یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • bfl سبق 21 ص.‏ 54-‏ص.‏ 55 پ.‏ 2
  • دسویں آفت

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دسویں آفت
  • پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • ملتا جلتا مواد
  • موسیٰ اور فرعون کا سامنا
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • پہلی تین آفتیں
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • یہوواہ کون ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • بنی‌اسرائیل کی نجات
    خدا کا کلام—‏تمام انسانوں کے لئے ایک اہم پیغام
مزید
پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
bfl سبق 21 ص.‏ 54-‏ص.‏ 55 پ.‏ 2
بنی‌اِسرائیل میں سے ایک آدمی اپنے گھر کے دروازے کے اِردگِرد خون لگا رہا ہے۔‏

سبق نمبر 21

دسویں آفت

موسیٰ نے فِرعون سے وعدہ کِیا کہ وہ دوبارہ اُس کے سامنے نہیں آئیں گے۔ لیکن جانے سے پہلے اُنہوں نے فِرعون سے کہا:‏ ”‏آدھی رات کو مصر کے ہر گھرانے کا پہلا بچہ مارا جائے گا پھر چاہے وہ فِرعون کا بیٹا ہو یا کسی غلام کا۔“‏

یہوواہ نے بنی‌اِسرائیل سے کہا کہ وہ ایک خاص قسم کا کھانا کھائیں۔ اُس نے کہا:‏ ”‏ایک سال کے مینڈھے یا بکرے کو ذبح کرو اور اُس کا تھوڑا سا خون باہر کے دروازے کے اِردگِرد لگا دو۔ گوشت کو بھونو اور اِسے بے‌خمیری روٹی کے ساتھ کھاؤ۔ اپنے جُوتے پہن لو اور جانے کے لیے تیار رہو۔ آج رات مَیں تمہیں مصریوں سے آزادی دِلاؤں گا۔“‏ یہ سُن کر بنی‌اِسرائیل کتنے خوش ہوئے ہوں گے نا!‏

آدھی رات کو یہوواہ کا فرشتہ مصر کے ہر گھر میں گیا۔ جس گھر کے دروازے پر خون نہیں لگا ہوا تھا، اُس گھر کا پہلا بچہ مارا گیا۔ جس گھر کے دروازے پر خون لگا ہوا تھا، فرشتہ اُس گھر کے اُوپر سے گزر گیا۔ مصر کے ہر امیر اور غریب گھرانے نے اپنا بچہ کھو دیا۔ لیکن بنی‌اِسرائیل میں ایک بھی بچہ نہیں مرا۔‏

فِرعون کا بیٹا بھی مارا گیا۔ اب فِرعون بنی‌اِسرائیل کو بھیجنے کے لیے مان گیا۔ اُس نے فوراً موسیٰ اور ہارون سے کہا:‏ ”‏یہاں سے چلے جاؤ۔ جا کر اپنے خدا کی عبادت کرو۔ اپنے جانوروں کو لو اور یہاں سے جاؤ۔“‏

آسمان پر پورا چاند تھا۔ اِس چاند کی روشنی میں بنی‌اِسرائیل اپنے اپنے گھرانے اور قبیلے کے حساب سے مصر سے نکلے۔ اِن میں 6 لاکھ مرد اور بہت سی عورتیں اور بچے تھے۔ اُن کے ساتھ اَور بھی بہت سے لوگ گئے تاکہ وہ بھی یہوواہ کی عبادت کر سکیں۔ بنی‌اِسرائیل اب مصر کی غلامی سے آزاد تھے!‏

یہوواہ چاہتا تھا کہ بنی‌اِسرائیل یاد رکھیں کہ اُس نے اُنہیں کیسے بچایا تھا۔ اِس لیے اُس نے اُنہیں حکم دیا کہ وہ ہر سال ایک خاص دن منایا کریں۔ اِس دن بنی‌اِسرائیل وہی کھانا کھاتے تھے جو یہوواہ نے اُنہیں مصر سے نکلنے سے پہلے کھانے کو کہا تھا۔ اِس دن کو عیدِفسح کہا جاتا تھا۔‏

بنی‌اِسرائیل مصر سے نکل رہے ہیں۔‏

‏”‏مَیں نے تمہیں اِس وجہ سے زندہ رہنے دیا کہ تمہیں ایک مثال بنا کر اپنی طاقت ظاہر کروں اور پوری دُنیا میں اپنے نام کا چرچا کراؤں۔“‏—‏رومیوں 9:‏17

سوال:‏ دسویں آفت کون سی تھی؟ اِس آفت سے بچنے کے لیے بنی‌اِسرائیل کو کیا کرنا تھا؟‏

خروج 11:‏1–‏12:‏42؛ 13:‏3-‏10

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں