یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خا باب 12 ص.‏ 142-‏152
  • آپ خاندان کو نقصان پہنچانے والے مسائل پر غالب آ سکتے ہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آپ خاندان کو نقصان پہنچانے والے مسائل پر غالب آ سکتے ہیں
  • خاندانی خوشی کا راز
  • ذیلی عنوان
  • شراب‌خواری سے پہنچنے والا نقصان
  • خاندان کیا کر سکتا ہے؟‏
  • گھریلو تشدد سے پہنچنے والا نقصان
  • جسطرح گھریلو تشدد سے گریز کِیا جائے
  • علیٰحدہ ہو جانا یا اکٹھے رہنا
  • تباہ‌کُن مسائل کا خاتمہ
خاندانی خوشی کا راز
خا باب 12 ص.‏ 142-‏152

باب بارہ

آپ خاندان کو نقصان پہنچانے والے مسائل پر غالب آ سکتے ہیں

۱.‏ بعض خاندانوں میں کونسے پوشیدہ مسائل پائے جاتے ہیں؟‏

پُرانی کار کو تھوڑی دیر پہلے دھویا اور پالش کِیا گیا ہے۔ قریب سے گزرنے والوں کو یہ چمکدار، تقریباً نئی لگتی ہے۔ لیکن اس کی سطح کے نیچے، گلا دینے والا زنگ گاڑی کی باڈی کو کھائے جا رہا ہے۔ بعض خاندانوں کا یہی حال ہے۔ اگرچہ ظاہری وضع‌قطع کے اعتبار سے ہر چیز اچھی نظر آتی ہے، مسکراتے چہرے درد اور خوف چھپائے ہوئے ہیں۔ بند دروازوں کے پیچھے کھا جانے والے عناصر خاندان کے سکون کو درہم‌برہم کر رہے ہیں۔ دو مسائل جو ایسا اثر رکھ سکتے ہیں وہ شراب‌خواری اور تشدد ہیں۔‏

شراب‌خواری سے پہنچنے والا نقصان

۲.‏ (‏ا)‏ الکحلی مشروبات کے استعمال کی بابت بائبل کا کیا نظریہ ہے؟ (‏ب)‏ شراب‌خواری کیا ہے؟‏

۲ بائبل اعتدال کے ساتھ الکحلی مشروبات کے استعمال کی مذمت نہیں کرتی، لیکن یہ شراب‌نوشی کی مذمت کرتی ہے۔ (‏امثال ۲۳:‏۲۰، ۲۱؛‏۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۹، ۱۰؛‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۲۳؛‏ ططس ۲:‏۲، ۳‏)‏ تاہم، شراب‌خواری، شراب‌نوشی سے بڑھکر ہے؛ یہ الکحلی مشروبات سے دیرینہ وابستگی اور اُنکے استعمال پر کنٹرول کی کمی ہے۔ شراب‌خوار بالغ ہو سکتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ وہ نوجوان بھی ہو سکتے ہیں۔‏

۳، ۴.‏ شراب‌خوار کی شریکِ‌حیات اور بچوں پر شراب‌خواری کے اثرات کو بیان کریں۔‏

۳ بائبل نے بہت پہلے ظاہر کر دیا تھا کہ الکحل کا غلط استعمال خاندانی سکون کو درہم‌برہم کر سکتا ہے۔ (‏استثنا ۲۱:‏۱۸-‏۲۱)‏ پورا خاندان شراب‌خواری کے تباہ‌کُن اثرات کو محسوس کرتا ہے۔ شراب‌خوار کی شریکِ‌حیات اُسے شراب‌نوشی سے روکنے یا اُسکے ناقابلِ‌فہم رویے کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں ازحد مصروف ہو سکتی ہے۔‏a وہ شراب کو چھپانے، اُسے باہر پھینکنے، اُسکے پیسے چھپانے، خاندان کیلئے، زندگی کیلئے، یہانتک‌کہ خدا کیلئے اُسکی محبت کا واسطہ دینے کی کوشش کرتی ہے–‏لیکن شراب‌خوار پھر بھی شراب‌نوشی کرتا ہے۔ جب شراب‌نوشی پر قابو پانے کی اُسکی کوششیں باربار ناکام ہو جاتی ہیں تو وہ شکست‌خوردہ اور نااہل محسوس کرتی ہے۔ وہ خوف، غصے، احساسِ‌خطا، بے‌چینی، پریشانی، اور عزتِ‌نفس کی کمی کا شکار ہو سکتی ہے۔‏

۴ بچے ماں یا باپ کی شراب‌خواری کے اثرات سے نہیں بچ پاتے۔ بعض کو جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دیگر کیساتھ جنسی طور پر چھیڑچھاڑ کی جاتی ہے۔ وہ شاید ماں یا باپ کی شراب‌خواری کیلئے خود کو موردِالزام ٹھہرائیں۔ شراب‌خوار کے بے‌ثبات رویے کی وجہ سے دوسروں پر بھروسہ کرنے کی اُنکی صلاحیت کو اکثروبیشتر دھچکا لگتا ہے۔ گھر پر جوکچھ واقع ہوتا ہے چونکہ وہ اُس کی بابت اطمینان کیساتھ بات‌چیت نہیں کر سکتے، اِسلئے ممکن ہے کہ بچے اپنے جذبات کو دبانا سیکھ جائیں، جسکے اکثر مُضر جسمانی اثرات ہوتے ہیں۔ (‏امثال ۱۷:‏۲۲‏)‏ ایسے بچے خوداعتمادی یا عزتِ‌نفس کی اِس کمی کو بلوغت تک لے جا سکتے ہیں۔‏

خاندان کیا کر سکتا ہے؟‏

۵.‏ شراب‌خواری سے کیسے نپٹا جا سکتا ہے، اور یہ کیوں مشکل ہے؟‏

۵ اگرچہ بہت سی تحریریں بیان کرتی ہیں کہ شراب‌نوشی کی عادت کا کوئی علاج نہیں ہے تو بھی بیشتر اتفاق کرتے ہیں کہ شراب سے مکمل پرہیز کے پروگرام کی بدولت کسی حد تک صحتیابی ممکن ہے۔ (‏مقابلہ کریں متی ۵:‏۲۹‏۔)‏ تاہم، ایک شراب‌خوار کو مدد قبول کرنے کیلئے آمادہ کرنا صرف کہنا آسان ہے لیکن ایسا کرانا مشکل ہے، کیونکہ وہ عام طور پر اِس بات سے انکار کرتا ہے کہ اُسے کوئی مسئلہ درپیش ہے۔ تاہم، خاندان کے افراد جس طریقے سے شراب‌خواری سے متاثر ہوئے ہیں جب وہ اُسکے مطابق اُس کیساتھ نپٹنے کیلئے ضروری اقدام اُٹھاتے ہیں تو شاید شراب‌خوار محسوس کرنے لگے کہ اُسے کوئی مسئلہ درپیش ہے۔ عادی شرابیوں اور اُنکے خاندانوں کی مدد کرنے کا تجربہ رکھنے والے ایک فزیشن نے بیان کِیا:‏ ”‏میرے خیال میں خاندان کیلئے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ جہانتک ممکن ہو سکے اپنے روزمرّہ کے کام بطریقِ‌احسن انجام دیں۔ یوں شراب‌خوار باقی خاندان اور اپنے مابین اختلاف کی وسعت کو سمجھنے لگتا ہے۔“‏

۶.‏ ایسے خاندانوں کیلئے مشورت کا بہترین ماخذ کیا ہے جنکا ایک فرد شراب‌خوار ہے؟‏

۶ اگر آپکے خاندان میں کوئی شراب‌خوار ہے تو بائبل کی الہامی مشورت ممکنہ حد تک خوش‌اسلوبی سے گزربسر کرنے کیلئے آپ کی مدد کر سکتی ہے۔ (‏یسعیاہ ۴۸:‏۱۷؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶، ۱۷‏)‏ چند اصولوں پر غور کریں جنہوں نے شراب‌نوشی کی عادت کیساتھ کامیابی سے نپٹنے کیلئے خاندانوں کی مدد کی ہے۔‏

