یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • پیغ حصہ 7 ص.‏ 10
  • بنی‌اسرائیل کی نجات

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بنی‌اسرائیل کی نجات
  • خدا کا کلام—‏تمام انسانوں کے لئے ایک اہم پیغام
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏’‏فِرعون کے پاس جائیں‘‏
    دلیری سے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں
  • یہوواہ کی راہوں کو پہچانیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • موسیٰ یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • موسیٰ اور فرعون کا سامنا
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
مزید
خدا کا کلام—‏تمام انسانوں کے لئے ایک اہم پیغام
پیغ حصہ 7 ص.‏ 10
موسیٰ کے ہاتھ میں پتھر کی دو لوحیں ہیں جن پر دس حکم لکھے ہیں۔‏

باب ۷

بنی‌اسرائیل کی نجات

خلاصہ:‏ یہوواہ خدا نے مصر پر دس آفتیں لائیں۔ بنی‌اسرائیل نے موسیٰ کی راہنمائی میں مصر چھوڑ دیا۔ خدا نے موسیٰ کے ذریعے بنی‌اسرائیل کو شریعت دی۔‏

بنی‌اسرائیل بہت سال تک مصر میں رہے۔ لیکن پھر ایک ظالم فرعون نے تخت سنبھالا۔ وہ یوسف کو نہیں جانتا تھا۔ جب فرعون نے دیکھا کہ بنی‌اسرائیل کی تعداد بڑھ رہی ہے تو وہ ڈر گیا۔ اس لئے اُس نے اُنہیں غلام بنا لیا اور حکم دیا کہ جب بھی کسی اسرائیلی کا بیٹا پیدا ہو اُسے دریائے‌نیل میں پھینک دیا جائے تاکہ وہ ڈوب مرے۔ لیکن ایک اسرائیلی ماں بہت دلیر تھی۔ اُس نے اپنے بیٹے کو ایک ٹوکرے میں ڈال دیا اور اُسے سرکنڈوں میں چھپا دیا۔ یہ بچہ فرعون کی بیٹی کو مل گیا اور اُس نے اِس کا نام موسیٰ رکھا۔ یوں موسیٰ نے فرعون کے گھرانے میں پرورش پائی۔‏

جب موسیٰ ۴۰ سال کا تھا تو اُس نے دیکھا کہ ایک مصری کسی اسرائیلی غلام پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ موسیٰ نے اِس غلام کی مدد کی جس کے نتیجے میں اُسے مصر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ وہ ایک دُوردراز ملک میں اسیری میں رہا۔ پھر جب موسیٰ ۸۰ سال کا تھا تو یہوواہ خدا نے اُسے حکم دیا کہ وہ مصر لوٹ جائے اور فرعون سے کہے کہ وہ بنی‌اسرائیل کو رِہا کر دے۔‏

لیکن فرعون نے موسیٰ کی بات سُن کر صاف انکار کر دیا۔ اِس لئے خدا نے مصر پر دس آفتیں بھیجیں۔ موسیٰ نے ہر آفت سے پہلے فرعون کو آگاہ کِیا کہ یہوواہ خدا کونسی آفت لانے والا ہے۔ اِس طرح فرعون کو بنی‌اسرائیل کو رِہا کرنے اور اِس آفت سے بچنے کا موقع ملا۔ لیکن فرعون ہٹ‌دھرم تھا۔ وہ یہوواہ خدا اور اُس کے خادم موسیٰ کو حقیر جانتا تھا۔ خدا نے موسیٰ کو بتایا کہ دسویں آفت میں تمام پہلوٹھوں کو مار ڈالا جائے گا۔ لیکن اِس کے ساتھ‌ساتھ اُس نے حکم کِیا کہ جو لوگ اِس آفت سے بچنا چاہتے ہیں اُنہیں ایک برّہ ذبح کرکے اِس کا خون اپنے دروازوں کی چوکھٹ پر لگانا ہوگا۔ پھر جب آفت آئی تو یہوواہ خدا کے فرشتے نے صرف اُن پہلوٹھوں کو مار ڈالا جن کے گھروں کی چوکھٹوں پر خون نہیں تھا۔ اِس واقعے کی یاد میں بنی‌اسرائیل ہر سال عیدِفسح منانے لگے۔‏

اپنے پہلوٹھے کی موت کے بعد فرعون نے بنی‌اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ مصر چھوڑ کر چلے جائیں۔ وہ فوراً روانہ ہو گئے۔ لیکن پھر فرعون اپنی فوج کے ساتھ اُن کا پیچھا کرنے لگا۔ چونکہ بنی‌اسرائیل بحرِقلزم کے ساحل پر تھے، اُنہیں ایسا لگا کہ فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ پھر یہوواہ خدا نے بحرِقلزم کے پانی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اِس طرح بنی‌اسرائیل کے لئے راستہ کُھل گیا اور وہ پانی کی دو دیواروں کے درمیان بحرِقلزم کو پار کر سکے۔ جب مصری فوج نے اُسی راستے کے ذریعے سمندر پار کرنے کی کوشش کی تو پانی اُن پر آ گِرا اور وہ سب ڈوب مرے۔‏

بعد میں بنی‌اسرائیل نے کوہِ‌سینا کے سامنے ڈیرا لگایا۔ وہاں یہوواہ خدا نے موسیٰ کے ذریعے اُن کے ساتھ عہد باندھا اور اُنہیں شریعت دی۔ اِس میں پائے جانے والے حکموں پر عمل کرنے سے بنی‌اسرائیل کو خدا کی راہنمائی اور اُس کا تحفظ حاصل ہوتا۔ یہوواہ خدا نے وعدہ کِیا کہ اگر بنی‌اسرائیل اُس کی حکمرانی کی حمایت کریں گے تو وہ اُنہیں برکت دے گا اور اُنہیں دوسروں کے لئے برکت کا باعث بنائے گا۔‏

البتہ بنی‌اسرائیل میں سے زیادہ‌تر نے خدا پر بھروسہ نہیں رکھا اور خدا کو ناراض کِیا۔ اِس لئے خدا نے اُنہیں ۴۰ سال تک بیابان میں پھرنے پر مجبور کِیا۔ موسیٰ نے یشوع کو بنی‌اسرائیل کے رہنما کے طور پر مقرر کِیا۔ اب بنی‌اسرائیل اُس ملک میں داخل ہونے کے لئے تیار تھے جس کا وعدہ یہوواہ خدا نے ابرہام سے کِیا تھا۔‏

​—‏اِن واقعات کا ذکر خروج‏،‏ احبار‏،‏ گنتی اور استثنا کی کتابوں کے علاوہ زبور ۱۳۶:‏۱۰-‏۱۵ اور اعمال ۷:‏۱۷-‏۳۶ میں بھی ہوا ہے۔‏

  • یہوواہ خدا نے موسیٰ کی تربیت کیسے کی تاکہ وہ بنی‌اسرائیل کو نجات دلا سکے؟‏

  • بنی‌اسرائیل عیدِفسح کیوں منانے لگے؟‏

  • یہوواہ خدا نے بنی‌اسرائیل کو کیسے آزادی دلائی؟‏

سب سے بڑا حکم

موسیٰ کی شریعت میں تقریباً ۶۰۰ حکم شامل تھے۔ اِن میں سے سب سے مشہور حکم خروج ۲۰:‏۱-‏۱۷ میں درج ہیں اور اِنہیں ”‏دس احکام“‏ کہا جاتا ہے۔ لیکن جب یسوع مسیح سے پوچھا گیا کہ خدا کی شریعت میں سب سے بڑا حکم کونسا ہے تو اُس نے اِس حکم کا ذکر کِیا:‏ ”‏تُو [‏یہوواہ]‏ اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ۔“‏—‏مرقس ۱۲:‏۲۸-‏۳۰؛‏ استثنا ۶:‏۵۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں