یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • bfl سبق 24 ص.‏ 62-‏ص.‏ 63 پ.‏ 2
  • اُنہوں نے اپنا وعدہ توڑ دیا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اُنہوں نے اپنا وعدہ توڑ دیا
  • پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • ملتا جلتا مواد
  • سونے کا بُت
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • یہوواہ کی راہوں کو پہچانیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • جلتی ہوئی جھاڑی
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • کیا آپ کی آنکھیں یہوواہ کی طرف لگی ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
مزید
پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
bfl سبق 24 ص.‏ 62-‏ص.‏ 63 پ.‏ 2
بنی‌اِسرائیل سونے کے بچھڑے کے آس‌پاس گا رہے ہیں اور ناچ رہے ہیں۔‏

سبق نمبر 24

اُنہوں نے اپنا وعدہ توڑ دیا

یہوواہ نے موسیٰ سے کہا:‏ ”‏پہاڑ پر میرے پاس آؤ۔ مَیں اپنے قوانین پتھر کی تختیوں پر لکھ کر تمہیں دوں گا۔“‏ موسیٰ پہاڑ پر چڑھے اور 40 دن اور 40 رات وہیں رُکے۔ جب موسیٰ وہاں تھے تو یہوواہ نے پتھر کی دو تختیوں پر دس حکم لکھے اور وہ تختیاں موسیٰ کو دیں۔‏

موسیٰ پتھر کی تختیاں زمین پر پھینک رہے ہیں۔‏

جب کچھ وقت گزر گیا تو بنی‌اِسرائیل کو لگنے لگا کہ موسیٰ اُنہیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ اُنہوں نے ہارون سے کہا:‏ ”‏ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہماری رہنمائی کرے۔ ہمارے لیے ایک خدا بناؤ۔“‏ ہارون نے کہا:‏ ”‏اپنا سونا مجھے دو۔“‏ اُنہوں نے سونا پگھلا کر بچھڑے کا ایک بُت بنایا۔ لوگوں نے کہا:‏ ”‏یہ بچھڑا ہمارا خدا ہے جس نے ہمیں مصر سے نکالا۔“‏ وہ سونے کے بچھڑے کی عبادت کرنے لگے اور اُنہوں نے جشن منایا۔ کیا یہ غلط تھا؟ جی ہاں کیونکہ لوگوں نے صرف یہوواہ کی عبادت کرنے کا وعدہ کِیا تھا۔ لیکن اب وہ اِس وعدے کو توڑ رہے تھے۔‏

یہوواہ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اُس نے موسیٰ سے کہا:‏ ”‏لوگوں کے پاس نیچے جاؤ۔ وہ میری بات نہیں مان رہے اور جھوٹے خدا کی عبادت کر رہے ہیں۔“‏ موسیٰ وہ دو تختیاں لے کر پہاڑ سے نیچے گئے۔‏

جب موسیٰ اُس جگہ کے قریب پہنچے جہاں بنی‌اِسرائیل نے خیمے لگائے ہوئے تھے تو اُنہوں نے لوگوں کو گاتے ہوئے سنا۔ اُنہوں نے دیکھا کہ لوگ ناچ رہے ہیں اور اُس بچھڑے کے سامنے جھک رہے ہیں۔ موسیٰ کو بہت غصہ آیا۔ اُنہوں نے وہ دونوں تختیاں زمین پر پھینک دیں اور اُن کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ اُنہوں نے فوراً بچھڑے کے اُس بُت کو توڑ دیا اور ہارون سے پوچھا:‏ ”‏لوگوں نے آپ سے ایسا کیا کہا ہے کہ آپ نے اِتنا بُرا کام کِیا ہے؟“‏ ہارون نے کہا:‏ ”‏غصہ نہ ہوں۔ آپ کو پتہ ہے کہ یہ لوگ کیسے ہیں۔ اُن کو ایک خدا چاہیے تھا۔ اِس لیے مَیں نے اُن کا سونا لے کر آگ میں پھینکا اور اُس سے یہ بچھڑا بن گیا۔“‏ ہارون کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ موسیٰ دوبارہ پہاڑ پر گئے اور یہوواہ سے اِلتجا کی کہ وہ لوگوں کو معاف کر دے۔‏

یہوواہ نے اُن لوگوں کو معاف کر دیا جو اُس کی بات ماننا چاہتے تھے۔ اُس نے بنی‌اِسرائیل کی رہنمائی کرنے کے لیے موسیٰ کو چُنا تھا۔ اِس لیے یہ بہت ضروری تھا کہ بنی‌اِسرائیل موسیٰ کی بات مانیں۔‏

‏”‏جب آپ خدا کے سامنے کوئی منت مانو تو اُسے پورا کرنے میں دیر نہ لگاؤ کیونکہ وہ احمقوں سے خوش نہیں ہوتا۔ آپ جو منت مانو، اُسے پورا کرو۔“‏—‏واعظ 5:‏4

سوال:‏ جب موسیٰ پہاڑ پر تھے تو بنی‌اِسرائیل نے کیا کِیا؟ موسیٰ نے پہاڑ سے واپس آ کر کیا کِیا؟‏

خروج 24:‏12-‏18؛ 32:‏1-‏30

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں