خوشخبری جو وہ آپکو سنانا چاہتے ہیں
جب یسوع زمین پر تھا تو اُسکے شاگردوں نے اُس کے پاس آ کر یہ سوال پوچھا تھا: ”تیرے آنے [”موجودگی،“ اینڈبلیو] اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“ اس نے جواب دیا تھا کہ قوموں میں جنگیں ہونگی، قحط پڑینگے، وبائیں نازل ہونگی، زلزلے آئینگے، لاقانونیت بڑھ جائیگی، جھوٹے مذہبی اُستاد لوگوں کو گمراہ کریں گے، اُسکے سچے پرستاروں سے عداوت رکھی جائیگی اور انہیں ستایا جائے گا اور راستبازی کیلئے بہتوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔ جب ایسی باتیں رونما ہونے لگیں تو اِس سے یہ ظاہر ہو جائیگا کہ مسیح روحانی طور پر موجود ہے اور آسمانی بادشاہت قریب ہے۔ یہ خبر—خوشی کی خبر ہوگی! اسلئے یسوع نے نشان میں ان الفاظ کا اضافہ کِیا: ”بادشاہی کی اِس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“—متی ۲۴:۳-۱۴۔
حالیہ دُنیاوی واقعات تو بُرے ہیں لیکن اِن سے ایک اچھی چیز یعنی مسیح کی روحانی موجودگی کا اشارہ ملتا ہے۔ مذکورہبالا حالتیں ۱۹۱۴ کے اہم سال میں ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھیں! اس نے غیرقوموں کی میعاد کے اختتام اور انسانی حکمرانی سے مسیح کی ہزارسالہ حکمرانی تک کے عبوری دَور کے آغاز کی نشاندہی کر دی۔
زبور ۱۱۰ کی ۱ اور ۲ آیات اور مکاشفہ ۱۲:۷-۱۲ میں اِس عبوری دَور کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اِن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح بادشاہ بننے تک آسمان میں خدا کے دہنے ہاتھ بیٹھے گا۔ اسکے بعد آسمان میں جنگ شیطان کے زمین پر پھینک دئے جانے اور زمین پر مصیبت لانے پر منتج ہوگی اور مسیح اپنے دشمنوں کے درمیان حکومت کریگا۔ شرارت کا مکمل خاتمہ ”بڑی مصیبت،“ کے ذریعے آئے گا جسکا عروج ہرمجدون کی لڑائی پر ہوتا ہے جسکے بعد مسیح کی ہزارسالہ پُرامن حکمرانی کا دَور شروع ہوتا ہے۔—متی ۲۴:۲۱، ۳۳، ۳۴؛ مکاشفہ ۱۶:۱۴-۱۶۔
”لیکن یہ جان رکھ،“ بائبل کہتی ہے، ”کہ اخیر زمانہ میں بُرے دن آئیں گے۔ کیونکہ آدمی خودغرض۔ زردوست۔ شیخیباز۔ مغرور۔ بدگو۔ ماںباپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بےضبط۔ تُندمزاج۔ نیکی کے دُشمن۔ دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عیشوعشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہونگے۔ وہ دینداری کی وضع تو رکھینگے مگر اُسکے اثر کو قبول نہ کرینگے ایسوں سے بھی کنارہ کرنا۔“—۲-تیمتھیس ۳:۱-۵۔
بعض شاید کہیں کہ ایسی باتیں انسانی تاریخ میں پہلے بھی واقعی ہوتی رہی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسی باتیں اس حد تک پہلے کبھی واقع نہیں ہوئیں۔ مؤرخین اور مبصرین کے مطابق زمین پر پہلے کبھی ایسا وقت نہیں آیا جس کا ۱۹۱۴ کے بعد سے تجربہ رہا ہے۔ (صفحہ ۷ دیکھیں۔) مصیبتیں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ علاوہازیں، جہاں تک آخری ایّام میں مسیح کے نشان کی دیگر خصوصیات کا تعلق ہے تو ان حقائق پر بھی غور کِیا جانا چاہئے: پوری زمین پر مسیح کی موجودگی اور بادشاہت کا باضابطہ اعلان تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ منادی کی وجہ سے یہوواہ کے گواہوں پر آنے والی اذیت کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اُن میں سے کئی ہزار یہوواہ کے گواہ نازی اجتماعی کیمپوں میں مارے گئے تھے۔ آج بھی بعض ملکوں میں یہوواہ کے گواہوں کے کام پر پابندی ہے اور دیگر ممالک میں انہیں گرفتار کرکے قید کِیا جاتا، اذیت پہنچائی جاتی اور قتل کِیا جاتا ہے۔ یہ سب یسوع کے نشان کا حصہ ہے۔
مکاشفہ ۱۱:۱۸ کی پیشینگوئی کے مطابق ’قوموں کو، یہوواہ کے وفادار گواہوں کے خلاف غصہ آ گیا ہے‘ جس سے اِس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ یہوواہ کا ”غضب“ ان قوموں کے خلاف بھڑکنے والا ہے۔ یہی صحیفہ بیان کرتا ہے کہ خدا ”زمین کے تباہ کرنے والوں کو تباہ“ کرے گا۔ انسانی تاریخ میں اس سے پہلے زمین پر زندگی کو ایسا خطرہ کبھی لاحق نہیں ہوا۔ تاہم، اب معاملہ مختلف ہے! بہت سے سائنسدان آگاہ کر چکے ہیں کہ اگر انسان زمین کو آلودہ کرتا رہا تو یہ آبادی کے قابل نہیں رہے گی۔ لیکن یہوواہ نے ”اس کو آبادی کے لئے آراستہ کِیا“ تھا اور وہ آلودہ کرنے والوں کو تباہ کر دے گا اس سے پیشتر کہ وہ زمین کو مکمل طور پر تباہ کر دیں۔—یسعیاہ ۴۵:۱۸۔
بادشاہت کے تحت زمینی برکات
بائبل پر ایمان رکھنے والے بہتیرے لوگوں کیلئے خدا کی بادشاہت کی رعایا کے طور پر لوگوں کے زمین پر رہنے کا خیال عجیب دکھائی دے سکتا ہے جنکا خیال ہے کہ تمام نیک لوگ آسمان پر جائینگے۔ بائبل ظاہر کرتی ہے صرف ایک محدود تعداد آسمان پر جائیگی اور ایک لاتعداد بڑی بِھیڑ ابد تک زمین پر رہیگی۔ (زبور ۳۷:۱۱، ۲۹؛ مکاشفہ ۷:۹؛ ۱۴:۱-۵) بائبل میں دانیایل کی کتاب کی پیشینگوئی سے ظاہر کِیا گیا ہے کہ مسیح کے تحت خدا کی بادشاہت زمین کو معمور کریگی اور اس پر حکمرانی کریگی۔
اِس میں مسیح کی بادشاہت کو یہوواہ کی پہاڑنما حاکمیت سے کاٹے ہوئے پتھر کے طور پر پیش کِیا گیا ہے۔ یہ زمین کی طاقتور قوموں کی نمائندگی کرنے والی مورت سے ٹکرا کر اسے پاش پاش کر دیتا ہے اور ”وہ پتھر جس نے اس مورت کو توڑا ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور تمام زمین پر پھیل گیا۔“ پیشینگوئی مزید بیان کرتی ہے: ”اُن بادشاہوں کے ایّام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کریگا جو تاابد نیست نہ ہوگی اور اُسکی حکومت کسی دوسری قوم کے حوالہ نہ کی جائیگی بلکہ وہ اِن تمام مملکتوں کو ٹکڑےٹکڑے اور نیست کریگی اور وہی ابد تک قائم رہیگی۔“—دانیایل ۲:۳۴، ۳۵، ۴۴۔
یہوواہ کے گواہ اِسی بادشاہت کے ذریعے پاکصاف اور خوبصورت بنائی گئی زمین پر ہمیشہ کی زندگی کی صحیفائی اُمید کی بابت آپ کو بتانا چاہتے ہیں۔ لاکھوں جو اَب زندہ ہیں اور قبروں میں پڑے ہوئے کروڑوں مُردہ لوگ زمین پر ابد تک زندہ رہنے کا موقع حاصل کریں گے۔ اسکے بعد، مسیح یسوع کی ہزارسالہ حکمرانی کے تحت، زمین کو خلق کرنے اور پہلے انسانی جوڑے کو اس پر رکھنے کے متعلق یہوواہ کا ابتدائی مقصد پورا ہو جائے گا۔ یہ زمینی فردوس کبھی اُکتانے والا نہیں ہوگا۔ جیسے آدم کو باغِعدن میں کام تفویض کِیا گیا تھا، اسی طرح نوعِانسان کے پاس زمین اور اس پر کی نباتاتی اور حیواناتی زندگی کی دیکھبھال کرنے کے لئے چیلنجخیز پروجیکٹ ہوں گے۔ وہ ”اپنے ہاتھوں کے کام سے مدتوں تک فائدہ اُٹھائیں گے۔“—یسعیاہ ۶۵:۲۲؛ پیدایش ۲:۱۵۔
جب یسوع کی سکھائی ہوئی دُعا، ”تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو،“ کا جواب مل جائے گا تو اُس وقت کی حالتوں کی نشاندہی کرنے کے لئے کئی صحیفے دکھائے جا سکتے ہیں۔ (متی ۶:۱۰) فیالحال یہ ایک ہی کافی ہے: ”پھر مَیں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سکونت کریگا اور وہ اُس کے لوگ ہونگے اور خدا آپ اُن کے ساتھ رہیگا اور اُن کا خدا ہوگا۔ اور وہ اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اِس کے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔ اور جو تخت پر بیٹھا ہوا تھا اُس نے کہا دیکھ مَیں سب چیزوں کو نیا بنا دیتا ہوں۔ پھر اُس نے کہا لکھ لے کیونکہ یہ باتیں سچ اور برحق ہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۳-۵۔
[صفحہ ۱۵ پر عبارت]
”دن بُرے ہیں،“
لیکن ”تب خاتمہ ہوگا“
[صفحہ ۱۸ پر تصویر]
نیدرلینڈز
[صفحہ ۱۸ پر تصویر]
نائیجیریا