8 یوسف
اُنہوں نے آزمائش کا مقابلہ کِیا
جب یوسف نوجوان تھے تو اُن کا خدا یہوواہ اور اُن کے والد یعقوب اُن سے بہت پیار کرتے تھے۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ یوسف کی زندگی میں کوئی مشکل یا پریشانی نہیں تھی۔ اُن کے بھائی اُن سے بہت نفرت کرتے تھے۔ یعقوب یوسف کو اپنے دوسرے بیٹوں سے زیادہ پیار کرتے تھے اور اُنہیں خاص توجہ دیتے تھے۔ اِس وجہ سے یوسف کے سوتیلے بھائی اُن سے حسد کرنے لگے اور اُن کے ساتھ بہت بُرا سلوک کرنے لگے۔ جب یہوواہ نے یوسف کو وہ خواب دِکھائے جن میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ ایک دن اُن کے گھر والے اُن کے سامنے جھکیں گے تو اُن کے بھائی اُن سے اَور بھی زیادہ نفرت کرنے لگے۔
جب یوسف تقریباً 17 سال کے تھے تو ایک دن اُن کے ابو نے اُن کو اپنے دوسرے بیٹوں کی خیر خبر لینے کے لیے ایک لمبے سفر پر بھیجا جو کئی دنوں کا تھا۔ جیسے ہی یوسف اپنے بھائیوں کے پاس پہنچے، اُن کے بھائیوں نے اُن کا چوغہ اُتار دیا اور اُنہیں اُٹھا کر خشک گڑھے میں پھینک دیا۔ یوسف مدد کے لیے چلّاتے رہے لیکن اُن کے بھائیوں نے اُن کی ایک نہ سنی۔ وہ تو یوسف کو قتل کر دینا چاہتے تھے لیکن پھر اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ اُنہیں اُن تاجروں کے ہاتھ بیچ دیں گے جو وہاں سے گزر رہے تھے۔ پھر بعد میں جب یوسف کے بھائی گھر لوٹے تو اُنہوں نے یعقوب کو اِس بات کا یقین دِلا دیا کہ اُن کا پیارا بیٹا یوسف کسی وحشی درندے کا شکار ہو گیا ہے۔ لیکن سچ تو یہ تھا کہ یوسف بہت دُور جنوب میں مصر پہنچ گئے تھے جہاں اُنہیں فِرعون کے درباری فوطیفار کے ہاتھ غلام کے طور پر بیچ دیا گیا۔
یوسف بڑی آسانی سے مایوس ہو سکتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے دلیری دِکھائی اور ہر وہ کام بڑی لگن اور محنت سے کِیا جو اُنہیں دیا جاتا تھا۔ اِسی لیے بائبل میں اُن کے بارے میں لکھا ہے: ’یہوواہ اُن کے ساتھ تھا۔‘ یہوواہ نے اِس بات کا پورا خیال رکھا کہ یوسف جو بھی کام کریں، وہ اُس میں ضرور کامیاب ہوں۔ فوطیفار نے اُنہیں اپنے گھر کا مختار بنا دیا اور اپنا سب کچھ یوسف کے ہاتھ میں سونپ دیا۔
لیکن یوسف کی مصیبتیں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یوسف ”خوبصورت جسامت کے مالک بن گئے“ اور یہ بات فوطیفار کی بیوی کی نظروں سے چھپی نہیں تھی۔ وہ کھلمکُھلا یوسف پر ظاہر کرتی تھی کہ وہ اُسے پسند کرتی ہے۔ اُس نے تو یوسف سے یہ تک کہا: ”میرے ساتھ ہمبستر ہو۔“ اِس پر یوسف نے کیا کِیا؟ وہ اپنے گھر والوں سے بہت دُور تھے اور مصر میں ایک غلام تھے جہاں ایک مالک اپنے غلاموں کو اپنی ملکیت سمجھتا تھا اور اُن کے ساتھ جو چاہے، کر سکتا تھا۔ اِس عورت کے پاس اِتنی طاقت تھی کہ وہ اُن کی زندگی مشکل بنا سکتی تھی۔ لیکن کیا یوسف اُس کی باتوں میں آ گئے؟ کیا اُن میں اُسے اِنکار کرنے کی ہمت تھی؟
حالانکہ یوسف جانتے تھے کہ اُن کے مالک کی بیوی اُن کی زندگی مشکل بنا دے گی لیکن وہ پھر بھی اُس کی باتوں میں آنے سے کیسے بچے؟
بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”یوسف نے اُسے اِنکار کر دیا۔“ یوسف نے اُس سے کہا کہ وہ اُس کے شوہر کو دھوکا نہیں دیں گے جو اُن پر اِتنا بھروسا کرتا ہے۔ لیکن یوسف کی نظر میں ایک بات اِس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں اِتنا بُرا کام کر کے خدا کے خلاف گُناہ کیوں کروں؟“ یوسف اپنے باپ یہوواہ سے اِتنا پیار کرتے تھے کہ اُنہوں نے بڑی دلیری سے فوطیفار کی بیوی کو صاف اِنکار کر دیا۔ لیکن فوطیفار کی بیوی نے ہار نہیں مانی۔ وہ ”آئے دن“ یوسف کے پیچھے پڑی رہتی تھی کہ وہ اُس کے ساتھ ہمبستر ہوں۔ پھر ایک دن جب گھر میں کوئی نوکر نہیں تھا تو فوطیفار کی بیوی نے جھٹ سے یوسف کو پکڑ لیا اور اُن سے کہا: ”میرے ساتھ ہمبستر ہو!“ یوسف فوراً وہاں سے بھاگ گئے۔ لیکن فوطیفار کی بیوی نے یوسف کا وہ کپڑا اپنے پاس رکھ لیا جو یوسف اُس کے پاس چھوڑ کر بھاگے تھے۔ پھر بعد میں جب فوطیفار گھر لوٹا تو اُس نے اُسے یوسف کا کپڑا دِکھایا اور اُن پر یہ جھوٹا اِلزام لگایا کہ اُنہوں نے اُس کی عزت لُوٹنے کی کوشش کی ہے۔ یہ سُن کر فوطیفار غصے سے بھڑک اُٹھا اور اُس نے یوسف کو پکڑ کر قیدخانے میں ڈلوا دیا۔
اب یوسف ایک ایسے قیدخانے میں تھے جہاں گھپاندھیرا تھا۔ کچھ وقت تک اُن کے پیروں کو بیڑیوں میں جکڑا گیا اور اُن کی گردن پر لوہے کی زنجیریں باندھی گئیں۔ (زبور 105:17، 18) یوسف بڑی آسانی سے مایوس ہو سکتے تھے اور اُمید کا دامن چھوڑ سکتے تھے۔ کیا یہوواہ نے اُنہیں چھوڑ دیا تھا؟ بالکل نہیں! اور یوسف نے بھی اپنے خدا پر بھروسا کرنا کبھی نہیں چھوڑا۔ اُنہوں نے قیدخانے میں بھی ہر کام محنت سے کِیا اور یہوواہ اُنہیں کامیاب کرتا رہا۔ کچھ ہی وقت میں قیدخانے کے اعلیٰ افسر نے یوسف کو ایک بہت بڑی ذمےداری دی۔ وقت گزرتا گیا اور یوسف بڑی دلیری سے ہر مشکل برداشت کرتے رہے۔
یوسف اپنے ایمان اور اپنی دلیری کی وجہ سے یہوواہ کے کام آتے رہے۔ پھر کچھ وقت بعد یہوواہ نے فِرعون کو مستقبل کے حوالے سے دو خواب دِکھائے اور یوسف کی مدد کی تاکہ وہ اِن کا مطلب بتا سکیں۔ یوسف نے فِرعون کو بتایا کہ اُن کے خواب کے مطابق سات سال تک پورے مصر میں بڑی کثرت سے اناج پیدا ہوگا اور سات سال قحط ہوگا۔ فِرعون اِس بات سے بہت متاثر ہوا کہ یوسف خوابوں کا مطلب بتا سکتے ہیں اور خدا کی مدد سے اچھا مشورہ بھی دے سکتے ہیں۔ اِس لیے اُس نے یوسف کو آنے والے قحط کی تیاری کرنے کی ذمےداری دی۔ اُس نے یوسف کو پورے مصر کا اِختیار سونپ دیا۔ فِرعون کے بعد یوسف سب سے اُونچا عہدہ رکھتے تھے۔ اِس طرح یوسف نہ صرف مصریوں کو آنے والے قحط سے بچا پائے بلکہ اپنے گھرانے کو بھی۔ جب اُن کے بھائی اناج کے لیے مصر آئے تو وہ یوسف کے سامنے جھکے۔ اُنہیں اِس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی کے سامنے جھک رہے ہیں۔ یہوواہ نے یوسف کو اُن کی نوجوانی میں جو خواب دِکھایا تھا، وہ پورا ہو گیا۔ یوسف کے بھائی بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اچھے اِنسان بن گئے تھے۔ جس بھائی سے وہ اِتنی نفرت کِیا کرتے تھے، اب وہی اُنہیں، اُن کے باپ کو اور اُن سے آنے والی قوم کو بچا رہا تھا یعنی بنیاِسرائیل کو۔ یہ سب اِسی لیے ہو سکا کیونکہ یوسف نے دلیری سے کام لیا اور یہوواہ پر مضبوط ایمان رکھا۔
اِن آیتوں کو پڑھیں:
باتچیت کے لیے:
یوسف نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. کن باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مصر میں یوسف کی زندگی کے حوالے سے بائبل میں جو کچھ بتایا گیا ہے، وہ بالکل سچ ہے؟ (جی 11/10 ص. 15 پ. 2)
2. یوسف یہ بات کیسے جانتے تھے کہ یہوواہ زِناکاری کو بہت ہی ”بُرا کام“ خیال کرتا ہے؟ (پید 39:9؛ م22.08 ص. 26 پ. 2)
3. یہوواہ نے یوسف کو مصر کا وزیرِاعظم کیوں بننے دیا؟ (م96 1/6 ص. 10 پ. 4) تصویر نمبر 1
تصویر نمبر 1
4. یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ یوسف کا یہوواہ پر ایمان تب بھی نہیں ڈگمگایا جب وہ 110 سال کے ہو گئے تھے؟ (پید 50:25، 26؛ م07 1/6 ص. 29 پ. 10-11) تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
جس طرح سے یوسف اپنے بھائیوں کے ساتھ پیش آئے، اُس سے ہم اپنے اُن ہمایمانوں کے ساتھ پیش آنے کے حوالے سے کیا سیکھ سکتے ہیں جو ہمارے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں؟ (پید 45:4، 5؛ 50:19-21)
حالانکہ یوسف اپنے گھر سے بہت دُور تھے لیکن وہ پھر بھی یہوواہ کے وفادار رہے۔ اُن کی مثال اُس وقت ہمارے کام کیسے آ سکتی ہے جب ہم . . .
سکول میں ہوتے ہیں؟ تصویر نمبر 3
تصویر نمبر 3
سفر کر رہے ہوتے ہیں؟ تصویر نمبر 4
تصویر نمبر 4
فون یا ٹیبلٹ وغیرہ اِستعمال کر رہے ہوتے ہیں؟ تصویر نمبر 5
تصویر نمبر 5
آپ اپنی زندگی میں یوسف کی طرح دلیری کیسے دِکھا سکتے ہیں؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ یوسف کو زندہ کرے گا تو مَیں یوسف سے کیا پوچھوں گا؟
مزید جانیں
حالانکہ یہوواہ نے یوسف کو مشکلوں سے نہیں بچایا لیکن اُس نے اِن کا مقابلہ کرنے میں اُن کی مدد کی۔ دیکھیں کہ یہوواہ آپ کی بھی مدد کیسے کر سکتا ہے۔
”یہوواہ کامیاب ہونے میں آپ کی مدد کر رہا ہے“ (م23.01 ص. 14-19)
بچے اُس وقت یوسف کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں جب دوسرے اُن کے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں؟