یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • پ‌ک ص.‏ 207-‏223
  • کچھ خاص نکات

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کچھ خاص نکات
  • پاک کلام کی تعلیم حاصل کریں
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوواہ کی بے‌مثال صفات کے لئے قدردانی کو بڑھائیں
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۶
  • مُنادی کے کام میں خدا کے کلام کو مؤثر طریقے سے اِستعمال کریں
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری 2015
  • مسیحا کے آنے کے بارے میں دانی‌ایل نبی کی پیشینگوئی
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
پاک کلام کی تعلیم حاصل کریں
پ‌ک ص.‏ 207-‏223

کچھ خاص نکات

1 یہوواہ

خدا کا نام یہوواہ ہے۔ یہوواہ کا مطلب ہے:‏ ”‏وہ بناتا ہے۔“‏ یہوواہ خدا لامحدود قدرت کا مالک ہے۔ اُس نے سب چیزیں بنائی ہیں۔ اُس کے پاس ہر وہ کام کرنے کی طاقت ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے۔‏

عبرانی زبان میں خدا کا نام چار حروف میں لکھا جاتا تھا۔ اُردو زبان میں یہ حروف اِس طرح لکھے جاتے ہیں:‏ ی-‏ہ-‏و-‏ہ۔ کتابِ‌مُقدس کے عبرانی صحیفوں میں خدا کا نام تقریباً 7000 مرتبہ آتا ہے۔ دُنیا بھر میں لوگ خدا کا نام فرق فرق طریقے سے بولتے ہیں اور اِس کا وہ تلفظ اِستعمال کرتے ہیں جو اُن کی زبان میں عام ہوتا ہے۔‏

◂ باب نمبر 1، پیراگراف نمبر 15

2 بائبل ”‏خدا کے اِلہام سے ہے“‏

بائبل خدا کی طرف سے ہے لیکن اُس نے اِسے اِنسانوں سے لکھوایا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک دادا اپنے پوتے سے خط لکھواتا ہے۔ خط لکھتا تو پوتا ہے لیکن اِس میں درج خیالات دادا کے ہوتے ہیں۔ اِسی طرح خدا نے پاک روح کے ذریعے اپنے بندوں سے اپنے خیالات لکھوائے‏۔ پاک روح نے فرق فرق طریقوں سے اُن کی رہنمائی کی، مثلاً اُنہیں رُویات یا خواب دِکھائے جنہیں اُنہوں نے لکھ لیا۔‏

◂ باب نمبر 2، پیراگراف نمبر 5

3 اصول

یہ بائبل کی ایسی تعلیمات ہیں جن سے کسی بنیادی سچائی کا پتہ چلتا ہے۔ مثال کے طور پر بائبل میں اصول ہے:‏ ”‏بُرے ساتھی اچھی عادتوں کو بگا‌ڑ دیتے ہیں۔“‏ اِس اصول سے یہ سچائی پتہ چلتی ہے کہ جن لوگوں سے ہم میل جول رکھتے ہیں، وہ ہم پر اچھا یا بُرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ (‏1-‏کُرنتھیوں 15:‏33‏)‏ اِس کے علاوہ بائبل کا اصول ہے:‏ ”‏اِنسان جو کچھ بوتا ہے، وہی کاٹتا ہے۔“‏ اِس اصول سے یہ سچائی واضح ہوتی ہے کہ ہمیں اپنے کاموں کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔—‏گلتیوں 6:‏7‏۔‏

◂ باب نمبر 2، پیراگراف نمبر 12

4 پیش‌گوئی

اِس کا مطلب ہے:‏ ”‏ایک ایسے واقعے کا اِعلان جسے مستقبل میں ہونا ہے۔“‏ پاک کلام میں لفظ ”‏پیش‌گوئی“‏ خدا کی طرف سے کسی پیغام، تعلیم، حکم یا فیصلے کی طرف اِشارہ کر سکتا ہے۔ پاک کلام کی بہت سی پیش‌گوئیاں پوری ہو چُکی ہیں۔‏

◂ باب نمبر 2، پیراگراف نمبر 13

5 مسیح کے بارے میں پیش‌گوئیاں

پاک کلام کی وہ ساری پیش‌گوئیاں یسوع کے سلسلے میں پوری ہوئیں جو مسیح کے بارے میں کی گئی تھیں۔ بکس ”‏مسیح کے بارے میں پیش‌گوئیاں‏“‏ کو دیکھیں۔‏

◂ باب نمبر 2، پیراگراف نمبر 17‏، فٹ‌نوٹ

مسیح کے بارے میں پیش‌گوئیاں

واقعہ

پیش‌گوئی

تکمیل

وہ یہوداہ کے قبیلے میں پیدا ہوا

پیدایش 49:‏10

لُوقا 3:‏23-‏33

وہ کنواری سے پیدا ہوا

یسعیاہ 7:‏14

متی 1:‏18-‏25

وہ بادشاہ داؤد کی نسل سے پیدا ہوا

یسعیاہ 9:‏7

متی 1:‏1،‏ 6-‏17

یہوواہ خدا نے یسوع کو اپنا بیٹا کہا

زبور 2:‏7

متی 3:‏17

بہت سے لوگوں نے یسوع کو مسیح نہیں مانا

یسعیاہ 53:‏1

یوحنا 12:‏37، 38

وہ گدھے پر سوار ہو کر یروشلیم میں داخل ہوا

زکریاہ 9:‏9

متی 21:‏1-‏9

اُس کے ایک قریبی دوست نے اُسے دھوکا دیا

زبور 41:‏9

یوحنا 13:‏18،‏ 21-‏30

اُسے چاندی کے 30 سکوں کے عوض دھوکا دیا گیا

زکریاہ 11:‏12

متی 26:‏14-‏16

جب اُس پر اِلزام لگائے گئے تو وہ چپ رہا

یسعیاہ 53:‏7

متی 27:‏11-‏14

اُس کے کپڑوں پر قُرعہ ڈالا گیا

زبور 22:‏18

متی 27:‏35

سُولی پر اُس کی بے‌عزتی کی گئی

زبور 22:‏7، 8

متی 27:‏39-‏43

اُس کی کوئی بھی ہڈی نہیں توڑی گئی

زبور 34:‏20

یوحنا 19:‏33،‏ 36

اُسے امیر لوگوں کے ساتھ دفن کِیا گیا

یسعیاہ 53:‏9

متی 27:‏57-‏60

اُسے زندہ کِیا گیا

زبور 16:‏10

اعمال 2:‏24،‏ 27

وہ زندہ ہونے کے بعد خدا کی دائیں طرف بیٹھ گیا

زبور 110:‏1

اعمال 7:‏55، 56

6 زمین کے سلسلے میں یہوواہ خدا کا مقصد

یہوواہ خدا نے زمین کو اِس لیے بنایا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ ساری زمین فردوس بن جائے اور اِس پر وہ اِنسان آباد ہوں جو اُس سے پیار کرتے ہیں۔ اُس کا یہ مقصد آج بھی نہیں بدلا۔ بہت جلد خدا بُرائی کو ختم کر دے گا اور اپنے بندوں کو ہمیشہ کی زندگی دے گا۔‏

◂ باب نمبر 3، پیراگراف نمبر 1

7 شیطان اِبلیس

شیطان وہ فرشتہ ہے جس نے خدا کے خلاف بغاوت شروع کی‏۔‏ شیطان کا مطلب ہے:‏ ”‏مخالف۔“‏ اُسے شیطان اِس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ یہوواہ خدا کا دُشمن ہے۔ اُسے اِبلیس بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے:‏ ”‏بدنام کرنے والا؛ جھوٹی باتیں پھیلانے والا۔“‏ اُسے یہ لقب اِس لیے دیا گیا ہے کیونکہ وہ خدا کے بارے میں جھوٹی باتیں پھیلاتا اور لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔‏

◂ باب نمبر 3، پیراگراف نمبر 4

8 فرشتے

یہوواہ خدا نے زمین کو بنانے سے بہت پہلے فرشتوں کو بنایا۔ فرشتوں کو آسمان پر رہنے کے لیے بنایا گیا۔ اُن کی تعداد لاکھوں لاکھ ہے۔ (‏دانی‌ایل 7:‏10‏)‏ فرشتوں کے ذاتی نام اور فرق فرق شخصیتیں ہیں۔ خدا کے وفادار فرشتوں نے بڑی خاکساری سے اِنسانوں کو اپنی عبادت کرنے سے منع کِیا۔ فرشتوں کے فرق فرق مرتبے اور ذمے‌داریاں ہیں۔ مثال کے طور پر وہ یہوواہ خدا کے تخت کے سامنے خدمت کرتے ہیں، اُس کے پیغام لوگوں تک پہنچاتے ہیں، زمین پر اُس کے بندوں کی حفاظت اور رہنمائی کرتے ہیں، اُس کی طرف سے سزا دیتے ہیں اور مُنادی کے کام میں مدد کرتے ہیں۔ (‏زبور 34:‏7؛‏ مکاشفہ 14:‏6؛‏ 22:‏8، 9‏)‏ مستقبل میں وہ ہرمجِدّون کی لڑائی میں یسوع مسیح کا ساتھ دیں گے۔—‏مکاشفہ 16:‏14،‏ 16؛‏ 19:‏14، 15‏۔‏

◂ باب نمبر 3، پیراگراف نمبر 5‏؛ باب نمبر 10، پیراگراف نمبر 1

9 گُناہ

اِس سے مُراد کوئی بھی ایسی سوچ یا کام ہے جو یہوواہ خدا کی مرضی کے خلاف ہو۔ گُناہ کی وجہ سے ہم خدا سے دُور ہو سکتے ہیں۔ اِس لیے اُس نے ایسے حکم اور اصول دیے ہیں جن پر عمل کر کے ہم جان بُوجھ کر گُناہ کرنے سے بچ سکتے ہیں۔ یہوواہ خدا نے سب کچھ بالکل بے‌عیب بنایا تھا۔ مگر آدم اور حوا نے اُس کی نافرمانی کر کے گُناہ کِیا اور عیب‌دار بن گئے۔ پھر وہ بوڑھے ہوئے اور مر گئے۔ ہمیں آدم سے گُناہ ورثے میں ملا ہے اِس لیے ہم بھی بوڑھے ہوتے اور مرتے ہیں۔‏

◂ باب نمبر 3، پیراگراف نمبر 7‏؛ باب نمبر 5، پیراگراف نمبر 3

10 ہرمجِدّون

یہ خدا کی جنگ ہے جس میں وہ شیطان کی دُنیا اور تمام بُرائی کو ختم کر دے گا۔‏

◂ باب نمبر 3، پیراگراف نمبر 13‏؛ باب نمبر 8، پیراگراف نمبر 18

11 خدا کی بادشاہت

یہ ایک ایسی حکومت ہے جو یہوواہ خدا نے آسمان پر قائم کی ہے۔ اِس بادشاہت کے بادشاہ یسوع مسیح ہیں۔ مستقبل میں یہوواہ خدا اِس بادشاہت کے ذریعے تمام بُرائی کو ختم کر دے گا۔ خدا کی بادشاہت ساری زمین پر حکمرانی کرے گی۔‏

◂ باب نمبر 3، پیراگراف نمبر 14

12 یسوع مسیح

یہوواہ خدا نے سب چیزوں کو بنانے سے پہلے یسوع مسیح کو بنایا۔ اُس نے اُنہیں زمین پر بھیجا تاکہ وہ سب اِنسانوں کے لیے اپنی جان قربان کریں۔ جب اُنہیں مار ڈالا گیا تو یہوواہ خدا نے اُنہیں زندہ کر دیا۔ اب وہ خدا کی بادشاہت کے بادشاہ کے طور پر آسمان سے حکمرانی کر رہے ہیں۔‏

◂ باب نمبر 4، پیراگراف نمبر 2

13 ستر ہفتوں کی پیش‌گوئی

بائبل میں بتایا گیا تھا کہ مسیح نے کب ظاہر ہونا تھا‏۔ ایسا اُس عرصے کے آخر میں ہوا جسے بائبل میں 69 ہفتے کہا گیا ہے۔ 69 ہفتے 455 قبل‌ازمسیح میں شروع ہوئے اور 29 عیسوی میں ختم ہوئے۔‏

ہم کیسے جانتے ہیں کہ 69 ہفتے 29 عیسوی میں ختم ہوئے؟ 69 ہفتے 455 قبل‌ازمسیح میں تب شروع ہوئے جب نحمیاہ نبی یروشلیم پہنچے اور شہر کو دوبارہ تعمیر کرنا شروع کِیا۔ (‏دانی‌ایل 9:‏25؛‏ نحمیاہ 2:‏1،‏ 5-‏8‏)‏ جیسے لفظ ”‏درجن“‏ سُن کر ہمارے ذہن میں 12 کا عدد آتا ہے ویسے ہی لفظ ”‏ہفتہ“‏ سُن کر ہمارے ذہن میں 7 کا عدد آتا ہے۔ بائبل کی کچھ آیتوں میں ’‏دن پیچھے ایک برس‘‏ کا اصول دیا گیا ہے۔ (‏گنتی 14:‏34؛ حِزقی‌ایل 4:‏6)‏ اِس اصول کے حساب سے 69 ہفتے سات دنوں کے نہیں بلکہ سات سالوں کے ہفتے ہیں۔ لہٰذا ہر ہفتے میں سات سال ہیں۔ اگر 69 کو 7 سے ضرب دی جائے تو 483 آتا ہے۔ لہٰذا 69 ہفتوں سے مُراد 483 سال ہیں۔ اگر ہم 455 قبل‌ازمسیح سے 483 سال آگے جائیں تو ہم 29 عیسوی پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وہ سال تھا جس میں یسوع نے بپتسمہ لیا اور مسیح کے طور پر ظاہر ہوئے۔—‏لُوقا 3:‏1، 2،‏ 21، 22‏۔‏

اِسی پیش‌گوئی میں ایک اَور ہفتے کا ذکر ہے جس سے مُراد سات اَور سال ہیں۔ اِن سالوں کے دوران 33 عیسوی میں مسیح کو مار ڈالا گیا اور 36 عیسوی میں خدا کی بادشاہت کی خوش‌خبری یہودیوں کے ساتھ ساتھ دوسری قوموں کو بھی سنائی جانے لگی۔—‏دانی‌ایل 9:‏24-‏27‏۔‏

◂ باب نمبر 4، پیراگراف نمبر 7

چارٹ:‏ دانی‌ایل کی کتاب کے باب نمبر 9 میں درج 70 ہفتوں کی پیش‌گوئی سے پتہ چلتا ہے کہ مسیح نے کب ظاہر ہونا تھا۔‏

14 تثلیث کا عقیدہ

بائبل کی تعلیم ہے کہ یہوواہ خدا خالق ہے اور اُس نے سب چیزیں بنانے سے پہلے یسوع مسیح کو بنایا۔ (‏کُلسّیوں 1:‏15، 16‏)‏ یسوع مسیح یہوواہ خدا کی طرح لامحدود قدرت کے مالک نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کِیا کہ وہ یہوواہ خدا کے برابر ہیں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏باپ مجھ سے بڑا ہے۔“‏ (‏یوحنا 14:‏28؛‏ 1-‏کُرنتھیوں 15:‏28‏)‏ لیکن کچھ مذاہب تثلیث کے عقیدے کی تعلیم دیتے ہیں۔ اِس عقیدے کے مطابق ایک خدا میں تین ہستیاں ہیں یعنی باپ، بیٹا اور روحُ‌القدس۔ لفظ ”‏تثلیث‏“‏ بائبل میں نہیں پایا جاتا۔ یہ عقیدہ بائبل کی تعلیم کے خلاف ہے۔‏

روحُ‌القدس یعنی پاک روح خدا کی باعمل قوت ہے۔ یہ ایک ایسی قوت ہے جو نظر نہیں آتی اور جسے کام میں لا کر خدا اپنی مرضی پوری کرتا ہے۔ یہ کوئی ہستی نہیں ہے۔ پاک کلام میں لکھا ہے کہ یسوع مسیح کے اِبتدائی پیروکار ”‏پاک روح سے معمور ہو گئے۔“‏ اِس میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہوواہ خدا نے کہا کہ ”‏مَیں اپنی روح ہر طرح کے لوگوں پر نازل کروں گا۔“‏—‏اعمال 2:‏1-‏4،‏ 17‏۔‏

◂ باب نمبر 4، پیراگراف نمبر 12‏؛ باب نمبر 15، پیراگراف نمبر 17

15 صلیب

سچے مسیحی خدا کی عبادت کرنے کے لیے صلیب کا اِستعمال کیوں نہیں کرتے؟‏

  1. صلیب بہت عرصے سے جھوٹے مذاہب میں اِستعمال کی جا رہی ہے۔ قدیم زمانے میں اِسے زمین کی پرستش اور ایسی رسموں میں اِستعمال کِیا جاتا تھا جن میں حرام‌کاری کی جاتی تھی۔ یسوع مسیح کی موت کے 300 سال بعد تک مسیحی خدا کی عبادت کرنے کے لیے صلیب اِستعمال نہیں کرتے تھے۔ لیکن پھر رومی شہنشاہ قسطنطین نے صلیب کو مسیحیت کی علامت قرار دیا۔ صلیب کو مسیحی مذہب کو مشہور کرنے کے لیے اِستعمال کِیا جاتا تھا۔ مگر صلیب کا یسوع مسیح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ‏”‏نیو کیتھولک اِنسائیکلوپیڈیا“‏ میں لکھا ہے:‏ ”‏صلیب کو مسیحیت سے پہلے بھی اِستعمال کِیا جاتا تھا اور بعد میں بھی غیرمسیحی لوگ اِسے اِستعمال کرتے تھے۔“‏

  2. یسوع مسیح نے صلیب پر اپنی جان نہیں دی‏۔ جن یونانی الفاظ کا ترجمہ ”‏صلیب“‏ کِیا جاتا ہے، اُن کا مطلب ”‏ایک سیدھی بَلّی،“‏ ”‏کھمبا“‏ یا ”‏درخت“‏ ہے۔ ایک کتاب میں بتایا گیا ہے:‏ ”‏[‏نئے عہدنامے میں]‏ یونانی زبان میں کوئی بھی ایسی آیت نہیں جس میں صلیب کی شکل میں جُڑے ہوئے لکڑی کے دو ٹکڑوں کا خیال پیش کِیا گیا ہو۔“‏ ‏(‏دی کمپینیئن بائبل)‏ لہٰذا یسوع مسیح نے ایک سیدھی بَلّی پر اپنی جان دی تھی۔‏

  3. یہوواہ خدا یہ نہیں چاہتا کہ ہم اُس کی عبادت کرنے کے لیے مجسّموں یا صلیب وغیرہ کو اِستعمال کریں۔—‏خروج 20:‏4، 5؛‏ 1-‏کُرنتھیوں 10:‏14‏۔‏

◂ باب نمبر 5، پیراگراف نمبر 12

16 یسوع مسیح کی موت کی یادگاری تقریب

یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اُن کی موت کی یادگاری تقریب منائیں‏۔ یسوع مسیح کے پیروکار ہر سال یہودی کیلنڈر کے مہینے نیسان کی 14 تاریخ کو یہ تقریب مناتے ہیں۔ یہ وہی تاریخ ہے جس پر بنی‌اِسرائیل عیدِفسح منایا کرتے تھے۔ اِس تقریب میں تمام حاضرین کے سامنے سے روٹی اور مے گزاری جاتی ہے۔ روٹی یسوع مسیح کے جسم کی طرف اِشارہ کرتی ہے اور مے اُن کے خون کی طرف۔ جو لوگ یسوع مسیح کے ساتھ آسمان سے حکمرانی کریں گے، وہ اِس روٹی اور مے میں سے کھاتے پیتے ہیں۔ جو لوگ زمین پر ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کی اُمید رکھتے ہیں، وہ اِس تقریب میں حاضر ہوتے ہیں لیکن روٹی اور مے میں سے نہیں کھاتے پیتے۔‏

◂ باب نمبر 5، پیراگراف نمبر 21

17 جان

کتابِ‌مُقدس کے ‏”‏ترجمہ نئی دُنیا“‏ میں لفظ ”‏جان“‏ (‏1)‏ لوگوں، (‏2)‏ جانوروں اور (‏3)‏ کسی شخص یا جانور کی زندگی کا مطلب رکھتا ہے۔ اِس کی کچھ مثالیں نیچے دی گئی ہیں۔‏

  • لوگ۔‏ ”‏نوح کے زمانے میں .‏ .‏ .‏ کچھ لوگ یعنی آٹھ جانیں پانی سے بچ گئیں۔“‏ (‏1-‏پطرس 3:‏20‏)‏ اِس آیت میں لفظ ”‏جانیں“‏ لوگوں کی طرف یعنی نوح، اُن کی بیوی، اُن کے تین بیٹوں اور اُن کے بیٹوں کی بیویوں کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔‏

  • جانور۔‏ ”‏خدا نے کہا کہ پانی جان‌داروں [‏عبرانی میں:‏ ”‏جانوں“‏]‏ کو کثرت سے پیدا کرے اور پرندے زمین کے اُوپر فضا میں اُڑیں۔ اور خدا نے کہا کہ زمین جان‌داروں [‏عبرانی میں:‏ ”‏جانوں“‏]‏ کو اُن کی جنس کے موافق چوپائے اور رینگنے والے جان‌دار اور جنگلی جانور اُن کی جنس کے موافق پیدا کرے اور ایسا ہی ہوا۔“‏—‏پیدایش 1:‏20،‏ 24‏۔‏

  • کسی شخص یا جانور کی زندگی۔‏ یہوواہ خدا نے موسیٰ نبی سے کہا:‏ ”‏وہ سب جو تیری جان کے خواہاں تھے مر گئے۔“‏ (‏خروج 4:‏19)‏ جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں اچھا چرواہا ہوں۔ اچھا چرواہا بھیڑوں کے لیے اپنی جان دے دیتا ہے۔“‏—‏یوحنا 10:‏11‏۔‏

    اِس کے علاوہ بائبل میں اِصطلا‌ح ”‏اپنی ساری جان سے“‏ کا مطلب ہے:‏ ”‏ایک کام کو پوری لگن اور جی جان سے کرنا۔“‏ (‏متی 22:‏37؛‏ اِستثنا 6:‏5)‏ بائبل میں ”‏جان“‏ کے لیے اِستعمال ہونے والے عبرانی لفظ کا ترجمہ ”‏لاش“‏ اور ”‏مُردہ‏“‏ بھی کِیا گیا ہے۔—‏گنتی 6:‏6؛ حجی 2:‏13۔‏

◂ باب نمبر 6، پیراگراف نمبر 5‏؛ باب نمبر 15، پیراگراف نمبر 17

18 روح

کتابِ‌مُقدس کے ‏”‏ترجمہ نئی دُنیا“‏ میں لفظ ”‏روح“‏ کے مختلف مطلب ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب مطلب ایک ایسی قوت کی طرف اِشارہ کرتے ہیں جسے اِنسان دیکھ نہیں سکتے جیسے کہ ہوا یا اِنسانوں اور جانوروں میں موجود دم۔ لفظ ”‏روح“‏ اَن‌دیکھی روحانی ہستیوں اور پاک روح یعنی خدا کی باعمل قوت کی طرف بھی اِشارہ کرتا ہے۔ بائبل میں لفظ ”‏روح“‏ کسی ایسی شے کے لیے اِستعمال نہیں ہوا جو اِنسان کے اندر رہتی ہے اور اُس کی موت کے بعد زندہ رہتی ہے۔—‏زبور 104:‏29؛‏ متی 12:‏43؛‏ لُوقا 11:‏13‏۔‏

◂ باب نمبر 6، پیراگراف نمبر 5‏؛ باب نمبر 15، پیراگراف نمبر 17

19 ہنوم کی وادی

ہنوم کی وادی (‏جسے بائبل کے کچھ ترجموں میں جہنم کہا گیا ہے)‏ یروشلیم کے قریب واقع تھی جس میں کچرا جلایا جاتا تھا۔ اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یسوع مسیح کے زمانے میں اِس وادی میں جانوروں اور اِنسانوں کو زندہ جلایا جاتا تھا۔ لہٰذا یہ کسی ایسی جگہ کی طرف اِشارہ نہیں کرتی جہاں پر مُردوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ سے اذیت دی جائے۔ جب یسوع مسیح نے یہ کہا کہ لوگوں کو ہنوم کی وادی میں ڈالا جائے گا تو اُن کا مطلب تھا کہ اُن لوگوں کو ہمیشہ کے لیے ہلاک کر دیا جائے گا۔—‏متی 5:‏22؛‏ 10:‏28‏۔‏

◂ باب نمبر 7، پیراگراف نمبر 20

20 دُعائے‌ربانی

اِس دُعا کے ذریعے یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو سکھایا کہ اُنہیں کیسے دُعا کرنی چاہیے۔ اِسے ”‏اَے ہمارے باپ“‏ والی دُعا بھی کہا جاتا ہے۔ یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو اِن باتوں کے بارے میں دُعا کرنا سکھایا:‏

  • ‏”‏تیرا نام پاک مانا جائے“‏

    ہم دُعا کرتے ہیں کہ یہوواہ خدا اپنے نام پر لگے تمام اِلزامات کو جھوٹا ثابت کرے تاکہ آسمان اور زمین پر ہر کوئی اُس کے نام کی بڑائی کرے۔‏

  • ‏”‏تیری بادشاہت آئے“‏

    ہم دُعا کرتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت شیطان کی دُنیا کو ختم کرے، پوری زمین پر حکمرانی کرے اور اِسے فردوس بنا دے۔‏

  • ‏’‏تیری مرضی زمین پر ہو‘‏

    ہم دُعا کرتے ہیں کہ زمین کے سلسلے میں خدا کا مقصد پورا ہو تاکہ اُس کے فرمانبردار اور بے‌عیب بندے فردوس میں ہمیشہ زندہ رہ سکیں جیسے کہ وہ شروع سے چاہتا تھا۔‏

◂ باب نمبر 8، پیراگراف نمبر 2

21 فدیہ

یہوواہ خدا نے فدیے کا بندوبست کِیا تاکہ اِنسانوں کو گُناہ اور موت کی قید سے چھٹکارا ملے۔ فدیہ وہ قیمت تھی جو اُس بے‌عیب زندگی کو حاصل کرنے کے لیے ضروری تھی جو آدم نے گنوا دی تھی۔ فدیہ اُس دُوری کو مٹانے کے لیے بھی ضروری تھا جو آدم کے گُناہ کی وجہ سے یہوواہ خدا اور اِنسانوں کے بیچ پیدا ہو گئی تھی۔ خدا نے یسوع مسیح کو زمین پر بھیجا تاکہ وہ تمام گُناہ‌گار اِنسانوں کے لیے اپنی جان قربان کریں۔ یسوع مسیح کی قربانی کی بدولت سب اِنسانوں کے پاس ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے اور گُناہ سے پاک ہونے کا موقع ہے۔‏

◂ باب نمبر 8، پیراگراف نمبر 21‏؛ باب نمبر 9، پیراگراف نمبر 13

22 سن 1914ء اہم کیوں ہے؟‏

دانی‌ایل کی کتاب کے چوتھے باب میں درج پیش‌گوئی کے مطابق خدا نے 1914ء میں اپنی بادشاہت قائم کی‏۔‏

پیش‌گوئی:‏ یہوواہ خدا نے بادشاہ نبوکدنضر کو خواب میں ایک بڑا درخت دِکھایا جسے کاٹ ڈالا گیا۔ پھر اُس درخت کی جڑوں کے کُندے پر لوہے اور تانبے کا ایک بندھن لگا دیا گیا تاکہ اِسے ”‏سات دَور“‏ یعنی سات وقتوں تک بڑھنے سے روکا جا سکے۔ اِس عرصے کے بعد اُس درخت نے دوبارہ سے بڑھنا تھا۔—‏دانی‌ایل 4:‏1،‏ 10-‏16‏۔‏

پیش‌گوئی کی وضاحت:‏ درخت خدا کی حکمرانی کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ یہوواہ خدا کئی سال تک یروشلیم میں بادشاہوں کو مقرر کرتا رہا تاکہ وہ بنی‌اِسرائیل پر حکمرانی کریں۔ (‏1-‏تواریخ 29:‏23‏)‏ لیکن اُن بادشاہوں نے یہوواہ خدا سے بے‌وفائی کی اور اُن کی حکمرانی ختم ہو گئی۔ 607 قبل‌ازمسیح میں یروشلیم کو تباہ کر دیا گیا۔ اُس وقت ”‏سات دَور“‏ کا عرصہ شروع ہوا۔ (‏2-‏سلاطین 25:‏1،‏ 8-‏10؛‏ حِزقی‌ایل 21:‏25-‏27)‏ جب یسوع مسیح نے کہا کہ ”‏یروشلیم کو اُس وقت تک قوموں کے پیروں تلے روندا جائے گا جب تک کہ قوموں کا مقررہ وقت پورا نہ ہو جائے“‏ تو وہ ”‏سات دَور“‏ کی بات کر رہے تھے۔ (‏لُوقا 21:‏24‏)‏ اِس کا مطلب ہے کہ ”‏سات دَور“‏ تب ختم نہیں ہوئے جب یسوع مسیح زمین پر تھے۔ یہوواہ خدا نے وعدہ کِیا تھا کہ ”‏سات دَور“‏ کے آخر پر وہ ایک بادشاہ کو مقرر کرے گا۔ اِس بادشاہ یعنی یسوع مسیح کی حکمرانی کے تحت خدا کے بندوں کو بہت سی برکتیں ملیں گی جن سے وہ ہمیشہ تک فائدہ اُٹھائیں گے۔—‏لُوقا 1:‏30-‏33‏۔‏

‏”‏سات دَور“‏ کتنے لمبے تھے؟‏ ”‏سات دَور“‏ یعنی سات وقت 2520 سال لمبے تھے۔ اگر ہم 607 قبل‌ازمسیح سے 2520 سال آگے جائیں تو ہم 1914ء پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وہ سال تھا جب یہوواہ خدا نے یسوع مسیح کو آسمان میں اپنی بادشاہت کا بادشاہ مقرر کِیا۔‏

ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ ”‏سات دَور“‏ 2520 سال کے برابر ہیں؟ پاک کلام کے مطابق ساڑھے تین دَور یا وقت 1260 دن کے برابر ہیں۔ (‏مکاشفہ 12:‏6،‏ 14‏)‏ اِس طرح ”‏سات دَور“‏ 2520 دنوں کے برابر ہوئے۔ چونکہ پاک کلام میں ’‏دن پیچھے ایک برس‘‏ کا اصول دیا گیا ہے اِس لیے 2520 دن 2520 سال کے برابر ہیں۔—‏گنتی 14:‏34؛ حِزقی‌ایل 4:‏6۔‏

◂ باب نمبر 8، پیراگراف نمبر 23

نبوکدنضر کے خواب سے متعلق واقعات اور تاریخوں کا چارٹ

23 مقرب فرشتہ میکائیل

اِصطلا‌ح ”‏مقرب فرشتہ“‏ کا مطلب ہے:‏ ”‏فرشتوں کا سردار۔“‏ پاک کلام میں صرف ایک مقرب فرشتے کا ذکر کِیا گیا ہے جس کا نام میکائیل ہے۔—‏دانی‌ایل 12:‏1؛‏ یہوداہ 9‏۔‏

میکائیل خدا کے وفادار فرشتوں کی فوج کا سربراہ ہے۔ مکاشفہ 12:‏7 میں لکھا ہے:‏ ’‏میکائیل اور اُن کے فرشتوں نے اژدہے اور اُس کے فرشتوں سے جنگ کی۔‘‏ مکاشفہ کی کتاب کے مطابق خدا کی فوج کے سربراہ یسوع مسیح ہیں۔ لہٰذا میکائیل یسوع مسیح کا ایک نام ہے۔—‏مکاشفہ 19:‏14-‏16‏۔‏

◂ باب نمبر 9، پیراگراف نمبر 4

24 آخری زمانہ

یہ وہ دَور ہے جس میں زمین پر اہم واقعات ہوں گے اور جس کے فوراً بعد خدا کی بادشاہت شیطان کی دُنیا کو ختم کر دے گی۔ بائبل میں آخری زمانے کو ’‏دُنیا کا آخری زمانہ‏‘‏ یا ”‏اِنسان کے بیٹے کی موجودگی“‏ کا زمانہ بھی کہا گیا ہے۔ (‏متی 24:‏3،‏ 27،‏ 37‏)‏ ”‏آخری زمانے“‏ کا آغاز 1914ء میں ہوا جب خدا کی بادشاہت نے آسمان میں حکمرانی شروع کی اور اِس کا اِختتام ہرمجِدّون کی جنگ پر ہوگا جب شیطان کی دُنیا کو ختم کر دیا جائے گا۔—‏2-‏تیمُتھیُس 3:‏1؛‏ 2-‏پطرس 3:‏3‏۔‏

◂ باب نمبر 9، پیراگراف نمبر 5

25 مُردوں کا زندہ ہونا

بائبل میں نو لوگوں کا ذکر ہے جنہیں زندہ کِیا گیا۔ یہوواہ خدا نے اِنہیں اپنی طاقت سے زندہ کِیا۔ اُس نے ایلیاہ نبی، اِلیشع نبی، یسوع مسیح، پطرس رسول اور پولُس رسول کے ذریعے مُردوں کو زندہ کِیا۔ خدا نے وعدہ کِیا ہے کہ وہ ”‏نیکوں اور بدوں“‏ کو زمین پر زندہ کرے گا۔ (‏اعمال 24:‏15‏)‏ بائبل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگوں کو آسمان پر زندہ کِیا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے پاک روح سے مسح کِیا ہے۔ اِنہیں آسمان پر یسوع مسیح کے ساتھ حکمرانی کرنے کے لیے زندہ کِیا جاتا ہے۔—‏یوحنا 5:‏28، 29؛‏ 11:‏25؛‏ فِلپّیوں 3:‏11؛‏ مکاشفہ 20:‏5، 6‏۔‏

◂ باب نمبر 9، پیراگراف نمبر 13

26 بُرے فرشتوں سے تعلق رکھنے والے کام

لوگ براہِ‌راست یا پھر جادوگروں یا عاملوں کے ذریعے بُرے فرشتوں یا بدروحوں سے رابطہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ یہ مانتے ہیں کہ اِنسان کے مرنے کے بعد اُس کی روح زندہ رہتی ہے۔ بُرے فرشتے اِنسانوں کو خدا کی نافرمانی کرنے پر اُکساتے ہیں۔ بُرے فرشتوں سے تعلق رکھنے والے کاموں میں ستاروں کی چال دیکھنا، غیب کا علم جاننا، مستقبل کا حال معلوم کرنا، جادوٹونا کرنا اور توہم‌پرستی وغیرہ شامل ہیں۔ بہت سی کتابوں، رسالوں، فلموں، اِشتہاروں یہاں تک کہ گانوں سے بھی یہ تاثر ملتا ہے کہ بُرے فرشتوں سے رابطہ کرنے یا جادوٹونا کرنے میں کوئی بُرائی نہیں ہے بلکہ اِس میں بڑا مزہ آتا ہے۔ اِس کے علاوہ کسی شخص کی موت کے بعد بہت سی ایسی رسمیں منائی جاتی ہیں جو بُرے فرشتوں سے تعلق رکھنے والے کاموں میں شامل ہیں، مثلاً مُردوں کے لیے نذرانے چڑھانا اور اُن کی برسی منانا وغیرہ۔ لوگ اکثر بُرے فرشتوں کی مدد حاصل کرتے وقت منشیات اِستعمال کرتے ہیں۔—‏گلتیوں 5:‏20، 21؛‏ مکاشفہ 21:‏8‏۔‏

◂ باب نمبر 10، پیراگراف نمبر 10‏؛ باب نمبر 16، پیراگراف نمبر 4

27 صرف یہوواہ خدا ہی حکمرانی کرنے کا حق رکھتا ہے

یہوواہ خدا لامحدود قدرت کا مالک ہے اور اُس نے پوری کائنات کو بنایا ہے۔ (‏مکاشفہ 15:‏3‏)‏ اِس لیے وہ سب چیزوں کا مالک ہے اور اپنی مخلوقات پر حکمرانی کرنے کا پورا اِختیار رکھتا ہے۔ (‏زبور 24:‏1؛‏ یسعیاہ 40:‏21-‏23؛‏ مکاشفہ 4:‏11‏)‏ اُس نے اُن تمام چیزوں کے سلسلے میں قوانین بنائے ہیں جنہیں اُس نے خلق کِیا ہے۔ یہوواہ خدا دوسروں کو حکمرانوں کے طور پر مقرر کرنے کا اِختیار بھی رکھتا ہے۔ خدا سے محبت کرنے اور اُس کی فرمانبرداری کرنے سے ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اُس کی حکمرانی کی حمایت کرتے ہیں۔—‏1-‏تواریخ 29:‏11‏۔‏

◂ باب نمبر 11، پیراگراف نمبر 10

28 حمل گِرانا

اِس کا مطلب ہے:‏ ”‏جان بُوجھ کر کچھ ایسا کرنا جس سے ماں کے پیٹ میں موجود بچہ مر جائے۔‏‏“‏ یہ کسی حادثے یا جسم کے فطری عمل کے نتیجے میں بچہ ضائع ہونے سے فرق ہے۔ حمل ٹھہرتے ہی بچہ صرف ماں کے جسم کا ایک حصہ نہیں ہوتا بلکہ ایک الگ زندگی ہوتا ہے۔‏

◂ باب نمبر 13، پیراگراف نمبر 5

29 خون لگوانا

یہ ایک ایسا طبی عمل ہے جس میں خون یا اِس کے چار بنیادی اجزا میں سے کوئی جُز کسی شخص کے جسم میں داخل کِیا جاتا ہے پھر چاہے یہ خون اور اِس کے اجزا ذخیرہ کیے ہوئے ہوں یا کسی شخص کے جسم سے نکال کر داخل کیے جائیں۔ خون کے چار بنیادی اجزا یہ ہیں:‏ پلازمہ، سُرخ خلیے، سفید خلیے اور پلیٹ‌لیٹس۔‏

◂ باب نمبر 13، پیراگراف نمبر 13

30 تربیت

پاک کلام میں جس لفظ کا ترجمہ ”‏تربیت“‏ کِیا گیا ہے، اُس کا مطلب صرف سزا دینا نہیں ہے۔ جب کسی شخص کی تربیت کی جاتی ہے تو اُسے ہدایت دی جاتی ہے، تعلیم دی جاتی ہے اور اُس کی اِصلاح کی جاتی ہے۔ یہوواہ خدا کبھی اُن لوگوں پر حد سے زیادہ سختی نہیں کرتا جن کی وہ تربیت کرتا ہے۔ (‏امثال 4:‏1، 2‏)‏ یہوواہ خدا نے تربیت کرنے کے سلسلے میں والدین کے لیے بہت اچھی مثال قائم کی ہے۔ اُس کی تربیت اِتنی مؤثر ہوتی ہے کہ ایک شخص تربیت سے محبت کرنے لگ سکتا ہے۔ (‏امثال 12:‏1‏)‏ یہوواہ خدا اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے اور اُن کی تربیت کرتا ہے۔ وہ اُنہیں ایسی ہدایات دیتا ہے جو غلط سوچ کو درست کرنے میں اُن کی مدد کرتی ہیں۔ اِن ہدایات کے ذریعے وہ ایسی سوچ اپنانے اور ایسے کام کرنے کے قابل بھی ہوتے ہیں جو یہوواہ خدا کو پسند ہیں۔ والدین کو بچوں کی تربیت کرتے وقت اُن کی یہ سمجھنے میں مدد کرنی چاہیے کہ اُنہیں فرمانبرداری کیوں کرنی چاہیے۔ اُنہیں بچوں کو یہ بھی سکھانا چاہیے کہ وہ یہوواہ خدا سے پیار کریں، اُس کے کلام کی قدر کریں اور اِس میں درج اصولوں کو سمجھیں۔‏

◂ باب نمبر 14، پیراگراف نمبر 13

31 بُرے فرشتے

یہ بُری روحانی مخلوقات ہیں جو بہت ہی طاقت‌ور ہیں اور نظر نہیں آتیں۔ اِنہیں شیاطین بھی کہا جاتا ہے۔ یہ فرشتے اُس وقت بُرے بن گئے جب اُنہوں نے خدا کی نافرمانی کی اور اُس کے دُشمن بن گئے۔ (‏پیدایش 6:‏2؛‏ یہوداہ 6‏)‏ اُنہوں نے یہوواہ خدا کے خلاف بغاوت میں شیطان کا ساتھ دیا۔—‏لُوقا 8:‏30؛‏ اعمال 16:‏16؛‏ یعقوب 2:‏19‏۔‏

◂ باب نمبر 16، پیراگراف نمبر 4

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں