آپکے علاقے کیلئے خوشخبری کی عملی قدروقیمت
آجکل کی دنیا میں ہم اس رائے کا اظہار اکثر سنتے ہیں: ”مسیحیت کے اصول عملی نہیں ہیں۔ وہ آجکل کے مخلوط معاشرے میں بالکل نہیں چلیں گے۔“ تاہم، انڈیا کے سابق برٹش وائسرائے، لارڈ آئرون اور ہندو رہنما موہنداس کے. گاندھی کے درمیان ہونے والی مبیّنہ گفتگو میں، ایک نہایت مختلف خیال کا اظہار کِیا گیا تھا۔ یہ بتایا گیا ہے کہ لارڈ آئرون نے گاندھی سے پوچھا تھا کہ اُس کے خیال میں برطانیہ کلاں اور انڈیا کے مابین مسائل کو کیسے حل کِیا جا سکتا ہے۔ گاندھی نے بائبل اُٹھائی اور اسے متی پانچ باب پر کھولا اور کہا: ”جب ہمارے ملک اِس پہاڑی وعظ میں مسیح کی وضعکردہ تعلیمات پر متفق ہو جائینگے تو ہم اپنے ملکوں کے علاوہ پوری دنیا کے مسائل حل کر لیں گے۔“
وہ وعظ روحانیت کے متلاشی، حلممزاج، امنپسند، رحمدل ہونے اور راستبازی سے محبت رکھنے والوں کی بابت بات کرتا ہے۔ یہ نہ صرف قتل کی بلکہ قہرآلودہ ہونے اور نہ صرف زناکاری کی بلکہ شہوتانگیز خیالات کی بھی مذمت کرتا ہے۔ یہ طلاق کی غیرذمہدارانہ کارروائیوں کے خلاف بھی بات کرتا ہے جو گھروں کو اُجاڑتی اور بچوں کو مشکلات کا نشانہ بناتی ہیں۔ یہ ہمیں بتاتا ہے: ’اُن سے بھی محبت رکھیں جو آپ کو ناپسند کرتے ہیں، حاجتمند کو دیں، بےرحمی کیساتھ دوسروں کے خلاف فیصلے نہ سنائیں، دوسروں کیساتھ اپنے جیسا سلوک کریں۔‘ اِس تمام نصیحت پر عمل کرنے سے شاندار فوائد حاصل ہونگے۔ آپکے علاقے کے جتنے زیادہ لوگ انہیں عمل میں لاتے ہیں، آپکا علاقہ اتنا ہی بہتر ہو جاتا ہے!
اِس سلسلے میں یہوواہ کے گواہ ایک اچھا اثر رکھتے ہیں۔ بائبل اُنہیں شادی کا احترام کرنا سکھاتی ہے۔ اُن کے بچوں کی صحیح اصولوں کے تحت تربیت کی گئی ہے۔ خاندان کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ متحد خاندان آپکے علاقے بلکہ پوری قوم کیلئے باعثِبرکت ہوتے ہیں۔ تاریخ خاندانی رشتوں کے کمزور پڑنے اور بداخلاقی کے بڑھ جانے کی صورت میں عالمی طاقتوں کے زوالپذیر ہونے کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ یہوواہ کے گواہ جتنے زیادہ لوگوں اور خاندانوں کو مسیحی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی طرف لے آتے ہیں آپ اپنے علاقے میں اتنا ہی کم جرم، بداخلاقی اور قانونشکنی پائینگے۔
ملکوں اور قوموں کیلئے پریشانکُن مسائل میں سے ایک نسلی تعصب ہے۔ تاہم، پطرس رسول نے کہا: ”اب مجھے پورا یقین ہو گیا کہ خدا کسی کا طرفدار نہیں۔ بلکہ ہر قوم میں جو اُس سے ڈرتا ہے اور راستبازی کرتا ہے وہ اُسکو پسند آتا ہے۔“ اِسکے علاوہ پولس نے بھی لکھا: ”نہ کوئی یہودی رہا نہ یونانی۔ نہ کوئی غلام نہ آزاد۔ نہ کوئی مرد نہ عورت کیونکہ تم سب مسیح یسوؔع میں ایک ہو۔“ (اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵؛ گلتیوں ۳:۲۸) یہوواہ کے گواہ اس بات کو سمجھتے ہیں۔ اُنکے عالمی ہیڈکوارٹرز، برانچ دفاتر اور کلیسیاؤں میں تمام نسلوں اور رنگوں کے لوگ مِلجل کر کام کرتے ہیں۔
افریقہ کے بعض قبائل لڑائیجھگڑے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ تاہم، وہاں پر یہوواہ کے گواہوں کی اسمبلیوں میں، کئی مختلف قبائل کے لوگ مکمل ہمآہنگی اور پُرتپاک رفاقت میں اکٹھے کھاتےپیتے، سوتے اور پرستش کرتے ہیں۔ سرکاری افسران دیکھکر حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔ اگست ۲، ۱۹۵۸ کے نیو یارک کے ایمسٹرڈیم نیوز نے سچی مسیحیت کے متحد کرنے والے اثر کی ایک مثال پر تبصرہ کِیا۔ مبصر کو مسبوقالذکر انٹرنیشنل اسمبلی پر حاضر ہونے کے بعد تحریک ملی تھی جہاں پر نیو یارک شہر میں ایک چوتھائی ملین سے زیادہ گواہ اکٹھے ہوئے تھے۔
”ہر جگہ سیاہفام، سفیدفام اور اہلِمشرق، ہر شعبہزندگی اور دُنیا کے ہر حصے کے لوگ آزادی اور خوشی سے آپس میں گھلمل رہے تھے۔ . . . ۱۲۰ ممالک سے پرستش کیلئے آنے والے گواہ پُرامن طریقے سے اکٹھے ملکر پرستش کرتے رہے ہیں جس سے وہ امریکی لوگوں پر ثابت کرتے ہیں کہ ایسا کرنا کتنا آسان ہے۔ . . . اسمبلی اِس بات کی ایک روشن مثال ہے کہ لوگ کیسے اکٹھے مِل کر کام کر سکتے ہیں۔“
بہتیرے شاید کہیں کہ مسیحیت کے اصول اس جدید دنیا کیلئے عملی نہیں ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اِسکے علاوہ اَور کیا چیز کارآمد رہی ہے یا رہیگی؟ اگر اَب مسیحی اصولوں کا اطلاق کِیا جائے تو یہ آپکے علاقے کیلئے واقعی مفید ہو سکتے ہیں اور نوعِانسان پر خدا کی بادشاہتی حکمرانی کے تحت پوری زمین پر تمام ’قوموں، قبیلوں اور اُمتوں‘ کے اتحاد کی بنیاد بنیں گے۔—مکاشفہ ۷:۹، ۱۰۔
[صفحہ ۲۳ پر عبارت]
تمام نسلوں اور رنگوںکے لوگ اکٹھے ملکر کام کرتے ہیں
[صفحہ ۲۴ پر عبارت]
مسیحیت عملی ہے۔اِسکے علاوہ اَور کیا چیزکارآمد رہی ہے؟