پہلا باب
دانیایل کی کتاب اور آپ
۱، ۲. (ا)بائبل میں دانیایل کی کتاب میں چند کونسے غیرمعمولی واقعات کا ذکر کِیا گیا ہے؟(ب)زمانۂجدید میں دانیایل کی کتاب کے سلسلے میں کونسے سوالات پیدا ہوتے ہیں؟
ایک بادشاہ اپنے دانشوروں کے قتل کا حکم صادر کرتا ہے کیونکہ وہ اُس کے پریشانکُن خواب اور اُس کی تعبیر بیان کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ تین جوانوں کو ایک قدآور مورت کو سجدہ کرنے سے انکار کی پاداش میں آگ کی بھٹی میں پھینک دیا جاتا ہے لیکن اُنہیں کوئی آنچ نہیں آتی۔ ایک جشن کے دوران، سینکڑوں لوگ ایک ہاتھ کو محل کی دیوار پر پُراسرار الفاظ رقم کرتے دیکھتے ہیں۔ شرانگیز سازشی ایک عمررسیدہ شخص کو شیروں کی ماند میں ڈلوا دیتے ہیں مگر اُسکا ایک بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔ خدا کے ایک نبی کو رویا میں چار حیوان دکھائی دیتے ہیں جو مستقبل بعید میں پیش آنے والے واقعات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
۲ یہ اُن واقعات میں سے محض چند ایک ہیں جو بائبل میں دانیایل کی کتاب میں درج ہیں۔ تاہم، کیا یہ ہماری توجہ کے مستحق ہیں؟ ہمارے زمانے کیلئے اِس قدیم کتاب کی کیا افادیت ہو سکتی ہے؟ ہمیں کوئی ۲،۶۰۰ سال پُرانے واقعات میں کیوں دلچسپی لینی چاہئے؟
دانیایل—زمانۂجدید کیلئے ایک قدیم کتاب
۳، ۴. بیشتر لوگ بجا طور پر نسلِانسانی کے مستقبل کی بابت کیوں فکرمند ہیں؟
۳ دانیایل کی کتاب کا بیشتر حصہ عالمی حکمرانی کے موضوع پر روشنی ڈالتا ہے جو آجکل سب سے اہم ہے۔ تقریباً سب اِس بات سے اتفاق کریں گے کہ ہم ایک تشویشناک دَور میں رہ رہے ہیں۔ ہر روز، ہم اس بھیانک حقیقت کو عیاں کرنے والی خبریں سنتے ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں شاندار کامیابیوں کے باوجود انسانی معاشرہ پیچیدہ مسائل کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔
۴ ذرا سوچیں: انسان چاند پر تو پہنچ گیا ہے لیکن وہ اپنے ہی گلیکوچوں میں بےخوفوخطر گھومپھر نہیں سکتا۔ وہ گھر کو تو ہر طرح کی جدید سہولیات سے آراستہ کر سکتا ہے لیکن شکستہ خاندانوں میں اضافے کو نہیں روک سکتا۔ وہ عصرِاطلاعات کا مؤجب تو بن سکتا ہے لیکن لوگوں کو اَمنوآشتی سے رہنا نہیں سکھا سکتا۔ تاریخ کے ایک پروفیسر، ہیو تھامس نے لکھا: ”علموہنر میں بےپایاں ترقی کے باوجود نسلِانسانی ضبطِنفس اور اخوت کا فن سیکھنے میں ناکام رہی ہے۔“
۵. اکثر انسانی حکمرانی کا نتیجہ کیا رہا ہے؟
۵ انسان نے معاشرتی اَمنوآشتی قائم رکھنے کی کوشش میں مختلف حکومتوں کو آزمایا ہے۔ تاہم، ہر قسم کی حکومت کے سلسلے میں سلیمان بادشاہ کا یہ بیان صادق آتا ہے: ”ایک شخص دوسرے پر حکومت کرکے اپنے اُوپر بلا لاتا ہے۔“ (واعظ ۴:۱؛ ۸:۹) یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بعض حکمران بڑے نیکنیت تھے۔ اِسکے باوجود، کوئی بادشاہ، صدر یا آمر بیماری اور موت کا سدِباب نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی انسان زمین کو خدا کے مقصد کے مطابق فردوس میں تبدیل کر سکتا ہے۔
۶. یہوواہ کو اپنی مرضی کی تکمیل کیلئے انسانی حکومتوں کے تعاون کی ضرورت کیوں نہیں ہے؟
۶ لیکن خالق نہ صرف ایسا کرنے کے قابل ہے بلکہ وہ ایسا کرنا بھی چاہتا ہے۔ اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے وہ انسانی حکومتوں کو خاطر میں نہیں لاتا کیونکہ اُس کے نزدیک ”قومیں ڈول کی ایک بوند کی مانند ہیں اور ترازو کی باریک گرد کی مانند گنی جاتی ہیں۔“ (یسعیاہ ۴۰:۱۵) دراصل، یہوواہ کائنات کے حاکمِاعلیٰ کے طور پر انسانی حکومتوں سے کہیں زیادہ اختیار رکھتا ہے۔ خدا کی بادشاہت نسلِانسانی کو ابدی برکات عطا کرنے کے لئے بالآخر تمام انسانی حکومتوں کی جگہ لے لیگی۔ غالباً اس بات کی وضاحت بائبل میں دانیایل کی کتاب کے علاوہ اَور کہیں نہیں ملتی۔
دانیایل—خدا کا پیارا
۷. دانیایل کون تھا اور یہوواہ کی نظر میں اُسکی کیا اہمیت تھی؟
۷ یہوواہ خدا دانیایل کو بہت پسند کرتا تھا جس نے اُس کے نبی کے طور پر سالہاسال تک اُس کی خدمت کی تھی۔ بِلاشُبہ، خدا کے فرشتے نے دانیایل سے کہا کہ ”تُو بہت عزیز ہے۔“ (دانیایل ۹:۲۳) جس عبرانی اصطلاح کا ترجمہ ”بہت عزیز،“ کِیا گیا ہے اُسکا مطلب ”ازحد پیارا،“ ”بہت معزز“ اور ”پسندیدہ“ ہو سکتا ہے۔ خدا کی نظر میں دانیایل کی بڑی قدر تھی۔
۸. دانیایل بابل کیسے پہنچا؟
۸ آئیے خدا کے اِس پسندیدہ نبی کے منفرد حالاتِزندگی کا مختصراً جائزہ لیں۔ بابلی بادشاہ نبوکدنضر نے ۶۱۸ ق.س.ع. میں یروشلیم کا محاصرہ کِیا۔ (دانیایل ۱:۱) اِسکے کچھ عرصہ بعد، وہ چند ممتاز یہودی نوجوانوں کو اسیر کرکے بابل لے گیا۔ دانیایل بھی اُن میں شامل تھا۔ اُس وقت وہ غالباً نوعمر ہی تھا۔
۹. دانیایل اور اُس کے عبرانی ساتھیوں کو کیا تربیت دی گئی تھی؟
۹ دانیایل اور اُسکے ساتھی—حننیاہ، میساایل اور عزریاہ—اُن عبرانیوں میں شامل تھے جنہیں تین سال تک ”کسدیوں کے علم اور اُن کی زبان“ کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے منتخب کِیا گیا تھا۔ (دانیایل ۱:۳، ۴) بعض علما کے مطابق اِس میں زبان کے علاوہ دیگر امور کی تربیت بھی شامل تھی۔ مثال کے طور پر، پروفیسر سی. ایف. کیل بیان کرتا ہے: ”دانیایل اور اُس کے ساتھیوں کو کسدی پجاریوں اور حکیموں کا علم سیکھنا تھا جسکی بابل کی درسگاہوں میں تعلیم دی جاتی تھی۔“ پس، دانیایل اور اُسکے ساتھیوں کو بالخصوص سرکاری امور کی تربیت دی گئی تھی۔
۱۰، ۱۱. دانیایل اور اُسکے ساتھیوں نے کن آزمائشوں کا سامنا کِیا مگر یہوواہ نے اُنکی مدد کیسے کی؟
۱۰ دانیایل اور اُسکے رفیقوں کے حالات میں کتنی بڑی تبدیلی آ گئی! وہ یہوداہ میں یہوواہ کے پرستاروں کیساتھ رہتے تھے۔ اَب وہ اساطیری دیوی دیوتاؤں کے پرستاروں کے گھیرے میں تھے۔ اسکے باوجود، نوجوان دانیایل، حننیاہ، میساایل اور عزریاہ خوفزدہ نہیں تھے۔ وہ اپنے ایمان کی کڑی آزمائش کے باوجود سچی پرستش پر قائم رہنے کیلئے پُرعزم تھے۔
۱۱ یہ آسان کام نہیں تھا۔ نبوکدنضر بادشاہ بابل کے سب سے بڑے دیوتا، مردوک کا پرستار تھا۔ اسلئے بعض اوقات بادشاہ کے تقاضے یہوواہ کے پرستاروں کیلئے قطعاً ناقابلِقبول ہوتے تھے۔ (مثال کے طور پر، دانیایل ۳:۱-۷ کو پڑھیں۔) تاہم، دانیایل اور اُسکے ساتھیوں کو یہوواہ کی قابلِاعتماد راہنمائی حاصل تھی۔ خدا نے اُنکی تین سالہ تربیت کے دوران اُنہیں ”ہر طرح کی حکمت اور علم میں مہارت بخشی“ تھی۔ اِسکے علاوہ، دانیایل کو رویتوں اور خوابوں کا مطلب سمجھنے کی صلاحیت بھی عطا کی گئی تھی۔ بعدازاں، جب بادشاہ نے اِن چار جوانوں کا امتحان لیا تو اُس نے اُنہیں ”تمام فالگیروں اور نجومیوں سے جو اُس کے تمام ملک میں تھے دس درجہ بہتر پایا۔“—دانیایل ۱:۱۷، ۲۰۔
خدا کے پیغام کا اعلان کرنا
۱۲. دانیایل کی خاص تفویض کیا تھی؟
۱۲ دانیایل نے خدا کے پیامبر کے طور پر، کئی سال تک بابل میں نبوکدنضر اور بیلشضر بادشاہ جیسے لوگوں کیلئے خدمت انجام دی۔ دانیایل کا کام بہت اہم تھا۔ یہوواہ نے نبوکدنضر کو اپنے آلۂکار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اُسے یروشلیم کو برباد کرنے کی اجازت دی تھی۔ تاہم وقت آنے پر، بابل نے بھی برباد ہو جانا تھا۔ واقعی، دانیایل کی کتاب یہوواہ خدا کی حقتعالیٰ کے طور پر بڑائی کرتی ہے جو ”آدمیوں کی مملکت“ میں حکمرانی کرتا ہے۔—دانیایل ۴:۱۷۔
۱۳، ۱۴. سقوطِبابل کے بعد دانیایل کیساتھ کیا واقع ہوا؟
۱۳ دانیایل سقوطِبابل تک کوئی سات عشرے مسلسل شاہی دربار میں خدمت انجام دیتا رہا۔ اُسے ۵۳۷ ق.س.ع. میں بہتیرے یہودیوں کو اپنے وطن واپس لوٹتے دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہوا لیکن بائبل یہ نہیں بتاتی کہ آیا وہ اُنکے ساتھ گیا تھا۔ وہ فارسی سلطنت کے بانی، خورس بادشاہ کی حکومت کے تیسرے سال تک بھرپور خدمت انجام دیتا رہا۔ اُس وقت دانیایل کی عمر ۱۰۰ برس کے لگبھگ ہوگی!
۱۴ سقوطِبابل کے بعد، دانیایل نے اپنی زندگی کے اہمترین واقعات کو تحریری شکل دی۔ اُسکی تحریر اَب بائبل مُقدس کا اہم حصہ ہے اور دانیایل کی کتاب کے طور پر مشہور ہے۔ لیکن ہمیں اِس قدیم کتاب پر دھیان کیوں دینا چاہئے؟
دو سلسلے مگر پیغام ایک
۱۵. (ا)بائبل میں دانیایل کی کتاب میں کونسے دو سلسلے پائے جاتے ہیں؟ (ب)دانیایل کے حکایتی حصے سے ہم کیسے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟
۱۵ دانیایل کی منفرد کتاب میں دو—حکایتی اور نبوّتی—سلسلے پائے جاتے ہیں۔ دانیایل کی کتاب کے یہ دونوں سلسلے ہمارے ایمان کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ کیسے؟ اس کتاب کے حکایتی حصے بائبل میں سب سے زیادہ واضح اور جامع ہونے کے علاوہ یہ بھی عیاں کرتے ہیں کہ یہوواہ خدا راستی برقرار رکھنے والوں کو برکت دینے کیساتھ ساتھ اُنکی فلاحوبہبود کا خیال بھی رکھتا ہے۔ دانیایل اور اُسکے تین ساتھی جانلیوا آزمائشوں کے باوجود ثابتقدم رہے۔ آجکل، یہوواہ کیلئے وفادار رہنے کے متمنی سب لوگ اُن کے نمونے پر غور کرنے سے تقویت پائینگے۔
۱۶. ہم دانیایل کے نبوّتی حصے سے کیا سبق سیکھتے ہیں؟
۱۶ دانیایل کی کتاب کے نبوّتی حصے یہ واضح کرتے ہوئے ہمارے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں کہ یہوواہ سینکڑوں—بلکہ ہزاروں—سال پہلے ہی جانتا ہے کہ کونسے واقعات رُونما ہونگے۔ مثال کے طور پر، دانیایل قدیم بابل سے لے کر ”آخری زمانہ“ کی عالمی طاقتوں کے عروجوزوال کی تفصیلات فراہم کرتا ہے۔ (دانیایل ۱۲:۴) دانیایل ہماری توجہ خدا کی بادشاہت پر دلاتا ہے جو اُس کے مقررہ بادشاہ اور اُس کے ساتھی ”مُقدسوں“ کے ہاتھ میں ہوگی۔ وہ اس کی نشاندہی ابد تک قائم رہنے والی حکومت کے طور پر کرتا ہے۔ یہ حکومت ہماری زمین کے سلسلے میں یہوواہ کے مقصد کو پورا کریگی اور اُن سب لوگوں کیلئے باعثِبرکت ہوگی جو خدا کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔—دانیایل ۲:۴۴؛ ۷:۱۳، ۱۴، ۲۲۔
۱۷، ۱۸. (ا)دانیایل کی کتاب کے مطالعہ سے ہمارے ایمان کو کیسے تقویت ملیگی؟ (ب)اِس نبوّتی کتاب کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے ہمیں کس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے؟
۱۷ ہمیں یہوواہ کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ وہ مستقبل کے واقعات کا علم اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتا۔ اس کے برعکس، وہ ”راز کی باتیں آشکارا کرتا ہے۔“ (دانیایل ۲:۲۸) جب ہم دانیایل کی کتاب میں درج پیشینگوئیوں کی تکمیل پر غور کرینگے تو خدا کے وعدوں پر ہمارا ایمان اَور زیادہ مضبوط ہو جائیگا۔ ہمیں اس بات کا بھی مکمل یقین ہو جائیگا کہ خدا اپنے مقصد کو اپنی مرضی کے مطابق صحیح وقت اور درست طریقے سے پورا کریگا۔
۱۸ بائبل میں دانیایل کی کتاب کا بغور مطالعہ سب لوگوں کے ایمان کو تقویت پہنچائیگا۔ تاہم، اِس کتاب کا گہرا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے ہمیں اِس کتاب کے مستند ہونے کے ثبوت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بعض ناقدین نے دانیایل کی کتاب کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ اِسکی پیشینگوئیاں درحقیقت تکمیل کے بعد تحریر کی گئی تھیں۔ کیا مُتشکِک لوگوں کے دعوے درست ہیں؟ اگلا باب اِسی موضوع پر باتچیت کریگا۔
آپ کیا سمجھے ہیں؟
•دانیایل کی کتاب زمانۂجدید کیلئے بھی کیوں مفید ہے؟
•دانیایل اور اُسکے ساتھی بابل میں ناظم کیسے بن گئے؟
•بابل میں دانیایل کی خاص تفویض کیا تھی؟
•ہمیں دانیایل کی نبوّتی کتاب پر کیوں دھیان دینا چاہئے؟
[صفحہ ۴ پر صرف تصویر ہے]
[صفحہ ۱۱ پر صرف تصویر ہے]