چوتھا باب
ایک بڑی مورت کا قیاموسقوط
۱. ہمیں دانیایل اور دیگر لوگوں کے نبوکدنضر کی اسیری میں چلے جانے کے ایک عشرے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں کیوں دلچسپی لینی چاہئے؟
دانیایل اور یہوداہ کے ”مُلک کے رئیسوں“ کو شاہِبابل نبوکدنضر کی اسیری میں آئے ایک عشرہ گزر چکا ہے۔ (۲-سلاطین ۲۴:۱۵) نوجوان دانیایل کو بادشاہ کے دربار میں خدمت کے دوران ایک مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں اِس معاملے میں دلچسپی کیوں لینی چاہئے؟ اِسلئےکہ جس طریقے سے یہوواہ خدا نے اِس معاملے کو سلجھایا اُس سے دانیایل اور دیگر لوگوں کی جانیں بچ جانے کے علاوہ ہمیں بائبل پیشینگوئی کے مطابق ہمارے زمانے تک قائم رہنے والے عالمی طاقتوں کے سلسلے کا بھی پتہ چلتا ہے۔
بادشاہ کو درپیش مسئلہ
۲. نبوکدنضر نے پہلا نبوّتی خواب کب دیکھا تھا؟
۲ دانیایل نبی لکھتا ہے کہ ”نبوکدؔنضر نے اپنی سلطنت کے دوسرے سال میں ایسے خواب دیکھے جن سے اُسکا دل گھبرا گیا اور اُسکی نیند جاتی رہی۔“ (دانیایل ۲:۱) یہ خواب بابلی سلطنت کے بادشاہ، نبوکدنضر نے دیکھے تھے۔ یہوواہ کی اجازت سے ۶۰۷ ق.س.ع. میں وہ یروشلیم اور اُسکی ہیکل کو تباہوبرباد کرکے عالمی حکمران بن گیا تھا۔ عالمی حکمران کے طور پر نبوکدنضر کی سلطنت کے دوسرے سال میں (۶۰۶/۶۰۵ ق.س.ع.) خدا نے اُسے ایک خوفناک خواب دکھایا۔
۳. کون بادشاہ کے خواب کی تعبیر بیان نہ کر سکے اور اس سلسلے میں نبوکدنضر نے کیسا ردِعمل دکھایا؟
۳ اِس خواب نے نبوکدنضر کو اتنا پریشان کر دیا کہ اُسکی راتوں کی نیند اُڑ گئی۔ قدرتی بات ہے کہ وہ اسکی تعبیر جاننے کیلئے بیتاب تھا۔ لیکن قباحت یہ تھی کہ بادشاہ خواب ہی بھول چکا تھا! پس اُس نے جادوگروں، ساحروں، افسونگروں کو طلب کِیا اور اُنہیں خواب اور اُسکی تعبیر بتانے کا حکم دیا۔ یہ کام اُنکے بس میں نہیں تھا۔ اُنکی ناکامی سے نبوکدنضر اتنا غضبناک ہوا کہ اُس نے ”بابلؔ کے تمام حکیموں کو ہلاک“ کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ اِس حکم کے مطابق تو دانیایل نبی بھی مُتعیّنہ جلاد کے ہاتھوں مارا جا سکتا تھا۔ کیوں؟ اِسلئے کہ دانیایل اور اُسکے تینوں عبرانی ساتھیوں—حننیاہ، میساایل اور عزریاہ—کا شمار بھی بابل کے دانشوروں میں ہوتا تھا۔—دانیایل ۲:۲-۱۴۔
دانیایل مدد کو پہنچتا ہے
۴. (ا)دانیایل کو نبوکدنضر کے خواب اور اُس کی تعبیر کا کیسے پتہ چلا؟ (ب)دانیایل نے یہوواہ خدا کی شکرگزاری کے اظہار میں کیا کہا؟
۴ نبوکدنضر کے اس سخت حکم کی وجہ جاننے کے بعد، ”دانیؔایل نے اندر جاکر بادشاہ سے عرض کی کہ مجھے مہلت ملے تو مَیں بادشاہ کے حضور تعبیر بیان کروں گا۔“ بادشاہ نے مہلت دے دی۔ دانیایل نے اپنے گھر جا کر اپنے تینوں عبرانی ساتھیوں کے ساتھ ملکر دُعا میں ”اِس راز کے باب میں آسمان کے خدا سے رحمت“ کیلئے درخواست کی۔ اُسی رات رویا میں یہوواہ نے دانیایل پر خواب کا راز آشکارا کر دیا۔ دانیایل نے اظہارِتشکر میں کہا: ”خدا کا نام تاابد مبارک ہو کیونکہ حکمت اور قدرت اُسی کی ہے۔ وہی وقتوں اور زمانوں کو تبدیل کرتا ہے۔ وہی بادشاہوں کو معزول اور قائم کرتا ہے وہی حکیموں کو حکمت اور دانشمندوں کو دانش عنایت کرتا ہے۔ وہی گہری اور پوشیدہ چیزوں کو ظاہر کرتا ہے اور جوکچھ اندھیرے میں ہے اُسے جانتا ہے اور نور اُسی کیساتھ ہے۔“ جیہاں، دانیایل نے ایسی بصیرت کیلئے یہوواہ کی ستائش کی۔—دانیایل ۲:۱۵-۲۳۔
۵. (ا)دانیایل نے بادشاہ کے حضور یہوواہ کی بڑائی کیسے کی؟ (ب)دانیایل کی تشریح آجکل ہمارے لئے دلچسپی کی حامل کیوں ہے؟
۵ اگلے روز، دانیایل جلوداروں کے سردار، اریوک کے پاس گیا جسے بابل کے دانشوروں کو ہلاک کرنے پر مامور کِیا گیا تھا۔ اریوک کو جب یہ معلوم ہوا کہ دانیایل خواب کی تعبیر بتا سکتا ہے تو وہ اُسے فوراً بادشاہ کے حضور لے گیا۔ اپنی بڑائی کرنے کی بجائے، دانیایل نے نبوکدنضر سے کہا: ”آسمان پر ایک خدا ہے جو راز کی باتیں آشکارا کرتا ہے اور اُس نے نبوکدؔنضر بادشاہ پر ظاہر کِیا ہے کہ آخری ایّام میں کیا وقوع میں آئیگا۔“ دانیایل بابلی سلطنت کا مستقبل آشکارا کرنے کے علاوہ نبوکدنضر کے زمانے سے لیکر ہمارے زمانے بلکہ اِس سے بھی آگے تک کے عالمی واقعات کی خاکہکشی کرنے کیلئے تیار تھا۔—دانیایل ۲:۲۴-۳۰۔
خواب یاد دلانا
۶، ۷. وہ خواب کیا تھا جو دانیایل نے بادشاہ کو یاد دلایا؟
۶ نبوکدنضر نے دانیایل کی اس وضاحت کو بڑے دھیان سے سنا: ”اَے بادشاہ تُو نے ایک بڑی مورت دیکھی۔ وہ بڑی مورت جس کی رونق بےنہایت تھی تیرے سامنے کھڑی ہوئی اور اُسکی صورت ہیبتناک تھی۔ اُس مورت کا سر خالص سونے کا تھا اُسکا سِینہ اور اُسکے بازو چاندی کے۔ اُسکا شکم اور اُسکی رانیں تانبے کی تھیں۔ اُسکی ٹانگیں لوہے کی اور اُسکے پاؤں کچھ لوہے کے اور کچھ مٹی کے تھے۔ تُو اُسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ ایک پتھر ہاتھ لگائے بغیر ہی کاٹا گیا اور اُس مورت کے پاؤں پر جو لوہے اور مٹی کے تھے لگا اور اُنکو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ تب لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور تابستانی کھلیہان کے بھوسے کی مانند ہوئے اور ہوا اُنکو اُڑا لے گئی یہاں تک کہ اُنکا پتہ نہ ملا اور وہ پتھر جس نے اُس مورت کو توڑا ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور تمام زمین میں پھیل گیا۔“—دانیایل ۲:۳۱-۳۵۔
۷ دانیایل سے خواب سن کر نبوکدنضر کتنا خوش ہوا ہوگا! لیکن ذرا ٹھہرئیے! بابل کے دانشوروں کی جان بخشی کیلئے دانیایل کو خواب کی تعبیر بھی بتانی پڑیگی۔ دانیایل نے اپنی اور اپنے تینوں عبرانی ساتھیوں کی طرف سے کہا: ”وہ خواب یہ ہے اور اُس کی تعبیر بادشاہ کے حضور بیان کرتا ہوں۔“—دانیایل ۲:۳۶۔
ایک امتیازی سلطنت
۸. (ا)دانیایل کی تعبیر کے مطابق سونے کا سر کون تھا؟ (ب)سونے کا سر کب منظرِعام پر آیا؟
۸ ”اَے بادشاہ تُو شاہنشاہ ہے جسکو آسمان کے خدا نے بادشاہیوتوانائی اور قدرتوشوکت بخشی ہے۔ اور جہاں کہیں بنیآدم سکونت کرتے ہیں اُس نے میدان کے چرندے اور ہوا کے پرندے تیرے حوالہ کرکے تجھکو اُن سب کا حاکم بنایا ہے۔ وہ سونے کا سر تُو ہی ہے۔“ (دانیایل ۲:۳۷، ۳۸) جب یہوواہ نے نبوکدنضر کو ۶۰۷ ق.س.ع. میں یروشلیم کو تباہوبرباد کرنے کیلئے استعمال کِیا تو اُسکے بعد اُس پر اِس بات کا اطلاق ہوا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ یروشلیم میں تختنشین ہونے والے بادشاہ، یہوواہ کے ممسوح بادشاہ داؤد کی نسل سے ہوتے تھے۔ یروشلیم یہوداہ کا دارالسلطنت تھا جو زمین پر یہوواہ کی حاکمیت کی نمائندگی کرنے والی علامتی بادشاہت تھی۔ اِس شہر کی ۶۰۷ ق.س.ع. میں تباہی کیساتھ ہی خدا کی علامتی بادشاہت ختم ہو گئی۔ (۱-تواریخ ۲۹:۲۳؛ ۲-تواریخ ۳۶:۱۷-۲۱) اب سلسلہوار عالمی طاقتیں جن کی نمائندگی مورت کے مختلف دھاتی حصوں سے ہوتی ہے خدا کی اس علامتی بادشاہت کے عملدخل کے بغیر دُنیا پر حکومت کر سکتی تھیں۔ قدیم وقتوں میں سونا نہایت بیشقیمت دھات تھا اسلئے سونے کے سر کے طور پر نبوکدنضر کو یروشلیم کی تباہی کیساتھ ہی اس علامتی بادشاہت کو نیست کرنے کی وجہ سے امتیازی حیثیت حاصل ہوئی۔—صفحہ ۶۳ پر ”ایک جنگجو بادشاہ کا ایک سلطنت کی داغبیل ڈالنا“ کے تحت مواد کا مطالعہ کریں۔
۹. سونے کے سر نے کس کی نمائندگی کی تھی؟
۹ نبوکدنضر نے ۴۳ سال تک حکمرانی کی۔ وہ بابلی سلطنت پر حکومت کرنے والے شاہی خاندان کا سربراہ تھا جس میں اُسکا داماد نبوندیس اور بڑا بیٹا اویل مرودک شامل تھے۔ اِس شاہی خاندان نے ۵۳۹ ق.س.ع. میں نبوندیس کے بیٹے بیلشضر کی وفات تک مزید ۴۳ سال حکمرانی کی۔ (۲-سلاطین ۲۵:۲۷؛ دانیایل ۵:۳۰) پس خواب کی مورت کے سونے کے سر نے نبوکدنضر کے علاوہ تمام بابلی بادشاہوں کی نمائندگی کی تھی۔
۱۰. (ا)نبوکدنضر کے خواب نے کیسے ظاہر کِیا کہ بابل کی عالمی طاقت ہمیشہ قائم نہیں رہیگی؟ (ب)یسعیاہ نبی نے بابل کو فتح کرنے والے کی بابت کیا پیشینگوئی کی تھی؟ (پ)مادیفارس کس لحاظ سے بابل سے کمتر تھا؟
۱۰ دانیایل نے نبوکدنضر کو بتایا: ”تیرے بعد ایک اَور سلطنت برپا ہوگی جو تجھ سے چھوٹی ہوگی۔“ (دانیایل ۲:۳۹) مورت کے چاندی کے سینے اور بازوؤں سے جس بادشاہت کی نمائندگی ہوتی ہے وہ نبوکدنضر کے شاہی خاندان کے بعد آئے گی۔ کوئی ۲۰۰ سال قبل یسعیاہ اِس بادشاہت کی بابت پیشینگوئی کر چکا تھا۔ اُس نے تو یہ بھی بتا دیا تھا کہ اس کے فاتح بادشاہ کا نام خورس ہوگا۔ (یسعیاہ ۱۳:۱-۱۷؛ ۲۱:۲-۹؛ ۴۴:۲۴–۴۵:۷، ۱۳) یہ مادیفارس کی سلطنت تھی۔ اگرچہ مادیفارس نے ایک عظیم تہذیبوتمدن کو فروغ دیا جو بابلی سلطنت سے کسی بھی طرح کم نہیں تھی توبھی بابل کے بعد آنے والی اِس بادشاہت کی نمائندگی چاندی سے کی گئی جو سونے کی نسبت کمقیمت ہوتی ہے۔ اِس کے بابل کی عالمی طاقت سے کمتر ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اِسے خدا کی علامتی بادشاہت، یہوداہ اور اُس کے دارالسلطنت یروشلیم کو تباہوبرباد کرنے کا اعزاز حاصل نہیں تھا۔
۱۱. نبوکدنضر کے شاہی خاندان کا خاتمہ کب ہوا؟
۱۱ خواب کی تعبیر بیان کرنے کے کوئی ۶۰ سال بعد دانیایل نے نبوکدنضر کے شاہی خاندان کا زوال دیکھا۔ جب مادیفارسیوں کی فوج نے اکتوبر ۵/۶، ۵۳۹ ق.س.ع. کی رات کو بظاہر ناقابلِتسخیر بابل کو زیر کرکے بیلشضر بادشاہ کو قتل کِیا تو دانیایل وہاں موجود تھا۔ بیلشضر کی موت کے ساتھ ہی مورت کے سونے کے سر—بابلی سلطنت—کا خاتمہ ہو گیا۔
ایک سلطنت کی بدولت اسیروں کی رہائی
۱۲. خورس نے ۵۳۷ ق.س.ع. میں جو حکم جاری کِیا اُس سے اسیر یہودیوں کو کیسے فائدہ پہنچا؟
۱۲ مادیفارس ۵۳۹ ق.س.ع. میں بابلی سلطنت کی جگہ عالمی طاقت بن گیا۔ دارا مادی ۶۲ سال کی عمر میں بابل کے مفتوح شہر کا پہلا حاکم بنا۔ (دانیایل ۵:۳۰، ۳۱) کچھ عرصہ تک اُس نے اور خورس فارسی نے مادیفارس کی سلطنت پر مشترکہ حکمرانی کی۔ دارا کی وفات کے بعد، خورس ہی فارسی سلطنت کا واحد سربراہ بن گیا۔ خورس کی حکمرانی، بابل میں یہودیوں کیلئے اسیری سے آزادی کا پیغام تھی۔ خورس نے ۵۳۷ ق.س.ع. میں حکم جاری کِیا جس کی بدولت بابل میں اسیر یہودی اپنے وطن واپس جا کر یروشلیم اور یہوواہ کی ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے کے قابل ہوئے تھے۔ تاہم، اس سے یہوداہ اور یروشلیم میں خدا کی علامتی بادشاہت بحال نہیں ہوئی تھی۔—۲-تواریخ ۳۶:۲۲، ۲۳؛ عزرا ۱:۱–۲:۲الف۔
۱۳. نبوکدنضر کے خواب کی مورت کے چاندی کے بازوؤں اور سینے نے کس کی تصویرکشی کی تھی؟
۱۳ خواب کی مورت کے چاندی کے بازوؤں اور سینے نے فارسی بادشاہوں کے سلسلے کی تصویرکشی کی جسکی ابتدا خورساعظم سے ہوئی تھی۔ اس شاہی خاندان نے ۲۰۰ سال سے زیادہ عرصہ حکمرانی کی۔ ایک خیال کے مطابق خورس شاید ۵۳۰ ق.س.ع. میں ایک جنگ کے دوران مارا گیا تھا۔ فارسی سلطنت کے تخت پر بیٹھنے والے اُس کے ۱۲ جانشین بادشاہوں میں سے کمازکم ۲ نے یہوواہ کے برگزیدہ لوگوں کیساتھ مہربانہ سلوک کِیا تھا۔ پہلا دارا اوّل (فارسی) اور دوسرا ارتخششتا اوّل تھا۔
۱۴، ۱۵. دارا اعظم اور ارتخششتا اوّل نے یہودیوں کی کیسے مدد کی تھی؟
۱۴ خورساعظم کے بعد فارسی بادشاہوں کی صف میں دارا اوّل تیسرے نمبر پر تھا۔ اس سے پہلے کے دو بادشاہ کمبیسیس دوم اور اُس کا بھائی بردیا (یا شاید تختوتاج کا دعویدار گوماتا نامی ایک مجوسی) تھے۔ جب دارا اوّل ۵۲۱ ق.س.ع. میں تختنشین ہوا جو دارا اعظم بھی کہلاتا ہے تو یروشلیم میں ہیکل کی دوبارہ تعمیر پر پابندی عائد تھی۔ اخمتا [اکبتانا] کے کُتبخانے میں خورس کے حکم پر مشتمل دستاویز کی بازیابی پر دارا نے ۵۲۰ ق.س.ع. میں ہیکل کی دوبارہ تعمیر کے کام سے پابندی اُٹھانے کے علاوہ اس کے لئے شاہی خزانے سے رقم بھی فراہم کی۔—عزرا ۶:۱-۱۲۔
۱۵ اِس کے بعد جس فارسی حکمران نے یہودیوں کی بحالی کی کوششوں میں مدد کی وہ ارتخششتا اوّل تھا جو اپنے باپ اخسویرس (خشایارشا اوّل) کے بعد ۴۷۵ ق.س.ع. میں تختنشین ہوا تھا۔ ارتخششتا کا عرفی نام لونگیمانس تھا کیونکہ اُس کا دہنا ہاتھ بائیں کی نسبت لمبا تھا۔ اپنی سلطنت کے ۲۰ ویں سال یعنی ۴۵۵ ق.س.ع. میں، اُس نے اپنے یہودی ساقی نحمیاہ کو یہوداہ کا گورنر مقرر کرکے اُسے یروشلیم کی فصیلیں دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ اِس عمل نے دانیایل کی کتاب کے ۹ویں باب میں متذکرہ ’سالوں کے ستر ہفتوں‘ کے آغاز کی نشاندہی کی اور ناصرۃ کے یسوع، مسیحا یا مسیح کے ظہور اور موت کے وقت کا تعیّن کِیا۔—دانیایل ۹:۲۴-۲۷؛ نحمیاہ ۱:۱؛ ۲:۱-۱۸۔
۱۶. کب اور کس بادشاہ کیساتھ مادیفارس کی عالمی طاقت ختم ہو گئی؟
۱۶ ارتخششتا اوّل کے بعد فارسی سلطنت کے تخت پر بیٹھنے والے چھ بادشاہوں میں سے آخری دارا سوم تھا۔ اُس کی سلطنت ۳۳۱ ق.س.ع. میں سکندرِاعظم کے ہاتھوں قدیم نینوہ کے قریب، گاگےمیلا کے مقام پر شکست کے ساتھ یکلخت ختم ہو گئی۔ اِس شکست نے مادیفارس کی عالمی طاقت کا خاتمہ کر دیا جس کی نمائندگی نبوکدنضر کے خواب کی مورت کے چاندی والے حصے سے ہوتی ہے۔ اِسکے بعد آنے والی طاقت بعض طریقوں سے اعلیٰ ہونے کے باوجود ادنیٰ تھی۔ جب ہم نبوکدنضر کے خواب کے سلسلے میں دانیایل کی مزید تعبیر پر غور کرتے ہیں تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے۔
ایک وسیع مگر ادنیٰ سلطنت
۱۷-۱۹. (ا)تانبے کے شکم اور رانوں نے کس عالمی طاقت کی نمائندگی کی اور اِس کی حکومت کتنی وسیع تھی؟ (ب)سکندر سوم کون تھا؟ (پ)یونانی ایک بینالاقوامی زبان کیسے بن گئی اور یہ کس کام کیلئے نہایت موزوں ثابت ہوئی؟
۱۷ دانیایل نے نبوکدنضر کو بتایا کہ اُس بڑی مورت کے شکم اور رانوں سے ”ایک اَور سلطنت“ کی نمائندگی ہوتی ہے جو ”تانبے“ کی ہوگی اور ”تمام زمین پر حکومت کرے گی۔“ (دانیایل ۲:۳۲، ۳۹) یہ تیسری سلطنت بابل اور مادیفارس کے بعد برپا ہوگی۔ جیسے تانبا چاندی سے ارزاں ہوتا ہے ویسے ہی یہ نئی عالمی طاقت مادیفارس سے ادنیٰ ہوگی کیونکہ اُسے کوئی نمایاں استحقاق حاصل نہیں ہوگا جیسےکہ مادیفارس کو یہوواہ کے لوگوں کو آزاد کرنے کا استحقاق حاصل تھا۔ تاہم، تانبے جیسی سلطنت ”تمام زمین پر حکومت کرے گی“ جو اِس بات کا اشارہ ہے کہ وہ بابل اور مادیفارس سے زیادہ وسیع ہوگی۔ اِس عالمی طاقت کی بابت تاریخی حقائق کیا ظاہر کرتے ہیں؟
۱۸ سکندر سوم نے ۳۳۶ ق.س.ع. میں، ۲۰ سال کی عمر میں، مقدونیہ کے تخت کا وارث بننے کے فوراً بعد ہی اقتدار کی ہوس میں فتوحات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اپنی عسکری کامیابیوں کی وجہ سے وہ سکندرِاعظم کہلایا۔ یکےبعددیگرے فتوحات کے ساتھ وہ فارسی سلطنت کی طرف پیشقدمی کرتا رہا۔ جب ۳۳۱ ق.س.ع. میں، گاگےمیلا کی لڑائی میں دارا سوم کو شکست ہوئی تو فارسی سلطنت زوالپذیر ہونے لگی اور یوں سکندر نے یونان کی نئی عالمی طاقت کی داغبیل ڈالی۔
۱۹ گاگےمیلا کی فتح کے بعد، سکندر نے بڑےبڑے فارسی شہروں بابل، سوسن [سوسا]، پرسیپولس اور اخمتا [اکبتانا] پر قابض ہونے کے لئے پیشقدمی کی۔ فارسی سلطنت کے باقی حصوں پر قبضہ کرنے کے بعد اُس نے اپنی فتوحات کا رُخ مغربی ہندوستان کی طرف موڑ دیا۔ مفتوح علاقوں میں یونانی آبادیاں قائم کر دی گئیں۔ اِس طرح، تمام مملکت میں یونانی زبان اور ثقافت پھیل گئی۔ درحقیقت، یونانی سلطنت ماضی کی تمام سلطنتوں سے زیادہ وسیع ہو گئی۔ دانیایل کی پیشینگوئی کے مطابق تانبے کی سلطنت نے ’تمام زمین پر حکومت کی۔‘ اِس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ یونانی (کوئنے) ایک بینالاقوامی زبان بن گئی۔ یہ زبان درست اظہار کی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے مسیحی یونانی صحائف کی تحریر اور خدا کی بادشاہت کی خوشخبری پھیلانے کے لئے نہایت موزوں ثابت ہوئی۔
۲۰. سکندرِاعظم کی وفات کے بعد یونانی سلطنت کیساتھ کیا واقع ہوا؟
۲۰ سکندرِاعظم عالمی حکمران کے طور پر صرف آٹھ سال زندہ رہا۔ سکندر ۳۲ سال کی عمر میں ایک ضیافت کے بعد بیمار پڑ گیا اور جلد ہی جون ۱۳، ۳۲۳ ق.س.ع. کو وفات پا گیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں، اُس کی وسیع سلطنت چار حصوں میں تقسیم ہو گئی جنکے حاکم اُس کے چار سپہسالار تھے۔ یوں ایک عظیم سلطنت سے چار سلطنتیں وجود میں آئیں جنہیں انجامکار رومی سلطنت نے ہڑپ کر لیا۔ تانبے جیسی یہ عالمی طاقت صرف ۳۰ ق.س.ع. تک قائم رہی جب اس کی چاروں سلطنتوں میں سے آخری سلطنت یعنی مصر میں حکمرانی کرنے والا بطلیموسی خاندان روم کے آگے پسپا ہو گیا۔
ایک تہسنہس کرنے والی سلطنت
۲۱. دانیایل نے ”چوتھی سلطنت“ کی وضاحت کیسے کی ہے؟
۲۱ دانیایل خواب کی مورت کی وضاحت جاری رکھتا ہے: ”چوتھی سلطنت [بابل، مادیفارس اور یونان کے بعد] لوہے کی مانند مضبوط ہوگی اور جس طرح لوہا توڑ ڈالتا ہے اور سب چیزوں پر غالب آتا ہے ہاں جس طرح لوہا سب چیزوں کو ٹکڑےٹکڑے کرتا اور کچلتا ہے اُسی طرح وہ ٹکڑےٹکڑے کریگی اور کچل ڈالیگی۔“ (دانیایل ۲:۴۰) یہ عالمی طاقت کچل ڈالنے والی قوت اور صلاحیت کیساتھ لوہے کی مانند ہوگی یعنی یہ اُن سلطنتوں سے مضبوط ہوگی جنکی نمائندگی سونے، چاندی اور تانبے جیسی دھاتوں سے کی گئی ہے۔ رومی سلطنت ایسی ہی طاقت تھی۔
۲۲. رومی سلطنت لوہے کی مانند کیسے تھی؟
۲۲ روم نے یونان کی سلطنت کو ٹکڑےٹکڑے کرکے کچل ڈالا اور مادیفارس اور بابل کی عالمی طاقتوں کے باقیات کو بھی ہڑپ کر لیا۔ اُس نے خدا کی بادشاہت کیلئے کوئی احترام نہ دکھایا اور اس بادشاہت کی منادی کرنے والے یسوع مسیح کو ۳۳ س.ع. میں سولی دے دی۔ سچی مسیحیت کو تہسنہس کرنے کیلئے روم نے یسوع کے شاگردوں کو اذیت پہنچائی۔ علاوہازیں، رومیوں نے یروشلیم اور اُسکی ہیکل کو بھی ۷۰ س.ع. میں تباہوبرباد کر دیا۔
۲۳، ۲۴. مورت کی ٹانگیں رومی حکومت کے علاوہ اَور کس کی نمائندگی کرتی ہیں؟
۲۳ نبوکدنضر کے خواب کی مورت کی لوہے کی ٹانگوں نے رومی سلطنت کے علاوہ اِس کی سیاسی بالیدگی کی بھی نمائندگی کی۔ مکاشفہ ۱۷:۱۰ میں درج ان الفاظ پر غور کریں: ”وہ سات بادشاہ بھی ہیں پانچ تو ہو چکے ہیں اور ایک موجود ہے اور ایک ابھی آیا نہیں اور جب آئیگا تو کچھ عرصہ تک اُسکا رہنا ضرور ہے۔“ جب یوحنا رسول نے یہ الفاظ قلمبند کئے تو وہ پتمُس کے جزیرے پر رومی قید میں تھا۔ مصر، اسور، بابل، مادیفارس اور یونان وہ پانچ بادشاہ یا عالمی طاقتیں تھیں جو ہو چکی تھیں۔ چھٹی طاقت—رومی سلطنت—ابھی برسرِاقتدار تھی۔ لیکن اُسکا زوال بھی ہونا تھا جس کے بعد ساتویں بادشاہ نے روم کے مفتوح علاقوں میں سے ہی برپا ہونا تھا۔ وہ کونسی عالمی طاقت ہوگی؟
۲۴ برطانیہ کبھی رومی سلطنت کا شمالمغربی حصہ تھا۔ لیکن یہ ۱۷۶۳ تک سات سمندروں پر حکومت کرنے والی برطانوی سلطنت بن چکا تھا۔ سن ۱۷۷۶ تک اُسکی ۱۳ امریکی کالونیوں نے خودمختاری کا اعلان کرکے ریاستہائےمتحدہ امریکہ کی بنیاد ڈالی۔ تاہم، اِسکے بعد برطانیہ اور ریاستہائےمتحدہ جنگوامن کے ساتھی بن گئے۔ یوں، بائبل پیشینگوئی کے مطابق اینگلوامریکن اتحاد ساتویں عالمی طاقت کے طور پر وجود میں آیا۔ رومی حکومت کی طرح، یہ بھی ”لوہے کی مانند مضبوط“ ثابت ہوئی ہے اور لوہے کی مانند سختگیری سے اختیار کو عمل میں لائی ہے۔ پس، مورت کی لوہے کی ٹانگیں رومی حکومت اور اینگلوامریکن دوہری عالمی طاقت دونوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔
نحیف ملغم
۲۵. دانیایل نے مورت کے پاؤں اور انگلیوں کی بابت کیا بتایا؟
۲۵ اِسکے بعد دانیایل نے نبوکدنضر کو بتایا: ”جو تُو نے دیکھا کہ اُسکے پاؤں اور انگلیاں کچھ تو کمہار کی مٹی کی اور کچھ لوہے کی تھیں سو اُس سلطنت میں تفرقہ ہوگا مگر جیسا کہ تُو نے دیکھا کہ اُس میں لوہا مٹی سے ملا ہوا تھا اُس میں لوہے کی مضبوطی ہوگی۔ اور چونکہ پاؤں کی انگلیاں کچھ لوہے کی اور کچھ مٹی کی تھیں اِس لئے سلطنت کچھ قوی اور کچھ ضعیف ہوگی۔ اور جیسا تُو نے دیکھا کہ لوہا مٹی سے ملا ہوا تھا وہ بنیآدم سے آمیختہ ہونگے لیکن جیسے لوہا مٹی سے میل نہیں کھاتا ویسے ہی وہ بھی باہم میل نہ کھائینگے۔“—دانیایل ۲:۴۱-۴۳۔
۲۶. پاؤں اور انگلیاں جس حکمرانی کی نمائندگی کرتی ہیں اُسکا ظہور کب ہوتا ہے؟
۲۶ نبوکدنضر کے خواب کی مورت کے مختلف حصے عالمی طاقتوں کے سلسلے کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا آغاز سر سے اور اختتام پاؤں پر ہوتا ہے۔ پس منطقی طور پر، ’لوہے اور مٹی‘ سے بنے ہوئے پاؤں اور انگلیاں انسانی حکمرانی کے آخری اظہار کی علامت ہیں جسے ”آخری زمانہ“ میں عیاں ہونا تھا۔—دانیایل ۱۲:۴۔
۲۷. (ا)لوہے اور مٹی سے بنے ہوئے پاؤں اور انگلیاں کیسی عالمی حالت کی عکاسی کرتے ہیں؟ (ب)مورت کی دس انگلیاں کس کی نمائندگی کرتی ہیں؟
۲۷ برطانوی سلطنت ۲۰ ویں صدی کے شروع میں زمین کی کُل آبادی کے ایک چوتھائی حصے پر حکمران تھی۔ دیگر یورپی سلطنتیں بھی لاکھوں لوگوں پر حکمران تھیں۔ لیکن پہلی عالمی جنگ کے نتیجے میں سلطنتیں ختم ہو گئیں اور مختلف قومیں گروہوں کی صورت میں منظرِعام پر آئیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اِس رُجحان میں اَور بھی تیزی آ گئی۔ قومپرستی کے بڑھنے کیساتھ ساتھ دُنیا کے اندر قوموں کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔ مورت کے پاؤں کی دس انگلیاں ایسی تمام معاصر طاقتوں اور حکومتوں کی نمائندگی کرتی ہیں کیونکہ بائبل میں دس کا عدد بعضاوقات زمینی امور کی مکملیت کو ظاہر کرتا ہے۔—مقابلہ کریں خروج ۳۴:۲۸؛ متی ۲۵:۱؛ مکاشفہ ۲:۱۰۔
۲۸، ۲۹.(ا)دانیایل کے مطابق مٹی کس چیز کی نمائندگی کرتی ہے؟ (ب)لوہے اور مٹی میں میل کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟
۲۸ آجکل ہم ”آخری زمانہ“ میں رہ رہے ہیں یعنی ہم مورت کے پاؤں تک پہنچ گئے ہیں۔ مورت کے لوہے اور مٹی سے بنے ہوئے پاؤں اور انگلیاں جن حکومتوں کی نمائندگی کرتے ہیں اُن میں سے بعض حکومتیں لوہے کی مانند سخت یعنی آمرانہ یا جابرانہ ہیں۔ دیگر مٹی کی مانند کمزور ہیں۔ کس مفہوم میں؟ دانیایل نے مٹی کو ”بنیآدم“ سے مربوط کِیا تھا۔ (دانیایل ۲:۴۳) مٹی اگرچہ بہت نازک ہوتی ہے جس سے بنیآدم بنے ہیں توبھی لوہانما حکومتیں رائےعامہ کو ملحوظِخاطر رکھنے کی پابند ہیں کیونکہ عوام حکومتی معاملات میں اپنی رائے دینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ (ایوب ۱۰:۹) لیکن جیسے لوہا مٹی سے میل نہیں کھاتا ویسے ہی آمرانہ حکومت اور عوام میں کوئی موافقت نہیں ہے۔ مورت کے خاتمے کے وقت، دُنیا سیاسی طور پر واقعی منقسم ہوگی!
۲۹ کیا پاؤں اور انگلیوں کی منقسم حالت مورت کے خاتمے کا سبب بنے گی؟ مورت کیساتھ کیا واقع ہوگا؟
ڈرامائی اختتام!
۳۰. نبوکدنضر کے خواب کے اختتام کی وضاحت کریں۔
۳۰ اب ذرا خواب کے اختتام پر غور کریں۔ دانیایل نے بادشاہ کو بتایا: ”تُو اُسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ ایک پتھر ہاتھ لگائے بغیر ہی کاٹا گیا اور اُس مورت کے پاؤں پر جو لوہے اور مٹی کے تھے لگا اور اُنکو ٹکڑےٹکڑے کر دیا۔ تب لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑےٹکڑے کئے گئے اور تابستانی کھلیہان کے بھوسے کی مانند ہوئے اور ہوا اُنکو اُڑا لے گئی یہاں تک کہ اُنکا پتہ نہ ملا اور وہ پتھر جس نے اُس مورت کو توڑا ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور تمام زمین میں پھیل گیا۔“—دانیایل ۲:۳۴، ۳۵۔
۳۱، ۳۲. نبوکدنضر کے خواب کے آخری حصے کی بابت کیا پیشینگوئی کی گئی تھی؟
۳۱ یہ پیشینگوئی مزید وضاحت کرتی ہے: ”اُن بادشاہوں کے ایّام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کریگا جو تاابد نیست نہ ہوگی اور اُس کی حکومت کسی دوسری قوم کے حوالہ نہ کی جائیگی بلکہ وہ اِن تمام مملکتوں کو ٹکڑےٹکڑے اور نیست کریگی اور وہی ابد تک قائم رہیگی۔ جیسا تُو نے دیکھا کہ وہ پتھر ہاتھ لگائے بغیر ہی پہاڑ سے کاٹا گیا اور اُس نے لوہے اور تانبے اور مٹی اور چاندی اور سونے کو ٹکڑےٹکڑے کِیا خداتعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے اور یہ خواب یقینی ہے اور اِسکی تعبیر یقینی۔“—دانیایل ۲:۴۴، ۴۵۔
۳۲ جب نبوکدنضر نے اپنے خواب اور اُس کی تعبیر کو سنا تو اُس نے تسلیم کِیا کہ صرف دانیایل کا خدا ہی ”بادشاہوں کا خداوند اور بھیدوں کا کھولنے والا ہے۔“ بادشاہ نے دانیایل اور اُسکے تینوں عبرانی ساتھیوں کو اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز کِیا۔ (دانیایل ۲:۴۶-۴۹) تاہم، دانیایل کی ’یقینی تعبیر‘ کی زمانۂجدید کیلئے کیا اہمیت ہے؟
’پہاڑ تمام زمین پر پھیل جاتا ہے‘
۳۳. ”پتھر“ کس ”پہاڑ“ سے کاٹا گیا اور یہ کب اور کیسے واقع ہوا؟
۳۳ جب اکتوبر ۱۹۱۴ میں ”غیرقوموں کی میعاد“ ختم ہو گئی تو ”آسمان کے خدا“ نے اپنے ممسوح بیٹے، یسوع مسیح کو ”بادشاہوں کے بادشاہ اور خداوندوں کے خداوند“ کے طور پر تختنشین کرتے ہوئے آسمانی بادشاہت قائم کی۔a (لوقا ۲۱:۲۴؛ مکاشفہ ۱۲:۱-۵؛ ۱۹:۱۶) پس، انسانی ہاتھوں کی بجائے، خدائی قوت کے ذریعے یہوواہ کی عالمگیر حاکمیت کے ”پہاڑ“ سے مسیحائی بادشاہت کا ”پتھر“ کاٹا گیا۔ یہ آسمانی حکومت یسوع مسیح کو سونپی گئی ہے جسے خدا نے غیرفانیت عطا کی ہے۔ (رومیوں ۶:۹؛ ۱-تیمتھیس ۶:۱۵، ۱۶) لہٰذا، ”ہمارے خداوند [خدا] اور اُس کے مسیح کی . . . بادشاہی“—یہوواہ کی عالمگیر حاکمیت کا اظہار—کسی دوسرے کے حوالے نہیں کی جائیگی۔ یہ ابد تک قائم رہیگی۔—مکاشفہ ۱۱:۱۵۔
۳۴. خدا کی بادشاہت ”اُن بادشاہوں کے ایّام میں“ کیسے قائم ہوئی تھی؟
۳۴ بادشاہت کا قیام ”اُن بادشاہوں کے ایّام میں“ ہوا۔ (دانیایل ۲:۴۴) اِن بادشاہوں سے مُراد صرف وہی بادشاہ نہیں جنکی نمائندگی مورت کے پاؤں کی دس انگلیوں سے ہوتی ہے بلکہ اس میں وہ بادشاہ بھی شامل ہیں جنکی نمائندگی اِسکے سونے، چاندی، تانبے اور لوہے کے حصوں سے کی گئی ہے۔ اگرچہ بابلی، فارسی، یونانی اور رومی سلطنتیں عالمی طاقتوں کے طور پر تو ختم ہو گئی تھیں مگر انکے کچھ حصے ۱۹۱۴ تک باقی تھے۔ اُس وقت تُرکی کی عثمانیہ حکومت بابل پر قابض تھی اور قومی حکومتیں فارس (ایران)، یونان اور روم، اٹلی میں حکمرانی کر رہی تھیں۔
۳۵. ”پتھر“ مورت کیساتھ کب ٹکرائیگا اور یہ کس حد تک مسمار ہو جائیگی؟
۳۵ خدا کی آسمانی بادشاہت بہت جلد علامتی مورت کے پاؤں پر کاری ضرب لگائیگی۔ نتیجتاً، یہ مورت جن سلطنتوں کی نمائندگی کرتی ہے وہ تمام کی تمام ٹکڑےٹکڑے اور نیست کی جائینگی۔ واقعی، ”قادرِمطلق خدا کے روزِعظیم کی لڑائی“ پر وہ ”پتھر“ اتنی شدت سے اُس مورت کیساتھ ٹکرائیگا کہ وہ ملیامیٹ ہو جائیگی اور خدا کی طوفانی ہوا تابستانی کھلیہان کے بھوسے کی مانند اُسے اُڑا لے جائیگی۔ (مکاشفہ ۱۶:۱۴، ۱۶) اِسکے بعد، جیسے پتھر پہاڑ بن کر تمام زمین پر پھیل گیا، ویسے ہی خدا کی بادشاہت حکومتی پہاڑ بن جائیگی جسکا اثرورسوخ ”تمام زمین“ پر ہوگا۔—دانیایل ۲:۳۵۔
۳۶. مسیحائی بادشاہت کو ایک مستحکم حکومت کیوں کہا جا سکتا ہے؟
۳۶ مسیحائی بادشاہت آسمانی ہونے کے باوجود اپنے دائرۂاختیار کو اسقدر وسیع کریگی کہ زمین کے تمام فرمانبردار لوگ اِسکی برکات سے لطف اُٹھائیں گے۔ یہ مستحکم حکومت ”تاابد نیست نہ ہوگی“ یا ”کسی دوسری قوم کے حوالہ نہ کی جائیگی۔“ فانی حکمرانوں کی حکومتوں کے برعکس یہ ”ابد تک قائم رہیگی۔“ (دانیایل ۲:۴۴) ہماری دُعا ہے کہ آپکو بھی ابد تک اِسکی رعایا کا حصہ بنے رہنے کا شرف حاصل ہو۔
[فٹنوٹ]
a اِس کتاب کے باب ۶ کا مطالعہ کریں۔
آپ کیا سمجھے ہیں؟
•نبوکدنضر کے خواب کی بڑی مورت کے مختلف حصوں سے کن عالمی طاقتوں کی نمائندگی ہوتی ہے؟
•لوہے اور مٹی کے پاؤں اور انگلیوں سے کس عالمی حالت کی نمائندگی ہوتی ہے؟
•”پتھر“ کس ”پہاڑ“ سے اور کب کاٹا گیا تھا؟
•”پتھر“ مورت کیساتھ کب ٹکرائیگا؟
[صفحہ ۶۷-۶۳ پر بکس/تصویریں]
ایک جنگجو بادشاہ کا ایک سلطنت کی داغبیل ڈالنا
بابل کا ولیعہد اور اُسکی فوجیں ارام میں، کرکمیس کے مقام پر فرعون نکوہ کی مصری فوجوں کو شکست دیتی ہیں۔ جب شکستخوردہ مصری فوجیں جنوب میں مصر کی طرف بھاگتی ہیں تو بابلی اُنکا تعاقب کرتے ہیں۔ تاہم، بابل سے ایک پیغام فاتح شہزادے کو اُن کا تعاقب چھوڑ کر واپس جانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہ پیغام اُسکے والد، نبوپلاسر کی وفات کا ہے۔ نبوکدنضر اسیروں اور مالِغنیمت کو واپس لانے کی ذمہداری اپنے سپہسالاروں کو سونپ کر تختوتاج سنبھالنے کیلئے فوراً لوٹ جاتا ہے۔
اِس طرح نبوکدنضر ۶۲۴ ق.س.ع. میں بابل کے تخت کا وارث اور نوبابلی سلطنت کا دوسرا حاکم مقرر ہوا۔ اپنے ۴۳ سالہ دورِحکومت میں اُس نے سابقہ عالمی طاقت اسور کے علاقوں پر قبضہ کِیا اور شمال میں ارام اور مغرب میں فلستین کو زیر کرتے ہوئے اپنی سلطنت کو مصر تک بڑھا لیا۔—نقشے کا جائزہ لیں۔
اپنے دورِحکومت کے چوتھے برس (۶۲۰ ق.س.ع.) میں نبوکدنضر نے یہوداہ کو اپنا باجگزار بنا لیا۔ (۲-سلاطین ۲۴:۱) اِس کے تین سال بعد، یہوداہ کی بغاوت کے باعث بابل نے یروشلیم کا محاصرہ کر لیا۔ نبوکدنضر یہویاکین، دانیایل اور دیگر لوگوں کو اسیر کرکے بابل کو لے گیا۔ بادشاہ یہوواہ کی ہیکل سے کچھ ظروف بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ اُس نے یہویاکین کے چچا، صدقیاہ کو یہوداہ کا باجگزار بادشاہ بنا دیا۔—۲-سلاطین ۲۴:۲-۱۷؛ دانیایل ۱:۶، ۷۔
اِسکے کچھ عرصہ بعد، صدقیاہ نے بھی مصر کیساتھ الحاق کرکے بغاوت کر دی۔ نبوکدنضر نے ایک مرتبہ پھر یروشلیم کا محاصرہ کِیا اور ۶۰۷ ق.س.ع. میں اس کی فصیل میں رخنہ ڈالکر ہیکل کو جلا کر راکھ اور شہر کو ملیامیٹ کر دیا۔ اُس نے صدقیاہ کے تمام بیٹوں کو قتل کر دیا اور پھر صدقیاہ کی آنکھیں نکال ڈالیں اور اُسے زنجیروں میں جکڑ کر بابل کو لے گیا۔ نبوکدنضر بیشتر لوگوں کو اسیر بنا کر اور ہیکل کے باقی ظروف کو بھی بابل لے گیا۔ ”سو یہوؔداہ بھی اپنے ملک سے اسیر ہو کر چلا گیا۔“—۲-سلاطین ۲۴:۱۸–۲۵:۲۱۔
نبوکدنضر نے ۱۳ سال تک صور کا محاصرہ کرکے اُسے بھی فتح کر لیا تھا۔ خود کی مستقل رگڑ سے فوجیوں کے ”سر بےبال“ ہو گئے اور حصار کی تعمیر کے لئے سازوسامان لاتےلاتے ”ہر ایک کا کندھا چھل“ گیا تھا۔ (حزقیایل ۲۹:۱۸) بالآخر، صور نے بابلی فوجوں کے سامنے ہتھیار ڈال دئے۔
بدیہی طور پر، بابلی بادشاہ اعلیٰ عسکری حکمتِعملی کا مالک تھا۔ خاص طور پر بابلی تصانیف اُسے انصافپسند بادشاہ کہتی ہیں۔ صحائف واضح طور پر تو یہ نہیں بتاتے کہ آیا نبوکدنضر انصافپسند بادشاہ تھا لیکن یرمیاہ نبی نے بیان کِیا کہ اگر صدقیاہ ’نکلکر شاہِبابل کے اُمرا کے پاس چلا جائے‘ تو اُسکی بغاوت سے قطعنظر اُسکے ساتھ منصفانہ سلوک کِیا جائیگا۔ (یرمیاہ ۳۸:۱۷، ۱۸) چنانچہ یروشلیم کی تباہی کے بعد نبوکدنضر یرمیاہ کیساتھ احترام سے پیش آیا۔ بادشاہ نے یرمیاہ کی بابت حکم جاری کِیا: ”اُسے لیکر اُس پر خوب نگاہ رکھ اور اُسے کچھ دُکھ نہ دے بلکہ تُو اُس سے وہی کر جو وہ تجھے کہے۔“—یرمیاہ ۳۹:۱۱، ۱۲؛ ۴۰:۱-۴۔
اعلیٰ منتظم کے طور پر، نبوکدنضر نے دانیایل اور اُسکے تینوں ساتھیوں—سدرک، میسک اور عبدنجو—کی صلاحیتوں اور لیاقتوں کو بہت جلد بھانپ لیا جنکے عبرانی نام حننیاہ، میساایل اور عزریاہ تھے۔ چنانچہ بادشاہ نے اُنہیں اپنی سلطنت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کرکے اُن سے کام لیا۔—دانیایل ۱:۶، ۷، ۱۹-۲۱؛ ۲:۴۹۔
نبوکدنضر بابل کے سب سے بڑے دیوتا، مردوک کا پرستار تھا۔ بادشاہ اپنی تمام فتوحات کا ذمہدار مردوک دیوتا کو ٹھہراتا تھا۔ اُس نے بابل میں، مردوک اور دیگر لاتعداد دیوتاؤں کے لئے مندروں کی تعمیر اور تزئینوآرائش کرائی۔ دُورا کے میدان میں نصبکردہ سونے کی مورت کو شاید مردوک کے لئے ہی مخصوص کِیا گیا تھا۔ اِس کے علاوہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نبوکدنضر اپنی عسکری مہمات کی منصوبہسازی کے لئے غیبدانی پر بڑا بھروسا رکھتا تھا۔
مزیدبرآں، نبوکدنضر کو اُس زمانے کے سب سے عظیم فصیلدار شہر بابل کو تعمیر کرنے پر بڑا ناز تھا۔ نبوکدنضر نے شہر کی ضخیم دوہری فصیل کو بھی مکمل کِیا جس کی بنیاد اُس کے والد نے ڈالی تھی اور یوں دارالسلطنت کو بظاہر ناقابلِتسخیر بنا دیا تھا۔ بادشاہ نے شہر کے مرکز میں ایک قدیم محل کی مرمت کرائی اور کوئی ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ایک تابستانی محل تعمیر کرایا۔ ایک روایت کے مطابق نبوکدنضر نے اپنے وطن کے کوہساروں اور باغات کی یاد میں کھوئی رہنے والی اپنی مادی ملکہ کو خوش رکھنے کے لئے مُعلّق باغیچے بنوائے جن کا شمار زمانۂقدیم کے سات عجوبوں میں ہوتا ہے۔
ایک روز بابل کے شاہی محل کی سیر کرتے ہوئے بادشاہ شیخی بھگارنے لگا، ”کیا یہ بابلِؔاعظم نہیں جسکو مَیں نے اپنی توانائی کی قدرت سے تعمیر کِیا ہے کہ دارالسلطنت اور میرے جاہوجلال کا نمونہ ہو؟“ لیکن ”بادشاہ یہ بات کہہ ہی رہا تھا“ کہ وہ اپنے ہوشوحواس کھو بیٹھا۔ دانیایل کی پیشینگوئی کے مطابق سات سال تک وہ حکومت کرنے کے قابل نہ رہا اور گھاس کھاتا رہا۔ نبوکدنضر کو سات دَور گزرنے کے بعد پھر بادشاہت عطا کی گئی اور وہ ۵۸۲ ق.س.ع. میں اپنی وفات تک حکومت کرتا رہا۔—دانیایل ۴:۳۰-۳۶۔
آپ کیا سمجھے ہیں؟
نبوکدنضر کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے
•عسکری حکمتِعملی کے ماہر کے حوالے سے؟
•اعلیٰ منتظم کے حوالے سے؟
•مردوک کے پرستار کے حوالے سے؟
•معمار کے حوالے سے؟
[نقشہ]
(تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)
بابلی سلطنت
بحرِقلزم
یروشلیم
دریائےفرات
دریائےدجلہ
نینوہ
سوسا
بابل
اُور
[تصویر]
اپنے زمانے کا عظیم فصیلدار شہر، بابل
[تصویر]
اژدہا مردوک کی علامت تھا
[تصویر]
بابل کے مشہور مُعلّق باغیچے
[صفحہ ۵۶ پر ڈائیگرام/تصویر]
(تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)
دانیایل کی پیشینگوئی کے مطابق عالمی طاقتیں
بڑی مورت (دانیایل ۲:۳۱-۴۵)
بابل ۶۰۷ ق۔س۔ع سے
مادیفارس ۵۳۹ ق.س.ع. سے
یونان ۳۳۱ ق.س.ع. سے
روم ۳۰ ق.س.ع. سے
اینگلوامریکن عالمی طاقت ۱۷۶۳ س.ع. سے
آخری زمانے میں سیاسی طور پر منقسم دُنیا
[صفحہ ۴۷ پر صرف تصویر ہے]
[صفحہ ۸۵ پر صرف تصویر ہے]