۷.‏ اگر خاندان کا ایک فرد شراب‌خوار ہے تو کون ذمہ‌دار ہے؟‏

۷ سارا الزام ذمے لینا بند کر دیں۔‏ بائبل بیان کرتی ہے:‏ ”‏ہر شخص اپنا ہی بوجھ اُٹھائیگا،“‏ اور ”‏ہم میں سے ہر ایک خدا کو اپنا حساب دیگا۔“‏ (‏گلتیوں ۶:‏۵؛‏رومیوں ۱۴:‏۱۲‏)‏ شراب‌خوار یہ تاثر دینے کی کوشش کر سکتا ہے کہ خاندان کے ارکان ذمہ‌دار ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ کہہ سکتا ہے:‏ ”‏اگر آپ نے میرے ساتھ اچھا سلوک کیا ہوتا، تو مَیں شراب‌نوشی نہ کرتا۔“‏ اگر دوسرے اُس کے ساتھ متفق دکھائی دیتے ہیں تو وہ شراب‌نوشی کو جاری رکھنے کیلئے اُس کی حوصلہ‌افزائی کرتے ہیں۔ تاہم خواہ ہم حالات یا دیگر لوگوں کا نشانہ بنتے بھی ہیں، ہم سب–‏بشمول شراب‌خوار–‏جوکچھ ہم کرتے ہیں اُس کیلئے ذمہ‌دار ہیں۔–‏مقابلہ کریں فلپیوں ۲:‏۱۲‏۔‏

۸.‏ بعض طریقے کیا ہیں جن سے شراب‌خوار کو اپنے مسئلے کے نتائج کا سامنا کرنے میں مدد دی جا سکتی ہے؟‏

۸ یہ نہ سمجھیں کہ آپکو شراب‌خوار کو اُسکی شراب‌نوشی کے اثرات سے ہمیشہ محفوظ رکھنا چاہئے۔‏ ایک غضبناک شخص کی بابت بائبل مثل کا اطلاق شراب‌خوار پر بھی یکساں طور پر کِیا جا سکتا ہے:‏ ”‏شدیدُالغضب آدمی سزا پائیگا کیونکہ اگر تُو اُسے رہائی دے تو تجھے باربار ایسا ہی کرنا ہوگا۔“‏ (‏امثال ۱۹:‏۱۹‏)‏ شراب‌خوار کو اپنی شراب‌نوشی کے انجام کا سامنا کرنے دیں۔ جو گندگی اُس نے پھیلائی ہے اُسے خود صاف کرنے دیں یا شراب‌نوشی کے واقعہ کے بعد صبح اُسکے آجر کو ٹیلیفون کریں۔‏

۹، ۱۰.‏ شراب‌خواروں کے خاندانوں کو کیوں مدد قبول کرنی چاہئے، اور اُنہیں بالخصوص کس کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے؟‏

۹ دوسروں کی مدد قبول کریں۔‏ امثال ۱۷:‏۱۷ بیان کرتی ہے:‏ ”‏دوست ہر وقت محبت دکھاتا ہے اور بھائی مصیبت کے دن کے لئے پیدا ہوا ہے۔“‏ جب آپ کے خاندان میں کوئی شراب‌خوار ہے تو پریشانی کی بات ہے۔ آپ کو مدد کی ضرورت ہے۔ مدد کے لئے ’‏سچے دوست‘‏ پر بھروسہ کرنے سے نہ ہچکچائیں۔ (‏امثال ۱۸:‏۲۴‏)‏ دوسروں کے ساتھ بات‌چیت کرنا جو مسئلے کو سمجھتے ہیں یا جو اِسی طرح کی صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں آپ کو عملی تجاویز فراہم کر سکتا ہے کہ کیا کریں یا کیا نہ کریں۔ لیکن توازن برقرار رکھیں۔ اُن لوگوں کے ساتھ بات‌چیت کریں جن پر آپ بھروسہ کرتے ہیں، وہ جو آپ کی ”‏راز کی بات“‏ کو راز ہی میں رکھیں گے۔–‏امثال ۱۱:‏۱۳‏،‏این‌ڈبلیو‏۔‏

۱۰ مسیحی بزرگوں پر توکل کرنا سیکھیں۔‏ مسیحی کلیسیا میں بزرگ مدد کا بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ پُختہ مرد خدا کے کلام سے تعلیم‌یافتہ اور اِسکے اصولوں کے اطلاق کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ”‏آندھی سے پناہ‌گاہ کی مانند .‏ .‏ .‏ اور طوفان سے چھپنے کی جگہ اور خشک زمین میں پانی کی ندیوں کی مانند .‏ .‏ .‏ اور ماندگی کی زمین میں بڑی چٹان کی مانند“‏ ثابت ہو سکتے ہیں۔ (‏یسعیاہ ۳۲:‏۲‏)‏ مسیحی بزرگ نہ صرف کلیسیا کو مجموعی طور پر نقصاندہ اثرات سے بچاتے ہیں بلکہ وہ تسلی اور فرحت بھی پہنچاتے ہیں، اور اُن اشخاص میں ذاتی دلچسپی لیتے ہیں جو مسائل سے دوچار ہیں۔ اُنکی مدد سے پورا فائدہ اُٹھائیں۔‏

۱۱، ۱۲.‏ شرب‌خواروں کے خاندانوں کیلئے کون عظیم‌ترین مدد فراہم کرتا ہے، اور یہ مدد کیسے دی جاتی ہے؟‏

۱۱ سب سے بڑھکر یؔہوواہ سے قوت حاصل کریں۔‏ بائبل پُرجوش طریقے سے ہمیں یقین دلاتی ہے:‏ ”‏خداوند شکستہ‌دلوں کے نزدیک ہے اور خستہ‌جانوں کو بچاتا ہے۔“‏ (‏زبور ۳۴:‏۱۸‏)‏ اگر آپ ایک خاندان کے شراب‌خوار رکن کے ساتھ رہنے کے دباؤ کی وجہ سے دل‌شکستہ یا خستہ‌جاں محسوس کرتے ہیں تو یہ جان لیں کہ ”‏خداوند نزدیک ہے۔“‏ وہ سمجھتا ہے کہ آپکی خاندانی حالت کسقدر مشکل ہے۔–‏۱-‏پطرس ۵:‏۶، ۷‏۔‏

۱۲ یہوؔواہ جوکچھ اپنے کلام میں بیان کرتا ہے اُس پر ایمان رکھنا پریشانی سے نپٹنے کے لئے آپکی مدد کر سکتا ہے۔ (‏زبور ۱۳۰:‏۳، ۴؛‏ متی ۶:‏۲۵-‏۳۴؛‏۱-‏یوحنا ۳:‏۱۹، ۲۰‏)‏ خدا کے کلام کا مطالعہ کرنا اور اُسکے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنا آپکو خدا کی روح‌القدس کی مدد حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے، جو آپکو روزبروز مقابلہ کرنے کیلئے ”‏حد سے زیادہ قدرت“‏ سے لیس کر سکتا ہے۔–‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۷‏۔‏b

۱۳.‏ دوسرا مسئلہ کیا ہے جو بہت سے خاندانوں کو نقصان پہنچاتا ہے؟‏

۱۳ الکحل کا غلط استعمال ایک اَور مسئلے کا سبب بن سکتا ہے جو متعدد خاندانوں کو نقصان پہنچاتا ہے–‏گھریلو تشدد۔‏

گھریلو تشدد سے پہنچنے والا نقصان

۱۴.‏ گھریلو تشدد کا آغاز کب ہوا، اور آجکل حالت کیا ہے؟‏

۱۴ انسانی تاریخ میں پہلا متشدّد فعل گھریلو تشدد کا واقعہ تھا جس میں دو بھائی، قائنؔ اور ہابلؔ ملوث تھے۔ (‏پیدایش ۴:‏۸‏)‏ اُس وقت سے لیکر، ہر نوعیت کے گھریلو تشدد سے نوعِ‌انسان کے ناک میں دم رہا ہے۔ ایسے شوہر ہیں جو اپنی بیویوں کو مارتے‌پیٹتے ہیں، بیویاں جو شوہروں پر دھاوا بولتی ہیں، والدین جو بیرحمی سے اپنے چھوٹے بچوں کو پیٹتے ہیں، اور بالغ بچے جو اپنے عمررسیدہ والدین کیساتھ بدسلوکی کرتے ہیں۔‏

۱۵.‏ گھریلو تشدد کی وجہ سے خاندان کے افراد جذباتی طور پر کیسے متاثر ہوتے ہیں؟‏

۱۵ گھریلو تشدد کے ذریعے پہنچنے والا نقصان جسمانی زخموں کے نشان سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ ایک مار کھانے والی بیوی نے بیان کِیا:‏ ”‏آپکو بڑی شرمندگی اور احساسِ‌خطا سے نپٹنا پڑتا ہے۔ کئی مرتبہ صبح کو آپ بستر میں رہنا چاہتی ہیں، یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ محض ایک بُرا سپنا تھا۔“‏ بچے جو گھریلو تشدد کو دیکھتے یا اُسکا نشانہ بنتے ہیں وہ خود بھی بالغ ہونے پر اور جب اُنکے اپنے خاندان ہوتے ہیں متشدّد بن سکتے ہیں۔‏

۱۶، ۱۷.‏ جذباتی بدسلوکی کیا ہے، اور خاندان کے افراد اِس سے کیسے متاثر ہوتے ہیں؟‏

۱۶ گھریلو تشدد جسمانی بدسلوکی تک محدود نہیں ہے۔ حملہ اکثر زبانی ہوتا ہے۔ امثال ۱۲:‏۱۸ بیان کرتی ہے:‏ ”‏بے‌تامل بولنے والے کی باتیں تلوار کی طرح چھیدتی ہیں۔“‏ گھریلو تشدد کی نوعیت کے ایسے ”‏گھاؤ“‏ میں گالی‌گلوچ کرنا اور چیخناچلّانا، نیز متواتر نکتہ‌چینی، حقارت‌آمیز تذلیلیں، اور جسمانی تشدد کی دھمکیاں شامل ہوتی ہیں۔ جذباتی تشدد کے گھاؤ نادیدہ ہوتے ہیں اور اکثر دوسروں کی توجہ میں نہیں آتے۔‏

۱۷ بچے کو جذباتی مار مارنا–‏مسلسل نکتہ‌چینی کرنا اور بچے کی صلاحیتوں، ذہانت، یا عزتِ‌نفس کو کم کرنا خاص طور پر افسوسناک ہے۔ ایسی زبانی بدسلوکی بچے کی خوداعتمادی کو تباہ کر سکتی ہے۔ سچ ہے کہ تمام بچوں کو تنبیہ کی ضرورت ہے۔ لیکن بائبل والدوں کو ہدایت کرتی ہے:‏ ”‏اپنے فرزندوں کو دق نہ کرو تاکہ وہ بیدل نہ ہو جائیں۔“‏–‏کلسیوں ۳:‏۲۱‏۔‏

جسطرح گھریلو تشدد سے گریز کِیا جائے

۱۸.‏ گھریلو تشدد کہاں سے شروع ہوتا ہے، اور بائبل اِسے روکنے کیلئے کونسا طریقہ بیان کرتی ہے؟‏

۱۸ گھریلو تشدد دل‌ودماغ سے شروع ہوتا ہے، جس طریقے سے ہم عمل کرتے ہیں اِس کا آغاز جس طریقے سے ہم سوچتے ہیں اُس سے ہوتا ہے۔ (‏یعقوب ۱:‏۱۴، ۱۵‏)‏ تشدد کو بند کرنے کے لئے، بدسلوکی کرنے والے کو اپنے اسلوبِ‌فکر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ (‏رومیوں ۱۲:‏۲‏)‏ کیا یہ ممکن ہے؟ جی ہاں۔ خدا کا کلام لوگوں کو تبدیل کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ یہ ”‏قلعوں“‏ کی طرح کے تباہ‌کُن نظریات کو بھی جڑ سے اُکھاڑ سکتا ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۴؛‏ عبرانیوں ۴:‏۱۲‏)‏ بائبل کا صحیح علم لوگوں کے اندر اس حد تک مکمل تبدیلی پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ اُنہیں نئی انسانیت کو پہننے کے لئے کہا گیا ہے۔–‏افسیوں ۴:‏۲۲-‏۲۴؛‏ کلسیوں ۳:‏۸-‏۱۰‏۔‏

۱۹.‏ ایک مسیحی کو ایک بیاہتا ساتھی کی بابت کیسا نظریہ رکھنا چاہئے اور اُس کیساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے؟‏

۱۹ بیاہتا ساتھی کی بابت نظریہ۔‏ خدا کا کلام بیان کرتا ہے:‏ ”‏شوہروں کو لازم ہے کہ‌اپنی بیویوں سے اپنے بدن کی مانند محبت رکھیں۔ جواپنی بیوی سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے محبت رکھتا ہے۔“‏ (‏افسیوں ۵:‏۲۸‏)‏ بائبل یہ بھی بیان کرتی ہے کہ شوہر کو اپنی بیوی کو ”‏نازک ظرف جان کر اُسکی عزت“‏ کرنی چاہئے۔ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۷‏)‏ بیویوں کو تاکید کی گئی ہے کہ ”‏اپنے شوہروں کو پیار کریں“‏ اور اُنکا ”‏گہرا احترام“‏ کریں۔ (‏ططس ۲:‏۴؛‏افسیوں ۵:‏۳۳‏،‏این‌ڈبلیو‏)‏ یقیناً کوئی بھی خداترس شوہر صاف‌گوئی کیساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ واقعی اپنی بیوی کی عزت کرتا ہے اگر وہ اُسے جسمانی یا زبانی حملے کا نشانہ بناتا ہے۔ اور کوئی بھی بیوی جو اپنے شوہر پر غصے سے چلاتی، اُسے طنزیہ انداز سے مخاطب کرتی، یا اُسے مسلسل ڈانٹ‌ڈپٹ کرتی ہے یہ نہیں کہہ سکتی کہ وہ اُس سے واقعی محبت کرتی اور اُس کا احترام کرتی ہے۔‏

۲۰.‏ والدین اپنے بچوں کے لئے کس کے حضور جوابدہ ہیں، اور والدین کو اپنے بچوں سے غیرحقیقت‌پسندانہ توقعات کیوں وابستہ نہیں کرنی چاہئیں؟‏

۲۰ بچوں کی بابت درست نظریہ۔‏ بچے مستحق ہیں، جی‌ہاں، اپنے والدین کی طرف سے محبت اور توجہ کے حاجتمند ہیں۔ خدا کا کلام بچوں کو ”‏خداوند کی طرف سے میراث“‏ اور ”‏اجر“‏ کہتا ہے۔ (‏زبور ۱۲۷:‏۳‏)‏ والدین یہوؔواہ کے حضور اِس میراث کی دیکھ‌بھال کرنے کیلئے جوابدہ ہیں۔ بائبل ”‏بچپن کی باتوں“‏ اور لڑکپن کی ”‏حماقت“‏ کا ذکر کرتی ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۱۱؛‏ امثال ۲۲:‏۱۵‏)‏ اگر وہ اپنے بچوں کی طرف سے حماقت کا سامنا کرتے ہیں تو والدین کو حیران نہیں ہونا چاہئے۔ چھوٹے بچے بالغ نہیں ہیں۔ والدین کو بچے کی عمر، خاندانی پس‌منظر، اور صلاحیت کی مناسبت سے زیادہ تقاضا نہیں کرنا چاہئے۔–‏دیکھیں پیدایش ۳۳:‏۱۲-‏۱۴‏۔‏

۲۱.‏ عمررسیدہ والدین کا خیال رکھنے اور اُنکے ساتھ برتاؤ کرنے کا خدائی طریقہ کیا ہے؟‏

۲۱ عمررسیدہ والدین کی بابت نظریہ۔‏ احبار ۱۹:‏۳۲ بیان کرتی ہے:‏ ”‏جنکے سر کے بال سفید ہیں تُو اُنکے سامنے اُٹھ کھڑے ہونا اور بڑے بوڑھے کا ادب کرنا۔“‏ اِسطرح سے خدا کے کلام نے عمررسیدہ کیلئے احترام اور بہت زیادہ پاس‌ولحاظ کی حوصلہ‌افزائی کی۔ یہ ایک چیلنج ہو سکتا ہے جب عمررسیدہ ماں یا باپ حد سے زیادہ متقاضی دکھائی دیتے ہیں یا بیمار ہیں اور شاید حرکت نہیں کرتے یا فوری طور پر نہیں سوچتے۔ پھربھی، بچوں کو یاددہانی کرائی گئی ہے کہ ”‏ماں‌باپ کا حق ادا کرنا سیکھیں۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۴‏)‏ اِسکا مطلب اُنکے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آنا، شاید مالی طور پر اُنکی کفالت کرنا بھی ہوگا۔ بوڑھے والدین کیساتھ جسمانی طور پر یا بصورتِ‌دیگر بدسلوکی کرنا اُس طریقے کی یکسر تردید کرتا ہے جسکے مطابق بائبل ہمیں عمل کرنے کا حکم دیتی ہے۔‏

۲۲.‏ گھریلو تشدد پر قابو پانے کیلئے کلیدی خوبی کیا ہے، اور اِسے کیسے عمل میں لایا جا سکتا ہے؟‏

۲۲ ضبطِ‌نفس پیدا کریں۔‏ امثال ۲۹:‏۱۱ بیان کرتی ہے:‏ ”‏احمق اپنا قہر اُگل دیتا ہے لیکن دانا اُس کو روکتا اور پی جاتا ہے۔“‏ آپ اپنے جوش پر کیسے قابو پا سکتے ہیں؟ اضطراری کو اندر ہی اندر بڑھنے کی اجازت دینے کی بجائے، پیدا ہونے والی مشکلات کو حل کرنے کیلئے فوری کارروائی کریں۔ (‏افسیوں ۴:‏۲۶، ۲۷‏)‏ اگر آپ خود کو بے‌ضبط ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں تو اُس جگہ کو چھوڑ دیں۔ اپنے اندر ضبطِ‌نفس پیدا کرنے کیلئے خدا کی روح‌القدس کیلئے دُعا کریں۔ (‏گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏)‏ سیر کیلئے نکل جانا یا کسی جسمانی ورزش میں لگ جانا اپنے جذبات پر قابو پانے کیلئے آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔ (‏امثال ۱۷:‏۱۴،‏ ۲۷‏)‏ ”‏قہر کرنے میں دھیما“‏ ہونے کی کوشش کریں۔–‏امثال ۱۴:‏۲۹‏۔‏

علیٰحدہ ہو جانا یا اکٹھے رہنا

۲۳.‏ اگر مسیحی کلیسیا کا ایک فرد اکثروبیشتر اور بِلاپشیمانی تشددآمیز غصے میں آ جاتا ہے، جس میں شاید اپنے خاندان کیساتھ جسمانی بدسلوکی شامل ہو تو کیا واقع ہو سکتا ہے؟‏

۲۳ ”‏عداوتیں۔ جھگڑا۔ .‏ .‏ .‏ غصہ،“‏ بائبل انہیں ایسے کاموں میں شمار کرتی ہے جنکی خدامذمت کرتا ہے اور بیان کرتی ہے کہ ”‏اَیسے کام کرنے والے خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہونگے۔“‏ (‏گلتیوں ۵:‏۱۹-‏۲۱‏)‏ اِسلئے، مسیحی ہونے کا دعویٰ کرنے والے کسی بھی شخص کو مسیحی کلیسیا سے خارج کِیا جا سکتا ہے جو اکثروبیشتر اور بِلاپشیمانی قہرآلودہ ہو جاتا ہے، جس میں بچوں یا رفیقِ‌حیات کیساتھ جسمانی بدسلوکی شامل ہو سکتی ہے۔ (‏مقابلہ کریں ۲-‏یوحنا ۹، ۱۰‏۔)‏ اِس طریقے سے کلیسیا کو بدسلوکی کرنے والے اشخاص سے پاک‌صاف رکھا جاتا ہے۔–‏۱-‏کرنتھیوں ۵:‏۶، ۷؛‏ گلتیوں ۵:‏۹‏۔‏

۲۴.‏ (‏ا)‏ بدسلوکی کا نشانہ بننے والا شریکِ‌حیات کیسی کارروائی کرنے کا انتخاب کر سکتا ہے؟ (‏ب)‏ فکر رکھنے والے دوست اور بزرگ بدسلوکی کا نشانہ بننے والے شریکِ‌حیات کی حمایت کیسے کر سکتے ہیں، لیکن اُنہیں کیا نہیں کرنا چاہئے؟‏

۲۴ اُن مسیحیوں کی بابت کیا ہے جنہیں مارنے پیٹنے والے رفیقِ‌حیات نے حال ہی میں زدوکوب کِیا ہے اور جو تبدیلی پیدا کرنے کا کوئی اشارہ بھی نہیں دیتا؟ بعض نے کسی نہ کسی وجہ سے بدسلوکی کرنے والے رفیقِ‌حیات کے ساتھ رہنے کا انتخاب کِیا ہے۔ دوسروں نے اپنی جسمانی، ذہنی، اور روحانی حالت–‏شایداپنی زندگی بھی–‏خطرے میں محسوس کرتے ہوئے چھوڑ دینے کا انتخاب کِیا ہے۔ گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والا ایسے حالات میں جو بھی انتخاب کرتا ہے وہ یہوؔواہ کے حضور ایک ذاتی فیصلہ ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۱۰، ۱۱‏)‏ مخلص دوست، رشتے‌دار، یا مسیحی بزرگ شاید مدد اور مشورت پیش کرنا چاہیں، لیکن اُنہیں نشانہ بننے والے شخص پر کوئی خاص طریقۂ‌عمل اختیار کرنے کے لئے دباؤ نہیں ڈالنا چاہئے۔ یہ فیصلہ کرنا اُس مرد یا عورت کا ذاتی معاملہ ہے۔–‏رومیوں ۱۴:‏۴؛‏ گلتیوں ۶:‏۵‏۔‏

تباہ‌کُن مسائل کا خاتمہ

۲۵.‏ خاندان کیلئے یہوؔواہ کا مقصد کیا ہے؟‏

۲۵ جب یہوؔواہ نے آؔدم اور حوؔا کو شادی کے بندھن میں باندھا تو اُس نے کبھی بھی یہ مقصد نہیں ٹھہرایا تھا کہ خاندانوں کو شراب‌خواری یا تشدد جیسے تباہ‌کُن مسائل سے ٹوٹ‌پھوٹ کا شکار ہونا پڑیگا۔ (‏افسیوں ۳:‏۱۴، ۱۵‏)‏ خاندان کو ایسی جگہ ہونا تھا جہاں محبت اور امن نے فروغ پانا تھا اور ہر فرد کی ذہنی، جذباتی، اور روحانی ضروریات پوری کی جانی تھیں۔ تاہم، گناہ کے وارد ہونے کیساتھ ہی، خاندانی زندگی تیزی کیساتھ ابتری کا شکار ہو گئی۔–‏مقابلہ کریں‌واعظ ۸:‏۹۔‏

۲۶.‏ اُن لوگوں کے لئے جو یہوؔواہ کے تقاضوں کی مطابقت میں زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیسا مستقبل منتظر ہے؟‏

۲۶ خوشی کی بات ہے کہ یہوؔواہ نے خاندان کیلئے اپنے مقصد کو ترک نہیں کِیا۔ وہ پُرامن نئی دنیالانے کا وعدہ کرتا ہے جس میں لوگ ”‏امن سے بسینگے اور اُنکو کوئی نہ ڈرائیگا۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۳۴:‏۲۸)‏ اُس وقت، شراب‌خواری، گھریلو تشدد، اور تمام دیگر مسائل جو آجکل خاندانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں گئی گزری باتیں ہونگے۔ لوگ مسکرائیں گے، خوف اور درد کو چھپانے کیلئے نہیں، بلکہ اسلئے کہ وہ ”‏سلامتی کی فراوانی سے شادمان“‏ ہونگے۔–‏زبور ۳۷:‏۱۱‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a اگرچہ ہم شراب‌خوار کا حوالہ مرد کے طور پر دیتے ہیں، تاہم جب شراب‌خوار کوئی خاتون ہو تو یہ اصول ویسے ہی عائد ہوتے ہیں۔‏

b بعض ممالک میں، علاج‌معالجے کیلئے مراکز، ہسپتال، اور بحالی کے پروگرام موجود ہیں جو شراب‌خواروں اور اُنکے خاندانوں کی مدد کرنے کے ماہر ہیں۔ آیا ایسی مدد حاصل کریں یا نہ کریں یہ ذاتی فیصلہ ہے۔ واچ‌ٹاور سوسائٹی کسی مخصوص علاج کی تائید نہیں کرتی۔ تاہم، احتیاط سے کام لینا چاہئے تاکہ مدد حاصل کرنے کی کوشش میں کوئی شخص ایسی سرگرمیوں میں نہ اُلجھ جائے جو صحیفائی اصولوں کو مشتبہ بناتی ہیں۔‏

یہ بائبل اصول .‏ .‏ .‏ خاندانوں کی ایسے مسائل سے بچنے کیلئے کیسے مدد کر سکتے ہیں جو شدید نقصان کا سبب بنینگے؟‏

یہوؔواہ الکحل کے ناجائز استعمال کی مذمت کرتا ہے۔ –‏امثال ۲۳:‏۲۰، ۲۱‏۔‏

ہر فرد اپنے افعال کا ذمہ‌دار ہے۔–‏رومیوں ۱۴:‏۱۲‏۔‏

ضبطِ‌نفس کے بغیر ہم قابلِ‌قبول طور پر خدا کی خدمت نہیں کر سکتے۔ –‏امثال ۲۹:‏۱۱‏۔‏

سچے مسیحی اپنے عمررسیدہ والدین کا احترام کرتے ہیں۔ –‏احبار ۱۹:‏۳۲۔‏

‏[‏صفحہ ۱۴۶ پر تصویر]‏

خاندانی مسائل حل کرنے میں مسیحی بزرگ مدد کا ایک بڑا ذریعہ ہو سکتے ہیں

‏[‏صفحہ ۱۵۱ پر تصویر]‏

مسیحی بیاہتا ساتھی جو ایک دوسرے کیلئے محبت اور احترام رکھتے ہیں مشکلات کو حل کرنے کیلئے تیزی کیساتھ کارروائی کرینگے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں