پانچواں باب
کڑی آزمائش میں بھی اُنکا غیرمتزلزل ایمان
۱. بہتیرے لوگ خدا اور اپنے وطن کیلئے عقیدت کی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں؟
آپکی عقیدت، خدا یا ملک، دونوں میں سے کس کے لئے ہونی چاہئے؟ بہتیرے یہ جواب دیں گے کہ ’مَیں دونوں کی عزت کرتا ہوں۔ مَیں اپنے مذہب کی پیروی میں خدا کی پرستش کرتا ہوں لیکن وطن سے وفاداری بھی میرا فرض ہے۔‘
۲. بابل کا بادشاہ کیسے مذہبی اور سیاسی رُتبہ رکھتا تھا؟
۲ آجکل مذہبی عقیدت اور حبالوطنی کے مابین تو فرق واضح ہے مگر قدیم بابل میں ایسا نہیں تھا۔ دراصل، دُنیاوی اور مذہبی چیزوں اور معاملات میں اتنی گہری وابستگی تھی کہ بعضاوقات ان میں امتیاز کرنا مشکل تھا۔ پروفیسر چارلس ایف. پفر لکھتا ہے: ”قدیم بابل میں بادشاہ حکومتی فرائض انجام دینے کے علاوہ مذہبی پیشوا بھی ہوتا تھا۔ وہ قربانیاں گزرانتا اور اپنی رعایا کی مذہبی طرزِزندگی کا تعیّن کرتا تھا۔“
۳. کس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبوکدنضر ایک مذہبی انسان تھا؟
۳ بادشاہ نبوکدنضر پر غور کریں۔ اُس کے نام کا مطلب ہے، ”اَے نبو، وارث کی حفاظت کر!“ نبو حکمت اور زراعت کا بابلی دیوتا تھا۔ نبوکدنضر ایک مذہبی انسان تھا۔ جیسے کہ پہلے بیان کِیا جا چکا ہے کہ اُس نے بیشمار بابلی معبودوں کے لئے مندر تعمیر کرائے اور اُن کی خصوصی تزئینوآرائش بھی کرائی، وہ مردوک کا خاص معتقد تھا جسے وہ اپنی فتوحات کیلئے عزتوتمجید کا مستحق سمجھتا تھا۔a یہ بات بھی واضح ہے کہ نبوکدنضر اپنے جنگی منصوبوں کو ترتیب دینے کیلئے غیبدانی پر بہت بھروسا کرتا تھا۔—حزقیایل ۲۱:۱۸-۲۳۔
۴. بابل کے مذہبی ماحول کی وضاحت کریں۔
۴ واقعی، پورے بابل میں مذہب کا بڑا اثرورسوخ تھا۔ اس شہر کو اپنے ۵۰ سے زائد مندروں پر بڑا ناز تھا جہاں انو (آسمان کا دیوتا)، انلیل (زمین، ہوا اور طوفان کا دیوتا) اور اِیا (پانی کا دیوتا) کی تثلیث سمیت بہت سے دیوی دیوتاؤں کی پرستش ہوتی تھی۔ ایک اَور تثلیث سِن (چاند دیوتا)، شمس (سورج دیوتا) اور عستار (باروری کی دیوی) پر مشتمل تھی۔ جادومنتر اور علمِنجوم بابلی پرستش کا جزوِلازم تھے۔
۵. بابل کے مذہبی ماحول کی وجہ سے اسیر یہودیوں کو کونسا چیلنج درپیش تھا؟
۵ اسیر یہودیوں کیلئے بہت سے دیوی دیوتاؤں کی تعظیم کرنے والے لوگوں کے درمیان بودوباش کرنا واقعی ایک بڑا چیلنج تھا۔ صدیوں پہلے، موسیٰ اسرائیلیوں کو متنبہ کر چکا تھا کہ اُنہیں اعلیٰوبالا شریعت دینے والے سے سرکشی کی صورت میں بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑیگا۔ موسیٰ نے اُنہیں آگاہ کِیا: ”[یہوواہ] تجھ کو اور تیرے بادشاہ کو جسے تُو اپنے اُوپر مقرر کریگا ایک ایسی قوم کے بیچ لے جائیگا جسے تُو اور تیرے باپ دادا جانتے بھی نہیں اور وہاں تُو اَور معبودوں کی جو محض لکڑی اور پتھر ہیں عبادت کریگا۔“—استثنا ۲۸:۱۵، ۳۶۔
۶. بابل میں رہنا دانیایل، حننیاہ، میساایل اور عزریاہ کیلئے خاص طور پر ایک چیلنج کیوں بن گیا تھا؟
۶ یہودیوں نے اب خود کو ایک انتہائی خطرناک صورتحال میں پایا۔ تاہم، دانیایل، حننیاہ، میساایل اور عزریاہ کے لئے یہوواہ کے حضور اپنی راستی برقرار رکھنا خاص طور پر مشکل تھا۔ اِن چار عبرانی جوانوں کو حکومتی اُمور کی انجامدہی کی تعلیموتربیت پانے کے لئے خاص طور پر منتخب کِیا گیا تھا۔ (دانیایل ۱:۳-۵) یاد رکھیں کہ نئے ماحول میں ڈھالنے کے لئے اُنہیں بابلی نام—بیلطشضر، سدرک، میسک اور عبدنجو—بھی دئے گئے تھے۔b اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کی وجہ سے اگر یہ جوان اس مُلک کے دیوتاؤں کی پرستش سے انکار کرتے ہیں تو وہ فوراً دوسروں کی نظر میں آ جائیں گے اور اسے غداری خیال کِیا جائے گا۔
سونے کی مورت سے درپیش خطرہ
۷. (ا)نبوکدنضر کی نصبکردہ مورت کی وضاحت کریں۔ (ب)مورت کس مقصد کیلئے نصب کی گئی تھی؟
۷ بظاہر اپنی سلطنت کے اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوشش میں نبوکدنضر نے دُورا کے میدان میں سونے کی ایک مورت نصب کی۔ مورت کی لمبائی ساٹھ ہاتھ (۹۰ فٹ) اور چوڑائی چھ ہاتھ (۹ فٹ) تھی۔c بعض کا خیال ہے کہ مورت محض ایک گاؤدُم ستون تھی۔ شاید یہ ایک بہت بلند چبوترا تھا جس پر انسانی شکل کا ایک بہت بڑا مجسّمہ بنا ہوا تھا جو غالباً خود نبوکدنضر یا نبو دیوتا کی نمائندگی کرتا تھا۔ اس کی شکل خواہ کچھ بھی تھی، یہ فلکبوس مورت بابلی سلطنت کی علامت تھی جسکی تعظیموتکریم کی جانی تھی۔—دانیایل ۳:۱۔
۸. (ا)مورت کی تقدیس کیلئے کن کو بلایا گیا اور پورے مجمع سے کیا تقاضا کِیا گیا تھا؟ (ب)مورت کو سجدہ کرنے سے انکار کی سزا کیا تھی؟
۸ پس نبوکدنضر نے مورت کی تقدیس کے لئے ایک تقریب کا بندوبست کِیا۔ اُس نے اپنے تمام ناظموں، حاکموں، سرداروں، قاضیوں، خزانچیوں، مشیروں، مُفتیوں اور تمام صوبوں کے منصبداروں کو جمع کِیا۔ ایک مناد نے بلند آواز سے پکار کر کہا: ”اَے لوگو! اَے اُمتو اور اَے مختلف زبانیں بولنے والو! تمہارے لئے یہ حکم ہے کہ جس وقت قرنا اور نَے اور ستار اور رباب اور بربط اور چغانہ اور ہر طرح کے ساز کی آواز سنو تو اُس سونے کی مورت کے سامنے جسکو نبوکدنضر بادشاہ نے نصب کِیا ہے گِر کر سجدہ کرو۔ اور جو کوئی گِر کر سجدہ نہ کرے اُسی وقت آگ کی جلتی بھٹی میں ڈالا جائیگا۔“—دانیایل ۳:۲-۶۔
۹. بظاہر نبوکدنضر کی نصبکردہ مورت کو سجدہ کرنے کی کیا اہمیت تھی؟
۹ بعض کا خیال ہے کہ نبوکدنضر نے اِس تقریب کا اہتمام یہودیوں کو یہوواہ کی پرستش کے سلسلے میں مصالحت کرنے پر مجبور کرنے کیلئے کِیا تھا۔ غالباً ایسا نہیں تھا کیونکہ اِس موقع پر صرف سرکاری اہلکار ہی بلائے گئے تھے۔ لہٰذا، اس موقع پر صرف سرکاری عہدوں پر فائز یہودی ہی موجود ہونگے۔ پس ایسا لگتا ہے کہ مورت کو سجدہ کرنے کا مقصد حکمران طبقے کی یکجہتی کو مضبوط کرنا تھا۔ جان. ایف. والورڈ نامی عالم بیان کرتا ہے: ”سرکاری اہلکاروں کا اس طرح باہم جمع ہونا ایک طرف تو نبوکدنضر کی سلطنت کے جاہوجلال کا مسرتبخش اظہار تھا اور دوسری طرف اُن دیوتاؤں کیلئے عقیدت اور شکرگزاری کا اظہار تھا جنہوں نے اُنکے خیال میں اُنکی فتوحات کو ممکن بنایا تھا۔“
یہوواہ کے خادموں کا مصالحت سے انکار
۱۰. غیریہودیوں کیلئے نبوکدنضر کے حکم کی تعمیل کرنا کوئی مسئلہ کیوں نہیں تھا؟
۱۰ نبوکدنضر کی مورت کے سامنے جمع ہونے والوں میں سے بیشتر کے نزدیک اپنے اپنے محافظ دیوتاؤں کیلئے عقیدت رکھنے کے باوجود اِس مورت کی پرستش کرنے میں کوئی خرابی نہیں تھی۔ ایک بائبل عالم وضاحت کرتا ہے: ”وہ سب بُتوں کی پرستش کے عادی تھے اور ایک معبود کی پرستش اُنہیں کسی دوسرے کی پرستش کرنے سے نہیں روکتی تھی۔ یہ بات بُتپرستوں کے اس مروجہ نظریے کے مطابق تھی کہ بہت سے خدا ہیں . . . اور کسی دوسری قوم یا ملک کے دیوتا کی پرستش کرنا غلط نہیں ہے۔“
۱۱. سدرک، میسک اور عبدنجو نے مورت کو سجدہ کرنے سے کیوں انکار کِیا تھا؟
۱۱ تاہم، یہودیوں کے سلسلے میں یہ معاملہ نہیں تھا۔ اُنکے لئے اُن کے خدا، یہوواہ کا حکم تھا: ”تُو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اُوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔ تُو اُنکے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ اُن کی عبادت کرنا کیونکہ مَیں [یہوواہ] تیرا خدا غیور خدا ہوں۔“ (خروج ۲۰:۴، ۵) لہٰذا، جب موسیقی بجنے پر لوگوں نے مورت کو سجدہ کِیا تو تین عبرانی جوان—سدرک، میسک اور عبدنجو—سیدھے کھڑے رہے۔—دانیایل ۳:۷۔
۱۲. بعض کسدیوں نے تین عبرانیوں پر کیا الزام لگایا اور اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا؟
۱۲ مورت کی پرستش سے تین عبرانی اہلکاروں کے انکار نے بعض کسدیوں کو آگبگولا کر دیا۔ اُنہوں نے فوراً بادشاہ کے پاس جاکر ”یہودیوں پر الزام لگایا۔“d وہ کوئی وضاحت نہیں سننا چاہتے تھے۔ الزام لگانے والوں نے عبرانیوں کو سرکشی اور غداری کی سزا دلانے کی کوشش میں کہا: ”چند یہودی ہیں جنکو تُو نے بابلؔ کے صوبہ کی کارپردازی پر مُعیّن کِیا ہے یعنی سدؔرک اور میسکؔ اور عبدؔنجو۔ اِن آدمیوں نے اَے بادشاہ تیری تعظیم نہیں کی۔ وہ تیرے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے اور اُس سونے کی مورت کو جسے تُو نے نصب کِیا سجدہ نہیں کرتے۔“—دانیایل ۳:۸-۱۲۔
۱۳، ۱۴. نبوکدنضر نے سدرک، میسک اور عبدنجو کے انکار پر کیسا ردِعمل دکھایا؟
۱۳ نبوکدنضر تین عبرانیوں کی حکمعدولی سے کتنا مایوس ہوا ہوگا! یہ بات واضح تھی کہ وہ سدرک، میسک اور عبدنجو کو بابلی سلطنت کا وفادار بنانے میں ناکام ہو چکا تھا۔ کیا اُس نے اُنہیں کسدیوں کے علوم کی تعلیم نہیں دلوائی تھی؟ اُس نے تو اُنکے نام بھی بدل دئے تھے! لیکن اگر نبوکدنضر نے یہ سوچا تھا کہ شاہانہ تعلیم سے وہ ایک نیا طرزِپرستش اختیار کر لینگے یا اُنکے نام بدلنے سے اُن کی شخصیات بھی بدل جائینگی تو یہ اُسکی بہت بڑی بھول تھی۔ سدرک، میسک اور عبدنجو یہوواہ کے وفادار رہے۔
۱۴ نبوکدنضر بھڑک اُٹھا۔ اُس نے فوراً، سدرک، میسک اور عبدنجو کو اپنے حضور طلب کِیا۔ اُس نے پوچھا: ”اَے سدؔرک اور میسکؔ اور عبدؔنجو کیا یہ سچ ہے کہ تم میرے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے ہو اور اُس سونے کی مورت کو جسے مَیں نے نصب کِیا سجدہ نہیں کرتے؟“ بِلاشُبہ نبوکدنضر نے حیرانوپریشان ہو کر یہ بات پوچھی تھی۔ اُس نے یہ تو ضرور سوچا ہوگا کہ ’دانش سے معمور یہ تینوں جوان ایسے واضح حکم کی نافرمانی کیسے کر سکتے ہیں جسے توڑنے کی سزا اتنی سخت ہے؟‘—دانیایل ۳:۱۳، ۱۴۔
۱۵، ۱۶. نبوکدنضر نے تینوں عبرانیوں کو کیا موقع دیا؟
۱۵ نبوکدنضر تینوں عبرانیوں کو ایک اَور موقع دینا چاہتا تھا۔ نبوکدنضر نے اُن سے کہا: ”اب اگر تم مستعد رہو کہ جس وقت قرنا اور نَے اور ستار اور رباب اور بربط اور چغانہ اور ہر طرح کے ساز کی آواز سنو تُو اُس مورت کے سامنے جو مَیں نے بنوائی ہے گِر کر سجدہ کرو تو بہتر پر اگر سجدہ نہ کرو گے تو اُسی وقت آگ کی جلتی بھٹی میں ڈالے جاؤ گے اور کونسا معبود تم کو میرے ہاتھ سے چھڑائیگا؟“—دانیایل ۳:۱۵۔
۱۶ ایسے لگتا ہے کہ مورت کے خواب (دانیایل ۲ باب میں درج) سے حاصل ہونے والے سبق نے نبوکدنضر کے دِلودماغ پر کوئی گہرا اثر نہیں کِیا تھا۔ شاید وہ دانیایل سے کہی ہوئی اپنی اِس بات کو بھی بھول چکا تھا: ”تیرا خدا معبودوں کا معبود اور بادشاہوں کا خداوند . . . ہے۔“ (دانیایل ۲:۴۷) اَب نبوکدنضر اس بات سے یہوواہ کو یہ چیلنج کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ وہ بھی عبرانیوں کو سزا سے نہیں بچا سکتا۔
۱۷. سدرک، میسک اور عبدنجو نے بادشاہ کی پیشکش کیلئے کیسا جوابیعمل دکھایا؟
۱۷ سدرک، میسک اور عبدنجو کو اس معاملے پر دوبارہ غوروفکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لہٰذا، اُنہوں نے فوراً جواب دیا: ”اَے نبوکدؔنضر اِس امر میں ہم تجھے جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے۔ دیکھ ہمارا خدا جسکی ہم عبادت کرتے ہیں ہم کو آگ کی جلتی بھٹی سے چھڑانے کی قدرت رکھتا ہے اور اَے بادشاہ وہی ہم کو تیرے ہاتھ سے چھڑائیگا۔ اور نہیں تو اَے بادشاہ تجھے معلوم ہو کہ ہم تیرے معبودوں کی عبادت نہیں کرینگے اور اُس سونے کی مورت کو جو تُو نے نصب کی ہے سجدہ نہیں کرینگے۔“—دانیایل ۳:۱۶-۱۸۔
آگ کی بھٹی میں!
۱۸، ۱۹. جب تینوں عبرانیوں کو آگ کی بھٹی میں پھینکا گیا تو کیا واقع ہوا؟
۱۸ نبوکدنضر نے غضبناک ہو کر اپنے خادموں کو بھٹی کی آنچ کو معمول سے سات گُنا زیادہ کر دینے کا حکم دیا۔ اِسکے بعد اُس نے ”چند زورآور پہلوانوں“ کو حکم دیا کہ سدرک، میسک اور عبدنجو کو باندھکر ”آگ کی جلتی بھٹی“ میں پھینک دیں۔ بادشاہ کے حکم کے مطابق اُنہوں نے تینوں عبرانیوں کو کپڑوں سمیت باندھا اور اُٹھا کر آگ میں پھینک دیا۔ کپڑوں سمیت پھینکنے کا مقصد غالباً یہ تھا کہ جسم کی نسبت کپڑوں کو فوراً آگ لگ جائیگی اور وہ جلد ہی جل کر راکھ ہو جائیں گے۔ تاہم، اُنہیں آگ میں پھینکنے والے نبوکدنضر کے خادم شعلوں کی نذر ہو گئے۔—دانیایل ۳:۱۹-۲۲۔
۱۹ لیکن ایک حیرتانگیز بات واقع ہوئی۔ سدرک، میسک اور عبدنجو کو آگ کی بھٹی میں پھینک دئے جانے کے باوجود اُنہیں کچھ ضرر نہ پہنچا۔ ذرا نبوکدنضر کی حیرانی کا تصور کریں! اُنہیں باندھکر تیز آگ میں ڈالا گیا تھا لیکن وہ ابھی تک زندہ تھے۔ وہ تو آگ میں کھلے چلپھر رہے تھے! لیکن نبوکدنضر کو کچھ اَور بھی نظر آیا۔ ”کیا ہم نے تین شخصوں کو بندھوا کر آگ میں نہیں ڈالویا؟“ اُس نے اپنے ارکانِدولت سے پوچھا۔ ”بادشاہ نے سچ فرمایا ہے،“ اُنہوں نے جواب دیا۔ لیکن نبوکدنضر چلّا اُٹھا، ”دیکھو مَیں چار شخص آگ میں کھلے پھرتے دیکھتا ہوں اور اُن کو کچھ ضرر نہیں پہنچا اور چوتھے کی صورت الہٰزادہ کی سی ہے۔“—دانیایل ۳:۲۳-۲۵۔
۲۰، ۲۱. (ا)سدرک، میسک اور عبدنجو کے بھٹی سے باہر نکلنے پر نبوکدنضر نے کیا دیکھا؟ (ب)نبوکدنضر کو کیا تسلیم کرنا پڑا؟
۲۰ نبوکدنضر نے آگ کی بھٹی کے دروازے پر آ کر آواز دی: ”اَے سدؔرک اور میسکؔ اور عبدؔنجو خداتعالیٰ کے بندو! باہر نکلو اور اِدھر آؤ۔“ تینوں عبرانی آگ سے چل کر باہر نکل آئے۔ بِلاشُبہ اِس معجزے کے تمام عینی شاہد—بشمول ناظم، حاکم، سردار اور اعلیٰ عہدیدار—حواسباختہ ہو گئے۔ واقعی، ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ان تین جوانوں کو کبھی آگ کی بھٹی میں پھینکا ہی نہیں گیا تھا! اُن سے تو جلنے کی بُو بھی نہیں آ رہی تھی اور اُنہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔—دانیایل ۳:۲۶، ۲۷۔
۲۱ اب نبوکدنضر یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا کہ یہوواہ ہی بلندوبالا خدا ہے۔ اُس نے پکار کر کہا: ”سدؔرک اور میسکؔ اور عبدؔنجو کا خدا مبارک ہو جس نے اپنا فرشتہ بھیج کر اپنے بندوں کو رہائی بخشی جنہوں نے اُس پر توکل کرکے بادشاہ کے حکم کو ٹال دیا اور اپنے بدنوں کو نثار کِیا کہ اپنے خدا کے سوا کسی دوسرے معبود کی عبادت اور بندگی نہ کریں۔“ اِس کے بعد بادشاہ نے یہ سخت حکم جاری کِیا: ”اس لئے مَیں یہ فرمان جاری کرتا ہوں کہ جو قوم یا اُمت یا اہلِلغت سدؔرک اور میسکؔ اور عبدؔنجو کے خدا کے حق میں کوئی نامناسب بات کہیں اُن کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں گے اور اُن کے گھر مزبلہ ہو جائیں گے کیونکہ کوئی دوسرا معبود نہیں جو اِس طرح رہائی دے سکے۔“ اِس کے بعد تینوں عبرانی ایک بار پھر بادشاہ کی نظر میں مقبول ہوئے اور اُنہیں ’بابل کے صوبہ میں سرفراز کِیا گیا۔‘—دانیایل ۳:۲۸-۳۰۔
آجکل ایمان کی کڑی آزمائش
۲۲. موجودہ زمانے میں یہوواہ کے خادموں کو سدرک، میسک اور عبدنجو جیسے حالات کا سامنا کیسے ہوتا ہے؟
۲۲ آجکل بھی یہوواہ کے خادموں کو سدرک، میسک اور عبدنجو جیسے حالات کا سامنا ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خدا کے لوگ حقیقی مفہوم میں تو شاید اسیر نہ ہوں۔ تاہم، یسوع نے کہا تھا کہ اُسکے پیروکار ”دُنیا کے نہیں“ ہونگے۔ (یوحنا ۱۷:۱۴) وہ ’پردیسی‘ ہیں کیونکہ وہ دُنیا کے غیرصحیفائی رسمورواج، رُجحانات اور طورطریقے نہیں اپناتے۔ پولس رسول نے مسیحیوں کو مشورہ دیا کہ ”اس جہان کے ہمشکل نہ بنو۔“—رومیوں ۱۲:۲۔
۲۳. تین عبرانیوں نے ثابتقدمی کا مظاہرہ کیسے کِیا اور آجکل مسیحی اُن کے نمونے کی پیروی کیسے کر سکتے ہیں؟
۲۳ تینوں عبرانیوں نے بابلی نظام کے ہمشکل بننے سے انکار کر دیا تھا۔ کسدی علوم کی تعلیم بھی اُنہیں گمراہ نہ کر سکی۔ اُنہوں نے پرستش کے سلسلے میں کبھی مصالحت نہ کی بلکہ وہ ہمیشہ یہوواہ کے وفادار رہے۔ آجکل مسیحیوں کو بھی ایسی ہی ثابتقدمی کی ضرورت ہے۔ اُنہیں دُنیا سے فرق ہونے کی وجہ سے شرمسار نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ”دُنیا اور اُس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں۔“ (۱-یوحنا ۲:۱۷) لہٰذا، خود کو اِس فانی نظامالعمل کے مطابق ڈھالنا حماقت اور خجالت ہوگی۔
۲۴. آجکل سچے مسیحی تین عبرانیوں جیسا مؤقف کیسے اختیار کرتے ہیں؟
۲۴ مسیحیوں کو تمام طرح کی ظاہری اور پوشیدہ بُتپرستی سے بچنا چاہئے۔e (۱-یوحنا ۵:۲۱) سدرک، میسک اور عبدنجو سونے کی مورت کے سامنے فرمانبرداری اور احترام کیساتھ کھڑے رہے لیکن وہ سمجھتے تھے کہ مورت کو سجدہ کرنا محض احترام دکھانے سے بڑھکر ہے۔ یہ اُسکی پرستش کے مترادف تھا جس سے یہوواہ کا غضب بھڑک سکتا تھا۔ (استثنا ۵:۸-۱۰) جان ایف. والورڈ لکھتا ہے: ”درحقیقت یہ جھنڈے کی سلامی تھی لیکن مذہبی اور قومی معاملات میں گہری وابستگی کی بِنا پر یہ مذہبی فعل بھی تھا۔“ آجکل، سچے مسیحی بُتپرستی کے خلاف ایسا ہی ٹھوس مؤقف اختیار کرتے ہیں۔
۲۵. آپ نے سدرک، میسک اور عبدنجو کی حقیقی سرگزشت سے کیا سبق سیکھا ہے؟
۲۵ بائبل میں سدرک، میسک اور عبدنجو کی سرگزشت یہوواہ کو بِلاشرکتِغیرے عقیدت دینے کا عزم رکھنے والے تمام لوگوں کے لئے ایک عمدہ مثال ہے۔ جب پولس رسول نے بہت سے ایماندار لوگوں کا ذکر کِیا تو یہ تین عبرانی بھی بدیہی طور پر اُسکے ذہن میں تھے جنہوں نے ”آگ کی تیزی کو بجھایا“ تھا۔ (عبرانیوں ۱۱:۳۳، ۳۴) یہوواہ ایسے ایمان کی تقلید کرنے والے ہر شخص کو اَجر دیگا۔ تین عبرانیوں کو جس طرح آگ کی بھٹی سے بچا لیا گیا تھا اُسی طرح ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ راستی برقرار رکھنے کی خاطر اپنی زندگیاں قربان کر دینے والے تمام وفادار اشخاص کو مُردوں میں سے زندہ کرکے ہمیشہ کی زندگی عطا کرے گا۔ بہرصورت، یہوواہ ”اپنے مُقدسوں کی جانوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ وہ اُن کو شریروں کے ہاتھ سے چھڑاتا ہے۔“—زبور ۹۷:۱۰۔
[فٹنوٹ]
a بعض کے خیال میں مردوک جسے بابلی سلطنت کا بانی سمجھا جاتا تھا، دراصل دیوتا کے روپ میں نمرود ہی کی نمائندگی کرتا تھا۔ تاہم، اِس کی بابت وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
b ”بیلطشضر“ کا مطلب ہے، ”بادشاہ کی زندگی کی حفاظت کر۔“ ”سدرک“ کا مطلب ”آکو کا حکم ہے،“ شاید یہ سومیری چاند دیوتا تھا۔ ”میسک“ سے بھی غالباً سومیری دیوتا کا اشارہ ملتا ہے اور ”عبدنجو“ کا مطلب نبو یا ”نجو کا غلام“ ہے۔
c اِس مورت کی جسامت کے پیشِنظر بعض بائبل علما کا خیال ہے کہ مورت لکڑی کی بنی ہوئی تھی جس پر سونے کی پترکاری کی گئی تھی۔
d جس ارامی اظہار کا ترجمہ ”الزام لگایا“ کِیا گیا ہے اُسکا مطلب کسی شخص کو ’نوچ کھانا‘ یعنی اُسے تہمت کا نشانہ بنا کر اُسکی نیکنامی ختم کر ڈالنا ہے۔
e مثال کے طور پر، بائبل بسیارخوری اور لالچ کو بُتپرستی کے برابر ٹھہراتی ہے۔—فلپیوں ۳:۱۸، ۱۹؛ کلسیوں ۳:۵۔
آپ کیا سمجھے ہیں؟
•سدرک، میسک اور عبدنجو نے نبوکدنضر کی نصبکردہ مورت کو سجدہ کرنے سے انکار کیوں کِیا تھا؟
•نبوکدنضر نے تین عبرانیوں کے مؤقف کیلئے کیسا ردِعمل دکھایا؟
•یہوواہ نے تینوں عبرانیوں کو اُنکے ایمان کا کیا اَجر دیا؟
•آپ نے سدرک، میسک اور عبدنجو کی حقیقی سرگزشت پر غور کرنے سے کیا سیکھا ہے؟
[صفحہ ۶۸ پر صرف تصویر ہے]
[صفحہ ۷۰ پر تصویریں]
۱۔بابل میں بُرج مندر (زگورات)
۲۔مردوک کا مندر
۳۔کانسی کی تختی جس پر مردوک (بائیں) اور نبو (دائیں) دیوتاؤں کو اژدہاؤں پر کھڑا دکھایا گیا ہے
۴. اپنے تعمیراتی کاموں کیلئے مشہور نبوکدنضر کا اُبھرواں نقش
[صفحہ ۷۶ پر صرف تصویر ہے]
[صفحہ ۷۸ پر صرف تصویر ہے]