باب پندرہ
اپنے عمررسیدہ والدین کی عزت کرنا
۱. ہم اپنے والدین کے کن چیزوں کے لئے مقروض ہیں، اور اسلئے ہمیں اُن کے سلسلے میں کیسا محسوس کرنا اور عمل کرنا چاہئے؟
”اپنے باپ کا جس سے تُو پیدا ہوا شنوا ہو اور اپنی ماں کو اُسکے بڑھاپے میں حقیر نہ جان،“ قدیم زمانے کے دانشمند شخص نے نصیحت کی۔ (امثال ۲۳:۲۲) ’مَیں کبھی اَیسا نہیں کرونگا!‘ شاید آپ کہیں۔ اپنی ماؤں–یا اپنے والدوں کی–تحقیر کرنے کی بجائے ہم میں سے بیشتر اُن کیلئے گہری محبت کا احساس رکھتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اُنکے بڑے مقروض ہیں۔ سب سے بڑھکر، ہمارے والدین نے ہمیں زندگی بخشی۔ اگرچہ یہوؔواہ زندگی کا سرچشمہ ہے تو بھی ہمارے والدین کے بغیر ہمارا وجود ہی نہ ہوتا۔ ہم اپنے والدین کو زندگی سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں دے سکتے۔ اسکے بعد، ایک بچے کی زندگی کی راہ میں طفولت سے بلوغت تک مدد کرنے میں شامل خودایثاری، فکرمندانہ نگہداشت، خرچ، اور محبتآمیز توجہ کی بابت سوچیں۔ پس، یہ کتنا معقول ہے کہ خدا کا کلام نصیحت کرتا ہے: ”اپنے باپ اور ماں کی عزت کر . . . تاکہ تیرا بھلا ہو اور تیری عمر زمین پر دراز ہو۔“–افسیوں ۶:۲، ۳۔
جذباتی ضروریات کو سمجھنا
۲. بالغ بچے اپنے والدین کا ”حق“ کیسے ادا کر سکتے ہیں؟
۲ پولسؔ رسول نے مسیحیوں کو لکھا: ”. . . بیٹے یا پوتے . . . پہلے اپنے ہی گھرانے کیساتھ دینداری کا برتاؤ کرنا اور ماںباپ [اور بڑےبوڑھوں] کا حق ادا کرنا سیکھیں کیونکہ یہ خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے۔“ (۱-تیمتھیس ۵:۴) بالغ بچے یہ ”حق“ سالہاسال کی محبت، محنت، اور نگہداشت کیلئے قدردانی دکھانے سے ادا کرتے ہیں جو اُنکے والدین اور بڑےبوڑھوں نے اُنکے سلسلے میں کی ہے۔ ایک طریقہ جس سے بچے ایسا کر سکتے ہیں وہ اِس بات کو سمجھنا ہے کہ ہر ایک کی طرح، عمررسیدہ اشخاص کو بھی محبت اور یقیندہانی کی ضرورت ہوتی ہے–اکثر نہایت شدت کیساتھ۔ ہم سب کی طرح اُنہیں بھی قدر کئے جانے کے احساس کی ضرورت ہے۔ اُنہیں یہ محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ اُنکی زندگیاں قابلِاحترام ہیں۔
۳. ہم والدین اور بڑےبوڑھوں کا ادب کیسے کر سکتے ہیں؟
۳ پس ہم اپنے والدین اور بڑےبوڑھوں کی اُنہیں یہ باور کرانے سے عزت کر سکتے ہیں کہ ہم اُن سے محبت کرتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۶:۱۴) اگر ہمارے والدین ہمارے ساتھ بودوباش نہیں کرتے تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری طرف سے خیرخبر سننا اُن کے لئے بہت پُرمطلب ہو سکتا ہے۔ ایک خوشآئند خط، ایک فون کال، یا ملاقات اُن کی خوشی میں بڑی حد تک اضافہ کر سکتی ہے۔ مائیوؔ جو جاؔپان میں رہتی ہے اُس نے ۸۲ برس کی عمر میں لکھا: ”میری بیٹی [جس کا شوہر ایک سفری خادم ہے] مجھے کہتی ہے: ’ماں، مہربانی سے ہمارے ساتھ ساتھ ”سفر“ کِیا کریں۔‘ وہ مجھے اپنا سفری شیڈول اور ہر ہفتے کیلئے ٹیلیفون نمبر بھیجتی ہے۔ مَیں اپنا نقشہ کھولتی ہوں اور کہتی ہوں: ’اوہو۔ اب وہ یہاں ہیں!‘ مَیں ایسی بیٹی حاصل کرنے کی برکت کیلئے ہمیشہ یہوؔواہ کا شکر ادا کرتی ہوں۔“
مالی ضروریات کے سلسلے میں مدد کرنا
۴. یہودی مذہبی روایت نے عمررسیدہ والدین کے سلسلے میں کیسے بےحسی کی حوصلہافزائی کی؟
۴ کیا کسی شخص کے اپنے والدین کی عزت کرنے میں اُنکی مالی ضروریات کو پورا کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے؟ جیہاں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے۔ یسوؔع کے زمانے میں یہودی مذہبی پیشواؤں نے اِس روایت کی حمایت کی کہ اگر ایک شخص یہ اعلان کرتا ہے کہ اُس کا پیسہ یا جائداد ”خدا کی نذر ہو چکی،“ تو وہ اسے اپنے والدین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے استعمال میں لانے کی ذمہداری سے آزاد تھا۔ (متی ۱۵:۳-۶) کتنی بےحسی! عملاً، وہ مذہبی پیشوا، لوگوں کی اپنے والدین کی عزت نہ کرنے بلکہ خودغرضانہ طور پر اُن کی ضروریات سے مُنہ موڑنے سے اُن کے ساتھ توہینآمیز سلوک کرنے کی حوصلہافزائی کر رہے تھے۔ ہم کبھی بھی نہیں چاہینگے کہ ایسا کریں!–استثنا ۲۷:۱۶۔
۵. بعض ممالک میں حکومتوں کی طرف سے فراہمیوں کے باوجود، اپنے والدین کی عزت کرنے میں بعضاوقات مالی مدد دینا کیوں شامل ہوتا ہے؟
۵ آجکل بہتیرے ممالک میں، حکومت کی طرف سے امدادی پروگرام عمررسیدہ کی کچھ مالی ضروریات پوری کرتے ہیں، جیسےکہ خوراک، لباس، اور رہائش۔ علاوہازیں، شاید عمررسیدہ خود بھی اپنے بڑھاپے کیلئے کچھ پسانداز کرنے کے قابل ہوئے ہوں۔ لیکن اگر یہ فراہمیاں ختم ہو جاتی ہیں یا ناکافی ثابت ہوتی ہیں تو بچے اپنی بساط کے مطابق اپنے والدین کی ضروریات کو پورا کرنے سے اپنے والدین کی عزت کرتے ہیں۔ درحقیقت، عمررسیدہ والدین کی نگہداشت کرنا خدائی عقیدت، یعنی خاندانی بندوبست کے بانی، یہوؔواہ خدا کیلئے ایک شخص کی عقیدت کا ثبوت ہے۔
محبت اور خودایثاری
۶. بعض نے اپنے والدین کی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطر بودوباش کے کونسے انتظامات کئے ہیں؟
۶ بہتیرے بالغ بچوں نے اپنے ضعیف والدین کی ضروریات کو محبت اور خودایثاری کیساتھ پورا کِیا ہے۔ بعض اپنے والدین کو اپنے گھروں میں لے آئے ہیں یا اُنکے نزدیک منتقل ہو گئے ہیں۔ دیگر اپنے والدین کیساتھ رہنے کیلئے منتقل ہو گئے ہیں۔ اکثروبیشتر، ایسے بندوبست والدین اور بچوں دونوں کیلئے ایک برکت ثابت ہوئے ہیں۔
۷. عمررسیدہ والدین کے سلسلے میں فیصلے کرنے میں عجلت سے کام لینا کیوں اچھا نہیں ہے؟
۷ تاہم، بعضاوقات، ایسی نقلمکانیاں زیادہ مفید ثابت نہیں ہوتیں۔ کیوں؟ شاید اِس وجہ سے کہ فیصلے زیادہ عجلت میں کئے گئے ہیں یا صرف جذبات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ”ہوشیار آدمی اپنی روش کو دیکھتابھالتا ہے،“ بائبل دانشمندی کیساتھ خبردار کرتی ہے۔ (امثال ۱۴:۱۵) مثال کے طور پر، فرض کریں کہ آپ کی عمررسیدہ والدہ کو تنہا رہنے میں مشکل پیش آ رہی ہے اور آپ سوچتے ہیں کہ شاید آپ کے پاس آ جانے سے اُسے فائدہ ہو۔ سمجھداری کے ساتھ اپنی روش پر غوروفکر کرتے ہوئے، شاید آپ درجذیل باتوں پر سوچیں: اُس کی حقیقی ضروریات کیا ہیں؟ کیا ایسے غیرسرکاری یا حکومت کے انتظامات ہیں جو تسلیبخش متبادل حل پیش کرتے ہیں؟ کیا وہ منتقل ہونا چاہتی ہے؟ اگر وہ چاہتی ہے تو اُس کی زندگی کن طریقوں سے متاثر ہوگی؟ کیا اُسے پیچھے دوستوں کو چھوڑنا پڑیگا؟ اِسکا جذباتی طور پر اُس پر کیسا اثر ہو سکتا ہے؟ کیا آپ نے اِن چیزوں پر اُس کے ساتھ باتچیت کر لی ہے؟ ایسی منتقلی آپ پر، آپ کے بیاہتا ساتھی پر، آپکے اپنے بچوں پر کیسا اثر ڈال سکتی ہے؟ اگر آپ کی ماں کو دیکھبھال کی ضرورت ہے تو کون فراہم کریگا؟ کیا ذمہداری کو بانٹا جا سکتا ہے؟ کیا آپ نے اُن سب کے ساتھ باتچیت کر لی ہے جو براہِراست شامل ہیں؟
۸. یہ فیصلہ کرتے وقت کہ اپنے عمررسیدہ والدین کی مدد کیسے کریں آپ کس سے مشورہ کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں؟
۸ چونکہ دیکھبھال کی ذمہداری خاندان کے اندر تمام بچوں پر آتی ہے اِسلئے یہ دانشمندی کی بات ہو سکتی ہے کہ ایک خاندانی کانفرنس طلب کریں تاکہ فیصلے کرنے میں سب حصہ لے سکیں۔ مسیحی کلیسیا میں بزرگوں سے یا ایسے دوستوں کیساتھ باتچیت کرنا بھی مفید ہو سکتا ہے جو اِسی طرح کی صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں۔ ”صلاح کے بغیر اِرادے پورے نہیں ہوتے،“ بائبل آگاہ کرتی ہے، ”پر صلاحکاروں کی کثرت سے قیام پاتے ہیں۔“–امثال ۱۵:۲۲۔
ہمدرد اور فہیم بنیں
۹، ۱۰. (ا)اُن کی سِنرسیدگی کے باوجود، عمررسیدہ اشخاص کے سلسلے میں کیا پاسولحاظ دکھانا چاہئے؟ (ب) اپنے والدین کی خاطر ایک بالغ بچہ جو بھی اقدام کرتا ہے اس سے قطعنظر، اُسے اُنہیں ہمیشہ کیا دینا چاہئے؟
۹ اپنے عمررسیدہ والدین کی عزت کرنا ہمدردی اور سمجھداری کا تقاضا کرتا ہے۔ جب سال اپنا اثر دکھاتے ہیں تو عمررسیدہ لوگ چلناپھرنا، کھانا، اور یاد رکھنا ازحد مشکل پا سکتے ہیں۔ اُنہیں مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ بچے اکثر سرپرست بن جاتے ہیں اور راہنمائی فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن عمررسیدہ عمربھر کی حکمت اور تجربہ رکھنے والے بالغ ہیں، اپنی ذاتی دیکھبھال کرنے اور اپنے ذاتی فیصلے کرنے والی ایک عمر۔ اُن کی شناخت اور عزتِنفس اُن کے بطور والدین اور بالغوں کے کردار پر مُرتکز ہو سکتی ہے۔ جو والدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ اُنہیں اپنی زندگیوں کا اختیار اپنے بچوں کو سونپنا ہوگا وہ افسردہ یا رنجیدہ ہو سکتے ہیں۔ بعض آزردہ ہوتے اور اُن کوششوں کی مزاحمت کرتے ہیں جو اُنہیں اُن کی آزادی سے محروم کرنے والی دکھائی دے سکتی ہیں۔
۱۰ ایسے مسائل کے آسان حل نہیں ہیں، لیکن ممکنہ حد تک عمررسیدہ والدین کو اپنی دیکھبھال خود کرنے اور اپنے ذاتی فیصلے کرنے کی اجازت دینا ایک مہربانی ہے۔ آپ کے والدین کے لئے کیا بہتر ہے اُس کی بابت پہلے اُن سے باتچیت کئے بغیر فیصلے نہ کرنا دانشمندی کی بات ہے۔ وہ شاید بہت کچھ کھو چکے ہیں۔ جوکچھ باقی ہے اُسے اُن کے پاس رہنے دیں۔ آپ محسوس کرینگے کہ آپ اپنے والدین کی زندگیوں پر جتنا کم اختیار جتانے کی کوشش کرتے ہیں، اُن کے ساتھ آپ کا رشتہ اتنا ہی بہتر ہوگا۔ وہ زیادہ خوش ہونگے اور اِسی طرح آپ بھی ہونگے۔ حتیٰکہ اگر اُن کی بہتری کی خاطر بعض باتوں کے لئے اُن پر زور دینا ضروری بھی ہو تو بھی اپنے والدین کی عزت کرنا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اُنہیں وہ عزت اور احترام دیں جسکے وہ مستحق ہیں۔ خدا کا کلام مشورت دیتا ہے: ”جنکے سر کے بال سفید ہیں تُو اُن کے سامنے اُٹھ کھڑے ہونا اور بڑےبوڑھے کا ادب کرنا۔“–احبار ۱۹:۳۲۔
درست رویہ قائم رکھنا
۱۱-۱۳. اگر ایک بالغ بچے کا ماضی میں اپنے والدین کے ساتھ تعلق اچھا نہیں تھا، تو بھی وہ اُن کے بڑھاپے میں اُن کی دیکھبھال کرنے کے چیلنج سے کیسے نپٹ سکتا ہے؟
۱۱ بعضاوقات بالغ بچوں کو اپنے عمررسیدہ والدین کی عزت کرنے کے سلسلے میں جو مسئلہ درپیش ہوتا ہے اُس میں اُس تعلق کا عملدخل ہوتا ہے جو وہ شروع کے سالوں میں اپنے والدین کے ساتھ رکھتے تھے۔ شاید آپکا والد سردمہر اور نامہربان، اور آپکی ماں حکم چلانے والی اور سخت تھی۔ آپ شاید ابھی تک شکستخوردہ، رنجیدہ، یا زخمخوردہ محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ ایسے والدین نہیں تھے جیسے آپ چاہتے تھے کہ وہ ہوں۔ کیا آپ ایسے احساسات پر قابو پا سکتے ہیں؟a
۱۲ فنلینڈؔ میں پرورش پانے والا بیصےؔ بیان کرتا ہے: ”میرا سوتیلا باپ نازی جرمنی میں ایک ایسایس آفیسر رہ چکا تھا۔ وہ جلدی سے غصے میں آ جاتا اور اسکے بعد وہ خطرناک ہو جاتا تھا۔ اُس نے میری آنکھوں کے سامنے کئی مرتبہ میری ماں کی پٹائی کی۔ ایک مرتبہ جب وہ میرے ساتھ ناراض تھا تو اُس نے اپنی بلٹ گھمائی اور بکل میرے مُنہ پر دے مارا۔ وہ مجھے اتنے زور سے لگا کہ مَیں بڑے زور کیساتھ پلنگ کی دوسری طرف جا گِرا۔“
۱۳ تاہم، تصویر کا دوسرا رُخ بھی تھا۔ بیصےؔ اضافہ کرتا ہے: ”دوسری جانب اُس نے سخت محنت کی اور خاندان کی مالی طور پر دیکھبھال کرنے کیلئے اُس نے کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی۔ اُس نے میرے لئے کبھی پدرانہ شفقت نہ دکھائی، لیکن مَیں جانتا ہوں کہ وہ جذباتی طور پر زخمخوردہ تھا۔ جب وہ چھوٹا لڑکا ہی تھا تو اُسکی ماں نے اُسے گھر سے نکال دیا تھا۔ وہ لڑائیجھگڑوں کیساتھ پروان چڑھا اور ایک جوان مرد کے طور پر جنگ کیلئے بھرتی ہو گیا۔ کسی حد تک مَیں سمجھ سکتا تھا اور اُسے موردِالزام نہیں ٹھہرایا۔ جب مَیں بڑا ہوا تو اُسکی وفات تک جس حد تک مَیں کر سکتا تھا مَیں اُسکی مدد کرنے کا خواہاں رہا۔ یہ آسان نہیں تھا لیکن جوکچھ مَیں کر سکتا تھا مَیں نے وہ کِیا۔ مَیں نے آخر تک سعادتمند بیٹا بننے کی کوشش کی، اور میرا خیال ہے کہ اُس نے مجھے اِسی طرح قبول کِیا۔“
۱۴. تمام حالتوں میں بشمول اُن کے جو عمررسیدہ والدین کی دیکھبھال کرنے کے سلسلے میں پیدا ہوتی ہیں، کونسا صحیفہ عائد ہوتا ہے؟
۱۴ دیگر معاملات کی طرح، خاندانی معاملات میں بھی بائبل مشورت قابلِعمل ہے: ”دردمندی اور مہربانی اور فروتنی اور حلم اور تحمل کا لباس پہنو۔ اگر کسی کو دوسرے کی شکایت ہو تو ایک دوسرے کی برداشت کرے اور ایک دوسرے کے قصور معاف کرے۔ جیسے خداوند نے تمہارے قصور معاف کئے ویسے ہی تم بھی کرو۔“–کلسیوں ۳:۱۲، ۱۳۔
نگہداشت کرنے والوں کو بھی نگہداشت کی ضرورت ہے
۱۵. بعضاوقات والدین کی نگہداشت کرنا تکلیفدہ کیوں ہے؟
۱۵ ضعیف ماں یا باپ کی دیکھبھال کرنا محنتطلب کام ہے، جس میں بہت سے کام، بڑی ذمہداری، اور طویل گھنٹے شامل ہیں۔ لیکن نہایت مشکل حصہ اکثر جذباتی ہوتا ہے۔ اپنے والدین کو اپنی صحت، یادداشت، اور خودمختاری سے محروم ہوتے ہوئے دیکھنا تکلیفدہ بات ہے۔ پورٹوؔریکو سے تعلق رکھنے والی سینڈؔی بیان کرتی ہے: ”میری والدہ ہمارے خاندان کا مرکز تھی۔ اُسکی دیکھبھال کرنا بڑا تکلیفدہ تھا۔ شروع میں اُس نے لنگڑانا شروع کِیا؛ اسکے بعد اُسے چھڑی کی، اِسکے بعد والکر، اور پھر ویلچیئر کی ضرورت تھی۔ اِسکے بعد اُسکی صحت بتدریج گرتی گئی تاوقتیکہ وہ انتقال نہ کر گئی۔ اُسے ہڈی کا کینسر ہو گیا تھا اور اُسے دن اور رات–مستقل نگہداشت کی ضرورت تھی۔ ہم اُسے غسل دیتے اور کھانا کھلاتے اور اُس کیلئے پڑھتے تھے۔ یہ بہت مشکل کام تھا–بالخصوص جذباتی طور پر۔ جب مجھے احساس ہو گیا کہ میری والدہ مر رہی تھی تو مَیں بہت روئی کیونکہ مَیں اُس سے بہت محبت رکھتی تھی۔“
۱۶، ۱۷. کونسی نصیحت نگہداشت کرنے والے کو چیزوں کی بابت ایک متوازن نظریہ رکھنے کیلئے مدد دے سکتی ہے؟
۱۶ اگر آپ خود کو ایسی ہی حالت میں پاتے ہیں تو اس سے نپٹنے کیلئے آپ کیا کر سکتے ہیں؟ بائبل پڑھائی کرنے کے ذریعے یہوؔواہ کی سننا اور دُعا کے ذریعے اُس سے کلام کرنا آپکی بڑی مدد کریگا۔ (فلپیوں ۴:۶، ۷) عملی طور پر، اس بات کا یقین کر لیں کہ آپ متوازن خوراک کھائیں اور خوب نیند بھر کر سونے کی کوشش کریں۔ ایسا کرنے سے آپ جذباتی اور جسمانی طور پر، دونوں طرح سے اپنے عزیز کی دیکھبھال کرنے کیلئے بہتر حالت میں ہونگے۔ شاید آپ روزانہ کے معمول سے کبھیکبھار آرام حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر چھٹی ممکن نہ بھی ہو تو بھی سستانے کیلئے کچھ وقت نکالنا دانشمندی کی بات ہے۔ کچھ وقت الگ رہنے کیلئے، آپ اپنے بیمار باپ یا ماں کے پاس ٹھہرنے کیلئے کسی دوسرے کا بندوبست کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
۱۷ بالغ نگہداشت کرنے والوں کا اپنے آپ سے غیرمعقول توقعات رکھنا غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ لیکن جو کچھ آپ نہیں کر سکتے اُس کیلئے مجرم خیال نہ کریں۔ بعض حالتوں میں آپکو اپنے عزیز کو نگہداشت کیلئے کسی نرسنگہوم کے سپرد کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اگر آپ نگہداشت کرنے والے ہیں تو اپنے لئے معقول توقعات رکھیں۔ آپکو نہ صرف اپنے والدین کی، بلکہ اپنے بچوں، اپنے شریکِحیات، اور اپنی ضروریات کو بھی متوازن رکھنا چاہئے۔
حد سے زیادہ طاقت
۱۸، ۱۹. یہوؔواہ نے مدد کا کیا وعدہ کِیا ہے، اور کونسا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اِس وعدے کی پابندی کرتا ہے؟
۱۸ اپنے کلام، بائبل کے ذریعے، یہوؔواہ پُرمحبت طریقے سے راہنمائی فراہم کرتا ہے جو اپنے بوڑھے ہونے والے والدین کی دیکھبھال کرنے کیلئے کسی شخص کی مدد کر سکتی ہے۔ ”خداوند اُن سب کے قریب ہے جو اُس سے دُعا کرتے ہیں،“ زبورنویس نے زیرِالہام لکھا۔ ”وہ اُنکی فریاد سنیگا اور اُنکو بچا لیگا۔“ یہوؔواہ اپنے وفادار لوگوں کو نہایت مشکل حالتوں سے بھی بچائیگا، یا محفوظ رکھیگا۔–زبور ۱۴۵:۱۸، ۱۹۔
۱۹ فلپاؔئن میں مائرؔنا نے اپنی ماں کی نگہداشت کرتے وقت جسے فالج کے ایک دَورے نے بےبس کر دیا تھا یہ سیکھ لیا۔ ”اپنے عزیز کو تکلیف میں مبتلا دیکھنے سے زیادہ بےدل کرنے والی کوئی چیز نہیں، کہ آپکو یہ بھی نہ بتا سکے کہ تکلیف کہاں ہے،“ مائرؔنا لکھتی ہے۔ ”یہ اُسے آہستہ آہستہ ڈوبتے ہوئے دیکھنے کی طرح تھا، اور مَیں کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔ کئی بار مَیں گھٹنے ٹیک کر یہوؔواہ سے کہتی کہ مَیں کسقدر تھک چکی تھی۔ مَیں داؔؤد کی طرح پکار اُٹھی جس نے یہوؔواہ سے التجا کی کہ اُسکے آنسوؤں کو مشکیزے میں رکھ لے اور اُسے یاد رکھے۔ [زبور ۵۶:۸] اور جیسے یہوؔواہ نے وعدہ کِیا ہے، اُس نے مجھے ضروری قوت بخشی۔ ’یہوؔواہ میرا سہارا تھا۔‘“–زبور ۱۸:۱۸۔
۲۰. بائبل کے کونسے وعدے نگہداشت کرنے والوں کی پُراُمید رہنے کیلئے مدد کرتے ہیں، خواہ وہ شخص جسکی وہ دیکھبھال کرتے ہیں فوت ہو جاتا ہے؟
۲۰ یہ کہا جاتا ہے کہ سنِرسیدہ والدین کی دیکھبھال کرنا ”خوشآئند انجام کے بغیر کہانی“ ہے۔ نگہداشت کے سلسلے میں بہترین کوششوں کے باوجود بھی، عمررسیدہ اشخاص فوت ہو سکتے ہیں، جیسے مائرؔنا کی ماں ہو گئی تھی۔ لیکن یہوؔواہ پر توکل کرنے والے جانتے ہیں کہ موت کہانی کا انجام نہیں ہے۔ پولسؔ رسول نے کہا: ”خدا سے . . . اُمید رکھتا ہوں . . . کہ راستبازوں اور ناراستوں دونوں کی قیامت ہوگی۔“ (اعمال ۲۴:۱۵) وہ جو موت کی وجہ سے عمررسیدہ والدین کھو چکے ہیں اُمیدِقیامت کے ساتھ ساتھ خدا کی تیارکردہ ایک مسرتبخش نئی دُنیا کے وعدے سے بھی تسلی پاتے ہیں جس میں ”موت [نہیں] رہیگی۔“–مکاشفہ ۲۱:۴۔
۲۱. عمررسیدہ والدین کی عزت کرنے کے کونسے اچھے نتائج حاصل ہوتے ہیں؟
۲۱ خدا کے خادم اپنے والدین کے لئے بڑا پاسولحاظ رکھتے ہیں، اگرچہ وہ شاید عمررسیدہ ہو گئے ہیں۔ (امثال ۲۳:۲۲-۲۴) وہ اُن کی عزت کرتے ہیں۔ ایسا کرنے سے، وہ اُس چیز کا تجربہ کرتے ہیں جو الہامی مثل بیان کرتی ہے: ”تیرے ماںباپ خوشی کریں گے، اور جس نے تجھے پیدا کِیا شادمان ہوگی۔“ (امثال ۲۳:۲۵، اینڈبلیو) اور سب سے بڑھکر جو اپنے عمررسیدہ والدین کی عزت کرتے ہیں وہ یہوؔواہ خدا کو بھی خوش کرتے اور اُسکا احترام کرتے ہیں۔
[فٹنوٹ]
a یہاں پر ہم ایسی حالتوں پر بحث نہیں کر رہے جہاں والدین اپنے اختیار اور فرض کا نہایت غلط استعمال کرنے کے مجرم تھے، جسے کسی حد تک مجرمانہ خیال کِیا جا سکتا ہے۔
یہ بائبل اصول . . . اپنے عمررسیدہ والدین کی عزت کرنے کیلئے کیسے ہماری مدد کر سکتے ہیں؟
ہمیں والدین اور بڑےبوڑھوں کا حق ادا کرنا چاہئے۔ –۱-تیمتھیس ۵:۴۔
ہمارے تمام معاملات کو محبت سے انجام پانا چاہئے۔ –۱-کرنتھیوں ۱۶:۱۴۔
اہم فیصلے کبھی بھی عجلت میں نہیں کئے جانے چاہئیں۔ –امثال ۱۴:۱۵۔
عمررسیدہ والدین کا، خواہ وہ بیمار یا ضعیف ہو رہے ہیں، احترام کِیا جانا چاہئے۔–احبار ۱۹:۳۲۔
ہمیں بوڑھے ہونے اور مرنے کے امکان کا ہمیشہ سامنا نہیں کرنا ہوگا۔ –مکاشفہ ۲۱:۴۔
[صفحہ ۱۷۹ پر تصویر]
ماں یا باپ کے سلسلے میں اُس سے باتچیت کئے بغیر پہلے فیصلے کرنا غیردانشمندانہ بات ہے