سبق نمبر 39
اِسرائیل کا پہلا بادشاہ
یہوواہ نے بنیاِسرائیل کی رہنمائی کرنے کے لیے قاضی مقرر کیے تھے۔ لیکن بنیاِسرائیل کو اپنے لیے ایک بادشاہ چاہیے تھا۔ لوگوں نے سموئیل سے کہا: ”ہمارے آسپاس کی سب قوموں کے بادشاہ ہیں۔ ہمیں بھی ایک بادشاہ چاہیے۔“ سموئیل کو یہ صحیح نہیں لگا اِس لیے اُنہوں نے اِس بارے میں یہوواہ سے دُعا کی۔ یہوواہ نے سموئیل سے کہا: ”وہ تمہیں نہیں بلکہ مجھے ٹھکرا رہے ہیں۔ جا کر اُنہیں بتاؤ کہ جو شخص اُن کا بادشاہ ہوگا، وہ اُن سے بہت کچھ مانگے گا۔“ اِس کے بعد بھی لوگوں نے کہا: ”کوئی بات نہیں! ہمیں ایک بادشاہ چاہیے۔“
یہوواہ نے سموئیل سے کہا کہ ساؤل نام کا ایک شخص اِسرائیل کا پہلا بادشاہ ہوگا۔ جب ساؤل سموئیل سے ملنے رامہ گئے تو سموئیل نے اُن کے سر پر تیل ڈال کر اُنہیں بادشاہ کے طور پر مسح کِیا۔
بعد میں سموئیل نے بنیاِسرائیل کو جمع کِیا تاکہ وہ اُنہیں اُن کا پہلا بادشاہ دِکھا سکیں۔ لیکن ساؤل کسی کو نہیں ملے۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ وہ کہاں تھے؟ وہ سامان کے بیچ چھپے ہوئے تھے۔ جب بہت ڈھونڈنے کے بعد لوگوں کو ساؤل مل گئے تو وہ اُنہیں باہر لائے اور اُنہیں لوگوں کے بیچ میں کھڑا کر دیا۔ ساؤل سب لوگوں سے زیادہ لمبے تھے اور وہ بہت خوبصورت تھے۔ سموئیل نے کہا: ”اِس آدمی کو دیکھیں جسے یہوواہ نے چُنا ہے۔“ لوگوں نے زور سے بولا: ”بادشاہ زندہباد!“
شروع میں تو ساؤل نے سموئیل اور یہوواہ کی بات مانی۔ مگر پھر وہ بدل گئے۔ ذرا اِس کی ایک مثال پر غور کریں۔ ایک بار ساؤل قربانی چڑھانا چاہتے تھے۔ سموئیل نے اُن سے کہا کہ وہ اُن کا اِنتظار کریں۔ سموئیل کو آنے میں تھوڑی دیر ہو گئی۔ اِس لیے ساؤل نے خود ہی قربانی چڑھانے کا فیصلہ کِیا حالانکہ بادشاہوں کو قربانی چڑھانے کی اِجازت نہیں تھی۔ یہ دیکھ کر سموئیل نے کیا کہا؟ اُنہوں نے ساؤل سے کہا: ”آپ کو یہوواہ کا حکم نہیں توڑنا چاہیے تھا۔“ کیا ساؤل نے اپنی غلطی سے سبق سیکھا؟
بعد میں جب ساؤل عمالیقیوں سے لڑنے جا رہے تھے تو سموئیل نے اُن سے کہا کہ وہ اُن میں سے کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑیں۔ لیکن ساؤل نے عمالیقیوں کے بادشاہ اجاج کو نہیں مارا۔ یہوواہ نے سموئیل سے کہا: ”ساؤل نے مجھے چھوڑ دیا ہے اور وہ میری بات نہیں مانتا۔“ سموئیل کو یہ سُن کر بہت دُکھ ہوا اور اُنہوں نے ساؤل سے کہا: ”آپ نے یہوواہ کی بات ماننا چھوڑ دی ہے اِس لیے اب وہ کسی اَور کو بادشاہ بنائے گا۔“ جب سموئیل وہاں سے جانے کے لیے مُڑے تو ساؤل نے اُن کے چوغے کا دامن پکڑ لیا اور وہ پھٹ کر الگ ہو گیا۔ پھر سموئیل نے ساؤل سے کہا: ”یہوواہ نے آپ سے بادشاہت الگ کر دی ہے۔“ اب یہوواہ ایک ایسے شخص کو بادشاہ بنانے والا تھا جو اُس سے محبت کرے گا اور اُس کی بات مانے گا۔
”یہوواہ کا حکم ماننا قربانی پیش کرنے سے بہتر ہے۔“—1-سموئیل 15:22