دسواں باب
بادشاہوں کے بادشاہ کا سامنا کون کر سکتا ہے؟
۱، ۲. بیلشضر کے عہدِحکومت کے تیسرے سال میں دانیایل کو دکھائی دینے والی رویا ہمارے لئے کیوں اہم ہے؟
یروشلیم میں یہوواہ کی ہیکل کو تباہ ہوئے ۵۷ سال ہو چکے ہیں۔ بیلشضر اور اُسکا والد نبوندیس، دونوں ملکر بائبل پیشینگوئی کے مطابق تیسری عالمی طاقت، بابلی سلطنت پر حکومت کر رہے ہیں۔a خدا کا نبی دانیایل بابل میں اسیر ہے۔ لہٰذا یہوواہ ”بیلشضرؔ بادشاہ کی سلطنت کے تیسرے سال میں“ دانیایل کو سچی پرستش کی بحالی کے سلسلے میں بعض تفصیلات سے آگاہ کرنے کیلئے ایک رویا دکھاتا ہے۔—دانیایل ۸:۱۔
۲ دانیایل کو دکھائی دینے والی نبوّتی رویا نے اُس پر گہرا اثر کِیا اور یہ ہم ”آخری زمانہ“ والوں کیلئے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ جبرائیل فرشتہ دانیایل کو بتاتا ہے: ”دیکھ مَیں تجھے سمجھاؤنگا کہ قہر کے آخر میں کیا ہوگا کیونکہ یہ امر آخری مقررہ وقت کی بابت ہے۔“ (دانیایل ۸:۱۶، ۱۷، ۱۹، ۲۷) پس، آئیے گہری دلچسپی کیساتھ دانیایل کی رویا اور اس بات پر غوروخوض کریں کہ یہ ہمارے زمانے کیلئے کیا مطلب رکھتی ہے۔
دو سینگوں والا مینڈھا
۳، ۴. دانیایل نے دریا کے کنارے کس جانور کو کھڑے دیکھا اور اُس سے کس کی نمائندگی ہوتی ہے؟
۳ دانیایل لکھتا ہے کہ ”مَیں نے عالمِرویا میں دیکھا اور جس وقت مَیں نے دیکھا ایسا معلوم ہوا کہ مَیں قصرسوسنؔ میں تھا جو صوبۂعیلاؔم میں ہے۔ پھر مَیں نے عالمِرویا ہی میں دیکھا کہ مَیں دریایِاؔولائی کے کنارہ پر ہوں۔“ (دانیایل ۸:۲) یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ آیا دانیایل واقعی بابل کے مشرق میں ۳۵۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع عیلام کے دارالحکومت سوسن (سوسا) میں تھا یا وہ صرف عالمِرویا کا منظر بیان کر رہا تھا۔
۴ دانیایل اپنا بیان جاری رکھتا ہے: ”تب مَیں نے آنکھ اُٹھا کر نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ دریا کے پاس ایک مینڈھا کھڑا ہے جسکے دو سینگ ہیں۔“ (دانیایل ۸:۳الف) دانیایل کیلئے اِس مینڈھے کی شناخت کو راز میں نہیں رکھا جاتا۔ لہٰذا، جبرائیل فرشتہ بعدازاں بیان کرتا ہے: ”جو مینڈھا تُو نے دیکھا اُسکے دونوں سینگ ماؔدی اور فاؔرس کے بادشاہ ہیں۔“ (دانیایل ۸:۲۰) مادیوں کا تعلق اسور کے مشرقی کوہستانی علاقے سے تھا جبکہ فارسی شروع شروع میں خلیج فارس کے شمالی علاقے میں خانہبدوشی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ تاہم، مادیفارسیوں کی سلطنت کی توسیع کیساتھ ساتھ اِسکے باشندے عیشوعشرت کی طرف راغب ہو گئے۔
۵. ”دوسرے کے بعد“ نکلنے والا سینگ بڑا کیسے ہو گیا تھا؟
۵ دانیایل بیان کرتا ہے: ”دونوں سینگ اُونچے تھے لیکن ایک دوسرے سے بڑا تھا اور بڑا دوسرے کے بعد نکلا تھا۔“ (دانیایل ۸:۳ب) بعد میں نکلنے والا بڑا سینگ فارسیوں کی تصویرکشی کرتا ہے جبکہ دوسرا سینگ مادیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ شروع میں مادی برسرِاقتدار تھے۔ لیکن ۵۵۰ ق.س.ع. میں فارس کے حاکم خورس نے مادی بادشاہ استیاگیس پر بآسانی فتح حاصل کر لی تھی۔ خورس نے دونوں اقوام کے آئینودستورات اور اُنکی سلطنتوں کو متحد کرکے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا۔ اُس وقت سے لیکر یہ سلطنت دوہری طاقت کے طور پر سامنے آئی۔
مینڈھا بہت زورآور ہو جاتا ہے
۶، ۷. مینڈھے کے سامنے کیسے ”کوئی جانور . . . کھڑا“ نہ ہو سکا؟
۶ دانیایل مینڈھے کی وضاحت میں مزید بیان کرتا ہے: ”مَیں نے اُس مینڈھے کو دیکھا کہ مغربوشمالوجنوب کی طرف سینگ مارتا ہے یہاں تک کہ نہ کوئی جانور اُسکے سامنے کھڑا ہو سکا اور نہ کوئی اُس سے چھڑا سکا پر وہ جو کچھ چاہتا تھا کرتا تھا یہاں تک کہ وہ بہت بڑا ہو گیا۔“—دانیایل ۸:۴۔
۷ دانیایل کو اِس سے پہلے دی جانے والی رویا میں بابل کی تصویرکشی سمندر سے نکلنے والے ایک جنگلی حیوان سے کی گئی تھی جو شیرببر کی مانند تھا اور اُس کے عقاب کے سے بازو تھے۔ (دانیایل ۷:۴، ۱۷) وہ علامتی حیوان اِس نئی رویا کے ”مینڈھے“ کے سامنے نہ ٹھہر سکا۔ بابل نے ۵۳۹ ق.س.ع. میں خورس سے شکست کھائی۔ اِس کے بعد، تقریباً ۵۰ سال تک ”کوئی جانور“ یا سیاسی حکومت مادیفارس—بائبل پیشینگوئی کے مطابق چوتھی عالمی طاقت—کا سامنا نہ کر سکی۔
۸، ۹. (ا)”مینڈھا“ کیسے ”مغربوشمالوجنوب کی طرف سینگ مارتا ہے“؟ (ب)بائبل میں آستر کی کتاب فارسی بادشاہ دارا اوّل کے جانشین کی بابت کیا بیان کرتی ہے؟
۸ مشرق سے برپا ہونے والی مادیفارس کی عالمی طاقت نے جوکچھ چاہا وہ کِیا اور ”مغرب وشمالوجنوب کی طرف سینگ“ مارا۔ (یسعیاہ ۴۶:۱۱) خورساعظم کے جانشین کمبیسیس دوم نے مصر کو فتح کر لیا۔ اُس کا جانشین فارسی بادشاہ دارا اوّل تھا جس نے ۵۱۳ ق.س.ع. میں آبنائےباسفورس کو پار کرتے ہوئے مغرب کی جانب پیشقدمی کی اور تھریس کے یورپی علاقے پر حملہ کِیا جس کا دارالسلطنت بزنطیم (موجودہ استنبول) تھا۔ اُس نے ۵۰۸ ق.س.ع. میں تھریس اور ۴۹۶ ق.س.ع. میں مقدونیہ کو بھی فتح کر لیا۔ پس، مادیفارسی ”مینڈھے“ نے دارا کے زمانے تک تین بنیادی اطراف یعنی شمال میں بابل اور اسور، مغرب میں ایشیائےکوچک اور جنوب میں مصر پر قبضہ کر لیا تھا۔
۹ مادیفارسی سلطنت کی عظمت کی تصدیق کرتے ہوئے بائبل دارا کے جانشین، خشایارشا اوّل یا اخسویرس کی بابت بیان کرتی ہے کہ ”یہ وہی اخسوؔیرس ہے جو ہندوستان سے کوؔش تک ایک سو ستائیس صوبوں پر سلطنت کرتا تھا۔“ (آستر ۱:۱) لیکن اِس عظیم سلطنت پر ایک اَور حکومت نے قبضہ کر لینا تھا جسکی بابت دانیایل کی رویا ایسی دلچسپ تفصیلات آشکارا کرتی ہے جن سے خدا کے نبوّتی کلام پر ہمارے ایمان کو تقویت ملتی ہے۔
ایک بکرا مینڈھے کو مار گراتا ہے
۱۰. دانیایل کی رویا میں کونسا جانور ”مینڈھے“ کو مار گراتا ہے؟
۱۰ اب دانیایل جوکچھ دیکھتا ہے اُس پر اُس کی حیرت کا تصور کریں۔ سرگزشت یوں بیان کرتی ہے: ”مَیں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک بکرا مغرب کی طرف سے آکر تمام رویِزمین پر ایسا پھرا کہ زمین کو بھی نہ چھؤا اور اُس بکرے کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک عجیب سینگ تھا۔ اور وہ اُس دو سینگ والے مینڈھے کے پاس جسے مَیں نے دریا کے کنارے کھڑا دیکھا آیا اور اپنے زور کے قہر سے اُس پر حملہآور ہوا۔ اور مَیں نے دیکھا کہ وہ مینڈھے کے قریب پہنچا اور اُسکا غضب اُس پر بھڑکا اور اُس نے مینڈھے کو مارا اور اُسکے دونوں سینگ توڑ ڈالے اور مینڈھے میں اُسکے مقابلہ کی تاب نہ تھی۔ پس اُس نے اُسے زمین پر پٹک دیا اور اُسے لتاڑا اور کوئی نہ تھا کہ مینڈھے کو اُس سے چھڑا سکے۔“ (دانیایل ۸:۵-۷) اِس سب کا کیا مطلب ہے؟
۱۱. (ا)جبرائیل فرشتے نے ”جسیم بکرے“ اور اِسکے ”بڑے سینگ“ کی بابت کیا وضاحت کی؟ (ب)عجیب سینگ نے کس کی تصویرکشی کی تھی؟
۱۱ دانیایل اور ہمیں اِس رویا کے مطلب کی بابت قیاسآرائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جبرائیل فرشتہ دانیایل کو بتاتا ہے: ”وہ جسیم بکرا یوناؔن کا بادشاہ ہے اور اُسکی آنکھوں کے درمیان کا بڑا سینگ پہلا بادشاہ ہے۔“ (دانیایل ۸:۲۱) فارسی سلطنت کے آخری بادشاہ، دارا سوم (کدومنس) کی تاجپوشی ۳۳۶ ق.س.ع. میں ہوئی تھی۔ اُسی سال سکندر مقدونیہ کا بادشاہ بنا تھا۔ تاریخی حقائق کی روشنی میں سکندرِاعظم پیشینگوئی کے مطابق پہلا ”یونان کا بادشاہ“ ثابت ہوا۔ سکندر نے ۳۳۴ ق.س.ع. میں ”مغرب کی طرف سے“ بڑی تیزی کیساتھ پیشقدمی کی۔ اُس نے ”زمین کو بھی نہ چھؤا“ یعنی یکےبعددیگرے فتوحات حاصل کرتے ہوئے ”مینڈھے“ کو مار گِرایا۔ یوں، تقریباً دو صدیوں پر محیط مادیفارسیوں کی سلطنت کا خاتمہ کرتے ہوئے، یونان بائبل پیشینگوئی کے مطابق پانچویں عالمی طاقت بن گیا۔ الہٰی پیشینگوئی کی کیا ہی شاندار تکمیل!
