باب سولہ
اپنے خاندان کیلئے ایک پائدار مستقبل محفوظ کر لیں
۱. خاندانی بندوبست کیلئے یہوؔواہ کا مقصد کیا تھا؟
جب یہوؔواہ نے آؔدم اور حوؔا کو ازدواجی رشتے میں جوڑا تو آؔدم نے سب سے پہلے قلمبند کی جانے والی عبرانی شاعری کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کِیا۔ (پیدایش ۲:۲۲، ۲۳) تاہم، خالق کے ذہن میں اپنے انسانی بچوں کو محض خوشی دینے سے زیادہ کچھ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ شادیشُدہ جوڑے اور خاندان اُسکی مرضی بجا لائیں۔ اُس نے پہلے جوڑے کو حکم دیا: ”پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمورومحکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں اور کل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں اختیار رکھو۔“ (پیدایش ۱:۲۸) وہ کیا ہی شاندار، بااجر تفویض تھی! اگر آؔدم اور حوؔا نے مکمل فرمانبرداری کیساتھ یہوؔواہ کی مرضی پوری کی ہوتی تو وہ اور اُنکے ہونے والے بچے کسقدر خوش ہوتے!
۲، ۳. آجکل خاندان زیادہ خوشی کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
۲ آجکل بھی، جب خاندان خدا کی مرضی بجا لانے کیلئے ملکر کام کرتے ہیں تو وہ بڑی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ پولسؔ رسول نے لکھا: ”دینداری [”خدائی عقیدت،“ اینڈبلیو] سب باتوں کیلئے فائدہمند ہے اِسلئے کہ اب کی اور آیندہ کی زندگی کا وعدہ بھی اِسی کیلئے ہے۔“ (۱-تیمتھیس ۴:۸) ایک خاندان جو خدائی عقیدت کیساتھ زندگی گزارتا اور بائبل میں پائی جانے والی یہوؔواہ کی راہنمائی پر چلتا ہے ”اب کی . . . زندگی“ سے خوشی حاصل کریگا۔ (زبور ۱:۱-۳؛ ۱۱۹:۱۰۵؛۲-تیمتھیس ۳:۱۶) اگر خاندان کا کوئی بھی فرد بائبل اصولوں کا اطلاق کرتا ہے تو حالتیں بہتر ہوتی ہیں بہنسبت اُسکے جب کوئی بھی نہیں کرتا۔
۳ اِس کتاب نے متعدد بائبل اصولوں پر بحث کی ہے جو خاندانی خوشی کا سبب بنتے ہیں۔ غالباً آپ نے دیکھا ہوگا کہ اُن میں سے بعض پوری کتاب میں بارہا دیکھنے میں آئے ہیں۔ کیوں؟ اِسلئےکہ وہ اثرآفرین سچائیوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو خاندانی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں سب کی بہتری کیلئے مؤثر ہیں۔ بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے کی کوشش کرنے والا خاندان سمجھ لیتا ہے کہ درحقیقت خدائی عقیدت کیساتھ ’اب کی زندگی کا وعدہ‘ بھی شامل ہے۔ آئیے اُن اہم اصولوں میں سے چار کا پھر سے جائزہ لیں۔
ضبطِنفس کی قدروقیمت
۴. شادی میں ضبطِنفس کیوں لازمی ہے؟
۴ سلیماؔن بادشاہ نے کہا: ”جو اپنے نفس پر ضابط نہیں وہ بےفصیل اور مسمارشُدہ شہر کی مانند ہے۔“ (امثال ۲۵:۲۸؛۲۹:۱۱) ’اپنے نفس پر ضبط کرنا،‘ ضبطِنفس سے کام لینا اُن کیلئے نہایت ضروری ہے جو خوشآئند شادی کے خواہاں ہیں۔ قہر یا بداخلاق جنسی خواہش جیسے تباہکُن جذبات سے مغلوب ہو جانا ایسے نقصان کا سبب بنیگا جسکی تلافی میں سالہاسال لگ جائیں گے–اگر کبھی اِسکی تلافی ہو سکتی ہے۔
۵. ایک ناکامل انسان کیسے ضبطِنفس پیدا کر سکتا ہے، اور کن فوائد کیساتھ؟
۵ بِلاشُبہ، آؔدم کی نسل میں سے کوئی بھی مکمل طور پر اپنے ناکامل بدن پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ (رومیوں ۷:۲۱، ۲۲) تاہم، ضبطِنفس روح کا پھل ہے۔ (گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) لہٰذا، اگر ہم اِس خوبی کے لئے دُعا کرتے ہیں، اگر ہم صحائف میں پائی جانے والی برمحل مشورت کا اطلاق کرتے ہیں، اور اگر ہم اِسے ظاہر کرنے والوں سے میلجول رکھتے اور نہ کرنے والوں سے دُور رہتے ہیں تو خدا کی روح ہمارے اندر ضبطِنفس کو پیدا کریگی۔ (زبور ۱۱۹:۱۰۰، ۱۰۱، ۱۳۰؛ امثال ۱۳:۲۰؛ ۱-پطرس ۴:۷) ایسا طرزِعمل ”حرامکاری سے بھاگنے“ کے لئے ہماری مدد کریگا اُس وقت بھی جب ہم آزمائے جاتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۶:۱۸) ہم تشدد کو مسترد کرینگے اور شرابخواری سے بچینگے یا اِس پر قابو پائینگے۔ اور ہم اشتعالانگیزیوں اور مشکل حالتوں کا زیادہ ٹھنڈے دل کے ساتھ مقابلہ کرینگے۔ دُعا ہے کہ سب–بچوں سمیت–روح کے اِس نہایت ضروری پھل کو پیدا کرنا سیکھیں۔–زبور ۱۱۹:۱، ۲۔
سرداری کی بابت صحیح نظریہ
۶. (ا) الہٰی طور پر قائمکردہ سرداری کا بندوبست کیا ہے؟ (ب) ایک مرد کو کیا یاد رکھنا چاہئے اگر اُس کی سرداری کو اُسکے خاندان کیلئے خوشی کا باعث ہونا ہے؟
۶ دوسرا اہم اصول سرداری کو تسلیم کرنا ہے۔ پولسؔ نے چیزوں کے صحیح بندوبست کا بیان کِیا جب اُس نے کہا: ”مَیں تمہیں آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہر مرد کا سر مسیح اور عورت کا سر مرد اور مسیح کا سر خدا ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۱:۳) اِسکا مطلب ہے کہ مرد خاندان کے اندر پیشوائی کرتا ہے، اُسکی بیوی وفاداری کیساتھ تعاون کرتی ہے، اور بچے اپنے والدین کے فرمانبردار رہتے ہیں۔ (افسیوں ۵:۲۲-۲۵، ۲۸-۳۳؛ ۶:۱-۴) تاہم، غور کریں کہ سرداری خوشی کا موجب صرف اُس وقت بنتی ہے جب اِسے صحیح طریقے سے عمل میں لایا جاتا ہے۔ خدائی عقیدت کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے شوہر جانتے ہیں کہ سرداری آمریت نہیں ہے۔ وہ اپنے سردار یسوؔع کی نقل کرتے ہیں۔ اگرچہ یسوؔع کو ”سب چیزوں کا سردار بنا“ دیا گیا تھا تو بھی وہ ”اِسلئے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اِسلئے کہ خدمت کرے۔“ (افسیوں ۱:۲۲؛ متی ۲۰:۲۸) اِسی طریقے سے، ایک مسیحی مرد سرداری کو اپنے ذاتی فائدے کیلئے نہیں، بلکہ اپنی بیوی اور بچوں کے مفادات کا خیال رکھنے کے لئے استعمال میں لاتا ہے۔–۱-کرنتھیوں ۱۳:۴، ۵۔
۷. کونسے صحیفائی اصول ایک بیوی کی خاندان کے اندر اپنے خدا کی طرف سے مُعیّنہ کردار کو سرانجام دینے کیلئے مدد کرینگے؟
۷ جہاں تک بیوی کے کردار کا تعلق ہے، جو بیوی خدائی عقیدت کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہے وہ اپنے شوہر کے ساتھ مقابلہبازی نہیں کرتی یا حکم چلانے کی کوشش نہیں کرتی۔ وہ اُس کی حمایت کرنے اور اُس کے ساتھ تعاون کرنے سے خوش ہوتی ہے۔ بائبل بعضاوقات بیوی کا ”شوہر والی“ کے طور پر ذکر کرتی ہے جو اِس چیز کو عیاں کرتا ہے کہ وہ اُس کا سردار ہے۔ (پیدایش ۲۰:۳) شادی کے ذریعے وہ ”شوہر کی شریعت“ کے تحت آ جاتی ہے۔ (رومیوں ۷:۲) تاہم، بائبل اُسے ایک ”مددگار“ اور ایک ”تکملہ“ کہتی ہے۔ (پیدایش ۲:۲۰، اینڈبلیو) وہ ایسی خوبیاں اور صلاحتیں مہیا کرتی ہے جنکی اُس کے شوہر میں کمی ہے اور وہ اُسے ضروری مدد دیتی ہے۔ (امثال ۳۱:۱۰-۳۱) بائبل یہ بھی بیان کرتی ہے کہ بیوی ایک ”رفیق“ ہے، وہ جو اپنے بیاہتا ساتھی کے ساتھ شانہبشانہ کام کرتی ہے۔ (ملاکی ۲:۱۴) یہ صحیفائی اصول شوہر اور بیوی کی ایک دوسرے کی حیثیت کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے ساتھ واجب عزتواحترام کے ساتھ پیش آنے کے لئے مدد کرتے ہیں۔
”سننے میں تیز ہوں“
۸، ۹. بعض اصولوں کی وضاحت کریں جو خاندان میں رابطے کی اپنی مہارتوں کو بہتر بنانے کے لئے سب کی مدد کرینگے۔
۸ اِس کتاب میں رابطے کی ضرورت کو باربار نمایاں کِیا گیا ہے۔ کیوں؟ اِسلئےکہ جب لوگ باتچیت کرتے اور ایک دوسرے کی سنتے ہیں تو مسائل آسانی سے حل ہو جاتے ہیں۔ اِس بات پر باربار زور دیا گیا تھا کہ رابطہ دوطرفہ راستہ ہے۔ یعقوؔب شاگرد نے اِسکا اظہار اِس طرح کِیا: ”ہر آدمی سننے میں تیز اور بولنے میں دھیرا . . . ہو۔“–یعقوب ۱:۱۹۔
۹ جس طرح ہم باتچیت کرتے ہیں اُس کی بابت محتاط رہنا بھی ضروری ہے۔ ناعاقبتاندیش، کٹحُجتی، یا سخت تنقیدی الفاظ کامیاب رابطے کو تشکیل نہیں دیتے۔ (امثال ۱۵:۱؛۲۱:۹؛۲۹:۱۱، ۲۰) جوکچھ ہم کہتے ہیں خواہ درست بھی ہو، اگر اُسکا اظہار سخت، متکبرانہ، یا بےحس لہجے میں کِیا گیا ہے تو غالباً یہ فائدہ کم اور نقصان زیادہ کریگا۔ ہمارا کلام باذوق، ”نمکین“ ہونا چاہئے۔ (کلسیوں ۴:۶) ہمارے الفاظ کو ”روپہلی ٹوکریوں میں سونے کے سیب“ کی طرح کا ہونا چاہئے۔ (امثال ۲۵:۱۱) جن خاندانوں نے اچھا رابطہ رکھنا سیکھ لیا ہے اُنہوں نے خوشی حاصل کرنے کی جانب بڑی پیشرفت کی ہے۔
محبت کا اہم کردار
۱۰. شادی میں کس قسم کی محبت لازمی ہے؟
۱۰ لفظ ”محبت“ اِس کتاب میں باربار آیا ہے۔ کیا آپکو یاد ہے کہ بنیادی طور پر کس قسم کی محبت کی طرف اشارہ کِیا گیا ہے؟ یہ سچ ہے کہ رومانوی محبت (یونانی، ایروس) شادی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، اور کامیاب شادیوں میں، ایک شوہر اور بیوی کے درمیان گہری الفت اور دوستی (یونانی، فیلیا) بڑھتی ہے۔ لیکن یونانی لفظ اگاپے کے ذریعے ظاہرکردہ محبت اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ یہ وہ محبت ہے جو ہم یہوؔواہ کیلئے، یسوؔع کیلئے، اور اپنے ہمسائے کیلئے پیدا کرتے ہیں۔ (متی ۲۲:۳۷-۳۹) یہ وہ محبت ہے جو یہوؔواہ نوعِانسان کیلئے ظاہر کرتا ہے۔ (یوحنا ۳:۱۶) کتنی اچھی بات ہے کہ ہم اپنے بیاہتا ساتھی اور بچوں کیلئے اِسی قسم کی محبت ظاہر کر سکتے ہیں۔–۱-یوحنا ۴:۱۹۔
۱۱. محبت ایک شادی کے مفاد کیلئے کیسے کام کرتی ہے؟
۱۱ شادی میں یہ فائق محبت ”اتحاد کا کامل بندھن ہے۔“ (کلسیوں ۳:۱۴، اینڈبلیو) یہ ایک جوڑے کو باہم باندھ دیتا ہے اور اُنہیں ایک دوسرے اور اپنے بچوں کے لئے وہی کچھ کرنے کا خواہاں ہونے کی تحریک دیتا ہے جو اچھا ہے۔ جب خاندان مشکل حالتوں کا سامنا کرتے ہیں تو محبت اُنہیں معاملات کو اکٹھے ملکر نپٹانے کیلئے مدد فراہم کرتی ہے۔ جب ایک جوڑا بوڑھا ہوتا ہے تو محبت اُنہیں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور ہمیشہ قدر کرتے رہنے کیلئے مدد دیتی ہے۔ ”محبت . . . اپنی بہتری نہیں چاہتی۔ . . . سب کچھ سہہ لیتی ہے۔ سب کچھ یقین کرتی ہے سب باتوں کی اُمید رکھتی ہے۔ سب باتوں کی برداشت کرتی ہے۔ محبت کو زوال نہیں۔“–۱-کرنتھیوں ۱۳:۴-۸۔
۱۲. بیاہتا جوڑے کی طرف سے خدا کیلئے محبت اُنکی شادی کو کیسے مضبوط بناتی ہے؟
۱۲ ازدواجی بندھن بالخصوص اُس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس پر نہ صرف بیاہتا ساتھیوں کے مابین محبت کی بلکہ اوّلین طور پر یہوؔواہ کے لئے محبت کی مہر لگی ہوتی ہے۔ (واعظ ۴:۹-۱۲) کیوں؟ یوؔحنا رسول نے بجا طور پر لکھا: ”خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اُس کے حکموں پر عمل کریں۔“ (۱-یوحنا ۵:۳) پس، ایک جوڑے کو چاہئے کہ اپنے بچوں کی خدائی عقیدت کے لئے تربیت کریں محض اِسلئے نہیں کہ وہ اپنے بچوں سے گہری محبت رکھتے ہیں بلکہ اِسلئے کہ یہ یہوؔواہ کا حکم ہے۔ (استثنا ۶:۶، ۷) اُنہیں بداخلاقی کو صرف اِسلئے ترک نہیں کرنا چاہئے کہ وہ ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں بلکہ بنیادی طور پر اِس وجہ سے کہ وہ یہوؔواہ سے محبت رکھتے ہیں جو ”حرامکاروں اور زانیوں کی عدالت کریگا۔“ (عبرانیوں ۱۳:۴) اگر ایک ساتھی شادی میں سنگین مسائل پیدا کرتا بھی ہے تو یہوؔواہ کے لئے محبت دوسرے کو بائبل اصولوں کی پابندی کرتے رہنے کی تحریک دیگی۔ واقعی، وہ خاندان خوش ہیں، جہاں ایک دوسرے کے لئے محبت کو یہوؔواہ کے لئے محبت سے مضبوط کِیا جاتا ہے!
خاندان جو خدا کی مرضی بجا لاتا ہے
۱۳. خدا کی مرضی بجا لانے کیلئے عزمِمُصمم لوگوں کی واقعی اہم چیزوں پر اپنی نظر جمائے رکھنے کیلئے کیسے مدد کریگا؟
۱۳ ایک مسیحی کی پوری زندگی خدا کی مرضی پوری کرنے پر مُرتکز ہے۔ (زبور ۱۴۳:۱۰) درحقیقت خدائی عقیدت کا یہی مطلب ہے۔ خدا کی مرضی پوری کرنا خاندانوں کی مدد کرتا ہے کہ حقیقت میں اپنی نظریں اہم چیزوں پر مُرتکز رکھیں۔ (فلپیوں ۱:۹، ۱۰) مثال کے طور پر، یسوؔع نے آگاہ کِیا: ”مَیں اِسلئے آیا ہوں کہ آدمی کو اُسکے باپ سے اور بیٹی کو اُسکی ماں سے اور بہو کو اُسکی ساس سے جدا کر دوں۔ اور آدمی کے دشمن اُسکے گھر ہی کے لوگ ہونگے۔“ (متی ۱۰:۳۵، ۳۶) یسوؔع کی آگاہی کی مطابقت میں، اُسکے بہت سے پیروکاروں نے خاندانی افراد کے ہاتھوں اذیت اُٹھائی ہے۔ کیا ہی افسوسناک، تکلیفدہ حالت! تاہم، خاندانی رشتوں کو یہوؔواہ خدا کیلئے اور یسوؔع مسیح کیلئے ہماری محبت پر حاوی نہیں ہونا چاہئے۔ (متی ۱۰:۳۷-۳۹) اگر کوئی شخص خاندانی مخالفت کے باوجود برداشت کرتا ہے تو مخالفین جب خدائی عقیدت کے اچھے اثرات دیکھتے ہیں تو وہ تبدیل ہو سکتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۷:۱۲-۱۶؛۱-پطرس ۳:۱، ۲) اگر ایسے واقع نہ بھی ہو تو بھی مخالفت کی وجہ سے خدا کی خدمت کرنا بند کر دینے سے کوئی دائمی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
۱۴. خدا کی مرضی بجا لانے کی خواہش والدین کی اپنے بچوں کے بہترین مفاد کی خاطر کام کرنے کے لئے کیسے مدد کریگی؟
۱۴ خدا کی مرضی بجا لانا درست فیصلے کرنے کے لئے والدین کی مدد کرتا ہے۔ مثال کے طورپر، بعض خطوں میں والدین اپنے بچوں کو سرمایہ خیال کرتے ہیں، اور وہ اپنے بڑھاپے میں اپنی دیکھبھال کے لئے اپنے بچوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اگرچہ بالغ بچوں کے لئے یہ درست اور واجب ہے کہ اپنے عمررسیدہ والدین کی دیکھبھال کریں، تاہم ایسے پاسولحاظ کو والدین کو یہ اُکساہٹ نہیں دینی چاہئے کہ اپنے بچوں پر ایک مادہپرستانہ طرزِزندگی اختیار کرنے کے لئے اثرانداز ہوں۔ والدین اپنے بچوں پر کوئی کرمفرمائی نہیں کرتے اگر وہ اُنکی پرورش اِس طریقے سے کرتے ہیں کہ وہ روحانی چیزوں کی نسبت مادی اثاثوں کی زیادہ قدر کرتے ہیں۔–۱-تیمتھیس ۶:۹۔
۱۵. تیمتھیسؔ کی ماں، یوؔنیکے، خدا کی مرضی بجا لانے والی ایک ماں کا شاندار نمونہ کیسے تھی؟
۱۵ اس سلسلے میں ایک عمدہ مثال پولسؔ کے جوان دوست تیمتھیسؔ کی ماں یوؔنیکے کی ہے۔ (۲-تیمتھیس ۱:۵) اگرچہ اُسکی شادی ایک بےایمان شخص سے ہوئی تھی تو بھی یوؔنیکے نے، تیمتھیسؔ کی نانی لوئسؔ کیساتھ ملکر، تیمتھیسؔ کی پرورش کامیابی کیساتھ کی کہ خدائی عقیدت کے حصول میں رہے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۴، ۱۵) جب تیمتھیسؔ کافی بڑا ہو گیا تو یوؔنیکے نے اُسے گھر چھوڑنے اور پولسؔ کے مشنری ساتھی کے طور پر بادشاہتی منادی کا کام شروع کرنے کی اجازت دے دی۔ (اعمال ۱۶:۱-۵) جب اُسکا بیٹا ایک ممتاز مشنری بن گیا تو وہ کتنی خوش ہوئی ہوگی! ایک بالغ کے طور پر اُسکی خدائی عقیدت نے اُسکی بچپن کی تربیت کی اچھی عکاسی کی۔ یقینی طور پر، یوؔنیکے نے تیمتھیسؔ کی وفادارانہ خدمتگزاری کی رپورٹیں سننے سے اطمینان اور خوشی حاصل کی، اگرچہ اُس نے غالباً اُسکی اپنے پاس نہ ہونے کی کمی کو محسوس کِیا ہوگا۔–فلپیوں ۲:۱۹، ۲۰۔
خاندان اور آپکا مستقبل
۱۶. ایک بیٹے کے طور پر، یسوؔع نے کونسی واجب فکرمندی دکھائی، لیکن اُسکا اوّلین مقصد کیا تھا؟
۱۶ یسوؔع نے ایک خداپرست خاندان کے اندر پرورش پائی تھی اور ایک بالغ کے طور پر، اپنی ماں کیلئے مناسب فکرمندی دکھائی۔ (لوقا ۲:۵۱، ۵۲؛ یوحنا ۱۹:۲۶) تاہم، یسوؔع کا بنیادی مقصد خدا کی مرضی پوری کرنا تھا، اور اُس کیلئے اِس میں انسانوں کیلئے ہمیشہ کی زندگی سے لطف اُٹھانے کیلئے راہ کھولنا بھی شامل تھا۔ اُس نے یہ اُس وقت کِیا جب اُس نے گنہگار نوعِانسان کیلئے اپنی کامل زندگی فدیے کے طور پر پیش کی۔–مرقس ۱۰:۴۵؛یوحنا ۵:۲۸، ۲۹۔
۱۷. یسوؔع کی وفادارانہ روش نے خدا کی مرضی بجا لانے والوں کیلئے کونسے شاندار امکانات کی راہ کھول دی؟
۱۷ یسوؔع کی موت کے بعد، یہوؔواہ نے اُسے آسمانی زندگی کیلئے زندہ کِیا اور انجامکار، آسمانی بادشاہت میں اُسے بادشاہ کے طور پر مسندنشین کرتے ہوئے، اُسے عظیم اختیار بخشا۔ (متی ۲۸:۱۸؛ رومیوں ۱۴:۹؛مکاشفہ ۱۱:۱۵) یسوؔع کی قربانی نے بعض انسانوں کے اُس بادشاہت میں اُس کیساتھ حکمرانی کرنے کیلئے منتخب کئے جانے کو ممکن بنایا۔ اِس نے باقیماندہ راستدل نوعِانسانی کیلئے بھی زمین پر بحالشُدہ فردوسی حالتوں میں کامل زندگی سے لطف اُٹھانے کیلئے راہ کھول دی۔ (مکاشفہ ۵:۹، ۱۰؛ ۱۴:۱، ۴؛۲۱:۳-۵؛۲۲:۱-۴) عظیمترین استحقاقات میں سے ایک جو ہمیں آجکل حاصل ہے وہ اپنے پڑوسیوں کو اِس شاندار خوشخبری کی بابت بتانا ہے۔–متی ۲۴:۱۴۔
۱۸. خاندانوں اور اشخاص دونوں کو کیا یاددہانی اور حوصلہافزائی کرائی گئی ہے؟
۱۸ جیسےکہ پولسؔ رسول نے ظاہر کِیا، خدائی عقیدت والی زندگی گزارنے کے ساتھ وعدہ شامل ہے کہ لوگ ”آیندہ کی“ زندگی میں ان برکات کے وارث ہو سکتے ہیں۔ یقیناً، خوشی حاصل کرنے کا یہ نہایت بہترین طریقہ ہے!یاد رکھیں کہ ”دُنیا اور اُسکی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہیگا۔“ (۱-یوحنا ۲:۱۷) پس، خواہ آپ بچے ہیں یا ایک ماں یا باپ، ایک شوہر یا ایک بیوی، یا بچوں کیساتھ یا بغیر ایک تنہا بالغ ہیں، خدا کی مرضی بجا لانے کی کوشش کریں۔ اُس وقت بھی جب آپ دباؤ کے تحت ہیں یا شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، کبھی نہ بھولیں کہ آپ زندہ خدا کے خادم ہیں۔ پس، دُعا ہے کہ آپکے افعال یہوؔواہ کیلئے خوشی کا باعث بنیں۔ (امثال ۲۷:۱۱) اور خدا کرے کہ آپکا چالچلن اب آپ کیلئے خوشی اور آنے والی نئی دُنیا میں ہمیشہ کی زندگی پر منتج ہو!
یہ بائبل اصول آپکے خاندان کی . . . خوش ہونے کیلئے کیسے مدد کر سکتے ہیں؟
ضبطِنفس پیدا کِیا جا سکتا ہے۔–گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳۔
سرداری کیلئے مناسب نقطۂنظر کے ساتھ، شوہر اور بیوی دونوں خاندان کے بہترین مفادات کی جستجو میں رہتے ہیں۔ –افسیوں ۵:۲۲-۲۵، ۲۸-۳۳؛۶:۴۔
رابطے میں سننا شامل ہے۔–یعقوب ۱:۱۹۔
یہوؔواہ کیلئے محبت شادی کو مستحکم بنائیگی۔–۱-یوحنا ۵:۳۔
خدا کی مرضی بجا لانا خاندان کیلئے نہایت ہی اہم نصبالعین ہے۔ –زبور ۱۴۳:۱۰؛۱-تیمتھیس ۴:۸۔
[صفحہ ۱۸۸ پر بکس]
کنوارپن کی بخشش
ہر ایک کی شادی نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی تمام شادیشُدہ جوڑے بچے پیدا کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ یسوؔع کنوارا تھا اور اُس نے کنوارپن کا ایک بخشش کے طور پر ذکر کِیا جب یہ ”آسمان کی بادشاہی کیلئے“ کِیا جاتا ہے۔ (متی ۱۹:۱۱، ۱۲) پولسؔ رسول نے بھی شادی نہ کرنے کا انتخاب کِیا۔ اُس نے کنوارپن اور بیاہتا حالت دونوں کا ’توفیق‘ کے طور پر ذکر کِیا۔ (۱-کرنتھیوں ۷:۷، ۸، ۲۵-۲۸) لہٰذا، اگرچہ اِس کتاب نے زیادہتر ایسے معاملات پر بحث کی ہے جنکا تعلق شادی یا بچوں کی پرورش کرنے سے ہے، تو بھی ہمیں کنوارے رہنے یا شادیشُدہ ہونے، مگر بچے پیدا نہ کرنے کی امکانی برکات اور انعامات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