یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • دا باب 18 ص.‏ 306-‏319
  • یہوواہ کا دانی‌ایل سے شاندار اَجر کا وعدہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ کا دانی‌ایل سے شاندار اَجر کا وعدہ
  • دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏اپنی راہ لے جبتک کہ مدت پوری نہ ہو“‏
  • خدائی کلام کے طالبعلم کے طور پر برداشت کرنا
  • دانی‌ایل دُعا میں مشغول رہا
  • خدائی کلام کے مُعلم کے طور پر برداشت کرنا
  • ‏”‏تُو آرام کریگا“‏
  • ‏”‏تُو .‏ .‏ .‏ اُٹھ کھڑا ہوگا“‏
  • فردوس میں دانی‌ایل اور آپکی میراث!‏
  • خدا کے پیامبر سے تقویت پانا
    دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
  • دانی‌ایل کی کتاب اور آپ
    دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
  • دانی‌ایل کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • دانی‌ایل—‏ایک زیرِتنقید کتاب
    دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
مزید
دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
دا باب 18 ص.‏ 306-‏319

اٹھارھواں باب

یہوواہ کا دانی‌ایل سے شاندار اَجر کا وعدہ

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ایک دَوڑنے والے کو جیتنے کے لئے کس اہم خوبی کی ضرورت ہوتی ہے؟ (‏ب)‏پولس رسول یہوواہ کی خدمت میں وفادارانہ زندگی کا موازنہ ایک دَوڑ کیساتھ کیسے کرتا ہے؟‏

ایک دَوڑنے والا آخری نشان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ تھک کر چُور ہو جانے کے باوجود اپنی منزل کو بالکل سامنے پا کر دَوڑ کے آخری لمحوں میں پوری جان لگا دیتا ہے۔ وہ اپنا پورا زور لگا کر بالآخر نشان تک پہنچ جاتا ہے!‏ اُسکے چہرے پر اطمینان اور فتح کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اُسے آخر تک برداشت کرنے کا اَجر مل گیا ہے۔‏

۲ دانی‌ایل ۱۲ باب کے آخر پر ہم خدا کے عزیز نبی کو اپنی ”‏دَوڑ“‏—‏یہوواہ کیلئے خادمانہ زندگی—‏کو پورا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ مسیحی دَور سے قبل یہوواہ کے وفادار خادموں کی مثالوں کا ذکر کرتے ہوئے پولس نے لکھا:‏ ”‏پس جبکہ گواہوں کا ایسا بڑا بادل ہمیں گھیرے ہوئے ہے تو آؤ ہم بھی ہر ایک بوجھ اور اُس گناہ کو جو ہمیں آسانی سے اُلجھا لیتا ہے دُور کرکے اُس دَوڑ میں صبر سے دَوڑیں جو ہمیں درپیش ہے۔ اور ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوؔع کو تکتے رہیں جس نے اُس خوشی کیلئے جو اُسکی نظروں کے سامنے تھی شرمندگی کی پروا نہ کرکے صلیب کا دُکھ سہا اور خدا کے تخت کی دہنی طرف جا بیٹھا۔“‏—‏عبرانیوں ۱۲:‏۱، ۲‏۔‏

۳.‏ (‏ا)‏کس چیز نے دانی‌ایل کو ’‏صبر سے دَوڑنے‘‏ کی تحریک دی تھی؟ (‏ب)‏یہوواہ کے فرشتے نے دانی‌ایل کو کونسی تین مختلف باتیں بتائی تھیں؟‏

۳ دانی‌ایل بھی ’‏گواہوں کے بڑے بادل‘‏ میں شامل تھا۔ وہ یقیناً ’‏صبر سے دَوڑنے‘‏ والا تھا جس نے خدا کیلئے اپنی محبت سے ایسا کرنے کی تحریک پائی تھی۔ یہوواہ عالمی حکومتوں کے مستقبل کی بابت دانی‌ایل پر کافی کچھ آشکارا کر چکا تھا لیکن اب اُس نے اُسے یہ ذاتی حوصلہ‌افزائی دی:‏ ”‏پر تُو اپنی راہ لے جبتک کہ مدت پوری نہ ہو کیونکہ تُو آرام کریگا اور ایّام کے اختتام پر اپنی میراث میں اُٹھ کھڑا ہوگا۔“‏ ‏(‏دانی‌ایل ۱۲:‏۱۳‏)‏ یہوواہ کا فرشتہ دانی‌ایل کو تین مختلف باتیں بتا رہا تھا:‏(‏ا)‏وہ ”‏اپنی راہ لے جبتک کہ مدت پوری نہ ہو،“‏ (‏۲)‏وہ ”‏آرام“‏ کریگا اور (‏۳)‏وہ مستقبل میں ”‏اُٹھ کھڑا“‏ ہوگا۔ آجکل یہ الفاظ مسیحیوں کو زندگی کی دَوڑ میں آخر تک صبر سے دَوڑنے کیلئے کیسے حوصلہ دے سکتے ہیں؟‏

‏”‏اپنی راہ لے جبتک کہ مدت پوری نہ ہو“‏

۴.‏ فرشتے کا کیا مطلب تھا جب اُس نے کہا، ”‏تُو اپنی راہ لے جبتک کہ مدت پوری نہ ہو“‏ اور یہ بات دانی‌ایل کیلئے چیلنج‌خیز کیوں ثابت ہوئی ہوگی؟‏

۴ فرشتے کا کیا مطلب تھا جب اُس نے دانی‌ایل سے کہا:‏ ”‏پر تُو اپنی راہ لے جبتک کہ مدت پوری نہ ہو۔“‏ وہ کس مدت کے پورا ہونے کا ذکر کر رہا تھا؟ دانی‌ایل اب تقریباً ۱۰۰ برس کا تھا لہٰذا یہ اُسکی زندگی کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتی ہے جو غالباً بہت نزدیک تھا۔‏a فرشتہ دانی‌ایل کو وفاداری کیساتھ موت تک صبر کرنے کی تلقین کر رہا تھا۔ لیکن ایسا کرنا یقیناً آسان نہیں تھا۔ دانی‌ایل بابل کا زوال اور اسیر یہودیوں کے بقیے کو یہوداہ اور یروشلیم لوٹتے دیکھ چکا تھا۔ اِس سے عمررسیدہ نبی کو یقیناً بڑی خوشی ہوئی ہوگی۔ اُسکے واپس آبائی وطن جانے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا۔ شاید وہ اُس وقت بہت بوڑھا اور ضعیف تھا۔ یا شاید یہوواہ اُسے بابل ہی میں رکھنا چاہتا تھا۔ بہرصورت، دانی‌ایل یقیناً اپنے ہموطنوں کیساتھ یہوداہ جانے کا مشتاق ہوگا۔‏

۵.‏ دانی‌ایل کے آخر تک برداشت کرنے کی کیا شہادت ہے؟‏

۵ دانی‌ایل نے فرشتے کے اِن مشفقانہ الفاظ سے یقیناً حوصلہ‌افزائی پائی ہوگی:‏ ”‏تُو اپنی راہ لے جبتک کہ مدت پوری نہ ہو۔“‏ ان سے شاید ہمیں یسوع مسیح کے وہ الفاظ یاد آئیں جو اُس نے اِس کے چھ صدیاں بعد کہے تھے:‏ ”‏جو آخر تک برداشت کریگا وہ نجات پائیگا۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۱۳‏)‏ بِلاشُبہ دانی‌ایل نے ایسا ہی کِیا تھا۔ زندگی کی دَوڑ ختم ہونے تک وفادار رہنے سے اُس نے آخر تک برداشت کی تھی۔ اِسی وجہ سے بعدازاں خدا کے کلام میں دانی‌ایل کو اچھے نام سے یاد کِیا گیا ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۳۲، ۳۳‏)‏ کس چیز نے دانی‌ایل کو آخر تک برداشت کرنے کے قابل بنایا تھا؟ اُسکی سوانح‌حیات اِس سوال کا جواب دیتی ہے۔‏

خدائی کلام کے طالبعلم کے طور پر برداشت کرنا

۶.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ دانی‌ایل خدا کے کلام کا مستعد طالبعلم تھا؟‏

۶ دانی‌ایل کیلئے آخر تک برداشت کرنے میں خدا کے ہیجان‌خیز وعدوں کا گہرا مطالعہ اور اُن پر غوروخوض کرنا شامل تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ دانی‌ایل خدا کے کلام کا مخلص طالبعلم تھا۔ ورنہ وہ یرمیاہ کی معرفت یہوواہ کے وعدے سے کیسے واقف ہوتا کہ اسیری کی مدت ۷۰ سال ہوگی۔ دانی‌ایل نے خود لکھا:‏ ”‏مَیں دانیؔ‌ایل نے کتابوں میں اُن برسوں کا حساب سمجھا۔“‏ (‏دانی‌ایل ۹:‏۲؛‏ یرمیاہ ۲۵:‏۱۱، ۱۲‏)‏ بِلاشُبہ، دانی‌ایل نے اُس وقت خدا کے کلام پر مشتمل موجود کتابوں کی تحقیق کی تھی۔ یقیناً دانی‌ایل نے موسیٰ، داؤد، سلیمان، یسعیاہ، یرمیاہ، حزقی‌ایل کی دستیاب تحریروں کے مطالعے اور اُن پر غوروخوض سے کافی لطف اُٹھایا ہوگا۔‏

۷.‏ جب ہم اپنے زمانے کا موازنہ دانی‌ایل کے زمانے سے کرتے ہیں تو خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے سے ہمیں کونسے فوائد حاصل ہوتے ہیں؟‏

۷ آجکل اپنے اندر برداشت پیدا کرنے کیلئے خدا کے کلام کا مطالعہ اور علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ (‏رومیوں ۱۵:‏۴-‏۶؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱۵‏)‏ چنانچہ ہمارے پاس مکمل بائبل موجود ہے جس میں صدیوں کے دوران پایۂ‌تکمیل کو پہنچنے والی دانی‌ایل کی بعض پیشینگوئیوں کا تحریری ریکارڈ بھی شامل ہے۔ علاوہ‌ازیں، ہمیں دانی‌ایل ۱۲:‏۴ کی پیشینگوئی کے مطابق، ”‏آخری زمانہ“‏ میں زندہ رہنے کا شرف بھی حاصل ہے۔ ہمارے زمانہ میں، ممسوحوں کو روحانی بصیرت کی برکت حاصل ہے جو اِس تاریک دُنیا میں سچائی کے چراغوں کی مانند چمکتے ہیں۔ نتیجتاً، آجکل دانی‌ایل کی کتاب کی کئی گہری پیشینگوئیاں ہمارے لئے بہت پُرمعنی بن گئی ہیں جن میں سے بعض نے اُسے بھی سراسیمہ کر دیا تھا۔ پس، ہمیں خدا کے کلام کا روزانہ مطالعہ کرنا چاہئے اور اِسے کبھی بھی معمولی خیال نہیں کرنا چاہئے۔ ایسا کرنے سے برداشت کرنے میں ہماری مدد ہوگی۔‏

دانی‌ایل دُعا میں مشغول رہا

۸.‏ دانی‌ایل نے دُعا کے سلسلے میں کیا نمونہ قائم کِیا؟‏

۸ دُعا نے بھی آخر تک برداشت کرنے میں دانی‌ایل کی مدد کی تھی۔ وہ پورے دل سے ایمان اور اعتماد کیساتھ روزانہ یہوواہ خدا کی طرف رُجوع کرتا اور اُس سے ہمکلام ہوتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہوواہ ‏’‏دُعا کا سننے والا‘‏ ہے۔ (‏زبور ۶۵:‏۲‏؛ مقابلہ کریں عبرانیوں ۱۱:‏۶‏۔)‏ جب دانی‌ایل اسرائیل کی باغیانہ روش کے باعث دل‌شکستہ تھا تو اُس نے یہوواہ کے سامنے اپنے دلی احساسات کا اظہار کِیا۔ (‏دانی‌ایل ۹:‏۴-‏۱۹‏)‏ جب دارا نے یہ حکم بھی صادر کر دیا کہ ۳۰ دن تک اُس کے سوا کسی اَور معبود سے کوئی درخواست نہ کی جائے تو دانی‌ایل پھر بھی یہوواہ خدا سے دُعا کرنے سے باز نہ آیا۔ (‏دانی‌ایل ۶:‏۱۰‏)‏ جب ہم اِس بات پر غور کرتے ہیں کہ اِس وفادار عمررسیدہ شخص نے دُعا جیسے بیش‌قیمت استحقاق کو ترک کرنے کی بجائے شیروں کی ماند میں جانا قبول کِیا تو کیا ہمارا دل جوش سے نہیں بھر جاتا؟ اِس میں کوئی شک نہیں کہ دانی‌ایل مرتے دم تک وفاداری کیساتھ روزانہ گرمجوشی سے دُعا کرنے کے اپنے دستور پر قائم رہا۔‏

۹.‏ ہمیں دُعا کے شرف کو کبھی معمولی خیال کیوں نہیں کرنا چاہئے؟‏

۹ دُعا ایک سادہ سا عمل ہے۔ ہم کہیں بھی، کسی بھی وقت، بآواز یا دل میں دُعا کر سکتے ہیں۔ تاہم، ہمیں اِس بیش‌قیمت استحقاق کو کبھی معمولی خیال نہیں کرنا چاہئے۔ بائبل کے مطابق دُعا کا تعلق برداشت، استقلال اور روحانی طور پر بیدار رہنے سے ہے۔ (‏لوقا ۱۸:‏۱؛‏ رومیوں ۱۲:‏۱۲؛‏ افسیوں ۶:‏۱۸؛‏ کلسیوں ۴:‏۲‏)‏ کیا یہ قابلِ‌قدر بات نہیں کہ ہم کائنات کی سب سے بڑی ہستی کیساتھ براہِ‌راست اور بآسانی رابطہ رکھ سکتے ہیں؟ یہ حقیقت تو اَور بھی حوصلہ‌افزا ہے کہ وہ ہماری دُعا سنتا بھی ہے!‏ یاد کریں کہ جب دانی‌ایل نے دُعا کی تو اِسکے جواب میں یہوواہ نے اپنے فرشتے کو بھیجا تھا۔ فرشتہ دانی‌ایل کی دُعا کے دوران ہی پہنچ گیا تھا!‏ (‏دانی‌ایل ۹:‏۲۰، ۲۱‏)‏ اگرچہ ہمارے دَور میں ایسی ملکوتی ملاقاتیں تو ممکن نہیں لیکن یہوواہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ (‏ملاکی ۳:‏۶)‏ جیسے اُس نے دانی‌ایل کی دُعا سنی تھی وہ ہماری دُعائیں بھی سنیگا۔ نیز دُعا کے ذریعے یہوواہ کے اَور زیادہ قریب ہو جانے سے اُسکے ساتھ ہمارا ایک ایسا رشتہ قائم ہو جائیگا جو دانی‌ایل کی طرح آخر تک برداشت کرنے میں ہماری مدد کریگا۔‏

خدائی کلام کے مُعلم کے طور پر برداشت کرنا

۱۰.‏ دانی‌ایل کیلئے خدا کے کلام کی تعلیم دینا کیوں اہم تھا؟‏

۱۰ دانی‌ایل کو ایک اَور مفہوم میں بھی ’‏مدت پوری ہونے تک اپنی راہ لینی‘‏ تھی۔ اُسے خدائی کلام کے مُعلم کے طور پر بھی برداشت کرنی تھی۔ اُس نے اِس بات کو کبھی فراموش نہیں کِیا تھا کہ وہ اُن برگزیدہ لوگوں میں سے ہے جنکی بابت صحائف بیان کرتے ہیں:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ فرماتا ہے تم میرے گواہ ہو اور میرا خادم بھی جسے مَیں نے برگزیدہ کِیا۔“‏ (‏یسعیاہ ۴۳:‏۱۰‏)‏ دانی‌ایل نے اِس ذمہ‌داری کو پورا کرنے کیلئے بھرپور کوشش کی۔ غالباً اُس کے کام میں اپنی قوم کے لوگوں کو تعلیم دینا شامل تھا جو بابل میں اسیر تھے۔ تین عبرانی جوانوں—‏حننیاہ، میساایل اور عزریاہ—‏کے سوا جنہیں اُسکے ”‏رفیقوں“‏ کے طور پر بیان کِیا گیا ہے ہمیں دیگر یہودیوں کیساتھ اُسکے تعلقات کی بابت زیادہ علم نہیں ہے۔ (‏دانی‌ایل ۱:‏۷؛‏ ۲:‏۱۳،‏ ۱۷، ۱۸‏)‏ اُن کی گہری دوستی نے برداشت کرنے کے لئے یقیناً ایک دوسرے کی بہت مدد کی ہوگی۔ (‏امثال ۱۷:‏۱۷‏)‏ دانی‌ایل کو یہوواہ کی طرف سے خاص بصیرت حاصل ہونے کی وجہ سے اپنے دوستوں کو بہت کچھ سکھانا تھا۔ (‏دانی‌ایل ۱:‏۱۷‏)‏ لیکن اُسے اَور بھی تعلیمی کام کرنے تھے۔‏

۱۱.‏ (‏ا)‏دانی‌ایل کے کام کی خصوصیت کیا تھی؟ (‏ب)‏دانی‌ایل اپنی غیرمعمولی تفویض کو پورا کرنے میں کتنا مؤثر ثابت ہوا تھا؟‏

۱۱ دانی‌ایل نے دوسرے نبیوں کی نسبت غیرقوم کی ممتاز شخصیات کو گواہی دینے کا زیادہ کام انجام دیا۔ اگرچہ اُسے اکثر ناموافق پیغامات سنانے پڑے توبھی اُس نے ان حاکموں کو کبھی بھی قابلِ‌نفرت یا کمتر خیال نہ کِیا۔ وہ اُن کیساتھ نہایت احترام اور ہوشیاری سے کلام کرتا تھا۔ اِسکے باوجود حاسد اور سازشی ناظموں جیسے لوگ دانی‌ایل کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ تاہم، دیگر حکام اُسکا احترام کرتے تھے۔ دانی‌ایل نبی کو بادشاہوں اور حکیموں کو سراسیمہ کرنے والے بھیدوں کو بیان کرنے کی خدائی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ (‏دانی‌ایل ۲:‏۴۷، ۴۸؛‏ ۵:‏۲۹‏)‏ یہ سچ ہے کہ وہ اپنی جوانی کی طرح اپنے بڑھاپے میں اتنا سرگرم نہیں رہ سکتا تھا۔ تاہم، وہ مدت پوری ہونے تک یقیناً وفاداری کیساتھ اپنے شفیق خدا کے گواہ کے طور پر حتی‌الوسع اُسکی خدمت کرتا رہا۔‏

۱۲.‏ (‏ا)‏ آجکل ہم مسیحیوں کے طور پر کونسی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہیں؟ (‏ب)‏ہم ”‏باہر والوں کے ساتھ ہوشیاری سے برتاؤ“‏ کرنے کی بابت پولس کی نصیحت پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏

۱۲ جیسے دانی‌ایل اور اُسکے تین رفیقوں نے ایک دوسرے کی مدد کی تھی اُسی طرح آجکل مسیحی کلیسیا میں ہمیں بھی ایسے وفادار ساتھی مل سکتے ہیں جو برداشت کرنے میں ہماری مدد کرینگے۔ ہم ”‏باہمی حوصلہ‌افزائی“‏ کے ذریعے بھی ایک دوسرے کو تعلیم دیتے ہیں۔ (‏رومیوں ۱:‏۱۱، ۱۲‏، این‌ڈبلیو)‏ دانی‌ایل کی طرح ہمیں بھی بے‌ایمانوں کو گواہی دینے کی ذمہ‌داری سونپی گئی ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۱۴؛‏ ۲۸:‏۱۹، ۲۰‏)‏ لہٰذا، ہمیں اپنی مہارتوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کیساتھ یہوواہ کی بابت بات‌چیت کرتے وقت ”‏حق کے کلام کو درستی سے کام میں“‏ لا سکیں۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۲:‏۱۵‏)‏ نیز پولس رسول کی اس نصیحت پر عمل کرنا بھی مددگار ثابت ہوگا:‏ ”‏باہر والوں کے ساتھ ہوشیاری سے برتاؤ کرو۔“‏ (‏کلسیوں ۴:‏۵‏)‏ ایسی ہوشیاری میں اُن لوگوں کی بابت متوازن نظریہ رکھنا شامل ہے جو ہمارے ہم‌ایمان نہیں ہیں۔ ہم خود کو افضل خیال کرتے ہوئے ایسے لوگوں کو کمتر نہیں سمجھتے۔ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۱۵‏)‏ اِسکی بجائے، ہم اُنکے دل تک پہنچنے کے لئے موقع‌شناسی اور ہوشیاری کیساتھ خدا کے کلام کو استعمال کرتے ہوئے اُنہیں سچائی کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ہم کسی کے دل تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اِس سے ہمیں کتنی خوشی حاصل ہوتی ہے!‏ ایسی خوشی دانی‌ایل کی طرح آخر تک برداشت کرنے میں یقیناً ہماری مدد کرتی ہے۔‏

‏”‏تُو آرام کریگا“‏

۱۳، ۱۴.‏ بہت سے بابلی مرنے سے خوفزدہ کیوں تھے مگر دانی‌ایل کا نقطۂ‌نظر فرق کیسے تھا؟‏

۱۳ اِسکے بعد فرشتے نے دانی‌ایل کو یقین‌دہانی کرائی:‏ ”‏تُو آرام کرے گا۔“‏ (‏دانی‌ایل ۱۲:‏۱۳‏)‏ اِن الفاظ کا کیا مطلب تھا؟ بِلاشُبہ، دانی‌ایل جانتا تھا کہ وہ بہت جلد اِس فانی دُنیا سے کوچ کر جائیگا۔ آدم کے زمانے سے لیکر ہمارے زمانہ تک موت تمام انسانوں پر حکومت کرتی رہی ہے۔ بائبل موزوں طور پر موت کو ”‏دُشمن“‏ کہتی ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۶‏)‏ تاہم، دانی‌ایل کیلئے اُسکے چوگرد بسنے والے اُن تمام بابلیوں کی نسبت موت کے امکان کا بالکل فرق مطلب تھا۔ وہ کوئی ۴،۰۰۰ جھوٹے دیوتاؤں کی پیچیدہ پرستش میں غرق تھے جسکی وجہ سے وہ موت کو دہشتناک اور تکلیف‌دہ خیال کرتے تھے۔ اُنکا عقیدہ تھا کہ ناخوشگوار زندگی گزارنے یا متشدّد موت مرنے والے لوگ بعد میں انتقام‌پرور روحیں بن کر زندہ اشخاص میں بسیرا کرتے ہیں۔ بابلی مُردوں کی ایک ایسی خوفناک دُنیا پر بھی یقین رکھتے تھے جس میں انسانی اور حیوانی شکل کے بھیانک بھوت‌پریت آباد تھے۔‏

۱۴ دانی‌ایل موت کی بابت بالکل فرق نظریہ رکھتا تھا۔ دانی‌ایل کے زمانے سے سینکڑوں سال پہلے، سلیمان بادشاہ کو یہ کہنے کا الہام ہوا تھا:‏ ”‏مُردے کچھ بھی نہیں جانتے۔“‏ (‏واعظ ۹:‏۵‏)‏ اِسکے علاوہ مرنے والے کی بابت زبورنویس نے اپنے گیت میں کہا تھا:‏ ”‏اُسکا دم نکل جاتا ہے تو وہ مٹی میں مل جاتا ہے۔ اُسی دن اُس کے منصوبے فنا ہو جاتے ہیں۔“‏ (‏زبور ۱۴۶:‏۴‏)‏ لہٰذا، دانی‌ایل سمجھتا تھا کہ اُسکے سلسلے میں فرشتے کے الفاظ سچ ثابت ہونگے۔ موت کا مطلب آرام تھا۔ اِس سے مُراد ناخوشگوار یادیں، افسوسناک پچھتاوے، کوئی عذاب اور یقیناً کوئی بھوت‌پریت نہیں ہے۔ لعزر کی موت پر یسوع مسیح نے بھی ایسی ہی بات کہی تھی۔ اُس نے کہا:‏ ”‏ہمارا دوست لعزؔر سو گیا ہے۔“‏—‏یوحنا ۱۱:‏۱۱‏۔‏

۱۵.‏ موت کا دن پیدا ہونے کے دن سے کیسے بہتر ہو سکتا ہے؟‏

۱۵ ایک اَور وجہ پر بھی غور کریں کہ دانی‌ایل موت سے خوفزدہ کیوں نہیں تھا۔ خدا کا کلام بیان کرتا ہے:‏ ”‏نیکنامی بیش‌بہا عطر سے بہتر ہے اور مرنے کا دن پیدا ہونے کے دن سے۔“‏ (‏واعظ ۷:‏۱‏)‏ موت کا دن یعنی ماتم کا وقت کیسے پیدا ہونے کے دن سے بہتر ہو سکتا ہے جوکہ خوشی کا دن ہوتا ہے؟ اِسکا جواب ’‏نام‘‏ کی اصطلا‌ح میں پایا جاتا ہے۔ ”‏عطر“‏ بہت قیمتی ہو سکتا ہے۔ ایک مرتبہ لعزر کی بہن مریم نے سال‌بھر کی مزدوری کے برابر قیمت کا عطر یسوع کے پاؤں پر ڈال دیا تھا!‏ (‏یوحنا ۱۲:‏۱-‏۷‏)‏ ایک نام کیسے اتنا قیمتی ہو سکتا ہے؟ واعظ ۷:‏۱ میں اِسے ”‏نیکنامی“‏ کہا گیا ہے۔ دراصل کسی شخص کے محض نام کی بجائے اُسکی شخصیت اور صفات زیادہ قیمتی ہوتی ہیں۔ جب کوئی شخص پیدا ہوتا ہے تو نہ وہ نیکنام ہوتا ہے اور نہ ہی نیک کاموں کا کوئی ریکارڈ رکھتا ہے۔ حتیٰ‌کہ مخصوص نام کی حامل اُسکی شخصیت اور صفات کی کوئی انمول یادیں بھی نہیں ہوتیں۔ لیکن زندگی کے اختتام پر، اُسکا نام اِن تمام باتوں کا آئینہ‌دار بن چکا ہوتا ہے۔ چنانچہ، اگر خدا کے نقطۂ‌نظر سے یہ نیک نام ہے تو یہ کسی بھی اثاثے سے زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے۔‏

۱۶.‏ (‏ا)‏دانی‌ایل نے خدا کے حضور نیک نام پیدا کرنے کی کوشش کیسے کی تھی؟ (‏ب)‏دانی‌ایل اس اعتماد کے ساتھ کیوں مر سکتا تھا کہ وہ یہوواہ کے حضور نیک نام پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے؟‏

۱۶ خدا کی نظر میں نیکنامی حاصل کرنے کی خاطر دانی‌ایل ساری زندگی بھرپور کوشش کرتا رہا اور یہوواہ نے بھی اُسکے کسی نیک کام کو نظرانداز نہ کِیا۔ اُس نے دانی‌ایل پر نظر رکھی اور اُسکے دل کو جانچا۔ خدا نے بادشاہ داؤد کیلئے بھی بہت کچھ کِیا تھا کہ اُس نے گیت میں کہا:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏!‏ تُو نے مجھے جانچ لیا اور پہچان لیا۔ تُو میرا اُٹھنا بیٹھنا جانتا ہے۔ تُو میرے خیال کو دُور سے سمجھ لیتا ہے۔“‏ (‏زبور ۱۳۹:‏۱، ۲‏)‏ یہ سچ ہے کہ دانی‌ایل کامل نہیں تھا۔ وہ گنہگار آدم کی اولاد اور ایک گنہگار قوم کا فرد تھا۔ (‏رومیوں ۳:‏۲۳‏)‏ لیکن دانی‌ایل نے اپنی گنہگارانہ روش سے توبہ کر لی تھی اور ہمیشہ راستی سے اپنے خدا کے ساتھ چلتا رہا۔ اِسلئے وفادار نبی پُراعتماد تھا کہ یہوواہ اُس کے گناہوں کو معاف فرمائے گا اور اُس سے کبھی آزردہ نہیں ہوگا۔ (‏زبور ۱۰۳:‏۱۰-‏۱۴؛‏ یسعیاہ ۱:‏۱۸‏)‏ یہوواہ اپنے وفادار خادموں کے نیک کاموں کو یاد رکھتا ہے۔ (‏عبرانیوں ۶:‏۱۰‏)‏ اِسی وجہ سے یہوواہ کے فرشتے نے دانی‌ایل کو دو مرتبہ ”‏عزیز مرد“‏ کہہ کر پکارا تھا۔ (‏دانی‌ایل ۱۰:‏۱۱،‏ ۱۹‏)‏ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہوواہ کی نظر میں دانی‌ایل کی بڑی قدر تھی۔ لہٰذا دانی‌ایل یہ جانتے ہوئے اطمینان کی حالت میں مر سکتا تھا کہ اُس نے یہوواہ کے حضور نیک نام پیدا کِیا ہے۔‏

۱۷.‏ یہوواہ کے حضور اب نیکنام پیدا کرنا کیوں ضروری ہے؟‏

۱۷ ہم میں سے ہر ایک یہ پوچھ سکتا ہے، ’‏کیا مَیں نے یہوواہ کے حضور نیک نام پیدا کر لیا ہے؟‘‏ ہم پُرآشوب زمانے میں رہتے ہیں۔ یہ سوچ کہ ہم میں سے کوئی بھی کسی بھی وقت موت کا شکار ہو سکتا ہے کوئی غیرصحتمندانہ بات نہیں بلکہ حقیقت‌پسندی ہے۔ (‏واعظ ۹:‏۱۱‏)‏ پس یہ کتنا ضروری ہے کہ ہم سب بِلاتاخیر، اِسی وقت یہوواہ کے حضور نیک نام پیدا کرنے کا عزم کریں۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو پھر ہمیں موت سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ نیند کی طرح محض آرام کی حالت ہے۔ لہٰذا، جس طرح ہم نیند کے بعد جاگ جاتے ہیں اُسی طرح موت کے بعد زندہ ہونا بھی ممکن ہے!‏

‏”‏تُو .‏ .‏ .‏ اُٹھ کھڑا ہوگا“‏

۱۸، ۱۹.‏ (‏ا)‏جب فرشتے نے دانی‌ایل کو بتایا کہ وہ مستقبل میں ”‏اُٹھ کھڑا ہوگا“‏ تو اُس کا کیا مطلب تھا؟ (‏ب)‏دانی‌ایل اُمیدِقیامت سے کیوں واقف تھا؟‏

۱۸ دانی‌ایل کی کتاب کا اختتام انسان کے ساتھ خدا کے نہایت شاندار وعدے سے ہوتا ہے۔ یہوواہ کے فرشتے نے دانی‌ایل کو بتایا:‏ ”‏تُو .‏ .‏ .‏ ایّام کے اختتام پر اپنی میراث میں اُٹھ کھڑا ہوگا۔“‏ فرشتے کا کیا مطلب تھا؟ پس اگر ”‏آرام“‏ کا مطلب موت تھا تو دانی‌ایل کیساتھ یہ وعدہ کہ وہ مستقبل میں ”‏اُٹھ کھڑا ہوگا،“‏ یقیناً قیامت ہی کی طرف اشارہ کرتا ہے!‏b درحقیقت، بعض علما بیان کرتے ہیں کہ عبرانی صحائف میں قیامت کی بابت پہلا واضح حوالہ دانی‌ایل ۱۲ باب ہی میں پایا جاتا ہے۔ (‏دانی‌ایل ۱۲:‏۲‏)‏ تاہم، اُنکا یہ بیان غلط ہے۔ دانی‌ایل اُمیدِقیامت سے بخوبی واقف تھا۔‏

۱۹ مثال کے طور پر، دانی‌ایل اِن الفاظ سے واقف تھا جو یسعیاہ نے دو صدیاں پہلے قلمبند کئے تھے:‏ ”‏تیرے مُردے جی اُٹھینگے۔ میری لاشیں اُٹھ کھڑی ہونگی۔ تم جو خاک میں جا بسے ہو جاگو اور گاؤ کیونکہ .‏ .‏ .‏ زمین مُردوں کو اُگل دیگی۔“‏ (‏یسعیاہ ۲۶:‏۱۹‏)‏ اِس سے بہت پہلے، یہوواہ نے ایلیاہ اور الیشع کو حقیقی قیامتیں انجام دینے کیلئے طاقت بخشی تھی۔ (‏۱-‏سلاطین ۱۷:‏۱۷-‏۲۴؛‏ ۲-‏سلاطین ۴:‏۳۲-‏۳۷‏)‏ اِس سے بھی پہلے، سموئیل نبی کی ماں حناہ نے اقرار کِیا تھا کہ یہوواہ لوگوں کو قبر سے جِلا سکتا ہے۔ (‏۱-‏سموئیل ۲:‏۶‏)‏ اِس سے بھی پہلے، وفادار ایوب نے اِن الفاظ میں اپنی اُمید کا اظہار کِیا تھا:‏ ”‏اگر آدمی مر جائے تو کیا وہ پھر جئے گا؟ مَیں اپنی جنگ کے کُل ایّام میں منتظر رہتا جب تک میرا چھٹکارا نہ ہوتا۔ تُو مجھے پکارتا اور مَیں تجھے جواب دیتا۔ تجھے اپنے ہاتھوں کی صنعت کی طرف رغبت ہوتی۔“‏—‏ایوب ۱۴:‏۱۴، ۱۵‏۔‏

۲۰، ۲۱.‏ (‏ا)‏دانی‌ایل یقیناً کس قیامت کا حصہ ہوگا؟ (‏ب)‏غالباً فردوس میں کس طریقے سے قیامت واقع ہوگی؟‏

۲۰ ایوب کی طرح دانی‌ایل کو بھی اعتماد تھا کہ یہوواہ واقعی اُسے مستقبل میں دوبارہ زندگی عطا کرنا چاہتا ہے۔ پھر بھی، ایک طاقتور روحانی مخلوق کی طرف سے اِس اُمید کی یقین‌دہانی واقعی تسلی‌بخش تھی۔ جی‌ہاں، دانی‌ایل ”‏راستبازوں کی قیامت“‏ میں اُٹھ کھڑا ہوگا جو مسیح کی ہزارسالہ حکمرانی کے دوران وقوع میں آئیگی۔ (‏لوقا ۱۴:‏۱۴‏)‏ اِس کا دانی‌ایل کے لئے کیا مطلب ہوگا؟ خدا کا کلام ہمیں اِس کی بابت بہت کچھ بتاتا ہے۔‏

۲۱ یہوواہ ”‏خدا ابتری کا نہیں بلکہ امن کا بانی ہے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۴:‏۳۳‏)‏ اِس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ فردوس میں قیامت ایک منظم طریقے سے عمل میں آئیگی۔ شاید ہرمجدون کے بعد کچھ وقت گزر گیا ہوگا۔ (‏مکاشفہ ۱۶:‏۱۴،‏ ۱۶‏)‏ پُرانے نظام‌العمل کے تمام آثار مٹائے جا چکے ہونگے اور مُردوں کا خیرمقدم کرنے کی تیاریاں واقعی مکمل ہو چکی ہونگی۔ مُردوں کے زندہ ہونے کی ترتیب کی بابت بائبل بیان کرتی ہے:‏ ”‏ہر ایک اپنی‌اپنی باری سے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۳‏)‏ ایسے لگتا ہے کہ جب راستبازوں اور ناراستوں کی قیامت کا وقت آئیگا تو غالباً ’‏راستباز پہلے زندہ کئے جائینگے۔‘‏ (‏اعمال ۲۴:‏۱۵‏)‏ اِس طرح، دانی‌ایل جیسے قدیم وقتوں کے وفادار لوگ زمینی معاملات کے نظم‌ونسق میں مدد کرنے کے قابل ہونگے جس میں دوبارہ زندگی حاصل کرنے والے کروڑوں ”‏ناراستوں“‏ کو تعلیم دینا شامل ہے۔—‏زبور ۴۵:‏۱۶‏۔‏

۲۲.‏ دانی‌ایل کن سوالوں کے جواب حاصل کرنا چاہیگا؟‏

۲۲ ایسی ذمہ‌داریاں قبول کرنے سے پہلے دانی‌ایل کچھ سوال ضرور پوچھے گا۔ بہرحال، بعض گہری پیشینگوئیوں کی بابت جو اُسے دی گئی تھیں، اس نے بیان کِیا:‏ ”‏مَیں نے سنا پر سمجھ نہ سکا۔“‏ (‏دانی‌ایل ۱۲:‏۸‏)‏ بالآخر اِن الہٰی بھیدوں کی سمجھ حاصل کرکے وہ کتنا خوش ہوگا!‏ بِلاشُبہ وہ مسیحا کی بابت سب کچھ جاننا چاہیگا۔ دانی‌ایل اپنے زمانے سے لیکر ہمارے زمانے تک عالمی طاقتوں کے عروج‌وزوال، ”‏حق‌تعالیٰ کے مُقدسوں“‏ کی شناخت—‏جنہیں ”‏آخری زمانہ“‏ میں اذیت کے باوجود محفوظ رکھا گیا—‏اور خدا کی مسیحائی بادشاہت کے ذریعے تمام انسانی حکومتوں کی حتمی تباہی کی بابت بڑے اشتیاق کیساتھ سیکھے گا۔—‏دانی‌ایل ۲:‏۴۴؛‏ دانی‌ایل ۷:‏۲۲؛‏ دانی‌ایل ۱۲:‏۴‏۔‏

فردوس میں دانی‌ایل اور آپکی میراث!‏

۲۳، ۲۴.‏ (‏ا)‏جس دُنیا میں دانی‌ایل قیامت پائیگا وہ اُسکے زمانے کی دُنیا سے کیسے فرق ہوگی؟ (‏ب)‏کیا دانی‌ایل کو فردوس میں حصہ ملیگا اور ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟‏

۲۳ دانی‌ایل خود کو اپنے زمانے سے بالکل فرق دُنیا میں پا کر اُس کی بابت سب کچھ جاننا چاہے گا۔ اُسکے زمانے کی دُنیا کو غارت کرنے والی جنگوں اور ظلم‌وستم کا نام‌ونشان مٹ چکا ہوگا۔ کوئی غم، بیماری اور موت بھی نہیں ہوگی۔ (‏یسعیاہ ۲۵:‏۸؛‏ ۳۳:‏۲۴‏)‏ اِسکی بجائے وہاں سب کیلئے خوراک، رہائش اور اطمینان‌بخش کام کی افراط ہوگی۔ (‏زبور ۷۲:‏۱۶؛‏ یسعیاہ ۶۵:‏۲۱، ۲۲‏)‏ نوعِ‌انسان ایک متحد اور پُرمسرت خاندان کی مانند ہوگا۔‏

۲۴ اُس دُنیا میں دانی‌ایل کو ایک خاص مقام حاصل ہوگا۔ فرشتے نے اُسے بتایا تھا کہ ”‏تُو .‏ .‏ .‏ اپنی میراث میں اُٹھ کھڑا ہوگا۔“‏ جس عبرانی لفظ کا ترجمہ یہاں ”‏میراث“‏ کِیا گیا ہے وہ حقیقی قطعۂ‌اراضی کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔‏c شاید دانی‌ایل اسرائیل کے بحال‌شُدہ مُلک کی تقسیم کی بابت حزقی‌ایل کی پیشینگوئی سے واقف تھا۔ (‏حزقی‌ایل ۴۷:‏۱۳–‏۴۸:‏۳۵)‏ فردوس میں اِسکی تکمیل کے سلسلے میں حزقی‌ایل کی پیشینگوئی کیا اشارہ دیتی ہے؟ اِسکا مطلب ہے کہ فردوس میں خدا کے تمام لوگوں کو حصہ ملیگا، زمین کی تقسیم بھی باضابطہ اور منصفانہ ہوگی۔ بِلاشُبہ، فردوس میں دانی‌ایل کی میراث میں محض زمینی حصے سے زیادہ کچھ شامل ہوگا۔ اِس میں خدا کے مقصد میں اُسکا کردار شامل ہوگا۔ یقیناً دانی‌ایل کو موعودہ اَجر ملیگا۔‏

۲۵.‏ (‏ا)‏فردوسی زندگی کی بعض خصوصیات کیا ہیں جو آپکو دلکش لگتی ہیں؟ (‏ب)‏یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ فردوس انسانوں کا اصلی گھر ہے؟‏

۲۵ تاہم، آپکی میراث کی بابت کیا ہے؟ اِن وعدوں کا اطلاق آپ پر بھی ہو سکتا ہے۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ فرمانبردار انسان اپنی میراث، فردوس میں حصہ پانے کے لئے ”‏اُٹھ“‏ کھڑے ہوں۔ ذرا تصور کریں!‏ یقیناً، دانی‌ایل اور بائبل وقتوں کے دیگر وفادار مردوزن سے ملنا کتنا ہیجان‌خیز ہوگا۔ اِسکے علاوہ دیگر لاتعداد لوگ بھی لوٹ آئیں گے جنہیں یہوواہ کو جاننے اور اُس سے محبت کرنے کے لئے تعلیم‌وتربیت کی ضرورت ہوگی۔ ذرا تصور کریں کہ آپ اپنے زمینی گھر کی دیکھ‌بھال کر رہے ہیں اور اِسے فردوس میں تبدیل کرنے میں مدد دے رہے ہیں جس کی خوبصورتی ہمیشہ قائم‌ودائم رہیگی۔ ذرا سوچیں کہ آپ یہوواہ سے تعلیم پانے اور اُس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا طریقہ سیکھیں گے۔ (‏یسعیاہ ۱۱:‏۹؛‏ یوحنا ۶:‏۴۵‏)‏ جی‌ہاں، فردوس میں آپکا بھی حصہ ہوگا۔ تاہم، شاید کسی کو آجکل فردوس کا خیال عجیب لگے لیکن یاد رکھیں کہ یہوواہ نے شروع میں نوعِ‌انسان کیلئے ایسی ہی جگہ پر رہنے کا مقصد ٹھہرایا تھا۔ (‏پیدایش ۲:‏۷-‏۹‏)‏ اس لحاظ سے فردوس زمین کے کروڑوں باشندوں کے لئے طبعی رہائش‌گاہ ہے۔ یہی اُن کا اصلی گھر ہے اسلئے دوبارہ فردوس میں جانا اپنے اصلی گھر واپس جانے کے مترادف ہوگا۔‏

۲۶.‏ یہوواہ یہ کیسے سمجھتا ہے کہ ہمارے لئے اِس نظام‌العمل کے خاتمے کا انتظار کرنا آسان نہیں ہے؟‏

۲۶ جب ہم اِن تمام باتوں کی بابت سوچتے ہیں تو ہمارے دل قدردانی سے معمور ہو جاتے ہیں؟ کیا آپ وہاں جانے کے آرزومند نہیں ہیں؟ پس کچھ عجب نہیں کہ یہوواہ کے گواہ یہ جاننے کے مشتاق ہیں کہ اِس نظام‌العمل کا خاتمہ کب آئیگا!‏ انتظار آسان نہیں ہوتا۔ اس بات کو سمجھتے ہوئے یہوواہ تاکید فرماتا ہے کہ ”‏اگرچہ“‏ خاتمے کے آنے میں ”‏دیر ہو توبھی اسکا منتظر رہ۔“‏ اُسکا مطلب ہے کہ ہمارے نقطۂ‌نظر سے شاید دیر ہوتی ہوئی دکھائی دے لیکن اُسی صحیفے میں ہمیں یقین‌دہانی کرائی گئی ہے:‏ ”‏یہ .‏ .‏ .‏ تاخیر نہ کریگی۔“‏ (‏حبقوق ۲:‏۳؛ مقابلہ کریں امثال ۱۳:‏۱۲‏۔)‏ جی‌ہاں، خاتمہ اپنے مقررہ وقت پر آئیگا۔‏

۲۷.‏ ابد تک خدا کے حضور کھڑا ہونے کیلئے آپکو کیا کرنا چاہئے؟‏

۲۷ جب خاتمہ نزدیک ہے تو آپکو کیا کرنا چاہئے؟ یہوواہ کے عزیز نبی دانی‌ایل کی طرح وفاداری کیساتھ برداشت کریں۔ خدا کے کلام کا مستعدی سے مطالعہ کریں۔ خلوصدلی سے دُعا کریں۔ ساتھی ایمانداروں کیساتھ مشفقانہ رفاقت رکھیں۔ سرگرمی کیساتھ دوسروں کو سچائی کی تعلیم دیں۔ جس قدر اِس شریر نظام‌العمل کا خاتمہ قریب آ رہا ہے اُسی قدر حق‌تعالیٰ کے وفادار خادم اور اُسکے کلام کا پُختہ حمایتی بننے کا عزم کریں۔ جی‌ہاں، دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏ دُعا ہے کہ حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ آپکو ابد تک خوشی کیساتھ اپنے حضور کھڑا ہونے کا استحقاق عطا فرمائے!‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a دانی‌ایل ۶۱۷ ق.‏س.‏ع.‏ میں غالباً نوعمری میں اسیر ہو کر بابل آیا تھا۔ اُس نے یہ رویا خورس کے دَورِحکومت کے تیسرے سال یعنی ۵۳۶ ق.‏س.‏ع.‏ میں دیکھی تھی۔—‏دانی‌ایل ۱۰:‏۱‏۔‏

b دی براؤن ڈرائیور برگز ہیبریو اینڈ انگلش لیکسیکن کے مطابق، ”‏کھڑا“‏ ہونے کیلئے یہاں استعمال ہونے والے عبرانی لفظ کا مطلب ”‏موت کے بعد زندہ ہونا“‏ ہے۔‏

c اِس عبرانی لفظ کا تعلق ”‏کنکروں“‏ کے لئے مستعمل لفظ سے ہے جن سے قُرعہ ڈالا جاتا تھا۔ بعض‌اوقات زمین اِسی طریقے سے تقسیم کی جاتی تھی۔ (‏گنتی ۲۶:‏۵۵، ۵۶)‏ اے ہینڈبُک آن دی بُک آف ڈینیئل بیان کرتی ہے کہ یہاں اِس لفظ سے مُراد ایسی چیز ہے ”‏جو کسی شخص کیلئے (‏خدا نے)‏ مقرر کی ہے۔“‏

آپ کیا سمجھے ہیں؟‏

‏•کس چیز نے دانی‌ایل کی آخر تک برداشت کرنے میں مدد کی؟‏

‏•دانی‌ایل موت سے خوفزدہ کیوں نہیں تھا؟‏

‏•دانی‌ایل سے ’‏اپنی میراث میں اُٹھ کھڑے‘‏ ہونے کی بابت فرشتے کا وعدہ کیسے پورا ہوگا؟‏

‏•دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دینے سے آپ ذاتی طور پر کیسے مستفید ہوئے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ ۳۰۷ پر صرف تصویر ہے]‏

‏[‏صفحہ ۳۱۸ پر تصویر]‏

دانی‌ایل کی طرح کیا آپ بھی خدا کے نبوّتی کلام پر دھیان دیتے ہیں؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں