تیسرا باب
آزمائش میں بھی یہوواہ کے وفادار!
۱، ۲. کونسے اہم واقعات دانیایل کی سرگزشت کی تمہید بنے؟
دانیایل کی نبوّتی کتاب سے پردہ اُٹھتے ہی نہایت اہم بینالاقوامی تبدیلی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ اسور کا دارالحکومت، نینوہ راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے۔ یہوداہ کے جنوب میں مصر بھی اپنی شانوشوکت کھو چکا ہے۔ تاہم، بابل عالمی طاقت بننے کے لئے بڑی تیزی سے منظرِعالم پر چھا رہا ہے۔
۲ مصری فرعون نکوہ نے ۶۲۵ ق.س.ع. میں، جنوب کی طرف بابلی توسیع کو روکنے کے لئے آخری کوشش کی۔ اس سلسلے میں، اُس نے اپنی فوج کے ساتھ دریائےفرات کے بالائی کناروں پر واقع کرکمیس تک پیشقدمی کی۔ جنگِکرکمیس بڑی فیصلہکُن اور تاریخساز ثابت ہوئی۔ فرعون نکوہ کے لشکروں کو ولیعہد شہزادے نبوکدنضر کی زیرِکمان بابلی فوج کے ہاتھوں شکستفاش ہوئی۔ (یرمیاہ ۴۶:۲) نبوکدنضر نے فتح کے جوش میں ارام اور فلستین پر قبضہ کرکے اِس علاقے سے مصری تسلط کو تقریباً ختم کر دیا۔ تاہم، نبوکدنضر کو اپنے والد، نبوپلاسر کی موت کی وجہ سے اپنی جنگی پیشقدمیوں کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔
۳. یروشلیم کے خلاف نبوکدنضر کی پہلی مہم کا انجام کیا ہوا تھا؟
۳ اگلے سال، ارام اور فلستین ایک مرتبہ پھر بابل کے تختنشین بادشاہ نبوکدنضر کی عسکری مہمات کا نشانہ بنے۔ اِسی دوران وہ پہلی بار یروشلیم بھی آیا۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”اُسی کے ایّام میں شاہِبابلؔ نبوکدؔنضر نے چڑھائی کی اور یہوؔیقیم تین برس تک اُسکا خادم رہا۔ تب وہ پھر کر اُس سے منحرف ہو گیا۔“—۲-سلاطین ۲۴:۱۔
یروشلیم میں نبوکدنضر کی آمد
۴. دانیایل ۱:۱ کے اظہار ”شاہِیہوؔداہ یہوؔیقیم کی سلطنت کے تیسرے سال میں“ کا کیا مطلب ہے؟
۴ ”تین برس تک“ کا اظہار ہمارے لئے خاص دلچسپی کا حامل ہے کیونکہ دانیایل کی کتاب کا آغاز اِن الفاظ سے ہوتا ہے: ”شاہِیہوؔداہ یہوؔیقیم کی سلطنت کے تیسرے سال میں شاہِبابلؔ نبوکدؔنضر نے یرؔوشلیم پر چڑھائی کرکے اُسکا محاصرہ کِیا۔“ (دانیایل ۱:۱) یہویقیم نے ۶۲۸ سے ۶۱۸ ق.س.ع. تک حکمرانی کی۔ تاہم، اُسکی سلطنت کے تیسرے سال میں بھی نبوکدنضر ”شاہِبابلؔ“ کی بجائے صرف ولیعہد ہی تھا۔ نبوکدنضر نے ۶۲۰ ق.س.ع. میں یہویقیم کو خراج دینے پر مجبور کِیا۔ لیکن کوئی تین سال بعد، یہویقیم باغی ہو گیا۔ لہٰذا، ۶۱۸ ق.س.ع.—بابل کے باجگزار بادشاہ کے طور پر یہویقیم کی سلطنت کا تیسرا سال—میں نبوکدنضر بادشاہ نے باغی یہویقیم کو سزا دینے کیلئے دوسری مرتبہ یروشلیم پر چڑھائی کی۔
۵. یروشلیم پر نبوکدنضر کے دوسرے حملے کا کیا نتیجہ نکلا؟
۵ اِس محاصرے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ”[یہوواہ] نے شاہِیہوؔداہ یہوؔیقیم کو اور خدا کے گھر کے بعض ظروف کو اُسکے حوالہ کر دیا۔“ (دانیایل ۱:۲) یہویقیم غالباً محاصرے کے ابتدائی مراحل ہی میں کسی سازش کے تحت یا بغاوت کی وجہ سے مارا گیا تھا۔ (یرمیاہ ۲۲:۱۸، ۱۹) اِسکے بعد ۶۱۸ ق.س.ع. میں اُسکا ۱۸ سالہ بیٹا، یہویاکین اُسکا جانشین ہوا۔ لیکن یہویاکین کی حکومت صرف تین ماہ اور دس دن قائم رہی اور اُس نے ۶۱۷ ق.س.ع. میں ہتھیار ڈال دئے۔—مقابلہ کریں ۲-سلاطین ۲۴:۱۰-۱۵۔
۶. نبوکدنضر نے یروشلیم کی ہیکل کے مُقدس ظروف کیساتھ کیا کِیا؟
۶ نبوکدنضر یروشلیم کی ہیکل کے مُقدس ظروف کو مالِغنیمت کے طور پر ”سنعاؔر کی سرزمین میں اپنے بُتخانہ میں لے گیا چنانچہ اُس نے ظروف کو اپنے بُت،“ مردوک یا عبرانی میں مروداک ”کے خزانہ میں داخل کِیا۔“ (دانیایل ۱:۲؛ یرمیاہ ۵۰:۲) ایک بابلی کتبہ دریافت ہوا ہے جس پر مردوک دیوتا کے مندر کی بابت نبوکدنضر کے یہ الفاظ کندہ ہیں: ”مَیں نے سونا، چاندی، جواہر . . . اور اپنی سلطنت کے خزانے اِس کے اندر بحفاظت رکھ دئے ہیں۔“ ہم اِن مُقدس ظروف کی بابت بیلشضر بادشاہ کے دورِحکومت کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر پڑھیں گے۔—دانیایل ۵:۱-۴۔
یروشلیم کے چیدہچیدہ نوجوان
۷، ۸. ہم دانیایل ۱:۳، ۴ اور ۶ سے دانیایل اور اُسکے تینوں ساتھیوں کے پسِمنظر کی بابت کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟
۷ بابلی یہوواہ کی ہیکل کے خزانوں کے علاوہ بھی بہت کچھ اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ سرگزشت بیان کرتی ہے: ”بادشاہ نے اپنے خواجہ سراؤں کے سردار اؔسپنز کو حکم کِیا کہ بنیاسرائیل میں سے اور بادشاہ کی نسل میں سے اور شرفا میں سے لوگوں کو حاضر کرے۔ وہ بےعیب جوان بلکہ خوبصورت اور حکمت میں ماہر اور ہر طرح سے دانشور اور صاحبِعلم ہوں جن میں یہ لیاقت ہو کہ شاہی قصر میں کھڑے رہیں اور وہ اُن کو کسدیوں کے علم اور اُنکی زبان کی تعلیم دے۔“—دانیایل ۱:۳، ۴۔
۸ کن کو منتخب کِیا گیا؟ سرگزشت میں بتایا جاتا ہے: ”اُن میں بنییہوؔداہ میں سے دانیؔایل اور حننیاؔہ اور میساؔایل اور عزؔریاہ تھے۔“ (دانیایل ۱:۶) یہ بیان دانیایل اور اُس کے ساتھیوں کے مبہم پسِمنظر پر کچھ روشنی ڈالتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ ”بنییہوؔداہ“ تھے یعنی اُنکا تعلق شاہی قبیلے سے تھا۔ خواہ وہ شاہی خاندان سے تھے یا نہیں، یہ سمجھنا معقول ہوگا کہ اُنکا تعلق ممتاز اور بارسوخ خاندانوں سے تھا۔ وہ اپنی نوعمری میں ذہین اور صحتمند ہونے کے علاوہ بصیرت، حکمت، معرفت اور سمجھ بھی رکھتے تھے۔ دانیایل اور اُسکے ساتھی واقعی یروشلیم کے ممتاز اور چیدہ نوجوانوں میں سے تھے۔
۹. یہ بات اتنی یقینی کیوں ہے کہ دانیایل اور اُسکے تینوں ساتھیوں کے والدین خداترس تھے؟
۹ یہ سرگزشت اِن نوجوانوں کے والدین کی بابت کچھ بیان نہیں کرتی۔ تاہم، ایک بات تو یقینی ہے کہ اُنہوں نے خداپرست والدین کے طور پر اپنی ذمہداریوں کو خوشاسلوبی سے پورا کِیا تھا۔ اُس دَور میں یروشلیم کے لوگوں بالخصوص ’شاہی نسل اور شرفا‘ کی اخلاقی اور روحانی پستی کے پیشِنظر، یہ بات واضح ہے کہ دانیایل اور اُسکے تینوں ساتھیوں کی عمدہ خوبیاں محض اتفاق نہیں تھیں۔ بِلاشُبہ، والدین کیلئے اپنے بیٹوں کو دُور اجنبی مُلک کی اسیری میں جاتے دیکھنا شدید غم کا باعث ہوا ہوگا۔ تاہم، اگر اُنہیں یہ پتہ ہوتا کہ اسکا انجام کیا ہوگا تو یقیناً اُنکے سر فخر سے بلند ہوتے! پس، والدین کیلئے اپنے بچوں کی ”[یہوواہ] کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر . . . پرورش“ کرنا کتنا اہم ہے!—افسیوں ۶:۴۔
ایک ذہنی کشمکش
۱۰. عبرانی نوجوانوں کو کیا تعلیم دی گئی تھی اور اِسکا مقصد کیا تھا؟
۱۰ ان اسیر نوجوانوں کے لئے فوراً ہی ذہنی کشمکش شروع ہو گئی۔ اِن عبرانی نوجوانوں کو بابلی طورطریقے سکھانے کا یقین کرنے کے لئے نبوکدنضر اپنے اُمرا کو حکم دیتا ہے کہ ”اُن کو کسدیوں کے علم اور اُن کی زبان کی تعلیم“ دیں۔ (دانیایل ۱:۴) یہ کوئی عام تعلیم نہیں تھی۔ دی انٹرنیشنل سٹینڈرڈ بائبل انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے کہ اِس میں ”سومیری، اکادی، ارامی . . . اور دیگر زبانوں کے علاوہ، اِن زبانوں میں دستیاب وسیعالاقسام لٹریچر کا مطالعہ کرنا بھی شامل تھا۔“ یہ ”وسیعالاقسام لٹریچر“ تاریخ، ریاضی، نجوم اور اِسی طرح کے دیگر علوم پر مشتمل تھا۔ تاہم، ”فالگیری اور جوتش پر مبنی مذہبی کتب نے بڑا اہم کردار ادا کِیا۔“
۱۱. عبرانی نوجوانوں کی بابلی درباریت سے واقفیت کو یقینی بنانے کیلئے کونسے اقدام کئے گئے تھے؟
۱۱ پس اِن عبرانی نوجوانوں کو بابلی درباریت سے مکمل طور پر واقف کرانے کیلئے ”بادشاہ نے اُن کیلئے شاہی خوراک میں سے اور اپنے پینے کی مے میں سے روزانہ وظیفہ مقرر کِیا کہ تین سال تک اُن کی پرورش ہو تاکہ اِس کے بعد وہ بادشاہ کے حضور کھڑے ہو سکیں۔“ (دانیایل ۱:۵) اِسکے علاوہ، ”خواجہ سراؤں کے سردار نے اُنکے نام رکھے۔ اُس نے دانیؔایل کو بیلطشضرؔ اور حننیاؔہ کو سدؔرک اور میساؔایل کو میسکؔ اور عزؔریاہ کو عبدؔنجو کہا۔“ (دانیایل ۱:۷) بائبل وقتوں میں کسی شخص کی زندگی میں اہم واقعہ کی مناسبت سے اُسے نیا نام دینے کا بڑا رواج تھا۔ مثال کے طور پر، یہوواہ نے ابرام اور ساری کا نام تبدیل کرکے ابرہام اور سارہ رکھ دیا۔ (پیدایش ۱۷:۵، ۱۵، ۱۶) ایک انسان کا کسی دوسرے انسان کے نام کو تبدیل کر دینا اُس کے اختیار یا اقتدار کا ثبوت ہے۔ جب یوسف مصر میں خوراک کا منتظم بنا تو فرعون نے اُس کا نام صفناؔت فعنیح رکھ دیا تھا۔—پیدایش ۴۱:۴۴، ۴۵؛ مقابلہ کریں ۲-سلاطین ۲۳:۳۴؛ ۲۴:۱۷۔
۱۲، ۱۳. یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ نوجوان عبرانیوں کے نام تبدیل کرنا اُن کے ایمان کو کمزور کرنے کی سازش تھی؟
۱۲ دانیایل اور اُسکے تینوں عبرانی رفیقوں کے سلسلے میں ناموں کی تبدیلی بڑی اہمیت کی حامل تھی۔ اُنہیں جو نام اُنکے والدین نے دئے تھے اُنکا تعلق یہوواہ کی پرستش سے تھا۔ ”دانیایل“ کا مطلب ہے ”خدا میرا منصف ہے۔“ ”حننیاہ“ کا مطلب ہے ”یہوواہ شفیق ہے۔“ ”میساایل“ کا غالباً مطلب ہے ”خدا کی مانند کون ہے؟“ ”عزریاہ“ کا مطلب ہے ”یہوواہ مددگار ہے۔“ بِلاشُبہ، اُنکے والدین کی بڑی آرزو تھی کہ اُنکے بیٹے یہوواہ خدا کی ہدایت کے مطابق پرورش پائیں اور اُسکے وفادار اور عقیدتمند خادم بنیں۔
۱۳ تاہم، چاروں عبرانیوں کے نئے نام جھوٹے معبودوں سے گہرا تعلق رکھنے کے علاوہ اس بات کی دلالت کرتے تھے کہ اِن معبودوں نے سچے خدا کو مغلوب کر لیا ہے۔ اِن نوجوانوں کے ایمان کو کمزور کرنے کی کیا ہی گھناؤنی اور خفیہ سازش!
۱۴. دانیایل اور اُسکے تینوں ساتھیوں کے نئے ناموں کا کیا مطلب ہے؟
۱۴ دانیایل کا نام تبدیل کر کے بیلطشضر رکھ دیا گیا جس کا مطلب ہے ”بادشاہ کی زندگی کی حفاظت کر۔“ بدیہی طور پر، یہ بابل کے سب سے بڑے دیوتا، بیل یا مردوک کو مدد کے لئے پکارنے کا مختصر اور آسان لفظ تھا۔ یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ آیا دانیایل کیلئے اِس نام کے انتخاب میں نبوکدنضر کا ہاتھ تھا یا نہیں، البتہ اُس نے بڑے فخر سے تسلیم کِیا تھا کہ یہ ”[اُسکے] معبود کا بھی نام ہے۔“ (دانیایل ۴:۸) حننیاہ کا نام تبدیل کرکے سدرک رکھ دیا گیا تھا، جسکی بابت بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس مرکب نام کا مطلب ”آکو کا حکم“ ہے۔ تاہم، دلچسپ بات یہ ہے کہ آکو ایک سومیری دیوتا کا نام تھا۔ میساایل کا نام تبدیل کرکے میسک (غالباً میشاآکو) رکھ دیا گیا جسے بڑی ہوشیاری کیساتھ ”خدا کی مانند کون ہے؟“ کو بگاڑ کر ”آکو کا ثانی کون ہے؟“ بنا دیا گیا۔ عزریاہ کا بابلی نام عبدنجو تھا جسکا مطلب غالباً ”نجو کا غلام“ ہے۔ ”نجو“ دراصل ایک دیوتا ”نبو“ کے نام کی مختلف صورت ہے جسکے نام پر کئی بابلی حکمرانوں کے نام رکھے گئے تھے۔
یہوواہ کی وفاداری پر قائم
۱۵، ۱۶. اب دانیایل اور اُسکے ساتھیوں کو کن خطرات کا سامنا تھا اور اُنہوں نے کیسا جوابیعمل دکھایا؟
۱۵ نئے بابلی ناموں، تعلیموتربیت اور مخصوص خوراک کا مقصد دانیایل اور تینوں عبرانی نوجوانوں کو بابلی طرزِزندگی سکھانے کے علاوہ اُنہیں اُن کے خدا، یہوواہ اور اُن کی مذہبی تعلیموتربیت اور پسِمنظر سے دُور کرنا بھی تھا۔ ایسے دباؤ اور آزمائش کی صورت میں یہ نوجوان کیا کرینگے؟
۱۶ الہامی سرگزشت بیان کرتی ہے: ”دانیؔایل نے اپنے دل میں ارادہ کِیا کہ اپنے آپ کو شاہی خوراک سے اور اُس کی مے سے جو وہ [بادشاہ] پیتا تھا ناپاک نہ کرے۔“ (دانیایل ۱:۸الف) اگرچہ دانیایل ہی کا بنام ذکر کِیا گیا ہے توبھی بعد کے واقعات سے یہ عیاں ہے کہ اُسکے تینوں ساتھیوں نے بھی اُس کے فیصلے کی تائید کی تھی۔ اِس اظہار ”اپنے دل میں ارادہ کِیا،“ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے وطن میں اپنے والدین اور دیگر لوگوں کی طرف سے حاصلکردہ ہدایتوراہنمائی نے دانیایل کے دل پر گہرا اثر کِیا تھا۔ ایسی ہی تعلیموتربیت نے یقیناً دیگر تینوں عبرانیوں کی بھی فیصلہ کرنے میں راہنمائی کی تھی۔ اِس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ بچپن ہی سے بچوں کی تعلیموتربیت کتنی اہم ہے۔—امثال ۲۲:۶؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱۴، ۱۵۔
۱۷. دانیایل اور اُس کے ساتھیوں نے دیگر تمام انتظامات کے برعکس شاہی خوراک اور مے پر ہی اعتراض کیوں کِیا تھا؟
۱۷ نوجوان عبرانیوں نے دیگر انتظامات کے برعکس شاہی خوراک اور مے کے سلسلے میں ہی اعتراض کیوں کِیا تھا؟ دانیایل کی دلیل واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ وہ ”اپنے آپ کو . . . ناپاک“ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ بابلی نام اور ”کسدیوں کے علم اور اُنکی زبان کی تعلیم“ قابلِاعتراض تو ہو سکتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ یہ کسی شخص کو ناپاک کریں۔ اِس سے کوئی ۱،۰۰۰ سال پہلے موسیٰ کی مثال پر غور کریں۔ وہ ”مصرؔیوں کے تمام علوم کی تعلیم“ پانے کے باوجود یہوواہ کا وفادار رہا۔ اُسکے والدین کی پرورش اُس کیلئے ٹھوس بنیاد ثابت ہوئی۔ چنانچہ، ”ایمان ہی سے موسیٰؔ نے بڑے ہو کر فرؔعون کی بیٹی کا بیٹا کہلانے سے انکار کِیا۔ اسلئےکہ اُس نے گناہ کا چند روزہ لطف اُٹھانے کی نسبت خدا کی اُمت کے ساتھ بدسلوکی برداشت کرنا زیادہ پسند کِیا۔“—اعمال ۷:۲۲؛ عبرانیوں ۱۱:۲۴، ۲۵۔
۱۸. شاہی خوراک اور مے کن طریقوں سے نوجوان عبرانیوں کو ناپاک کر سکتی تھی؟
۱۸ بابلی بادشاہ کی فراہمکردہ خوراک اور مے اِن نوجوانوں کو کیسے ناپاک کر سکتی تھی؟ اوّل، شاہی خوراک میں موسوی شریعت کے مطابق ممنوع کھانے شامل ہو سکتے تھے۔ مثال کے طور پر، بابلی ناپاک جانوروں کا گوشت کھاتے تھے جو شریعت کے تحت اسرائیلیوں کو منع تھا۔ (احبار ۱۱:۱-۳۱؛ ۲۰:۲۴-۲۶؛ استثنا ۱۴:۳-۲۰) دوم، بابلی جانوروں کا گوشت کھانے سے پہلے اُن کو ذبح کرکے اُن کا خون نہیں بہاتے تھے۔ خون بہائے بغیر کسی جانور کا گوشت کھانا دراصل خون کے سلسلے میں یہوواہ کی شرع کی صریحاً خلافورزی تھی۔ (پیدایش ۹:۱، ۳، ۴؛ احبار ۱۷:۱۰-۱۲؛ استثنا ۱۲:۲۳-۲۵) سوم، جھوٹے معبودوں کے پرستار اجتماعی کھانے سے پہلے اپنے کھانے کو رسمی طور پر بتوں کے سامنے گزرانتے تھے جبکہ یہوواہ کے خادم ایسے کاموں میں شریک نہیں ہو سکتے تھے۔ (مقابلہ کریں ۱-کرنتھیوں ۱۰:۲۰-۲۲۔) آخری وجہ یہ ہے کہ خواہ کوئی جوان ہو یا بوڑھا روزانہ مُرغن خوراک اور مے کا استعمال کسی بھی عمر کے لوگوں کے لئے مفید نہیں ہوتا۔
۱۹. عبرانی نوجوان کس پُرفریب توجیہ کا سہارا لے سکتے تھے لیکن کس چیز نے صحیح فیصلہ کرنے میں اُنکی مدد کی؟
۱۹ کسی بات کا علم رکھنے لیکن دباؤ یا آزمائش کے تحت دلیری کے ساتھ اُس کے مطابق عمل کرنے میں بڑا فرق ہے۔ دانیایل اور اُس کے تینوں دوست یہ سوچ سکتے تھے کہ ہمارے والدین اور دوست تو بہت دُور ہیں اس لئے اُنہیں کیا معلوم کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ وہ یہ پُرفریب توجیہ بھی پیش کر سکتے تھے کہ یہ تو بادشاہ کا حکم ہے لہٰذا اسے ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ مزیدبرآں، دیگر نوجوانوں نے تو اُن تمام انتظامات کو خوشی سے قبول کر لیا ہے اور اسے مسئلے کی بجائے ایک شرف خیال کِیا ہے۔ لیکن ایسی غلط سوچ بڑی آسانی سے پوشیدہ گناہ کے خطرے میں ڈال سکتی ہے جو بہت سے نوجوانوں کے لئے ایک پھندا ہے۔ عبرانی نوجوان اِس بات سے بخوبی واقف تھے کہ ”[یہوواہ] کی آنکھیں ہر جگہ ہیں اور نیکوں اور بدوں کی نگران ہیں“ اور ”خدا ہر ایک فعل کو ہر ایک پوشیدہ چیز کے ساتھ خواہ بھلی ہو خواہ بُری عدالت میں لائے گا۔“ (امثال ۱۵:۳؛ واعظ ۱۲:۱۴) آئیے ہم سب اِن وفادار نوجوانوں کی روش سے سبق سیکھیں۔
دلیری اور مستقلمزاجی کا اَجر
۲۰، ۲۱. دانیایل نے کونسا قدم اُٹھایا اور اسکا کیا نتیجہ نکلا؟
۲۰ دانیایل نے دل میں اِن خراب اثرات کی مزاحمت کرنے کا تہیہ کر لینے کے بعد اپنے فیصلے پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ ’اُس نے خواجہ سراؤں کے سردار سے بار بار درخواست کی کہ اُسے ناپاک ہونے سے بچایا جائے۔‘ (دانیایل ۱:۸ب) واقعی یہ اظہار بھی قابلِتوجہ ہے کہ اُس نے ’بار بار درخواست کی۔‘ اگر ہم کامیابی کے ساتھ آزمائشوں کا مقابلہ کرنے یا بعض کمزوریوں پر قابو پانے کے آرزومند ہیں تو اس کے لئے اکثر مستقلمزاجی سے کوشش کرنی پڑتی ہے۔—گلتیوں ۶:۹۔
۲۱ دانیایل کے معاملے میں مستقلمزاجی بااَجر ثابت ہوئی۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ ”خدا نے دانیؔایل کو خواجہ سراؤں کے سردار کی نظر میں مقبولومحبوب ٹھہرایا۔“ (دانیایل ۱:۹) دانیایل اور اُسکے ساتھیوں کی خوبصورتی اور ذہانت کی وجہ سے اُن کی مشکل آسان نہیں ہوئی تھی۔ اِس کی بجائے یہ یہوواہ کی برکت کا نتیجہ تھا۔ بِلاشُبہ، دانیایل کو یہ عبرانی مثل یاد تھی: ”سارے دل سے [یہوواہ] پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔ اپنی سب راہوں میں اُسکو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کریگا۔“ (امثال ۳:۵، ۶) اِس نصیحت پر عمل کرنا واقعی بااَجر ثابت ہوا تھا۔
۲۲. خواجہ سراؤں کے سردار نے کیا واجب اعتراض کِیا؟
۲۲ شروع میں تو خواجہ سراؤں کے سردار نے اعتراض کِیا: ”مَیں اپنے خداوند بادشاہ سے جس نے تمہارا کھانا پینا مقرر کِیا ہے ڈرتا ہوں۔ تمہارے چہرے اُسکی نظر میں تمہارے ہمعمروں کے چہروں سے کیوں زبوُن ہوں اور یوں تم میرے سر کو بادشاہ کے حضور خطرہ میں ڈالو؟“ (دانیایل ۱:۱۰) یہ اعتراضات اور اندیشے واجب تھے۔ بادشاہ نبوکدنضر انکار سننے کا عادی نہیں تھا اسلئے خواجہ سراؤں کا سردار سمجھتا تھا کہ بادشاہ کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں اُسکا ”سر“ قلم کر دیا جائیگا۔ اب دانیایل کیا کریگا؟
۲۳. دانیایل نے اپنے طرزِعمل سے بصیرت اور حکمت کا مظاہرہ کیسے کِیا؟
۲۳ ایسی صورت میں بصیرت اور حکمت کام آئی۔ نوجوان دانیایل کو غالباً یہ مثل یاد تھی: ”نرم جواب قہر کو دُور کر دیتا ہے پر کرخت باتیں غضبانگیز ہیں۔“ (امثال ۱۵:۱) دانیایل نے ہٹدھرمی سے اپنی درخواست کی منظوری پر اصرار کرنے اور دوسروں کے ہاتھوں شہید ہو جانے کی بجائے معاملے کو ٹھنڈا پڑنے دیا۔ اِس کے بعد اُس نے مناسب وقت دیکھ کر ”داروغہ“ سے بات کی جو غالباً بادشاہ کے حضور براہِراست جوابدہ نہ ہونے کے باعث کچھ نرمی دکھانے کیلئے رضامند تھا۔—دانیایل ۱:۱۱۔
دسروزہ آزمائش کی تجویز
۲۴. دانیایل نے کس آزمائش کی تجویز پیش کی؟
۲۴ دانیایل نے داروغہ کو ایک آزمائش کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا: ”مَیں تیری منت کرتا ہوں کہ تُو دس روز تک اپنے خادموں کو آزما کر دیکھ اور کھانے کو ساگپات اور پینے کو پانی ہم کو دِلوا۔ تب ہمارے چہرے اور اُن جوانوں کے چہرے جو شاہی کھانا کھاتے ہیں تیرے حضور دیکھے جائیں پھر اپنے خادموں سے جو تُو مناسب سمجھے سو کر۔“—دانیایل ۱:۱۲، ۱۳۔
۲۵. دانیایل اور اُس کے تینوں ساتھیوں کو دئے گئے ”ساگپات“ میں کیا کچھ شامل تھا؟
۲۵ دس دن تک ’ساگپات اور پانی‘ پر گزارہ کرنے سے کیا وہ دوسروں کی نسبت ”زبُون“ دکھائی دینگے؟ جس عبرانی لفظ کا ترجمہ ”ساگپات“ کِیا گیا ہے اُسکا بنیادی مطلب ”بیج“ ہے۔ بعض بائبل ترجمے اِسے ”دال“ کے طور پر پیش کرتے ہیں جس سے مُراد ”مختلف پھلیدار پودوں کے خوردنی بیج (جیسےکہ مٹر، لوبیا یا مسور وغیرہ) ہیں۔“ بعض علما کا خیال ہے کہ سیاقوسباق سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوراک میں صرف خوردنی بیج ہی شامل نہیں تھے۔ ایک کتاب بیان کرتی ہے: ”دانیایل اور اُسکے ساتھیوں نے دراصل شاہانہ مُرغن خوراک کی بجائے عام آدمیوں کی سادہ خوراک کی درخواست کی تھی۔“ پس، ساگپات میں لوبیا، کھیرے، لہسن، گندنے، دالیں، خربوزے اور پیاز سے تیارشُدہ غذائیتبخش کھانوں کیساتھ مختلف طرح کے اناج سے بنی ہوئی روٹی بھی شامل تھی۔ یقیناً اِسے کوئی بھی ناقص غذا خیال نہیں کریگا۔ بظاہر داروغہ بھی یہ بات سمجھ گیا تھا۔ ”چنانچہ اُس نے اُنکی یہ بات قبول کی اور دس روز تک اُن کو آزمایا۔“ (دانیایل ۱:۱۴) نتیجہ کیا نکلا؟
۲۶. دس دن کی آزمائش کا نتیجہ کیا نکلا اور اسکی اصل وجہ کیا تھی؟
۲۶ ”دس روز کے بعد اُنکے چہروں پر اُن سب جوانوں کے چہروں کی نسبت جو شاہی کھانا کھاتے تھے زیادہ رونق اور تازگی نظر آئی۔“ (دانیایل ۱:۱۵) تاہم، یہ اِس بات کا ثبوت نہیں کہ سبزیوں اور دالوں پر مشتمل خوراک گوشت والی مُرغن خوراک سے اعلیٰ ہوتی ہے۔ دس دن کی مدت کسی بھی خوراک سے واضح نتائج حاصل کرنے کے لئے بہت کم ہے لیکن یہوواہ کے نزدیک اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے یہ کم نہیں ہے۔ اُس کا کلام بیان کرتا ہے: ”[یہوواہ] ہی کی برکت دولت بخشتی ہے اور وہ اُس کے ساتھ دُکھ نہیں ملاتا۔“ (امثال ۱۰:۲۲) ان چار عبرانی نوجوانوں نے یہوواہ پر ایمان اور توکل ظاہر کِیا اور یہوواہ نے بھی اُنہیں مایوس نہیں ہونے دیا تھا۔ صدیوں بعد، یسوع مسیح بھی ۴۰ دن تک خوراک کے بغیر زندہ رہا تھا۔ اِس سلسلے میں اُس نے استثنا ۸:۳ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ”انسان صرف روٹی ہی سے جیتا نہیں رہتا بلکہ ہر بات سے جو [یہوواہ] کے مُنہ سے نکلتی ہے وہ جیتا رہتا ہے۔“ دانیایل اور اس کے دوستوں کا تجربہ اِس کی بہترین مثال ہے۔
شاہی خوراک اور مے کی بجائے بصیرت اور حکمت
۲۷، ۲۸. دانیایل اور اُس کے تینوں ساتھیوں کا خوراک کے سلسلے میں انتخاب آئندہ بڑی آزمائشوں کے لئے تیاری کیسے تھا؟
۲۷ دس دن کی آزمائش کے نتائج بڑے اثرآفرین تھے۔ ”تب داروغہ نے اُن کی خوراک اور مے کو جو اُنکے لئے مقرر تھی موقوف کِیا اور اُنکو ساگپات کھانے کو دیا۔“ (دانیایل ۱:۱۶) دانیایل اور اُس کے ساتھیوں کی بابت اس تربیتی پروگرام میں شامل دیگر نوجوانوں کی سوچ کا انداز لگانا مشکل نہیں ہے۔ اُنکی نظر میں ہر روز شاہی خوراک کی بجائے ساگپات کھانا احمقانہ بات تھی۔ تاہم، بڑی آزمائشیں اور امتحان تو ابھی آنے والے تھے جن میں نوجوان عبرانیوں کو اپنی ساری ہوشیاری اور متانت کو بروئےکار لانا ہوگا۔ سب سے بڑھکر، یہوواہ پر ایمان اور توکل کی بدولت ہی وہ ایمان کی آزمائشوں میں کامیاب ہو سکیں گے۔—مقابلہ کریں یشوع ۱:۷۔
۲۸ اِس سے اگلے بیان میں اِس بات کا ثبوت مِل جاتا ہے کہ ان نوجوانوں کو یہوواہ کی حمایت حاصل تھی: ”تب خدا نے اُن چاروں جوانوں کو معرفت اور ہر طرح کی حکمت اور علم میں مہارت بخشی اور دانیؔایل ہر طرح کی رویا اور خواب میں صاحبِفہم تھا۔“ (دانیایل ۱:۱۷) اُنہیں آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے جسمانی قوت اور اچھی صحت سے بھی زیادہ اہم چیزوں کی ضرورت تھی۔ ”حکمت تیرے دل میں داخل ہوگی اور علم تیری جان کو مرغوب ہوگا۔ تمیز تیری نگہبان ہوگی۔ فہم تیری حفاظت کریگا تاکہ تجھے شریر کی راہ سے اور کجگو سے بچائیں۔“ (امثال ۲:۱۰-۱۲) یہوواہ نے اُن چاروں وفادار نوجوانوں کو آنے والے حالات کیلئے پوری طرح لیس کرنے کی خاطر ان صفات سے نوازا تھا۔
۲۹. دانیایل ’ہر طرح کی رویا اور خواب کو سمجھنے‘ کے لائق کیوں تھا؟
۲۹ یہ بیان کِیا گیا ہے کہ ”دانیؔایل ہر طرح کی رویا اور خواب میں صاحبِفہم تھا۔“ اِسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ غیببین بن گیا تھا۔ دلچسپی کی بات ہے کہ اگرچہ دانیایل کا شمار بڑے عبرانی انبیا میں ہوتا ہے توبھی اُسے کبھی اسطرح سے اعلان کرنے کا الہام نہیں ہوا تھا کہ ”[حاکمِاعلیٰ یہوواہ] یوں فرماتا ہے“ یا ”ربالافواج یوں فرماتا ہے۔“ (یسعیاہ ۲۸:۱۶؛ یرمیاہ ۶:۹) تاہم، دانیایل خدا کی پاک روح کی زیرِہدایت خدا کے مقصد کو آشکارا کرنے والی رویتوں اور خوابوں کو سمجھنے اور اُنکی تعبیر کرنے کے لائق تھا۔
بالآخر فیصلہکُن امتحان
۳۰، ۳۱. دانیایل اور اُسکے ساتھیوں کی روش کیسے بااَجر ثابت ہوئی؟
۳۰ بابلی طورطریقوں کی تین سالہ تربیتی مدت اپنے اختتام کو پہنچی۔ اِسکے بعد بادشاہ کے سامنے حاضری کے فیصلہکُن امتحان کا وقت آ گیا۔ ”جب وہ دن گزر گئے جنکے بعد بادشاہ کے فرمان کے مطابق اُن کو حاضر ہونا تھا تو خواجہ سراؤں کا سردار اُن کو نبوکدؔنضر کے حضور لے گیا۔“ (دانیایل ۱:۱۸) اب چاروں نوجوانوں کیلئے اپنی بابت تفصیل بیان کرنے کا وقت تھا۔ کیا بابلی طورطریقے اپنانے کی بجائے یہوواہ کی شریعت کی پابندی کرنا اُن کیلئے مفید ثابت ہوگا؟
۳۱ ”بادشاہ نے اُن سے گفتگو کی اور اُن میں سے دانیؔایل اور حننیاؔہ اور میساؔایل اور عزؔریاہ کی مانند کوئی نہ تھا۔ اسلئے وہ بادشاہ کے حضور کھڑے رہنے لگے۔“ (دانیایل ۱:۱۹) یہ گزشتہ تین سالوں کے دوران اُنکے راست طرزِعمل کی کتنی بڑی شہادت تھی! خوراک کے سلسلے میں اپنے ایمان اور ضمیر کی پابندی کرنا کوئی حماقت نہیں تھی۔ بظاہر معمولی باتوں میں وفادار رہنے سے دانیایل اور اُس کے ساتھیوں کو بڑی برکات حاصل ہوئیں۔ تربیتی پروگرام میں شامل تمام نوجوانوں کی خواہش تھی کہ اُنہیں ”بادشاہ کے حضور کھڑے رہنے“ کا شرف حاصل ہو۔ بائبل یہ نہیں بتاتی کہ آیا اِس کام کیلئے صرف ان چار عبرانی نوجوانوں کو ہی منتخب کِیا گیا تھا۔ بہرکیف، اُنکی وفادارانہ روش اُن کیلئے واقعی ’بااَجر‘ ثابت ہوئی تھی۔—زبور ۱۹:۱۱۔
۳۲. دانیایل، حننیاہ، میساایل اور عزریاہ کو شاہی دربار کا حصہ بننے سے بھی بڑا اعزاز کیسے حاصل ہوا تھا؟
۳۲ صحائف بیان کرتے ہیں، ”تُو کسی کو اُسکے کام میں محنتی دیکھتا ہے؟ وہ بادشاہوں کے حضور کھڑا ہوگا۔ وہ کمقدر لوگوں کی خدمت نہ کریگا۔“ (امثال ۲۲:۲۹) پس، نبوکدنضر نے دانیایل، حننیاہ اور میساایل اور عزریاہ کو اپنے حضور کھڑے رہنے یعنی شاہی دربار کا حصہ بننے کیلئے منتخب کر لیا تھا۔ ان تمام حالات کو سازگار بنانے میں، ہم یہوواہ کا ہاتھ دیکھ سکتے ہیں تاکہ اِن نوجوانوں—بالخصوص دانیایل—کے ذریعے الہٰی مقصد کے اہم پہلوؤں کو آشکارا کِیا جائے۔ اگرچہ نبوکدنضر کے شاہی دربار کا حصہ بننے کیلئے منتخب ہونا ایک اعزاز تھا توبھی کُل کائنات کے حاکم، یہوواہ کیلئے ایسے شاندار طریقے سے کام کرنا اَور بھی بڑا اعزاز تھا۔
۳۳، ۳۴. (ا)بادشاہ نوجوان عبرانیوں سے اتنا متاثر کیوں ہوا تھا؟ (ب)ہم ان چار عبرانیوں کے تجربے سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟
۳۳ نبوکدنضر بہت جلد سمجھ گیا کہ یہوواہ نے ان چار عبرانی نوجوانوں کو جو حکمت اور بصیرت عطا کی ہے وہ اُسکے تمام مشیروں اور حکیموں کی حکمت سے کہیں افضل ہے۔ ”اور ہر طرح کی خردمندی اور دانشوری کے باب میں جو کچھ بادشاہ نے اُن سے پوچھا اُن کو تمام فالگیروں اور نجومیوں سے جو اُسکے تمام ملک میں تھے دس درجہ بہتر پایا۔“ (دانیایل ۱:۲۰) تاہم، صورتحال اِسکے برعکس ہو بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ ”فالگیروں“ اور ”نجومیوں“ کا بھروسا دُنیاوی حکمت اور بابلی توہمپرستی پر تھا جبکہ دانیایل اور اُسکے رفیقوں کا بھروسا آسمانی حکمت پر تھا۔ اسلئے ان میں کوئی موازنہ یا مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا تھا!
۳۴ مرورِزمانہ کیساتھ بھی کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔ پہلی صدی س.ع. میں جب یونانی فیلسوفی اور رومی قانون رائج تھا تو پولس رسول کو یہ لکھنے کا الہام ہوا: ”دُنیا کی حکمت خدا کے نزدیک بیوقوفی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ وہ حکیموں کو اُن ہی کی چالاکی میں پھنسا دیتا ہے۔ اور یہ بھی کہ [یہوواہ] حکیموں کے خیالوں کو جانتا ہے کہ باطل ہیں۔ پس آدمیوں پر کوئی فخر نہ کرے۔“ (۱-کرنتھیوں ۳:۱۹-۲۱) آجکل، ہمیں یہوواہ کی تعلیم کی پابندی کرنے اور دُنیا کی شانوشوکت اور چمکدمک کے باعث گمراہ ہونے سے بچنے کی ضرورت ہے۔—۱-یوحنا ۲:۱۵-۱۷۔
آخر تک وفادار
۳۵. ہمیں دانیایل کے تینوں ساتھیوں کی بابت کیا معلومات فراہم کی گئی ہیں؟
۳۵ دانیایل ۳ باب میں ہمیں دُورا کے میدان میں نبوکدنضر کی نصبکردہ سونے کی مورت اور آگ کی بھٹی کی آزمائش کے سلسلے میں حننیاہ، میساایل اور عزریاہ کے مضبوط ایمان کی ڈرامائی سرگزشت ملتی ہے۔ یہ خداترس عبرانی بِلاشُبہ جان دینے تک یہوواہ کے وفادار رہے۔ ہم یہ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کیونکہ پولس رسول نے یہ بات لکھتے وقت یقیناً اُنہی کا حوالہ دیا تھا کہ ”اُنہوں نے ایمان ہی کے سبب سے . . . آگ کی تیزی کو بجھایا۔“ (عبرانیوں ۱۱:۳۳، ۳۴) وہ یہوواہ کے تمام خادموں کیلئے اعلیٰ نمونہ ہیں۔
۳۶. دانیایل نے کونسی ممتاز اور بااَجر خدمت انجام دی تھی؟
۳۶ جہانتک دانیایل کا تعلق ہے تو پہلے باب کی آخری آیت بیان کرتی ہے: ”دانیؔایل خوؔرس بادشاہ کے پہلے سال تک زندہ تھا۔“ تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ خورس نے ۵۳۹ ق.س.ع. میں ایک ہی رات میں بابل کو برباد کر دیا تھا۔ بدیہی طور پر اپنی شہرت اور بلند مرتبے کی وجہ سے دانیایل خورس کے دربار میں بھی خدمت کرتا رہا۔ درحقیقت، دانیایل ۱۰:۱ ہمیں بتاتی ہے کہ ”شاہِفاؔرس خوؔرس کے تیسرے سال میں“ یہوواہ نے دانیایل پر ایک نہایت اہم بات آشکارا کی۔ اگر اُسے ۶۱۷ ق.س.ع. میں نوعمری کے عالم میں بابل لایا گیا تھا تو یہ آخری رویا حاصل کرتے وقت وہ تقریباً ۱۰۰ برس کا ہوگا۔ اُس نے وفاداری کیساتھ یہوواہ کی طویل عرصے تک خدمت کرنے کا خوب اَجر پایا!
۳۷. دانیایل کے پہلے باب پر غوروخوض کرنے سے ہم کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟
۳۷ دانیایل کی کتاب کا پہلا باب کامیابی کیساتھ ایمان کی آزمائشوں کا مقابلہ کرنے والے چار وفادار جوانوں کی کہانی سے زیادہ کچھ بیان کرتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہوواہ اپنے مقصد کو پورا کرنے کیلئے اپنی مرضی کے مطابق کسی کو بھی استعمال کر سکتا ہے۔ اِس سرگزشت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر یہوواہ مصیبت کی اجازت دیتا ہے تو مصیبت مفید مقصد انجام دے سکتی ہے۔ نیز یہ ہمیں بتاتی ہے کہ معمولی باتوں میں بھی وفاداری بڑی بااَجر ثابت ہوتی ہے۔
آپ کیا سمجھے ہیں؟
•دانیایل اور اُس کے تین جوان دوستوں کے پسمنظر کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟
•بابل میں چار عبرانی نوجوانوں کی عمدہ پرورش کی آزمائش کیسے ہوئی تھی؟
•یہوواہ نے چاروں عبرانیوں کو وفاداری کا کیا اَجر بخشا؟
•زمانۂجدید میں یہوواہ کے خادم دانیایل اور اُس کے تینوں ساتھیوں سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟
[صفحہ ۳۰ پر صرف تصویر ہے]