سبق نمبر 20
اگلی چھ آفتیں
موسیٰ اور ہارون فِرعون کے پاس خدا کا یہ پیغام سنانے گئے: ”اگر تُم نے میرے لوگوں کو نہیں جانے دیا تو مَیں پورے ملک میں بڑمکھیاں بھیجوں گا۔“ بہت ساری بڑمکھیاں سبھی امیر اور غریب مصریوں کے گھروں میں گُھس گئیں۔ پورے ملک میں بڑمکھیاں پھیل گئیں۔ لیکن جس علاقے میں بنیاِسرائیل رہتے تھے، وہاں بڑمکھیاں نہیں تھیں۔ اِس علاقے کا نام جشن تھا۔ تیسری آفت کے بعد ساری آفتیں صرف مصریوں پر آئیں۔ فِرعون نے موسیٰ اور ہارون سے یہ مِنت کی: ”یہوواہ سے درخواست کرو کہ وہ اِن بڑمکھیوں کو ختم کر دے۔ اِس کے بعد تُم لوگ جا سکتے ہو۔“ لیکن جب یہوواہ نے بڑمکھیوں کو ختم کر دیا تو فِرعون نے اپنا اِرادہ بدل لیا۔ کیا فِرعون کبھی یہ سمجھ پایا کہ اُسے خدا کی بات مان لینی چاہیے؟
یہوواہ نے کہا: ”اگر فِرعون میرے لوگوں کو نہیں جانے دے گا تو مصریوں کے جانور بیمار ہوں گے اور مر جائیں گے۔“ اگلے دن ایسا ہی ہوا۔ لیکن بنیاِسرائیل کے جانور نہیں مرے۔ فِرعون اب بھی اپنی ضد پر اَڑا رہا۔
پھر یہوواہ نے موسیٰ سے کہا کہ وہ فِرعون کے پاس جائیں اور ہوا میں راکھ اُڑائیں۔ وہ راکھ دُھول میں بدل گئی اور پورے مصر میں پھیل گئی۔ اِس دُھول کی وجہ سے سبھی مصریوں اور اُن کے جانوروں کے جسم پر پھوڑے نکل آئے جن کی وجہ سے اُنہیں بہت درد ہونے لگا۔ اِس سب کے بعد بھی فِرعون نے بنیاِسرائیل کو نہیں جانے دیا۔
یہوواہ نے دوبارہ سے موسیٰ کو فِرعون کے پاس بھیجا اور فِرعون کو یہ پیغام دینے کو کہا: ”اگر تُم نے اب بھی میرے لوگوں کو نہیں جانے دیا تو کل پورے ملک میں اَولے پڑیں گے۔“ اگلے دن یہوواہ نے آندھی کے ساتھ اَولے اور آگ برسائی۔ مصر میں ایسا طوفان پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ سارے درخت اور فصلیں تباہ ہو گئیں۔لیکن جشن کے علاقے میں کچھ نہیں ہوا۔ فِرعون نے موسیٰ اور ہارون سے یہ مِنت کی: ”یہوواہ سے درخواست کرو کہ وہ اِس طوفان کو روک دے۔ پھر تُم لوگ چلے جانا۔“ لیکن جیسے ہی اَولے اور بارش رُکی، فِرعون نے اپنا اِرادہ بدل لیا۔
موسیٰ نے فِرعون سے کہا: ”اب ٹڈیاں آئیں گی اور اُن پودوں کو کھا جائیں گی جو اَولوں سے بچ گئے تھے۔“ لاکھوں ٹڈیاں آئیں اور اُنہوں نے وہ سب کچھ کھا لیا جو کھیتوں میں اور درختوں پر بچا تھا۔ فِرعون نے موسیٰ اور ہارون سے یہ مِنت کی: ”یہوواہ سے درخواست کرو کہ وہ اِن ٹڈیوں کو ختم کر دے۔“یہوواہ نے اِن ٹڈیوں کو ختم کر دیا۔ لیکن پھر بھی فِرعون اپنی ضد پر اَڑا رہا۔
یہوواہ نے موسیٰ سے کہا: ”اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بڑھاؤ۔“ جیسے ہی موسیٰ نے ایسا کِیا، ہر طرف گہرا اندھیرا چھا گیا۔ تین دن تک مصریوں کو نا تو کوئی چیز دِکھائی دی اور نا ہی کوئی اِنسان۔ صرف بنیاِسرائیل کے گھروں میں ہی روشنی تھی۔
فِرعون نے موسیٰ سے کہا: ”تُم اور تمہارے لوگ جا سکتے ہو۔ بس اپنے جانوروں کو یہیں چھوڑ جانا۔“ موسیٰ نے فِرعون سے کہا: ”ہمیں اپنے جانوروں کو بھی ساتھ لے جانا ہوگا تاکہ ہم اپنے خدا کے سامنے قربانی چڑھا سکیں۔“ فِرعون کو بہت غصہ آیا۔ اُس نے چلّا کر کہا: ”میرے سامنے سے چلے جاؤ! اگر مَیں نے دوبارہ تمہیں دیکھا تو مَیں تمہیں مار ڈالوں گا!“
”تُم ایک بار پھر نیک شخص اور بُرے شخص میں، ہاں، خدا کی عبادت کرنے والے اور نہ کرنے والے میں فرق دیکھو گے۔“—ملاکی 3:18، ترجمہ نئی دُنیا۔