۱۲. علامتی بکرے کا ”بڑا سینگ“ کیسے ”ٹوٹ“ گیا اور اِسکی جگہ نکلنے والے چار سینگ کون تھے؟
۱۲ تاہم، سکندر کا اقتدار زیادہ عرصہ قائم نہیں رہنا تھا۔ رویا مزید آشکارا کرتی ہے: ”اور وہ بکرا نہایت بزرگ ہوا اور جب وہ نہایت زورآور ہوا تو اُسکا بڑا سینگ ٹوٹ گیا اور اُسکی جگہ چار عجیب سینگ آسمان کی چاروں ہواؤں کی طرف نکلے۔“ (دانیایل ۸:۸) جبرائیل پیشینگوئی کی وضاحت میں بیان کرتا ہے: ”اُسکے ٹوٹ جانے کے بعد اُسکی جگہ جو چار اَور نکلے وہ چار سلطنتیں ہیں جو اُسکی قوم میں قائم ہونگی لیکن اُنکا اقتدار اُسکا سا نہ ہوگا۔“ (دانیایل ۸:۲۲) پیشینگوئی کے مطابق، سکندر اپنی فتوحات کے عروج پر ”ٹوٹ“ گیا یعنی صرف ۳۲ سال کی عمر میں وفات پا گیا۔ لہٰذا، اُسکی عظیم سلطنت انجامکار اُسکے چار جرنیلوں میں تقسیم ہو گئی۔
ایک پُراسرار چھوٹا سینگ
۱۳. چاروں سینگوں میں سے کیا نکلا اور اُس نے کیا کِیا؟
۱۳ رویا کا اگلا حصہ ۲،۲۰۰ سے زیادہ سالوں کا احاطہ کرتا ہے جسکی تکمیل جدید زمانے میں بھی ہوتی ہے۔ دانیایل لکھتا ہے: ”اُن میں سے ایک سے ایک چھوٹا سینگ نکلا جو جنوب اور مشرق اور جلالی ملک کی طرف بےنہایت بڑھ گیا۔ اور وہ بڑھکر اجرامِفلک تک پہنچا اور اُس نے بعض اجرامِفلک اور ستاروں کو زمین پر گِرا دیا اور اُنکو لتاڑا۔ بلکہ اُس نے اجرام کے فرمانروا تک اپنے آپکو بلند کِیا اور اُس سے دائمی قربانی کو چھین لیا اور اُس کا مقدِس گِرا دیا۔ اور اجرام خطاکاری کے سبب سے دائمی قربانی سمیت اُسکے حوالہ کئے گئے اور اُس نے سچائی کو زمین پر پٹک دیا اور وہ کامیابی کے ساتھ یوں ہی کرتا رہا۔“—دانیایل ۸:۹-۱۲۔
۱۴. جبرائیل فرشتے نے علامتی چھوٹے سینگ کی کارگزاریوں کی بابت کیا بیان کِیا اور اُس سینگ کے ساتھ کیا واقع ہوگا؟
۱۴ متذکرہ الفاظ کے مطلب کو سمجھنے سے پہلے ہمیں خدا کے فرشتے کی بات پر توجہ دینی چاہئے۔ سکندر کی سلطنت سے چار سلطنتوں کے وجود میں آنے کی نشاندہی کرنے کے بعد جبرائیل فرشتہ بیان کرتا ہے: ”اُنکی سلطنت کے آخری ایّام میں جب خطاکار لوگ حد تک پہنچ جائینگے تو ایک تُرشرُو اور رمزشناس بادشاہ برپا ہوگا۔ یہ بڑا زبردست ہوگا لیکن اپنی قوت سے نہیں اور عجیب طرح سے برباد کریگا اور برومند ہوگا اور کام کریگا اور زورآوروں اور مُقدس لوگوں کو ہلاک کریگا۔ اور اپنی چترائی سے ایسے کام کریگا کہ اُسکی فطرت کے منصوبے اُسکے ہاتھ میں خوب انجام پائینگے اور دل میں بڑا گھمنڈ کریگا اور صلح کے وقت میں بہتیروں کو ہلاک کریگا۔ وہ بادشاہوں کے بادشاہ سے بھی مقابلہ کرنے کے لئے اُٹھ کھڑا ہوگا لیکن بےہاتھ ہلائے ہی شکست کھائیگا۔“—دانیایل ۸:۲۳-۲۵۔
۱۵. فرشتے نے دانیایل کو رویا کے سلسلے میں کیا کرنے کا حکم دیا تھا؟
۱۵ فرشتہ دانیایل سے کہتا ہے: ”لیکن تُو اِس رویا کو بند کر رکھ کیونکہ اِس کا علاقہ بہت دُور کے ایّام سے ہے۔“ (دانیایل ۸:۲۶) رویا کے اِس حصے کی تکمیل کا ”علاقہ بہت دُور کے ایّام سے“ ہونے کی وجہ سے دانیایل نے ”اِس رویا کو بند“ رکھنا تھا۔ اِسکے معنی دانیایل کیلئے بھی بظاہر راز ہی رہے۔ تاہم، ہمارے زمانے تک ”بہت دُور کے ایّام“ یقیناً گزر چکے ہیں۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ ’دُنیا کی تاریخ اِس نبوّتی رویا کی تکمیل کی بابت کیا آشکارا کرتی ہے؟‘
چھوٹا سینگ زورآور ہو جاتا ہے
۱۶. (ا)کس علامتی سینگ میں سے چھوٹا سینگ نکلا تھا؟ (ب)بائبل پیشینگوئی کے مطابق روم کیسے چھٹی عالمی طاقت بن گیا لیکن وہ علامتی چھوٹا سینگ کیوں نہیں تھا؟
۱۶ تاریخ کے مطابق، چھوٹا سینگ چار علامتی سینگوں میں سے ایک سینگ سے نکلا تھا اور اِس نے انتہائی مغرب سے برپا ہونا تھا۔ یہ مقدونیہ اور یونان پر جرنیل کسندر کی ہیلیانی بادشاہت تھی۔ بعدازاں، اِس بادشاہت کو تھریس اور ایشیائےکوچک کے بادشاہ، جرنیل لاسیماکس کی سلطنت نے اپنے اندر ضم کر لیا۔ دوسری صدی ق.س.ع. میں ہیلیانی سلطنت کے اِن مغربی حصوں کو روم نے فتح کر لیا۔ علاوہازیں، ۳۰ ق.س.ع. تک، روم تمام ہیلیانی سلطنتوں پر قابض ہو کر بائبل پیشینگوئی کے مطابق چھٹی عالمی طاقت بن گیا۔ لیکن دانیایل کو رویا میں دکھائی دینے والا چھوٹا سینگ رومی سلطنت نہیں تھی کیونکہ یہ ”آخری مقررہ وقت“ تک قائم نہیں رہی تھی۔—دانیایل ۸:۱۹۔
۱۷. (ا)برطانیہ کا رومی سلطنت کیساتھ کیا رشتہ تھا؟ (ب)برطانوی سلطنت کا مقدونیہ اور یونان کی ہیلیانی سلطنت کیساتھ کیا تعلق ہے؟
۱۷ پس، تاریخ اِس جارحیتپسند اور ”تُرشرَو . . . بادشاہ“ کے طور پر کس کی نشاندہی کرتی ہے؟ برطانیہ درحقیقت رومی سلطنت کے شمالمغربی حصے سے برپا ہوا تھا۔ پانچویں صدی س.ع. کے اوائل تک رومی صوبے اُس علاقے میں شامل تھے جسے آج برطانیہعظمیٰ کہا جاتا ہے۔ رومی سلطنت وقت کے ساتھ ساتھ زوالپذیر ہو گئی لیکن برطانیہ اور رومی تسلط کے تحت یورپ کے دیگر حصوں میں یونانی اور رومی تہذیب کا اثرورسوخ قائم رہا۔ میکسیکو کے نوبل انعامیافتہ شاعر اور مصنف اوکتابیو پاز نے لکھا کہ ”رومی سلطنت کے زوال پر چرچ نے اُسکی جگہ لے لی۔“ اُس نے یہ بھی بیان کِیا کہ ”آبائےکلیسیا اور مابعدی علما نے مسیحی تعلیم میں یونانی فیلسوفی کی آمیزش کر دی۔“ اِسکے علاوہ، ۲۰ ویں صدی کے فلاسفر اور ریاضیدان برٹرینڈ رسل نے بیان کِیا: ”یونانی مصدر سے نکلنے والی مغربی تہذیب ایک ایسی فیلسوفیانہ اور سائنسی روایت پر مبنی ہے جسکا آغاز اڑھائی ہزار سال پہلے میلیتُس [ایشیائےکوچک کا ایک یونانی شہر] سے ہوا تھا۔“ پس، یہ نتیجہ اخذ کرنا معقول ہوگا کہ برطانوی سلطنت کی تہذیب مقدونیہ اور یونان کی ہیلیانی سلطنت کی اصل سے ہے۔
۱۸. ”آخری . . . وقت“ میں ”تُرشرَو . . . بادشاہ“ بننے والا چھوٹا سینگ کون ہے؟ وضاحت کریں۔
۱۸ برطانوی حکومت ۱۷۶۳ تک اپنے طاقتور دشمنوں، سپین اور فرانس کو شکست دے چکی تھی۔ اُس وقت سے لے کر سمندروں پر برطانیہ کا جھنڈا لہرانے لگا اور وہ بائبل پیشینگوئی کے مطابق ساتویں عالمی طاقت بن گیا۔ اگرچہ ۱۳ امریکی نوآبادیوں نے ۱۷۷۶ میں برطانیہ سے الگ ہو کر ریاستہائےمتحدہ امریکہ کو تشکیل دیا توبھی برطانوی سلطنت کا زمین کے ایک چوتھائی رقبے اور کل آبادی کے ایک چوتھائی حصے پر اختیار قائم رہا۔ جب ریاستہائےمتحدہ امریکہ نے اینگلوامریکن دوہری عالمی طاقت کے قیام کے لئے برطانیہ کے ساتھ الحاق کر لیا تو ساتویں عالمی طاقت کا اختیار اَور بھی بڑھ گیا۔ معاشی اور عسکری طور پر یہ طاقت واقعی ”ایک تُرشرَو . . . بادشاہ“ بن گئی تھی۔ پس ”آخری . . . وقت“ میں تُرشرَو سیاسی طاقت بننے والا چھوٹا سینگ، اینگلوامریکن عالمی طاقت ہے۔
۱۹. رویا میں متذکرہ ”جلالی ملک“ کیا ہے؟
۱۹ دانیایل نے رویا میں دیکھا کہ چھوٹا سینگ ”جلالی ملک کی طرف بےنہایت بڑھ گیا۔“ (دانیایل ۸:۹) یہوواہ کی برگزیدہ اُمت کو حاصل ہونے والا موعودہ ملک اتنا خوبصورت تھا کہ اُسے ”تمام ممالک“ یعنی تمام زمین کی ”شوکت“ کہا گیا تھا۔ (حزقیایل ۲۰:۶، ۱۵) یہ سچ ہے کہ برطانیہ نے دسمبر ۹، ۱۹۱۷ کو یروشلیم پر قبضہ کر لیا تھا اور ۱۹۲۰ میں، انجمنِاقوام نے برطانیہعظمیٰ کو فلسطین کی تولیت بھی سونپ دی تھی جو مئی ۱۴، ۱۹۴۸ تک قائم رہی۔ تاہم، یہ ایک نبوّتی رویا ہے جس کی کئی علامتیں ہیں۔ لہٰذا، رویا میں متذکرہ ”جلالی ملک“ یروشلیم کی بجائے اُن لوگوں کی زمینی حالت کی علامت ہے جنہیں خدا ساتویں عالمی طاقت کے دورِحکومت کے دوران مُقدس خیال کرتا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ اینگلوامریکن عالمی طاقت مُقدس لوگوں کو کیسے خوفزدہ کرتی ہے۔
”اُسکا مقدِس“ گرا دیا گیا
۲۰. چھوٹا سینگ جن ”اجرامِفلک“ اور ”ستاروں“ کو زمین پر گرانے کی کوشش کرتا ہے وہ کون ہیں؟
۲۰ چھوٹا سینگ ”بڑھکر اجرامِفلک تک پہنچا اور اُس نے بعض اجرامِفلک اور ستاروں کو زمین پر گِرا دیا۔“ فرشتے کی وضاحت کے مطابق، چھوٹا سینگ جن ”اجرامِفلک“ اور ”ستاروں“ کو زمین پر گرانے کی کوشش کرتا ہے وہ ”مُقدس لوگ“ ہیں۔ (دانیایل ۸:۱۰، ۲۴) یہ ”مُقدس لوگ“ روح سے مسحشُدہ مسیحی ہیں۔ یسوع مسیح کے بہائے ہوئے خون کی بدولت نافذ ہونے والے نئے عہد کے ذریعے خدا کے ساتھ اُن کا خاص رشتہ قائم ہو جاتا ہے اور وہ بِلاشرکتِغیرے خدا کی خدمت کے لئے پاک اور مخصوص قرار دئے جاتے ہیں۔ (عبرانیوں ۱۰:۱۰؛ ۱۳:۲۰) یہوواہ اُنہیں اپنے بیٹے کے ساتھ آسمانی میراث میں شامل ہونے کی وجہ سے مُقدس خیال کرتا ہے۔ (افسیوں ۱:۳، ۱۱، ۱۸-۲۰) پس، دانیایل کی رویا میں ”اجرامِفلک“ ۱،۴۴،۰۰۰ ”مُقدس لوگوں“ کے بقیے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو برّے کے ساتھ آسمان میں حکومت کریں گے۔—مکاشفہ ۱۴:۱-۵۔
۲۱. ساتویں عالمی طاقت جس ”مقدِس“ کو ویران کرنے کی کوشش کرتی ہے اُس سے کیا مُراد ہے اور کون اِسے تشکیل دیتے ہیں؟
۲۱ آجکل ۱،۴۴،۰۰۰ کا بقیہ ”آسمانی یروشلیم“—خدا کی شہرنما بادشاہت—اور اُس کی ہیکل کے انتظام کے زمینی نمائندے ہیں۔ (عبرانیوں ۱۲:۲۲، ۲۸؛ ۱۳:۱۴) اِس مفہوم میں وہ ایک ”مقدِس“ کو تشکیل دیتے ہیں جسے ساتویں عالمی طاقت پامال اور ویران کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ (دانیایل ۸:۱۳) اِسی پاک مقام کا ”[یہوواہ کے] مقدِس“ کے طور پر ذکر کرتے ہوئے دانیایل بیان کرتا ہے: ”اُس [یہوواہ] سے دائمی قربانی کو چھین لیا اور اُسکا مقدِس گِرا دیا۔ اور اجرام خطاکاری کے سبب سے دائمی قربانی سمیت اُسکے حوالہ کئے گئے اور اُس نے سچائی کو زمین پر پٹک دیا اور وہ کامیابی کے ساتھ یوں ہی کرتا رہا۔“ (دانیایل ۸:۱۱، ۱۲) اِسکی تکمیل کیسے ہوئی تھی؟
۲۲. دوسری عالمی جنگ کے دوران ساتویں عالمی طاقت کیسے سنگین ”خطاکاری“ کی مُرتکب ہوئی؟
۲۲ دوسری عالمی جنگ کے دوران یہوواہ کے گواہوں کو کن مشکلات سے گزرنا پڑا تھا؟ اُنہیں سخت اذیت اُٹھانی پڑی! اِس اذیت کا آغاز نازی اور فسطائی ممالک سے ہوا۔ تاہم ’چھوٹے سینگ کے بہت زورآور بن جانے سے‘ اُسکی وسیع سلطنت میں بہت جلد ’سچائی کو زمین پر پٹک دیا گیا۔‘ برطانوی دولتمشترکہ میں شامل تقریباً تمام ممالک میں بادشاہتی منادوں کی ’بڑی تعداد‘ اور ”انجیل“ کی منادی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ (مرقس ۱۳:۱۰) جب اِن اقوام نے عوام کو جبراً فوج میں بھرتی کرنا شروع کِیا تو اُنہوں نے یہوواہ کے گواہوں کو اِس سے مستثنیٰ قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے خدا کے خادموں کے طور پر اُن کی خدائی تقرری کیلئے کوئی احترام نہ دکھایا۔ ریاستہائےمتحدہ میں یہوواہ کے وفادار خادموں کو ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے علاوہ مختلف بدسلوکیوں کا تجربہ بھی ہوا۔ دراصل، ساتویں عالمی طاقت نے حمد کی قربانی—”ہونٹوں کا پھل“—چھین لینے کی کوشش کی جو یہوواہ کے لوگوں کی ”دائمی قربانی“ یعنی اُن کی پرستش کا جزوِلازم ہے۔ (عبرانیوں ۱۳:۱۵) یوں اُس عالمی طاقت نے خداتعالیٰ کی جائز عملداری—”اُسکے مقدِس“—پر حملہ کرتے ہوئے ”خطاکاری“ کی۔
۲۳. (ا)دوسری عالمی جنگ کے دوران، اینگلوامریکن عالمی طاقت ”بادشاہوں کے بادشاہ کے خلاف“ کیسے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی؟ (ب)”بادشاہوں کا بادشاہ“ کون ہے؟
۲۳ دوسری عالمی جنگ کے دوران چھوٹے سینگ نے ”مُقدس لوگوں“ کو اذیت دینے سے ”اجرام کے فرمانروا تک“ اپنے آپ کو بلند کِیا۔ اِسکے علاوہ، جبرائیل فرشتے کے بیان کے مطابق یہ ”بادشاہوں کے بادشاہ“ کے خلاف بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ (دانیایل ۸:۱۱، ۲۵) یہاں لقب ”بادشاہوں کا بادشاہ“ صرف یہوواہ خدا کیلئے ہی موزوں ہے۔ عبرانی لفظ سار کا ترجمہ یہاں ”بادشاہ“ کِیا گیا ہے جو ”بادشاہزادے“ کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اِس لفظ کا تعلق ایسے فعل سے ہے جسکا مطلب ”اختیار کو کام میں لانا“ ہے۔ اس کے علاوہ، یہ لفظ شاہی خاندان کے افراد، کسی سربراہ یا سردار کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ دانیایل کی کتاب میکائیل جیسے دیگر ملکوتی شہزادوں یا مؤکلوں کا ذکر کرتی ہے۔ تاہم خدا ایسے تمام شہزادوں کا سردار ہے۔ (دانیایل ۱۰:۱۳، ۲۱؛ مقابلہ کریں زبور ۸۳:۱۸۔) کیا ہم بادشاہوں کے بادشاہ، یہوواہ کے خلاف کسی کے سر اُٹھانے کا تصور کر سکتے ہیں؟
”مقدِس“ کا پاک کِیا جانا
۲۴. دانیایل ۸:۱۴ ہمیں کیا یقیندہانی کراتی ہے؟
۲۴ عالمی طاقت اینگلوامریکن سمیت، کوئی بھی ”تُرشرُو“ بادشاہ دراصل بادشاہوں کے بادشاہ کا سامنا نہیں کر سکتا! بادشاہ خدا کے مقدِس کو ویران کرنے کی اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوتا۔ ملکوتی پیامبر بیان کرتا ہے کہ ”دو ہزار تین سو صبحوشام“ کی وقتی مدت کے بعد، ”مقدِس پاک کیا جائیگا“ یا ”فتح حاصل کریگا۔“—دانیایل ۸:۱۳، ۱۴؛ دی نیو انگلش بائبل۔
۲۵. دو ہزار تین سو دنوں کا نبوّتی دَور کتنا طویل ہے اور اِسکا تعلق کس واقعہ سے ہے؟
۲۵ دو ہزار تین سو دن ایک نبوّتی دَور کو تشکیل دیتے ہیں۔ چنانچہ، ایک نبوّتی سال ۳۶۰ دنوں پر مشتمل ہے۔ (مکاشفہ ۱۱:۲، ۳؛ ۱۲:۶، ۱۴) پس ۲،۳۰۰ دن، ۶ سال، ۴ ماہ اور ۲۰ دن کے برابر ہیں۔ یہ دَور کونسا تھا؟ بیشک، خدا کے لوگوں کی ۱۹۳۰ کے دہے کے دوران مختلف ممالک میں سخت اذیت شروع ہو گئی تھی۔ نیز دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی یہوواہ کے گواہوں کو اینگلوامریکن دوہری عالمی طاقت کے علاقوں میں سفاک اذیت کا سامنا ہوا تھا۔ کیوں؟ اِسلئے کہ وہ ’آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننے‘ پر مُصر تھے۔ (اعمال ۵:۲۹) پس، ۲،۳۰۰ دنوں کا تعلق اِسی جنگ سے ہے۔b لیکن اِس نبوّتی دَور کی ابتدا اور انتہا کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟
۲۶. (ا)دو ہزار تین سو دنوں کا شمار کب سے شروع کِیا جانا چاہئے؟ (ب)دو ہزار تین سو دنوں کا اختتام کب ہوا؟
۲۶ ”مقدِس“ کو صحیح حالت میں لانے کیلئے ۲،۳۰۰ دنوں کا آغاز اُسی وقت سے ہونا چاہئے جب یہ پہلے خدا کے نقطۂنظر سے ”پاک“ حالت میں تھا۔ ایسی حالت اُس وقت تھی جب جون ۱، ۱۹۳۸ کے دی واچٹاور میں ”تنظیم“ کے عنوان سے پہلا مضمون شائع ہوا تھا۔ اس کا دوسرا حصہ جون ۱۵، ۱۹۳۸ کے شمارے میں شائع ہوا۔ پس، جون ۱ یا ۱۵، ۱۹۳۸ سے ۲،۳۰۰ دنوں (عبرانی کیلنڈر کے مطابق ۶ سال، ۴ ماہ اور ۲۰ دن) کا شمار ہمیں اکتوبر ۸، یا ۲۲، ۱۹۴۴ پر لے آتا ہے۔ ستمبر ۳۰ اور اکتوبر ۱، ۱۹۴۴ کو ریاستہائےمتحدہ میں پٹسبرگ، پینسلوانیا کے مقام پر منعقد ہونے والی سپیشل اسمبلی کے پہلے دن واچ ٹاور سوسائٹی کے صدر نے ”آجکل خدائی انتظام“ کے موضوع پر خطاب کِیا۔ اکتوبر ۲ کو کارپوریشن کے سالانہ اجلاس پر سوسائٹی کے چارٹر میں تبدیلی کی گئی تاکہ اُسے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حتیالوسع خدائی انتظام سے ہمآہنگ کِیا جا سکے۔ بائبل تقاضوں کی واضح اشاعت کیساتھ خدائی انتظام کو جلد ہی مکمل طور پر یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیاؤں میں نافذ کر دیا گیا۔
۲۷. اِس بات کی کیا شہادت ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے اذیتناک سالوں کے دوران ”دائمی قربانی“ پر پابندی تھی؟
۲۷ اگرچہ ۲،۳۰۰ دنوں کا عرصہ سن ۱۹۳۹ میں شروع ہونے والی دوسری عالمی جنگ کے دوران مکمل ہو گیا توبھی اذیت کی وجہ سے خدا کے مقدِس میں ”دائمی قربانی“ پر سخت پابندی تھی۔ سن ۱۹۳۸ میں گواہی کے عالمگیر کام کی نگرانی کرنے کیلئے واچ ٹاور سوسائٹی کے ۳۹ برانچ دفاتر تھے مگر ۱۹۴۳ میں صرف ۲۱ رہ گئے۔ اُس دَور میں بادشاہتی منادوں کی تعداد میں اضافہ بھی بہت کم ہوا تھا۔
۲۸، ۲۹. (ا)دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے قریب یہوواہ کی تنظیم میں کیا ردوبدل کِیا گیا تھا؟ (ب)”مقدِس“ کو ویران اور برباد کرنے کے سلسلے میں دشمن کی کینہپرور کوششوں کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟
۲۸ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں دوسری عالمی جنگ کے آخری مہینوں کے دوران، یہوواہ کے گواہوں نے خدائی تنظیم کے طور پر اُسکی خدمت کرتے ہوئے خدا کی حکمرانی کی بڑائی کرنے کے عزم کا اعادہ کِیا۔ اِسی مقصد کے پیشِنظر ۱۹۴۴ میں اُن کے کام اور تنظیمی ڈھانچے میں ازسرِنو ردوبدل کِیا گیا۔ درحقیقت، اکتوبر ۱۵، ۱۹۴۴ کے دی واچٹاور میں ”فیصلہکُن کام کیلئے منظم“ کے عنوان سے مضمون بھی شائع ہوا۔ اِس مضمون کے علاوہ، اِسی دَور میں خدمت سے متعلق دیگر مضامین بھی شائع ہوئے جنہوں نے ظاہر کِیا کہ ۲،۳۰۰ دن ختم ہو چکے ہیں اور ”مقدِس“ پھر سے ”پاک“ حالت میں آ چکا ہے۔
۲۹ دشمن کی ”مقدِس“ کو ویران اور برباد کرنے کی کینہپرور کوششیں یکسر ناکام ہو چکی تھیں۔ واقعی، زمین پر ”مُقدسوں“ کا بقیہ، ”بڑی بِھیڑ“ پر مشتمل اپنے ساتھیوں کیساتھ فاتح ثابت ہوا تھا۔ (مکاشفہ ۷:۹) اب مقدِس خدا کے معیاروں اور مرضی کے عین مطابق یہوواہ کیلئے پاک خدمت انجام دے رہا ہے۔
۳۰. جلد ہی ”تُرشرُو . . . بادشاہ“ کیساتھ کیا واقع ہوگا؟
۳۰ اینگلوامریکن عالمی طاقت ابھی تک اپنے مرتبے پر قائم ہے۔ لیکن جبرائیل فرشتے نے کہا تھا کہ یہ ”بےہاتھ ہلائے ہی شکست“ کھائیگی۔ (دانیایل ۸:۲۵) بائبل پیشینگوئی کے مطابق یہ ساتویں عالمی طاقت—”تُرشرُو . . . بادشاہ“—جلد ہی کسی انسان کی بجائے فوقالبشر قوت کے ہاتھوں ہرمجدون پر شکست کھائے گی۔ (دانیایل ۲:۴۴؛ مکاشفہ ۱۶:۱۴، ۱۶) یہ جاننا کتنا ہیجانخیز ہے کہ اُس وقت بادشاہوں کے بادشاہ، یہوواہ خدا کی حاکمیت پر لگائے گئے تمام الزامات دُور ہو جائینگے!
[فٹنوٹ]
a بائبل پیشینگوئی کی روشنی میں ساتوں عالمی طاقتیں یعنی مصر، اسور، بابل، مادیفارس، یونان، روم اور اینگلوامریکن کی دوہری حکومت خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ اِن کی اہمیت کی وجہ یہوواہ کے لوگوں کیساتھ اِنکا گہرا تعلق ہے۔
b دانیایل ۷:۲۵ ایک ایسے دَور کی بابت بھی بتاتی ہے جب ’حقتعالیٰ کے مُقدسوں کو تنگ کِیا جاتا ہے۔‘ پچھلے باب کی وضاحت کے مطابق اِس کا تعلق پہلی عالمی جنگ سے تھا۔
آپ کیا سمجھے ہیں؟
•مندرجہذیل حیوان کس کی نمائندگی کرتے ہیں
”دو سینگوں“ والا ”مینڈھا“؟
”بڑے سینگ“ والا ”جسیم بکرا“؟
”بڑے سینگ“ کی جگہ نکلنے والے چار سینگ؟
چار سینگوں میں سے نکلنے والا ایک چھوٹا سینگ؟
•دوسری عالمی جنگ کے دوران، اینگلوامریکن عالمی طاقت نے ”مقدِس“ کو ویران کرنے کی کوشش کیسے کی اور کیا اُسے کامیابی حاصل ہوئی تھی؟
[صفحہ ۱۶۶ پر نقشہ/تصویر]
(تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)
مادیفارسی سلطنت
مقدونیہ
مصر
میمفِس
ایتھیوپیا
یروشلیم
بابل
اکبتانا
سوسا
پرسیپولس
ہندوستان
[صفحہ ۱۶۹ پر نقشہ/تصویر]
(تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)
یونانی سلطنت
مقدونیہ
مصر
بابل
دریائےسندھ
[صفحہ ۱۷۲ پر نقشہ]
(تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)
رومی سلطنت
برطانیہ
اٹلی
روم
یروشلیم
مصر
[صفحہ ۱۶۴ پر صرف تصویر ہے]
[صفحہ ۱۷۴ پر تصویریں]
اینگلوامریکن عالمی طاقت کی بعض ممتاز شخصیات:
۱۔ جارج واشنگٹن، پہلا امریکی صدر (۱۷۸۹-۱۷۹۷)
۲۔ ملکۂبرطانیہ وکٹوریہ (۱۸۳۷-۱۹۰۱)
۳۔ وڈرو ولسن، امریکی صدر (۱۹۱۳-۱۹۲۱)
۴۔ ڈیوڈ لائیڈ جارج، برطانوی وزیرِاعظم (۱۹۱۶-۱۹۲۲)
۵۔ ونسٹن چرچل، برطانوی وزیرِاعظم (۱۹۴۰-۱۹۴۵، ۱۹۵۱-۱۹۵۵)
۶۔ فرینکلن ڈی۔ روزویلٹ، امریکی صدر (۱۹۳۳-۱۹۴۵)