13 یشوع
اُنہوں نے انوکھی ہدایتوں کو مانا
یشوع کو یہوواہ کی ہدایت کے مطابق شہر یریحو پر حملہ کرنا اور اِسے تباہ کر دینا تھا۔ اُنہیں یہوواہ کی وہ بات یاد تھی جو یہوواہ نے اُن سے موسیٰ کی موت سے کچھ وقت پہلے کہی تھی۔ یہوواہ نے اُن سے کہا تھا: ”مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ۔“ (اِست 31:23) اب یشوع یریحو پر قبضہ کرنے والے تھے۔ تو یہوواہ نے اُن سے پھر وہی بات کہی: ”تُو . . . مضبوط اور نہایت دلیر ہو جا۔“ (یشو 1:7) یشوع کو واقعی بہت زیادہ دلیری کی ضرورت تھی۔ مگر کیوں؟
حالانکہ یریحو کوئی بڑا شہر نہیں تھا لیکن اِس کی دیواریں بہت اُونچی اور مضبوط تھیں جس کی وجہ سے یہ ایک محفوظ شہر تھا۔ اِس کے علاوہ یہ وہ پہلا شہر تھا جہاں سے بنیاِسرائیل نے ملک کنعان پر قبضہ کرنا شروع کِیا تھا۔ شہر یریحو میں رہنے والے لوگ بُرائی کی دَلدل میں دھنسے ہوئے تھے۔ اِس کے کئی صدیوں پہلے یہوواہ نے اَبراہام کو ”اموریوں کے گُناہ“ کے بارے میں بتایا تھا۔ یہوواہ کا اِشارہ اُن تمام لوگوں کی طرف تھا جو ملک کنعان میں رہتے تھے۔ یہوواہ نے کہا کہ اُن کے گُناہ ’اپنی اِنتہا کو پہنچ‘ گئے ہیں اور وقت آنے پر وہ اُن کے گُناہوں کے لیے اُنہیں سزا دے گا۔ (پید 15:16) اور اب وہ وقت آ گیا تھا۔ ملک کنعان کے لوگ بُتپرستی، اپنے مندروں میں جسمفروشی، ہمجنسپرستی، قریبی رشتےداروں اور جانوروں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے تھے۔ وہ تو اپنے بھیانک دیوتاؤں کے آگے اپنے بچوں کی قربانی بھی چڑھاتے تھے۔ کنعانی اِتنے بُرے تھے کہ اُن کا اپنا ملک ہی اُنہیں ’اُگل دینے‘ پر تھا۔ (احبا 18:3، 6، 21-27) لیکن یہ کیسے ہونے والا تھا؟
اِنسانی نظر سے دیکھا جائے تو یہوواہ نے یشوع کو جنگ لڑنے کے لیے جو ہدایتیں دی تھیں، وہ بہت بےتکی لگ رہی تھیں۔
یہوواہ نے اِس کی شروعات شہر یریحو سے کی۔ وہ یشوع اور اپنے کچھ اَور وفادار بندوں کے ذریعے اِس ملک سے بُرائی کا صفایا کرنے والا تھا۔ یہوواہ کے یہ فوجی اُس کی ہدایتوں کو ماننے کے لیے بالکل تیار تھے۔ لیکن یہوواہ نے یشوع کو جو ہدایتیں دیں، وہ بہت عجیب سی تھیں! یہوواہ نے یشوع سے کہا کہ وہ نہ تو فوراً سے یریحو پر حملہ کریں اور نہ ہی لمبے عرصے تک اِسے گھیر کر رکھیں۔ وہ صرف چھ دن تک ہر روز ایک دفعہ اِس شہر کے گِرد چکر لگائیں۔ یہوواہ نے کاہنوں سے بھی کہا کہ وہ عہد کا صندوق اُٹھا کر اور نرسنگے بجا کر شہر کے گِرد چکر لگائیں۔ اِس کے بعد وہ سب ساتویں دن شہر کے گِرد سات بار چکر لگائیں اور پھر زور سے چلّائیں۔
یشوع جنگ لڑنے میں تھوڑا بہت تجربہ رکھتے تھے۔ تو اگر اِنسانی نظر سے دیکھا جائے تو یہوواہ نے یشوع کو جنگ لڑنے کے لیے جو ہدایتیں دی تھیں، وہ بہت بےتکی لگ رہی تھیں۔ اور اگر اِسرائیلی جنگ ہار جاتے تو پھر کیا ہوتا؟ اِس طرح تو کنعان کے دوسرے شہروں میں رہنے والے لوگوں کا اِس بات پر اَور بھی زیادہ حوصلہ بڑھ جاتا کہ وہ بہت طاقتور ہیں اور اِسرائیلیوں کو مسل کر رکھ سکتے ہیں۔
لیکن یہوواہ پہلے سے ہی یشوع کو ایسی باتیں دِکھا چُکا تھا جن کی وجہ سے وہ یہوواہ پر پورا بھروسا رکھ سکتے تھے۔ جب یشوع نے شہر یریحو میں اپنے دو جاسوس بھیجے تھے تو اُنہیں پتہ چلا تھا کہ یریحو کے لوگوں کے دل میں اِسرائیلیوں کا خوف بیٹھا ہوا ہے۔ پھر یہوواہ نے معجزہ کر کے دریائےاُردن کے بہاؤ کو روک دیا تھا تاکہ اِسرائیلی اِس میں سے گزر سکیں۔
یقیناً اِن سارے واقعات پر سوچ بچار کر کے یشوع کا اپنے خدا پر بھروسا بڑھا ہوگا۔ بےشک اِس سے اُن میں یہوواہ کا حکم ماننے کی دلیری پیدا ہوئی ہوگی۔ وہ اپنی فوج کو لے کر شہر یریحو کے گِرد چکر لگانے لگے اور اِس دوران کاہن اپنے نرسنگے پھونکنے لگے۔ یہ دیکھ کر شہر کے لوگوں پر خوف کے مارے خاموشی طاری ہو گئی۔ اُن میں سے کوئی بھی نہ تو باہر جا رہا تھا اور نہ ہی کوئی اندر آ رہا تھا۔ پھر اگلے دن بھی یشوع نے وہی سب کِیا جو یہوواہ نے اُنہیں کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ چھ دنوں تک ہر دن ایسا ہی کرتے رہے۔ اور پھر ساتواں دن آیا۔
اُس دن یشوع کی فوج نے یریحو کے گِرد سات چکر لگائے اور پھر اِس کے آخر پر اُنہوں نے ایک اَور کام کِیا۔ یشوع نے زور سے لوگوں سے کہا: ”للکارو![یہوواہ]نے یہ شہر تُم کو دے دیا ہے۔“ اُنہیں اِس بات کے پورا ہونے کا زیادہ دیر تک اِنتظار بھی نہیں کرنا پڑا۔ بائبل میں لکھا ہے: ”جب لوگوں نے . . . بلند آواز سے للکارا[تو]دیوار بالکل گِر پڑی۔“
پھر یشوع اور اُن کے آدمی شہر میں گئے اور اُنہوں نے ہر جاندار کو ہلاک کر دیا بالکل جیسا یہوواہ نے اُن سے کہا تھا۔ جب تک یہوواہ یشوع اور اُن کی فوج کے ساتھ رہا، اُنہیں ایک کے بعد ایک شہر اور قوم پر فتح حاصل ہوتی رہی۔ آخرکار یہوواہ نے ملک کنعان کو ”اموریوں کے گُناہ“ سے بالکل پاک کر دیا!
مگر شہر یریحو کی تباہی کے وقت اِس کی دیواروں کا ایک چھوٹا حصہ نہیں گِرا۔ کیوں؟ کیونکہ اُس شہر میں ایک ایسی عورت بھی تھی جس نے بہت دلیری دِکھائی تھی اور ایمان کی زبردست مثال قائم کی تھی۔ ہم اِس عورت کے بارے میں اگلے باب میں پڑھیں گے۔
اِن آیتوں کو پڑھیں:
اِستثنا 20:16-18
یشوع 2:1، 9-11، 24؛ 3:14-17؛ 5:1؛ 6:1-21، 24
باتچیت کے لیے:
یشوع نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. یشوع کے زمانے میں خدا کے کلام کے کون سے حصے موجود تھے جنہیں وہ پڑھ سکتے تھے؟ (ڈبلیو09 1/12 ص. 17 پ. 4، فٹنوٹ) تصویر نمبر 1
تصویر نمبر 1
2. اِس سے پہلے کہ اِسرائیلی شہر یریحو کے گِرد چکر لگاتے، یہوواہ نے یشوع کو کیا کرنے کے لیے کہا؟ اُن لوگوں کو یہوواہ کی یہ ہدایتیں شاید سننے میں عجیب کیوں لگی ہوں گی؟ (یشو 5:2-8؛ م18.10 ص. 17 پ. 5-7)
3. اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اِسرائیلیوں نے شہر یریحو پر قبضہ کرنے کے لیے زیادہ عرصے تک اِسے گھیر کر نہیں رکھا تھا؟ (م15 15/11 ص. 13) تصویر نمبر 2
Kennedy, Titus (2023). The Bronze Age Destruction of Jericho, Archaeology, and the Book of Joshua. Accessed via researchgate.net. Licensed under CC by 4.0
تصویر نمبر 2: کچھ جلے ہوئے اناج کے گھڑے جو اُس جگہ سے ملے ہیں جہاں قدیم شہر یریحو تھا
4. یشوع 6:26 میں شہر یریحو کے بارے میں لکھی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی؟ (ڈبلیو98 15/9 ص. 21 پ. 8)
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
کس چیز نے یشوع کے اِس یقین کو مضبوط کِیا کہ یہوواہ ہمیشہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے؟ (یشو 23:14) آج ہم بھی اپنے اِس یقین کو مضبوط کیسے کر سکتے ہیں؟
ہم یہوواہ کی تنظیم کی طرف سے ملنے والی ہدایتوں کو قبول کرنے کے حوالے سے یشوع کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟ تصویر نمبر 3
تصویر نمبر 3
آپ اپنی زندگی میں یشوع کی طرح دلیری کیسے دِکھا سکتے ہیں؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ یشوع کو زندہ کرے گا تو مَیں یشوع سے کیا پوچھوں گا؟
مزید جانیں
ہم یشوع سے اِن باتوں کے حوالے سے کیا سیکھتے ہیں: یہوواہ کے وعدوں پر بھروسا کرنا، بڑے بوڑھوں سے سیکھنا اور اُس وقت بھی یہوواہ کا وفادار رہنا جب ہمارے ہمایمان ہمارا دل دُکھاتے ہیں؟
اپنے بچوں کو یشوع کی زندگی میں ہونے والے اہم واقعات کے بارے میں بتائیں۔