12 کالِب
وہ اپنے خدا کی حمایت میں بولے
جب موسیٰ مصر سے بھاگے تھے تو غالباً اُسی وقت کالِب نام کے بچے کی پیدائش ہوئی تھی جو اِسرائیلی غلاموں کے ایک گھر میں پیدا ہوا تھا۔ کالِب پلے بڑھے تو ایک غلام کے طور پر تھے لیکن پھر وہ آزاد ہو گئے تھے۔ جب کالِب تقریباً 40 سال کے تھے تو موسیٰ واپس مصر آئے۔ اِس بار یہوواہ نے موسیٰ کو وہاں بھیجا تھا تاکہ وہ اُس کے بندوں کو مصریوں کی غلامی سے آزاد کرائیں۔ یقیناً کالِب اُس وقت بہت خوش اور حیران ہوئے ہوں گے جب یہوواہ مصریوں پر دس آفتیں لایا، اُس نے بحیرۂاحمر کو دو حصے کر دیا اور اپنے بندوں کو مصریوں سے نجات دِلائی۔
بےشک اِن سب واقعات کو دیکھ کر کالِب کا ایمان بہت مضبوط ہوا اور وہ اِن واقعات کو ساری زندگی نہیں بھولے۔ وہ اُس وقت بھی یہوواہ کے وفادار رہے جب مصر سے آزاد ہونے کے کچھ ہی مہینوں بعد کوہِسینا پر بہت سے اِسرائیلی یہوواہ سے باغی ہو گئے۔ پھر اِس کے کچھ وقت بعد موسیٰ نے کالِب کو ایک خاص کام کرنے کی ذمےداری دی۔ اُنہوں نے کالِب کو یشوع اور دس اَور اِسرائیلی سرداروں کے ساتھ وعدہ کیے ہوئے ملک کی جاسوسی کرنے کے لیے بھیجا۔
یہ 12 آدمی بڑی دلیری سے کنعان گئے۔ وہ 40 دن تک وہاں کے شہروں، لوگوں اور وہاں اُگنے والی فصلوں کا جائزہ لیتے رہے۔ پھر وہ لوٹتے وقت اپنے ساتھ ملک کنعان کا کچھ پھل بھی لے آئے۔ اِن پھلوں میں انگوروں کا ایک گچھا بھی تھا جو اِتنا بڑا تھا کہ اِسے دو آدمیوں نے اُٹھایا ہوا تھا۔ پھر 12 میں سے 10 آدمیوں نے اِسرائیلیوں کو ”بُری خبر دی۔“ کالِب کو اُن کی باتیں سُن کر بہت مایوسی ہوئی۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ اُن آدمیوں نے اِسرائیلیوں سے کہا کہ کنعانی بہت طاقتور ہیں اور اُنہیں ہرانا بہت مشکل ہے۔ اُنہوں نے تو یہ تک کہا کہ کنعانی جباروں کی نسل سے ہیں۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا تھا؟ جباروں کی اولاد تو طوفان میں مر گئی تھی۔ اُن دس آدمیوں کی بات سُن کر سبھی اِسرائیلی بےحوصلہ ہو گئے اور اُن میں سے کچھ تو یہ تک کہنے لگے کہ وہ اپنے لیے ایک نیا پیشوا چُنیں گے جو اُنہیں واپس مصر لے جائے۔
کالِب اور یشوع یہوواہ پر مضبوط ایمان رکھتے تھے اِس لیے وہ اُس کی حمایت میں کھڑے رہے۔ اُنہوں نے لوگوں کا حوصلہ بڑھانے کی بھی بہت کوشش کی۔ کالِب نے اُن سے کہا: ”ہمارے ساتھ[یہوواہ]ہے۔ سو اُن کا خوف نہ کرو۔“ لیکن اُن کی باتیں سُن کر اِسرائیلیوں کا غصہ ٹھنڈا ہونے کی بجائے اَور بڑھ گیا۔ وہ تو کالِب اور یشوع کو سنگسار کرنے کا سوچنے لگے۔
یہوواہ اِسرائیلیوں کے رویے کی وجہ سے اُن سے بہت ناراض ہوا اور اُس کا غصہ کرنا ٹھیک بھی تھا۔ یہوواہ نے اُنہیں ایک طاقتور قوم یعنی مصریوں سے بچانے کے لیے اِتنا کچھ کِیا تھا لیکن یہ لوگ اِتنی جلدی اُس پر اپنا ایمان کھو بیٹھے تھے۔ لیکن یہوواہ نے کالِب اور یشوع کے ایمان اور دلیری کو نظرانداز نہیں کِیا۔ اُس نے تو کالِب کے بارے میں یہ تک کہا کہ وہ دوسروں سے بہت فرق ہیں اور پورے دل سے اُس کی پیروی کرتے ہیں۔ پھر یہوواہ نے یہ فیصلہ سنایا کہ وہ اِسرائیلی ویرانے میں ہی مر جائیں گے جنہوں نے اُس پر ایمان ظاہر نہیں کِیا۔a لیکن کالِب اور یشوع اُن چند لوگوں میں سے تھے جنہیں یہوواہ نے لمبی عمر جینے اور ملک کنعان میں جانے دیا۔
کالِب اُس وقت بھی یہوواہ کے وفادار رہے جب باقی اِسرائیلی یہوواہ سے باغی ہو گئے تھے اور اُنہیں مار ڈالنا چاہتے تھے۔
جب بنیاِسرائیل 40 سال تک ویرانے میں تھے تو اِس دوران کالِب دلیری سے کام لیتے رہے اور یہوواہ پر مضبوط ایمان ظاہر کرتے رہے۔ وہ موسیٰ کے وفادار رہے اور اِس کے بعد یشوع کے بھی جنہیں یہوواہ نے موسیٰ کے مرنے کے بعد بنیاِسرائیل کی رہنمائی کرنے کے لیے چُنا تھا۔ یہوواہ نے یشوع کو حکم دیا تھا کہ وہ اُس کے بندوں کی دریائےاُردن پار کر کے ملک کنعان جانے میں پیشوائی کریں۔ کالِب اپنے بڑھاپے میں بھی بڑی دلیری سے ملک کنعان میں یہوواہ کے دُشمنوں سے لڑتے رہے۔
جب اِسرائیلیوں کو دریائےاُردن پار کیے ہوئے چھ سال ہو گئے تو تب تک وہ ملک کنعان کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر چُکے تھے۔ پھر وہ وقت آیا جب کالِب کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ کس علاقے میں رہیں گے۔ اُنہوں نے اپنے لیے حِبرون کا علاقہ چُنا۔ یہ وہ جگہ تھی جس کے بارے میں دس باغی جاسوسوں نے کہا تھا کہ اِس پر بہت طاقتور اور قدآور لوگ رہتے ہیں جنہیں ہرانا ناممکن ہے۔ حالانکہ کالِب اُس وقت 85 سال کے تھے لیکن اُنہیں پورا بھروسا تھا کہ یہوواہ اِس جگہ کو حاصل کرنے میں اُن کی مدد کرے گا۔ اُنہوں نے کہا: ’یہوواہ میرے ساتھ ہوگا اور مَیں اُن کو یہوواہ کے قول کے مطابق نکال دوں گا۔‘ اور ایسا ہی ہوا۔ کالِب نے اُس شہر پر فتح پالی اور وہ اُس میں رہنے لگے۔ اِس کے آگے بائبل میں بتایا گیا ہے کہ جنگ ختم ہو گئی اور ملک میں امن ہو گیا۔
اِس کے بہت سال پہلے موسیٰ نے کالِب سے کہا تھا: ”تُو نے[یہوواہ]میرے خدا کی پوری پیروی کی ہے۔“ بےشک کالِب نے مرتے دم تک ایسا کِیا اور وہ تب بھی ایسا کریں گے جب یہوواہ اُنہیں فردوس میں زندہ کرے گا۔
اِن آیتوں کو پڑھیں:
گنتی 13:1–14:12، 20-38
یشوع 14:6-15
باتچیت کے لیے:
کالِب نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ گنتی 13:23 میں ملک کنعان کی پیداوار کے بارے میں بڑھا چڑھا کر نہیں بتایا گیا؟ (ڈبلیو06 15/6 ص. 16 پ. 1-2)
2. جیسا کہ کالِب اور یشوع نے بتایا، کیا وعدہ کیے ہوئے ملک میں واقعی کثرت سے ”دودھ اور شہد بہتا“ تھا؟ (گن 14:8؛ ڈبلیو11 1/3 ص. 15) تصویر نمبر 1
Institute of Archaeology/Hebrew University © Tel Rehov Excavations
تصویر نمبر 1: اِسرائیل میں مٹی سے بنا شہد کا چھتّا جو تقریباً 3000 سال پُرانا ہے۔
3. جب موسیٰ نے قادِس سے 12 آدمیوں کو ملک کنعان کی جاسوسی کرنے کے لیے بھیجا تو بنیاِسرائیل اُس ملک سے کتنی دُور تھے؟ (م04 15/10 ص. 17 پ. 11-12) تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2
4. یہوواہ نے کالِب کو اُن کے ایمان اور دلیری کا کیا اِنعام دیا؟ (م06 1/10 ص. 20 پ. 11)
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
حالانکہ کالِب نے یہوواہ پر ایمان ظاہر کِیا تھا لیکن پھر بھی اُنہیں باقی اِسرائیلیوں کے ساتھ ویرانے میں بھٹکنا پڑا۔ اِس کے باوجود کالِب نے یہوواہ پر بھروسا کرنا نہیں چھوڑا۔ آپ کن صورتحال میں کالِب کی مثال پر عمل کر سکتے ہیں؟
کالِب کی مثال پر غور کرنے سے ہم ’بِھیڑ کی پیروی کرنے‘ سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ (خر 23:2) تصویر نمبر 3
تصویر نمبر 3
آپ اپنی زندگی میں کن طریقوں سے کالِب کی طرح دلیری دِکھا سکتے ہیں؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ کالِب کو زندہ کرے گا تو مَیں کالِب سے کیا پوچھوں گا؟
مزید جانیں
کالِب کی مثال پر غور کریں اور دیکھیں کہ ایمان اور دلیری کا آپس میں کیا تعلق ہے۔
”ایمان اور خدائیخوف کی بدولت دلیر بنیں“ (م06 1/10 ص. 18-21 پ. 1-12)
جب کالِب 85 سال کے تھے تو وہ یہ کیوں کہہ سکتے تھے کہ ”مَیں نے[یہوواہ]اپنے خدا کی پوری پیروی کی“؟ (یشو 14:8)
”کیا آپ یہوواہ کی پوری پیروی کرتے ہیں؟“ (ڈبلیو93 15/5 ص. 26-29)
a یہوواہ کے اِس فیصلے میں لاوی یا وہ اِسرائیلی شامل نہیں تھے جن کی عمر اُس وقت 20 سال سے کم تھی۔—گن 14:29۔