پندرھواں باب
حریف بادشاہوں کا ۲۰ ویں صدی میں داخلہ
۱. ایک مؤرخ کے مطابق ۱۹ ویں صدی کے یورپ میں کون پیشپیش تھے؟
”یورپ نے انیسویں صدی میں ترقی کی انتہا کو چھو لیا،“ مؤرخ نارمن ڈیویز لکھتا ہے۔ اُس کے مطابق ”یورپ نے تکنیکی، معاشی، معاشرتی اور براعظمی سطح پر اِس سے پہلے کبھی اتنی زیادہ ترقی نہیں کی تھی۔“ ڈیویز لکھتا ہے کہ ”یورپ میں ترقی کی دوڑ میں پہلے برطانیہ . . . اور بعد کے عشروں میں جرمنی آگے نکل گیا۔“
”دِل شرارت کی طرف مائل“
۲. جب ۱۹ ویں صدی اپنے خاتمے کے قریب تھی تو کونسی عالمی طاقتیں ”شاہِشمال“ اور ”شاہِجنوب“ کا کردار ادا کر رہی تھیں؟
۲ جب ۱۹ ویں صدی اپنے خاتمے کے قریب پہنچی تو جرمن حکومت ”شاہِشمال“ اور برطانیہ ”شاہِجنوب“ کا روپ دھار چکے تھے۔ (دانیایل ۱۱:۱۴، ۱۵) ”اِن دونوں بادشاہوں کے دل،“ یہوواہ کے فرشتے نے بیان کِیا، ”شرارت کی طرف مائل ہونگے۔ وہ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر جھوٹ بولیں گے۔“ اُس نے مزید کہا: ”پر کامیابی نہ ہوگی کیونکہ خاتمہ مقررہ وقت پر ہوگا۔“—دانیایل ۱۱:۲۷۔
۳، ۴. (ا) جرمن سلطنت کا پہلا شہنشاہ کون بنا اور کونسا الحاق وجود میں آیا؟ (ب)قیصر ولہلم نے کیا پالیسی اختیار کی؟
۳ جنوری ۱۸، ۱۸۷۱ کو ولہلم اوّل جرمن رائخ یا حکومت کا شہنشاہ بنا۔ اُس نے اُوتو وان بسمارک کو چانسلر مقرر کِیا۔ اپنی نئی حکومت کو فروغ دینے کی غرض سے بسمارک نے دیگر اقوام کے ساتھ جھگڑوں سے اجتناب کِیا اور آسٹریا، ہنگری اور اٹلی کیساتھ الحاق کر لیا جو اتحادِثلاثہ کہلاتا ہے۔ تاہم، اِس نئے شاہِشمال کے مفادات بہت جلد شاہِجنوب کے مفادات سے متصادم ہو گئے۔
۴ ولہلم اوّل اور اُسکے جانشین، فریڈرک سوم کی وفات کے بعد، ۱۸۸۸ میں ۲۹ سالہ ولہلم دوم تختنشین ہوا۔ ولہلم دوم یا قیصر ولہلم نے بسمارک کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا اور اُسکے بعد پوری دُنیا میں جرمنی کے اثرورسوخ کو بڑھانے کی پالیسی پر عمل کرنے لگا۔ ایک مؤرخ کے مطابق، ”ولہلم دوم کے تحت [جرمنی] نے متکبرانہ اور جارحانہ رویہ اختیار کر لیا۔“
۵. دونوں بادشاہ ”ایک ہی دسترخوان پر“ کیسے بیٹھے اور اُنہوں نے وہاں کیسی گفتگو کی؟
۵ جب روس کے زار نکولس نے دی ہیگ، نیدرلینڈز کے مقام پر اگست ۲۴، ۱۸۹۸ کو امن کانفرنس بلوائی تو اُس وقت بینالاقوامی کشیدگی زور پکڑ چکی تھی۔ اِس کانفرنس اور اِس کے بعد ۱۹۰۷ کی کانفرنس کی بدولت دی ہیگ میں ایک مستقل ثالثی عدالت کا قیام عمل میں آیا۔ جرمن حکومت اور برطانیہعظمیٰ نے اِس عدالت کا رُکن بننے سے یہ تاثر دیا کہ وہ امن کے حامی ہیں۔ اُنہوں نے ”ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر“ دوست ہونے کا تاثر دیا لیکن ’اُن کے دل شرارت کی طرف مائل تھے۔‘ ’ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر جھوٹ بولنے‘ کی سفارتی حکمتِعملی حقیقی امن کو فروغ نہ دے سکی۔ چنانچہ اُنہیں سیاسی، تجارتی اور عسکری میدان میں ’کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی‘ کیونکہ یہوواہ خدا کی طرف سے دونوں بادشاہوں کا ”خاتمہ مقررہ وقت پر“ ہونا تھا۔
”عہدِمُقدس کے خلاف“
۶، ۷. (ا)کس لحاظ سے شاہِشمال ”اپنے ملک کو واپس“ چلا گیا؟ (ب)شاہِشمال کے توسیعپسندانہ اثرورُسوخ کو دیکھ کر شاہِجنوب نے کیسا ردِعمل دکھایا؟
۶ خدا کے فرشتے نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا: ”تب وہ [شاہِشمال] بہت سی غنیمت لیکر اپنے ملک کو واپس جائیگا اور اُسکا دل عہدِمُقدس کے خلاف ہوگا اور وہ اپنی مرضی پوری کرکے اپنے ملک کو واپس جائیگا۔“—دانیایل ۱۱:۲۸۔
۷ قیصر ولہلم ”مُلک“ یا قدیم شاہِشمال کی زمینی حالت کی طرف لوٹ گیا۔ کیسے؟ اُس نے جرمن حکومت اور اُسکے اثرورُسوخ کو بڑھانے کیلئے ایک سلطنت قائم کرنا شروع کی۔ ولہلم دوم نے افریقہ اور دوسری جگہوں پر نوآبادیاں قائم کرنے کے مقصد کو عملیجامہ پہنانا شروع کر دیا۔ سمندروں میں برطانوی برتری کو چیلنج کرنے کیلئے اُس نے طاقتور بحری فوج تشکیل دینا شروع کر دی۔ دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق، ”دس سال کے اندر اندر جرمنی کی برائے نام بحریہ برطانیہ کے مدِمقابل آ گئی۔“ اپنی برتری قائم رکھنے کیلئے برطانیہ کو بھی اپنے بحری پروگرام میں توسیع کرنا پڑی۔ برطانیہ نے فرانس اور روس کیساتھ دوستانہ الحاق کرکے ایتلافِثلاثہ قائم کر لیا۔ اب یورپ دو عسکری گروہوں—اتحادِثلاثہ اور ایتلافِثلاثہ—میں تقسیم ہو گیا تھا۔
۸. جرمن حکومت کو ”بہت سی غنیمت“ کیوں حاصل ہوئی تھی؟
۸ جرمن حکومت نے جارحانہ پالیسی اختیار کی جو ”بہت سی غنیمت“ پر منتج ہوئی کیونکہ جرمن اتحادِثلاثہ کا بنیادی حصہ تھا۔ آسٹریا، ہنگری اور اٹلی کے رومن کیتھولک ہونے کی وجہ سے اِس اتحادِثلاثہ کو پاپائیت کی حمایت بھی حاصل تھی جبکہ شاہِجنوب کے پروٹسٹنٹ ایتلافِثلاثہ کے ساتھ ایسا نہیں تھا۔
۹. شاہِشمال کا ”دل عہدِمُقدس کے خلاف“ کیسے تھا؟
۹ یہوواہ کے لوگوں کی بابت کیا ہے؟ وہ کافی عرصہ پہلے ہی یہ اعلان کر چکے تھے کہ ”غیرقوموں کی میعاد“ ۱۹۱۴ میں ختم ہو جائیگی۔a (لوقا ۲۱:۲۴) اُسی سال آسمانوں میں قائم ہونے والی خدا کی بادشاہت کی ذمہداری بادشاہ داؤد کے وارث، یسوع مسیح کو سونپ دی گئی۔ (۲-سموئیل ۷:۱۲-۱۶؛ لوقا ۲۲:۲۸، ۲۹) واچ ٹاور رسالے نے تو مارچ ۱۸۸۰ میں خدا کی بادشاہت کی حکمرانی کو ”غیرقوموں کی میعاد“ کے خاتمے کیساتھ منسلک کر دیا تھا۔ لیکن جرمن بادشاہ کا دل ’بادشاہتی عہدِمُقدس کے خلاف‘ تھا۔ قیصر ولہلم نے بادشاہتی حکمرانی کو تسلیم کرنے کی بجائے عالمی تسلط قائم کرنے کیلئے اپنے منصوبوں کو عملیجامہ پہنانے سے ’اپنی مرضی پوری کی۔‘ تاہم، ایسا کرنے سے اُس نے پہلی عالمی جنگ کے بیج بو دئے۔
بادشاہ جنگ میں ”رنجیدہ“ ہو جاتا ہے
۱۰، ۱۱. پہلی عالمی جنگ کیسے شروع ہو گئی اور یہ سب کچھ ”مقررہ وقت پر“ کیسے ہوا؟
۱۰ فرشتے نے پیشینگوئی کی کہ ”مقررہ وقت پر وہ [شاہِشمال] پھر جنوب کی طرف خروج کریگا لیکن یہ حملہ پہلے کی مانند نہ ہوگا۔“ (دانیایل ۱۱:۲۹) جب خدا نے ۱۹۱۴ میں آسمانی بادشاہت کو قائم کِیا تو زمین سے غیرقوموں کے تسلط کو ختم کرنے کیلئے اُسکا ”مقررہ وقت“ آ پہنچا تھا۔ اُسی سال جون ۲۸ کو آسٹریا کے آرچڈیوک فرانسس فرڈینانڈ کو اُسکی بیوی کے ہمراہ سرائیو، بوسنیا میں سربیا کے ایک دہشتگرد نے قتل کر دیا۔ اِسی چنگاری نے پہلی عالمی جنگ کی آگ بھڑکا دی۔
۱۱ قیصر ولہلم نے آسٹریا، ہنگری کو سربیا سے بدلہ لینے پر اُکسایا۔ جرمن حمایت کے بلبوتے پر آسٹریا، ہنگری نے جولائی ۲۸، ۱۹۱۴ کو سربیا کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ ایسی صورتحال میں روس سربیا کی مدد کو پہنچ گیا۔ جب جرمنی نے روس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا تو فرانس (ایتلافِثلاثہ کے ایک فریق) نے روس کا ساتھ دیا۔ اِسکے بعد جرمنی نے فرانس کے خلاف بھی جنگ چھیڑ دی۔ پیرس تک پہنچنے کیلئے جرمنی نے بیلجیئم پر بھی حملہ کر دیا جسکی غیرجانبداری کی ضمانت برطانیہ نے دے رکھی تھی۔ چنانچہ برطانیہ نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ دوسری قومیں بھی جنگ میں اُلجھ پڑیں اور اٹلی فریقین بدلتا رہا۔ جنگ کے دوران برطانیہ نے شاہِشمال کو نہر سویز کاٹنے اور مصر پر حملہ کرنے سے روکنے کیلئے شاہِجنوب کے اِس قدیم مُلک کو اپنی تولیت میں لے لیا۔
۱۲. پہلی عالمی جنگ کے دوران، حالات ”پہلے کی مانند“ کیوں نہیں رہے تھے؟
۱۲ دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے: ”اتحادیوں کی قوت اور تعداد کے باوجود جرمنی جنگ جیتنے ہی والا تھا۔“ دونوں بادشاہوں کی سابقہ آویزشوں میں شاہِشمال کے طور پر، رومی حکومت کو باربار فاتح بننے کا اعزاز حاصل رہا تھا۔ لیکن اِس مرتبہ حالات ”پہلے کی مانند“ نہیں تھے۔ شاہِشمال جنگ ہار گیا۔ اِسکی وجہ بیان کرتے ہوئے فرشتے نے کہا: ”اہلِکِتیمؔ کے جہاز اُسکے مقابلہ کو نکلینگے اور وہ رنجیدہ ہو کر مڑیگا۔“ (دانیایل ۱۱:۳۰الف) ”اہلِکِتیمؔ کے جہاز“ کیا تھے؟
۱۳، ۱۴. (ا)بنیادی طور پر شاہِشمال کے مقابلہ کو نکلنے والے ”کِتیمؔ کے جہاز“ کونسے تھے؟ (ب)پہلی عالمی جنگ کے طول پکڑنے پر کِتیم کے اَور جہاز کیسے کمک کو پہنچ گئے تھے؟
۱۳ دانیایل کے زمانے میں کِتیم قبرص تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے شروع میں قبرص دراصل برطانیہ کا حلیف تھا۔ علاوہازیں، دی زونڈروان پیکٹوریل انسائیکلوپیڈیا آف دی بائبل کے مطابق، کِتیم کی اصطلاح ”عام طور پر مغرب لیکن بالخصوص مغربی سمندر کے ملاحوں کیلئے استعمال ہوتی ہے۔“ نیو انٹرنیشنل ورشن ”اہلِکِتیمؔ کے جہازوں“ کے اظہار کو ”مغربی ساحلی علاقوں کے جہازوں“ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران یورپ کے مغربی ساحل پر واقع برطانیہ کے جہاز اہلِکِتیم کے جہاز ثابت ہوئے۔
۱۴ جنگ کے طول پکڑنے کیساتھ ساتھ برطانوی بحریہ کو کِتیم کے مزید جہازوں کے ذریعے کمک حاصل ہوتی رہی۔ مئی ۷، ۱۹۱۵ کو جرمن آبدوز یو-۲۰ نے ایک مسافربردار جہاز لوزیتانیہ کو آئرلینڈ کے جنوبی ساحل کے قریب ڈبو دیا۔ ڈوبنے والوں میں ۱۲۸ امریکی بھی تھے۔ اِس کے بعد جرمنی نے آبدوزوں کی سمندری جنگ کو بحرِاوقیانوس تک بڑھا دیا۔ نتیجتاً، اپریل ۶، ۱۹۱۷ کو امریکی صدر وڈرو ولسن نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ امریکی جہازوں اور فوجیوں کے اضافے کی بدولت، شاہِجنوب—اب اینگلوامریکن عالمی طاقت—اپنے حریف بادشاہ کے خلاف پوری طرح میدانِجنگ میں اُتر آیا۔
۱۵. شاہِشمال کب ”رنجیدہ“ ہو گیا تھا؟
۱۵ اینگلوامریکن عالمی طاقت کے حملے سے شاہِشمال نے ”رنجیدہ“ ہو کر نومبر ۱۹۱۸ میں شکست تسلیم کر لی۔ ولہلم دوم نے نیدرلینڈز میں جلاوطنی اختیار کر لی اور جرمنی ایک جمہوریہ بن گیا۔ لیکن شاہِشمال ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔
بادشاہ اپنے ”غضب . . . کے مطابق عمل“ کرتا ہے
۱۶. پیشینگوئی کے مطابق شاہِشمال اپنی شکست کے لئے کیسا ردِعمل دکھائیگا؟
۱۶ ”وہ [شاہِشمال] رنجیدہ ہو کر مڑیگا اور عہدِمُقدس پر اُسکا غضب بھڑکے گا اور وہ اُسکے مطابق عمل کریگا بلکہ مڑ کر اُن لوگوں سے جو عہدِمُقدس کو ترک کرینگے اتفاق کریگا۔“ (دانیایل ۱۱:۳۰ب) فرشتے نے یہ پیشینگوئی کی جو بالکل سچ ثابت ہوئی۔
۱۷. ایڈولف ہٹلر کے برسرِاقتدار آنے کے اسباب کیا تھے؟
۱۷ جب ۱۹۱۸ میں جنگ ختم ہو گئی تو فاتح اتحادیوں نے جرمنی پر ایک تعزیری امن معاہدے کو مسلّط کر دیا۔ جرمنوں نے معاہدے کی شرائط کو بہت سخت پایا جبکہ نئی جمہوریہ شروع ہی سے کمزور تھی۔ جرمنی کچھ سال شدید افلاس کی وجہ سے بدحواس رہا اور بڑی کسادبازاری کا سامنا کِیا جس کی وجہ سے بالآخر چھ ملین لوگ بیروزگار ہو گئے۔ چنانچہ ۱۹۳۰ کے دہے تک حالات ایڈولف ہٹلر کے منظرِعام پر آنے کے لئے بالکل سازگار ہو گئے تھے۔ وہ جنوری ۱۹۳۳ میں چانسلر بنا اور اگلے سال اُس نے نازیوں کے مطابق تیسری جرمن رائخ [سلطنت] کی صدارت بھی سنبھال لی۔b
۱۸. ہٹلر نے کیسے اپنے ”غضب . . . کے مطابق عمل“ کِیا؟
۱۸ ہٹلر نے برسرِاقتدار آتے ہی فوراً ”عہدِمُقدس“ پر کینہپرور حملہ کر دیا جس کی نمائندگی یسوع مسیح کے ممسوح بھائیوں سے ہوتی تھی۔ (متی ۲۵:۴۰) اس نے ان وفادار مسیحیوں میں سے بہتیروں کو ظالمانہ اذیت کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ”غضب . . . کے مطابق عمل“ کِیا۔ ہٹلر نے اپنے ”غضب . . . کے مطابق عمل“ کرتے ہوئے معاشی اور سفارتی شعبوں میں بھی خوب کامیابیاں حاصل کیں۔ اُس نے چند ہی سالوں میں، جرمنی کو ایک ایسی قوت بنا دیا جسے منظرِعالم پر تسلیم کِیا جانے لگا۔
۱۹. ہٹلر نے حمایت حاصل کرنے کی خاطر کس کیساتھ گٹھجوڑ کِیا؟
۱۹ ہٹلر نے ”عہدِمُقدس کو ترک“ کرنے والوں سے ”اتفاق“ کِیا۔ یہ کون تھے؟ بدیہی طور پر، یہ دُنیائےمسیحیت کے مذہبی پیشوا تھے جو خدا کیساتھ موعودہ رشتے کے دعویدار تھے مگر یسوع مسیح کی شاگردی کو چھوڑ چکے تھے۔ ہٹلر نے ”عہدِمُقدس کو ترک“ کرنے والوں کی حمایت سے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ مثال کے طور پر، اُس نے مذہبی انتظاموانصرام کیلئے روم میں پوپ سے معاہدہ کِیا۔ ہٹلر نے ۱۹۳۵ میں چرچ امور کیلئے وزارت قائم کر دی۔ اُس کا مقصد ایونجلیکل کلیسیاؤں کو حکومت کے تحت لانا تھا۔
بادشاہ کی مدد کے لئے ”افواج“ کا اُٹھنا
۲۰. شاہِشمال نے کن ”افواج“ کو کس کے خلاف استعمال کِیا؟
۲۰ ہٹلر نے فرشتے کی اِس پیشینگوئی کے مطابق فوراً جنگ چھیڑ دی: ”افواج اُس کی مدد کریں گی اور وہ محکم مقدِس کو ناپاک اور دائمی قربانی کو موقوف کریں گے۔“ (دانیایل ۱۱:۳۱ الف) یہ ”افواج“ دراصل وہی عسکری طاقتیں تھیں جنہیں شاہِشمال نے دوسری عالمی جنگ میں شاہِجنوب کیساتھ لڑائی کیلئے استعمال کِیا تھا۔ ستمبر ۱، ۱۹۳۹ میں نازی ”افواج“ نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔ دو دن بعد، برطانیہ اور فرانس نے پولینڈ کی مدد کرنے کیلئے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ یوں دوسری عالمی جنگ شروع ہو گئی۔ پولینڈ بہت جلد دَم توڑ گیا اور اِسکے فوراً بعد، جرمن فوجوں نے ڈنمارک، ناروے، نیدرلینڈز، بیلجیئم، لکسمبرگ اور فرانس پر قبضہ کر لیا۔ دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے کہ ”۱۹۴۱ کے آخر تک برّاعظم یورپ پر نازی جرمنی کا تسلط قائم ہو چکا تھا۔“
۲۱. دوسری عالمی جنگ کے دوران حالات شاہِشمال کے خلاف کیسے ہو گئے اور اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟
۲۱ جرمنی اور سوویت یونین کے دوستی، امدادِباہمی اور مُعیّنہ حدود کے معاہدے پر دستخط کے باوجود ہٹلر نے جون ۲۲، ۱۹۴۱ کو سوویت علاقے پر حملہ کر دیا۔ اِس کارروائی سے سوویت یونین برطانیہ کا حلیف بن گیا۔ شروع میں جرمن افواج کی شاندار کامیابیوں کے باوجود سوویت فوج نے سخت مزاحمت کی۔ جرمن فوج کو ماسکو میں دسمبر ۶، ۱۹۴۱ کو فیصلہکُن شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اگلے دن جرمنی کے اتحادی جاپان نے پرل ہاربر، ہوائی پر بمباری کر دی۔ اِس کے بعد، ہٹلر نے اپنے نائب افسروں سے کہا: ”اب ہمارے لئے جنگ ہارنا ناممکن ہے۔“ اُس نے دسمبر ۱۱ کو جلدبازی میں ریاستہائےمتحدہ کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ لیکن اُس نے سوویت یونین اور ریاستہائےمتحدہ دونوں کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ مشرق کی طرف سے سوویت فوج کے حملوں اور مغرب کی طرف سے برطانوی اور امریکی افواج کی پیشقدمی سے ہٹلر کے لئے حالات ناسازگار ہو گئے۔ جرمن فوجوں کو جگہ جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ہٹلر کی خودکشی کے بعد، جرمنی نے مئی ۷، ۱۹۴۵ کو اتحادیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دئے۔
۲۲. شاہِشمال نے کیسے ”مقدِس کو ناپاک اور دائمی قربانی کو موقوف“ کِیا؟
۲۲ ”وہ [نازی لشکر] محکم مقدِس کو ناپاک اور دائمی قربانی کو موقوف کرینگے،“ فرشتے نے بیان کِیا۔ قدیم یہوداہ میں مقدِس یروشلیم کی ہیکل کا حصہ تھا۔ تاہم، جب یہودیوں نے یسوع کو رد کر دیا تو یہوواہ نے اُنکو اور اُنکی ہیکل کو رد کر دیا۔ (متی ۲۳:۳۷–۲۴:۲) پہلی صدی سے یہوواہ کی ہیکل درحقیقت روحانی ہے جسکا پاکترین مقام آسمان میں اور روحانی صحن زمین پر ہے جس میں سردار کاہن یسوع کے ممسوح بھائی خدمت کرتے ہیں۔ ”بڑی بِھیڑ“ نے ۱۹۳۰ کے دہے سے ممسوح بقیے کے ساتھ ملکر خدمت کی ہے اسی لئے یہ کہنا موزوں ہوگا کہ وہ ”خدا کی ہیکل“ میں خدمت کرتے ہیں۔ (مکاشفہ ۷:۹، ۱۵؛ ۱۱:۱، ۲؛ عبرانیوں ۹:۱۱، ۱۲، ۲۴) شاہِشمال نے اپنے زیرِتسلط ممالک میں ممسوح بقیے اور انکے ساتھیوں کو بیرحمی سے اذیت کا نشانہ بناتے ہوئے ہیکل کے زمینی صحن کو ناپاک کِیا۔ یہ اذیت اتنی سخت تھی کہ ”دائمی قربانی“—یہوواہ کے نام کی علانیہ حمد کی قربانی—موقوف ہو گئی۔ (عبرانیوں ۱۳:۱۵) تاہم، دوسری عالمی جنگ کے دوران ہولناک تکلیف کے باوجود، وفادار ممسوح مسیحی، ”دوسری بھیڑوں“ کے ساتھ ملکر منادی کرتے رہے۔—یوحنا ۱۰:۱۶۔
’مکروہ چیز کا نصب کِیا جانا‘
۲۳. پہلی صدی میں ”مکروہ چیز“ کیا تھی؟
۲۳ جب دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ ہونے والا تھا تو خدا کے فرشتے کی پیشینگوئی کے مطابق ایک اَور واقعہ رونما ہوا۔ ”وہ . . . اُجاڑنے والی مکروہ چیز کو اس میں نصب کرینگے۔“ (دانیایل ۱۱:۳۱ب) یسوع بھی ”مکروہ چیز“ کا ذکر کر چکا تھا۔ پہلی صدی میں، رومی فوجیں ”مکروہ چیز“ ثابت ہوئیں جنہوں نے یہودی بغاوت کو کچلنے کیلئے ۶۶ س.ع. میں یروشلیم پر دھاوا بول دیا تھا۔c—متی ۲۴:۱۵؛ دانیایل ۹:۲۷۔
۲۴، ۲۵. (ا)زمانۂجدید کی ”مکروہ چیز“ کیا ہے؟ (ب)کب اور کیسے ’مکروہ چیز نصب‘ کی گئی تھی؟
۲۴ کونسی ”مکروہ چیز“ زمانۂجدید میں ”نصب“ کی گئی ہے؟ یہ بظاہر، خدا کی بادشاہت کی ”مکروہ“ نقل ہے۔ یہ لیگ آف نیشنز [انجمنِاقوام]، قرمزی رنگ کا حیوان تھا جو دوسری عالمی جنگ چھڑ جانے پر اتھاہ گڑھے میں پڑا تھا یعنی عالمی امن کی تنظیم کے طور پر ختم ہو گیا تھا۔ (مکاشفہ ۱۷:۸) تاہم، اِس ”حیوان“ نے ”اتھاہ گڑھے سے نکل“ آنا تھا۔ ایسا اُس وقت ہوا جب اکتوبر ۲۴، ۱۹۴۵ کو سابقہ سوویت یونین سمیت ۵۰ رُکن اقوام نے یونائیٹڈ نیشنز [اقوامِمتحدہ] کو تشکیل دیا۔ یوں فرشتے کی پیشینگوئی کے مطابق ”مکروہ چیز“—اقوامِمتحدہ—کو نصب کِیا گیا۔
۲۵ دونوں عالمی جنگوں میں جرمنی نے خود کو شاہِجنوب کا سب سے بڑا دشمن ظاہر کرنے سے شاہِشمال کا کردار ادا کِیا۔ اِسکے بعد کون یہ کردار ادا کریگا؟
[فٹنوٹ]
a اِس کتاب کے باب ۶ کا مطالعہ کریں۔
b مُقدس رومی سلطنت پہلی اور جرمن سلطنت دوسری رائخ تھی۔
c اِس کتاب کے باب ۱۱ کا مطالعہ کریں۔
آپ کیا سمجھے ہیں؟
•انیسویں صدی کے آخر پر کن طاقتوں نے شاہِشمال اور شاہِجنوب کا کردار ادا کِیا؟
•پہلی عالمی جنگ کے دوران شاہِشمال کیلئے آویزش کا انجام کیسے ’پہلے کی مانند نہیں ہوا تھا‘؟
•پہلی عالمگیر جنگ کے ختم ہونے کے بعد ہٹلر نے جرمنی کو عالمی طاقت کیسے بنا دیا تھا؟
•دوسری عالمی جنگ کے دوران شاہِشمال اور شاہِجنوب کے مابین رقابت کا انجام کیا ہوا تھا؟
[صفحہ ۲۶۸ پر چارٹ/تصویریں]
دانیایل ۱۱:۲۷-۳۱ کے بادشاہ
شاہِجنوب شاہِشمال
دانیایل ۱۱:۳۰ب، ۳۱ ہٹلر کی تیسری رائخ
(دوسری عالمی جنگ) اینگلوامریکن عالمی طاقت
[تصویر]
شاہ جارج پنجم کیساتھ صدر وڈرو ولسن
[تصویر]
بہت سے مسیحیوں کو جیل کیمپوں میں اذیت کا نشانہ بنایا گیا
[تصویر]
دُنیائےمسیحیت کے پیشواؤں نے ہٹلر کی حمایت کی
[تصویر]
وہ کار جس میں آرچڈیوک فرڈینانڈ کا قتل ہوا
[تصویر]
پہلی عالمی جنگ میں جرمن سپاہی
[صفحہ ۲۵۷ پر تصویریں]
سن ۱۹۴۵ میں یالٹا کے مقام پر برطانوی وزیرِاعظم ونسٹن چرچل، امریکی صدر فرینکلن ڈی۔ روزویلٹ اور سوویت وزیرِاعظم جوزف سٹالن نے جرمنی پر قبضہ کرنے، پولینڈ میں ایک نئی حکومت کو تشکیل دینے اور اقوامِمتحدہ کے قیام کیلئے کانفرنس منعقد کرنے کے منصوبوں پر اتفاق کِیا تھا
[صفحہ ۲۵۸ پر تصویریں]
۱۔آرچڈیوک فرڈینانڈ۲۔جرمن بحریہ۳۔برطانوی بحریہ۴۔لوزیتانیہ ۵۔امریکی اعلانِجنگ
[صفحہ ۲۶۳ پر تصویر]
جرمن کے جنگی اتحادی، جاپان کے پرل ہاربر پر بمباری کرنے سے ہٹلر کو فتح کا یقین ہو گیا