اور اُس کی فوج کا سردار بہت ہی ظالم اور بے‌رحم شخص تھا۔ اُس کا نام سیسرا تھا۔ اُس کی فوج بہت ہی بڑی تھی اور اِس میں لوہے کے 900 رتھ بھی شامل تھے۔‏

تقریباً 20 سال سے سیسرا کی فوج نے اِسرائیلیوں کا جینا مشکل بنایا ہوا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ سیسرا کی فوج نے یہ عادت بنا لی تھی کہ جب بھی وہ کسی شہر یا گاؤں پر حملہ کرتی تھی تو وہ وہاں کی جوان عورتوں کو اپنے قبضے میں لے کر اُن کی عزت لُوٹتی تھی۔ اُن فوجیوں کے ظلم اور حیوانیت کی وجہ سے لوگ اِتنا ڈرے ہوئے تھے کہ وہ سڑکوں پر باہر ہی نہیں آتے تھے اور گاؤں کے گاؤں خالی ہو گئے تھے۔ زیادہ‌تر اِسرائیلیوں کے پاس ہتھیار نہیں تھے اِس لیے وہ اپنا بچاؤ نہیں کر سکتے تھے۔‏

اُس زمانے میں ایک دلیر عورت تھی جو یہوواہ کی نبِیّہ تھی۔ اِس عورت کا نام دبورہ تھا۔ دبورہ یہوواہ کی قوم کے مشکل سے مشکل مسئلوں کو حل کرتی تھیں۔ یہوواہ نے دبورہ کے ذریعے برق نام کے آدمی کو ہدایتیں دیں۔ اُس نے اپنی قوم کو نجات دِلانے کے لیے برق کو چُنا تھا۔ ذرا سوچیں کہ برق کو اُس وقت کتنی حیرانی ہوئی ہوگی جب دبورہ نے اُنہیں بتایا کہ یہوواہ چاہتا ہے کہ برق 10 ہزار آدمیوں کی فوج کو اِکٹھا کر کے تبور کے پہاڑ پر جائیں۔ دبورہ نے برق کو یہ بھی بتایا کہ یہوواہ اُنہیں اور اُن کی فوج کو سیسرا پر فتح دے گا۔‏

کیا برق ایک مغرور آدمی تھے جنہیں یہ بات تیر کی طرح چبھی کہ ایک عورت اُنہیں جنگ پر جانے کی ہدایتیں دے رہی ہے؟ بالکل نہیں۔ اُنہوں نے تو یہ کہا کہ وہ اُسی صورت میں جنگ پر جائیں گے اگر دبورہ اُن کے ساتھ جائیں گی۔ لیکن ایسا بھی نہیں تھا کہ برق میں ایمان کی کمی تھی۔ پولُس رسول نے برق کا شمار اُن لوگوں میں کِیا جو مضبوط ایمان کے مالک تھے۔ (‏عبر 11:‏1، 2،‏ 32‏)‏ دراصل جب برق نے دبورہ سے کہا کہ وہ اُن کے اور اُن کے آدمیوں کے ساتھ جنگ پر چلیں تو وہ یہوواہ پر مضبوط ایمان ظاہر کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہوواہ دبورہ کے ذریعے اپنے بندوں کی رہنمائی کر رہا ہے اور اگر دبورہ اُن کے ساتھ جنگ پر چلیں گی تو اُنہیں یہوواہ کی طرف سے اَور زیادہ رہنمائی مل سکے گی۔ دبورہ بہت بہادر تھیں۔ اُنہوں نے برق سے کہا:‏ ”‏مَیں ضرور[‏آپ کے]‏ساتھ چلوں گی۔“‏ اُنہوں نے برق کو یہ بھی بتایا کہ بھلے ہی اُنہیں جنگ میں کامیابی ملے گی لیکن سیسرا کو کوئی آدمی نہیں، یہاں تک کہ برق بھی نہیں ماریں گے۔ یہوواہ یہ کام ایک عورت سے کرائے گا۔‏

برق نے فوراً ہی اُن ہدایتوں پر عمل کِیا جو یہوواہ نے اُنہیں دیں۔ اُنہوں نے 10 ہزار بہادر آدمیوں کی فوج اِکٹھی کی اور اُنہیں جنگ کے لیے تیار کِیا حالانکہ اُن کے پاس اِتنے ہتھیار بھی نہیں تھے۔ اِس کے بعد وہ اپنی فوج کو تبور کے پہاڑ پر لے کر چلے گئے۔ اِس پہاڑ کی ایک خاص بات یہ تھی کہ یہ یزرعیل کی ہموار وادی میں واقع تھا۔ یہ تقریباً 562 میٹر (‏1844 فٹ)‏ اُونچا تھا اور دِکھنے میں ایسے تھا جیسے کسی نے ایک پیالی کو اُلٹا کر کے رکھا ہو۔ وہاں سے دبورہ، برق اور اُن کے آدمی دُور کھڑے ہوئے سیسرا اور رتھوں پر اُس کی فوج کو دیکھ سکتے تھے۔‏

دبورہ، برق اور اُن کی فوج تبور کے پہاڑ کے اُوپر کھڑے ہیں اور وہ سیسرا اور اُس کی فوج کے رتھوں کو دیکھ رہے ہیں جو اُن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‏

برق نے کیا کِیا؟ اگر برق کسی فوجی افسر کی طرح سوچتے تو وہ اُس وقت تک سیسرا اور اُس کی فوج کا اِنتظار کرتے جب تک وہ لوگ تبور کے پہاڑ کے نزدیک نہ پہنچ جاتے کیونکہ چڑھائی پر چڑھتے وقت رتھوں کی رفتار کم ہو جاتی اور اِس طرح برق کی فوج کے لیے سیسرا کی فوج سے لڑنا آسان ہو جاتا۔مگر برق جانتے تھے کہ جنگ اُن کی نہیں بلکہ یہوواہ کی ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے دبورہ کی ایک ایک بات پر عمل کِیا۔ پھر یہوواہ نے دبورہ کے ذریعے برق کو حملہ کرنے کا حکم دیا۔ برق اور اُن کے آدمی بڑی بہادری سے پہاڑ سے نیچے بھاگتے ہوئے اُترے اور ہموار میدان میں دُشمنوں سے لڑنے لگے۔‏

ایک قاضی اور ایک نبِیّہ کو ایک بہت ہی ظالم افسر اور اُس کی فوج کا سامنا کرنا پڑا۔‏

اگر جنگ میں لڑنے والے فوجیوں کی نظر سے دیکھا جائے تو برق اور اُن کے آدمیوں کے جیتنے کی کوئی اُمید نہیں تھی۔لیکن یہوواہ نے برق اور اُن کے فوجیوں کی دلیری دیکھی اور اِس کے لیے اُنہیں برکت بھی دی۔ اُس نے کنعانی فوج کو اُلجھن میں ڈال دیا۔ یہوواہ نے تیز بارش برسائی اور جلد ہی یزرعیل کی وادی کیچڑ سے بھر گئی اور کنعانی فوجیوں کے رتھ اِس میں پھنس گئے۔ اب اُن کے رتھ بالکل بے‌کار ہو گئے تھے۔ وہ اِن کے ذریعے اِسرائیلی فوج کو نہیں مار سکتے تھے۔ اب اُنہیں اِسرائیلی فوجیوں سے آمنے سامنے اور ہاتھ سے لڑنا تھا۔ سیسرا کا ایک بھی فوجی اِسرائیلیوں کے ہاتھ سے زندہ نہیں بچا۔ لیکن سیسرا کا کیا ہوا؟‏

سیسرا بڑی بزدلی سے اپنے فوجیوں کو پیچھے چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اُسے اُن کی جان سے زیادہ اپنی جان کی پرواہ تھی۔ وہ کسی نہ کسی طرح سے کیچڑ میں پیدل بھاگ کر اُونچائی پر چڑھ گیا۔ اُسے لگ رہا تھا کہ وہ بچ گیا ہے۔ لیکن برق نے اُس کا پیچھا کِیا۔ یہوواہ یہ سب ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اُس نے پہلے سے ہی سوچ رکھا تھا کہ سیسرا کی موت کس کے ہاتھوں ہوگی۔‏

اِن آیتوں کو پڑھیں:‏

  • قُضاۃ 4:‏1-‏16، 23، 24؛ 5:‏1-‏23

بات‌چیت کے لیے:‏

برق اور دبورہ نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟‏

موضوع کی گہرائی میں جائیں

  1. 1.‏ سیسرا کے ہوتے ہوئے بنی‌اِسرائیل کی زندگی کیسی تھی؟‏ (‏ڈبلیو15 1/‏8 ص.‏ 13 پ.‏ 1‏)‏

  2. 2.‏ سموئیل کے نبی بننے سے پہلے جن 12 لوگوں نے بنی‌اِسرائیل کے قاضیوں کے طور پر خدمت کی، اُن میں دبورہ کا شمار کیوں نہیں کِیا گیا؟‏ (‏ڈبلیو86 1/‏6 ص.‏ 31 پ.‏ 6-‏8‏)‏

  1. 3.‏ دبورہ کس لحاظ سے ”‏اؔسرائیل میں ماں“‏ تھیں؟‏ (‏قُضا 4:‏4، 5؛ 5:‏7؛ ڈبلیو15 1/‏8 ص.‏ 13 پ.‏ 2‏)‏ تصویر نمبر 1

دبورہ کھجور کے درخت کے نیچے بیٹھی ہیں اور وہ دو آدمیوں کے بیچ ہونے والے اِختلاف کو حل کر رہی ہیں۔ ایک اِسرائیلی میاں بیوی دبورہ کے پاس جا رہے ہیں۔‏

تصویر نمبر 1

تصویر نمبر 1

  1. 4.‏ دبورہ اور برق کی اِس بات کا کیا مطلب تھا جو اُنہوں نے ایک گیت گاتے وقت کہی:‏ ”‏ستارے بھی .‏ .‏ .‏ سیسرؔا سے لڑے“‏؟‏ (‏قُضا 5:‏20؛ م05 15/‏1 ص.‏ 25 پ.‏ 6‏)‏

آپ نے کیا سیکھا ہے؟‏

  • ایک بھائی برق کی مثال پر عمل کرتے ہوئے کب خاکساری سے ایک بہن کی طرف سے ملنے والی مدد کو قبول کر سکتا ہے؟ تصویر نمبر 2

    ایک بہن تین بھائیوں کو ٹریننگ دے رہی ہے کہ وہ ایک میٹر کو کیسے اِستعمال کر سکتے ہیں۔ وہ بھائی بڑے دھیان سے اُس بہن کی بات سُن رہے ہیں اور نوٹس لے رہے ہیں۔‏

    تصویر نمبر 2

  • دبورہ کو برق کے ساتھ جانے کے لیے دلیری کی ضرورت کیوں تھی؟ ہمیں بھی کس صورتحال میں اِس طرح کی دلیری کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟‏

  • آپ اپنی زندگی میں کن طریقوں سے برق اور دبورہ کی طرح دلیری دِکھا سکتے ہیں؟‏

یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں

  • مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟‏

  • اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟‏

  • جب یہوواہ برق اور دبورہ کو زندہ کرے گا تو مَیں اُن دونوں سے کیا پوچھوں گا؟‏

مزید جانیں

دیکھیں کہ اِس واقعے سے ہمیں یہ یقین کیسے ہو جاتا ہے کہ ہم یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے جو بھی کوششیں کرتے ہیں، یہوواہ اِنہیں بہت اہم سمجھتا ہے۔‏

‏”‏رضاکارانہ جذبہ ظاہر کرنے سے یہوواہ کی بڑائی کریں“‏ (‏م17.‏04 ص.‏ 27-‏32)‏

ہم برق اور دبورہ سے بھروسے، خاکساری اور فرمانبرداری کے حوالے سے کیا سیکھتے ہیں؟‏

‏”‏ایمان ہی سے برق نے ایک بڑے لشکر کو شکست دی“‏ (‏م03 15/‏11 ص.‏ 28-‏31)‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں