سبق نمبر 23
یہوواہ سے کِیا ہوا ایک وعدہ
مصر سے نکلنے کے تقریباً دو مہینے بعد بنیاِسرائیل کوہِسینا کے پاس پہنچے اور اُنہوں نے وہاں خیمے لگائے۔ یہوواہ نے موسیٰ کو اِس پہاڑ پر بُلایا۔ جب موسیٰ پہاڑ پر گئے تو یہوواہ نے اُن سے کہا: ”مَیں نے بنیاِسرائیل کو بچایا ہے۔ اگر وہ میری بات مانیں گے اور میرے حکموں پر عمل کریں گے تو وہ میری خاص قوم بن جائیں گے۔“ موسیٰ پہاڑ سے نیچے گئے اور اُنہوں نے لوگوں کو بتایا کہ یہوواہ نے کیا کہا ہے۔ اِس پر لوگوں نے کیا کہا؟ اُنہوں نے کہا: ”ہم وہ سب کریں گے جو یہوواہ کہے گا۔“
موسیٰ دوبارہ پہاڑ پر گئے۔ یہوواہ نے اُن سے کہا: ”مَیں تیسرے دن تُم سے بات کروں گا۔ لوگوں سے کہو کہ وہ کوہِسینا پر آنے کی کوشش نہ کریں۔“ موسیٰ نیچے گئے اور لوگوں سے کہا: ”یہوواہ کی بات سننے کو تیار ہو جاؤ۔“
تیسرے دن بنیاِسرائیل نے دیکھا کہ پہاڑ پر کالے بادل چھائے ہوئے ہیں اور بجلی چمک رہی ہے۔ اُنہوں نے بادل گرجنے کی اور ایک نرسنگے کی آواز بھی سنی۔ پھر یہوواہ آگ کی شکل میں پہاڑ پر اُترا۔ بنیاِسرائیل ڈر کے مارے کانپنے لگے۔ پہاڑ زور زور سے ہلنے لگا اور اُس پر دُھواں چھا گیا۔ نرسنگے کی آواز اَور تیز ہوتی گئی۔ پھر خدا نے کہا: ”مَیں یہوواہ ہوں۔ تُم میرے علاوہ کسی اَور خدا کی عبادت نہ کرنا۔“
موسیٰ واپس پہاڑ پر گئے۔ یہوواہ نے اُنہیں اِس حوالے سے قانون دیے کہ لوگوں کو کیسے اُس کی عبادت کرنی چاہیے اور کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ موسیٰ نے یہ قانون لکھ لیے اور بنیاِسرائیل کو پڑھ کر سنائے۔ بنیاِسرائیل نے یہوواہ سے یہ وعدہ کِیا: ”ہم وہ سب کریں گے جو یہوواہ کہے گا۔“ اُنہوں نے خدا سے وعدہ تو کر لیا لیکن کیا وہ اِس وعدے کو پورا کریں گے؟
”یہوواہ اپنے خدا سے اپنے سارے دل، اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھو۔“—متی 22:37