یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • دا باب 16 ص.‏ 270-‏285
  • مخالف بادشاہوں کا عنقریب خاتمہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مخالف بادشاہوں کا عنقریب خاتمہ
  • دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • تباہ‌حال سچے مسیحی غالب آتے ہیں
  • یہوواہ کے لوگوں کا پاک‌صاف کِیا جانا
  • بادشاہ اپنے آپکو بڑا بناتا ہے
  • خاتمے کے وقت میں ”‏حملہ“‏
  • مصر بھی بچ نہیں پاتا
  • آخری معرکہ‌آرائی
  • پریشان‌کُن افواہوں سے چوکس رہنا
  • ‏’‏بادشاہ کا خاتمہ ہو جائیگا‘‏
  • مقرب فرشتے، میکائیل کی آخری فتح
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • آج کا شاہِ‌شمال کون ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
  • آخری زمانے کے”‏شاہِ‌شمال“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
  • ایک بادشاہ یہوواہ کے مقدس کی بے‌حرمتی کرتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
مزید
دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
دا باب 16 ص.‏ 270-‏285

سولہواں باب

مخالف بادشاہوں کا عنقریب خاتمہ

۱، ۲.‏ دوسری عالمی جنگ کے بعد شاہِ‌شمال کا کردار کیسے بدل گیا؟‏

ایک فرانسیسی مفکر اور مؤرخ آلکسی دوتو کویل نے ریاستہائے‌متحدہ اور روس کے سیاسی ماحول پر روشنی ڈالتے ہوئے ۱۸۳۵ میں لکھا:‏ ”‏ایک آزادی کا علمبردار ہے تو دوسرا غلامی کو روا رکھتا ہے۔ اُنکے .‏ .‏ .‏ طریقے مختلف ہیں؛ تاہم، دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن وہ حکمِ‌الہٰی سے نصف دُنیا کی تقدیر کے مالک ہونگے۔“‏ یہ پیشگوئی دوسری عالمی جنگ کے بعد کیسے درست ثابت ہوئی ہے؟ مؤرخ جے.‏ ایم.‏ رابرٹس لکھتا ہے:‏ ”‏دوسری عالمی جنگ کے بعد بالآخر دو بالکل مختلف اور عظیم قوتیں دُنیا کی سیاہ‌وسفید کی مالک نظر آنے لگیں، ایک روس اور دوسری ریاستہائے‌متحدہ تھی۔“‏

۲ جرمنی دونوں عالمی جنگوں کے دوران شاہِ‌جنوب—‏اینگلوامریکن عالمی طاقت—‏کے بڑے دُشمن کے علاوہ شاہِ‌شمال کا کردار ادا کرتا رہا۔ تاہم، دوسری عالمی جنگ کے بعد، اُس ملک کا بٹوارا ہو گیا۔ مغربی جرمنی شاہِ‌جنوب کا حلیف بن گیا اور مشرقی جرمنی ایک دوسرے طاقتور دھڑے—‏سوویت یونین کے کمیونسٹ بلا‌ک میں شامل ہو گیا۔ اِس اتحاد یا سیاسی دھڑے نے اینگلوامریکن اتحاد کی شدید مخالفت میں شاہِ‌شمال کی نمائندگی کی۔ اِس طرح دونوں بادشاہوں کے درمیان رقابت نے ایک سرد جنگ کا روپ دھار لیا جو ۱۹۴۸ سے ۱۹۸۹ تک جاری رہی۔ ماضی میں، جرمن بادشاہ ”‏عہدِمُقدس کے خلاف“‏ حملے کر چکا تھا۔ (‏دانی‌ایل ۱۱:‏۲۸،‏ ۳۰‏)‏ کمیونسٹ بلا‌ک عہدِمُقدس کے سلسلے میں کیا کریگا؟‏

تباہ‌حال سچے مسیحی غالب آتے ہیں

۳، ۴.‏ ”‏عہدِمُقدس کے خلاف شرارت“‏ کرنے والے کون ہیں اور شاہِ‌شمال کے ساتھ اُن کا کیا رشتہ رہا ہے؟‏

۳ خدا کے فرشتے نے بیان کِیا:‏ ”‏وہ [‏شاہِ‌شمال]‏ عہدِمُقدس کے خلاف شرارت کرنے والوں کو خوشامد کرکے برگشتہ کرے گا۔“‏ فرشتے نے مزید کہا:‏ ”‏لیکن اپنے خدا کو پہچاننے والے تقویت پا کر کچھ کر دکھائیں گے۔ اور وہ جو لوگوں میں اہلِ‌دانش ہیں بہتوں کو تعلیم دیں گے لیکن وہ کچھ مدت تک تلوار اور آگ اور اسیری اور لُوٹ‌مار سے تباہ‌حال رہینگے۔“‏—‏دانی‌ایل ۱۱:‏۳۲، ۳۳‏۔‏

۴ ”‏عہدِمُقدس کے خلاف شرارت“‏ کرنے والے دُنیائے‌مسیحیت کے پیشوا ہی ہو سکتے ہیں جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اپنے کاموں سے مسیحیت کی بے‌حرمتی کرتے ہیں۔ والٹر کولارز اپنی کتاب ریلیجن اِن سوویت یونین میں بیان کرتا ہے:‏ ”‏[‏دوسری عالمی جنگ کے دوران]‏ سوویت حکومت نے مادرِوطن کے دفاع کیلئے چرچ کی اخلاقی اور مادی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔“‏ جنگ کے بعد، چرچ لیڈروں نے اب شاہِ‌شمال کا کردار ادا کرنے والی اِس طاقت کی دہریت‌پسندانہ پالیسی کے باوجود اس دوستی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ یوں، دُنیائے‌مسیحیت پہلے سے کہیں زیادہ اس دُنیا کا حصہ بن گئی جو یہوواہ کی نظر میں مکروہ برگشتگی ہے۔—‏یوحنا ۱۷:‏۱۶؛‏ یعقوب ۴:‏۴‏۔‏

۵، ۶.‏ ”‏اپنے خدا کو پہچاننے والے“‏ کون تھے اور اُنہوں نے شاہِ‌شمال کی حکمرانی کے تحت بھی کیسے کامیابی حاصل کی؟‏

۵ حقیقی مسیحیوں—‏”‏اپنے خدا کو پہچاننے“‏ والوں اور ”‏اہلِ‌دانش“‏—‏کی بابت کیا ہے؟ واجب طور پر ”‏اعلےٰ حکومتوں کے تابعدار“‏ رہنے کے باوجود، شاہِ‌شمال کی زیرِحکمرانی بودوباش کرنے والے مسیحی اس دُنیا کا حصہ نہیں تھے۔ (‏رومیوں ۱۳:‏۱؛‏ یوحنا ۱۸:‏۳۶‏)‏ ”‏جو قیصرؔ کا ہے قیصرؔ کو“‏ ادا کرنے کے سلسلے میں محتاط رہتے ہوئے، انہوں نے ”‏جو خدا کا ہے خدا کو“‏ بھی ادا کِیا۔ (‏متی ۲۲:‏۲۱‏)‏ اسی وجہ سے، اُن کی راستی کو للکارا گیا۔—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۲‏۔‏

۶ نتیجتاً، ’‏تباہ‌حال‘‏ سچے مسیحی ’‏غالب‘‏ آئے۔ وہ اِس لحاظ سے تباہ‌حال ہوئے کہ انہوں نے سخت اذیت اُٹھائی حتیٰ‌کہ بعض کو تو قتل بھی کر دیا گیا۔ لیکن وہ اس لحاظ سے غالب آئے کہ اکثریت وفادار رہی۔ وہ بھی یسوع کی طرح دُنیا پر غالب آئے۔ (‏یوحنا ۱۶:‏۳۳‏)‏ علاوہ‌ازیں، انہوں نے قید یا جیل کیمپوں میں بند ہونے کے باوجود منادی کرنا کبھی بند نہ کِیا۔ ایسا کرنے سے ’‏انہوں نے بہتوں کو تعلیم دی‘‏ ہے۔ شاہِ‌شمال کے زیرِتسلط بیشتر ممالک میں اذیت اُٹھانے کے باوجود، یہوواہ کے گواہوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ”‏اہلِ‌دانش“‏ کی وفاداری کی بدولت ان ممالک میں ”‏بڑی بِھیڑ“‏ منظرِعام پر آئی ہے جس کی تعداد میں روزافزوں اضافہ ہو رہا ہے۔—‏مکاشفہ ۷:‏۹-‏۱۴‏۔‏

یہوواہ کے لوگوں کا پاک‌صاف کِیا جانا

۷.‏ شاہِ‌شمال کے زیرِتسلط رہنے والے ممسوح مسیحیوں نے کونسی ”‏تھوڑی سی مدد“‏ حاصل کی؟‏

۷ ”‏جب [‏خدا کے لوگ]‏ تباہی میں پڑیں گے تو اُن کو تھوڑی سی مدد سے تقویت پہنچے گی،“‏ فرشتے نے بیان کِیا۔ (‏دانی‌ایل ۱۱:‏۳۴الف‏)‏ دوسری عالمی جنگ میں شاہِ‌جنوب کی فتح حریف بادشاہ کے ماتحت رہنے والے مسیحیوں کے لئے کسی حد تک تسلی کا باعث بنی تھی۔ ‏(‏مقابلہ کریں مکاشفہ ۱۲:‏۱۵، ۱۶‏۔)‏ اِسی طرح، اس کے جانشین بادشاہ [‏شاہِ‌شمال]‏ کے ہاتھوں اذیت اُٹھانے والوں کو وقتاًفوقتاً سُکھ کا سانس لینے کا موقع ملا۔ جب سرد جنگ اپنے اختتام کو پہنچی تو بہتیرے لیڈروں نے سمجھ لیا کہ وفادار مسیحی کوئی خطرہ نہیں اس لئے اُنہیں قانونی حیثیت عطا کر دی گئی۔ بڑی بِھیڑ کی بڑھتی ہوئی تعداد سے بھی بڑی مدد حاصل ہوئی جو ممسوح اشخاص کی وفادارانہ منادی سے اثرپذیر ہو کر اُن کی مدد کرنے پر آمادہ تھی۔—‏متی ۲۵:‏۳۴-‏۴۰‏۔‏

۸.‏ بعض ”‏خوشامدگوئی سے“‏ خدا کے لوگوں میں کیسے شامل ہو گئے تھے؟‏

۸ جن لوگوں نے سرد جنگ کے زمانے میں خدا کی خدمت کرنے میں دلچسپی ظاہر کی اُن سب کے محرکات اچھے نہیں تھے۔ فرشتے نے آگاہ کر دیا تھا:‏ ”‏بہتیرے خوشامدگوئی سے ان میں آ ملیں گے۔“‏ (‏دانی‌ایل ۱۱‏:‏۳۴ب)‏ بہت زیادہ لوگوں نے سچائی میں دلچسپی تو دکھائی لیکن وہ خدا کے لئے مخصوصیت کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ بظاہر خوشخبری کو قبول کرنے والے بعض لوگ درحقیقت حکام کے جاسوس تھے۔ ایک ملک سے رپورٹ یہ بیان کرتی ہے:‏ ”‏ان بددیانت اشخاص میں سے بعض حلفیہ دہریے تھے جو خداوند کی تنظیم میں گھس آئے اور سرگرمی دکھاتے ہوئے اعلیٰ خدمتی مرتبوں پر فائز بھی ہو گئے تھے۔“‏

۹.‏ یہوواہ نے چپکے سے گھس آنے والوں کی وجہ سے بعض وفادار مسیحیوں کو ”‏تباہ‌حال“‏ ہونے کی اجازت کیوں دی؟‏

۹ فرشتہ اپنا بیان جاری رکھتا ہے:‏ ”‏بعض اہلِ‌فہم تباہ‌حال ہونگے تاکہ پاک‌وصاف اور برّاق ہو جائیں جبتک آخری وقت نہ آ جائے کیونکہ یہ مقررہ وقت تک ملتوی ہے۔“‏ (‏دانی‌ایل ۱۱:‏۳۵‏)‏ چپکے سے گھس آنے والوں کی وجہ سے بعض وفادار لوگ حکام کے ہاتھ لگ گئے۔ یہوواہ نے اپنے لوگوں کے پاک‌وصاف اور برّاق کئے جانے کے لئے ایسے واقعات کی اجازت دے دی۔ جیسے یسوع نے ”‏دُکھ اُٹھا اُٹھا کر فرمانبرداری سیکھی“‏ اسی طرح ان وفادار اشخاص نے بھی اپنے ایمان کی آزمائش سے برداشت کرنا سیکھا۔ (‏عبرانیوں ۵:‏۸؛‏ یعقوب ۱:‏۲، ۳‏؛ مقابلہ کریں ملاکی ۳:‏۳۔)‏ یوں وہ ”‏پاک‌وصاف اور برّاق“‏ کئے گئے۔‏

۱۰.‏ ”‏جب تک آخری وقت نہ آ جائے“‏ کے اظہار کا کیا مطلب ہے؟‏

۱۰ یہوواہ کے لوگوں کو ”‏جب تک آخری وقت نہ آ جائے“‏ تباہ‌حال ہونے اور پاک‌وصاف کئے جانے کے تجربے سے گزرنا تھا۔ بِلاشُبہ، وہ اِس شریر دستورالعمل کے آخر تک اذیت اُٹھانے کی توقع کرتے ہیں۔ تاہم، شاہِ‌شمال کی مداخلت کے نتیجے میں خدا کے لوگوں کا پاک‌وصاف اور برّاق کِیا جانا ”‏مقررہ وقت“‏ کے لئے تھا۔ لہٰذا، دانی‌ایل ۱۱:‏۳۵ میں بیان‌کردہ ”‏آخری وقت“‏ کا تعلق اُس وقت کے خاتمے سے ہونا چاہئے جس کی خدا کے لوگوں کو شاہِ‌شمال کے حملے کے دوران پاک‌وصاف ہونے کیلئے ضرورت تھی۔ بدیہی طور پر، تباہ‌حالی یہوواہ کے مقررہ وقت پر ختم ہو گئی۔‏

بادشاہ اپنے آپکو بڑا بناتا ہے

۱۱.‏ فرشتے نے یہوواہ کی حاکمیت کے سلسلے میں شاہِ‌شمال کے رویے کی بابت کیا بیان کِیا؟‏

۱۱ شاہِ‌شمال کی بابت خدا کے فرشتے نے مزید بیان کِیا:‏ ”‏بادشاہ اپنی مرضی کے مطابق چلے گا اور تکبّر کرے گا اور سب معبودوں سے بڑا بنے گا اور [‏یہوواہ کی حاکمیت کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے]‏ الہٰوں کے الہٰ کے خلاف بہت سی حیرت‌انگیز باتیں کہے گا اور اقبالمند ہوگا یہاں تک کہ قہر کی تسکین ہو جائے گی کیونکہ جوکچھ مقرر ہو چکا ہے واقع ہوگا۔ وہ اپنے باپ‌دادا کے معبودوں کی پروا نہ کرے گا اور نہ عورتوں کی مرغوبہ کو اور نہ کسی اَور معبود کو مانے گا بلکہ اپنے آپ ہی کو سب سے بالا جانے گا۔“‏—‏دانی‌ایل ۱۱:‏۳۶، ۳۷‏۔‏

۱۲، ۱۳.‏ شاہِ‌شمال نے کس لحاظ سے ’‏اپنے باپ‌دادا کے معبود‘‏ کو رد کِیا؟ (‏ب)‏شاہِ‌شمال نے کن ”‏عورتوں کی مرغوبہ“‏ کی بھی پروا نہ کی؟ (‏پ)‏شاہِ‌شمال نے کس ”‏معبود“‏ کی تعظیم کی؟‏

۱۲ ان نبوّتی الفاظ کی تکمیل میں، شاہِ‌شمال نے ’‏اپنے باپ‌دادا کے معبود،‘‏ دُنیائے‌مسیحیت کی تثلیثی الوہیت کو رد کر دیا۔ کمیونسٹ بلا‌ک نے دہریت کو کھلم‌کھلا فروغ دیا۔ یوں شاہِ‌شمال نے ”‏اپنے آپ ہی کو سب سے بڑا بناتے“‏ ہوئے خود کو ایک معبود بنا لیا۔ بادشاہ نے ”‏عورتوں کی مرغوبہ“‏—‏اپنی حکومت کے لئے خادمانہ کام کرنے والے شمالی ویتنام جیسے ماتحت ممالک—‏کی پروا کئے بغیر ”‏اپنی مرضی کے مطابق“‏ کام کِیا۔‏

۱۳ خدا کے فرشتے نے پیشینگوئی کو جاری رکھتے ہوئے یوں بیان کِیا:‏ ”‏اپنے مکان پر معبودِحصار کی تعظیم کرے گا اور جس معبود کو اُس کے باپ‌دادا نہ جانتے تھے سونا اور چاندی اور قیمتی پتھر اور نفیس ہدئے دیکر اُس کی تکریم کرے گا۔“‏ (‏دانی‌ایل ۱۱:‏۳۸‏)‏ درحقیقت، شاہِ‌شمال نے ”‏معبودِحصار“‏ یعنی جدید سائنسی عسکریت، [‏فوجی سازوسامان اور ہتھیاروں]‏پر بھروسا کِیا۔ وہ اِس ”‏معبود“‏ کی قربانگاہ پر بے‌پناہ دولت قربان کرکے نجات کا خواہاں ہوا۔‏

۱۴.‏ شاہِ‌شمال نے ایک نہایت مؤثر حکمتِ‌عملی سے کیسے کام لیا؟‏

۱۴ ”‏وہ بیگانہ معبود کی مدد سے محکم قلعوں پر حملہ کرے گا۔ جو اُس کو قبول کریں گے اُن کو بڑی عزت بخشے گا اور بہتوں پر حاکم بنائے گا اور رشوت میں ملک کو تقسیم کرے گا۔“‏ (‏دانی‌ایل ۱۱:‏۳۹‏)‏ اپنے عسکری ”‏بیگانہ معبود“‏ پر بھروسا رکھتے ہوئے، شاہِ‌شمال ایک نہایت مؤثر حکمتِ‌عملی اپنا کر ”‏اخیر زمانہ“‏ میں ایک ہیبتناک عسکری طاقت ثابت ہوا۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱‏)‏ اُس کے نظریات کی حمایت کرنے والوں کو سیاسی، مالی اور بعض‌اوقات فوجی مدد سے نوازا گیا۔‏

خاتمے کے وقت میں ”‏حملہ“‏

۱۵.‏ شاہِ‌جنوب نے شاہِ‌شمال پر کیسے ”‏حملہ“‏ کِیا؟‏

۱۵ ”‏خاتمہ کے وقت میں شاہِ‌جنوب اُس پر حملہ کرے گا،“‏ فرشتے نے دانی‌ایل کو بتایا۔ (‏دانی‌ایل ۱۱:‏۴۰الف‏)‏ کیا شاہِ‌جنوب نے ”‏خاتمہ کے وقت میں“‏ شاہِ‌شمال پر ”‏حملہ“‏ کِیا ہے؟ (‏دانی‌ایل ۱۲:‏۴،‏ ۹‏)‏ جی‌ہاں، ایسا ہی ہوا ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد، اُس وقت کے شاہِ‌شمال—‏جرمنی—‏پر تعزیری امن معاہدے کا مسلّط کِیا جانا یقیناً ایک ”‏حملہ“‏ تھا جس نے انتقام کی آگ کو بھڑکا دیا۔ دوسری عالمی جنگ میں اپنی فتح کے بعد، شاہِ‌جنوب نے اپنے خوفناک نیوکلیئر ہتھیاروں کے مُنہ اپنے حریف کی جانب کر دئے اور اس کے خلاف ایک طاقتور عسکری اتحاد، نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن ‏(‎NATO‎)‏ [‏شمالی اوقیانوس کا معاہداتی ادارہ، نیٹو]‏ کو تشکیل دیا۔ ایک برطانوی مؤرخ نیٹو کی کارکردگی کی بابت بیان کرتا ہے:‏ ”‏یوایس‌ایس‌آر [‏روس]‏ کو ’‏قابو‘‏ میں رکھنے کا یہی بنیادی ہتھیار تھا کیونکہ یہ اب یورپی اَمن کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن گیا تھا۔ اِس تنظیم کا مقصد ناقابلِ‌تردید کامیابی کے ساتھ ۴۰ سال میں پورا ہوا۔“‏ سرد جنگ کے دوران، شاہِ‌جنوب کے اِس ”‏حملے“‏ میں جاسوسی کے نہایت جدید اور حساس طریقوں کے علاوہ سفارتی اور عسکری جارحیت سے بھی کام لیا گیا۔‏

۱۶.‏ شاہِ‌شمال نے شاہِ‌جنوب کے حملے کا جواب کیسے دیا؟‏

۱۶ شاہِ‌شمال نے کیسا ردِعمل دکھایا؟ ”‏شاہِ‌شمال رتھ اور سوار اور بہت سے جہاز لے کر گردباد کی مانند اُس پر چڑھ آئے گا اور ممالک میں داخل ہو کر سیلاب کی مانند گذرے گا۔“‏ (‏دانی‌ایل ۱۱‏:‏۴۰ب)‏ آخری ایّام کی تاریخ نے شاہِ‌شمال کی توسیع‌پسندی کو واضح کِیا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران، نازی ”‏بادشاہ“‏ نے اپنی سرحدیں قریبی ممالک تک وسیع کر لی تھیں۔ اس جنگ کے خاتمے پر، جانشین ”‏بادشاہ“‏ [‏شاہِ‌شمال]‏ نے ایک طاقتور حکومت قائم کی۔ سرد جنگ کے دوران، شاہِ‌شمال نے اپنے حریف کے خلاف نیابتی جنگوں اور افریقہ، ایشیا، اور لاطینی امریکہ کی بغاوتوں میں حصہ لیا۔ اس نے سچے مسیحیوں کو ستایا اور انکی کارگزاری میں خلل پیدا کِیا مگر اُن کے کام کو بند نہ کر سکا۔ اِس کے علاوہ اُس نے اپنی عسکری اور سیاسی جارحیتوں کی بدولت کئی ممالک پر تسلط جما لیا۔ فرشتے نے بالکل یہی پیشینگوئی کی تھی:‏ ”‏[‏وہ]‏ جلالی ملک [‏یہوواہ کے لوگوں کی روحانی حالت]‏ میں بھی داخل ہوگا اور بہت سے [‏ملک]‏ مغلوب ہو جائیں گے۔“‏—‏دانی‌ایل ۱۱:‏۴۱الف‏۔‏

۱۷.‏ شاہِ‌شمال کی توسیع‌پسندانہ پالیسی کی راہ میں کونسی رکاوٹیں تھیں؟‏

۱۷ تاہم، شاہِ‌شمال عالمی فتح حاصل نہ کر سکا۔ فرشتے نے پیشینگوئی کی:‏ ”‏اؔدوم اور موآؔب اور بنی‌عمون کے خاص لوگ اُسکے ہاتھ سے چھڑا لئے جائیں گے۔“‏ (‏دانی‌ایل ۱۱‏:‏۴۱ب)‏ قدیم وقتوں میں، ادوم، موآب اور عمون شاہِ‌جنوب یعنی مصر اور شاہِ‌شمال یعنی سوریہ کی سلطنتوں کے درمیان واقع تھے۔ زمانۂ‌جدید میں وہ اُن قوموں اور تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہیں جنہیں شاہِ‌شمال اپنا ہدف بنانے کے باوجود اپنے زیرِتسلط نہ لا سکا۔‏

مصر بھی بچ نہیں پاتا

۱۸، ۱۹.‏ شاہِ‌جنوب نے کس لحاظ سے اپنے حریف کے اثرورُسوخ کو محسوس کِیا؟‏

۱۸ یہوواہ کا فرشتہ بیان جاری رکھتا ہے:‏ ”‏وہ [‏شاہِ‌شمال]‏ دیگر ممالک پر بھی ہاتھ چلائیگا اور ملکِ‌مصرؔ بھی بچ نہ سکے گا۔ بلکہ وہ سونے چاندی کے خزانوں اور مصرؔ کی تمام نفیس چیزوں پر قابض ہوگا اور لوبی اور کوشی بھی اُس کے ہمرکاب ہوں گے۔“‏ (‏دانی‌ایل ۱۱:‏۴۲، ۴۳‏)‏ شاہِ‌جنوب، ”‏مصر“‏ بھی شاہِ‌شمال کی توسیع‌پسندانہ پالیسیوں کے اثر سے محفوظ نہ رہا۔ مثال کے طور پر، شاہِ‌جنوب کو ویتنام میں غیرمعمولی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، ’‏لوبیوں اور کوشیوں‘‏ کے ساتھ کیا ہوا؟ قدیم مصر کی یہ پڑوسی قومیں جغرافیائی لحاظ سے جدید ”‏مصر“‏ (‏شاہِ‌جنوب)‏ کی پڑوسی اقوام کی خوب عکاسی کر سکتی ہیں۔ بعض‌اوقات، یہ شاہِ‌شمال کی حمایتی، ”‏ہمرکاب“‏ رہی ہیں۔‏

۱۹ کیا شاہِ‌شمال نے ’‏مصر کے پوشیدہ خزانوں‘‏ پر حکمرانی کی ہے؟ اِس نے واقعی شاہِ‌جنوب کے مالی ذرائع کے طرزِاستعمال پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اپنے حریف کے خوف کی وجہ سے، شاہِ‌جنوب نے ایک ہیبتناک بّری، بحری اور فضائی فوج کو برقرار رکھنے کے لئے خطیر رقم خرچ کی ہے۔ شاہِ‌شمال اِس حد تک شاہِ‌جنوب کے مالیاتی نظام پر اثرانداز ہوتے ہوئے واقعی اُس پر ”‏قابض“‏ یا مسلّط رہا ہے۔‏

آخری معرکہ‌آرائی

۲۰.‏ فرشتہ شاہِ‌شمال کی آخری معرکہ‌آرائی کی وضاحت کیسے کرتا ہے؟‏

۲۰ شاہِ‌شمال اور شاہِ‌جنوب کے مابین عسکری، معاشی بلکہ ہر طرح کی رقابت اپنے اختتام کو پہنچنے والی ہے۔ آئندہ رونما ہونے والی آویزش کی تفصیلات آشکارا کرتے ہوئے یہوواہ کے فرشتے نے کہا:‏ ”‏مشرقی اور شمالی اطراف سے افواہیں اُسے [‏شاہِ‌شمال کو]‏ پریشان کریں گی اور وہ بڑے غضب سے نکلے گا کہ بہتوں کو نیست‌ونابود کرے۔ اور وہ شاندار مُقدس پہاڑ اور سمندر کے درمیان شاہی خیمے لگائے گا لیکن اُس کا خاتمہ ہو جائے گا اور کوئی اُس کا مددگار نہ ہوگا۔“‏—‏دانی‌ایل ۱۱:‏۴۴، ۴۵‏۔‏

۲۱.‏ ابھی شاہِ‌شمال کی بابت کیا کچھ سیکھنا باقی ہے؟‏

۲۱ دسمبر ۱۹۹۱ میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے ساتھ شاہِ‌شمال کو بڑی کاری ضرب لگی۔ تاہم، دانی‌ایل ۱۱:‏۴۴، ۴۵ کی تکمیل کے وقت یہ بادشاہ کون ہوگا؟ کیا سابقہ سوویت یونین کے ممالک میں سے کوئی ایک اِس کردار کو ادا کرے گا؟ یا کیا وہ پہلے کی طرح مکمل طور پر اپنی شناخت بدل لے گا؟ کیا نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری میں دیگر اقوام کا شامل ہو جانا اسلحے کی نئی دوڑ پر منتج ہونے کے علاوہ اُس بادشاہ کی شناخت پر بھی اثرانداز ہوگا؟ اِن سوالوں کے جواب وقت ہی دے گا۔ ہمارے لئے دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم قیاس‌آرائیاں نہ کریں۔ تاہم جب شاہِ‌شمال آخری معرکہ‌آرائی شروع کرے گا تو بائبل پر مبنی بصیرت رکھنے والے سب لوگ پیشینگوئی کی تکمیل کی واضح سمجھ حاصل کر لیں گے۔—‏”‏دانی‌ایل ۱۱ باب کے بادشاہ“‏ کے تحت صفحہ ۲۸۴ کے مواد کا مطالعہ کریں۔‏

۲۲.‏ شاہِ‌شمال کے آخری حملے کی بابت کونسے سوال پیدا ہوتے ہیں؟‏

۲۲ تاہم، ایک بات ہم ضرور جانتے ہیں کہ شاہِ‌شمال بہت جلد کیا کارروائی کرے گا۔ ”‏مشرقی اور شمالی اطراف سے“‏ آنے والی افواہوں سے تحریک پا کر وہ ’‏بہتوں کو نیست‌ونابود کرنے‘‏ کی غرض سے ایک بڑی معرکہ‌آرائی کے لئے اُٹھے گا۔ یہ معرکہ‌آرائی کس کے خلاف ہوگی؟ نیز کونسی ”‏افواہیں“‏ ایسے حملے کا سبب بنتی ہیں؟‏

پریشان‌کُن افواہوں سے چوکس رہنا

۲۳.‏ (‏ا)‏ہرمجدون سے پہلے کونسا غیرمعمولی واقعہ رُونما ہوگا؟ (‏ب)‏”‏مشرق سے آنے والے بادشاہ“‏ کون ہیں؟‏

۲۳ ذرا غور کریں کہ مکاشفہ کی کتاب بڑے بابل، جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت کی بابت کیا کہتی ہے۔ ”‏قادرِمطلق خدا کے روزِعظیم کی لڑائی،“‏ ہرمجدون سے پہلے، سچی پرستش کے اِس بڑے دُشمن کو ”‏آگ میں جلا کر خاک کر“‏ دیا جائیگا۔ (‏مکاشفہ ۱۶:‏۱۴،‏ ۱۶؛‏ ۱۸:‏۲-‏۸‏)‏ اسکی تباہی کا اشارہ خدا کے قہر کے چھٹے پیالے کو علامتی دریائے‌فرات پر اُنڈیلنے سے ملتا ہے۔ اس سے دریا سوکھ جاتا ہے تاکہ ”‏مشرق سے آنے والے بادشاہوں کیلئے راہ تیار ہو جائے۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۶:‏۱۲‏)‏ یہ بادشاہ کون ہیں؟ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کے علاوہ کوئی نہیں!‏—‏مقابلہ کریں یسعیاہ ۴۱:‏۲؛‏ ۴۶:‏۱۰، ۱۱‏۔‏

۲۴.‏ یہوواہ کی کونسی کارروائی شاہِ‌شمال کو پریشان کر سکتی ہے؟‏

۲۴ مکاشفہ کی کتاب میں بڑے بابل کی تباہی کو اِن الفاظ میں بیان کِیا گیا ہے:‏ ”‏جو دس سینگ [‏آخری زمانے کے حکمران بادشاہ]‏ تُو نے دیکھے وہ اور حیوان [‏اقوامِ‌متحدہ]‏ اُس کسبی سے عداوت رکھینگے اور اُسے بیکس اور ننگا کر دینگے اور اُسکا گوشت کھا جائینگے اور اُسکو آگ میں جلا ڈالینگے۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۷:‏۱۶‏)‏ یہ حکمران بڑے بابل کو تباہ کیوں کرینگے؟ اِسلئے کہ ’‏خدا اُنکے دلوں میں یہ ڈالے گا کہ وہ اُس کی رائے پر چلیں۔‘‏ (‏مکاشفہ ۱۷:‏۱۷‏)‏ اِن حکمرانوں میں شاہِ‌شمال بھی شامل ہے۔ وہ ”‏مشرقی اطراف“‏ سے جو افواہیں سنتا ہے اُن سے مُراد یہوواہ کی انسانی لیڈروں کے دلوں میں بڑی مذہبی کسبی کو نیست‌ونابود کرنے کا خیال ڈالنے کی کارروائی ہو سکتی ہے۔‏

۲۵.‏ (‏ا)‏شاہِ‌شمال کا خاص نشانہ کیا ہے؟ (‏ب)‏شاہِ‌شمال کہاں ”‏شاہی خیمے“‏ لگاتا ہے؟‏

۲۵ لیکن شاہِ‌شمال کے غضب کا ایک خاص نشانہ ہے۔ وہ ”‏شاندار مُقدس پہاڑ اور سمندر کے درمیان شاہی خیمے لگائیگا،“‏ فرشتہ بیان کرتا ہے۔ دانی‌ایل کے زمانے میں، شاندار سمندر بحیرۂ‌روم تھا اور مُقدس پہاڑ صیون تھا جہاں پر کبھی خدا کی ہیکل ہوتی تھی۔ لہٰذا، پیشینگوئی کی تکمیل میں، غضبناک شاہِ‌شمال خدا کے لوگوں پر حملہ‌آور ہوتا ہے۔ روحانی مفہوم میں، ”‏شاندار مُقدس پہاڑ اور سمندر کے درمیان“‏ کی جگہ خدا کے ممسوح خادموں کی روحانی حالت کی نمائندگی کرتی ہے۔ وہ خدا سے جُدا نسلِ‌انسانی کے ”‏سمندر“‏ سے نکل آئے ہیں اور آسمانی کوہِ‌صیون پر یسوع مسیح کے ساتھ حکمرانی کرنے کی اُمید رکھتے ہیں۔—‏یسعیاہ ۵۷:‏۲۰؛‏ عبرانیوں ۱۲:‏۲۲؛‏ مکاشفہ ۱۴:‏۱‏۔‏

۲۶.‏ حزقی‌ایل کی پیشینگوئی کے مطابق ”‏شمال“‏ سے آنے والی افواہوں کا ماخذ کون ہو سکتا ہے؟‏

۲۶ دانی‌ایل کے ہمعصر حزقی‌ایل نے بھی ”‏آخری دنوں میں“‏ خدا کے لوگوں پر ایک حملے کی پیشینگوئی کی تھی۔ اس نے کہا کہ جارحانہ کارروائیاں ماجوج کے جوج یعنی شیطان اِبلیس کی طرف سے شروع کی جائیں گی۔ (‏حزقی‌ایل ۳۸:‏۱۴، ۱۶)‏ علامتی طور پر، جوج کس طرف سے آتا ہے؟ حزقی‌ایل کی معرفت یہوواہ فرماتا ہے کہ وہ ”‏شمال کی دُور اطراف سے آئے گا۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۳۸:‏۱۵)‏ حملہ خواہ کتنا ہی سفاکانہ کیوں نہ ہو، یہ یہوواہ کے لوگوں کو ختم نہیں کر پائے گا۔ یہ ڈرامائی مقابلہ جوج کے لشکروں کو نیست‌ونابود کرنے کے لئے یہوواہ کی حکمتِ‌عملی کا نتیجہ ہوگا۔ اِسی وجہ سے، یہوواہ شیطان سے کہتا ہے:‏ ”‏مَیں .‏ .‏ .‏ تیرے جبڑوں میں آنکڑے ڈالکر تجھے .‏ .‏ .‏ کھینچ نکالوں گا۔“‏ ”‏مَیں تجھے .‏ .‏ .‏ شمال کی دُور اطراف سے چڑھا لاؤں گا اور تجھے اسرائیل کے پہاڑوں پر پہنچاؤں گا۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۳۸:‏۴؛ ۳۹:‏۲)‏ شاہِ‌شمال کو غضبناک کر دینے والی ”‏شمالی اطراف“‏ سے افواہوں کا سبب یہوواہ ہی ہے۔ لیکن اِس کا فیصلہ یہوواہ ہی کرے گا اور صرف وقت ہی بتائے گا کہ ”‏مشرقی اور شمالی اطراف“‏ سے افواہوں میں بالآخر کیا کچھ شامل ہوگا۔‏

۲۷.‏ (‏ا)‏جوج شاہِ‌شمال سمیت زمین کے بادشاہوں کو یہوواہ کے لوگوں پر حملہ کرنے کی ترغیب کیوں دیگا؟ (‏ب)‏جوج کے حملے کا انجام کیا ہوگا؟‏

۲۷ جہانتک جوج کا تعلق ہے تو وہ ”‏خدا کے اسرائیل“‏ کی خوشحالی کی وجہ سے سخت حملے کی تیاری کرتا ہے جو دوسری بھیڑوں سمیت اب اُس کا دُنیا کا حصہ نہیں ہے۔ (‏گلتیوں ۶:‏۱۶؛‏ مکاشفہ ۷:‏۹؛‏ یوحنا ۱۰:‏۱۶؛‏ ۱۷:‏۱۵، ۱۶؛‏ ۱-‏یوحنا ۵:‏۱۹‏)‏ جوج ان ”‏لوگوں“‏ کو بھی ٹیڑھی نظر سے دیکھتا ہے جو ”‏تمام قوموں میں سے فراہم ہوئے ہیں جو مویشی اور [‏روحانی]‏ مال کے مالک ہیں۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۳۸:‏۱۲)‏ مسیحیوں کی روحانی حالت کو آسانی سے فتح ہونے والی ”‏دیہات کی سرزمین“‏ سمجھتے ہوئے جوج بنی‌آدم پر مکمل اختیار حاصل کرنے کی راہ میں حائل اس رکاوٹ کو ہٹانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ لیکن وہ ناکام رہتا ہے۔ ‏(‏حزقی‌ایل ۳۸:‏۱۱، ۱۸؛ ۳۹:‏۴)‏ جب شاہِ‌شمال سمیت دُنیا کے بادشاہ یہوواہ کے لوگوں پر حملہ کریں گے تو ’‏اُنکا خاتمہ ہو جائے گا۔‘‏

‏’‏بادشاہ کا خاتمہ ہو جائیگا‘‏

۲۸.‏ شاہِ‌شمال اور شاہِ‌جنوب کے مستقبل کی بابت ہم کیا جانتے ہیں؟‏

۲۸ شاہِ‌شمال کی آخری معرکہ‌آرائی شاہِ‌جنوب کے خلاف نہیں ہے۔ لہٰذا، شاہِ‌شمال کا خاتمہ اُس کے بڑے حریف کے ہاتھوں نہیں ہوتا۔ اِسی طرح سے، شاہِ‌جنوب کا خاتمہ بھی شاہِ‌شمال کے ہاتھوں نہیں ہوتا۔ شاہِ‌جنوب ”‏بے‌ہاتھ ہلائے [‏انسانی عمل‌دخل کے بغیر]‏“‏ ہی خدا کی بادشاہت کے ذریعے تباہ ہو جاتا ہے۔‏a (‏دانی‌ایل ۸:‏۲۵‏)‏ درحقیقت، خدا کی بادشاہت ہرمجدون کی جنگ پر تمام زمینی بادشاہوں کو صفحۂ‌ہستی سے نیست‌ونابود کر دے گی جن میں بدیہی طور پر شاہِ‌شمال بھی شامل ہوگا۔ (‏دانی‌ایل ۲:‏۴۴‏)‏ دانی‌ایل ۱۱:‏۴۴، ۴۵ اُس کی آخری لڑائی کا سبب بننے والے واقعات کی وضاحت پیش کرتی ہیں۔ پس کچھ عجب نہیں کہ شاہِ‌شمال کے خاتمے کے وقت ”‏کوئی اُس کا مددگار نہ ہوگا“‏!‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a اِس کتاب کے باب ۱۰ کا مطالعہ کریں۔‏

آپ کیا سمجھے ہیں؟‏

‏•دوسری عالمی جنگ کے بعد شاہِ‌شمال کا کردار کیسے بدل گیا؟‏

‏•بالآخر شاہِ‌شمال اور شاہِ‌جنوب کیساتھ کیا واقع ہوگا؟‏

‏•آپ دو بادشاہوں کے مابین رقابت کے سلسلے میں دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دینے سے کیسے مستفید ہوئے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ ۲۸۴ پر چارٹ/‏تصویر]‏

دانی‌ایل ۱۱ باب کے بادشاہ

شاہِ‌جنوب شاہِ‌شمال

دانی‌ایل ۱۱:‏۵ سلوکس اوّل نکاتر بطلیموس اوّل

دانی‌ایل ۱۱:‏۶ انطاکس دوم بطلیموس دوم

(‏بیوی لودیکے)‏ (‏بیٹی برنیکے)‏

دانی‌ایل ۱۱:‏۷-‏۹ سلوکس دوم بطلیموس سوم

دانی‌ایل ۱۱:‏۱۰-‏۱۲ انطاکس سوم بطلیموس چہارم

دانی‌ایل ۱۱:‏۱۳-‏۱۹ انطاکس سوم بطلیموس پنجم

(‏بیٹی قلوپطرہ اوّل)‏ جانشین:‏

جانشین:‏ بطلیموس ششم

سلوکس چہارم اور

انطاکس چہارم

دانی‌ایل ۱۱:‏۲۰ اوگوستُس

دانی‌ایل ۱۱:‏۲۱-‏۲۴ تبریس

دانی‌ایل ۱۱:‏۲۵، ۲۶ اوریلیان ملکہ زنوبیا

رومی سلطنت کا زوال

دانی‌ایل ۱۱:‏۲۷-‏۳۰الف جرمن سلطنت برطانیہ، بعدازاں

(‏پہلی عالمی جنگ)‏ اینگلوامریکن

عالمی طاقت

دانی‌ایل ۱۱‏:‏۳۰ب، ۳۱ ہٹلر کی تیسری رائخ اینگلوامریکن عالمی طاقت

(‏دوسری عالمی جنگ)‏

دانی‌ایل ۱۱:‏۳۲-‏۴۳ کمیونسٹ بلا‌ک اینگلوامریکن

(‏دوسرد جنگ)‏ عالمی طاقت

دانی‌ایل ۱۱:‏۴۴، ۴۵ ابھی برپا ہوگاb اینگلوامریکن

عالمی طاقت

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

b دانی‌ایل ۱۱ باب کی پیشینگوئی مختلف اوقات میں شاہِ‌شمال اور شاہِ‌جنوب کا کردار ادا کرنے والی سیاسی شخصیات یا سلطنتوں کا قبل‌ازوقت نام نہیں بتاتی۔ واقعات رونما ہونے کے ساتھ ہی اُن کی شناخت‌واضح ہو جاتی ہے۔ علاوہ‌ازیں، وقتاًفوقتاً دونوں بادشاہوں میں سے کبھی ایک کے زورآور ہو جانے اور دوسرے کے کمزور پڑ جانے کی وجہ سے امن کا دَور بھی رہتا ہے۔‏

‏[‏صفحہ ۲۷۱ پر صرف تصویر ہے]‏

‏[‏صفحہ ۲۷۹ پر تصویریں]‏

شاہِ‌جنوب کے ”‏حملے“‏ میں جاسوسی کے نہایت جدید اور حساس طریقوں کے علاوہ عسکری جارحیت بھی شامل رہی ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں