یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • دا باب 2 ص.‏ 12-‏29
  • دانی‌ایل—‏ایک زیرِتنقید کتاب

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دانی‌ایل—‏ایک زیرِتنقید کتاب
  • دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • گمنام بادشاہ کا معاملہ
  • دارا مادی کون تھا؟‏
  • یہویقیم کا دورِحکومت
  • مؤثر تفصیلات
  • کیا خارجی عناصر دانی‌ایل کی کتاب کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں؟‏
  • دانی‌ایل کی حمایت میں خارجی شہادت
  • سب سے بڑی شہادت
  • دانی‌ایل کی کتاب اور آپ
    دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
  • دانی‌ایل کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • یہوواہ کا دانی‌ایل سے شاندار اَجر کا وعدہ
    دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
  • ہمارے زمانے کیلئے خدا کے نبوّتی کلام پر دھیان دیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
مزید
دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
دا باب 2 ص.‏ 12-‏29

دوسرا باب

دانی‌ایل—‏ایک زیرِتنقید کتاب

۱، ۲.‏ دانی‌ایل کی کتاب کس لحاظ سے تنقید کا نشانہ رہی ہے لیکن آپکے خیال میں اِسکے دفاع میں پیش‌کردہ ثبوت پر غور کرنا کیوں ضروری ہے؟‏

تصور کریں کہ آپ ایک کمرۂ‌عدالت میں کسی اہم مقدمے کی کارروائی سن رہے ہیں۔ ایک آدمی پر جعلسازی کا الزام ہے۔ سرکاری وکیل اُس آدمی کو قصوروار ثابت کرنے پر مُصر ہے۔ حالانکہ، ملزم عرصۂ‌دراز سے اچھی شہرت کا مالک ہے۔ کیا آپ وکیل‌صفائی کے دلائل سننا نہیں چاہینگے؟‏

۲ بائبل میں دانی‌ایل کی کتاب کے سلسلے میں آپ خود کو ایسی ہی صورتحال میں پاتے ہیں۔ اِسکا مصنف اپنی راستی کے لئے مشہور تھا۔ اُس کے نام سے منسوب کتاب کو ہزارہا سال سے پذیرائی حاصل ہے۔ یہ کتاب خود کو ایک مستند تاریخ کے طور پر پیش کرتی ہے جسے ساتویں اور چھٹی صدی ق.‏س.‏ع.‏ کے عبرانی نبی، دانی‌ایل نے قلمبند کِیا تھا۔ بائبل کی درست وقائع‌نگاری ظاہر کرتی ہے کہ اُسکی کتاب تقریباً ۶۱۸ سے ۵۳۶ ق.‏س.‏ع.‏ کے دَور کا احاطہ کرتی ہے اور اسکی تحریر ۵۳۶ ق.‏س.‏ع.‏ تک مکمل ہو گئی تھی۔ لیکن یہ کتاب تنقید کا نشانہ رہی ہے۔ بعض کتابیں اور انسائیکلوپیڈیا اِسے صریحاً جھوٹی کتاب قرار دیتے ہیں۔‏

۳.‏ دانی‌ایل کی کتاب کے مستند ہونے کی بابت دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کیا کہتا ہے؟‏

۳ مثال کے طور پر، دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا تسلیم کرتا ہے کہ ایک وقت تھا جب دانی‌ایل کی کتاب کو ”‏سچی نبوّت پر مبنی حقیقی تاریخ خیال کِیا جاتا تھا۔“‏ تاہم، بریٹینیکا دعویٰ کرتا ہے کہ درحقیقت دانی‌ایل کی کتاب ”‏اُس قومی بحران کے وقت لکھی گئی تھی جب یہودی [‏سوریہ کے بادشاہ]‏ انطاکس چہارم اپی‌فینس کے ہاتھوں سخت اذیت اُٹھا رہے تھے۔“‏ اس انسائیکلوپیڈیا کے مطابق، یہ کتاب ۱۶۷ اور ۱۶۴ ق.‏س.‏ع.‏ کے درمیان لکھی گئی تھی۔ اسی انسائیکلوپیڈیا کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ دانی‌ایل کی کتاب کے مصنف نے مستقبل کی بابت پیشینگوئی کرنے کی بجائے ”‏ماضی کے واقعات کو مستقبل کی پیشینگوئیوں کے طور پر پیش کِیا ہے۔“‏

۴.‏ دانی‌ایل کی کتاب پر تنقید کا آغاز کب ہوا اور حالیہ صدیوں میں کس چیز نے اِسی طرح کی تنقید کو ہوا دی ہے؟‏

۴ ایسے نظریات کا ماخذ کیا ہے؟ دانی‌ایل کی کتاب پر تنقید کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سب سے پہلے تیسری صدی س.‏ع.‏ کے مفکر پارفیری نے اس کتاب کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ رومی حکومت میں بہت سے دیگر لوگوں کی طرح وہ بھی مسیحیت کے اثرورسوخ سے خائف تھا۔ لہٰذا، اُس نے اِس ”‏نئے“‏ مذہب کی بیخ‌کنی کے لئے ۱۵ کتابیں لکھیں۔ اِن میں سے اُس کی ۱۲ ویں کتاب نے دانی‌ایل کی کتاب کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارفیری نے اِس کتاب کو جھوٹا قرار دیا جسے اُس کے خیال میں کسی یہودی نے دوسری صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں لکھا تھا۔ اِسی طرح کے اعتراضات ۱۸ ویں اور ۱۹ ویں صدی میں بھی اُٹھائے گئے۔ ناقدین اور عقلیت‌پسندوں کے خیال میں، پیشینگوئی—‏آئندہ واقعات کی بابت قبل‌ازوقت بتانا—‏ناممکن ہے۔ اسی لئے دانی‌ایل تنقید کا مرکزی نشانہ بن گیا۔ درحقیقت، یہ دانی‌ایل اور اُسکی کتاب پر مقدمہ چلانے کے مترادف تھا۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اُن کے پاس یہ ثابت کرنے کیلئے بیشمار ثبوت ہیں کہ اِس کتاب کو یہودیوں کی بابلی اسیری کے دوران دانی‌ایل کی بجائے کئی صدیوں بعد کسی اَور شخص نے لکھا تھا۔‏a ایسے اعتراضات اتنے زیادہ ہو گئے کہ ایک مصنف نے دانی‌ایل کی کتاب کے دفاع میں ایک کتاب لکھی جسے دانی‌ایل ناقد‏,‏ین کی ماند میں (‏انگریزی)‏ کا نام دیا گیا۔‏

۵.‏ دانی‌ایل کی کتاب کے مستند ہونے کا مسئلہ اتنا اہم کیوں ہے؟‏

۵ کیا ناقدین کے بے‌باک دعوؤں کا کوئی ٹھوس ثبوت ہے؟ یا کیا ثبوت اس کتاب کی حمایت کرتے ہیں؟ اس میں بہت سے اہم معاملات اُلجھے ہوئے ہیں۔ اِس میں نہ صرف اس قدیم کتاب کی صحت‌وصداقت بلکہ ہمارا مستقبل بھی اُلجھا ہوا ہے۔ اگر دانی‌ایل کی کتاب جھوٹی ہے تو نسلِ‌انسانی کے مستقبل کی بابت اِسکے وعدے محض لغو باتیں ہیں۔ تاہم، اگر یہ سچی پیشینگوئیوں پر مبنی ہے تو آپ یقیناً یہ جاننا چاہینگے کہ اِنکا ہمارے زمانے کیلئے کیا مطلب ہے۔ اِس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے آئیے دانی‌ایل کی کتاب پر اُٹھائے گئے بعض اعتراضات کا جائزہ لیں۔‏

