سترھواں باب
آخری زمانے میں سچے پرستاروں کی شناخت
۱. دانیایل ۷ باب کے مطابق، ہمارے زمانے میں لوگوں کے ایک چھوٹے سے بےضرر گروہ نے کن غیرمعمولی تجربات کا سامنا کرنا تھا؟
لوگوں کا ایک چھوٹا سا بےضرر گروہ ایک زورآور عالمی طاقت کے کینہپرور حملے کا نشانہ بنتا ہے۔ تاہم، وہ اِس حملے سے بچ جانے کے علاوہ احیا بھی پاتے ہیں ایسا اُنکی اپنی قوت کی بجائے یہوواہ کی نظر میں اُنکی قدرومنزلت کی وجہ سے ہوا ہے۔ دانیایل ۷ باب میں ۲۰ ویں صدی کے اوائل میں رُونما ہونے والے واقعات کی بابت پہلے سے بتا دیا گیا تھا۔ تاہم، وہ لوگ کون تھے؟ دانیایل کے اِسی باب میں اُنہیں ”حقتعالیٰ کے مُقدس لوگ“ کہا گیا ہے۔ اِس میں یہ بھی آشکارا کِیا گیا کہ یہ لوگ بالآخر مسیحائی بادشاہت میں ساتھی حکمران ہونگے!—دانیایل ۷:۱۳، ۱۴، ۱۸، ۲۲،۲۱، ۲۵-۲۷۔
۲. (ا)یہوواہ اپنے ممسوح خادموں کی بابت کیسا محسوس کرتا ہے؟ (ب)اِس زمانے میں کونسی دانشمندانہ روش اختیار کی جانی چاہئے؟
۲ ہم دانیایل ۱۱ باب سے سیکھ چکے ہیں کہ شاہِشمال اِن وفادار لوگوں کی محفوظ سرزمین کیلئے خطرہ بننے کے بعد بالآخر اپنے خاتمے کو پہنچے گا۔ (دانیایل ۱۱:۴۵؛ مقابلہ کریں حزقیایل ۳۸:۱۸-۲۳۔) جیہاں، یہوواہ اپنے وفادار ممسوح اشخاص کی خوب حفاظت کرتا ہے۔ زبور ۱۰۵:۱۴، ۱۵ ہمیں بتاتی ہیں: ”اُنکی خاطر [یہوواہ نے] بادشاہوں کو دھمکایا اور کہا کہ میرے ممسوحوں کو ہاتھ نہ لگاؤ اور میرے نبیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچاؤ۔“ پس کیا آپ اس بات سے اتفاق نہیں کرینگے کہ اس پُرآشوب زمانے میں بڑھتی ہوئی ”بڑی بِھیڑ“ کے لئے اِن مُقدسوں کیساتھ زیادہ سے زیادہ قریبی رفاقت رکھنا دانشمندی ہوگی؟ (مکاشفہ ۷:۹؛ زکریاہ ۸:۲۳) یسوع مسیح نے اِن بھیڑخصلت لوگوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اُسکے ممسوح بھائیوں کیساتھ رفاقت رکھیں اور اُنکا ہاتھ بٹائیں۔—متی ۲۵:۳۱-۴۶؛ گلتیوں ۳:۲۹۔
۳. (ا)یسوع کے ممسوح پیروکاروں کو تلاش کرنا اور اُن کی رفاقت میں رہنا آسان کیوں نہیں ہے؟ (ب)دانیایل ۱۲ باب اِس سلسلے میں کیسے مفید ثابت ہوگا؟
۳ تاہم، خدا کا مخالف، شیطان اِن ممسوحوں کے خلاف سخت لڑائی لڑتا رہا ہے۔ اُس نے اِس دُنیا میں نقلی مسیحیوں کی بھرمار کرکے جھوٹے مذہب کو فروغ دیا ہے۔ نتیجتاً، بہت سے لوگ گمراہ ہو گئے ہیں۔ دیگر سچے مذہب پر چلنے والے لوگوں کی تلاش کرتے کرتے مایوس ہو جاتے ہیں۔ (متی ۷:۱۵، ۲۱-۲۳؛ مکاشفہ ۱۲:۹، ۱۷) ”چھوٹے گلّے“ کی تلاش میں کامیاب ہونے کے بعد اُن کے ساتھ رفاقت رکھنے والوں کو بھی ایمان پر قائم رہنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے کیونکہ یہ دُنیا ایمان کو کمزور کرنے کے درپے رہتی ہے۔ (لوقا ۱۲:۳۲) آپکی بابت کیا ہے؟ کیا آپ نے ”حقتعالیٰ کے مُقدسوں“ کو تلاش کر لیا ہے اور کیا آپ اُن کیساتھ رفاقت رکھتے ہیں؟ کیا آپ کے پاس اِس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ آپ نے جنہیں تلاش کِیا ہے وہ واقعی خدا کے برگزیدہ ہیں؟ ایسا ثبوت آپ کے ایمان کو تقویت دے سکتا ہے۔ اِس سے آپ دوسرے لوگوں کو بھی آجکل کی دُنیا میں پائی جانے والی مذہبی ابتری کی اصلیت کو جاننے میں مدد دینے کیلئے کمربستہ ہونگے۔ دانیایل ۱۲ باب میں ایسے زندگیبخش علم کا خزانہ موجود ہے۔
مقرب فرشتہ کارروائی کیلئے اُٹھتا ہے
۴. (ا)دانیایل ۱۲:۱ میکائیل کی بابت کونسی دو مختلف باتوں کی پیشینگوئی کرتی ہے؟ (ب)دانیایل کی کتاب میں اکثر ایک حاکم کے ”کھڑا“ ہونے سے کیا مُراد لی جاتی ہے؟
۴ دانیایل ۱۲:۱ بیان کرتی ہے: ”اُس وقت میکاؔئیل مقرب فرشتہ جو تیری قوم کے فرزندوں کی حمایت کے لئے کھڑا ہے اُٹھے گا۔“ یہ آیت میکائیل کے سلسلے میں دو مختلف باتوں کی پیشینگوئی کرتی ہے: پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ ”کھڑا ہے“ جس سے ایک خاص وقتی مدت تک قائم رہنے والے حالات کا اشارہ ملتا ہے؛ دوسری بات یہ ہے کہ وہ ”اُٹھے گا“ جو اسی وقتی مدت میں رُونما ہونے والے کسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پہلے، ہم اُس دَور کی بابت جاننا چاہتے ہیں جب سے میکائیل ”[دانیایل] کی قوم کے فرزندوں کی حمایت کے لئے کھڑا ہے۔“ یاد کریں کہ یسوع کو آسمانی حکمران کے کردار میں میکائیل کا نام دیا گیا ہے۔ اُس کے ”کھڑا“ ہونے کا حوالہ ہمیں دانیایل کی کتاب میں کسی اَور جگہ اِس اصطلاح کے استعمال کی یاددہانی کراتا ہے۔ یہ اکثر کسی بادشاہ کے شاہانہ اختیار حاصل کرکے کارروائی کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔—دانیایل ۱۱:۲-۴، ۷، ۲۰، ۲۱۔
۵، ۶. (ا)میکائیل کس وقتی مدت میں کھڑا ہے؟ (ب)میکائیل کب اور کیسے ’اُٹھتا‘ ہے اور اِسکا کیا نتیجہ ہوگا؟
۵ بدیہی طور پر، فرشتہ یہاں بائبل پیشینگوئی میں کسی اَور جگہ بیانکردہ مخصوص وقتی مدت کا حوالہ دے رہا تھا۔ یسوع نے اُسے اپنی موجودگی (یونانی، پروضیا) کا نام دیا تھا جب وہ آسمان پر بطور بادشاہ حکمرانی کرے گا۔ (متی ۲۴:۳۷-۳۹) اِس وقتی مدت کو ”اخیر زمانہ“ اور ”آخری زمانہ“ بھی کہا گیا ہے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱؛ دانیایل ۱۲:۴، ۹) سن ۱۹۱۴ میں اِس دَور کے شروع ہونے کے بعد سے، میکائیل بطور بادشاہ آسمان میں کھڑا ہے۔—مقابلہ کریں یسعیاہ ۱۱:۱۰؛ مکاشفہ ۱۲:۷-۹۔
۶ تاہم، میکائیل کب ’اُٹھتا‘ ہے؟ جب وہ ایک خاص کارروائی کا آغاز کرتا ہے۔ یہ کام یسوع مستقبل میں کریگا۔ مکاشفہ ۱۹:۱۱-۱۶ نبوّتی طور پر بیان کرتی ہیں کہ یسوع زورآور مسیحائی بادشاہ ہے جو گھوڑے پر سوار ہے اور دُشمنوں پر تباہی لانے کیلئے ملکوتی فوج کی قیادت کرتا ہے۔ دانیایل ۱۲:۱ مزید بیان کرتی ہے: ”وہ ایسی تکلیف کا وقت ہوگا کہ ابتدایِاقوام سے اُس وقت تک کبھی نہ ہوا ہوگا۔“ یہوواہ کی طرف سے عدالتی سزا کو عملیجامہ پہنانے والے اعلیٰ نمائندے کے طور پر، مسیح پیشینگوئی کے مطابق ”بڑی مصیبت“ کے دوران تمام شریر نظامالعمل کو ختم کر دیگا۔—متی ۲۴:۲۱؛ یرمیاہ ۲۵:۳۳؛ ۲-تھسلنیکیوں ۱:۶-۸؛ مکاشفہ ۷:۱۴؛ ۱۶:۱۴، ۱۶۔
۷. (ا)تمام ایماندار اشخاص آنے والے ’تکلیف کے وقت‘ کیلئے کیا اُمید رکھ سکتے ہیں؟ (ب)یہوواہ کی کتاب کیا ہے اور اُس میں نام کا اندراج کیوں ضروری ہے؟
۷ اِس تاریک دَور میں ایماندار لوگوں کی حالت کیسی ہوگی؟ دانیایل کو مزید بتایا گیا تھا: ”اُس وقت تیرے لوگوں میں سے ہر ایک جس کا نام کتاب میں لکھا ہوگا رہائی پائیگا۔“ (مقابلہ کریں لوقا ۲۱:۳۴-۳۶۔) یہ کتاب کونسی ہے؟ دراصل، یہ یہوواہ خدا کی مرضی پوری کرنے والے لوگوں کی بابت اُسکی یادداشت کی نمائندگی کرتی ہے۔ (ملاکی ۳:۱۶؛ عبرانیوں ۶:۱۰) جن لوگوں کے نام اِس کتابِحیات میں درج ہیں وہ اِس دُنیا کے سب سے محفوظ لوگ ہیں کیونکہ اُنہیں الہٰی تحفظ حاصل ہے۔ اُنہیں کبھی بھی ناقابلِتلافی نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ اگر اُنہیں ”تکلیف کا وقت“ آنے سے پہلے موت بھی آ جائے تو وہ یہوواہ کی لامحدود یادداشت میں محفوظ رہتے ہیں۔ وہ اُنہیں یاد رکھیگا اور یسوع مسیح کی ہزارسالہ حکمرانی کے دوران اُنہیں قیامت عطا کریگا۔—اعمال ۲۴:۱۵؛ مکاشفہ ۲۰:۴-۶۔
مُقدس لوگ ”جاگ اُٹھینگے“
۸. دانیایل ۱۲:۲ کس خوشکُن امکان کی بابت بیان کرتی ہے؟
۸ اُمیدِقیامت واقعی تسلیبخش ہے۔ دانیایل ۱۲:۲ اِن الفاظ میں اِس پر روشنی ڈالتی ہے: ”جو خاک میں سو رہے ہیں اُن میں سے بہتیرے جاگ اُٹھینگے۔ بعض حیاتِابدی کیلئے اور بعض رسوائی اور ذلتِابدی کیلئے۔“ (مقابلہ کریں یسعیاہ ۲۶:۱۹۔) یہ الفاظ ہمیں عام قیامت کی بابت یسوع مسیح کے اثرآفرین وعدے کی یاد دلا سکتے ہیں۔ (یوحنا ۵:۲۸، ۲۹) کیا ہی ہیجانخیز اُمید! ذرا اپنے مُتوَفّی دوستوں یا خاندان کے افراد کی بابت سوچیں جنہیں مستقبل میں دوبارہ زندگی بخشی جائیگی! لیکن دانیایل کی کتاب میں یہ وعدہ بنیادی طور پر ایک ایسی قیامت کا حوالہ دیتا ہے جو پہلے ہی واقع ہو چکی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟
۹. (ا)آخری ایّام میں دانیایل ۱۲:۲ کی تکمیل کی توقع کرنا کیوں معقول ہے؟ (ب)پیشینگوئی کس قسم کی قیامت کا حوالہ دیتی ہے اور ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟
۹ سیاقوسباق پر غور کریں۔ جیساکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ۱۲ باب کی پہلی آیت کا اطلاق اِس نظامالعمل کے خاتمے کے علاوہ آخری ایّام کی تمام مدت پر بھی ہوتا ہے۔ درحقیقت، اِس باب کے بیشتر حصے کی تکمیل آنے والے زمینی فردوس کی بجائے آخری زمانے کے دوران ہوتی ہے۔ کیا اِس دَور میں کوئی قیامت واقع ہوئی ہے؟ پولس رسول نے ’مسیح کے لوگوں‘ کی قیامت کی بابت لکھا جو ”اُس کی موجودگی کے دوران“ واقع ہوتی ہے۔ تاہم، آسمانی قیامت پانے والے ”غیرفانی حالت میں“ اُٹھتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۲۳ اینڈبلیو، ۵۲) اُن میں سے کسی کو بھی دانیایل ۱۲:۲ میں بیانکردہ ”رسوائی اور ذلتِابدی کے لئے“ زندہ نہیں کِیا گیا۔ کیا کسی اَور طرح کی قیامت بھی ہے؟ بائبل میں، قیامت بعضاوقات روحانی مفہوم بھی پیش کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، حزقیایل اور مکاشفہ کی کتابوں میں ایسے اقتباسات پائے جاتے ہیں جن کا اطلاق روحانی احیا یا قیامت پر ہوتا ہے۔—حزقیایل ۳۷:۱-۱۴؛ مکاشفہ ۱۱:۳، ۷، ۱۱۔
۱۰. (ا)کس مفہوم میں ممسوح بقیے نے آخری زمانہ میں قیامت پائی تھی؟ (ب)تاہم، ممسوح اشخاص میں سے احیا پانے والے بعض ”رسوائی اور ذلتِابدی کے لئے“ کیسے جاگ اُٹھے تھے؟
۱۰ کیا آخری زمانے میں خدا کے ممسوح خادموں نے ایسی روحانی احیا پائی ہے؟ جیہاں! یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ۱۹۱۸ میں وفادار مسیحیوں کے چھوٹے سے بقیے پر ایک غیرمعمولی حملے کی وجہ سے اُنکی منظم خدمتگزاری درہمبرہم ہو گئی تھی۔ اِسکے بعد، ۱۹۱۹ میں وہ خلافِتوقع روحانی مفہوم میں دوبارہ زندہ ہو گئے۔ یہ حقائق دانیایل ۱۲:۲ میں بیانکردہ قیامت کی وضاحت پر پورے اُترتے ہیں۔ بعض اُس وقت اور اُسکے بعد واقعی روحانی طور پر ’جاگ اُٹھے‘ تھے۔ تاہم، افسوس کی بات ہے کہ سب روحانی طور پر زندہ نہ رہے۔ جن لوگوں نے جاگ اُٹھنے کے بعد مسیحائی بادشاہ اور خدا کی خدمت کو مسترد کر دیا وہ دانیایل ۱۲:۲ میں بیانکردہ ”رسوائی اور ذلتِابدی“ کے سزاوار ٹھہرے۔ (عبرانیوں ۶:۴-۶) تاہم، وفادار ممسوح اشخاص نے روحانی احیا سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے وفاداری کے ساتھ مسیحائی بادشاہ کی حمایت کی۔ انجامکار، پیشینگوئی کے مطابق اُن کی وفاداری ”حیاتِابدی“ پر منتج ہوتی ہے۔ آجکل، مخالفت کے باوجود اُنکا روحانی جوشوجذبہ اُنکی شناخت کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔
وہ ’ستاروں کی مانند چمکتے ہیں‘
۱۱. آجکل ”اہلِدانش“ کون ہیں اور وہ کس مفہوم میں ستاروں کی مانند چمکتے ہیں؟
۱۱ دانیایل ۱۲ باب کی اگلی دو آیات ”حقتعالیٰ کے مُقدسوں“ کی شناخت کرنے میں ہماری مزید مدد کرتی ہیں۔ فرشتہ ۳ آیت میں دانیایل کو بتاتا ہے: ”اہلِدانش نُورِفلک کی مانند چمکیں گے اور جنکی کوشش سے بہتیرے صادق ہو گئے ستاروں کی مانند ابدالآباد تک روشن ہونگے۔“ آجکل ”اہلِدانش“ کون ہیں؟ حقائق ایک مرتبہ پھر ”حقتعالیٰ کے مُقدسوں“ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بہرحال، وفادار ممسوح بقیے کے علاوہ کون یہ سمجھ پایا ہے کہ میکائیل، مقرب فرشتہ بادشاہ کے طور پر ۱۹۱۴ سے کھڑا ہے؟ ایسی سچائیوں کی منادی کرنے اور اپنے مسیحی چالچلن کو برقرار رکھنے سے وہ روحانی طور پر تاریک دُنیا میں ”چراغوں کی طرح دکھائی دیتے“ ہیں۔ (فلپیوں ۲:۱۵؛ یوحنا ۸:۱۲) اُن کی بابت یسوع نے پیشینگوئی کی: ”اُس وقت راستباز اپنے باپ کی بادشاہی میں آفتاب کی مانند چمکیں گے۔“—متی ۱۳:۴۳۔
۱۲. (ا)آخری زمانے میں ممسوح کیسے ’بہتیروں کو صادق بنانے‘ میں مصروف رہے ہیں؟ (ب)ممسوح اشخاص مسیح کی ہزارسالہ حکمرانی کے دوران کیسے بہتیروں کو صادق بنائینگے اور ’ستاروں کی مانند چمکیں گے؟‘
۱۲ دانیایل ۱۲:۳ تو ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ ممسوح مسیحی آخری زمانے میں کیا کام انجام دیں گے۔ اُن کی ”کوشش سے بہتیرے صادق“ بن جائیں گے۔ ممسوح بقیے نے پہلے مسیح کے ہممیراث ۱،۴۴،۰۰۰ کے باقی لوگوں کو جمع کرنا شروع کِیا۔ (رومیوں ۸:۱۶، ۱۷؛ مکاشفہ ۷:۳، ۴) بدیہی طور پر، ۱۹۳۰ کے دہے کے وسط میں جب یہ کام مکمل ہو گیا تو اُنہوں نے ”دوسری بھیڑوں“ کی ”بڑی بِھیڑ“ کو جمع کرنا شروع کر دیا۔ (مکاشفہ ۷:۹؛ یوحنا ۱۰:۱۶ اینڈبلیو) یہ بھی یسوع مسیح کے فدیے کی قربانی پر ایمان رکھتے ہیں۔ اِس طرح اُنہیں یہوواہ کے حضور پاک حیثیت حاصل ہے۔ آجکل اُن کی تعداد لاکھوں میں ہے اور وہ اِس شریر دُنیا کی آنے والی تباہی سے بچنے کی اُمید رکھتے ہیں۔ مسیح کی ہزارسالہ حکمرانی کے دوران یسوع اور اُس کے ۱،۴۴،۰۰۰ ساتھی بادشاہ اور کاہن زمین پر فرمانبردار نوعِانسان کو فدیے کا پورا فائدہ پہنچاتے ہوئے تمام ایماندار اشخاص کو آدم سے ملنے والی گناہ کی میراث کے تمام اثرات سے پاک کر دیں گے۔ (۲-پطرس ۳:۱۳؛ مکاشفہ ۷:۱۳، ۱۴؛ ۲۰:۵، ۶) اُس وقت ممسوح مکمل طور پر ’بہتیروں کو صادق بنانے‘ میں حصہ لیں گے اور آسمان پر ’ستاروں کی مانند چمکیں‘ گے۔ کیا آپ مسیح اور اُس کے ساتھی حکمرانوں کی عظیماُلشان آسمانی حکومت کے تحت زمین پر زندہ رہنے کی اُمید کی قدر کرتے ہیں؟ خدا کی بادشاہت کی اِس خوشخبری کی منادی میں ”مُقدسوں“ کیساتھ حصہ لینا کتنا بڑا شرف ہے!—متی ۲۴:۱۴۔
اُنکا ”تفتیشوتحقیق“ کرنا
۱۳. دانیایل کی کتاب کو کس مفہوم میں سربمہر کرکے سربستہ راز بنا دیا گیا تھا؟
۱۳ دانیایل کے لئے فرشتے کا اعلان جسکا آغاز دانیایل ۱۰:۲۰ کے ساتھ ہوا تھا اب اِن خوشکُن الفاظ کے ساتھ اختتامپذیر ہوتا ہے: ”لیکن تُو اَے دانیؔایل اِن باتوں کو بند کر رکھ اور کتاب پر آخری زمانہ تک مہر لگا دے۔ بہتیرے اِس کی تفتیشوتحقیق کریں گے اور دانش افزون ہوگی۔“ (دانیایل ۱۲:۴) دانیایل کی زیرِالہام تحریرکردہ بیشتر باتوں کو سربمہر کرکے انسانی سمجھ کے لئے واقعی ایک سربستہ راز بنا دیا گیا تھا۔ جیہاں، بعدازاں دانیایل نے خود لکھا: ”مَیں نے سنا پر سمجھ نہ سکا۔“ (دانیایل ۱۲:۸) اِس لحاظ سے دانیایل کی کتاب صدیوں تک سربمہر رہی۔ ہمارے زمانے کی بابت کیا ہے؟
۱۴. (ا)”آخری زمانہ“ میں کن لوگوں نے کہاں سے ”تفتیشوتحقیق“ کی ہے؟ (ب)اِس بات کی کیا شہادت ہے کہ یہوواہ نے اِس ”تفتیشوتحقیق“ کو برکت بخشی ہے؟
۱۴ ہمیں دانیایل کی کتاب میں بیانکردہ ”آخری زمانہ“ میں رہنے کا استحقاق حاصل ہے۔ پیشینگوئی کے مطابق، بہت سے وفادار اشخاص نے خدا کے کلام کی ”تفتیشوتحقیق“ کی ہے۔ اِسکا کیا نتیجہ نکلا ہے؟ یہوواہ کی برکت سے سچا علم افزون ہو گیا ہے۔ یہوواہ کے وفادار ممسوح گواہوں کو دانش بخشی گئی ہے جسکی بدولت وہ ۱۹۱۴ میں ابنِآدم کے بادشاہ بننے کو سمجھنے، دانیایل کی پیشینگوئی کے حیوانوں کو پہچاننے اور ”اُجاڑنے والی مکروہ چیز“ کے خلاف آگاہی دینے کے قابل ہوئے ہیں۔ (دانیایل ۱۱:۳۱) پس، علم کی افزونی ”حقتعالیٰ کے مُقدسوں“ کا ایک اَور شناختی نشان ہے۔ لیکن دانیایل کو مزید ثبوت فراہم کِیا گیا تھا۔
وہ ”نیست“ کئے جاتے ہیں
۱۵. اب ایک فرشتہ کیا سوال پوچھتا ہے اور یہ سوال ہمیں کن کی یاد دلا سکتا ہے؟
۱۵ ہمیں یاد ہے کہ دانیایل کو یہ ملکوتی پیغامات ”بڑے دریا“ یعنی دریایِدجلہ پر حاصل ہوئے تھے۔ (دانیایل ۱۰:۴) اب وہ وہاں تین فرشتے دیکھتا ہے اور کہتا ہے: ”پھر مَیں دانیؔایل نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ دو شخص اَور کھڑے تھے۔ ایک دریا کے اِس کنارہ پر اور دوسرا دریا کے اُس کنارہ پر۔ اور ایک نے اُس شخص سے جو کتانی لباس پہنے تھا اور دریا کے پانی پر کھڑا تھا پوچھا کہ اِن عجائب کے انجام تک کتنی مُدت ہے؟“ (دانیایل ۱۲:۵، ۶) یہاں فرشتے کا سوال پھر ہمیں ”حقتعالیٰ کے مُقدسوں“ کی یاد دلا سکتا ہے۔ سن ۱۹۱۴ میں ”آخری زمانہ“ کے آغاز پر وہ اِس سوال کی بابت بہت فکرمند تھے کہ خدا کے وعدوں کی تکمیل میں کتنی مدت باقی ہے۔ اِس سوال کے جواب میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ اِس پیشینگوئی کا محور ہیں۔
۱۶. فرشتہ کیا پیشینگوئی کرتا ہے اور وہ اِسکی تکمیل کو کیسے یقینی قرار دیتا ہے؟
۱۶ دانیایل کا بیان جاری رہتا ہے: ”مَیں نے سنا کہ اُس شخص نے جو کتانی لباس پہنے تھا جو دریا کے پانی کے اُوپر کھڑا تھا دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر حیاُلقیوم کی قسم کھائی اور کہا کہ ایک دَور اور دَور اور نیم دَور۔ اور جب وہ مُقدس لوگوں کے اقتدار کو نیست کر چکیں گے تو یہ سب کچھ پورا ہو جائیگا۔“ (دانیایل ۱۲:۷) یہ ایک سنجیدہ بات ہے۔ فرشتہ دونوں ہاتھ اُٹھا کر قسم کھاتا ہے تاکہ چوڑے دریا کے دونوں کناروں پر کھڑے دونوں فرشتے بھی اُسکے اشارے کو دیکھ سکیں۔ یوں وہ اِس پیشینگوئی کی تکمیل کو یقینی قرار دیتا ہے۔ تاہم، یہ مقررہ دَور کب شروع ہوتے ہیں؟ اِسکا جواب تلاش کرنا بہت آسان ہے۔
۱۷. (ا)دانیایل ۷:۲۵، دانیایل ۱۲:۷ اور مکاشفہ ۱۱:۳، ۷، ۹ کی پیشینگوئیوں میں کونسی مماثلتیں پائی جاتی ہیں؟ (ب)ساڑھے تین دَور کتنے طویل ہیں؟
۱۷ یہ پیشینگوئی غیرمعمولی طور پر دیگر دو پیشینگوئیوں کی مماثل ہے۔ پہلی دانیایل ۷:۲۵ میں درج ہے جو اِس کتاب کے ۹ باب میں زیرِبحث آ چکی ہے جبکہ دوسری مکاشفہ ۱۱:۳، ۷، ۹ میں درج ہے۔ بعض مماثلتوں پر غور کریں۔ یہ آخری زمانہ کے دوران پوری ہوتی ہیں۔ دونوں پیشینگوئیوں کا تعلق خدا کے مُقدس خادموں سے ہے جو اُن پر ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اذیت اُٹھائینگے اور عارضی طور پر علانیہ منادی بھی نہیں کر پائینگے۔ یہ دونوں پیشینگوئیاں ظاہر کرتی ہیں کہ خدا کے خادم احیا پانے کے بعد اپنے کام کو دوبارہ شروع کرینگے اور اپنے ستانے والوں پر غالب آئینگے۔ اِسکے علاوہ یہ مُقدس لوگوں کی تکلیف کے وقت کی بابت بھی بیان کرتی ہیں۔ دانیایل (۷:۲۵ اور ۱۲:۷) میں درج دونوں پیشینگوئیاں ”ایک دَور اور دَور اور نیم دَور“ کا ذکر کرتی ہیں۔ عام طور پر علما اِسے ساڑھے تین دَور سمجھتے ہیں۔ مکاشفہ اِسی وقت کا حوالہ ۴۲ مہینوں یا ۱،۲۶۰ دنوں کے طور پر دیتا ہے۔ (مکاشفہ ۱۱:۲، ۳) اِس سے یہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ دانیایل میں متذکرہ ساڑھے تین دَور، ساڑھے تین سال ہیں جن میں سے ہر سال ۳۶۰ دنوں پر مشتمل ہے۔ لیکن اِن ۱،۲۶۰ دنوں کا آغاز کب ہوا تھا؟
۱۸. (ا)دانیایل ۱۲:۷ کے مطابق کیا چیز ۱،۲۶۰ دنوں کے اختتام کی نشاندہی کرے گی؟ (ب)بالآخر ”مُقدس لوگوں کے اقتدار“ کو کب نیست کِیا گیا اور یہ کیسے واقع ہوا؟ (پ)۱،۲۶۰ دنوں کا آغاز کب ہوا اور ممسوحوں نے اُس دَور میں کیسے ’ٹاٹ اوڑھ کر نبوّت‘ کی تھی؟
۱۸ پیشینگوئی واضح طور پر ۱،۲۶۰ دنوں کے اختتام یعنی ”مُقدس لوگوں کے اقتدار کو نیست“ کئے جانے کی بابت بیان کرتی ہے۔ سن ۱۹۱۸ کے وسط میں واچ ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی کے صدر جے. ایف. رتھرفورڈ کو دیگر سرکردہ اراکین کے ساتھ جھوٹے الزامات کے تحت طویل نظربندی اور قید کی سزا سنائی گئی۔ خدا کے مُقدس لوگوں کو واقعی اپنے اقتدار کے ”نیست“ ہو جانے کا تجربہ ہوا۔ سن ۱۹۱۸ کے وسط سے پیچھے کی طرف ساڑھے تین سال شمار کرکے ہم ۱۹۱۴ کے آخر پر پہنچ جاتے ہیں۔ اُس وقت ممسوح اشخاص کا ایک چھوٹا سا گروہ خود کو سخت اذیت کے لئے تیار کر رہا تھا۔ پہلی عالمی جنگ شروع ہو چکی تھی اور اُن کے کام کی مخالفت بڑھتی جا رہی تھی۔ اُنہوں نے ۱۹۱۵ کے لئے جس سالانہ آیت کا انتخاب کِیا وہ مسیح کے اپنے پیروکاروں سے پوچھے گئے اِس سوال پر مبنی تھی: ”کیا تم میرا پیالہ پی سکتے ہو؟“ (متی ۲۰:۲۲، کنگ جیمز ورشن) اس کے بعد مکاشفہ ۱۱:۳ کی پیشینگوئی کے مطابق، ۱،۲۶۰ دنوں کی مدت ممسوحوں کے لئے ایک غمناک دَور ثابت ہوئی گویا وہ ٹاٹ اوڑھے ہوئے نبوّت کر رہے تھے۔ اذیت شدت اختیار کر گئی۔ بعض کو قید میں ڈال دیا گیا، دیگر اجتماعی حملوں کا نشانہ بنے اور کچھ کو سفاکانہ تشدد کا سامنا ہوا۔ سن ۱۹۱۶ میں، سوسائٹی کے پہلے صدر، سی. ٹی. رسل کی موت نے بہتیروں کو بےحوصلہ کر دیا۔ تاہم، منادی کرنے والی تنظیم کے طور پر اِن مُقدسوں کی ہلاکت کے ساتھ اِس تاریک دَور کے اختتام کے بعد کیا واقع ہونا تھا؟
۱۹. مکاشفہ ۱۱ باب کی پیشینگوئی ہمیں کیسے یقیندہانی کراتی ہے کہ ممسوح اشخاص کو زیادہ دیر خاموش نہیں رہنا تھا؟
۱۹ مکاشفہ ۱۱:۳، ۹، ۱۱ میں پائی جانے والی مماثل پیشینگوئی ظاہر کرتی ہے کہ ”دو گواہوں“ کی ہلاکت کے بعد، وہ دوبارہ زندہ ہونے سے پہلے صرف تھوڑی مدت—ساڑھے تین دن—تک مُردہ پڑے رہے۔ اِسی طرح سے، دانیایل ۱۲ باب کی پیشینگوئی ظاہر کرتی ہے کہ مُقدس لوگ خاموش نہیں رہینگے کیونکہ اُنہیں بہت سا کام کرنا تھا۔
وہ ’پاک، صافوبراق‘ کئے جاتے ہیں
۲۰. دانیایل ۱۲:۱۰ کے مطابق کٹھن حالات سے گزرنے کے بعد ممسوح اشخاص کو کیا برکات حاصل ہونگی؟
۲۰ جیسےکہ شروع میں بیان کِیا گیا ہے کہ دانیایل اِن باتوں کو قلمبند کرنے کے باوجود سمجھ نہیں سکا تھا۔ تاہم، اُس نے ضرور سوچا ہوگا کہ آیا مُقدس لوگ اذیت دینے والوں کے ہاتھوں واقعی ختم ہو جائینگے، لہٰذا اُس نے پوچھا کہ ”اِنکا انجام کیا ہوگا؟“ فرشتے نے جواب دیا: ”اَے دانیؔایل تُو اپنی راہ لے کیونکہ یہ باتیں آخری وقت تک بندوسربمہر رہینگی۔ اور بہت لوگ پاک کئے جائینگے اور صافوبراق ہونگے لیکن شریر شرارت کرتے رہینگے اور شریروں میں سے کوئی نہ سمجھے گا پر دانشور سمجھیں گے۔“ (دانیایل ۱۲:۸-۱۰) مُقدسوں کے لئے یقینی اُمید تھی! وہ ختم ہونے کی بجائے صافوبراق ہونگے اور یہوواہ خدا کے حضور پاک حیثیت حاصل کرینگے۔ (ملاکی ۳:۱-۳) روحانی معاملات کی بصیرت اُنہیں خدا کی نظر میں پاک رہنے کے قابل بنائیگی۔ اِسکے برعکس، شریر روحانی باتوں کو سمجھنے سے انکار کر دینگے۔ لیکن یہ سب کچھ کب واقع ہوگا؟
۲۱. (ا)دانیایل ۱۲:۱۱ میں بیانکردہ وقتی مدت کا آغاز کن واقعات کے رونما ہونے کے بعد ہونا تھا؟ (ب)”دائمی قربانی“ کیا تھی اور یہ کب موقوف ہوئی تھی؟ (صفحہ ۲۹۸ پر بکس کے مواد کا مطالعہ کریں۔)
۲۱ دانیایل کو بتایا گیا: ”جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور وہ اُجاڑنے والی مکروہ چیز نصب کی جائے گی ایک ہزار دو سو نوے دن ہونگے۔“ چنانچہ بعض واقعات کے رونما ہونے کے بعد اِس وقتی مدت کا آغاز ہونا تھا۔ ”دائمی قربانی“ یا ’مسلسل پیش کی جانے والی قربانی‘a کو موقوف کِیا جانا تھا۔ (دانیایل ۱۲:۱۱) فرشتہ کس قربانی کا ذکر کر رہا تھا؟ یہ زمینی ہیکل میں پیش کی جانے والی جانوروں کی قربانی نہیں تھی۔ بیشک، یروشلیم کی ہیکل بھی ”حقیقی پاک مکان“—یہوواہ کی عظیم روحانی ہیکل—کا محض ”نمونہ“ تھی جس نے ۲۹ س.ع. میں مسیح کے سردار کاہن بننے کے ساتھ ہی کام کرنا شروع کر دیا تھا! پاک پرستش کے لئے خدا کے انتظام کی نمائندگی کرنے والی اِس روحانی ہیکل میں گناہ کی دائمی قربانیاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ”مسیح بھی ایک بار بہت لوگوں کے گناہ اُٹھانے کے لئے قربان“ ہوا تھا۔ (عبرانیوں ۹:۲۴-۲۸) تاہم، تمام سچے مسیحی اِس روحانی ہیکل میں قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ پولس رسول نے لکھا: ”پس ہم [مسیح] کے وسیلہ سے حمد کی قربانی یعنی اُن ہونٹوں کا پھل جو اُس کے نام کا اقرار کرتے ہیں خدا کے لئے ہر وقت چڑھایا کریں۔“ (عبرانیوں ۱۳:۱۵) چنانچہ پیشینگوئی کا پہلا واقعہ—”دائمی قربانی“ کا موقوف کِیا جانا—۱۹۱۸ کے وسط میں منادی کے کام کے عملاً بند ہو جانے کے ساتھ رُونما ہوا تھا۔
۲۲. (ا)اُجاڑنے والی ”مکروہ چیز“ کیا ہے اور یہ کب نصب کی گئی تھی؟ (ب)دانیایل ۱۲:۱۱ میں بیانکردہ وقتی مدت کا آغاز اور اختتام کب ہوا؟
۲۲ تاہم، دوسرے واقعہ—’اُجاڑنے والی مکروہ چیز کے نصب کئے جانے‘—کی بابت کیا ہے؟ جیسےکہ ہم نے دانیایل ۱۱:۳۱ پر اپنی بحث سے سمجھ لیا ہے کہ یہ مکروہ چیز پہلے لیگ آف نیشنز [انجمنِاقوام] تھی جس کا بعدازاں یونائیٹڈ نیشنز [اقوامِمتحدہ] کے طور پر دوبارہ ظہور ہوا۔ یہ دونوں اِس لحاظ سے مکروہ ہیں کہ اِنہیں زمین پر امن کی واحد اُمید کے طور پر پیش کِیا گیا ہے۔ چنانچہ، بہتیروں کے دلوں میں اِن تنظیموں نے درحقیقت خدا کی بادشاہت کی جگہ لے لی ہے۔ انجمنِاقوام کے لئے جنوری ۱۹۱۹ میں باضابطہ تجویز پیش کی گئی تھی۔ پس، اُسی وقت دانیایل ۱۲:۱۱ میں متذکرہ دونوں واقعات رونما ہوئے تھے۔ یوں ۱،۲۹۰ دنوں کا آغاز ۱۹۱۹ کے اوائل میں ہوا اور ۱۹۲۲ کے موسمِخزاں (نصف کرۂشمالی) میں اختتام ہوا۔
۲۳. دانیایل ۱۲ باب میں بیانکردہ ۱،۲۹۰ دنوں کے دوران خدا کے مُقدس لوگوں نے پاک حیثیت حاصل کرنے کیلئے کیسے ترقی کی؟
۲۳ اُس وقت کے دوران، کیا مُقدس لوگوں نے خدا کی نظر میں صافوبراق ہونے کی کوشش کی؟ اُنہوں نے یقیناً ایسا کِیا تھا! مارچ ۱۹۱۹ میں واچ ٹاور سوسائٹی کے صدر اور اُس کے قریبی ساتھیوں کو قید سے رہائی مل گئی۔ بعدازاں اُنہیں جھوٹے الزامات سے بری قرار دے دیا گیا۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ اُن کا کام ابھی ختم نہیں ہوا، اُنہوں نے ستمبر ۱۹۱۹ میں ایک کنونشن کے انعقاد کے ساتھ خود کو فوراً کام میں مصروف کر لیا۔ اُسی سال دی واچ ٹاور [مینارِنگہبانی] کے ساتھی رسالے کی پہلی مرتبہ اشاعت ہوئی۔ اِس رسالے—شروع میں دی گولڈن ایج (اب اویک! یعنی جاگو!)—نے دلیری کیساتھ دُنیا کی خرابی کو فاش کرنے اور خدا کے لوگوں کی پاک رہنے میں مدد کرنے کے لئے ہمیشہ مینارِنگہبانی کی حمایت کی ہے۔ مُقدس لوگ بیانکردہ ۱،۲۹۰ دنوں کے اختتام تک پوری طرح پاکصاف حالت میں آ چکے تھے۔ اِس دَور کے ختم ہونے کے ساتھ ہی، اُنہوں نے ستمبر ۱۹۲۲ میں سیدر پوائنٹ اوہائیو، یو.ایس.اے میں ایک عہدآفرین کنونشن منعقد کِیا۔ یہ کنونشن منادی کے کام کے لئے بڑی شاندار قوتِمتحرکہ ثابت ہوا۔ تاہم، ابھی اَور بھی ترقی کرنے کی ضرورت تھی جو آئندہ قابلِتوجہ دَور میں واقع ہوئی۔
مُقدس لوگوں کیلئے خوشی
۲۴، ۲۵. (ا)دانیایل ۱۲:۱۲ میں کس وقتی مدت کی پیشینگوئی کی گئی ہے اور اِسکا آغاز اور اختتام کب ہوا؟ (ب)۱،۳۳۵ دنوں کے آغاز پر ممسوح بقیے کی روحانی حالت کیسی تھی؟
۲۴ یہوواہ کا فرشتہ مُقدس لوگوں کے سلسلے میں اپنی پیشینگوئی کو اِن الفاظ کے ساتھ ختم کرتا ہے: ”مبارک ہے وہ جو ایک ہزار تین سو پینتیس روز تک انتظار کرتا ہے۔“ (دانیایل ۱۲:۱۲) فرشتہ اِس دَور کے شروع ہونے یا ختم ہونے کی بابت کوئی اشارہ نہیں دیتا۔ تاریخ سے اِس کے گزشتہ دَور کے فوراً بعد شروع ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ اِس لحاظ سے اِس دَور کا آغاز ۱۹۲۲ کے موسمِخزاں میں اور اختتام ۱۹۲۶ کے موسمِبہار (نصف کرۂشمالی) کے آخر میں ہوتا ہے۔ کیا اِس دَور کے آخر تک مُقدس لوگ مبارک حالت کو پہنچ گئے تھے؟ جیہاں، مخصوص روحانی طریقوں سے ایسا ہوا تھا۔
۲۵ سن ۱۹۲۲ میں کنونشن کے بعد بھی (صفحہ ۳۰۲ کی تصویر) بعض ماضی کی یادوں ہی میں گم تھے۔ اُنکے اجلاسوں پر مطالعہ کے لئے بنیادی مواد ابھی تک بائبل اور سی. ٹی. رسل کی تالیفکردہ سٹڈیز اِن دی سکرپچرز کی جلدیں ہی تھیں۔ اُس وقت، ایک عام نظریے کے مطابق ۱۹۲۵ میں قیامت کے آغاز اور زمین پر فردوس کی بحالی کی توقع کی جا رہی تھی۔ چنانچہ، بہتیرے ایک خاص تاریخ کو ذہن میں رکھ کر خدمت کر رہے تھے۔ بعض نے ہٹدھرمی سے لوگوں کو منادی کرنے کے کام میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ یہ کوئی حوصلہافزا حالت نہیں تھی۔
۲۶. ممسوح اشخاص کی روحانی حالت میں ۱،۳۳۵ دن گزرنے کیساتھ ساتھ کیسے تبدیلیاں واقع ہوئیں؟
۲۶ تاہم، ۱،۳۳۵ دن ختم ہونے کیساتھ ساتھ تبدیلیاں آنا شروع ہو گئیں۔ جب ہر ایک کیلئے میدانی خدمتگزاری میں حصہ لینے کیلئے باضابطہ انتظامات کئے گئے تو منادی کے کام کو امتیازی حیثیت حاصل ہو گئی۔ ہر ہفتے مینارِنگہبانی کا مطالعہ کرنے کیلئے اجلاس ترتیب دئے جانے لگے۔ مارچ ۱، ۱۹۲۵ کے شمارے کے مضمون ”برتھ آف دی نیشن“ [”قوم کا وجود میں آنا“] نے خدا کے لوگوں کو ۱۹۱۴-۱۹۱۹ کے درمیان رونما ہونے والے واقعات کی صحیح سمجھ عطا کی۔ سن ۱۹۲۵ کے بعد، مُقدس لوگوں نے پھر کبھی مستقبلقریب کی کسی حتمی تاریخ کو ذہن میں رکھ کر خدا کی خدمت نہ کی۔ اِسکی بجائے، اُن کیلئے سب سے اہم چیز یہوواہ کے نام کی تقدیس تھی۔ اِس اہم سچائی کو جنوری ۱، ۱۹۲۶ کے واچ ٹاور میں ”ہو وِل آنر جیہوواہ؟“ [”یہوواہ کی تعظیم کون کریگا؟“] کے مضمون میں نمایاں کِیا گیا جبکہ اِس سے پہلے کبھی ایسا نہیں کِیا گیا تھا۔ مئی ۱۹۲۶ کے کنونشن پر کتاب ڈیلورنس کی رونمائی کی گئی۔ (صفحہ ۳۰۲ کا جائزہ لیں۔) یہ سٹڈیز اِن دی سکرپچرز کی جگہ لینے والی نئی کتابوں کے سلسلے کی کتاب تھی۔ اب مُقدس لوگ ماضی کی یادوں میں گم نہیں تھے۔ وہ پورے اعتماد کیساتھ مستقبل اور اپنے کام پر نظریں جمائے ہوئے تھے جو اُنہیں ابھی کرنا تھا۔ پس پیشینگوئی کے مطابق، ۱،۳۳۵ دنوں کے اختتام پر مُقدس لوگ مبارک حالت کو پہنچ گئے تھے۔
۲۷. دانیایل ۱۲ باب کا جائزہ یہوواہ کے ممسوح لوگوں کی حتمی شناخت کرنے کیلئے کیسے ہماری مدد کرتا ہے؟
۲۷ یقیناً، سب نے اِس ہیجانخیز دَور میں صبر سے کام نہ لیا۔ بِلاشُبہ اِسی وجہ سے فرشتے نے ”انتظار“ کرنے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ صبر اور انتظار کرنے والوں کو بڑی برکات حاصل ہوئیں۔ دانیایل ۱۲ باب کا جائزہ اِس بات کو بخوبی واضح کر دیتا ہے۔ پیشینگوئی کے مطابق، ممسوحوں نے روحانی مفہوم میں احیا یا قیامت پائی تھی۔ اُنہیں خدا کے کلام کی غیرمعمولی بصیرت، اِسکی ”تفتیشوتحقیق“ اور رُوحاُلقدس کی مدد سے قدیم بھید کھولنے کی طاقت حاصل ہوئی۔ یہوواہ نے اُنہیں پاک کِیا اور روحانی طور پر ستاروں کی مانند روشن کِیا۔ نتیجتاً، وہ بہتیروں کیلئے یہوواہ خدا کے حضور راست حیثیت حاصل کرنے کا سبب بنے۔
۲۸، ۲۹. جب ”آخری زمانہ“ اپنے خاتمے کو پہنچنے والا ہے تو ہمارا کیا عزم ہونا چاہئے؟
۲۸ ”حقتعالیٰ کے مُقدسوں“ کی پہچان کیلئے اِن تمام نبوّتی خصوصیات سے واقف ہونے کے باوجود اُنہیں پہچاننے اور اُن کیساتھ رفاقت رکھنے میں ناکامی کا کیا عذر باقی رہ جاتا ہے؟ بڑی بِھیڑ شاندار برکات کی منتظر ہے جو ہمہوقت گھٹنے والی اِس ممسوح جماعت کیساتھ یہوواہ کی خدمت میں شامل ہو گئی ہے۔ ہم سب کو خدا کے وعدوں کی تکمیل کے منتظر رہنا چاہئے۔ (حبقوق ۲:۳) ہمارے زمانہ میں میکائیل، مقرب فرشتہ، خدا کے لوگوں کی حمایت میں کئی دہوں سے کھڑا ہے۔ اب وہ بہت جلد اِس نظامالعمل کے خلاف خدا کی طرف سے عدالتی کارروائی کرنے کیلئے اُٹھنے والا ہے۔ جب وہ ایسا کریگا تو ہمارا کیا انجام ہوگا؟
۲۹ اِس سوال کے جواب کا انحصار اِس بات پر ہے کہ آیا ہم اب راست زندگی گزارنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ جب ”آخری زمانہ“ ختم ہونے والا ہے تو ایسا کرنے کے عزم کو مضبوط کرنے کیلئے آئیے دانیایل کی کتاب کی آخری آیت پر غور کریں۔ اگلے باب کی بحث یہ سمجھنے میں ہماری مدد کریگی کہ دانیایل کیسے خدا کے حضور کھڑا رہا اور کیسے وہ مستقبل میں بھی اُسکے حضور کھڑا ہوگا۔
[فٹنوٹ]
a یونانی سپتواجنتا میں اِس کا ترجمہ صرف ”قربانی“ کِیا گیا ہے۔
آپ کیا سمجھے ہیں؟
•میکائیل کس وقتی مدت کے دوران ”کھڑا“ ہے لیکن وہ کب اور کیسے ”اُٹھیگا“؟
•دانیایل ۱۲:۲ کس قسم کی قیامت کی طرف اشارہ کرتی ہے؟
•کونسی تاریخیں مندرجہذیل وقتی مدت کے آغاز اور اختتام کی نشاندہی کرتی ہیں
دانیایل ۱۲:۷ میں متذکرہ ساڑھے تین دَور؟
دانیایل ۱۲:۱۱ میں بیانکردہ ۱،۲۹۰ دن
دانیایل ۱۲:۱۲ میں پیشینگوئیکردہ ۱،۳۳۵ دن
•دانیایل ۱۲ باب کا مطالعہ کیسے یہوواہ کے سچے پرستاروں کی شناخت کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے؟
[صفحہ ۲۹۸ پر چارٹ/تصویریں]
دائمی قربانی کا موقوف کِیا جانا
دانیایل کی کتاب میں ”دائمی قربانی“ کی اصطلاح پانچ مرتبہ آتی ہے۔ یہ حمد کی قربانی، ’ہونٹوں کے پھل‘ کا حوالہ دیتی ہے جو یہوواہ خدا کے خادم باقاعدگی سے اُس کے حضور پیش کرتے ہیں۔ (عبرانیوں ۱۳:۱۵) اِس کے موقوف کئے جانے کی پیشینگوئی دانیایل ۸:۱۱؛ ۱۱:۳۱ اور ۱۲:۱۱ میں کی گئی ہے۔
دونوں عالمی جنگوں کے دوران یہوواہ کے لوگوں نے ”شاہِشمال“ اور ”شاہِجنوب“ کی سلطنتوں میں سخت اذیت اُٹھائی تھی۔ (دانیایل ۱۱:۱۴، ۱۵) ”دائمی قربانی“ کا موقوف کِیا جانا پہلی عالمی جنگ کے آخر پر عمل میں آیا جب ۱۹۱۸ کے وسط میں منادی کا کام عملاً بند ہو گیا تھا۔ (دانیایل ۱۲:۷) اِسی طرح دوسری عالمی جنگ کے دوران ”دائمی قربانی“ کو اینگلوامریکن عالمی طاقت نے ۲،۳۰۰ دنوں کیلئے ”موقوف“ کر دیا تھا۔ (دانیایل ۸:۱۱-۱۴؛ اِس کتاب کے باب ۱۰ کا مطالعہ کریں۔) اِسے نازی ”فوجوں“ نے بھی صحائف میں درج ایک غیرواضح وقتی مدت کیلئے موقوف کر دیا تھا۔—دانیایل ۱۱:۳۱؛ اِس کتاب کے باب ۱۵ کا مطالعہ کریں۔
[صفحہ ۳۰۱ پر چارٹ/تصویریں]
دانیایل کے نبوّتی دَور
سات دَور (۲،۵۲۰ سال): اکتوبر ۶۰۷ ق.س.ع. سے اکتوبر ۱۹۱۴ س.ع. تک
دانیایل ۴:۱۶، ۲۵ (مسیحائی بادشاہت کا قیام۔
اِس کتاب کے باب ۶ کا مطالعہ کریں۔)
ساڑھے تین دَور (۱،۲۶۰ دن): دسمبر ۱۹۱۴ سے جون ۱۹۱۸ تک
دانیایل ۷:۲۵؛ ۱۲:۷ (ممسوح مسیحیوں کا ہراساں کِیا جانا۔
اِس کتاب کے باب ۹ کا مطالعہ کریں۔)
۲،۳۰۰ شام اور صبح: جون ۱ یا ۱۵، ۱۹۳۸ سے اکتوبر ۸ یا ۲۲، ۱۹۴۴
دانیایل ۸:۱۴ تک (”بڑی بِھیڑ“ کا منظرِعام پر آنا اور
ترقی۔ اِس کتاب کے باب ۱۰ کا مطالعہ کریں۔)
۷۰ ہفتے (۴۹۰ سال): ۴۵۵ ق.س.ع. سے ۳۶ س.ع. تک (مسیحا کی آمد اور
دانیایل ۹:۲۴-۲۷ اُسکی زمینی خدمتگزاری۔
اِس کتاب کے باب ۱۱ کا مطالعہ کریں۔)
۱،۲۹۰ دن: جنوری ۱۹۱۹ سے ستمبر ۱۹۲۲ تک (ممسوح مسیحی
دانیایل ۱۲:۱۱ جاگ اُٹھتے اور روحانی ترقی کرتے ہیں۔)
۱،۳۳۵ دن: ستمبر ۱۹۲۲ سے مئی ۱۹۲۶ تک (ممسوح مسیحی
دانیایل ۱۲:۱۲ مبارک حالت کو پہنچ جاتے ہیں۔)
[صفحہ ۲۸۷ پر تصویریں]
یہوواہ کے سرکردہ خادموں کو غیرمنصفانہ طور پر اٹلانٹا، جارجیا، یو۔ایس۔اے میں وفاقی قیدخانے میں ڈال دیا گیا۔ بائیں سے دائیں: (بیٹھے ہوئے) اے۔ ایچ۔ میکملن، جے۔ ایف۔ رتھرفورڈ، ڈبلیو۔ ای۔ وان ایمبرگ؛ (کھڑے ہوئے) جی۔ ایچ۔ فشر، آر۔ جے۔ مارٹن، جی۔ ڈیچیکا، ایف۔ ایچ۔ رابنسن اور سی۔ جے۔ وڈورتھ
[صفحہ ۲۹۹ پر تصویریں]
ریاستہائےمتحدہ امریکہ میں سیدر پوائنٹ، اوہائیو کے مقام پر ۱۹۱۹ میں (اُوپر) اور ۱۹۲۲ میں (نیچے) منعقد ہونے والے عہدآفرین کنونشن
[صفحہ ۳۰۲ پر صرف تصویر ہے]