یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏12 ص.‏ 17-‏22
  • مسیحی خاندان قدرے عمررسیدہ اشخاص کی مدد کرتا ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مسیحی خاندان قدرے عمررسیدہ اشخاص کی مدد کرتا ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بائبل وقتوں میں قدرے عمر رسیدہ لوگوں کی دیکھ بھال کرنا
  • کون پاس‌ولحاظ کے مستحق ہیں؟‏
  • قدرے عمررسیدہ کی دیکھ بھال کرنے میں خاندان کا کردار
  • دیکھ بھال کرنے میں کلیسیا کا کردار
  • کلیسیا کیلئے ایک خوبصورت اثاثہ
  • عمررسیدہ کا خیال رکھنا —‏ایک مسیحی ذمہ‌داری
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • یہوواہ خدا اپنے عمررسیدہ خادموں کی قدر کرتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
  • عمررسیدہ بہن‌بھائیوں کی قدر کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • تنہا تو رہتے ہیں مگر بُھلائے نہیں جاتے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏12 ص.‏ 17-‏22

مسیحی خاندان قدرے عمررسیدہ اشخاص کی مدد کرتا ہے

‏”‏بڑھاپے کے وقت مجھے ترک نہ کر۔ میری ضعیفی میں مجھے چھوڑ نہ دے۔“‏—‏زبور ۷۱:‏۹‏۔‏

۱.‏ بہت سی ثقافتوں میں قدرے عمررسیدہ اشخاص سے کیسا سلوک کیا جاتا ہے؟‏

‏”‏سروے ظاہر کرتے ہیں کہ تقریباً سات میں سے چھ (‏۸۶٪)‏ بوڑھے جن کے ساتھ برا برتاؤ کیا جاتا ہے، انکے اپنے خاندان والے بدسلوکی کرتے ہیں،“‏ وال سٹریٹ جرنل نے کہا۔ ماڈرن میچیورٹی (‏جدید پختگی)‏ میگزین نے بیان دیا:‏ ”‏قدرے عمررسیدہ کے ساتھ بدسلوکی محض جدید [‏خاندانی تشدد]‏ ہے جو امریکی قوم کے اخبارات کے صفحات پر ظاہر ہوا ہے۔“‏ جی‌ہاں، بہت سی ثقافتوں میں قدرے عمررسیدہ لوگ شدید بدسلوکی اور غفلت کا شکار ہو گئے ہیں۔ واقعی ہمارا ہی وقت ہے جب بہتیرے لوگ ”‏خودغرض .‏.‏.‏ ناشکر ناپاک، طبعی محبت سے خالی“‏ ہیں۔—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۳‏۔‏

۲.‏ عبرانی صحائف کے مطابق، یہوواہ قدرے عمررسیدہ کو کیسا خیال کرتا ہے؟‏

۲ تاہم، قدیم اسرائیل میں قدرے عمررسیدہ اشخاص کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کیا جانا تھا۔ شریعت نے بیان کیا:‏ ”‏جنکے سر کے بال سفید ہیں تو انکے سامنے اٹھ کھڑے ہونا اور بڑے بوڑھے کا ادب کرنا اور خدا سے ڈرنا۔ میں خداوند ہوں۔“‏ علم و حکمت والی الہامی امثال کی کتاب ہمیں نصیحت کرتی ہے ”‏اپنے باپ کا جس سے تو پیدا ہوا شنوا ہو اور اپنی ماں کو اسکے بڑھاپے میں حقیر نہ جان۔“‏ یہ حکم دیتی ہے:‏ ”‏اے میرے بیٹے!‏ اپنے باپ کی تربیت پر کان لگا اور اپنی ماں کی تعلیم کو ترک نہ کر۔“‏ موسوی شریعت نے دونوں اصناف کے بوڑھے اشخاص کیلئے ادب اور لحاظ کی تعلیم دی۔ واضح طور پر، یہوواہ چاہتا ہے کہ قدرے عمررسیدہ اشخاص کی عزت کی جائے۔—‏احبار ۱۹:‏۳۲،‏ امثال ۱:‏۸،‏ ۲۳:‏۲۲‏۔‏

بائبل وقتوں میں قدرے عمر رسیدہ لوگوں کی دیکھ بھال کرنا

۳.‏ یوسف نے اپنے بوڑھے باپ کیلئے کیسے رحم دکھایا؟‏

۳ احترام نہ صرف اقوال میں بلکہ بامروت افعال میں بھی دکھایا جانا تھا۔ یوسف نے اپنے قدرے عمررسیدہ باپ کیلئے بڑا ترس دکھایا۔ اس نے چاہا کہ یعقوب کنعان سے مصر تک ۳۰۰ کلومیٹر سے زیادہ فاصلے کا سفر کرے۔ اسلئے یوسف نے یعقوب کیلئے یہ چیزیں بھیجیں یعنی ”‏دس گدھے جو مصر کی اچھی چیزوں سے لدے ہوئے تھے اور دس گدھیاں جو اسکے باپ کے راستے کیلئے غلہ اور روٹی اور زادراہ سے لدی ہوئی تھیں۔“‏ جب یعقوب جشن میں پہنچا تو یوسف اس کے پاس گیا اور ”‏اسکے گلے سے لپٹ گیا اور وہیں لپٹا ہوا دیر تک روتا رہا۔“‏ یوسف نے اپنے باپ کیلئے گہری محبت دکھائی۔ قدرے عمررسیدہ لوگوں کیلئے فکرمندی کا کیا ہی تحریک دینے والا نمونہ!‏—‏پیدایش ۴۵:‏۲۳،‏ ۴۶:‏۵،‏ ۲۹‏۔‏

۴.‏ روت کیوں ایک عمدہ قابل‌تقلید نمونہ ہے؟‏

۴ قدرے عمررسیدہ کیلئے مہربانی کا ایک اور خوبصورت قابل‌تقلید نمونہ روت ہے۔ ایک غیرقوم ہونے کے باوجود، وہ اپنی قدرے عمررسیدہ، بیوہ یہودی ساس، نعومی کے ساتھ رہی۔ اس نے اپنے لوگوں کو چھوڑ دیا اور ایک اور خاوند نہ حاصل کرنے کا خطرہ مول لیا۔ جب نعومی نے اسے اپنے لوگوں کے پاس لوٹ جانے کی تاکید کی تو روت نے بائبل میں درج کچھ نہایت ہی خوبصورت الفاظ کے ساتھ جواب دیا:‏ ”‏تو منت نہ کر کہ میں تجھے چھوڑوں اور تیرے پیچھے سے لوٹ جاؤں کیونکہ جہاں تو جائیگی میں جاؤنگی اور جہاں تو رہیگی میں رہونگی۔ تیرے لوگ میرے لوگ اور تیرا خدا میرا خدا ہوگا۔ جہاں تو مریگی میں مرونگی اور وہیں دفن بھی ہونگی۔ خداوند مجھ سے ایسا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ کرے اگر موت کے سوا کوئی اور چیز مجھ کو تجھ سے جدا کر دے۔“‏ (‏روت ۱:‏۱۶، ۱۷‏)‏ روت نے اس وقت بھی عمدہ صفات ظاہر کیں جب وہ قرابتی شادی کے بندوبست کے تحت قدرے عمررسیدہ بوعز سے شادی کرنے کیلئے اس نے رضامندی دکھائی تھی۔—‏روت، ۲ سے ۴ ابواب۔‏

۵.‏ لوگوں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں یسوع نے کونسی صفات ظاہر کیں؟‏

۵ یسوع نے لوگوں کیساتھ اپنے تعلقات میں ایسا ہی نمونہ قائم کیا۔ وہ صابر، رحمدل، مہربان، اور تازہ دم کرنے والا تھا۔ اس نے ایک غریب آدمی میں ذاتی دلچسپی لی اور اسے شفا دی جو کہ ۳۸ سالوں سے معذور، چلنے کے ناقابل تھا۔ اس نے بیواؤں کیلئے پاس‌ولحاظ دکھایا۔ (‏لوقا ۷:‏۱۱-‏۱۵،‏ یوحنا ۵:‏۱-‏۹‏)‏ دکھ کی سولی پر اپنی دردناک موت کی اذیت کے دوران بھی، اس نے یقین کر لیا کہ اسکی ماں کی دیکھ بھال ہوتی رہیگی، جو غالباً اپنی عمر کے ۵۰ کے اوائل میں تھی۔ اپنے ریاکار دشمنوں کے علاوہ، یسوع ہر ایک کیلئے ایک تازہ دم کرنے والی رفاقت تھا۔ لہذا، وہ کہہ سکتا تھا:‏ ”‏اے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ میں تم کو آرام دونگا۔ میرا جوا اپنے اوپر اٹھا لو اور مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام [‏”‏تازگی،“‏ این ڈلیو]‏ پائینگی۔“‏—‏متی ۹:‏۳۶،‏ ۱۱:‏۲۸، ۲۹،‏ یوحنا ۱۹:‏۲۵-‏۲۷‏۔‏

کون پاس‌ولحاظ کے مستحق ہیں؟‏

۶.‏ (‏ا)‏ کون خصوصی نگہداشت کے مستحق ہیں؟ (‏ب)‏ ہم خود سے کونسے سوال پوچھ سکتے ہیں؟‏

۶ چونکہ یہوواہ خدا اور اسکے بیٹے یسوع مسیح نے دیکھ بھال کرنے کے معاملے میں ایسے عمدہ نمونے قائم کئے ہیں، اسلئے یہی مناسب ہے کہ مخصوص‌شدہ مسیحی انکے نمونے کی نقل کریں۔ ہمارے درمیان بعض ایسے ہیں جنہوں نے سخت منحت کی ہے اور بہت سالوں سے بوجھ سے دبے ہوئے ہیں—‏قدرے عمررسیدہ بھائی اور بہنیں جو اپنی زندگیوں کے ضعیفی کے سالوں میں داخل ہو گئے ہیں۔ ان میں سے بعض ہمارے والدین اور انکے والدین ہو سکتے ہیں۔ کیا ہم انہیں کم قدر سمجھتے ہیں؟ کیا ہم انہیں کمتر سمجھتے ہیں؟ یا کیا ہم انکے وسیع تجربے اور دانشمندی کی واقعی قدر کرتے ہیں؟ سچ ہے کہ بعض اپنی جملہ عجیب عادت اور پسندیدہ کمزوریوں سے ہمارے صبر کے پیمانے کو آزمائیں جو کہ بڑھاپے میں غیرمعمولی نہیں ہیں۔ لیکن خود سے پوچھیں، ”‏ایسے حالات کے تحت میں کتنا مختلف ہوتا؟“‏

۷.‏ بوڑھے لوگوں کیساتھ ہمدردی رکھنے کی ضرورت کو کونسی چیز مثال دیکر سمجھاتی ہے؟‏

۷ مشرق وسطی سے عمررسیدہ کیلئے ایک نوعمر لڑکی کے ترس کی بابت ایک رقت‌انگیز کہانی ہے۔ نانی باورچی‌خانے میں مدد کر رہی تھی اور اتفاقاً ایک چینی کی پلیٹ گر گئی اور ٹوٹ گئی۔ وہ اپنے پھوہڑپن سے پریشان تھی، اور اسکی بیٹی اور زیادہ غصے میں تھی۔ پھر اس نے اپنی چھوٹی بیٹی کو بلا‌یا اور قریب سٹور میں نانی کیلئے نہ ٹوٹنے والی ایک ووڈن [‏لکڑی کی]‏ پلیٹ خریدنے کیلئے بھیجا۔ لڑکی دو ووڈن پلیٹیں لے آئی۔ اسکی ماں نے جواب طلبی کی:‏ ”‏تم نے دو پلیٹیں کیوں خریدیں؟“‏ نواسی نے، ہچکچاتے ہوئے جواب دیا:‏ ”‏ایک نانی کیلئے اور دوسری آپ کیلئے جب آپ بوڑھی ہونگی۔“‏ جی‌ہاں، اس دنیا میں ہم سب کو بڑھاپے کے امکان کا سامنا ہے۔ کیا ہم قدر نہیں کرینگے کہ ہمارے ساتھ مہربانی اور صبر سے سلوک کیا جائے؟—‏زبور ۷۱:‏۹‏۔‏

۸، ۹.‏ (‏ا)‏ اپنے درمیان عمررسیدہ اشخاص کے ساتھ ہمیں کیسے پیش آنا چاہیے؟ (‏ب)‏ جو حال ہی میں مسیحی بنے ہیں انہیں کیا یاد رکھنے کی ضرورت ہے؟‏

۸ کبھی نہ بھولیں کہ ہمارے قدرے عمررسیدہ بہن بھائی اپنے پیچھے وفادار مسیحی کارگزاری کا ایک طویل ریکارڈ رکھتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے احترام اور پاس‌ولحاظ، ہماری مہربانہ مدد اور حوصلہ‌افزائی کے مستحق ہیں۔ دانشمند آدمی نے صحیح طور پر کہا:‏ ”‏سفید سر شوکت کا تاج ہے۔ [‏جب]‏ وہ صداقت کی راہ پر پایا جائے“‏۔ اور اس سفید سر کی، خواہ مرد یا عورت ہو، عزت کی جانی چاہیے۔ ان عمررسیدہ مردوں اور عورتوں میں سے بعض ابھی تک وفادار پائنیروں کے طور پر خدمت انجام دے رہے ہیں، اور بہت سے مرد کلیسیاؤں میں بزرگوں کے طور پر وفاداری سے خدمت کرنے کو جاری رکھے ہوئے ہیں، بعض سفری نگہبانوں کے طور پر مثالی کام کر رہے ہیں—‏امثال ۱۶:‏۳۱‏۔‏

۹ پولس نے تیمتھیس کو نصیحت کی:‏ ”‏کسی بڑے عمررسیدہ کو ملامت نہ کر بلکہ باپ جانکر نصیحت کر۔ اور جوانوں کو بھائی جانکر اور بڑی عمر والی عورتوں کو ماں جانکر اور جوان عورتوں کو کمال پاکیزگی سے بہن جانکر۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۱، ۲‏)‏ وہ جو حال ہی میں ایک بے‌ادب دنیا سے نکل کر مسیحی کلیسیا میں آئے ہیں انہیں خاص طور پر پولس کے الفاظ پر دل لگانا چاہیے، جو محبت پر مبنی ہیں۔ نوجوانوں!‏ ان برے رجحانات کی نقل نہ کرو جو شاید آپ سکول میں دیکھ چکے ہیں۔ بڑی عمر کے گواہوں کی مہربان نصیحت کا برا نہ مناؤ۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۴-‏۸،‏ عبرانیوں ۱۲:‏۵، ۶،‏ ۱۱‏)‏ تاہم، جب قدرے عمررسیدہ لوگوں کو خراب صحت یا مالی مسائل کی وجہ سے مدد درکار ہے تو انکی مدد کرنے کی اولین ذمہ‌داری کن کی ہے؟‏

قدرے عمررسیدہ کی دیکھ بھال کرنے میں خاندان کا کردار

۱۰، ۱۱.‏ (‏ا)‏ بائبل کے مطابق، قدرے عمررسیدہ اشخاص کی دیکھ بھال کرنے میں کسے پیشوائی کرنی چاہیے؟ (‏ب)‏ قدرے عمررسیدہ اشخاص کی دیکھ بھال کرنا ہمیشہ آسان کیوں نہیں ہے؟‏

۱۰ ابتدائی مسیحی کلیسیا میں، بیواؤں کی خبرگیری کے مسائل اٹھے تھے۔ پولس رسول نے کیسے ظاہر کیا کہ ایسی ضروریات پوری ہونی چاہئیں؟ ”‏ان بیواؤں کی جو واقعی بیوہ ہیں عزت کر۔ اور اگر کسی بیوہ کے بیٹے یا پوتے ہوں تو وہ پہلے اپنے ہی گھرانے کے ساتھ دینداری کا برتاؤ کرنا اور ماں باپ [‏اور انکے ماں باپ]‏ کا حق ادا کرنا سیکھیں کیونکہ یہ خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ اگر کوئی اپنوں اور خاص کر اپنے گھرانے کی خبرگیری نہ کرے تو ایمان کا منکر اور بے‌ایمان سے بدتر ہے۔“‏—‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۳، ۴،‏ ۸‏۔‏

۱۱ ضرورت کے اوقات میں، قریبی خاندانی ممبران کو قدرے عمررسیدہ کی پہلے مدد کرنے والے ہونا چاہیے۔‏a اس طریقے سے، بالغ ہو جانے والے بچے سالہا سال کی محبت، کام، اور خبرگیری کیلئے قدر دکھا سکتے ہیں جو انکے والدین نے فراہم کی۔ یہ شاید آسان نہ ہو۔ جوں جوں لوگ بوڑھے ہوتے ہیں، وہ طبعی طور پر سست‌رو ہو جاتے ہیں اور بعض تو معذور بھی ہو جاتے ہیں۔ دوسرے شاید اسکا احساس کئے بغیر اپنی ذات میں مگن اور مطالبہ کرنے والے بن جاتے ہیں۔ لیکن جب ہم بچے تھے تو کیا ہم بھی اپنی ذات میں مگن اور طلب کرنے والے نہیں تھے؟ اور کیا ہمارے والدین ہماری مدد کرنے کیلئے نہیں لپکتے تھے؟ اب بڑھاپے میں انکے حالات بدل گئے ہیں۔ اسلئے کس چیز کی ضرورت ہے؟ ہمدردی اور صبر۔—‏مقابلہ کریں ۱-‏تھسلنیکیوں ۲:‏۷، ۸‏۔‏

۱۲.‏ قدرے عمررسیدہ اشخاص—‏اور مسیحی کلیسیا میں تمام دوسرے لوگوں کی دیکھ بھال کرنے کیلئے کونسی صفات درکار ہیں؟‏

۱۲ پولس رسول نے عملی مشورت دی جب اس نے لکھا:‏ ”‏پس خدا کے برگزیدوں کی طرح جو پاک اور عزیز ہیں دردمندی اور مہربانی اور فروتنی اور حلم اور تحمل کا لباس پہنو۔ اگر کسی کو دوسرے کی شکایت ہو تو ایک دوسرے کی برداشت کرے اور ایک دوسرے کے قصور معاف کرے۔ جیسے خداوند نے تمہارے قصور معاف کئے ویسے ہی تم بھی کرو۔ اور ان سب سے اوپر محبت کو جو کمال کا پٹکا ہے باندھ لو۔“‏ اگر ہمیں اس طرح کی ہمدردی اور محبت کلیسیا میں دکھانی ہے، تو کیا خاندان میں اس سے بھی زیادہ نہیں دکھانی چاہیے؟—‏کلسیوں ۳:‏۱۲-‏۱۴‏۔‏

۱۳.‏ قدرے عمررسیدہ والدین یا انکے والدین کے علاوہ اور کن کو مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے؟‏

۱۳ بعض اوقات اس قسم کی مدد کی ضرورت شاید والدین یا انکے والدین ہی کو نہیں ہوتی بلکہ دوسرے عمررسیدہ رشتے‌داروں کو بھی ہو سکتی ہے۔ بعض عمررسیدہ اشخاص نے جنکے بچے نہیں بہت سالوں تک مشنری خدمت، سفری خدمتگزاری، اور دیگر کل وقتی کارگزاری میں خدمت کی ہے۔ انہوں نے حقیقی طور پر بادشاہت کو اپنی پوری زندگیوں میں پہلے رکھا ہے۔ (‏متی ۶:‏۳۳‏)‏ تو پھر کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ ان کیلئے خبرگیری کا جذبہ دکھایا جائے؟ جس طریقے سے واچ‌ٹاور سوسائٹی اپنے عمررسیدہ بیت‌ایل ممبروں کی دیکھ بھال کرتی ہے یقینی طور پر ہمارے پاس یہ عمدہ مثال ہے۔ بروکلن میں بیت‌ایل ہیڈکوارٹرز میں اور سوسائٹی کی کئی ایک برانچوں میں، کئی عمررسیدہ بھائی اور بہنیں تربیت‌یافتہ خاندانی ممبروں سے روزانہ توجہ حاصل کرتے ہیں جنہیں اس کام پر مامور کیا گیا ہے۔ وہ ان عمررسیدہ اشخاص کی خبرگیری کرکے خوش ہیں گویا کہ وہ انکے اپنے والدین یا دادی دادا یا نانی نانا ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ، وہ عمررسیدہ اشخاص کے تجربے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔—‏امثال ۲۲:‏۱۷‏۔‏

دیکھ بھال کرنے میں کلیسیا کا کردار

۱۴.‏ ابتدائی مسیحی کلیسیا میں قدرے عمررسیدہ اشخاص کیلئے کیا اہتمام کیا گیا تھا؟‏

۱۴ بہت سے ممالک میں بڑھاپے میں پینشن اور حکومت کی طرف سے طبی نگہداشت کے انتظامات ہیں۔ مسیحی ان فراہمیوں سے پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جہاں پر وہ ایسا کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ تاہم، پہلی صدی میں، ایسی کوئی فراہمیاں نہ تھیں۔ اسلئے مفلس بیواؤں کی مدد کرنے کیلئے مسیحی کلیسیا نے مثبت قدم اٹھایا۔ پولس نے ہدایت کی:‏ ”‏وہی بیوہ فرد میں [‏کلیسیائی مدد کیلئے]‏ لکھی جائے جو ساٹھ برس سے کم کی نہ ہو اور ایک شوہر کی بیوی ہوئی ہو۔ اور نیک کاموں میں مشہور ہو۔ بچوں کی تربیت کی ہو۔ پردیسیوں کے ساتھ مہمان‌نوازی کی ہو۔ مقدسوں کے پاؤں دھوئے ہوں۔ مصیبت‌زدوں کی مدد کی ہو اور ہر نیک کام کرنے کے درپے رہی ہو۔“‏ یوں، پولس نے ظاہر کیا کہ عمررسیدہ کی مدد کرنے کیلئے کلیسیا کا بھی کردار ہے۔ روحانی ذہنیت والی عورتیں جنکے بچے ایماندار نہیں ہیں ایسی مدد کی اہل ہیں۔—‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۹، ۱۰‏۔‏

۱۵.‏ حکومت کی امداد حاصل کرنے کیلئے مدد کی ضرورت کیوں ہو سکتی ہے؟‏

۱۵ جہاں پر قدرے عمررسیدہ کیلئے حکومت کی طرف سے فراہمیاں ہیں تو عام طور پر اس میں کافی حد تک کاغذی کاروائی شامل ہوتی ہے جو حوصلہ‌شکن کرنے والی دکھائی دے سکتی ہے۔ ایسے معاملات میں کلیسیا میں نگہبانوں کیلئے یہ مناسب ہے کہ دی جانے والی مدد دینے کیلئے بندوبست کریں تاکہ قدرے عمررسیدہ درخواست دے سکیں، اسے حاصل کر سکیں، یا ایسی امداد میں اضافہ کرا سکیں۔ بعض اوقات حالات میں تبدیلیاں پینشن میں اضافے پر منتج ہو سکتی ہیں۔ لیکن اور بھی بہت سی عملی چیزیں ہیں جنکو نگہبان منظم کر سکتے ہیں تاکہ عمررسیدہ کی نگہداشت ہوتی رہے۔ ان میں سے بعض کیا ہیں؟‏

۱۶، ۱۷.‏ ہم کن مختلف طریقوں سے کلیسیا میں قدرے عمررسیدہ اشخاص کیلئے مہمان‌نوازی دکھا سکتے ہیں؟‏

۱۶ مہمان‌نوازی دکھانا ایک رواج ہے جو ماضی میں بائبل وقتوں تک لے جاتی ہے۔ مشرق وسطی کے بہت سے ممالک میں اجنبیوں کیلئے آج تک مہمان‌نوازی دکھائی جاتی ہے، کم‌ازکم چائے یا کافی کا ایک کپ پیش کرنے کی حد تک۔ اسلئے یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ پولس نے لکھا:‏ ”‏مقدسوں کی احتیاجیں رفع کرو۔ مسافرپروری میں لگے رہو۔“‏ (‏رومیوں ۱۲:‏۱۳‏)‏ مسافرپروری کیلئے یونانی لفظ فیلوکسینیا کا لفظی مطلب ”‏اجنبیوں کی محبت (‏کیلئے اشتیاق، یا مہربانی)‏۔“‏ اگر ایک مسیحی کو اجنبیوں کے ساتھ مہمان‌نواز ہونا چاہیے، تو کیا ان کیساتھ زیادہ مہمان‌نواز نہیں ہونا چاہیے جو اسکے اہل‌ایمان ہیں؟ کھانے پر دعوت اکثر ایک عمررسیدہ شخص کے معمول میں خوش‌آئند توقف کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر آپ اپنے تفریحی اجتماعات پر تجربے اور دانشمندانہ اظہار چاہتے ہیں تو عمررسیدہ اشخاص کو شامل کریں۔—‏مقابلہ کریں لوقا ۱۴:‏۱۲-‏۱۴‏۔‏

۱۷ بہت سے طریقے ہیں جن سے بوڑھے اشخاص کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔ اگر ہم کنگڈم ہال یا ایک اسمبلی پر جانے کیلئے ایک کار گروپ کو منظم کرتے ہیں تو کیا بعض عمررسیدہ اشخاص ہیں جو ساتھ سفر کرنے کا خیرمقدم کرینگے؟ ان کا انتظار نہ کریں کہ وہ پوچھیں۔ انہیں ساتھ لے جانے کی پیشکش کریں۔ ایک اور عملی مدد ان کیلئے خریداری کرنا ہے۔ یا اگر وہ اس قابل ہیں تو جب ہم خریداری کرنے کیلئے جاتے ہیں تو کیا انہیں اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں؟ لیکن یقین کر لیں کہ وہاں پر ایسی جگہیں ہیں کہ اگر ضروری ہو جائے تو وہ وہاں پر آرام کر سکتے یا تازہ‌دم ہو سکتے ہیں۔ بلا‌شبہ صبر اور مہربانی کی ضرورت ہوگی، لیکن ایک عمررسیدہ شخص کی مخلص شکرگزاری بہت بااجر ہو سکتی ہے۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۱:‏۱۱‏۔‏

کلیسیا کیلئے ایک خوبصورت اثاثہ

۱۸.‏ قدرے عمررسیدہ اشخاص کلیسیا کیلئے ایک برکت کیوں ہیں؟‏

۱۸ کلیسیا میں بعض سرمئی اور سفید (‏اور عمر کی وجہ سے گنجے سروں)‏ کو دیکھنا کیا ہی برکت ہے!‏ اسکا مطلب ہے کہ نوجوان لوگوں کی طاقت اور زور کے درمیان، ہمارے پاس چند ایک تجربہ اور حکمت والے بھی ہیں—‏کسی بھی کلیسیا کیلئے ایک حقیقی اثاثہ۔ انکا علم ایک تازگی‌بخش پانی کی مانند ہے جسے ایک کنویں سے نکالنا پڑتا ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے کہ امثال ۱۸:‏۴ اسے بیان کرتی ہے:‏ ”‏انسان کے منہ کی باتیں گہرے پانی کی مانند ہیں اور حکمت کا چشمہ بہتا نالا ہے۔“‏ عمررسیدہ اشخاص کیلئے یہ کتنا حوصلہ‌افزا ہے وہ یہ محسوس کریں کہ انکی ضرورت ہے اور انکی قدر کی جاتی ہے!‏—‏مقابلہ کریں زبور ۹۲:‏۱۴‏۔‏

۱۹.‏ بعض نے اپنے قدرے عمررسیدہ والدین کیلئے کیسے قربانیاں کی ہیں؟‏

۱۹ کل‌وقتی خدمت میں بعض نے قدرے عمررسیدہ، بیمار والدین کی دیکھ بھال کرنے کیلئے واپس گھر جانے کی خاطر اپنے استحقاقات کو چھ‌وڑنے کی ضرورت کو محسوس کیا ہے۔ انہوں نے انکے لئے قربانی کی ہے جنہوں نے پہلے وقتوں میں ان کیلئے قربانی کی۔ ایک جوڑا، جو سابقہ مشنری اور ابھی بھی کل وقتی خدمت میں ہیں، اپنے قدرے عمررسیدہ والدین کی دیکھ بھال کرنے کیلئے گھر واپس چلے گئے۔ انہوں نے کوئی ۲۰ سال سے زیادہ عرصہ سے ایسے کیا ہے۔ چار سال گزرے آدمی کی ماں کو نرسنگ ہوم میں دخل کرنا پڑا، خاوند، جو اب اپنے ۶۰ کے دہے میں ہے، اپنی ۹۳ سالہ بوڑھی ماں کے پاس ہر روز جاتا ہے۔ وہ وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏میں اسے کیسے چھوڑ سکتا تھا؟ وہ میری ماں ہے!‏“‏ دیگر معاملات میں کلیسیائیں اور افراد آگے آئے اور بوڑھے اشخاص کی خبرگیری کرنے کی پیشکش کی تاکہ انکے بچے اپنی تفویضات پر قائم رہ سکیں۔ ایسی بے‌غرض محبت بھی بڑی تعریف کی مستحق ہے۔ ہر صورت‌حال سے فرض‌شناسی کیساتھ نپٹنے کی ضرورت ہے اسلئے کہ قدرے عمررسیدہ اشخاص سے غفلت نہیں برتی جانی ہے۔ ظاہر کریں کہ آپ اپنے قدرے عمررسیدہ والدین سے محبت کرتے ہیں۔—‏خروج ۲۰:‏۱۲،‏ افسیوں ۶:‏۲، ۳‏۔‏

۲۰.‏ قدرے عمررسیدہ اشخاص کیلئے دیکھ بھال میں یہوواہ نے ہمیں کیا نمونہ دیا ہے؟‏

۲۰ بیشک، ہمارے بوڑھے بھائی اور بہنیں خاندان یا کلیسیا کیلئے شوکت کا تاج ہیں۔ یہوواہ نے کہا:‏ ”‏میں تمہارے بڑھاپے تک وہی ہوں اور سر سفید ہونے تک تم کو اٹھائے پھرونگا۔ میں ہی نے خلق کیا اور میں ہی اٹھاتا رہونگا۔ میں ہی لئے چلونگا اور رہائی دونگا۔“‏ دعا ہے کہ ہم مسیحی خاندان میں اپنے بوڑھے بھائیوں اور بہنوں کیلئے ایسا ہی صبر اور نگہداشت دکھائیں۔—‏یسعیاہ ۴۶:‏۴،‏ امثال ۱۶:‏۳۱‏۔ (‏۲۱ ۹/۱ w۹۳)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a تفصیلی مشوروں کیلئے کہ خاندانی ممبران عمررسیدہ اشخاص کی مدد کرنے کیلئے کیا کر سکتے ہیں، دیکھیں دی واچ‌ٹاور، جون ۱، ۱۹۸۷، صفحات ۱۳-‏۱۸۔‏

کیا آپکو یاد ہے؟‏

▫ عمررسیدہ اشخاص کی دیکھ بھال کرنے کی ہمارے پاس بائبل کی کونسی مثالیں ہیں؟‏

▫ ہمیں قدرے عمررسیدہ اشخاص کیساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے؟‏

▫ خاندان کے ممبر اپنے قدرے عمررسیدہ عزیزوں کی دیکھ بھال کیسے کر سکتے ہیں؟‏

▫ قدرے عمررسیدہ اشخاص کی مدد کرنے کیلئے کلیسیا کیا کر سکتی ہے؟‏

▫ قدرے عمررسیدہ اشخاص ہم سب کیلئے ایک برکت کیوں ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

روت نے قدرے عمررسیدہ نعومی کیلئے مہربانی اور احترام دکھایا

‏[‏تصویر]‏

قدرے عمررسیدہ اشخاص کلیسیا کے قابل‌قدر اراکین ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں