7 یعقوب
اُنہوں نے دلیری سے اپنے گھرانے کی حفاظت کی
یعقوب نے اپنی موت سے کچھ وقت پہلے اپنی زندگی کو اِس طرح سے بیان کِیا: ’میری زندگی کے سال بہت کم ہیں‘ اور ”یہ دُکھ بھرے رہے ہیں۔“ (پید 47:9) یعقوب کی یہ بات بالکل سچ تھی! جب وہ جوان تھے تو اُنہیں اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گھر سے دُور حاران بھاگنا پڑا کیونکہ اُن کا بھائی اُنہیں قتل کرنا چاہتا تھا۔ پھر جب یعقوب حاران میں تھے تو اُنہیں راخل سے پیار ہو گیا۔ لیکن راخل کے باپ نے دھوکے سے یعقوب کی شادی پہلے اپنی بڑی بیٹی لِیاہ سے کرا دی۔ اِس طرح یعقوب کی دو بیویاں تھیں جن کی آپس میں بالکل نہیں بنتی تھی۔ یعقوب کئی سالوں تک اپنے سُسر لابن کے ہاں کام کرتے رہے اور اِس دوران لابن بڑی چالاکی سے بار بار یعقوب کی مزدوری بدلتے رہے۔ اِن سب مشکلوں کے باوجود یعقوب دلیری سے کام لیتے رہے، اُنہوں نے یہوواہ پر مضبوط ایمان رکھا اور وہ اُس کے وفادار رہے۔
ایک دن یہوواہ نے یعقوب سے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ حاران کو چھوڑ کر اپنے ملک کنعان لوٹ جائیں۔ لیکن ایسا کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا کیونکہ لابن بہت لالچی تھے اور یعقوب اور اُن کے سارے مال کو اپنی ملکیت سمجھتے تھے۔ یعقوب نے راخل اور لِیاہ سے صلاح مشورہ کِیا اور اُنہیں یہوواہ کی بات بتائی۔ پھر اُنہوں نے اپنے گھرانے کو جمع کِیا اور لابن کو بتائے بغیر اُن کے پاس سے چلے گئے۔ جب لابن کو اِس بات کی خبر ہوئی تو اُنہوں نے اپنے بھائیوں کو ساتھ لے کر یعقوب کا پیچھا کِیا۔ اور پھر جب وہ یعقوب تک پہنچ گئے تو وہ اُنہیں باتیں سنانے لگے۔ اُنہوں نے تو یعقوب کو دھمکی دیتے ہوئے یہ تک کہا: ”مَیں چاہوں تو آپ کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہوں!“ لیکن یعقوب نے بڑی دلیری سے لابن کی درستی کی۔ اُنہوں نے لابن کو احساس دِلایا کہ وہ کتنے سالوں سے اُن کے ساتھ نااِنصافی کرتے آئے ہیں اور اُنہیں دھوکا دیتے آئے ہیں۔ حالانکہ لابن نے یعقوب کے ساتھ بہت بُرا سلوک کِیا لیکن یعقوب پھر بھی اُن کے ساتھ صلح کرنا چاہتے تھے۔ اور جب اُن دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ صلح کا عہد باندھ لیا تو اِس کے بعد وہ اپنے اپنے راستے چلے گئے۔
یعقوب اپنے اُن رشتےداروں کے ساتھ صلح کیسے کر پائے جو اُن کا بُرا چاہتے تھے اور وہ ایک طاقتور فرشتے کے ساتھ کُشتی کیسے کر پائے؟
لیکن یعقوب کی مشکلیں یہیں ختم نہیں ہوئیں۔ اُنہیں اپنے جُڑواں بھائی عیسُو کا بھی سامنا کرنا پڑا جو اُن سے ملنے آ رہے تھے۔ بہت سال پہلے یعقوب کی ماں رِبقہ نے اُنہیں آگاہ کِیا تھا کہ عیسُو یعقوب کو مار ڈالنا چاہتے ہیں۔ دراصل عیسُو کو لگ رہا تھا کہ یعقوب نے دھوکے سے اُس برکت کو چھین لیا ہے جو اُن کا باپ اُنہیں دینا چاہتا تھا۔ اِس وجہ سے وہ بہت غصے میں تھے۔ لیکن اب یعقوب اپنے بھائی سے صلح کرنا چاہتے تھے۔ اِس لیے جب اُنہیں پتہ چلا کہ عیسُو اپنے 400 آدمیوں کے ساتھ اُن کے اور اُن کے گھر والوں کی طرف بڑھ رہے ہیں تو اُنہوں نے عیسُو سے ملنے سے پہلے اپنے خادموں کے ہاتھ اُن کے لیے بہت قیمتی تحفے بھیجے۔ لیکن کیا اِن سے عیسُو کا غصہ ٹھنڈا ہو سکتا تھا؟ یعقوب کو لگ رہا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ’یعقوب بہت خوفزدہ اور پریشان تھے۔‘ لیکن پھر بہت ہی حیران کر دینے والی بات ہوئی۔
اُسی رات بعد میں جب یعقوب اکیلے تھے تو اُن کی نظر ایک اجنبی پر پڑی۔ یہ یہوواہ کا ایک فرشتہ تھا جو یعقوب سے کُشتی کرنے لگا۔ یعقوب نے سوچا کہ اُنہیں یہوواہ کے فرشتے سے برکت مل سکتی ہے۔ اِس لیے وہ بڑی دلیری سے گھنٹوں تک اُس سے کُشتی کرتے رہے۔ حالانکہ یعقوب 97 سال کے تھے اور فرشتہ اُن سے کہیں زیادہ طاقتور تھا لیکن یعقوب نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ اُس سے کُشتی کرتے رہے، یہاں تک کہ اُنہوں نے رو کر اُس سے برکت کے لیے اِلتجا کی۔ (ہوس 12:4) یعقوب نے برکت پانے کا پکا اِرادہ کِیا ہوا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہوواہ سے ملنے والی ہر برکت ہی بہت بیشقیمت ہوتی ہے۔ اِس لیے وہ اِسے پانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھے۔ پھر جب سورج نکلنے والا تھا تو فرشتے نے یعقوب کے کُولھے کے جوڑ کو چُھوا جس پر یہ اپنی جگہ سے کھسک گیا۔ لیکن یعقوب پھر بھی اُس وقت تک فرشتے سے کُشتی کرتے رہے جب تک اُس نے یعقوب کو برکت نہیں دے دی۔ فرشتے نے یعقوب کو بتایا کہ اب سے اُن کا نام اِسرائیل ہوگا۔ اِس نام کا مطلب تھا: خدا سے زورآزمائی کرنے والا۔ یہ نام بالکل مناسب تھا کیونکہ یعقوب نے ہمت نہیں ہاری تھی اور یہوواہ سے برکت پانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دی تھی۔
یعقوب لنگڑا کر اپنے گھر والوں تک پہنچے۔ پھر اُنہیں دُور سے عیسُو اور اُن کے 400 آدمی آتے ہوئے دِکھائی دیے۔ یعقوب اپنے گھر والوں سے آگے اکیلے عیسُو سے ملنے گئے۔ جب وہ عیسُو کے قریب پہنچے تو وہ اُن کی طرف جاتے ہوئے سات بار زمین تک جھکے۔ یہ دیکھ کر عیسُو یعقوب سے ملنے کے لیے بھاگے۔ عیسُو کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ اِس کی بجائے وہ بانہیں کھول کر یعقوب کی طرف بڑھے اور اُنہیں گلے لگا لیا!اِس کے بعد وہ دونوں بھائی رونے لگے۔ چونکہ یعقوب نے دل کھول کر عیسُو کو تحفے بھیجے تھے اور وہ بڑی خاکساری سے اُن سے ملے تھے اِس لیے عیسُو کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ یعقوب نے اپنے بھائی سے صلح کرنے کا راستہ نکال ہی لیا۔ یقیناً عیسُو یعقوب کی دلیری سے بہت متاثر ہوئے ہوں گے۔
یعقوب اپنی باقی ساری زندگی لنگڑا کر چلتے رہے کیونکہ اُن کے کُولھے کا جوڑ اپنی جگہ سے کھسک گیا تھا۔ اِس کے علاوہ اُنہیں اَور بھی بہت سی مشکلیں سہنی پڑیں۔ لیکن اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنے اِس فیصلے پر کبھی نہیں پچھتائے ہوں گے کہ وہ یہوواہ کے فرمانبردار رہے یا اُنہوں نے اُس کے فرشتے سے کُشتی کی۔ کئی سال گزر جانے کے بعد یہوواہ نے وہ شاندار وعدہ پورا کِیا جو اُس نے یعقوب سے کِیا تھا۔ بنیاِسرائیل واقعی ایک بہت بڑی قوم بن گئے۔ (پید 28:14) اَور تو اَور بائبل میں اکثر یہوواہ کو ”یعقوؔب کا خدا“ کہا گیا ہے۔ (خر 3:6) یسوع مسیح نے خود بھی یہ اِصطلاح اِستعمال کی تھی اور اِس کے بعد اُنہوں نے کہا تھا کہ یہوواہ ”مُردوں کا نہیں بلکہ زندوں کا خدا ہے کیونکہ اُس کی نظر میں وہ سب زندہ ہیں۔“ (لُو 20:37، 38) اِس سے پتہ چلتا ہے کہ یعقوب کو ایک شاندار مستقبل ضرور ملے گا۔ نئی دُنیا میں اُن کی زندگی کے سال بےشمار ہوں گے اور یہ خوشیوں سے بھرے ہوں گے۔
اِن آیتوں کو پڑھیں:
باتچیت کے لیے:
یعقوب نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. یہوواہ نے اِس بات کا خیال کیسے رکھا کہ پہلوٹھے کا حق عیسُو کو نہیں بلکہ یعقوب کو ہی ملے؟ (م03 15/10 ص. 29 پ. 2)
2. یہوواہ نے یعقوب کو خواب میں کیا دِکھایا اور اِس سے اُنہیں کس بات کا یقین ہوا؟ (م03 15/10 ص. 28 پ. 3–ص. 29 پ. 1) تصویر نمبر 1
تصویر نمبر 1
3. یعقوب کو پکا یقین کیوں تھا کہ اُنہیں یہوواہ کے فرشتے سے برکت مل سکتی ہے؟ (م03 15/10 ص. 31 پ. 1) تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2
4. یعقوب نے اپنے گھرانے کو کنعانیوں کے بُرے اثر سے محفوظ رکھنے کے لیے کون سے قدم اُٹھائے؟ (ڈبلیو95 15/9 ص. 21 پ. 4، فٹنوٹ)
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
یعقوب نے لابن کی ہر بھیڑ کا بہت اچھے سے خیال رکھا۔ (پید 31:38-40) آج مسیحی چرواہے یہوواہ کی بھیڑوں کا یعنی اپنے بہن بھائیوں کا اَور بھی اچھی طرح سے خیال کیسے رکھ سکتے ہیں؟ تصویر نمبر 3
تصویر نمبر 3
جب یعقوب کو ڈر لگا تو اُنہوں نے یہوواہ سے دُعا کی۔ (پید 32:6-12) یعقوب کی طرح ہم بھی دُعا میں کن کن باتوں کا ذکر کر سکتے ہیں؟
آپ اپنی زندگی میں یعقوب کی طرح دلیری کیسے دِکھا سکتے ہیں؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ یعقوب کو زندہ کرے گا تو مَیں یعقوب سے کیا پوچھوں گا؟
مزید جانیں
ہم یعقوب کی مثال پر اُس وقت کیسے عمل کر سکتے ہیں جب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے کسی ہمایمان کا دل دُکھایا ہے؟
”یسوع مسیح کی آواز سنتے رہیں“ (م21.12 ص. 25-27 پ. 10-18)
تصویروں کے ذریعے بتائے گئے اِس واقعے کو اِستعمال کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کو یعقوب کے بارے میں سکھائیں۔