یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • دا باب 11 ص.‏ 180-‏197
  • مسیحا کی آمد کے وقت کا انکشاف

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مسیحا کی آمد کے وقت کا انکشاف
  • دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • دانی‌ایل کی یہوواہ سے عاجزانہ التجا
  • جبرائیل کی تیزپرواز آمد
  • گناہ کا خاتمہ کرنے کیلئے ”‏ستّر ہفتے“‏
  • ‏”‏ستر ہفتوں“‏ کا آغاز
  • ‏”‏ممسوح فرمانروا“‏ کا ظہور
  • آخری ہفتے کے واقعات
  • پیشینگوئی کی خدائی تصدیق
  • مسیحا کے آنے کے بارے میں دانی‌ایل نبی کی پیشینگوئی
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
  • مسیح کے ظاہر ہونے کے متعلق دانی‌ایل کی پیش‌گوئی
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ (‏2017ء)‏
  • دانی‌ایل نبی کی پیشینگوئیاں
    خدا کا کلام—‏تمام انسانوں کے لئے ایک اہم پیغام
  • خدا کے پیامبر سے تقویت پانا
    دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
مزید
دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
دا باب 11 ص.‏ 180-‏197

گیارھواں باب

مسیحا کی آمد کے وقت کا انکشاف

۱.‏ یہوواہ کے وقت کا صحیح حساب رکھنے کی وجہ سے ہم کس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں؟‏

یہوواہ وقت کا بالکل صحیح حساب رکھتا ہے۔ اُس کے کام سے وابستہ وقت اور میعادیں اُسی کے اختیار میں ہیں۔ (‏اعمال ۱:‏۷‏)‏ لہٰذا، اُس نے جن واقعات کو اِن وقتوں اور میعادوں سے منسوب کِیا ہے اُنکا رُونما ہونا یقینی ہے۔ وہ بے‌انجام نہیں رہینگے۔‏

۲، ۳.‏ دانی‌ایل نے کس پیشینگوئی پر دھیان دیا اور اُس وقت بابل پر کس سلطنت کی حکمرانی تھی؟‏

۲ دانی‌ایل نبی صحائف کے ایک مستعد طالبعلم کے طور پر، واقعات کے لئے وقت کا تعیّن کرنے اور پھر اُس کے مطابق اُنہیں وقوع میں لانے کے سلسلے میں یہوواہ کی صلاحیت پر ایمان رکھتا تھا۔ دانی‌ایل کی خاص دلچسپی یروشلیم کی بربادی کی پیشینگوئیوں میں تھی۔ خدا نے یرمیاہ کی معرفت شہرِمُقدس کے ویران رہنے کی مدت کے متعلق معلومات قلمبند کرائیں اور دانی‌ایل نے اِس پیشینگوئی پر خاص توجہ دی تھی۔ اُس نے لکھا:‏ ”‏داؔرابِن‌اخسوؔیرس جو مادیوں کی نسل سے تھا اور کسدیوں کی مملکت پر بادشاہ مقرر ہوا اُسکے پہلے سال میں۔ یعنی اُسکی سلطنت کے پہلے سال میں مَیں دانیؔ‌ایل نے کتابوں میں اُن برسوں کا حساب سمجھا جنکی بابت [‏یہوواہ]‏ کا کلام یرؔمیاہ نبی پر نازل ہؤا کہ یرؔوشلیم کی بربادی پر ستر برس پورے گذرینگے۔“‏—‏دانی‌ایل ۹:‏۱، ۲؛‏ یرمیاہ ۲۵:‏۱۱‏۔‏

۳ اُس وقت دارا مادی ”‏کسدیوں کی مملکت پر بادشاہ مقرر“‏ تھا۔ اِس سے پہلے دانی‌ایل نے نوشتۂ‌دیوار کی تعبیر کرتے ہوئے جو پیشینگوئی کی تھی اُس کی تکمیل بہت جلد ہو گئی تھی۔ بابلی سلطنت ختم ہو چکی تھی۔ اِسے ۵۳۹ ق.‏س.‏ع.‏ میں ”‏مادیوں اور فارسیوں“‏ کو دے دیا گیا تھا۔—‏دانی‌ایل ۵:‏۲۴-‏۲۸،‏ ۳۰، ۳۱‏۔‏

دانی‌ایل کی یہوواہ سے عاجزانہ التجا

۴.‏ (‏ا)‏خدا کی مخلصی کا تجربہ کرنے کے لئے کس چیز کی ضرورت تھی؟ (‏ب)‏دانی‌ایل نے یہوواہ سے کسطرح فریاد کی تھی؟‏

۴ دانی‌ایل نے سمجھ لیا تھا کہ یروشلیم کی ۷۰ سالہ ویرانی کا دَور ختم ہونے والا ہے۔ اِس کے بعد وہ کیا کریگا؟ وہ خود ہمیں بتاتا ہے:‏ ”‏مَیں نے [‏یہوواہ]‏ خدا کی طرف رُخ کِیا اور مَیں مِنت اور مناجات کرکے اور روزہ رکھ کر اور ٹاٹ اوڑھکر اور راکھ پر بیٹھ کر اُسکا طالب ہوا۔ اور مَیں نے [‏یہوواہ]‏ اپنے خدا سے دُعا کی اور اقرار کِیا۔“‏ (‏دانی‌ایل ۹:‏۳، ۴‏)‏ خدا کی مہربانہ مخلصی کا تجربہ کرنے کیلئے راستدل کی ضرورت تھی۔ (‏احبار ۲۶:‏۳۱-‏۴۶؛‏ ۱-‏سلاطین ۸:‏۴۶-‏۵۳‏)‏ اس کیلئے اسیری اور غلامی کا سبب بننے والے گناہوں سے مکمل توبہ کرنے کے علاوہ ایمان اور عاجزی کی ضرورت تھی۔ لہٰذا، دانی‌ایل اپنے گنہگار لوگوں کی خاطر خدا سے مِنت کرتا ہے۔ کیسے؟ دانی‌ایل روزہ رکھ کر ماتم کرتے ہوئے ٹاٹ اوڑھ کر فریاد کرتا ہے جو توبہ اور خلوصدلی کی علامت ہے۔‏

۵.‏ دانی‌ایل کو اِس بات کا یقین کیوں تھا کہ یہودی اپنے آبائی وطن میں دوبارہ آباد ہو جائینگے؟‏

۵ یرمیاہ کی پیشینگوئی نے دانی‌ایل کو بڑی اُمید بخشی تھی کیونکہ اِس میں یہودیوں کے اپنے آبائی وطن، یہوداہ میں دوبارہ جلد بحال ہونے کا اشارہ تھا۔ (‏یرمیاہ ۲۵:‏۱۲؛‏ ۲۹:‏۱۰‏)‏ بِلاشُبہ، دانی‌ایل پُراعتماد تھا کہ محکوم یہودی ضرور رہائی پائینگے کیونکہ خورس نامی شخص پہلے ہی سے فارس کے بادشاہ کے طور پر حکمرانی کر رہا تھا۔ کیا یسعیاہ نے یہ پیشینگوئی نہیں کی تھی کہ خورس یروشلیم اور ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے کی خاطر یہودیوں کو رہائی دینے میں معاون ثابت ہوگا۔ (‏یسعیاہ ۴۴:‏۲۸–‏۴۵:‏۳‏)‏ تاہم، دانی‌ایل کو اِس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ یہ سب کچھ کیسے ہوگا۔ لہٰذا، وہ یہوواہ سے مِنت کرتا رہا۔‏

۶.‏ دانی‌ایل نے دُعا میں کیا تسلیم کِیا؟‏

۶ دانی‌ایل نے خدا کے رحم اور شفقت پر توجہ دلائی۔ اُس نے عاجزی کیساتھ یہ تسلیم کِیا کہ یہودیوں نے یہوواہ سے سرکشی کرنے، اُس کے احکام سے مُنہ موڑنے اور اُس کے نبیوں کو نظرانداز کرنے سے گناہ کِیا تھا۔ لہٰذا، خدا نے بجا طور پر ’‏اُنہیں اُن کی برگشتگی کی وجہ سے تتربتر ہونے دیا تھا۔‘‏ پس، دانی‌ایل نے دُعا کی:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏ رسوائی ہمارے لئے ہے۔ ہمارے بادشاہوں ہمارے اُمرا اور ہمارے باپ‌دادا کیلئے کیونکہ ہم تیرے گنہگار ہوئے۔ [‏یہوواہ]‏ ہمارا خدا رحیم‌وغفور ہے اگرچہ ہم نے اُس سے بغاوت کی۔ ہم [‏یہوواہ]‏ اپنے خدا کی آواز کے شنوا نہیں ہوئے کہ اُسکی شریعت پر جو اُس نے اپنے خدمت‌گذار نبیوں کی معرفت ہمارے لئے مقرر کی عمل کریں۔ ہاں تمام بنی‌اسرائیل نے تیری شریعت کو توڑا اور برگشتگی اختیار کی تاکہ تیری آواز کے شنوا نہ ہوں۔ اسلئے وہ لعنت اور قسم جو خدا کے خادم موسیٰؔ کی توریت میں مرقوم ہیں ہم پر پوری ہوئیں کیونکہ ہم اُسکے گنہگار ہوئے۔“‏—‏دانی‌ایل ۹:‏۵-‏۱۱؛‏ خروج ۱۹:‏۵-‏۸؛ ۲۴:‏۳، ۷، ۸۔‏

۷.‏ یہوواہ کا اسرائیلیوں کو اسیری میں جانے کی اجازت دینا درست کیوں تھا؟‏

۷ خدا اسرائیلیوں کو اُسکی نافرمانی اور اُنکے ساتھ باندھے گئے عہد کی بے‌حرمتی کرنے کے نتائج سے آگاہ کر چکا تھا۔ (‏احبار ۲۶:‏۳۱-‏۳۳؛ استثنا ۲۸:‏۱۵؛ ۳۱:‏۱۷)‏ دانی‌ایل اسرائیلیوں کے خلاف خدا کی کارروائی کی راستی کو تسلیم کرتے ہوئے کہتا ہے:‏ ”‏اُس نے جوکچھ ہمارے اور ہمارے قاضیوں کے خلاف جو ہماری عدالت کرتے تھے فرمایا تھا ہم پر بلا‌یِ‌عظیم لاکر ثابت کر دکھایا کیونکہ جوکچھ یرؔوشلیم سے کِیا گیا وہ تمام جہان میں اَور کہیں نہیں ہوا۔ جیسا موسیٰؔ کی توریت میں مرقوم ہے یہ تمام مصیبت ہم پر آئی توبھی ہم نے [‏یہوواہ]‏ اپنے خدا سے التجا نہ کی کہ ہم اپنی بدکرداری سے باز آتے اور تیری سچائی کو پہچانتے۔ اسلئے [‏یہوواہ]‏ نے بلا کو نگاہ میں رکھا اور اُسکو ہم پر نازل کِیا کیونکہ [‏یہوواہ]‏ ہمارا خدا اپنے سب کاموں میں جو وہ کرتا ہے صادق ہے لیکن ہم اُسکی آواز کے شنوا نہ ہوئے۔“‏—‏دانی‌ایل ۹:‏۱۲-‏۱۴‏۔‏

۸.‏ دانی‌ایل یہوواہ سے کس بِنا پر التجا کرتا ہے؟‏

۸ دانی‌ایل اپنی قوم کے اعمال کی توجیہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اُن کی اسیری بالکل جائز تھی جیسے کہ وہ تسلیم کرتا ہے:‏ ”‏ہم نے گناہ کِیا۔ ہم نے شرارت کی۔“‏ (‏دانی‌ایل ۹:‏۱۵‏)‏ اُس کی دلچسپی صرف مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے ہی میں نہیں ہے۔ اُس کی التجا دراصل یہوواہ کے جلال اور عزت پر مبنی ہے۔ یہودیوں کو معاف کرنے اور اُنہیں اُن کے آبائی وطن میں بحال کرنے سے خدا یرمیاہ کی معرفت کئے گئے اپنے ہی وعدے کو پورا کرکے اپنے پاک نام کی تقدیس کرے گا۔ دانی‌ایل التجا کرتا ہے:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏ مَیں تیری مِنت کرتا ہوں کہ تُو اپنی تمام صداقت کے مطابق اپنے قہروغضب کو اپنے شہر یرؔوشلیم یعنی اپنے کوہِ‌مُقدس سے موقوف کر کیونکہ ہمارے گناہوں اور ہمارے باپ‌دادا کی بدکرداری کے سبب سے یرؔوشلیم اور تیرے لوگ اپنے سب آس‌پاس والوں کے نزدیک جایِ‌ملامت ہوئے۔“‏—‏دانی‌ایل ۹:‏۱۶‏۔‏

۹.‏ (‏ا)‏دانی‌ایل اپنی دُعا کے اختتام میں کونسی التجائیں کرتا ہے؟ (‏ب)‏ دانی‌ایل کس بات سے پریشان ہے مگر وہ خدا کے نام کے لئے کیسے احترام دکھاتا ہے؟‏

۹ دانی‌ایل اپنی مخلصانہ دُعا جاری رکھتا ہے:‏ ”‏اب اَے ہمارے خدا اپنے خادم کی دُعا اور التماس سنُ اور اپنے چہرہ کو اپنی ہی خاطر اپنے مقدِس پر جو ویران ہے جلوہ‌گر فرما۔ اَے میرے خدا کان لگا کر سنُ اور آنکھیں کھولکر ہمارے ویرانوں کو اور اُس شہر کو جو تیرے نام سے کہلاتا ہے دیکھ کہ ہم تیرے حضور اپنی راستبازی پر نہیں بلکہ تیری بے‌نہایت رحمت پر تکیہ کرکے مناجات کرتے ہیں۔ اَے [‏یہوواہ]‏ سُن۔ اَے [‏یہوواہ]‏ معاف فرما۔ اَے [‏یہوواہ]‏ سنُ لے اور کچھ کر۔ اَے میرے خدا اپنے نام کی خاطر دیر نہ کر کیونکہ تیرا شہر اور تیرے لوگ تیرے ہی نام سے کہلاتے ہیں۔“‏ (‏دانی‌ایل ۹:‏۱۷-‏۱۹‏)‏ اگر خدا معاف نہ کرتا اور اپنے لوگوں کو اسیری میں ہی چھوڑ کر اپنے مُقدس شہر یروشلیم کو ہمیشہ کے لئے ویران رہنے دیتا تو کیا قومیں اُسے کائنات کا حاکمِ‌اعلیٰ تسلیم کرتیں؟ کیا وہ یہ نتیجہ اخذ نہ کرتیں کہ یہوواہ بابلی دیوتاؤں کے آگے بے‌بس ہے؟ واقعی، اس سے یہوواہ کے نام کی رُسوائی ہوتی اور دانی‌ایل اسی وجہ سے پریشان تھا۔ دانی‌ایل کی کتاب کے اصلی متن میں الہٰی نام، یہوواہ ۱۹ مرتبہ استعمال ہوا ہے جن میں سے ۱۸ مرتبہ اُسکی اِسی دُعا میں آیا ہے!‏

جبرائیل کی تیزپرواز آمد

۱۰.‏ (‏ا)‏کس کو دانی‌ایل کے پاس بھیجا گیا تھا اور کیوں؟ (‏ب)‏دانی‌ایل نے جبرائیل کو ایک ”‏شخص“‏ کیوں کہا تھا؟‏

۱۰ دانی‌ایل کی دُعا ختم ہونے سے پہلے ہی جبرائیل فرشتہ آ پہنچتا ہے۔ وہ کہتا ہے:‏ ”‏اَے دانیؔ‌ایل مَیں اب اسلئے آیا ہوں کہ تجھے دانش‌وفہم بخشوں۔ تیری مناجات کے شروع ہی میں حکم صادر ہوا اور مَیں آیا ہوں کہ تجھے بتاؤں کیونکہ تُو بہت عزیز ہے۔ پس تُو غور کر اور رویا کو سمجھ لے۔“‏ لیکن دانی‌ایل اُسے ”‏وہی شخص جبرائیلؔ“‏ کیوں کہتا ہے؟ (‏دانی‌ایل ۹:‏۲۰-‏۲۳‏)‏ اسلئے کہ جب دانی‌ایل نے بکرے اور مینڈھے کے سلسلے میں اپنی پہلی رویا کی سمجھ حاصل کرنا چاہی تو ”‏کوئی انسان صورت“‏ اُسکے سامنے آ کھڑا ہوا۔ وہ جبرائیل فرشتہ تھا جسے دانی‌ایل کو بصیرت عطا کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا۔ (‏دانی‌ایل ۸:‏۱۵-‏۱۷‏)‏ اسی طرح، دانی‌ایل کی دُعا کے بعد، یہی فرشتہ انسانی شکل میں اُسکے پاس آ کر اُس سے بالکل ایسے باتیں کرنے لگا جیسے ایک انسان دوسرے انسان سے کرتا ہے۔‏

۱۱، ۱۲.‏ (‏ا)‏بابل میں یہوواہ کی ہیکل یا قربانگاہ نہ ہونے کے باوجود، عقیدتمند یہودیوں نے شریعت کے تحت مطلوبہ قربانیوں کیلئے کیسے احترام دکھایا تھا؟ (‏ب)‏دانی‌ایل کو ”‏بہت عزیز“‏ کیوں کہا گیا تھا؟‏

۱۱ جبرائیل ”‏شام کی قربانی گذراننے کے وقت“‏ آتا ہے۔ یہوواہ کی قربانگاہ کو یروشلیم میں ہیکل کے ساتھ ہی نیست کر دیا گیا تھا اور یہودی بُت‌پرست بابلیوں کی اسیری میں تھے۔ پس بابل میں یہودی خدا کے حضور قربانیاں پیش نہیں کرتے تھے۔ تاہم، موسوی شریعت کے تحت قربانیوں کے لئے مقررہ اوقات پر، بابل میں عقیدتمند یہودیوں کے لئے یہوواہ کی حمدوتعریف اور گڑگڑا کر اُس سے دُعا کرنا موزوں تھا۔ خدا کے لئے گہری عقیدت رکھنے کی وجہ سے دانی‌ایل کو ”‏بہت عزیز“‏ کہا گیا تھا۔ دانی‌ایل ”‏دُعا کے سننے والے“‏ یہوواہ کے نزدیک بہت مقبول ٹھہرا اور اسی لئے اُسکی پُراعتماد دُعا کا جواب دینے کیلئے جبرائیل کو فوراً بھیجا گیا۔—‏زبور ۶۵:‏۲‏۔‏

۱۲ یہوواہ سے دُعا کرنے کی صورت میں دانی‌ایل کی جان بھی جا سکتی تھی لیکن اِسکے باوجود وہ اپنے دستور کے موافق دن میں تین مرتبہ خدا سے دُعا کرتا رہا۔ (‏دانی‌ایل ۶:‏۱۰، ۱۱‏)‏ پس، یہوواہ کا دانی‌ایل کو اسقدر عزیز خیال کرنا کوئی حیران‌کُن بات نہیں تھی!‏ دانی‌ایل دُعا کے علاوہ، خدا کے کلام پر غوروفکر کرنے سے بھی یہوواہ کی مرضی کو سمجھنے کے قابل ہوا تھا۔ دانی‌ایل دُعا کرنے میں مشغول رہا اور وہ یہ سمجھتا تھا کہ اپنی دُعاؤں کا جواب حاصل کرنے کیلئے اُسے کیسے موزوں طریقے سے یہوواہ تک رسائی کرنی چاہئے۔ اُس نے خدا کی صداقت پر روشنی ڈالی۔ (‏دانی‌ایل ۹:‏۷،‏ ۱۴،‏ ۱۶‏)‏ اگرچہ اُس کے دُشمن اُس میں کوئی قصور ثابت نہ کر سکے توبھی دانی‌ایل جانتا تھا کہ وہ خدا کی نظر میں گنہگار ہے لہٰذا اُس نے اپنے گناہ کو فوراً تسلیم کر لیا۔—‏دانی‌ایل ۶:‏۴؛‏ رومیوں ۳:‏۲۳‏۔‏

گناہ کا خاتمہ کرنے کیلئے ”‏ستّر ہفتے“‏

۱۳، ۱۴.‏ (‏ا)‏جبرائیل نے دانی‌ایل پر کونسی اہم معلومات آشکارا کیں؟ (‏ب)‏”‏ستر ہفتے“‏ کتنے طویل ہیں اور ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟‏

۱۳ خداترس دانی‌ایل کو اپنی دُعا کا کتنا شاندار جواب ملتا ہے!‏ یہوواہ اُسے نہ صرف یہودیوں کی اپنے آبائی وطن میں بحالی کی یقین‌دہانی کراتا ہے بلکہ اُسے ایک نہایت اہم چیز—‏مسیحا کے ظہور—‏کی بابت بصیرت بھی بخشتا ہے۔ (‏پیدایش ۲۲:‏۱۷، ۱۸؛‏ یسعیاہ ۹:‏۶، ۷‏)‏ جبرائیل دانی‌ایل کو بتاتا ہے:‏ ”‏تیرے لوگوں اور تیرے مُقدس شہر کے لئے ستر ہفتے مقرر کئے گئے کہ خطاکاری اور گناہ کا خاتمہ ہو جائے۔ بدکرداری کا کفارہ دیا جائے۔ ابدی راستبازی قائم ہو۔ رویاونبوّت پر مہر ہو اور پاکترین مقام ممسوح کِیا جائے۔ پس تُو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یرؔوشلیم کی بحالی اور تعمیر کا حکم صادر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہونگے۔ تب پھر بازار تعمیر کئے جائینگے اور فصیل بنائی جائیگی مگر مصیبت کے ایّام میں۔“‏—‏دانی‌ایل ۹:‏۲۴، ۲۵‏۔‏

۱۴ یہ واقعی خوشخبری تھی!‏ یروشلیم کی دوبارہ تعمیر اور نئی ہیکل میں پرستش کی بحالی کے علاوہ مقررہ وقت پر”‏ممسوح فرمانروا“‏ کا ظہور بھی ہونا تھا۔ یہ سب کچھ ”‏ستر ہفتوں“‏ کے اندر ہی ہونا تھا۔ چونکہ جبرائیل دنوں کا کوئی ذکر نہیں کرتا، لہٰذا اِن ہفتوں میں سے ہر ہفتہ سات دن پر مشتمل نہیں ہوگا کیونکہ اسطرح اِنکی تعداد ۴۹۰ دن یعنی تقریباً ایک سال اور چار مہینوں کے برابر ہوگی۔ پیشینگوئی کے مطابق یروشلیم کیساتھ ”‏بازار .‏ .‏ .‏ اور فصیل“‏ کی دوبارہ تعمیر میں اِس سے کہیں زیادہ عرصہ لگا تھا۔ یہ ہفتے دراصل سالوں پر محیط ہیں۔ کئی جدید مترجمین خیال پیش کرتے ہیں کہ ہر ہفتہ سات سال کا ہے۔ مثال کے طور پر، دی جیوایش پبلیکیشن سوسائٹی کی شائع‌کردہ تنخ—‏دی ہولی سکرپچرز میں دانی‌ایل ۹:‏۲۴ پر فٹ‌نوٹ ”‏سالوں کے ستر ہفتوں“‏ کی اصطلا‌ح استعمال کرتا ہے۔ این امریکن ٹرانسلیشن اِسے یوں بیان کرتی ہے:‏ ”‏تیرے لوگوں اور مُقدس شہر کیلئے سالوں کے ستر ہفتے مقرر کئے گئے ہیں۔“‏ روتھرہیم اور موفٹ کے ترجموں میں بھی ایسے ہی اظہارات ملتے ہیں۔‏

۱۵.‏ ”‏ستر ہفتوں“‏ کو کن تین حصوں میں تقسیم کِیا گیا ہے اور اِنکا آغاز کب ہونا تھا؟‏

۱۵ فرشتے کے مطابق، ”‏ستر ہفتے“‏ تین حصوں میں تقسیم کئے جائینگے:‏ (‏۱)‏ ”‏سات ہفتے،“‏ (‏۲)‏ ”‏باسٹھ ہفتے“‏ اور (‏۳)‏ ایک ہفتہ۔ یہ ۴۹ سال، ۴۳۴ سال اور ۷ سال—‏کُل ۴۹۰ سال—‏ہونگے۔ دلچسپی کی بات ہے کہ دی ریوائزڈ انگلش بائبل اسے یوں بیان کرتی ہے:‏ ”‏تیرے لوگوں اور مُقدس شہر کے لئے ستر ضرب سات سال مقرر کئے گئے ہیں۔“‏ بابل میں ۷۰ سال کی اسیری اور تکلیف کے بعد یہودی ۴۹۰ سال یا ۷ ضرب ۷۰ سال کیلئے خدا کی طرف سے خاص لطف‌وکرم کا تجربہ کرینگے۔ اِس عرصے کا آغاز ”‏یروشلیم کی بحالی اور تعمیر کا حکم صادر ہونے“‏ سے ہوگا۔ ایسا کب ہوگا؟‏

‏”‏ستر ہفتوں“‏ کا آغاز

۱۶.‏ خورس کے حکم کے مطابق اُس نے یہودیوں کو کس مقصد کیلئے اپنے آبائی وطن واپس بھیجا تھا؟‏

۱۶ ”‏ستر ہفتوں“‏ کے آغاز کے حوالے سے تین قابلِ‌ذکر واقعات غوروفکر کے مستحق ہیں۔ پہلا واقعہ ۵۳۷ ق.‏س.‏ع.‏ میں رُونما ہوا جب خورس نے یہودیوں کے اپنے وطن لوٹ جانے کا حکم صادر کِیا۔ اُس نے یہ حکم دیا:‏ ”‏شاہِ‌فاؔرِس خوؔرس یوں فرماتا ہے کہ [‏یہوواہ]‏ آسمان کے خدا نے زمین کی سب مملکتیں مجھے بخشی ہیں اور مجھے تاکید کی ہے کہ مَیں یرؔوشلیم میں جو یہوؔداہ میں ہے اُس کیلئے ایک مسکن بناؤں۔ پس تمہارے درمیان جو کوئی اُس کی ساری قوم میں سے ہو اُس کا خدا اُسکے ساتھ ہو اور وہ یرؔوشلیم کو جو یہوؔداہ میں ہے جائے اور [‏یہوواہ]‏ اؔسرائیل کے خدا کا گھر جو یرؔوشلیم میں ہے بنائے (‏خدا وہی ہے)‏۔ اور جو کوئی کسی جگہ جہاں اُس نے قیام کِیا باقی رہا ہو تو اُسی جگہ کے لوگ چاندی اور سونے اور مال اور مواشی سے اُس کی مدد کریں اور علاوہ اِسکے وہ خدا کے گھر کے لئے جو یرؔوشلیم میں ہے رضا کے ہدئے دیں۔“‏ (‏عزرا ۱:‏۲-‏۴‏)‏ اِس حکم کا واضح مقصد ہیکل یعنی ”‏خدا کے گھر“‏ کو اُس کی پُرانی جگہ پر دوبارہ تعمیر کرنا تھا۔‏

۱۷.‏ عزرا کو دئے جانے والے خط میں اُسکے یروشلیم جانے کی کیا وجہ بتائی گئی تھی؟‏

۱۷ دوسرا واقعہ فارسی بادشاہ ارتخششتا (‏ارتخششتا لونگی‌مانس، خشایارشا اوّل کے بیٹے)‏ کے دورِحکومت کے ساتویں سال میں رُونما ہوا۔ اُس وقت عزرا فقیہ نے بابل سے یروشلیم تک چار ماہ کا سفر کِیا۔ اُسکے پاس بادشاہ کی طرف سے ایک خاص خط تھا لیکن اِس میں یروشلیم کو دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اِسکے برعکس، عزرا کو صرف ’‏یہوواہ کا گھر آراستہ‘‏ کرنے کی تفویض سونپی گئی تھی۔ اِسی وجہ سے خط میں ہیکل کی سچی پرستش کے کاموں کے لئے سونے، چاندی، پاک ظروف اور گیہوں، مے، تیل اور نمک اور وہاں خدمت کرنے والوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کا ذکر کِیا گیا تھا۔—‏عزرا ۷:‏۶-‏۲۷‏۔‏

۱۸.‏ نحمیاہ کس خبر سے پریشان تھا اور ارتخششتا بادشاہ کو اِسکا کیسے پتہ چلا؟‏

۱۸ تیسرا واقعہ ۱۳ سال بعد، فارسی بادشاہ ارتخششتا کے ۲۰ ویں سال میں رُونما ہوا۔ اُس وقت نحمیاہ ”‏قصرسوسنؔ“‏ میں اُس کے ساقی کے طور پر خدمت انجام دے رہا تھا۔ بابل سے لوٹنے والے بقیے نے کسی حد تک یروشلیم کو دوبارہ تعمیر کر لیا تھا۔ تاہم، سب کچھ تسلی‌بخش نہیں تھا۔ نحمیاہ کو خبر ملی کہ ’‏یروشلیم کی فصیل ٹوٹی ہوئی اور اُس کے پھاٹک آگ سے جلے ہوئے ہیں۔‘‏ اِس خبر سے وہ بہت پریشان اور اُداس ہو گیا تھا۔ جب اُس کی اُداسی کا سبب پوچھا گیا تو نحمیاہ نے جواب دیا:‏ ”‏بادشاہ ہمیشہ جیتا رہے!‏ میرا چہرہ اُداس کیوں نہ ہو جبکہ وہ شہر جہاں میرے باپ‌دادا کی قبریں ہیں اُجاڑ پڑا ہے اور اُسکے پھاٹک آگ سے جلے ہوئے ہیں؟“‏—‏نحمیاہ ۱:‏۱-‏۳؛‏ ۲:‏۱-‏۳‏۔‏

۱۹.‏ (‏ا)‏جب ارتخششتا بادشاہ نے نحمیاہ سے اُسکی اُداسی کی وجہ پوچھی تو اُس نے پہلے کیا کِیا؟ (‏ب)‏ نحمیاہ نے کیا درخواست کی اور اُس نے اِس معاملے میں خدا کی مدد کو کیسے تسلیم کِیا؟‏

۱۹ نحمیاہ کا بیان جاری رہتا ہے:‏ ”‏بادشاہ نے مجھ سے فرمایا کس بات کیلئے تیری درخواست ہے؟ تب مَیں نے آسمان کے خدا سے دُعا کی۔ پھر مَیں نے بادشاہ سے کہا اگر بادشاہ کی مرضی ہو اور اگر تیرے خادم پر تیرے کرم کی نظر ہے تو تُو مجھے یہوؔداہ میں میرے باپ‌دادا کی قبروں کے شہر کو بھیج دے تاکہ مَیں اُسے تعمیر کروں۔“‏ ارتخششتا کو یہ تجویز پسند آئی اور اُس نے نحمیاہ کی اِس درخواست کو بھی قبول کر لیا:‏ ”‏اگر بادشاہ کی مرضی ہو تو دریا پار [‏دریائے‌فرات کے پار]‏ کے حاکموں کے لئے مجھے پروانے عنایت ہوں کہ وہ مجھے یہوؔداہ تک پہنچنے کے لئے گذر جانے دیں۔ اور آؔسف کے لئے جو شاہی جنگل کا نگہبان ہے ایک شاہی خط ملے کہ وہ ہیکل کے قلعہ کے پھاٹکوں کے لئے اور شہرِپناہ اور اُس گھر کے لئے جس میں مَیں رہونگا کڑیاں بنانے کو مجھے لکڑی دے۔“‏ اِس تمام معاملے میں نحمیاہ نے اِن الفاظ کیساتھ یہوواہ کی مدد کو تسلیم کِیا:‏ ”‏چونکہ میرے خدا کی شفقت کا ہاتھ مجھ پر تھا بادشاہ نے میری عرض قبول کی۔“‏—‏نحمیاہ ۲:‏۴-‏۸‏۔‏

۲۰.‏ (‏ا)‏”‏یروشلیم کی بحالی اور تعمیر“‏ کے حکم کو عملی‌جامہ کب پہنایا گیا؟ (‏ب)‏”‏ستر ہفتوں“‏ کا آغاز اور اختتام کب ہوا؟ (‏پ)‏کونسا ثبوت ”‏ستر ہفتوں“‏ کے آغاز اور اختتام کی تاریخوں کے درست ہونے کی نشاندہی کرتا ہے؟‏

۲۰ ”‏یروشلیم کی بحالی اور تعمیر“‏ کی اجازت تو ارتخششتا کی سلطنت کے ۲۰ ویں سال کے اوائل میں نیسان کے مہینے میں مل چکی تھی لیکن اس پر عمل کئی مہینوں بعد شروع ہوا تھا۔ ایسا اُس وقت ہوا جب نحمیاہ نے یروشلیم پہنچ کر اسکی بحالی کا کام شروع کِیا۔ عزرا کا سفر چار مہینے کا تھا لیکن سوسن بابل سے ۳۲۲ کلومیٹر دُور مشرق میں تھا اور یروشلیم سے تو یہ اَور بھی دُور تھا۔ پس، نحمیاہ غالباً ارتخششتا کے ۲۰ ویں سال کے آخر یا ۴۵۵ ق.‏س.‏ع.‏ میں یروشلیم پہنچا تھا۔ پس ”‏ستر ہفتوں“‏ یا ۴۹۰ سال کا آغاز اسی وقت سے ہوا۔ اِن کا اختتام ۳۶ س.‏ع.‏ کے آخر میں ہوگا۔—‏صفحہ ۱۹۷ پر ”‏ارتخششتا کے دورِحکومت کا آغاز کب ہوا؟“‏ کے تحت مواد کا مطالعہ کریں۔‏

‏”‏ممسوح فرمانروا“‏ کا ظہور

۲۱.‏ (‏ا)‏پہلے ”‏سات ہفتوں“‏ کے دوران کونسا کام کن حالات کے باوجود پایۂ‌تکمیل کو پہنچا؟ (‏ب)‏مسیحا کا ظہور کس سال میں ہونا تھا اور لوقا کی انجیل کے مطابق اُس وقت کیا واقع ہوا؟‏

۲۱ درحقیقت، یروشلیم کی دوبارہ تعمیر میں کتنے سال لگے تھے؟ شہر کی تعمیروبحالی یہودیوں کے اندرونی مسائل اور سامریوں اور دیگر لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے ”‏مصیبت کے ایّام میں“‏ ہونی تھی۔ بدیہی طور پر، یہ کام ”‏سات ہفتوں“‏ یا ۴۹ سالوں میں ۴۰۶ ق.‏س.‏ع.‏ تک مکمل ہو گیا تھا۔ (‏دانی‌ایل ۹:‏۲۵‏)‏ اِس کے بعد ۶۲ ہفتے یا ۴۳۴ سال شروع ہونے تھے۔ اِس مدت کے بعد مسیحا کا ظہور ہونا تھا جس کا عرصۂ‌دراز سے وعدہ کِیا گیا تھا۔ لہٰذا، ۴۵۵ ق.‏س.‏ع.‏ سے ۴۸۳ سال (‏۴۹ جمع ۴۳۴)‏ کا شمار ہمیں ۲۹ س.‏ع.‏ پر لے آتا ہے۔ اُس وقت کیا واقع ہوا تھا؟ انجیل‌نویس لوقا ہمیں بتاتا ہے:‏ ”‏تبریسؔ قیصر کی حکومت کے پندرھویں برس جب پُنطیُسؔ پیلاطُس یہوؔدیہ کا حاکم تھا اور ہیرؔودیس گلیلؔ کا .‏ .‏ .‏ حاکم تھا۔ .‏ .‏ .‏ [‏تو]‏ خدا کا کلام بیابان میں زکرؔیاہ کے بیٹے یوؔحنا پر نازل ہوا۔ اور وہ یرؔدن کے سارے گردنواح میں جا کر گناہوں کی معافی کیلئے توبہ کے بپتسمہ کی منادی کرنے لگا۔“‏ اُس وقت لوگ مسیحا کے ”‏منتظر تھے۔“‏—‏لوقا ۳:‏۱-‏۳،‏ ۱۵‏۔‏

۲۲.‏ یسوع کب اور کیسے موعودہ مسیحا بنا؟‏

۲۲ یوحنا تو موعودہ مسیحا نہیں تھا۔ لیکن یوحنا نے ۲۹ س.‏ع.‏ کے موسمِ‌خزاں میں یسوع ناصری کے بپتسمے کے موقع پر رُونما ہونے والی باتوں کی بابت کہا:‏ ”‏مَیں نے روح کو کبوتر کی طرح آسمان سے اُترتے دیکھا ہے اور وہ اُس پر ٹھہر گیا۔ اور مَیں تو اُسے پہچانتا نہ تھا مگر جس نے مجھے پانی سے بپتسمہ دینے کو بھیجا اُسی نے مجھ سے کہا کہ جس پر تُو روح کو اُترتے اور ٹھہرتے دیکھے وہی روح‌القدس سے بپتسمہ دینے والا ہے۔ چنانچہ مَیں نے دیکھا اور گواہی دی ہے کہ یہ خدا کا بیٹا ہے۔“‏ (‏یوحنا ۱:‏۳۲-‏۳۴‏)‏ یسوع اپنے بپتسمے پر ممسوح—‏مسیحا یا مسیح—‏بن گیا۔ اِسکے تھوڑی ہی دیر بعد، یوحنا کے شاگرد اندریاس کی یسوع مسیح سے ملاقات ہوئی اور اُس نے شمعون پطرس سے کہا:‏ ”‏ہم کو خرستُسؔ یعنی مسیح مل گیا“‏ ہے۔ (‏یوحنا ۱:‏۴۱‏)‏ چنانچہ ”‏ممسوح فرمانروا“‏ بالکل صحیح وقت پر یعنی ۶۹ ہفتوں کے اختتام پر ظاہر ہوا!‏

آخری ہفتے کے واقعات

۲۳.‏ ”‏ممسوح فرمانروا“‏ کی موت کیوں اور کب واقع ہونی تھی؟‏

۲۳ تاہم، ۷۰ ویں ہفتے کے دوران کیا انجام پانا تھا؟ جبرائیل نے بیان کِیا کہ ”‏ستر ہفتے“‏ مقرر کئے جا چکے ہیں تاکہ ”‏خطاکاری اور گناہ کا خاتمہ ہو جائے۔ بدکرداری کا کفارہ دیا جائے۔ ابدی راستبازی قائم ہو۔ رویاونبوّت پر مہر ہو اور پاکترین مقام ممسوح کِیا جائے۔“‏ اِس کی تکمیل کیلئے ”‏ممسوح فرمانروا“‏ کو اپنی جان قربان کرنی تھی۔ کب؟ جبرائیل نے بیان کِیا:‏ ”‏باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کِیا جائیگا اور اُسکا کچھ نہ رہے گا۔ .‏ .‏ .‏ اور وہ ایک ہفتہ کیلئے بہتوں سے عہد قائم کرے گا اور نصف ہفتہ میں ذِبیحہ اور ہدیہ موقوف کرے گا۔“‏ (‏دانی‌ایل ۹:‏۲۶الف، ۲۷الف‏)‏ سالوں کے آخری ہفتے کا وسط یعنی ”‏نصف ہفتہ“‏ ایک فیصلہ‌کُن دَور تھا۔‏

۲۴، ۲۵.‏(‏ا)‏ پیشینگوئی کے مطابق مسیح کی موت کب واقع ہوئی اور اُسکی موت اور قیامت سے کن چیزوں کا خاتمہ ہو گیا؟ (‏ب)‏یسوع کی موت نے کیا ممکن بنا دیا؟‏

۲۴ یسوع مسیح کی عوامی خدمتگزاری کا آغاز ۲۹ س.‏ع.‏ کے آخر میں ہوا اور یہ ساڑھے تین سال تک جاری رہی۔ پیشینگوئی کے مطابق ۳۳ س.‏ع.‏ کے شروع میں مسیح کو ”‏قتل“‏ کر دیا گیا یعنی اُس نے نوعِ‌انسان کے فدیے کے لئے سولی پر اپنی جان دے دی۔ (‏یسعیاہ ۵۳:‏۸؛‏ متی ۲۰:‏۲۸‏)‏ جب قیامت‌یافتہ یسوع نے آسمان پر خدا کے حضور اپنی انسانی جان کی قربانی کی قیمت پیش کی تو شریعت کے مطابق وضع‌کردہ جانوروں کی قربانیاں اور ہدیے موقوف ہو گئے۔ یہودی کاہن ۷۰ س.‏ع.‏ میں یروشلیم کی ہیکل کی بربادی تک قربانیاں تو پیش کرتے رہے لیکن اِنہیں خدائی مقبولیت حاصل نہیں تھی۔ اُنکی جگہ ہمیشہ‌ہمیشہ کیلئے ایک ہی قربانی گزران دی گئی تھی۔ اِسکی بابت پولس رسول نے لکھا:‏ ”‏لیکن [‏مسیح]‏ ہمیشہ کیلئے گناہوں کے واسطے ایک ہی قربانی گذران کر خدا کی دہنی طرف جا بیٹھا۔ کیونکہ اُس نے ایک ہی قربانی چڑھانے سے اُنکو ہمیشہ کیلئے کامل کر دیا ہے جو پاک کئے جاتے ہیں۔“‏—‏عبرانیوں ۱۰:‏۱۲،‏ ۱۴‏۔‏

۲۵ اگرچہ نوعِ‌انسان گناہ اور موت کے تابع رہے توبھی یسوع کی موت اور آسمانی زندگی کیلئے اُس کی قیامت نے پیشینگوئی پوری کر دی۔ اِس سے ’‏خطاکاری اور گناہ کا خاتمہ ہو گیا، بدکرداری کا کفارہ ادا کر دیا گیا اور راستبازی قائم ہو گئی۔‘‏ خدا نے شریعتی عہد کو موقوف کر دیا جس نے یہودیوں کو گنہگار اور مستوجب‌سزا ٹھہرایا تھا۔ (‏رومیوں ۵:‏۱۲،‏ ۱۹، ۲۰؛‏ گلتیوں ۳:‏۱۳،‏ ۱۹؛‏ افسیوں ۲:‏۱۵؛‏ کلسیوں ۲:‏۱۳، ۱۴‏)‏ اب تائب خطاکاروں کے گناہ مٹا کر اُنکی سزائیں ختم کی جا سکتی تھیں۔ ایمان لانے والوں کیلئے مسیحا کے کفارے کی بدولت خدا سے میل‌ملاپ کرنا ممکن تھا۔ وہ خدا کی بخشش، ”‏مسیح یسوع میں ہمیشہ کی زندگی“‏ حاصل کرنے کی توقع رکھ سکتے تھے۔—‏رومیوں ۳:‏۲۱-‏۲۶؛‏ ۶:‏۲۲، ۲۳؛‏ ۱-‏یوحنا ۲:‏۱، ۲‏۔‏

۲۶.‏ (‏ا)‏شریعتی عہد کے موقوف ہو جانے کے باوجود کونسا عہد ’‏ایک ہفتے تک قائم رہا‘‏؟ (‏ب)‏سترویں ہفتے کے اختتام پر کیا واقع ہوا؟‏

۲۶ پس، یہوواہ نے ۳۳ س.‏ع.‏ میں مسیح کی موت کی بدولت شریعتی عہد کو موقوف کر دیا۔ لیکن یہ کیونکر کہا جا سکتا تھا کہ مسیحا ”‏ایک ہفتہ کیلئے بہتوں سے عہد قائم کریگا“‏؟ اِسلئے کہ اُس نے ابرہامی عہد کو قائم رکھا تھا۔ خدا ۷۰ ویں ہفتے کے اختتام تک ابرہام کی عبرانی اولاد کو اُس عہد کی برکات عطا کرتا رہا۔ لیکن ۳۶ س.‏ع.‏ میں سالوں کے ”‏ستر ہفتوں“‏ کے اختتام پر پطرس رسول نے خداپرست اطالوی شخص کرنیلیس، اُس کے گھرانے اور دیگر غیریہودیوں کو منادی کی۔ لہٰذا، اُس دن سے قوموں میں خوشخبری کی منادی شروع ہو گئی۔—‏اعمال ۳:‏۲۵، ۲۶؛‏ ۱۰:‏۱-‏۴۸؛‏ گلتیوں ۳:‏۸، ۹،‏ ۱۴‏۔‏

۲۷.‏ کونسا ”‏پاکترین مقام“‏ ممسوح کِیا گیا اور کیسے؟‏

۲۷ پیشینگوئی میں ”‏پاکترین مقام“‏ کے ممسوح کئے جانے کا ذکر بھی کِیا گیا تھا۔ اِس سے یروشلیم میں ہیکل کے پاکترین مقام یا اندرونی کمرے کا ممسوح کِیا جانا مُراد نہیں ہے۔ یہاں ”‏پاکترین مقام“‏ کے اظہار سے مُراد خدا کا آسمانی مقدِس ہے۔ یسوع نے وہاں اپنے باپ کے حضور اپنی انسانی قربانی پیش کی تھی۔ یسوع کے بپتسمے نے ۲۹ س.‏ع.‏ میں اُس آسمانی اور روحانی جگہ کو ممسوح یا مخصوص کِیا جسکی نمائندگی زمینی خیمۂ‌اجتماع اور بعد میں ہیکل کے پاکترین مقام سے ہوتی ہے۔—‏عبرانیوں ۹:‏۱۱، ۱۲‏۔‏

پیشینگوئی کی خدائی تصدیق

۲۸.‏ ’‏رویاونبوّت پر مہر ثبت کرنے‘‏ کا مطلب کیا تھا؟‏

۲۸ جبرائیل فرشتے کی معرفت بیان‌کردہ اِس مسیحائی پیشینگوئی نے ’‏رویاونبوّت پر مہر ثبت کرنے‘‏ کا بھی ذکر کِیا تھا۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ مسیحا کی قربانی، قیامت اور آسمانی ظہور کے علاوہ ۷۰ ویں ہفتے کے دوران انجام پانے والی تمام باتوں پر الہٰی منظوری کی مہر ثبت ہے جس کی وجہ سے یہ قابلِ‌بھروسا ہیں اور ضرور وقوع میں آئینگی۔ اِس رویا پر مہر کر دی گئی کہ یہ صرف اور صرف مسیحا سے ہی متعلق ہے۔ اِس کی تکمیل اُس پر اور اُس کے ذریعے خدا کے کاموں پر ہوگی۔ پس، اِس رویا کی درست تشریح صرف موعودہ مسیحا سے ہی وابستہ ہو سکتی ہے۔ اِسکا کوئی اَور مطلب نہیں ہو سکتا۔‏

۲۹.‏ دوبارہ تعمیرکردہ یروشلیم کیساتھ کیا واقع ہونا تھا اور اِسکی وجہ کیا تھی؟‏

۲۹ اِس سے پہلے جبرائیل پیشینگوئی کر چکا تھا کہ یروشلیم کو دوبارہ تعمیر کِیا جائیگا۔ لیکن اب وہ اِن الفاظ میں دوبارہ تعمیرکردہ شہر اور اُسکی ہیکل کی بربادی کی پیشینگوئی کرتا ہے:‏ ”‏ایک بادشاہ آئیگا جسکے لوگ شہر اور مقدِس کو مسمار کرینگے اور اُسکا انجام گویا طوفان کے ساتھ ہوگا اور آخر تک لڑائی رہیگی۔ بربادی مقرر ہو چکی ہے۔ .‏ .‏ .‏ اور فصیلوں پر اُجاڑنے والی مکروہات رکھی جائینگی یہاں تک کہ بربادی کمال کو پہنچ جائیگی اور وہ بلا جو مقرر کی گئی ہے اُس اُجاڑنے والے پر واقع ہوگی۔“‏ (‏دانی‌ایل ۹‏:‏۲۶ب، ۲۷ب)‏ اگرچہ اِس تباہی نے ”‏ستر ہفتوں“‏ کے بعد واقع ہونا تھا توبھی یہ آخری ”‏ہفتہ“‏ کے دوران رُونما ہونے والے واقعات کا براہِ‌راست نتیجہ تھی کیونکہ اِسی میں یہودیوں نے مسیح کو رد کرکے موت کے گھاٹ اُتارا تھا۔—‏متی ۲۳:‏۳۷، ۳۸‏۔‏

۳۰.‏ تاریخی شہادتوں کی روشنی میں وقت کا صحیح حساب رکھنے والے خدائے‌عظیم کے کلام کی تکمیل کیسے ہوئی تھی؟‏

۳۰ تاریخ شاہد ہے کہ ۶۶ س.‏ع.‏ میں رومی لشکروں نے سوریہ کے گورنر سیسٹیئس گیلس کی زیرِکمان یروشلیم کا محاصرہ کِیا تھا۔ رومی لشکر یہودی مزاحمت کے باوجود اپنے بُتوں اور پرچموں سمیت شہر میں گھس گئے اور ہیکل کی شمالی دیوار میں رخنہ ڈالنا شروع کر دیا۔ وہاں کھڑے ہونے سے وہ مکمل تباہی برپا کرنے والی ”‏مکروہ چیز“‏ بن گئے۔ (‏متی ۲۴:‏۱۵، ۱۶‏)‏ رومی ایک بار پھر ۷۰ س.‏ع.‏ میں جرنیل ططس کی زیرِکمان ایک ”‏طوفان“‏ کی مانند آئے اور شہر اور اُسکی ہیکل کو تباہ‌وبرباد کر دیا۔ کوئی اُنکا راستہ نہ روک سکا کیونکہ یہ بتا دیا گیا تھا کہ خدا اُس پر ”‏وہ بلا جو مقرر کی گئی ہے“‏ ضرور لائیگا۔ وقت کا صحیح حساب رکھنے والے خدائے‌عظیم، یہوواہ نے ایک مرتبہ پھر اپنے کلام کو پورا کِیا تھا!‏

آپ کیا سمجھے ہیں؟‏

‏•یروشلیم کی بربادی کے ۷۰ سالوں کے اختتام کے قریب دانی‌ایل نے یہوواہ سے کیا التجائیں کیں؟‏

‏•”‏ستر ہفتوں“‏ کا عرصہ کتنا طویل تھا اور اُنکا آغاز اور اختتام کب ہوا؟‏

‏•”‏ممسوح فرمانروا“‏ کا ظہور کب ہوا اور کس اہم اور فیصلہ‌کُن وقت پر اُسکا قتل ہوا؟‏

‏•”‏ایک ہفتہ کیلئے بہتوں سے“‏ کونسا ”‏عہد قائم“‏ کِیا گیا تھا؟‏

‏•”‏ستر ہفتوں“‏ کے بعد کیا واقع ہوا؟‏

‏[‏صفحہ ۱۹۷ پر بکس/‏تصویر]‏

ارتخششتا کے دورِحکومت کا آغاز کب ہوا؟‏

فارسی بادشاہ ارتخششتا کے دورِحکومت کے آغاز کی بابت مؤرخین میں اختلافِ‌رائے پایا جاتا ہے۔ بعض کے خیال میں وہ ۴۶۵ ق.‏س.‏ع.‏ میں بادشاہ بنا کیونکہ اُسکے باپ اخسویرس [‏خشایارشا]‏ نے ۴۸۶ ق.‏س.‏ع.‏ میں حکمرانی شروع کی اور اپنی سلطنت کے ۲۱ ویں سال میں وفات پائی تھی۔ لیکن اِس بات کی واضح شہادت موجود ہے کہ ارتخششتا ۴۷۵ ق.‏س.‏ع.‏ میں سلطنت کا وارث بنا اور ۴۷۴ ق.‏س.‏ع.‏ میں اپنی حکومت کے پہلے سال کا آغاز کِیا۔‏

قدیم فارسی دارالسلطنت پرسی‌پولس کی کھدائی سے دریافت ہونے والے کتبے اور مجسّمے اخسویرس اور اُسکے والد، دارا اوّل کی مشترکہ حکمرانی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگر اِس مشترکہ حکومت کا دورانیہ ۱۰ سال تھا اور اخسویرس نے ۴۸۶ ق.‏س.‏ع.‏ میں دارا کی وفات کے بعد ۱۱ سال تک تنہا حکومت کی توپھر ارتخششتا کی حکومت کا پہلا سال ۴۷۴ ق.‏س.‏ع.‏ ہوگا۔‏

دوسری شہادت اتھینے کے جرنیل تھیمسٹاکلیز کی ہے جس نے اخسویرس کی فوجوں کو ۴۸۰ ق.‏س.‏ع.‏ میں شکست دی تھی۔ اِسکے بعد وہ یونانیوں کی حمایت کھو بیٹھا اور اُس پر غداری کا الزام لگایا گیا۔ تھیمسٹاکلیز نے فرار ہوکر فارسی دربار میں پناہ حاصل کی جہاں اُسکے ساتھ مہربانہ سلوک کِیا گیا۔ یونانی مؤرخ توسیدیدیس کے مطابق یہ ارتخششتا کے ”‏تخت‌نشین ہونے کے تھوڑے ہی عرصے“‏ بعد کا واقعہ ہے۔ یونانی مؤرخ دیودورس سیکولس بیان کرتا ہے کہ تھیمسٹاکلیز نے ۴۷۱ ق.‏س.‏ع.‏ میں وفات پائی تھی۔ تھیمسٹاکلیز نے فارسی دربار میں بادشاہ ارتخششتا کے حضور جانے سے پہلے ایک سال تک فارسی زبان سیکھنے کی درخواست کی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایشیائے‌کوچک میں تقریباً ۴۷۳ ق.‏س.‏ع.‏ ہی میں آیا ہوگا۔ اِس تاریخ کی حمایت جیروم کی کرونیکل آف یوسیبیس سے بھی ملتی ہے۔ چونکہ تھیمسٹاکلیز ارتخششتا کے ”‏تخت‌نشین ہونے کے تھوڑا ہی عرصہ بعد“‏ یعنی ۴۷۳ ق.‏س.‏ع.‏ میں آیا تھا اسلئے دیگر ذرائع کی طرح جرمن مفکر ارنسٹ ہنگ‌سٹن‌برگ نے بھی اپنی کتاب کرسٹولاجی آف دی اولڈ ٹسٹامنٹ میں بیان کِیا کہ ارتخششتا نے اپنی حکومت کا آغاز ۴۷۴ ق.‏س.‏ع.‏ میں کِیا تھا۔ اُس نے یہ بھی کہا:‏ ”‏ارتخششتا کی حکومت کا بیسواں سال ۴۵۵ قبل‌ازمسیح ہے۔“‏

‏[‏تصویر]‏

تھیمسٹاکلیز کا مجسّمہ

‏[‏صفحہ ۱۸۸، ۱۸۹ پر ڈائیگرام/‏تصویریں]‏

‏(‏تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)‏

‏”‏ستر ہفتے“‏

۴۵۵ ق.‏س.‏ع.‏ ۴۰۶ ق.‏س.‏ع.‏ ۲۹ س۔ع ۳۳ س۔ع ۳۶ س۔ع

”‏یرؔوشلیم بحال‌شُدہ مسیحا مسیحا ”‏ستر ہفتوں“‏

کی بحالی یروشلیم کا ظہور کا قتل کا اختتام

‏.‏ .‏ .‏ کا حکم“‏

۷ ہفتے ۶۲ ہفتے ۱ ہفتہ

۴۹ سال ۴۳۴ سال ۷ سال

‏[‏صفحہ ۱۸۰ پر صرف تصویر ہے]‏

‏[‏صفحہ ۱۹۳ پر صرف تصویر ہے]‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں