کہانی نمبر ۳۶
سونے کا بُت
اوہو! ذرا دیکھیں تو تصویر میں کیا ہو رہا ہے۔ بنیاسرائیل بُت کی پوجا کر رہے ہیں۔ لیکن وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
یاد ہے کہ موسیٰ کوہِسینا پر گئے تھے۔ لوگ اُن کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن جب موسیٰ کافی دنوں تک نہیں آئے تو لوگوں نے کہا کہ ”پتہ نہیں موسیٰ کو کیا ہو گیا ہے۔ چلو، ہم اپنے لئے ایک خدا بناتے ہیں جو ہمیں ایک اچھے ملک میں لے جائے۔“
لوگوں نے یہ بات موسیٰ کے بھائی ہارون سے بھی کہی۔ ہارون نے لوگوں سے کہا: ”ٹھیک ہے، مجھے اپنیاپنی سونے کی بالیاں دو۔“ لوگوں نے اپنیاپنی بالیاں ہارون کو دیں۔ ہارون نے اِن کو پگھلایا اور سونے کا ایک بُت بنا دیا۔ اِس بُت کی شکل بچھڑے کی طرح تھی۔ لوگوں نے بُت کو دیکھ کر کہا کہ ”یہی وہ خدا ہے جو ہمیں مصر سے نکال لایا۔“ پھر لوگ بُت کی پوجا کرنے لگے اور اُس کے آگے ناچنے اور گانے لگے۔
جب یہوواہ خدا نے یہ دیکھا تو اُسے بہت غصہ آیا۔ اُس نے موسیٰ سے کہا کہ ”جلدی سے لوگوں کے پاس جاؤ۔ وہ بہت بُرا کام کر رہے ہیں۔ وہ میرے حکموں کو بھول گئے ہیں اور ایک بُت کی پوجا کر رہے ہیں۔“
موسیٰ جلدیجلدی پہاڑ سے اُترے۔ جب وہ لوگوں کے پاس پہنچے تو اُنہوں نے دیکھا کہ لوگ ایک بُت کی پوجا کر رہے ہیں اور اُس کے آگے ناچ رہے ہیں اور گا رہے ہیں۔ موسیٰ کو اِتنا غصہ آیا کہ اُنہوں نے پتھر کی اُن دو تختیوں کو زمین پر پھینک دیا جن پر دس حکم لکھے تھے۔ تختیاں ٹکڑےٹکڑے ہو گئیں۔ پھر موسیٰ نے سونے کے بُت کو پگھلا دیا اور اُس کے سونے کو پیس دیا۔
لوگوں نے بہت بُرا کام کِیا تھا۔ اِس لئے موسیٰ نے کچھ آدمیوں سے کہا کہ ”اپنیاپنی تلواریں لو۔ جنجن لوگوں نے بُت کی پوجا کی ہے، اُن سب کو مار ڈالو۔“ اُن آدمیوں نے ۳۰۰۰ لوگوں کو مار دیا۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں صرف اور صرف یہوواہ خدا کی عبادت کرنی چاہئے۔
خروج ۳۲:۱-۳۵۔