۶.‏ دانی‌ایل کی کتاب کے تاریخی واقعات پر بعض‌اوقات کیا الزام لگایا جاتا ہے؟‏

۶ مثال کے طور پر، دی انسائیکلوپیڈیا امریکانا کے اعتراض پر غور کریں:‏ دانی‌ایل کی کتاب میں ”‏زمانۂ‌قدیم کے بہتیرے تاریخی واقعات [‏جیسے‌کہ بابلی اسیری]‏ کو توڑمروڑ کر پیش کِیا گیا ہے۔“‏ کیا یہ سچ ہے؟ آئیے تین مبیّنہ غلطیوں پر باری باری غور کریں۔‏

گمنام بادشاہ کا معاملہ

۷.‏ (‏ا)‏دانی‌ایل کی کتاب میں بیلشضر سے متعلق حوالہ‌جات طویل عرصہ تک بائبل ناقدین کی تنقید کا نشانہ کیوں بنے رہے؟ (‏ب)‏بیلشضر کو محض ایک فرضی کردار قرار دینے والے نقطۂ‌نظر کیساتھ کیا ہوا؟‏

۷ دانی‌ایل نے لکھا کہ سقوطِ‌بابل کے وقت نبوکدنضر کا ”‏بیٹا،“‏ بیلشضر بابل کا حکمران تھا۔ (‏دانی‌ایل ۵:‏۱،‏۱۱،‏ ۱۸،‏ ۲۲،‏ ۳۰‏)‏ ناقدین طویل عرصہ تک اِس بات پر تنقید کرتے رہے ہیں کہ بیلشضر کا نام بائبل کے علاوہ تاریخ میں کہیں نہیں ملتا۔ اِسکے برعکس، قدیم مؤرخین نبوندیس کو نبوکدنضر کے جانشین، بابل کے آخری بادشاہ کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ، ۱۸۵۰ میں، فرڈینانڈ ہٹ‌زک نے بیان کِیا کہ بیلشضر بدیہی طور پر مصنف کی ذہنی اختراع ہے۔ لیکن کیا ہٹ‌زک کی رائے آپکو کچھ بے‌تکی نہیں لگتی؟ درحقیقت جب اُس دَور میں مسلمہ تاریخی ریکارڈ محدود تھے تو کیا اِس بادشاہ کا اُس دَور میں ذکر نہ ملنا واقعی یہ ثابت کرتا ہے کہ اُسکا کوئی وجود ہی نہیں تھا؟ بہرصورت، ۱۸۵۴ میں قدیم بابلی شہر، اُور یعنی موجودہ جنوبی عراق کے کھنڈرات کی کھدائی سے مٹی کے کچھ چھوٹے چھوٹے بیلن دریافت ہوئے تھے۔ اِن میخی مخطوطات میں بادشاہ نبوندیس کی ”‏اپنے سب سے بڑے بیٹے، بیل-‏سر-‏اُوسر“‏ کیلئے ایک دُعا بھی شامل تھی۔ ناقدین کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ یہ دانی‌ایل کی کتاب میں متذکرہ بیلشضر ہی تھا۔‏

۸.‏ دانی‌ایل کی یہ بات کیسے درست ثابت ہوئی کہ بیلشضر بادشاہ تھا؟‏

۸ تاہم، ناقدین اِس بات سے مطمئن نہ تھے۔ ایک نقاد ایچ.‏ایف.‏ تالبوت نے لکھا، ”‏یہ تو کوئی ثبوت نہیں ہے۔“‏ اُس نے اعتراض اُٹھایا کہ اس کندہ عبارت میں متذکرہ بیٹا کوئی چھوٹا بچہ بھی تو ہو سکتا ہے جبکہ دانی‌ایل اُسے بادشاہ ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، تالبوت کے بیان کی اشاعت کے صرف ایک سال بعد، مزید میخی تختیاں دریافت ہوئیں جن میں بیلشضر کے کاتبوں اور نوکرچاکروں کا ذکر تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیلشضر کوئی بچہ نہیں تھا!‏ بالآخر، دیگر تختیوں کی دریافت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ نبوندیس کئی‌کئی سال بابل سے باہر رہتا تھا اور اپنی غیرموجودگی کے دوران اپنے بڑے بیٹے (‏بیلشضر)‏ کو بابل کی ‏”‏سلطنت ,‏کا ,‏ولی ,‏بنا ,‏جاتا ,‏تھا۔“‏ لہٰذا، ایسے وقت کے دوران درحقیقت بیلشضر ہی بادشاہ یعنی اپنے باپ کے ساتھی حکمران کے طور پر حکومت کرتا تھا۔‏b

۹.‏ (‏ا)‏دانی‌ایل نے بیلشضر کو کس مفہوم میں نبوکدنضر کا بیٹا کہا ہوگا؟ (‏ب)‏ناقدین کا یہ دعویٰ کیوں غلط ہے کہ دانی‌ایل تو نبوندیس کا ذکر تک نہیں کرتا؟‏

۹ بعض ناقدین اِس پر بھی مطمئن نہیں ہوتے اور اعتراض اُٹھاتے ہیں کہ بائبل بیلشضر کو نبوندیس کی بجائے نبوکدنضر کا بیٹا کہتی ہے۔ بعض اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ دانی‌ایل تو نبوندیس کا ذکر تک نہیں کرتا۔ تاہم، تحقیقات کے بعد دونوں اعتراضات بے‌بنیاد ثابت ہوتے ہیں۔ حالات‌وواقعات سے پتہ چلتا ہے کہ نبوندیس نے نبوکدنضر کی بیٹی سے شادی کی تھی۔ یوں بیلشضر، نبوکدنضر کا نواسا ہوا۔ عبرانی اور ارامی زبانوں میں ”‏دادا، نانا“‏ یا ”‏پوتے، نواسے“‏ کیلئے کوئی لفظ نہیں ہے اسلئے ”‏بیٹے“‏ سے مُراد ”‏پوتا، نواسا“‏ یا ”‏آل‌اولاد“‏ ہو سکتی ہے۔ (‏مقابلہ کریں متی ۱:‏۱‏۔)‏ علاوہ‌ازیں، بائبل سرگزشت سے بیلشضر کی نبوندیس کے بیٹے کے طور پر شناخت ہو جاتی ہے۔ بیلشضر نے منحوس نوشتۂ‌دیوار سے خوفزدہ اور مایوس ہو کر اعلان کِیا کہ اس نوشتے کے معنی بیان کرنے والا شخص مملکت میں تیسرے درجے کا حاکم ہوگا۔ (‏دانی‌ایل ۵:‏۷‏)‏ دوسرے درجے کی بجائے تیسرے درجے کا حاکم کیوں؟ یہ پیشکش اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ پہلے اور دوسرے درجے کے حاکم پہلے ہی سے موجود تھے۔ درحقیقت، نبوندیس پہلا اور اُسکا بیٹا بیلشضر دوسرے درجے کا حاکم تھا۔‏

۱۰.‏ دیگر قدیمی مؤرخین کی نسبت دانی‌ایل بابلی سلطنت کی بابت زیادہ مفصل معلومات کیوں فراہم کرتا ہے؟‏

۱۰ پس دانی‌ایل کا بیلشضر کا ذکر کرنا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ اُس نے تاریخ کو ”‏توڑمروڑ کر پیش“‏ کِیا ہے۔ اس کے برعکس، دانی‌ایل بابل کا مؤرخ نہ ہونے کے باوجود بھی ہمیں بابلی سلطنت کے متعلق ہیرودوتس، زینوفن اور بیروسس جیسے قدیم دُنیاوی مؤرخین کی نسبت زیادہ تفصیلی معلومات فراہم کرتا ہے۔ جن واقعات کا اِن مؤرخین نے ذکر نہیں کِیا اُنہیں دانی‌ایل قلمبند کرنے کے قابل کیوں تھا؟ اِسلئے کہ وہ بذاتِ‌خود بابل میں تھا۔ لہٰذا، اُس کی کتاب صدیوں بعد کے کسی جعلساز کی اختراع کی بجائے عینی شاہد کے تحریرکردہ واقعات پر مشتمل ہے۔‏

دارا مادی کون تھا؟‏

۱۱.‏ دانی‌ایل کے مطابق دارا مادی کون تھا مگر اُس کی بابت کیا اعتراض اُٹھایا گیا ہے؟‏

۱۱ دانی‌ایل بیان کرتا ہے کہ بابل کی شکست کے بعد، ”‏داؔرا مادی“‏ حکومت کرنے لگا۔ (‏دانی‌ایل ۵:‏۳۱‏)‏ ابھی تک دُنیاوی یا اَثریّاتی ذرائع کو دارا مادی کا نام نہیں مل سکا۔ لہٰذا، دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا بیان کرتا ہے کہ یہ دارا ایک ”‏فرضی کردار“‏ ہے۔‏

۱۲.‏ (‏ا)‏بائبل ناقدین کو قطعی طور پر دارا مادی کے وجود سے انکار کرنے کی بجائے زیادہ علم حاصل کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟ (‏ب)‏دارا مادی کی شناخت کے سلسلے میں کیا بات ممکن ہے اور کونسی شہادت اِس کی نشاندہی کرتی ہے؟‏

۱۲ اس سلسلے میں بعض علما کافی محتاط ثابت ہوئے ہیں۔ بہرحال، ناقدین نے تو بیلشضر کو بھی ”‏فرضی کردار“‏ قرار دیا تھا۔ بِلاشُبہ، دارا کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ میخی تختیاں پہلے ہی ثابت کر چکی ہیں کہ خورس فارسی نے فتح کے فوراً بعد لقب، ”‏بابل کا بادشاہ“‏ اختیار نہیں کِیا تھا۔ پس، ایک محقق رائے‌زنی کرتا ہے:‏ ”‏جس کسی نے بھی ’‏بابل کا بادشاہ‘‏ لقب اختیار کِیا وہ خورس نہیں بلکہ اُسکا ماتحت تھا۔“‏ اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا دارا ایک طاقتور مادی حاکم کا شاہی نام یا لقب تھا جو بابل کی کارپردازی پر مامور تھا؟ بعض کے خیال میں گبارو نامی شخص ہی دارا ہو سکتا تھا۔ خورس نے گبارو کو بابل کا منتظم مقرر کِیا اور دُنیاوی تاریخ اِس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اُسے بہت زیادہ اختیار حاصل تھا۔ ایک میخی تختی بیان کرتی ہے کہ اُس نے بابل پر ماتحت ناظم مقرر کئے تھے۔ دلچسپی کی بات ہے کہ دانی‌ایل بھی یہی بیان کرتا ہے کہ دارا نے بابلی سلطنت کے انتظام‌وانصرام کے لئے ۱۲۰ ناظم مقرر کئے تھے۔—‏دانی‌ایل ۶:‏۱‏۔‏

۱۳.‏ اِسکی کیا معقول وجہ ہے کہ دارا مادی کا ذکر دانی‌ایل کی کتاب میں تو ملتا ہے لیکن دُنیاوی تاریخ میں نہیں ملتا؟‏

۱۳ وقت آنے پر، اِس بادشاہ کی شناخت سے متعلق مزید ٹھوس ثبوت سامنے آ سکتے ہیں۔ بہرصورت، اِس سلسلے میں اَثریّات کی بظاہر خاموشی دارا کو ایک ”‏فرضی کردار“‏ قرار دینے اور سب سے بڑھکر دانی‌ایل کی کتاب کو بالکل مسترد کرنے کی کوئی وجہ فراہم نہیں کرتی۔ دانی‌ایل کی کتاب کو ایک عینی شاہد کے بیان کے طور پر قبول کرنا زیادہ معقول ہے جو موجودہ دُنیاوی ریکارڈ سے کہیں زیادہ جامع‌ومعتبر شہادت ہے۔‏

یہویقیم کا دورِحکومت

۱۴.‏ یہویقیم بادشاہ کے دورِحکومت کی مدت کے حوالے سے دانی‌ایل اور یرمیاہ میں تضاد کیوں نہیں ہے؟‏

۱۴ دانی‌ایل ۱:‏۱ بیان کرتی ہے:‏ ”‏شاہِ‌یہوؔداہ یہوؔیقیم کی سلطنت کے تیسرے سال میں شاہِ‌بابلؔ نبوکدؔنضر نے یرؔوشلیم پر چڑھائی کرکے اُسکا محاصرہ کِیا۔“‏ ناقدین نے اِس صحیفے پر اعتراض اُٹھایا ہے کیونکہ یہ یرمیاہ کے اس بیان کیساتھ اتفاق نہیں کرتا کہ یہویقیم کا چوتھا سال نبوکدنضر کا پہلا سال تھا۔ (‏یرمیاہ ۲۵:‏۱؛‏ ۴۶:‏۲‏)‏ کیا دانی‌ایل یرمیاہ کی تردید کر رہا تھا؟ زیادہ معلومات سے معاملہ جلد واضح ہو جاتا ہے۔ جب فرعون نکوہ نے یہویقیم کو ۶۲۸ ق.‏س.‏ع.‏ میں پہلی مرتبہ بادشاہ بنایا تو فرعون کے سامنے اُسکی حیثیت محض ایک کٹھ‌پتلی کی سی تھی۔ یہ نبوکدنضر کے ۶۲۴ ق.‏س.‏ع.‏ میں اپنے باپ کے تخت کا وارث بننے سے تقریباً تین سال پہلے کا واقعہ ہے۔ اِس کے تھوڑے ہی عرصہ بعد (‏۶۲۰ ق.‏س.‏ع.‏ میں)‏ نبوکدنضر نے یہوداہ پر حملہ کرکے یہویقیم کو بابل کا باج‌گزار بادشاہ بنا دیا۔ (‏۲-‏سلاطین ۲۳:‏۳۴؛‏ ۲۴:‏۱‏)‏ بابل میں رہنے والے کسی یہودی کیلئے یہویقیم کا ”‏تیسرا سال“‏ بابل کیلئے اُس بادشاہ کی باج‌گزاری کا تیسرا سال ہی تھا۔ دانی‌ایل نے اِسی نقطۂ‌نظر سے تحریر کِیا تھا۔ تاہم، یرمیاہ نے یروشلیم میں رہنے والے یہودیوں کے نقطۂ‌نظر سے تحریر کِیا تھا۔ پس اُس نے یہویقیم کی سلطنت کے آغاز کا ذکر اُس وقت سے کِیا جب فرعون نکوہ نے اُسے بادشاہ بنایا تھا۔‏

۱۵.‏ دانی‌ایل ۱:‏۱ میں بیان‌کردہ وقت پر اعتراض نامعقول کیوں ہے؟‏

۱۵ پس، حقیقت میں یہ مبیّنہ تضاد اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دانی‌ایل نے اپنی کتاب بابل میں یہودیوں کی اسیری کے دوران لکھی تھی۔ تاہم، دانی‌ایل کی کتاب کے خلاف اِس دلیل میں ایک اَور بھی خامی ہے۔ یاد رکھیں کہ دانی‌ایل کی کتاب کے مصنف کے پاس بِلاشُبہ یرمیاہ کی کتاب تھی اور اُس نے اِسکا حوالہ بھی دیا تھا۔ (‏دانی‌ایل ۹:‏۲‏)‏ اگر ناقدین کے دعوے کے مطابق دانی‌ایل کی کتاب کا مصنف ایک عیار جعلساز تھا تو کیا وہ اپنی کتاب کی پہلی ہی آیت میں یرمیاہ جیسی معتبر کتاب سے تضاد کرنے کی جسارت کر سکتا تھا؟ ہرگز نہیں!‏

مؤثر تفصیلات

۱۶، ۱۷.‏ اَثریّاتی شہادت اس بات کی تصدیق کیسے کرتی ہے (‏ا)‏نبوکدنضر نے ایک مورت نصب کرکے لوگوں کو اُسے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا؟ (‏ب)‏نبوکدنضر کو اپنے تعمیراتی کاموں پر بڑا ناز تھا؟‏

۱۶ آئیے اب منفی باتوں کی بجائے مثبت باتوں پر دھیان دیں۔ دانی‌ایل کی کتاب میں سے بعض ایسی تفصیلات پر غور کریں جو ظاہر کرتی ہیں کہ مصنف نے جو بھی واقعات قلمبند کئے وہ اُنکا عینی شاہد تھا۔‏

۱۷ قدیم بابل کے متعلق تمام تفصیلات سے دانی‌ایل کی واقفیت اُسکی کتاب کے مستند ہونے کی ایک پُرزور شہادت ہے۔ مثال کے طور پر، دانی‌ایل ۳:‏۱-‏۶ بیان کرتی ہیں کہ نبوکدنضر نے ایک بہت بڑی مورت نصب کی تاکہ سب لوگ اُسے سجدہ کریں۔ ماہرینِ‌اَثریّات کو ایسے اَور بھی ثبوت ملے ہیں کہ اِس شہنشاہ نے اپنی رعایا کو زیادہ سے زیادہ قوم‌پرستانہ اور مذہبی کاموں میں مشغول رکھنے کی کوشش کی تھی۔ دانی‌ایل بھی نبوکدنضر کے اپنی بڑی بڑی عمارتوں پر شیخی بگھارنے کے رُجحان کی بابت بیان کرتا ہے۔ (‏دانی‌ایل ۴:‏۳۰‏)‏ حال ہی میں زمانۂ‌جدید کے ماہرینِ‌اَثریّات نے بھی اِس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ درحقیقت نبوکدنضر ہی نے بابل میں بہت سے تعمیراتی کام کرائے تھے۔ جہانتک نبوکدنضر کے متکبرانہ رُجحان کا تعلق ہے تو اُس نے اینٹوں پر بھی اپنا نام کندہ کروا دیا تھا!‏ دانی‌ایل کی کتاب کے ناقدین اِس بات کی وضاحت نہیں کر سکتے کہ اُن کے مطابق مکابیوں کے زمانے (‏۶۳-‏۱۶۷ ق.‏س.‏ع.‏)‏ کا مبیّنہ جعلساز تقریباً چار سو سال بعد اور ماہرینِ‌اَثریّات کی دریافتوں سے بہت پہلے کیسے ان تعمیراتی کاموں سے واقف ہو سکتا تھا۔‏

۱۸.‏ بابلی اور فارسی دورِحکومت کے تحت سزا کے مختلف طریقوں کی بابت دانی‌ایل کا بیان صحت‌وصداقت کی عکاسی کیسے کرتا ہے؟‏

۱۸ دانی‌ایل کی کتاب بابلیوں اور مادی فارسیوں کے آئین میں بنیادی فرق کو بھی آشکارا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، بابلی قانون کے تحت دانی‌ایل کے تین ساتھیوں کو بادشاہ کی حکم‌عدولی کرنے کی پاداش میں آگ کی بھٹی میں پھینک دیا گیا تھا۔ کئی عشروں بعد، ضمیر کو آلودہ کرنے والے فارسی قانون کی تعمیل سے انکار کرنے کے باعث دانی‌ایل کو شیروں کی ماند میں ڈال دیا گیا تھا۔ (‏دانی‌ایل ۳:‏۶؛‏ ۶:‏۷-‏۹‏)‏ بعض نے آگ کی بھٹی کی سرگزشت کو افسانہ سمجھ کر مسترد کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ماہرینِ‌اَثریّات کو قدیم بابل سے ایک حقیقی تحریر ملی ہے جو اِس قسم کی سزا کا واضح طور پر ذکر کرتی ہے۔ تاہم، مادیوں اور فارسیوں کے لئے آگ ایک مُقدس چیز تھی۔ لہٰذا، وہ دوسرے طریقوں سے سزائیں دیتے تھے۔ پس، شیروں کی ماند میں ڈالنا کوئی حیران‌کُن بات نہیں ہے۔‏

۱۹.‏ دانی‌ایل کی کتاب بابلیوں اور مادی فارسیوں کے قانونی نظام کے مابین کس فرق کو واضح کرتی ہے؟‏

۱۹ ایک اَور فرق بھی سامنے آتا ہے۔ دانی‌ایل ظاہر کرتا ہے کہ نبوکدنضر اچانک قانون وضع کرنے کے علاوہ تبدیل بھی کر سکتا تھا۔ دارا ’‏مادیوں اور فارسیوں کے آئین،‘‏ حتیٰ‌کہ اپنے وضع‌کردہ قانون میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا تھا!‏ (‏دانی‌ایل ۲:‏۵، ۶،‏ ۲۴،‏ ۴۶-‏۴۹؛‏ ۳:‏۱۰، ۱۱،‏ ۲۹؛‏ ۶:‏۱۲-‏۱۶‏)‏ مؤرخ جان سی.‏ وائٹ‌کوم لکھتا ہے:‏ ”‏قدیم تاریخ بابل اور مادی فارس کے مابین اِس فرق کی تصدیق کرتی ہے کہ بابل میں آئین بادشاہ کے تابع ہوتا تھا جبکہ مادی فارس میں بادشاہ آئین کے تابع ہوتا تھا۔“‏

۲۰.‏ بیلشضر کی ضیافت کے سلسلے میں کونسی تفصیلات بابلی روایات کی بابت دانی‌ایل کے براہِ‌راست علم کی نشاندہی کرتی ہیں؟‏

۲۰ دانی‌ایل ۵ باب میں درج بیلشضر کی ضیافت کی ہیجان‌خیز سرگزشت بڑی مفصل معلومات فراہم کرتی ہے۔ ضیافت کا آغاز بڑی خوشی کیساتھ کھانے اور مے‌نوشی سے ہوا کیونکہ اس سرگزشت میں مے کا کئی مرتبہ ذکر ملتا ہے۔ (‏دانی‌ایل ۵:‏۱، ۲،‏ ۴‏)‏ درحقیقت، ایسی ضیافتوں کی کندہ تصاویر صرف شراب‌نوشی کی عکاسی کرتی ہیں۔ پس، ایسی تقریبات میں شراب بدیہی طور پر نہایت ضروری ہوتی تھی۔ دانی‌ایل بتاتا ہے کہ ضیافت میں عورتیں—‏بادشاہ کی بیویاں اور حرمیں—‏بھی موجود تھیں۔ (‏دانی‌ایل ۵:‏۳،‏ ۲۳‏)‏ اَثریّات اِس بابلی رسم کی تصدیق کرتی ہے۔ مکابیوں کے دَور میں یہودی اور یونانی کسی ضیافت میں آدمیوں کیساتھ عورتوں کی شمولیت کو پسند نہیں کرتے تھے۔ شاید اِسی وجہ سے یونانی سپتواجنتا کے ابتدائی ترجموں میں دانی‌ایل کی کتاب میں اِن عورتوں کا ذکر نہیں ملتا۔‏c پس، اگر دانی‌ایل کی کتاب کا مبیّنہ جعلساز اِسی یونانی تہذیب‌وتمدن اور شاید سپتواجنتا کے ترتیب دئے جانے کے زمانے میں رہتا تھا توپھر اُس نے اس بات کو نظرانداز کیوں نہیں کِیا!‏

۲۱.‏ دانی‌ایل کے بابلی اسیری کے واقعات‌ورسومات کی بابت گہرا علم رکھنے کی نہایت معقول وجہ کیا ہے؟‏

۲۱ ایسی تفصیلات کی روشنی میں یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ بریٹینیکا دانی‌ایل کی کتاب کے مصنف کی بابت دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اسیری کے دَور کا صرف ”‏سطحی اور غیرمصدقہ“‏ علم رکھتا تھا۔ صدیوں بعد کا کوئی جعلساز قدیم بابلی اور فارسی دستورات سے اتنا زیادہ کیسے واقف ہو سکتا تھا؟ یاد رکھیں کہ دوسری صدی ق.‏س.‏ع.‏ سے بہت پہلے ہی دونوں سلطنتیں ختم ہو چکی تھیں۔ بدیہی طور پر، اُس وقت نہ تو ماہرینِ‌اَثریّات تھے اور نہ ہی اُس زمانے کے یہودیوں کو کسی اَور ملک کے تہذیب‌وتمدن اور تاریخ کی بابت علم پر عبور حاصل تھا۔ اُس زمانے اور حالات‌وواقعات کا عینی شاہد دانی‌ایل نبی ہی اپنے نام کی حامل کتاب لکھ سکتا تھا۔‏

کیا خارجی عناصر دانی‌ایل کی کتاب کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں؟‏

۲۲.‏ عبرانی صحائف میں دانی‌ایل کی کتاب کی درجہ‌بندی کی بابت ناقدین کیا دعویٰ کرتے ہیں؟‏

۲۲ دانی‌ایل کی کتاب کے خلاف ایک عام اعتراض عبرانی صحائف کی فہرست میں اسکی درجہ‌بندی کی بابت اُٹھایا جاتا ہے۔ قدیم ربّیوں نے عبرانی صحائف کی کتابوں کو توراۃ، نبیم اور کتبیم پر مشتمل تین گروپوں میں تقسیم کِیا تھا۔ اُنہوں نے دانی‌ایل کو نبیم کی بجائے کتبیم میں شامل کِیا۔ ناقدین کے مطابق اِس کا مطلب یہ ہے کہ دیگر انبیا کی تصانیف کو جمع کرتے وقت دانی‌ایل کی کتاب یقیناً غیرمعروف ہوگی۔ اِسے کتبیم میں شامل کرنے کی مبیّنہ وجہ یہ ہے کہ اِن کی تدوین‌وتالیف بعد میں ہوئی تھی۔‏

۲۳.‏ قدیم یہودی دانی‌ایل کی کتاب کو کس نگاہ سے دیکھتے تھے اور ہمارے پاس اسکا کیا ثبوت ہے؟‏

۲۳ تاہم، تمام بائبل محققین اِس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ قدیم ربّیوں نے صحائف کو اتنی سختی سے ترتیب دیا تھا یا اُنہوں نے دانی‌ایل کو نبیم سے خارج کر دیا تھا۔ چنانچہ، ربّیوں کے دانی‌ایل کو کتبیم میں شمار کرنے سے کیا یہ ثابت ہوتا ہے کہ اِسے بعد میں لکھا گیا تھا؟ ہرگز نہیں۔ مشہورومعروف علما اِس کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں کہ ربّیوں نے دانی‌ایل کو نبیم میں شمار کیوں نہیں کِیا تھا۔ مثال کے طور پر، شاید اُنہوں نے اس کتاب سے برہم ہو کر ایسا کِیا ہو یا شاید اُنہوں نے دانی‌ایل نبی کو دوسرے انبیا سے اِس لئے فرق خیال کِیا ہو کہ اُس نے غیرقوم میں اعلیٰ منصب حاصل کِیا تھا۔ تاہم، اصل حقیقت یہ ہے کہ قدیم یہودیوں میں دانی‌ایل کی کتاب کو بڑی پذیرائی حاصل تھی اور وہ اِسے صحائف کی مسلمہ فہرست کا حصہ خیال کرتے تھے۔ اِس کے علاوہ، شواہد سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ عبرانی صحائف کی مسلمہ فہرست دوسری صدی ق.‏س.‏ع.‏ سے بہت پہلے مکمل ہو چکی تھی۔ اِس کے بعد اِس فہرست میں کسی اضافے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، حتیٰ‌کہ دوسری صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں لکھی جانے والی کتابوں کو بھی اِس میں شامل نہیں کِیا گیا تھا۔‏

۲۴.‏ اپاکرفا کتاب اکلیسیاستِکُس کو دانی‌ایل کی کتاب کے خلاف کیسے استعمال کِیا گیا ہے لیکن اس دلیل میں کیا نقص ہے؟‏

۲۴ ستم‌ظریفی تو یہی ہے کہ بعد میں لکھی گئی اِن مسترد کتابوں میں سے ایک کتاب کو دانی‌ایل کی کتاب کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کِیا گیا ہے۔ یشوع‌بن‌سیراخ کی اپاکرفا کتاب اکلیسیاستِکُس بدیہی طور پر ۱۸۰ ق.‏س.‏ع.‏ میں تالیف کی گئی تھی۔ ناقدین اِس بات پر توجہ دلاتے ہیں کہ کتاب میں راستباز لوگوں کی طویل فہرست میں دانی‌ایل کا نام شامل نہیں ہے۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ اُس زمانے میں شاید دانی‌ایل کو کوئی جانتا ہی نہیں تھا۔ اِس دلیل کو علما کی بڑی حمایت حاصل ہے۔ لیکن ذرا اِس بات پر غور کریں:‏ اُس فہرست میں عزرا اور مردکی، (‏اسیری کے بعد یہودیوں میں دونوں کو بڑا معزز خیال کِیا جاتا تھا)‏ اور نیکدل بادشاہ یہوسفط کا نام بھی درج نہیں ہے۔ تمام قاضیوں میں سے یہ صرف سموئیل کا ذکر کرتی ہے۔‏d کیا یہ بات درست ہوگی کہ جو کتاب مسلمہ الہامی کُتب میں شامل ہی نہیں اُسکی کسی ادھوری فہرست میں اِن اشخاص کا نام نہ ہونے کی وجہ سے اِنہیں فرضی سمجھ لیا جائے؟ یہ سوچنا بھی غلط ہے۔‏

دانی‌ایل کی حمایت میں خارجی شہادت

۲۵.‏ (‏ا)‏ یوسیفس نے دانی‌ایل کی سرگزشت کے مستند ہونے کی تصدیق کیسے کی؟ (‏ب)‏سکندرِاعظم اور دانی‌ایل کی کتاب کی بابت یوسیفس کا بیان معروف تاریخ کیساتھ کس لحاظ سے ہم‌آہنگ ہے؟ (‏دوسرا فٹ‌نوٹ دیکھیں۔)‏ (‏پ)‏لسانی شہادت دانی‌ایل کی کتاب کی کیسے حمایت کرتی ہے؟ (‏صفحہ ۲۶ کے بکس کے مواد کا مطالعہ کریں۔)‏

۲۵ آئیے ایک بار پھر مثبت باتوں پر توجہ دیں۔ ایک عام رائے یہ ہے کہ مستند ہونے کے سلسلے میں عبرانی صحائف کی کسی اَور کتاب کی دانی‌ایل سے زیادہ تصدیق نہیں کی گئی۔ مثال کے طور پر:‏ معروف یہودی مؤرخ یوسیفس اِسکے مستند ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ چوتھی صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں جب سکندرِاعظم فارس کے ساتھ جنگ کے دوران یروشلیم آیا تو کاہنوں نے اُسے دانی‌ایل کی کتاب پیش کی۔ چنانچہ سکندر خود اِس نتیجے پر پہنچا کہ دانی‌ایل کی پیشینگوئی سے جو باتیں اُسے دکھائی گئی ہیں وہ فارس کے خلاف اُسکی جنگ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔‏e یہ ناقدین کے مطابق مبیّنہ ”‏جعلسازی“‏ سے کوئی ڈیڑھ صدی پہلے کا واقعہ ہے۔ بِلاشُبہ، ناقدین نے اِس عبارت کے حوالے سے یوسیفس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ اُسے دانی‌ایل کی کتاب کی بعض پیشینگوئیوں کے پورا ہونے کی نشاندہی کرنے کی وجہ سے بھی نکتہ‌چینی کا نشانہ بناتے ہیں۔ تاہم، مؤرخ جوزف ڈی.‏ ولسن نے بیان کِیا:‏ ”‏[‏یوسیفس]‏ غالباً اِس سلسلے میں دُنیا کے تمام ناقدین سے زیادہ جانتا تھا۔“‏

۲۶.‏ بحرِمُردار کے طوماروں سے دانی‌ایل کی کتاب کے مستند ہونے کی تصدیق کیسے ہوتی ہے؟‏

۲۶ اسرائیل میں قمران کے غاروں سے ملنے والے بحرِمُردار کے طوماروں سے دانی‌ایل کی کتاب کے مستند ہونے کی مزید تصدیق ہوتی ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ ۱۹۵۲ کی دریافتوں میں دانی‌ایل کی کتاب کے کئی طومار یا پارچہ‌جات موجود ہیں۔ اِن میں سے سب سے پُرانا دوسری صدی ق.‏س.‏ع.‏ کا ہے۔ چنانچہ، اس قدیم دَور میں دانی‌ایل کی کتاب کو شہرت اور عزت حاصل تھی۔ دی زونڈروان پکٹوریئل انسائیکلوپیڈیا آف دی بائبل بیان کرتا ہے:‏ ”‏اب دانی‌ایل کی کتاب کو مکابیوں کے زمانے سے منسلک نہیں کِیا جانا چاہئے کیونکہ اِس کی تالیف اور مکابیوں کے مذہبی فرقے کی لائبریری میں اِسکی نقول کی موجودگی کے درمیان زیادہ وقفہ ممکن نہیں ہے۔“‏

۲۷.‏ اِس بات کی قدیم‌ترین شہادت کیا ہے کہ بابلی اسیری کے دوران دانی‌ایل ایک مشہورومعروف حقیقی شخص تھا؟‏

۲۷ تاہم، دانی‌ایل کی کتاب کی کہیں پُرانی اور زیادہ قابلِ‌اعتماد تصدیق بھی دستیاب ہے۔ دانی‌ایل کے ہمعصروں میں سے ایک حزقی‌ایل نبی تھا۔ اُس نے بھی بابلی اسیری کے دوران نبی کے طور پر خدمت انجام دی تھی۔ حزقی‌ایل کی کتاب کئی مرتبہ دانی‌ایل کا بنام ذکر کرتی ہے۔ (‏حزقی‌ایل ۱۴:‏۱۴، ۲۰؛ ۲۸:‏۳)‏ یہ حوالہ‌جات ظاہر کرتے ہیں کہ دانی‌ایل اپنے دورِحیات، چھٹی صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں راستباز اور دانشمند شخص کے طور پر کافی مشہور تھا اور وہ اس لائق تھا کہ خداترس نوح اور ایوب کے ساتھ اُس کا نام بھی آئے۔‏

سب سے بڑی شہادت

۲۸، ۲۹.‏ (‏ا)‏دانی‌ایل کی کتاب کے مستند ہونے کے سلسلے میں سب سے اثرآفرین ثبوت کیا ہے؟ (‏ب)‏ہمیں یسوع کی شہادت کیوں تسلیم کرنی چاہئے؟‏

۲۸ آئیے اب آخر میں دانی‌ایل کی کتاب کے مستند ہونے کے سلسلے میں تمام شواہد سے بڑی شہادت یعنی یسوع مسیح کی شہادت پر غور کریں۔ آخری ایّام کی بابت اپنی بات‌چیت میں یسوع ”‏دانیؔ‌ایل نبی“‏ اور اُسکی پیشینگوئیوں میں سے ایک کا حوالہ دیتا ہے۔—‏متی ۲۴:‏۱۵؛‏ دانی‌ایل ۱۱:‏۳۱؛‏ ۱۲:‏۱۱‏۔‏

۲۹ اب اگر ناقدین کا اِسے مکابیوں کے زمانے سے منسلک کرنے کا نقطۂ‌نظر درست ہے توپھر دو ممکنات ہو سکتی ہیں۔ یا تو یسوع اِس جعلسازی کے فریب میں آ گیا تھا یا اُس نے ایسی کوئی بات کبھی کہی ہی نہیں تھی جسکا حوالہ متی دیتا ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی بات منطقی نہیں ہے۔ اگر متی کی انجیل قابلِ‌بھروسا نہیں تو ہم بائبل کے دوسرے حصوں پر کیسے بھروسا کر سکتے ہیں؟ اگر ہم اِن الفاظ کو پاک صحائف سے نکال دیتے ہیں تو اگلی مرتبہ ہم کونسے الفاظ نکالینگے؟ پولس رسول نے لکھا:‏ ”‏ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور .‏ .‏ .‏ اصلاح .‏ .‏ .‏ کرنے کے لئے فائدہ‌مند بھی ہے۔“‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶‏)‏ پس اگر دانی‌ایل جعلساز تھا توپھر پولس بھی جعلساز ہی ہوگا!‏ کیا یسوع فریب میں آ سکتا تھا؟ ہرگز نہیں۔ دانی‌ایل کی کتاب کی تحریر کے وقت وہ آسمان میں موجود تھا۔ یسوع نے خود کہا:‏ ”‏پیشتر اُس سے کہ اؔبرہام پیدا ہوا مَیں ہوں۔“‏ (‏یوحنا ۸:‏۵۸‏)‏ دانی‌ایل کے مستند ہونے کی بابت تاریخ کے تمام انسانوں کی نسبت یسوع سے معلومات حاصل کرنا زیادہ بہتر ہوگا جسکی واضح شہادت ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔‏

۳۰.‏ دانی‌ایل کی کتاب کو یسوع کیسے مزید مستند ٹھہراتا ہے؟‏

۳۰ یسوع نے دانی‌ایل کی کتاب کے مستند ہونے کا مزید ثبوت اپنے بپتسمے کے وقت ہی دے دیا تھا۔ اِسکے بعد وہ سالوں کے ۶۹ ہفتوں کی بابت دانی‌ایل کی پیشینگوئی کو پورا کرتے ہوئے مسیحا بن گیا۔ (‏دانی‌ایل ۹:‏۲۵، ۲۶‏؛ اِس کتاب کے باب ۱۱ کا مطالعہ کریں۔)‏ اگر یہ نظریہ درست مان لیا جائے کہ دانی‌ایل کی کتاب اِس کی حقیقی تاریخ کے بعد لکھی گئی تھی توبھی دانی‌ایل کی کتاب کا مصنف کوئی ۲۰۰ سال پہلے ہی مستقبل کی بابت جانتا تھا۔ بِلاشُبہ، خدا کسی نقلی نام کے تحت کسی جعلساز کو سچی پیشینگوئیاں کرنے کا الہام نہیں بخشے گا۔ اِسکے برعکس، خدا کے وفادار بندوں نے یسوع کی گواہی کو خلوصدلی سے قبول کِیا ہے۔ اگر دُنیا کے تمام ماہرین اور ناقدین ملکر دانی‌ایل کی کتاب کو رد کرنے کی کوشش کریں توبھی یسوع کی گواہی اُن سب کو جھوٹا ثابت کر دیگی کیونکہ وہ ”‏سچا اور برحق گواہ“‏ ہے۔—‏مکاشفہ ۳:‏۱۴‏۔‏

۳۱.‏ کئی بائبل ناقدین ابھی تک دانی‌ایل کی کتاب کو مستند کیوں نہیں سمجھتے؟‏

۳۱ تاہم، بہت سے بائبل ناقدین کے لئے یہ شہادت بھی ناکافی ہے۔ اِس مضمون پر جامع غوروخوض کرنے کے بعد کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُسے قائل کرنے کے لئے مزید شہادتوں کی ضرورت ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے لکھا:‏ ”‏جبتک یہ متعصّب رائے قائم ہے کہ ’‏مافوق‌الفطرت پیشینگوئی ممکن نہیں‘‏ تو محض اعتراضات کے جواب دیتے رہنا لاحاصل ہے۔“‏ پس اُنکے تعصّب نے اُنکی عقل پر پردہ ڈال دیا ہے۔ لیکن یہ اُنکا اپنا انتخاب ہے اور ایسا کرکے وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔‏

۳۲.‏ ہم دانی‌ایل کی کتاب کے مطالعے سے کیسے مستفید ہونگے؟‏

۳۲ آپکی بابت کیا ہے؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دانی‌ایل کی کتاب کے مستند ہونے کی بابت شک کرنے کی کوئی حقیقی وجہ نہیں ہے تو آپ بہت سی دلچسپ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ دانی‌ایل کی کتاب کی حکایات کو نہایت دلچسپ اور اسکی پیشینگوئیوں کو دلکش پائینگے۔ سب سے بڑھکر، ہر باب پڑھنے کے بعد آپکا ایمان اَور زیادہ مضبوط ہوتا جائیگا۔ آپ کو دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دینے سے کبھی کوئی پچھتاوا نہیں ہوگا!‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بعض ناقدین جعلسازی کا الزام لگانے کی بجائے یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ جس طرح زمانۂ‌قدیم کی بعض غیرمسلمہ کتابیں فرضی ناموں سے لکھی گئی تھیں اُسی طرح اِس کتاب کے مصنف نے بھی دانی‌ایل نام کو قلمی نام کے طور پر استعمال کِیا تھا۔ تاہم، بائبل نقاد فرڈینانڈ ہٹ‌زک نے رائے‌زنی کی:‏ ”‏دانی‌ایل کی کتاب کو کسی اَور [‏مصنف]‏ سے منسوب کر دینے سے تو معاملہ بالکل اُلٹ ہو جاتا ہے۔ پھر تو یہ جعلی تصنیف بن جاتی ہے جسکا مقصد اپنے قارئین کو دھوکا دینا ہی تھا خواہ اسکا مواد اُن کیلئے مفید ہی کیوں نہ ہو۔“‏

b سقوطِ‌بابل کے وقت نبوندیس وہاں نہیں تھا۔ لہٰذا، بیلشضر کو بجا طور پر اُس وقت کا بادشاہ کہا گیا ہے۔ اب یہاں ناقدین اس اختلافِ‌رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ دُنیاوی تحریروں میں بیلشضر کو باضابطہ طور پر بادشاہ ظاہر نہیں کِیا گیا۔ تاہم، قدیمی شہادتوں سے عیاں ہے کہ اُس زمانے میں لوگ ناظم کو بھی بادشاہ کہا کرتے تھے۔‏

c عبرانی عالم سی.‏ایف.‏ کیل دانی‌ایل ۵:‏۳ کی بابت لکھتا ہے:‏ ”‏LXX [‏سپتواجنتا]‏ میں مقدونیوں، یونانیوں اور رومیوں کے دستور کے مطابق اِس آیت کے علاوہ ۲۳ آیت میں بھی عورتوں کا ذکر نہیں ملتا۔“‏

d تحقیق‌وتفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ عبرانیوں ۱۱ باب میں وفادار مردوں اور عورتوں کی بابت پولس رسول کی پیش‌کردہ الہامی فہرست دانی‌ایل کی کتاب میں قلمبند واقعات کا حوالہ دیتی ہے۔ (‏دانی‌ایل ۶:‏۱۶-‏۲۴؛‏ عبرانیوں ۱۱:‏۳۲، ۳۳‏)‏ تاہم، رسول کی فہرست بھی جامع نہیں ہے۔ یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی‌ایل سمیت بہتیروں کے نام فہرست میں شامل نہیں ہیں لیکن اِس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اُنکا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔‏

e بعض مؤرخین کے مطابق اس سے پتہ چلتا ہے کہ سکندر نے یہودیوں کیساتھ اسقدر مہربانہ سلوک کیوں کِیا جو فارسیوں کے دیرینہ دوست تھے۔ حالانکہ اُس وقت سکندر نے فارس کے تمام حمایتیوں کو ختم کرنے کی ٹھان رکھی تھی۔‏

آپ کیا سمجھے ہیں؟‏

‏•دانی‌ایل کی کتاب پر کیا الزام لگایا گیا ہے؟‏

‏•دانی‌ایل کی کتاب پر ناقدین کے اعتراضات بے‌بنیاد کیوں ہیں؟‏

‏•کونسی شہادت دانی‌ایل کی کتاب کے مستند ہونے کی تصدیق کرتی ہے؟‏

‏•دانی‌ایل کی کتاب کے مستند ہونے کا سب سے تسلی‌بخش ثبوت کیا ہے؟‏

‏[‏صفحہ ۲۶ پر بکس]‏

زبان کا مسئلہ

دانی‌ایل کی کتاب تقریباً ۵۳۶ ق.‏س.‏ع.‏ میں مکمل ہو گئی تھی۔ اِسے عبرانی اور ارامی زبان میں لکھا گیا تھا لیکن چند ایک یونانی اور فارسی الفاظ بھی استعمال کئے گئے تھے۔ زبانوں کا ایسا امتزاج غیرمعمولی تو ہے مگر صحائف میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بائبل میں عزرا کی کتاب بھی عبرانی اور ارامی زبان میں لکھی گئی تھی۔ تاہم، بعض ناقدین اِس بات پر مُصر ہیں کہ دانی‌ایل کی کتاب کا مصنف جس طریقے سے یہ زبانیں استعمال کرتا ہے اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس نے یہ کتاب ۵۳۶ ق.‏س.‏ع.‏ کے بعد لکھی تھی۔ ایک نقاد کے اس بیان کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے کہ دانی‌ایل کی کتاب میں یونانی الفاظ کا استعمال کسی مابعدی دَور میں اسکی تدوین کا ”‏یقینی“‏ ثبوت ہے۔ اُس کے خیال میں عبرانی اور ارامی زبان کے استعمال سے بھی یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ کتاب کسی بعد کے دَور، حتیٰ‌کہ دوسری صدی ق.‏س.‏ع.‏ کی تحریر ہو سکتی ہے۔‏

تاہم، تمام ماہرینِ‌لسانیات اِس بات سے متفق نہیں ہیں۔ بعض ماہرین کی رائے میں دانی‌ایل کی کتاب میں مستعمل عبرانی زبان حزقی‌ایل اور عزرا جیسی ہے جبکہ یہ اکلیسیاستِکُس جیسی مابعدی اپاکرفا کتابوں سے بالکل مختلف ہے۔ جہاں تک دانی‌ایل کی کتاب میں ارامی زبان کے استعمال کا تعلق ہے تو بحرِمُردار کے طوماروں سے دریافت ہونے والی دو دستاویز پر غور کریں۔ یہ بھی پہلی اور دوسری صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں ارامی میں لکھی گئی تھیں یعنی دانی‌ایل کی مبیّنہ جعلسازی سے زیادہ پُرانی نہیں ہیں۔ تاہم، ماہرینِ‌لسانیات نے دانی‌ایل کی کتاب اور اِن دستاویز کی ارامی زبان میں بہت زیادہ فرق پایا ہے۔ لہٰذا، بعض کا خیال ہے کہ دانی‌ایل کی کتاب کے ناقدین اس کیلئے جس دَور کا تعیّن کرتے ہیں یہ دراصل اُس سے صدیوں پُرانی ہے۔‏

دانی‌ایل کی کتاب میں ”‏مشتبہ“‏ یونانی الفاظ کی بابت کیا ہے؟ اِن میں سے بعض الفاظ کی بابت انکشاف ہوا ہے کہ یہ یونانی کی بجائے فارسی زبان کے ہیں۔ جن الفاظ کو ابھی تک یونانی خیال کِیا جاتا ہے وہ تین آلاتِ‌موسیقی کے نام ہیں۔ کیا اِن تین الفاظ کی موجودگی واقعی اِس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ دانی‌ایل کی کتاب کیلئے کوئی بعد کی تاریخ تجویز کی جائے؟ ہرگز نہیں۔ ماہرینِ‌اثریّات نے دریافت کر لیا ہے کہ یونان کے عالمی طاقت بننے سے بھی صدیاں پہلے یونانی ثقافت بڑا اثرورسوخ رکھتی تھی۔ علاوہ‌ازیں، اگر دانی‌ایل کی کتاب کی تصنیف‌وتالیف یونانی ثقافت اور زبان کے زمانۂ‌عروج، دوسری صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں ہوئی ہوتی تو کیا اِس میں ”‏صرف تین“‏ یونانی الفاظ ہی ہوتے؟ ہرگز نہیں۔ اِس میں بہت زیادہ یونانی الفاظ ہوتے۔ پس لسانی شہادت بھی درحقیقت دانی‌ایل کی کتاب کے مستند ہونے کی تصدیق کرتی ہے۔‏

‏[‏صفحہ ۲۱ پر صرف تصویر ہے]‏

‏[‏صفحہ ۲۱ پر تصویر]‏

‏(‏نیچے)‏ بابلی مندر سے ملنے والے بیلن پر بادشاہ نبوندیس اور اُسکے بیٹے بیلشضر کا نام درج ہے

‏(‏اُوپر)‏ اِس کتبے پر نبوکدنضر کا اپنی بڑی‌بڑی عمارتوں کی بابت متکبرانہ بیان درج ہے

‏[‏صفحہ ۲۰ پر تصویریں]‏

تاریخِ‌نبوندیس کے مطابق، خورس کی فوج لڑائی کے بغیر ہی بابل میں داخل ہو گئی تھی

‏[‏صفحہ ۲۲ پر تصویریں]‏

‏(‏دائیں)‏ ”‏نبوندیس کی نظم“‏ بیان کرتی ہے کہ نبوندیس نے اپنے پہلوٹھے بیٹے کو حکمرانی سونپی تھی

‏(‏بائیں)‏ یہوداہ پر نبوکدنضر کے حملے کا بابلی ریکارڈ

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں