یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خا باب 11 ص.‏ 128-‏131
  • اپنے گھرانے میں میل‌ملاپ قائم رکھیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اپنے گھرانے میں میل‌ملاپ قائم رکھیں
  • خاندانی خوشی کا راز
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اگر آپکا شوہر مختلف ایمان رکھتا ہے
  • جب بیوی باایمان مسیحی نہیں ہے
  • بچوں کی تربیت کرنا
  • اگر آپکا مذہب آپکے والدین سے مختلف ہے
  • سوتیلے باپ یا ماں ہونے کا چیلنج
  • کیا مادّی چیزوں کی جستجو آپ کے گھرانے کو منقسم کرتی ہے؟‏
  • آپ کا گھرانہ خوش رہ سکتا ہے
    پاک کلام کی تعلیم حاصل کریں
  • ایک پائدار شادی کیلئے دو کُنجیاں
    خاندانی خوشی کا راز
  • یہوواہ کا پرمحبت خاندانی انتظام
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کا نسخہ
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
مزید
خاندانی خوشی کا راز
خا باب 11 ص.‏ 128-‏131

باب گیارہ

اپنے گھرانے میں میل‌ملاپ قائم رکھیں

۱.‏ بعض کونسی چیزیں ہیں جو خاندانوں میں اختلافات کا سبب بن سکتی ہیں؟‏

مبارک ہیں وہ لوگ جنکا تعلق ایسے خاندانوں سے ہے جن میں محبت، مفاہمت، اور میل‌ملاپ پایا جاتا ہے۔ اُمید ہے کہ آپکا خاندان ایسا ہی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بیشمار خاندان اِس بیان پر پورے نہیں اُترتے اور کسی نہ کسی وجہ سے منقسم ہیں۔ کونسی چیز گھرانوں کو منقسم کرتی ہے؟ اِس باب میں ہم تین چیزوں پر بات‌چیت کرینگے؟ بعض خاندانوں میں، سب ارکان ایک ہی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے۔ دیگر میں، ممکن ہے کہ بچوں کے ایک ہی حیاتیاتی والدین نہیں ہیں۔ اور دیگر میں، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حصولِ‌معاش کی جدوجہد یا زیادہ‌مادی اشیاء کی خواہش خاندانی افراد کو الگ ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ تاہم، وہ حالات جو ایک گھرانے کو منقسم کرتے ہیں شاید دوسرے پر اثرانداز نہ ہوں۔ کس چیز سے فرق پڑتا ہے؟‏

۲.‏ خاندانی زندگی میں بعض لوگ کہاں راہنمائی تلاش کرتے ہیں، لیکن ایسی راہنمائی کا بہترین ماخذ کیا ہے؟‏

۲ نقطۂ‌نظر ایک پہلو ہے۔ اگر آپ خلوصدلی سے دوسرے شخص کا نقطۂ‌نظر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کیلئے یہ سمجھنے کے امکان زیادہ ہیں کہ ایک متحد گھرانے کو کیسے محفوظ رکھیں۔ دوسرا پہلو آپ کی راہنمائی کا ماخذ ہے۔ بہتیرے لوگ ساتھی کارکنوں، پڑوسیوں، اخباری کالم‌نویسوں، یا دیگر انسانی رہبروں کی نصیحت پر عمل کرتے ہیں۔ تاہم، بعض نے سمجھ لیا ہے کہ خدا کا کلام اُنکی صورتحال کی بابت کیا بیان کرتا ہے، اور پھر جوکچھ اُنہوں نے سیکھا اُنہوں نے اُسکا اطلاق کِیا۔ ایسا کرنا گھرانے میں میل‌ملاپ قائم رکھنے کیلئے خاندان کی کیسے مدد کر سکتا ہے؟–‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶، ۱۷‏۔‏

اگر آپکا شوہر مختلف ایمان رکھتا ہے

۳.‏ (‏ا)‏ ایک مختلف ایمان والے شخص سے شادی کرنے کی بابت بائبل کی مشورت کیا ہے؟ (‏ب)‏ اگر ایک شریکِ‌حیات باایمان ہے اور دوسرا نہیں ہے تو بعض بنیادی اصول کیا ہیں جنکا اطلاق ہوتا ہے؟‏

۳ بائبل ہمیں کسی مختلف مذہبی ایمان رکھنے والے سے شادی کرنے کے خلاف زبردست نصیحت فراہم کرتی ہے۔ (‏استثنا ۷:‏۳، ۴؛‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۳۹‏)‏ تاہم، ہو سکتا ہے کہ آپ نے اپنی شادی کے بعد بائبل سے سچائی سیکھ لی ہے لیکن آپ کے شوہر نے نہیں۔ توپھر کیا ہو؟ بِلاشُبہ، شادی کے عہدوپیمان پھربھی قائم رہتے ہیں۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۱۰‏)‏ بائبل شادی کے بندھن کے دائمی ہونے پر زور دیتی ہے اور شادی‌شُدہ لوگوں کے اپنے اختلافات سے فرار حاصل کرنے کی بجائے اُنہیں حل کرنے کی حوصلہ‌افزائی کرتی ہے۔ (‏افسیوں ۵:‏۲۸-‏۳۱؛‏ ططس ۲:‏۴، ۵‏)‏ تاہم، اگر آپ کا شوہر آپ کے بائبل پر مبنی مذہب پر عمل کرنے پر سخت اعتراض کرتا ہے تو کیا ہو؟ وہ آپ کو کلیسیائی اجلاسوں پر جانے سے روکنے کی کوشش کر سکتا ہے، یا وہ کہہ سکتا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ اُس کی بیوی مذہب کی بابت بات‌چیت کرتے ہوئے، گھرباگھر جائے۔ آپ کیا کرینگی؟‏

۴.‏ ایک بیوی کس طریقے سے سمجھداری دکھا سکتی ہے اگر اُسکا شوہر اس جیسا ایمان نہیں رکھتا؟‏

۴ خود سے پوچھیں، ’‏میرا شوہر کیوں اِس طرح سے محسوس کرتا ہے؟‘‏ (‏امثال ۱۶:‏۲۰،‏ ۲۳‏)‏ اگر وہ واقعی یہ نہیں سمجھتا کہ آپ کیا کرتی ہیں تو وہ آپ کی بابت فکرمند ہو سکتا ہے۔ یا وہ رشتے‌داروں کی طرف سے دباؤ کے تحت ہو سکتا ہے کیونکہ اب آپ بعض رسومات میں شریک نہیں ہوتیں جو اُن کے لئے اہمیت کی حامل ہیں۔ ”‏گھر میں تنہا، مَیں نے محسوس کِیا کہ میرا ساتھ چھوڑ دیا گیا ہے،“‏ ایک شوہر نے بیان کِیا۔ اِس شخص نے محسوس کِیا کہ وہ اپنی بیوی کو ایک مذہب میں کھو رہا تھا۔ تاہم تکبّر نے اُسے یہ تسلیم کرنے سے روکے رکھا کہ وہ تنہا محسوس کرتا تھا۔ شاید آپ کے شوہر کو اس یقین‌دہانی کی ضرورت ہے کہ یہوؔواہ کے لئے آپ کی محبت کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ماضی کی نسبت اب اپنے شوہر سے کم محبت کرتی ہیں۔ اُس کے ساتھ وقت گزارنے کو یقینی بنائیں۔‏

۵.‏ ایک بیوی کو جسکے شوہر کا ایمان مختلف ہے کیا توازن قائم رکھنا چاہئے؟‏

۵ تاہم، اگر آپ نے صورتحال کا دانشمندی سے مقابلہ کرنا ہے تو اِس سے بھی زیادہ اہم چیز کا خیال رکھا جانا چاہئے۔ خدا کا کلام بیویوں کو تاکید کرتا ہے:‏ ”‏اَے بیویو!‏ جیسا خداوند میں مناسب ہے اپنے شوہروں کے تابع رہو۔“‏ (‏کلسیوں ۳:‏۱۸‏)‏ لہٰذا، یہ خودمختارانہ روح کے خلاف متنبہ کرتی ہے۔ مزیدبرآں، یہ کہتے ہوئے، ”‏جیسا خداوند میں مناسب ہے،“‏ یہ صحیفہ ظاہر کرتا ہے کہ اپنے شوہر کیلئے اطاعت‌شعاری کیساتھ ساتھ خداوند کیلئے اطاعت‌شعاری کا بھی لحاظ رکھنا چاہئے۔ اس میں توازن ہونا چاہئے۔‏

۶.‏ ایک مسیحی بیوی کو کن اصولوں کو ذہن میں رکھنا چاہئے؟‏

۶ ایک مسیحی کیلئے، کلیسیائی اجلاسوں پر حاضر ہونا اور دوسروں کو بائبل پر مبنی اپنے ایمان کی بابت گواہی دینا سچی پرستش کے اہم پہلو ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کِیا جانا چاہئے۔ (‏رومیوں ۱۰:‏۹، ۱۰،‏ ۱۴؛‏ عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏)‏ تاہم، اگر کوئی شخص آپکو براہِ‌راست حکم دیتا ہے کہ آپ خدا کے کسی مخصوص تقاضے کے مطابق عمل نہ کریں تو آپ کیا کرینگے؟ یسوؔع مسیح کے رسولوں نے بیان کِیا:‏ ”‏ہمیں آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے۔“‏ (‏اعمال ۵:‏۲۹‏)‏ اُنکا نمونہ ایک مثال فراہم کرتا ہے جو زندگی کی بہت سی حالتوں کیلئے موزوں ہے۔ کیا یہوؔواہ کیلئے محبت آپکو اُسے ویسی ہی عقیدت دینے کی تحریک دیگی جسکا وہ جائز طور پر مستحق ہے؟ تاہم، کیا اپنے شوہر کیلئے آپکی محبت اور احترام آپ کیلئے اسے اُسی طریقے سے انجام دینے کی کوشش کرنے کا باعث بنتے ہیں جو اُسے قابلِ‌قبول ہے؟–‏متی ۴:‏۱۰؛‏۱-‏یوحنا ۵:‏۳‏۔‏

۷.‏ ایک مسیحی بیوی کا عزمِ‌مُصمم کیا ہونا چاہئے؟‏

۷ یسوؔع نے بیان کِیا کہ ایسا کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہو گا۔ اُس نے آگاہ کِیا کہ سچی پرستش کی مخالفت کی وجہ سے، بعض خاندانوں کے باایمان افراد منفصل محسوس کرینگے، گویاکہ اُنکے اور باقیماندہ خاندان کے مابین ایک تلوار حائل ہو گئی ہے۔ (‏متی ۱۰:‏۳۴-‏۳۶‏)‏ جاؔپان میں ایک عورت کو اِسکا تجربہ ہوا۔ اُس کے شوہر نے ۱۱ سال تک مخالفت کی تھی۔ اُس نے اُسے سخت بدسلوکی کا نشانہ بنایا اور اکثروبیشتر اُسے گھر سے باہر رکھا۔ لیکن وہ ثابت‌قدم رہی۔ مسیحی کلیسیا میں ساتھیوں نے اُسکی مدد کی۔ وہ لگاتار دُعا کرتی رہی اور ۱-‏پطرس ۲:‏۲۰ سے کافی حوصلہ‌افزائی حاصل کی۔ اِس مسیحی خاتون کو یقین تھا کہ اگر وہ ثابت‌قدم رہتی ہے تو ایک نہ ایک دن اُسکا شوہر یہوؔواہ کی خدمت میں اُسکے ساتھ شریک ہو جائیگا۔ اور وہ ہو گیا۔‏

۸، ۹.‏ اپنے شوہر کے سامنے غیرضروری رُکاوٹیں کھڑی کرنے سے گریز کرنے کے لئے ایک بیوی کو کیسے عمل کرنا چاہئے؟‏

۸ ایسے بہت سے عملی کام ہیں جو آپ اپنے ساتھی کے رویے کو متاثر کرنے کیلئے کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپکا شوہر آپکے مذہب کی مخالفت کرتا ہے تو دوسرے حلقوں میں اُسے شکایت کی جائز وجوہات فراہم نہ کریں۔ گھر کو صاف‌ستھرا رکھیں۔ اپنی ذاتی وضع‌قطع کا خیال رکھیں۔ محبت اور قدردانی کے اظہارات کے سلسلے میں فیاض ہوں۔ نکتہ‌چینی کرنے کی بجائے، معاون بنیں۔ یہ ظاہر کریں کہ آپ اُس سے سرداری کی توقع کرتی ہیں۔ اگر آپ محسوس کرتی ہیں کہ آپکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو بدلہ نہ لیں۔ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۲۱،‏ ۲۳‏)‏ انسانی ناکاملیت کو مدِنظر رکھیں، اور اگر کوئی اختلاف پیدا ہو جاتا ہے تو فروتنی کیساتھ معافی مانگنے میں پہل کریں۔–‏افسیوں ۴:‏۲۶‏۔‏

۹ اجلاسوں پر اپنی حاضری کو اُسکے کھانوں میں تاخیر کی وجہ نہ بننے دیں۔ آپ مسیحی خدمتگزاری میں حصہ لینے کیلئے ایسے اوقات کا انتخاب کر سکتی ہیں جب آپکا شوہر گھر پر موجود نہیں ہے۔ جب اسے پسند نہیں کِیا جاتا تو ایک مسیحی بیوی کیلئے اپنے شوہر کو منادی نہ کرنا دانشمندانہ بات ہے۔ اسکی بجائے، وہ پطرؔس رسول کی نصیحت پر عمل کرتی ہے:‏ ”‏اَے بیویو!‏ تم بھی اپنے اپنے شوہر کے تابع رہو۔ اِسلئے‌کہ اگر بعض اُن میں سے کلام کو نہ مانتے ہوں تو بھی تمہارے پاکیزہ چال‌چلن اور خوف کو دیکھ کر بغیر کلام کے اپنی اپنی بیوی کے چال‌چلن سے خدا کی طرف کھنچ جائیں۔“‏ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۱، ۲‏)‏ مسیحی بیویاں خدا کی روح کے پھل ظاہر کرنے کیلئے پوری تندہی سے کام کرتی ہیں۔–‏گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏۔‏

جب بیوی باایمان مسیحی نہیں ہے

۱۰.‏ ایک باایمان شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہئے اگر وہ مختلف ایمان رکھتی ہے؟‏

۱۰ اگر شوہر باایمان مسیحی ہے اور بیوی نہیں ہے تو کیا ہو؟ بائبل ایسی حالتوں کے لئے راہنمائی فراہم کرتی ہے۔ یہ بیان کرتی ہے:‏ ”‏اگر کسی بھائی کی بیوی باایمان نہ ہو اور اُسکے ساتھ رہنے کو راضی ہو تو وہ اُسکو نہ چھوڑے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۱۲‏)‏ یہ شوہروں کو بھی تاکید کرتی ہے:‏ ”‏اپنی بیویوں سے محبت رکھو۔“‏–‏کلسیوں ۳:‏۱۹‏۔‏

۱۱.‏ ایک شوہر کیسے بصیرت دکھا سکتا ہے اور موقع‌شناسی سے اپنی بیوی پر سرداری کو عمل میں لا سکتا ہے اگر وہ ایک باایمان مسیحی نہیں ہے؟‏

۱۱ اگر آپ ایک ایسی بیوی کے شوہر ہیں جسکا ایمان آپ سے مختلف ہے تو اپنی بیوی کیلئے احترام اور اُسکے جذبات کیلئے پاس‌ولحاظ دکھانے کیلئے خاص طور پر محتاط رہیں۔ ایک بالغ کے طور پر، وہ کسی حد تک اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے کی آزادی کی مستحق ہے، خواہ آپکو اُن سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔ پہلی مرتبہ جب آپ اُس سے اپنے ایمان کی بابت گفتگو کرتے ہیں تو اُس سے پُرانے عقائد کو کسی نئی چیز کی تائید میں چھوڑ دینے کی توقع نہ کریں۔ دفعتہً یہ کہنے کی بجائے کہ جن مذہبی عقائد کا وہ اور اُسکا خاندان مدتوں سے احترام کرتے رہے ہیں وہ جھوٹے ہیں، اُس کے ساتھ تحمل سے صحائف سے استدلال کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کلیسیائی کارگزاریوں کیلئے کافی زیادہ وقت صرف کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ محسوس کرے کہ اُسے نظرانداز کِیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ یہوؔواہ کی خدمت کرنے کی آپکی کوششوں کی مخالفت کرے، تاہم شاید بنیادی وجہ صرف یہ ہو:‏ ”‏مجھے آپکے زیادہ وقت کی ضرورت ہے!‏“‏ متحمل بنیں۔ آپکے پُرمحبت پاس‌ولحاظ کی وجہ سے، وقت آنے پر ہو سکتا ہے کہ سچی پرستش کو اپنانے کیلئے اُسکی مدد کی جا سکے۔–‏کلسیوں ۳:‏۱۲-‏۱۴؛‏۱-‏پطرس ۳:‏۸، ۹‏۔‏

بچوں کی تربیت کرنا

۱۲.‏ اگر ایک شوہر اور اُس کی بیوی مختلف ایمان رکھتے ہیں توبھی اپنے بچوں کی تربیت کرنے کے لئے صحیفائی اصولوں کا اطلاق کیسے کِیا جانا چاہئے؟‏

۱۲ ایک ایسے گھرانے میں جو پرستش میں متحد نہیں ہے، بچوں کی مذہبی تعلیم‌وتربیت بعض‌اوقات ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔ صحیفائی اصولوں کا اطلاق کیسے کِیا جانا چاہئے؟ بائبل بچوں کی تعلیم‌وتربیت کرنے کی بنیادی ذمہ‌داری والد پر عائد کرتی ہے، لیکن ماں کو بھی ایک اہم کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ (‏امثال ۱:‏۸‏؛مقابلہ کریں پیدایش۱۸:‏۱۹؛استثنا ۱۱:‏۱۸، ۱۹۔)‏ یہانتک‌کہ اگر وہ مسیح کی سرداری کو تسلیم نہیں بھی کرتا تو بھی باپ خاندان کا سردار ہے۔‏

۱۳، ۱۴.‏ اگر شوہر اپنی بیوی کو بچوں کو مسیحی اجلاسوں پر لے جانے یا اُنکے ساتھ مطالعہ کرنے سے منع کرتا ہے تو وہ کیا کر سکتی ہے؟‏

۱۳ اگر ماں مذہبی معاملات میں بچوں کی تعلیم‌وتربیت کرتی ہے تو بعض بے‌ایمان والد اعتراض نہیں کرتے۔ دیگر کرتے ہیں۔ اگر آپکا شوہر آپکو بچوں کو اجلاسوں پر لے جانے کی اجازت دینے سے انکار کرتا ہے یا آپکو اُن کیساتھ گھر پر بائبل مطالعہ کرنے سے بھی منع کرتا ہے تو کیا ہو؟ اب آپکو چند ایک ذمہ‌داریوں کو متوازن رکھنا پڑتا ہے–‏یہوؔواہ خدا کے حضور، اپنے شوہر کی سرداری کے سلسلے میں، اور اپنے عزیز بچوں کے سلسلے میں آپکی ذمہ‌داری۔ آپ کیسے اِن میں ہم‌آہنگی پیدا کر سکتی ہیں؟‏

۱۴ یقیناً آپ معاملے کی بابت دُعا کرینگی۔ (‏فلپیوں ۴:‏۶، ۷؛‏ ۱-‏یوحنا ۵:‏۱۴‏)‏ لیکن آخرکار، فیصلہ آپ ہی نے کرنا ہے کہ کونسی روش اختیار کی جائے۔ اگر آپ اپنے شوہر پر یہ واضح کرتے ہوئے موقع‌شناسی سے کام لیتی ہیں کہ آپ اُس کی سرداری کو چیلنج نہیں کر رہی ہیں تو انجام‌کار اُسکی مخالفت کم ہو سکتی ہے۔ اگر آپکا شوہر آپکو اپنے بچوں کو اجلاسوں پر لے جانے سے یا اُن کیساتھ باضابطہ بائبل مطالعہ کرنے سے منع کرتا بھی ہے تو پھر بھی آپ اُنہیں تعلیم دے سکتی ہیں۔ اپنی روزمرّہ کی گفتگو اور اپنے عمدہ نمونہ کے ذریعے، اُنکے اندر کسی حد تک یہوؔواہ کیلئے محبت، اُسکے کلام پر ایمان، والدین کیلئے احترام–‏بشمول اُنکے والد–‏دوسرے لوگوں کیلئے پُرمحبت فکرمندی، اور ایماندارانہ کام کی عادات کیلئے قدردانی کو پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ انجام‌کار، والد عمدہ نتائج کو دیکھ سکتا ہے اور آپکی کوششوں کی قدروقیمت کی قدرافزائی کر سکتا ہے۔–‏امثال ۲۳:‏۲۴‏۔‏

۱۵.‏ بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں باایمان باپ کی کیا ذمہ‌داری ہے؟‏

۱۵ اگر آپ ایک باایمان شوہر ہیں اور آپ کی بیوی نہیں ہے تو پھر آپکو اپنے بچوں کی ”‏خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر“‏ اُنکی پرورش کرنے کی ذمہ‌داری اُٹھانی چاہئے۔ (‏افسیوں ۶:‏۴‏)‏ ایسا کرتے ہوئے، یقیناً آپکو اپنی بیوی کیساتھ برتاؤ کرتے وقت، مہربان، شفیق، اور معقول ہونا چاہئے۔‏

اگر آپکا مذہب آپکے والدین سے مختلف ہے

۱۶، ۱۷.‏ اگر بچوں نے اپنے والدین سے مختلف ایمان اختیار کر لیا ہے تو اُنہیں کن بائبل اصولوں کو یاد رکھنا چاہئے؟‏

۱۶ اب تو نابالغ بچوں کیلئے بھی ایسے مذہبی نظریات اختیار کرنا غیرمعمولی بات نہیں ہے جو اُنکے والدین سے مختلف ہیں۔ کیا آپ نے ایسا کِیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو بائبل میں آپ کیلئے مشورت ہے۔‏

۱۷ خدا کا کلام بیان کرتا ہے:‏ ”‏خداوند میں اپنے ماں باپ کے فرمانبردار رہو کیونکہ یہ واجب ہے۔ اپنے باپ اور ماں کی عزت کر۔“‏ (‏افسیوں ۶:‏۱، ۲‏)‏ اِس میں والدین کیلئے بھرپور احترام شامل ہے۔ تاہم، والدین کی فرمانبرداری اگرچہ ضروری ہے، تو بھی برحق خدا کے لئے پاس‌ولحاظ کے بغیر نہیں کی جانی چاہئے۔ جب ایک بچہ فیصلے کرنے کیلئے کافی بڑا ہو جاتا ہے تو وہ بڑی حد تک اپنے افعال کا ذمہ‌دار ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ دُنیوی شریعت کے سلسلے میں بلکہ خاص طور پر الہٰی شریعت کے سلسلے میں بھی سچ ہے۔ ”‏ہم میں سے ہر ایک خدا کو اپنا حساب دیگا،“‏ بائبل بیان کرتی ہے۔–‏رومیوں ۱۴:‏۱۲‏۔‏

۱۸، ۱۹.‏ اگر بچے ایک ایسا مذہب رکھتے ہیں جو اُنکے والدین سے مختلف ہے تو وہ اپنے والدین کی اپنے ایمان کو بہتر طور پر سمجھنے کیلئے کیسے مدد کر سکتے ہیں؟‏

۱۸ اگر آپکے عقائد آپ کیلئے اپنی زندگی میں تبدیلیاں پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں تو اپنے والدین کے نقطۂ‌نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ غالباً وہ خوش ہونگے اگر آپ کے بائبل تعلیمات سیکھنے اور اطلاق کرنے کے نتیجے میں آپ زیادہ بااحترام، زیادہ فرمانبردار، اور جوکچھ وہ آپ سے چاہتے ہیں اُس میں اَور زیادہ فعال بن جاتے ہیں۔ تاہم، اگر آپکا نیا ایمان آپ کیلئے اُن عقائد اور رسومات کو مسترد کرنے کا بھی سبب بنتا ہے جنکا وہ ذاتی طور پر احترام کرتے ہیں، تو وہ محسوس کر سکتے ہیں کہ آپ اُس میراث کو ٹھکرا رہے ہیں جسے وہ آپکو دینا چاہتے تھے۔ جوکچھ آپ کر رہے ہیں اگر وہ آپکے معاشرے میں مقبول نہیں ہے یا اگر یہ آپکی توجہ اُن کاموں سے ہٹاتا ہے جنہیں وہ محسوس کرتے ہیں کہ مالی طور پر کامیاب ہونے کیلئے آپکی مدد کر سکتے ہیں تو شاید وہ آپکی فلاح‌وبہبود کیلئے بھی فکرمند ہوں۔ تکبّر بھی ایک رُکاوٹ ہو سکتا ہے۔ شاید وہ محسوس کریں کہ آپ درحقیقت یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ درست ہیں اور وہ غلط ہیں۔‏

۱۹ پس، جتنا جلدی ممکن ہو، اپنے والدین کیلئے مقامی کلیسیا کے بعض بزرگوں یا دیگر پُختہ گواہوں سے ملنے کا بندوبست بنانے کی کوشش کریں۔ اپنے والدین کی کنگڈم ہال جانے کے لئے حوصلہ‌افزائی کریں تاکہ وہ خودزیرِبحث بات‌چیت کو سنیں اور براہِ‌راست دیکھیں کہ یہوؔواہ کے گواہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ انجام‌کار، آپ کے والدین کا رویہ نرم پڑ سکتا ہے۔ اُس وقت بھی جب والدین سخت مخالفت کرتے ہیں، بائبل لٹریچر ضائع کر دیتے ہیں، اور بچوں کو مسیحی اجلاسوں پر جانے سے منع کرتے ہیں، تو عموماً کسی اَور جگہ پڑھنے، ساتھی مسیحیوں سے بات‌چیت کرنے، اور غیررسمی طور پر گواہی دینے اور دوسروں کی مدد کرنے کے مواقع ہوتے ہیں۔ آپ یہوؔواہ سے دُعا بھی کر سکتے ہیں۔ بعض نوجوانوں کو اُس وقت تک انتظار کرنا پڑتا ہے جبتک کہ وہ پہلے خاندانی دائرے سے باہر رہ کر کچھ کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔ تاہم، خواہ گھر میں حالت کیسی ہی ہو، ”‏اپنے باپ اور ماں کی عزت کرنا“‏ نہ بھولیں۔ گھر کے اندر میل‌ملاپ کو فروغ دینے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ (‏رومیوں ۱۲:‏ ۱۷، ۱۸‏)‏ سب سے بڑھکر، خدا کیساتھ میل‌ملاپ رکھیں۔‏

سوتیلے باپ یا ماں ہونے کا چیلنج

۲۰.‏ بچے کیسے جذبات رکھ سکتے ہیں اگر اُنکے ماں یا باپ سوتیلے ہیں؟‏

۲۰ بہتیرے گھروں میں صورتحال جو سب سے بڑا چیلنج پیش کرتی ہے وہ مذہبی نہیں بلکہ حیاتیاتی ہوتا ہے۔ بہتیرے گھرانوں میں آجکل ایک یا دونوں والدین کی سابقہ شادیوں سے بچے شامل ہوتے ہیں۔ ایسے خاندان میں، ممکن ہے کہ بچوں کو حسد اور آزردگی یا شاید وفاداریوں کے تضاد کا سامنا ہو۔ نتیجتاً، شاید وہ سوتیلے باپ یا ماں کے اچھا باپ یا ماں بننے کی مخلصانہ کوششوں کو بے‌اعتنائی سے ٹھکرا دیں۔ ایک سوتیلے خاندان کو کامیاب بنانے کیلئے کیا چیز مدد کر سکتی ہے؟‏

۲۱.‏ اپنے مخصوص حالات کے باوجود، سوتیلے والدین کو مدد کیلئے بائبل میں پائے جانے والے اصولوں پر کیوں توجہ دینی چاہئے؟‏

۲۱ یاد رکھیں کہ مخصوص حالات کے باوجود، بائبل اصول جو دیگر گھرانوں میں کامیابی کا سبب بنتے ہیں یہاں پر بھی عائد ہوتے ہیں۔ اِن اصولوں کو نظرانداز کرنا عارضی طور پر مسئلے کا حل دکھائی دے سکتا ہے لیکن غالباً بعد میں غم کا باعث بنے گا۔ (‏زبور ۱۲۷:‏۱؛‏ امثال ۲۹:‏۱۵‏)‏ حکمت اور فہم کو پیدا کریں–‏حکمت اسلئے کہ دوررَس فوائد کو ذہن میں رکھتے ہوئے خدائی اصولوں کا اطلاق کریں، اور فہم اِس چیز میں امتیاز کرنے کے لئے کہ خاندانی افراد بعض باتیں کیوں کہتے اور کرتے ہیں۔ ہمدردی دکھانے کی بھی ضرورت ہے۔–‏امثال ۱۶:‏۲۱؛‏۲۴:‏۳؛‏ ۱-‏پطرس ۳:‏۸‏۔‏

۲۲.‏ بچے ایک سوتیلے باپ یا ماں کو تسلیم کرنا کیوں مشکل پا سکتے ہیں؟‏

۲۲ اگر آپ ایک سوتیلے باپ یا ماں ہیں تو شاید آپکو یاد ہو کہ خاندان کے دوست کے طور پر، بچے شاید آپکا خیرمقدم کرتے تھے۔ لیکن جب آپ اُنکے سوتیلے باپ یا ماں بن گئے تو شاید اُنکا رویہ تبدیل ہو گیا ہے۔ حیاتیاتی باپ یا ماں کو یاد کرتے ہوئے جواب اُنکے ساتھ نہیں رہتا، بچے شاید وفاداریوں کے تضاد سے نبردآزما ہوں، ممکن ہے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ آپ اُس چاہت کو چھین لینا چاہتے ہیں جو وہ اُن کیساتھ نہ رہنے والے باپ یا ماں کیلئے رکھتے ہیں۔ کبھی‌کبھار، شاید وہ آپکو بے‌ادبی سے یاد دلائیں کہ آپ اُنکے باپ یا اُنکی ماں نہیں ہیں۔ ایسے بیانات دُکھ پہنچاتے ہیں۔ پھربھی، ”‏اپنے جی میں خفا ہونے میں جلدی نہ کریں۔“‏ (‏واعظ ۷:‏۹‏)‏ بچوں کے جذبات سے نپٹنے کیلئے فہم اور ہمدردی کی ضرورت ہے۔‏

۲۳.‏ سوتیلے بچوں والے خاندان میں تنبیہ کو کیسے عمل میں لایا جا سکتا ہے؟‏

۲۳ جب کوئی تنبیہ کو عمل میں لاتا ہے تو یہ خوبیاں نہایت ضروری ہیں۔ بااصول تنبیہ ضروری ہے۔ (‏امثال ۶:‏۲۰؛‏۱۳:‏۱‏)‏ اور چونکہ تمام بچے ایک جیسے نہیں ہوتے اِسلئے ہر ایک کے معاملے میں تنبیہ مختلف ہو سکتی ہے۔ بعض سوتیلے والدین نے یہ دیکھا ہے کہ کم‌ازکم شروع میں، پرورش کرنے کے اِس پہلو میں حیاتیاتی باپ یا ماں کیلئے ذمہ‌داری نبھانا مفید ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ لازمی ہے کہ تنبیہ کے سلسلے میں دونوں والدین متفق ہوں اور سوتیلے بچے کے مقابلے میں سگے بچے کی طرفداری نہ کرتے ہوئے اِسکی حمایت کریں۔ (‏امثال ۲۴:‏۲۳‏)‏ فرمانبرداری ضروری ہے، لیکن ناکاملیت کو بھی مدِنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ حد سے زیادہ ناراضگی نہ دکھائیں۔ محبت سے تنبیہ کریں۔–‏کلسیوں ۳:‏۲۱‏۔‏

۲۴.‏ ایک سوتیلے خاندان میں مخالف صنف کے افراد کے مابین اخلاقی مسائل سے بچنے کے لئے کونسی چیز مدد کر سکتی ہے؟‏

۲۴ خاندانی مباحثے مشکل پر قابو پانے کے لئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ یہ زندگی میں اہم‌ترین معاملات پر توجہ مرکوز رکھنے کیلئے خاندان کی مدد کر سکتے ہیں۔ (‏مقابلہ کریں فلپیوں ۱:‏۹-‏۱۱‏۔)‏ وہ یہ سمجھنے کیلئے بھی ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں کہ وہ کیسے خاندانی مقاصد حاصل کرنے کیلئے اعانت کر سکتا ہے۔ علاوہ‌ازیں، بِلاتکلف خاندانی مباحثے اخلاقی مسائل سے بچا سکتے ہیں۔ لڑکیوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اپنے سوتیلے باپ اور کسی بھی سوتیلے بھائی کے سامنے کیسا لباس پہنیں اور کیسا طرزِعمل اختیار کریں، اور لڑکوں کواپنی سوتیلی ماں اور کسی بھی سوتیلی بہن کیساتھ درست طورطریقوں کے سلسلے میں نصیحت کی ضرورت ہے۔–‏۱-‏تھسلنیکیوں ۴:‏۳-‏۸‏۔‏

۲۵.‏ ایک سوتیلے خاندان میں میل‌ملاپ قائم رکھنے کیلئے کونسی خوبیاں مدد کر سکتی ہیں؟‏

۲۵ سوتیلے باپ یا ماں ہونے کے خاص چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے متحمل بنیں۔ نئے رشتوں کو ترقی دینے میں وقت لگتا ہے۔ اُن بچوں سے جن کیساتھ آپ کوئی حیاتیاتی تعلق نہیں رکھتے محبت اور احترام حاصل کرنا ایک مشکل‌ترین کام ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ ممکن ہے۔ یہوؔواہ کو خوش کرنے کی زبردست خواہش کیساتھ، ایک دانشمند اور فہیم دل، ایک سوتیلے خاندان میں میل‌ملاپ کی کُنجی ہے۔ (‏امثال ۱۶:‏۲۰‏)‏ ایسی خوبیاں دیگر حالتوں سے نپٹنے کیلئے بھی آپکی مدد کر سکتی ہیں۔‏

کیا مادّی چیزوں کی جستجو آپ کے گھرانے کو منقسم کرتی ہے؟‏

۲۶.‏ مادی چیزوں کے سلسلے میں مسائل اور رجحانات کن طریقوں سے ایک خاندان کو منقسم کر سکتے ہیں؟‏

۲۶ مادی چیزوں کی بابت مسائل اور رجحانات خاندانوں کو متعدد طریقوں سے منقسم کر سکتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ بعض خاندان پیسے اور امیر بننے–‏یا کم‌ازکم تھوڑا اَور امیر بننے کی خواہش پر بحث‌وتکرار کی وجہ سے منقسم ہیں۔ جب دونوں ساتھی دُنیاوی ملازمت کرتے ہیں اور ”‏میرے پیسے، تیرے پیسے“‏ والا رویہ اپناتے ہیں تو اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر بحث‌وتکرار سے گریز کر بھی لیا جاتا ہے تو بھی جب دونوں ساتھی کام کرتے ہیں تو شاید وہ خود کو ایک ایسے جدوَل کا پابند پائیں جو ایک دوسرے کیلئے بہت کم وقت چھوڑتا ہے۔ دُنیا میں ایک بڑھتا ہوا رجحان یہ ہے کہ والد اپنے خاندانوں سے طویل عرصے–‏مہینوں یا سالوں–‏کیلئے دُور رہیں تاکہ اُس سے کہیں زیادہ پیسہ کمائیں جو وہ کبھی گھر پر کما سکتے ہیں۔ یہ سنگین مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔‏

۲۷.‏ بعض اصول کیا ہیں جو ایک خاندان کی مالی دباؤ کے تحت مدد کر سکتے ہیں؟‏

۲۷ چونکہ مختلف خاندانوں کو مختلف قسم کے دباؤ اور ضروریات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے، اِسلئے ایسی حالتوں سے نپٹنے کیلئے کوئی ضابطے قائم نہیں کئے جا سکتے۔ پھربھی، بائبل مشورت مدد کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، امثال ۱۳:‏۱۰ ظاہر کرتی ہے کہ بعض‌اوقات ”‏باہمی مشورت“‏ سے غیرضروری جدوجہد سے بچا جا سکتا ہے۔ اِس میں نہ صرف اپنے ذاتی نظریات بیان کرنا بلکہ نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کرنا اور یہ دریافت کرنا شامل ہے کہ معاملے کی بابت دوسرے شخص کا نقطۂ‌نظر کیا ہے۔ علاوہ‌ازیں، حقیقت‌پسندانہ بجٹ تیار کرنا خاندانی کوششوں کو کامیاب بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ بعض‌اوقات اضافی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے دونوں ساتھیوں کیلئے–‏شاید عارضی طور پر–‏گھر سے باہر کام کرنا ضروری ہوتا ہے خاص طور پر جب بچے یا دوسرے لوگ دستِ‌نگر ہوتے ہیں۔ جب ایسا معاملہ ہوتا ہے تو شوہراپنی بیوی کو یقین‌دہانی کرا سکتا ہے کہ اُسکے پاس اُس کیلئے اب بھی وقت ہے۔ وہ بچوں کیساتھ ملکر پُرمحبت طریقے سے کچھ کام میں مدد دے سکتا ہے جو شاید عام طور پر وہ اکیلی ہی کرتی ہے۔–‏فلپیوں ۲:‏۱-‏۴‏۔‏

۲۸.‏ کونسی یاددہانیاں، اگر اُنکی پابندی کی جاتی ہے تو خاندان کے اتحاد کیلئے کام کرنے میں مدد کرینگی؟‏

۲۸ تاہم، یاد رکھیں، پیسہ اِس نظام‌العمل میں اگرچہ ایک ضرورت ہے لیکن یہ خوشی نہیں لاتا۔ یقیناً یہ زندگی نہیں دیتا۔ (‏واعظ ۷:‏۱۲‏)‏ واقعی، مادی چیزوں پر حد سے زیادہ زور دینا روحانی اور اخلاقی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۹-‏۱۲‏)‏ یہ کتنا اچھا ہوگا کہ ضروریاتِ‌زندگی حاصل کرنے کی اپنی کوششوں پر خدا کی برکت کی یقین‌دہانی کیساتھ پہلے اُسکی بادشاہت اور اُسکی راستبازی کی تلاش کریں!‏ (‏متی ۶:‏۲۵-‏۳۳؛‏ عبرانیوں ۱۳:‏۵‏)‏ روحانی مفادات کو مقدم رکھنے سے اور سب سے پہلے خدا کے ساتھ میل‌ملاپ کے طالب ہونے سے، آپ دیکھینگے کہ اگرچہ آپ کا گھرانہ بعض حالات کی وجہ سے منقسم ہے، توبھی ایک ایسا گھرانہ بن جائے گا جو نہایت اہم طریقوں سے واقعی متحد ہے۔‏

یہ بائبل اصول .‏ .‏ .‏ گھر کے اندر میل‌ملاپ قائم رکھنے کیلئے خاندانی افراد کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟‏

مسیحی بصیرت پیدا کرتے ہیں۔–‏امثال ۱۶:‏۲۱؛‏ ۲۴:‏۳‏۔‏

شادی میں جوڑے کیلئے محبت اور احترام دکھانا اُنکے ایک ہی مذہب کے ہونے پر مشروط نہیں ہے۔–‏افسیوں ۵:‏۲۳،‏ ۲۵‏۔‏

ایک مسیحی دانستہ طور پر خدا کی شریعت کو نہیں توڑیگا۔–‏اعمال ۵:‏۲۹‏۔‏

مسیحی صلح‌دوست ہیں۔–‏رومیوں ۱۲:‏۱۸‏۔‏

خفا ہونے میں جلدبازی نہ کریں۔–‏واعظ ۷:‏۹‏۔‏

‏[‏صفحہ ۱۳۹ پر بکس]‏

جائز شادیاں قدرومنزلت اور میل‌ملاپ کا باعث بنتی ہیں

ہمارے زمانہ میں بہتیرے مرد اور عورتیں کسی قانونی معاہدے کے بغیر شوہر اور بیوی کے طور پر اکٹھے رہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس سے شاید ایک نئے باایمان شخص کو نپٹنا پڑے۔ بعض معاملات میں ہو سکتا ہے کہ معاشرہ یا قبائلی دستور ایسے اتحاد کو قبول کرتا ہو، لیکن یہ غیرقانونی ہے۔ چنانچہ، بائبل معیار صحیح طور پر رجسٹرڈ شادی کا تقاضا کرتا ہے۔ (‏ططس ۳:‏۱؛‏ عبرانیوں ۱۳:‏۴‏)‏ مسیحی کلیسیا کے اندر لوگوں کیلئے، بائبل شادی کے بندھن میں صرف ایک شوہر اور ایک بیوی کی شرط بھی عائد کرتی ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۲؛‏۱-‏تیمتھیس ۳:‏۲،‏ ۱۲‏)‏ اِس معیار کے مطابق عمل کرنا اپنے گھر کے اندر میل‌ملاپ رکھنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ (‏زبور ۱۱۹:‏۱۶۵‏)‏ یہوؔواہ کے تقاضے غیرحقیقت‌پسندانہ یا سخت نہیں ہیں۔ جوکچھ وہ ہمیں سکھاتا ہے اُسے ہمارے فائدے کیلئے ترتیب دیا گیا ہے۔–‏یسعیاہ ۴۸:‏۱۷، ۱۸‏۔‏

‏[‏صفحہ ۱۳۰ پر تصویر]‏

دوسرے شخص کے نقطۂ‌نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں

‏[‏صفحہ ۱۳۸ پر تصویر]‏

خواہ حقیقی ماں یا باپ ہیں یا سوتیلے ماں باپ، راہنمائی کے لئے بائبل پر بھروسہ کریں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں