2 نوح
اُنہوں نے دُنیا کو قصوروار ٹھہرایا
حنوک کے فوت ہو جانے کے تھوڑے عرصے بعد آسمان پر کچھ فرشتوں نے خدا کے خلاف بغاوت کی۔ وہ زمین پر رہنے والی عورتوں سے جنسی تعلق قائم کرنے کی خواہش کرنے لگے۔ اِس لیے وہ اِنسانی جسم اِختیار کر کے زمین پر آئے اور اُنہوں نے ہر اُس عورت کو اپنے قبضے میں کر لیا جسے وہ اپنی بیوی بنانا چاہتے تھے۔ اِنسانوں اور فرشتوں کے ملاپ سے جو بچے پیدا ہوئے، اُنہیں جبار کہا جاتا تھا۔ وہ بہت ہی ظالم اور بےرحم تھے۔ اُن کی وجہ سے زمین پر لوگ پہلے سے بھی زیادہ بُرائی کرنے لگے۔ خدا نے اِنسانوں کو بڑے پیار سے بنایا تھا لیکن اب وہ بالکل بگڑ چُکے تھے۔ لیکن ایک شخص اِن سب لوگوں سے بالکل فرق تھا۔ یہ حنوک کے پڑپوتے نوح تھے۔
حنوک کی طرح نوح بھی ایک نیک شخص تھے۔ بائبل میں ہم پڑھتے ہیں کہ ”نوح سچے خدا کے ساتھ ساتھ چلتے تھے۔“ جب نوح نے شادی کر لی تو اُنہوں نے اور اُن کی بیوی نے اپنے تینوں بیٹوں کو سکھایا کہ وہ بھی اُن کی طرح یہوواہ کی فرمانبرداری کریں۔ اِسی وجہ سے نوح اور اُن کے گھر والے اپنے اِردگِرد کے لوگوں سے بالکل فرق تھے۔
ایک دن یہوواہ نے نوح کو بتایا کہ اُس نے زمین سے تمام بُرے لوگوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کِیا ہے۔ لیکن یہوواہ نے نوح کو ایک اُمید بھی دی۔ اُس نے نوح سے کہا کہ وہ ایک بڑی سی کشتی بنائیں تاکہ کچھ لوگ اُس میں جا کر اپنی جان بچا سکیں۔ یہوواہ نے نوح کو بتایا کہ وہ زمین پر طوفان لانے والا ہے۔ نوح نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی ایسا ہوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے پہلے کبھی کشتی بھی نہیں بنائی تھی اور وہ بھی اِتنی بڑی! مگر نوح یہوواہ کے وعدوں پر پورا بھروسا کرتے تھے اِس لیے وہ کشتی بنانے کے کام میں لگ گئے۔
نوح اور اُن کے گھر والوں کو بہت ہی طاقتور اور خطرناک دُشمنوں کا سامنا کرنا پڑا جو اُن کے پیغام اور کشتی بنانے کے کام سے نفرت کرتے تھے۔
نوح اور اُن کے گھر والوں کو یہ کام کرنے کے لیے واقعی بڑی دلیری کی ضرورت تھی۔ یقیناً بہت سے لوگوں نے اُن کا مذاق اُڑایا ہوگا اور اِس کام کو روکنے کی کوشش کی ہوگی۔ اِس کے علاوہ بُرے فرشتوں اور اُن کے ظالم بیٹوں نے بھی یقیناً اُنہیں ڈرایا دھمکایا اور بہت تنگ کِیا ہوگا۔ لیکن اِس سب کے باوجود نوح، اُن کی بیوی، اُن کے تینوں بیٹے اور تینوں بہوئیں یہوواہ کے فرمانبردار رہے۔ یہ آٹھ لوگ تقریباً 50 سال تک ہر روز کشتی بنانے میں مصروف رہے۔
اِس دوران نوح بس چپچاپ کشتی نہیں بناتے رہے۔ اُنہوں نے ایک اَور اہم کام بھی کِیا۔ بائبل میں اُنہیں”نیکی کی مُنادی“ کرنے والا کہا گیا ہے۔ گھر کے سربراہ کے طور پر اُنہوں نے اِس کام میں اپنے گھرانے کی پیشوائی کی اور لوگوں کو آنے والی تباہی کے بارے میں بتایا۔ لیکن کسی نے بھی اُن کی بات نہیں سنی۔ ایسا لگتا ہے کہ نوح کے بہت سے رشتےداروں نے بھی اُن کی بات پر دھیان نہیں دیا۔ لوگ بُرے کاموں کو چھوڑنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ لیکن نوح کا ایمان واقعی مثالی تھا۔ اُن میں اور اُن کے اِردگِرد رہنے والے لوگوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ بےشک ہم صاف طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ بائبل میں نوح کے بارے میں یہ کیوں کہا گیا ہے کہ ”ایمان کے ذریعے اُنہوں نے دُنیا کو قصوروار ٹھہرایا۔“
آخرکار نوح اور اُن کے گھر والوں نے کشتی بنا لی۔ اب اُنہیں اپنے لیے اور کشتی میں آنے والے سب جانوروں کے لیے کھانے پینے کی چیزیں اور کچھ اَور ضروری سامان جمع کرنا تھا۔ پھر بعد میں ایک بہت ہی حیران کر دینے والی بات ہوئی۔ ہر قسم کا جانور خودبخود کشتی میں جانے لگا۔ وہ ”دو دو یعنی نر اور مادہ کشتی میں نوح کے پاس گئے۔“
یہوواہ نے نوح سے کہا کہ وہ اور اُن کے گھر والے کشتی میں جانے کی تیاریاں کریں کیونکہ سات دن بعد بارش ہونا شروع ہو جائے گی۔ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ یہ سُن کر پورا گھرانہ کتنی جلدی جلدی وہ سب کام نمٹانے لگ گیا ہوگا جو باقی رہ گئے ہوں گے۔ یہ دیکھ کر تو شاید لوگ اُن کا اَور بھی زیادہ مذاق اُڑانے لگ گئے ہوں۔ لیکن جیسے ہی نوح اور اُن کے گھر والوں نے کشتی میں ضرورت کا سارا سامان رکھ لیا، یہوواہ نے کشتی کا دروازہ بند کر دیا۔ یہ دیکھ کر یقیناً لوگوں کے مُنہ بھی بند ہو گئے ہوں گے۔ پھر زوروں سے بارش ہونے لگی! اور 40 دنوں تک زمین پر پانی اِتنا چڑھتا گیا کہ اُونچے سے اُونچا پہاڑ بھی اِس میں ڈوب گیا۔ اِس طرح یہوواہ نے زمین پر بُرائی کا صفایا کِیا۔
نوح اور اُن کے گھر والے تقریباً ایک سال تک کشتی میں محفوظ رہے۔ اِس دوران زمین سے پانی آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا۔ آخرکار کشتی ایک پہاڑ پر ٹھہر گئی اور یہوواہ نے نوح کو اِس میں سے باہر آنے کو کہا۔ جب نوح اور اُن کے گھر والے کشتی سے باہر آئے تو اُنہوں نے یہوواہ کے لیے قربانی چڑھائی اور اُس کا شکرادا کِیا کہ وہ بچ گئے ہیں۔ یہوواہ نے وعدہ کِیا کہ وہ پھر کبھی زمین پر اِس طرح کا طوفان نہیں لائے گا۔ اُس نے بادلوں میں اپنی دھنک بھی رکھی جو اِس بات کی نشانی تھی کہ وہ اپنا یہ وعدہ ضرور نبھائے گا۔
آج زمین پر رہنے والا ہر شخص اِسی گھرانے کی اولاد میں سے ہے۔ ہم نوح اور اُن کے گھر والوں کے بہت احسانمند ہیں کہ اُنہوں نے دلیری سے کام لیا اور بُرے لوگوں سے الگ رہے۔
اِن آیتوں کو پڑھیں:
باتچیت کے لیے:
نوح نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. طوفان سے پہلے دُنیا کیسی تھی؟ (م02 1/3 ص. 5 پ. 3–ص. 6 پ. 4)
2. نوح کو کشتی بنانے کا حکم کب ملا؟ یہوواہ نے نوح کو کس وقت بتایا کہ طوفان ٹھیک کب آئے گا؟ (م12 1/4 ص. 26 پ. 5-8)
3. ہم اِس بات پر یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ طوفان واقعی آیا تھا؟ (پاک کلام سے جواب، مضمون نمبر 156 پ. 2-5، بکس) تصویر نمبر 1
Historic Collection/Alamy Stock Photo
تصویر نمبر 1: ہندوؤں کی ایک پُرانی کہانی میں ایک ایسے شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے جس نے ایک کشتی بنائی تھی اور اِس طرح وہ زمین پر آنے والے طوفان سے بچ گیا تھا۔ طوفان کے بعد اُس نے قربانی چڑھائی اور یوں اُس سے اِنسانوں کی تمام نسلیں آئیں۔
4. طوفان کے تقریباً 100 سال بعد کون سا واقعہ ہوا اور اِسے دیکھ کر نوح کو کیسا لگا ہوگا جو اُس وقت بہت بوڑھے ہو چُکے تھے؟ (آئیٹی ”نوح“ نمبر 1 پ. 12) تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
ہمارا زمانہ کس لحاظ سے نوح کے زمانے کی طرح ہے؟ (متی 24:36-39)
نوح کی مثال پر غور کرنے سے ہم اِن باتوں کی اہمیت کیسے سمجھ جاتے ہیں:
ہمیں منظم ہونا چاہیے؟ تصویر نمبر 3
تصویر نمبر 3
ہمیں محنتی ہونا چاہیے؟ تصویر نمبر 4
تصویر نمبر 4
ہمیں صبر سے کام لینا چاہیے؟ تصویر نمبر 5
تصویر نمبر 5
آپ اپنی زندگی میں نوح کی طرح دلیری کیسے دِکھا سکتے ہیں؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ نوح کو زندہ کرے گا تو مَیں نوح سے کیا پوچھوں گا؟
مزید جانیں
دیکھیں کہ گھر کے سربراہ نوح کی مثال پر عمل کرتے ہوئے محنت سے کام کیسے کر سکتے ہیں۔
اپنے بچوں کو سکھائیں کہ وہ نوح کی طرح کیسے بن سکتے ہیں۔
”نوح خدا پر ایمان رکھتے تھے“ (تصویری کہانیاں، کہانی نمبر 18)