خوشخبری سنانے کے طریقے
مسیحیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ”سب قوموں کو شاگرد بنائیں،“ لیکن اِسکا یہ مطلب نہیں کہ اُنہیں دباؤ کے تحت یا زبردستی دوسروں کے مذہب کو بدلنا ہے۔ یسوع کو ”حلیموں کو خوشخبری“ سنانے، ”شکستہ دلوں کو تسلی“ دینے، ”سب غمگینوں کو دلاسا“ دینے کی تفویض سونپی گئی تھی۔ (متی ۲۸:۱۹؛ یسعیاہ ۶۱:۱، ۲؛ لوقا ۴:۱۸، ۱۹) یہوواہ کے گواہ بائبل سے خوشخبری سنانے سے ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے نبی حزقیایل کی طرح، یہوواہ کے گواہ آجکل ان لوگوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ”ان سب نفرتی کاموں کے سبب سے جو . . . کئے جاتے ہیں آہیں مارتے اور روتے ہیں۔“—حزقیایل ۹:۴۔
وہ موجودہ حالتوں سے دِق لوگوں کو تلاش کرنے کیلئے گھرباگھر کی منادی کا آزمودہ طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ لوگوں تک پہنچنے کیلئے یسوع کی طرح حقیقی کوشش کرتے ہیں کیونکہ وہ بھی ”منادی کرتا اور خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سناتا ہوا شہر شہر اور گاؤں گاؤں“ گیا تھا۔ اس کے ابتدائی شاگردوں نے بھی ایسے ہی کِیا تھا۔ (لوقا ۸:۱؛ ۹:۱-۶؛ ۱۰:۱-۹) آجکل یہوواہ کے گواہ ممکنہ طور پر صاحبِخانہ کیساتھ دلچسپی یا پریشانی کے کسی مقامی یا عالمی موضوع پر چند لمحوں کیلئے باتچیت کرنے کے لئے ہر گھر پر ملاقات کرنے کی غرض سے سال میں متعدد بار کوشش کرتے ہیں۔ غوروخوض کے لئے ایک یا دو صحیفے پیش کئے جا سکتے ہیں اور اگر صاحبِخانہ دلچسپی دکھاتا ہے تو گواہ مزید باتچیت کے لئے کسی موزوں وقت پر دوبارہ آنے کا بندوبست بنایا جا سکتا ہے۔ بائبل اور بائبل کی وضاحت کرنے والا لٹریچر پیش کیا جاتا ہے اور اگر صاحبِخانہ چاہتا ہے تو بِلامعاوضہ ایک گھریلو بائبل مطالعہ کرایا جاتا ہے۔ لوگوں کی مدد کیلئے تمام دُنیا میں مختلف اشخاص اور خاندانوں کیساتھ ایسے ہزاروں بائبل مطالعے باقاعدگی سے کرائے جاتے ہیں۔
مقامی کنگڈم ہال میں منعقد کئے جانے والے اجلاس، دوسروں کو ”بادشاہی کی خوشخبری“ سنانے کا ایک اَور ذریعہ ہیں۔ گواہ وہاں پر ہفتہوار اجلاس منعقد کرتے ہیں۔ ایک اجلاس میں حالیہ دلچسپی کے کسی موضوع پر عوامی خطاب پیش کِیا جاتا ہے جسکے بعد مینارِنگہبانی رسالے سے مواد استعمال کرتے ہوئے، بائبل کے کسی موضوع یا پیشینگوئی کا مطالعہ کِیا جاتا ہے۔ ایک اَور اجلاس سکول کی صورت میں منعقد کِیا جاتا ہے جو گواہوں کو خوشخبری کے بہتر مناد بننے میں تربیت دیتا ہے جسکے بعد ایک حصہ مقامی علاقے میں گواہی دینے کے کام پر باتچیت کرنے کے لئے وقف کِیا جاتا ہے۔ اِسکے علاوہ گواہ چھوٹے چھوٹے گروپوں کی شکل میں بائبل مطالعوں کیلئے ہفتے میں ایک بار نجی گھروں میں جمع ہوتے ہیں۔
ان تمام اجلاسوں پر سب لوگ آ سکتے ہیں۔ کوئی چندے اکٹھے نہیں کئے جاتے۔ ایسے اجلاس سب کیلئے فائدہمند ہیں۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دینے کے لئے ایک دوسرے کا لحاظ رکھیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہونے سے باز نہ آئیں جیسا بعض لوگوں کا دستور ہے بلکہ ایک دوسرے کو نصیحت کریں اور جس قدر اس دن کو نزدیک ہوتے ہوئے دیکھتے ہو اُسی قدر زیادہ کِیا کرو۔“ ذاتی مطالعہ اور تحقیق ضروری چیزیں ہیں، تاہم دوسروں کے ساتھ جمع ہونے سے زیادہ جوشوجذبہ پیدا ہوتا ہے: ”جس طرح لوہا لوہے کو تیز کرتا ہے اُسی طرح آدمی کے دوست کے چہرہ کی آب اُسی سے ہے۔“—عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵؛ امثال ۲۷:۱۷۔
گواہ اپنی روزمرّہ زندگیوں میں دوسرے لوگوں کیساتھ میلجول کے دوران بھی خوشخبری کے متعلق باتچیت کرنے کے مواقع سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ یہ کسی پڑوسی کیساتھ مختصر سی باتچیت، بس یا جہاز میں ساتھی مسافر کیساتھ تبادلۂخیال، دوست یا رشتےدار کیساتھ ایک طویل گفتگو یا دوپہر کے کھانے کے وقفے کے دوران کسی ساتھی کارندے کیساتھ گفتوشنید ہو سکتی ہے۔ یسوع نے اپنی زمینی زندگی کے دوران بیشتر گواہی ساحلِسمندر پر چہلقدمی کرتے، پہاڑی ڈھلوان پر بیٹھے، کسی کے گھر پر کھانا کھاتے، شادی کی ضیافت پر یا گلیل کی جھیل میں مچھلیاں پکڑنے والی کشتی میں سفر کرتے وقت اِسی طرح دی تھی۔ اُس نے عبادتخانوں کے اندر اور یروشلیم میں ہیکل کے اندر تعلیم دی۔ وہ ہر جگہ خدا کی بادشاہت کے متعلق باتچیت کرنے کے مواقع کی تلاش میں رہا۔ یہوواہ کے گواہ اِس سلسلے میں بھی اُس کے نقشِقدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔—۱-پطرس ۲:۲۱۔
نمونے کے ذریعے منادی
اگر آپکو خوشخبری سنانے والا شخص خود اُن تعلیمات پر عمل نہیں کرتا تو آپ کیلئے خوشخبری سنانے کے اِن طریقوں میں سے کوئی بھی پُرمطلب نہیں ہوگا۔ قولوفعل میں تضاد ریاکاری ہے اور مذہبی ریاکاری کی وجہ سے لاکھوں لوگ بائبل سے منحرف ہو گئے ہیں۔ بائبل کو قصوروار ٹھہرانا درست نہیں ہے۔ فقیہوں اور فریسیوں کے پاس عبرانی صحائف تو تھے لیکن یسوع نے اُن کی ریاکاروں کے طور پر مذمت کی۔ اُس نے اُنکی بابت موسیٰ کی شریعت سے پڑھنے کا ذکر کرتے ہوئے اپنے شاگردوں سے کہا: ”پس جو کچھ وہ تمہیں بتائیں وہ سب کرو اور مانو لیکن اُنکے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔“ (متی ۲۳:۳) ایک مسیحی کا طرزِزندگی کئی گھنٹوں کے وعظ سے زیادہ بہتر ہے۔ اس بات کی اُن مسیحی بیویوں کے سامنے نشاندہی کی گئی تھی جنکے شوہر بےایمان تھے: ”تمہارے پاکیزہ چالچلن اور خوف کو دیکھ کر بغیر کلام کے اپنی اپنی بیوی کے چالچلن سے خدا کی طرف کھنچ جائیں۔“—۱-پطرس ۳:۱، ۲۔
اس لئے یہوواہ کے گواہ اپنے مسیحی چالچلن سے بھی خوشخبری کو دوسروں کے لئے قابلِقبول بنانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا وہ دوسروں کو مشورہ دیتے ہیں۔ وہ ’جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں تم بھی اُن کے ساتھ ویسا ہی کرو‘ کے سنہری اُصول کی پابندی کرنا چاہتے ہیں۔ (متی ۷:۱۲) وہ ساتھی گواہوں، دوستوں، پڑوسیوں اور رشتےداروں کے علاوہ سب آدمیوں کے ساتھ اِسی طریقے سے پیش آتے ہیں۔ تاہم، ناکاملیت کی وجہ سے وہ ہمیشہ ۱۰۰ فیصد کامیاب نہیں ہوتے۔ لیکن اُن کی دلی خواہش ہے کہ بادشاہت کی خوشخبری سنانے کے علاوہ ممکنہ طور پر عملی مدد دینے سے بھی سب لوگوں کے ساتھ نیکی کریں۔—یعقوب ۲:۱۴-۱۷۔
[صفحہ ۱۹ پر تصویر]
ہوائی
[صفحہ ۱۹ پر تصویر]
وینزویلا
[صفحہ ۱۹ پر تصویر]
یوگوسلاویہ
[صفحہ ۲۰ پر تصویریں]
کنگڈم ہال، تعمیری لحاظ سے بائبل مباحثوں کیلئے عملی جگہیں ہیں
[صفحہ ۲۱ پر تصویریں]
گواہ اپنی خاندانی زندگی میں اور دوسرے لوگوں کیساتھ ملاقاتوں میں بھی، خلوصدلی سے ایسے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں جنکی وہ تائید کرتے ہیں